Husne Muashirat

حسن معاشرت

گھریلو زندگی ، پرورش اولاد، خانه داری اور
حسن اخلاق کا سبق دینے والی کتاب
مخدومہ خیر النساء بہتر

( والدہ معظم حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی)

 

ناشر

مکتبہ اسلام محمد علی لین گوئن روڈ لکھنو


 

عنوان

پیش لفظ و تعارف

مقدمه

بچیوں سے باتیں

باب اول

میگه

والدین کی خدمت اور اطاعت

پہلے تعلیم و تربیت کیسے کی جاتی تھی

والدین کی اولاد سے بے توجہی کا نتیجہ

شرم و حجاب

ناول اور افسانے

چھوٹوں سے الفت و محبت کا برتاؤ

بھائی بھاوج سے برتاؤ

بڑی بہن کا ادب

نمبر سلسلہ

باب دوم

چند دن بطور مہمان کے

ساس نندوں سے برتاؤ

له

عام سرال والوں سے سلوک

چچا، ماموں، خالہ، پھر بھی

الله

شوہر کے حقوق

له

شوہر کی خدمت

شوہر کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے

عقل و سلیقہ کا تقاضا

شوہر کو خوش کرنے کا آسان طریقہ

باب سوم

خانہ داری اور اس کے طریقے

خانہ داری کے لیے سلیقہ شعاری شرط ہے

معاملات خانه داری

خانہ داری کے لیے ضروری سامان

هر وقت کام آنے والی چیزیں

برتنوں کی تعداد

جنس رکھنے کی جگہ

اور دوسرے لوازمات

جنس کی تعداد

انتظام

گھر کی صفائی

باب چهارم

تربیت اولاد

پرورش اولاد کا آسان طریقہ

بچوں کی تعلیم

بچوں کی نگہداشت

لڑکیوں کے پردہ کا خیال

دست کاری

باب پنجم

چھوٹے بچوں کا علاج

زچہ خانہ کی بیماریاں

کان کا درد

لم

آنکھ کا ورد

گھٹی

پیش

پیٹ کا درد

سوکھا

پہلی اور سینہ

قبض

ا دست و قے

پتھری

باب ششم

مہمان کی خاطر مدارات

مہمان کا آنا خوش نصیبی ہے

خاطر مدارات

ما ماؤں سے برتاؤ

خود کام کرنے کی عادت ڈالو

ضروری ہدایات

باب ہفتم

چند نصیحتیں

صله رحمی

آمدنی سے زیادہ خرچ نہ کرو

حسن سلوک اور ہارون رشید کا واقعہ

حیثیت کے مطابق خرچ کرنا عقل مندی ہے

معیوب باتیں

باب هشتم

دعا

دعا میں دنیا و آخرت کی خوبیاں مضمر ہیں

دعا کی قبولیت کے طریقے

دعا کے ساتھ امید شرط ہے

مصیبتوں کا علاج دعا میں ہے

۶

دعا کے برکات اور اس کے ثمرات

باب نهم

معمولات

صبح شام کا وظیفہ

پانچوں نمازوں کے بعد پڑھنے کی سورتیں

حزب الاعظم کا ورد

تسبیح فاطمہ اور درود شریف

سات آیات کریمہ کا ورد

مناجاتیں

مایوس تو مجھ کو نہ کر مشہور ہے تیرا کرم

جو مانگا ہے جو مانگیں گے خدا سے ہم وہی لیں گے

خوشی کے دن ہوں خوشی کی راتیں

مقبول سب فریاد کر، یا رب مری فریاد سن

سن لے مغموم دلوں کی بھی دعا ئیں سن لے

التي لا تعذبني

ہیں محتاج تیرے گرا اور شاہ

السلام اے بے کسوں کے غم گسار