Makkah Besat Nabawi Ke Waqt

مکه

بعثت نبوی کے وقت

مکه، ایک اہم شہر

بہت سے وہ لوگ جو زمانہ بعثت کے حالات سے اچھی طرح واقفت

نہیں ہیں اور عربوں کی تاریخ سماجی زندگی، ان کے ادب اور شاعری اور قبائلی

روایات پر ان کی زیادہ گہری نظر نہیں ہے یہ سمجھتے ہیں کہ مکہ بعثت نبوی کے وقت

ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں زندگی عطای اجتماعی اور تمدنی ہر لحاظ سے دور

طفولیت میں تھی وہ قبائل کی چند آبادیوں کا نام تھا جہاں بالوں کے بنے ہوئے

خیموں اور ڈیروں میں (جن کے چاروں طرف اونٹوں ، بھیڑ بکریوں اور گھوڑوں

کے باندھنے کی جگہیں تھیں) ان کی گزر بسر تھی وہ زیادہ تر وادیوں کے کنارے اور

پہاڑوں کے دامن میں پھیلے ہوئے تھے ان کا کھانا سوکھی روٹی یا اونٹ کا گوشت

تھا جو وہ ٹھیک سے پکانا بھی نہیں جانتے تھے، اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے

کپڑے پہنتے تھے، ان کے کانے چلنے میں کوئی تنوع تھانہ لباس میں کوئی خوش نمائی

نہ زندگی میں گرمی اور حرارت نه احساس میں نزاکت و لطافت کے خیال میں بنده پردارا

کہ کی یہ تاریک اور حقیر تصویر جو سیرت و تاریخ کی عام کتابوں میں پین کی گئی

ہے اور وہ زیادہ تر عجمی زبانوں کی لکھی گئی ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کے خلاف ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

8

پیمانه مسافت ویر نقشه مکه مکرمه (حرم و اطراف حرم)

جمل المجون ومقبرة المساق

مسجد الین

شارع الجوں اور گداد کی طرف

لغيرة المحلاة

مجبرول

راستہ جدہ کو

دارای بری

دایایی سلیمانی

دار جانیں

دار الارام

دارام وئی

الخدمة (كري بازار)

الشكاية

جل

۲۱۲۵ راستہ عمدہ کو

دار الندية

جیل مراجل السمين )

دار گھر بن الخطاب

باب الزواج

دار ابى بكر الصديق

دار حمزة بن عبد العلم

قوال

استارے

مشرق

موجودہ سڑکیں

حضور صلی اللہ علیہ علم کے راستے

سوم زکی تو ہے

سوم سعودی توسیع

مقالات تاریخی

جنوب

سطح سمندر کی بلندی سے

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جو تاریخ کی کتابوں اور ادب اور جاہلی اشعار میں ملتی ہے اور جس میں مکہ اور باشندگان

مکہ کی عادات و روایات اور دستور و قوانین کا جو ابتدائی بدویانہ زندگی سے ابتدائی

شہری اور تمدنی زندگی کے دور میں داخل ہو چکے تھے، خاکہ پیش کیا گیا ہے ۔

به تصویر قرآن مجید کے ان اوصاف و اسماء سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتی

جس میں مکہ کو ام القریٰ” کے نام سے یاد کیا گیا ہے :۔

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرانا اور اس طرح تمھارے پاس قرآن عربی

عربا لِيَن دَأَمَ الْقُرَى وَمَنْ بھیجا تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی حرم کے

حَوْلَهَا وَتُني رَؤُمَ الْجَمْعِ رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد

لَا رَيْبَ فِيهِ فَرِيقٌ فِي الجَنَّةِ رہتے ہیں ان کو راستہ دکھاؤ اور انھیں

وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ

قیامت کے دن کا بھی جس میں چھے شنک

(سوره شوری (۷)

