Arab Ka Tareek Tareen Daur

۷۵

عرب کا تاریک ترین دور

اور ایک مستقل نبی کی بعثت کی ضرورت

ان صلاحیتوں اور خوبیوں کے باوجود جن سے اللہ تعالیٰ نے عربوں کو سرفراز کیا تھا

اور جن کی وجہ سے بعثت محمدی اور ظہور اسلام کے لئے ان کا انتخاب فرمایا تھا جزیرة العرب

میں بیداری اور بے چینی کے کوئی آثار نظرنہ آتے تھے اور صفا اور ملا ہی کا جذبہ

رکھنے والے چند نفوس باقی رہ گئے تھے جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے، اور جن کی حیثیت

برسات کی اندھیری اور ٹھٹھری ہوئی رات میں جگنوں سے زیادہ نہ تھی جو نہ کسی

گم گشتہ کو راہ دکھا سکتے ہیں نہ کسی کو گرمی و حرارت پہونچا سکتے ہیں۔

یہ دور میں میں رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی بعثت ہوئی جزیرۃ العرب کی تاریخ

کا بھی تاریک ترین دور تھا یہ ملک ظلمت و انحطاط کی اس آخری منزل پر تھا جب اصلاح

کی امید ختم ہو جاتی ہے یہ وہ سخت و جاں گداز او نگین مرحلہ تھا جو کسی نبی کو تبلیغ کے

راستہ میں پیش آیا ہوگا۔

سیرت نبوی کے ایک انگریز مصنف (SIR WILLIAM MUIR) نے جو اسلام اور

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بار میں اپنی خوردہ گیری اور عیب چینی میں مشہور ہے اس دو

کی خوب تصویر مینی ہے اور مغربی مصنفین کے اس نقطہ نظر کی تردید کی ہے کہ آپ کی

لے شفاء ان کو کہتے ہیں جو بت پرستی چھوڑ چکے تھے اور اپنی سمجھ کے مطابق ابراہیمی عید پر قائم تھے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

بعثت سے قبل لا وا بالکل یک چکا تھا، محمدرصلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا کیا کہ برقت

اور صحیح جگہ پہونچ کر اس کو آگ دکھادی چنانچہ یہ لاوا پھوٹ پڑا ، وہ کہتا ہے ۔

محمد کے عنفوان شباب کے زمانہ میں جزیرہ نمائے عرب بالکل نا قابل تغیر

تھا، شاید اس سے زیادہ نا امیدی کی حالت کسی اور زمانہ میں نہیں تھی ہے

یہی مصنفت دوسری جگہ لکھتا ہے :۔

فروغ عیسائیت کی معمولی کوششوں نے عرب کی اوپری سطح پر وقتاً فوقتاً

معمولی ارتعاش و پیدا کیا تھا اور نسبتاً شدید تر یہودی اثرات کبھی کبھی اندرونی

سطح میں بھی نظر آجاتے تھے لیکن مقامی ثبت پرستی اور اسماعیلیوں کی توہم کیتی

کا تیز دھارا ہر سمت سے کعبہ کی جانب الُمڈ کر آرہا تھا، اور اس کا واضح ثبوت

ہیا کر رہا تھا کہ مکہ کا مذہب اور طریقہ عبادت عربوں کے ذہن پر

شدت کے ساتھ اور بلا شرکت غیرے قابض ہو چکا تھا ہے

اسی تاریخی حقیقت کا با سورتھ اسمتھ (BOSWORTH SMITH) نے اختصار

لیکن طاقت اور وضاحت کے ساتھ اظہار کیا ہے، وہ لکھتا ہے :۔

سے زیادہ فلسفیانہ رجحان رکھنے والا ایک مورخ کہتا ہے کہ ان تمام

انقلابات میں جنہوں نے انسانیت کی عمرانی تاریخ پر لافانی تقویش چھوڑے

ہیں، ان میں کسی کا ظہور عقل انسانی کے لئے اتنا غیر متوقع نہ تھا جتنا کہ

عرب کے اس مذہب کا۔

لہ

WILLIAM MUIR: THE LIFE OF MAHOMET, VOL. 1 (LONDON 1858), P. CCXXXV-III

WILLIAM MUIR: THE LIFE OF MAHOMER, VOL. (LONDON 1858), P CCXXXIX

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….

ہمیں پہلی ہی نظر می تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ علم تاریخ اگر علم تانی نام کی

کوئی چیز ہے اس سے قاصر ہے کہ وہ اسباب علیل کی ان کرا ہوں کو تلاش

کرے جن کا تلاش کرنا اس کا فرض ہے؟