نہیں کہ خوف دلاؤ، اس روز ایک فریق

بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دو رخ ہیں ۔

دوسری جگہ اس کے متعلق یہ ارشاد ہے :۔

وَالدِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُور سَبُونَ انجیر کی قسم اور زیتون کی اور طور

وَهَذَا الْبَلَدِ الأمين (سوره تین (۳) سینین کی اور اس امن والے شہر کی۔

ایک جگہ آیا ہے :۔

لا أُقْسِمُ بِهذا البلد وانت مال اس شہر (مکہ) کی قسم اور تم اسی

بهذا البلده (سوره بلد – ۲۰۱) شہر میں تو رہتے ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ مکہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط ہی میں دور جہالت سے دور تہنیت

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

میں داخل ہو چکا تھا، اگرچہ یہ تہذیب اپنے محدود دائرہ یں تھی یہ شہر ایک ایسے نظام کے

ماتحت تھا جو باہمی تعاون و اتحاد اجتماعی و عمومی مفاہمت اور قسم کا کی بنیاد پر قائم

تھا، اور یہ نظام قصی بن کلاب کے ہاتھوں قائم ہوا تھا جن کی پانچویں پشت میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

ابتداء میں مہر کی آبادی قدرتی طور پر بہت محدود تھی یہ مقام دو پہاڑیوں

جبل ابو قبیس جو صفا پہاڑی کے اوپر واقع تھا) اور جبل احمر کے درمیان واقع

تھا جس کو باہلیت میں اعرف کہتے تھے اور جو وادی قعیقمان کے بالکل سامنے

تھا، لیکن بیت اللہ کی بدولت اور اس کے خادموں اور پاسبانوں اور یکہ کے باشندوں

کو عام طور پر جو عزت و وجاہت حاصل تھی نیز وہاں جو غیر معمولی امن و سکون تھا،

اس کی وجہ سے ان قبائل کے لئے مکہ میں بڑی کشش تھی، چنانچہ اس کی آبادی زمانہ

کے ساتھ خود بخود بڑھتی گئی جنموں اور پھول داریوں کی جگہ پتھر یا گارے کے بنے ہوئے

مکانات تعمیر ہوگئے اور آبادی و آباد کاری کی یہ امر سجد حرام سے مکر کی بالائی نشیبی

وادیوں تک پھیل گئی، ابتداء میں یہ لوگ اپنے مکانات کی چھتیں بھی بیت اللہ کی طرح

مربع شکل کی نہ بتاتے تھے اور محسوس کرتے تھے کہ یہ ایک طرح کی ہے ادبی ہے آہستہ آہستہ

اس کا وہ اہتمام باقی نہیں رہا اور اس کی بڑی گنجائش پیدا کرلی گئی انا ہم مکانات

بیت اللہ سے اس وقت بھی احتراما بلند نہ کئے جاتے تھے۔

بعض راویوں کا بیان ہے کہ یہ کہ کہ کے احترام تنظیم می اپنے کان اول بنات

تھے پہلا شخص جنت مربع مکان بنا یادہ حمید بن زیر ہے اسکے عمل کو ہل قریش نے ناپسند کیا۔

مکہ کے مال داروں اور سرداروں کے مکانات پتھر کے بنے ہوئے ہوتے تھے،

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اور ان میں کئی کمرے ہوتے تھے اور آمنے سامنے دو دروازے ہوتے تھے تاکہ گھر کے

ایک حصہ میں مہمانوں کی موجودگی کے وقت عورتیں دوسرے دروازے سے نکل سکیں۔

کلمہ کی تعمیر نو اور اس کے اصل بانی

مکہ کی اس توسیع و ترقی اور تعمیر نو میں رہے بڑا ہاتھ قصی بن کلاب کا تھا،

اس لئے کہ انھوں نے سے پہلے قریش کو اس مقصد سے متحد کیا، اور رہائش کے لئے جگہوں

کی باقاعدہ حد بندی کی جس کو عربی اصطلاح میں رباع کہتے ہیں تو قریش کی مختلف

برادریوں اور خاندانوں کو ان مکانات ہیں آباد کیا، ان کی اولاد نے مکہ کی آراضی کی

تقسیم اور حد بندی کا کام جاری رکھا خود بھی آباد ہوئے اور زمینیں دوسروں کے

ہاتھ فروخت کیں اور خرید و فروخت اور تعمیرات کا یہ سلسلہ بغیر کسی اختلاف منازعه

کے قریش اور دوسری برادریوں کے درمیان چلتا رہا۔

زندگی کی تنظیم اور عہدوں کی تقسیم

خصی اپنی قوم اور اہل مکہ دونوں پر کھاوی تھے حجابة (بیت اللہ کی

دربانی) سفالیہ سبیل اور پانی وغیرہ کا انتظام رفادہ احتجاج بیت اللہکی سالانہ

دعوت عام) ندوۃ (مجلس شورہ) اور لواء یعنی جنگی امور سب ان ہی کے ہاتھ میں تھے۔

کے ابوالولید الازرقی (م) نے اپنی کتاب اخبار یکہ میں اس کی پوری تفصیل بیان کی ہے،

رباع مکانات اور اس کے گرد و پیش کے حصوں کو کہتے ہیں۔ واحد ربیع ہے فقہ کے ساتھ کے محل کے لئے

ان کے کچھ ہو تیار کئے جاتے تھےجس کو چھو را در می و غیر سے یہی بنایا جاتا اوریہ لوگ جب کہ آتے تو

یہی پانی پیتے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

انھوں نے دارالندوہ کو مسجد حرام سے بالکل متصل تعمیر کیا، اور اس کا دروازہ

کعبہ کی طرف نکالا قصی بن کلاب کا گھربھی تھا اور قریش کے مشوروں اور فصیلوں اور

کار کی سوسائٹی کا مرکز بھی قریش کا کوئی فرد مرد یا عورت شادی کرنا چاہتا کسی اہم اور

فوری معاملہ میں مشورہ کی ضرورت ہوتی کسی قبیلہ کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوتا یا اس کی

تیاری کا مرحلہ آتا حتی کہ کوئی بچی جب بڑی ہوتی تو اس کو اوڑھنی اوڑھانے کی بھی ہم

یہیں انجام دی جاتی رقصتی کی شخصیت کو ان کی زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی دین

و مذہب جیسی عظمت حاصل رہی جس کی سند کےبغیر کوئی کام نہ ہوسکتا تھا، قانون یہ تھا

کہ دارالندوہ میں بنی قصی کے علاوہ دوسرے قبیلوں کے وہی اشخاص آسکتے ہیں؟

جن کی عمر چالیس سے کم نہ ہو، الیہ م نہ ہو، البتہ بنی تھی اور ان کے حلیف قبائل کے سب افراد

بڑے ہوں یا چھوٹے اس میں شریک ہونے کا حق رکھتے تھے، دارالندوہ میں جن برادری این

اور خاندانوں کو شرکت کی اجازت تھی وہ تھے ہاشم، امیہ محروم ج ہم تیم

عدی، اسد نوفل، زہرہ یہ دس مختلف خاندان کے لوگ تھے۔

ان کے انتقال کے بعد عہدوں کی نئی تقسیم ہوئی بنی ہاشم کو سایہ بنی امیہ

کو قریش کا پرچم عقاب بنی نوفل کو رفادہ، بنی عبد الدار کو لواء، سرائتہ اور جانتہ

اور بنی اسد کو مشاورت کا قلم دان دیا گیا۔

قریش کے مختلف اشخاص میں جو صاحب الرائے اور اصحابے جاہت تھے ان میں

ری تہ داریاں تقسیم تھیں (حضرت ابو بکر صدیق ریوینی تیم ایسے تھے کے پاس دبیت

لے رفادہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو حجاج کے لئے بطور ضیافت کے تیار کیا جاتا تھا، اس کی شکل یہ

تھی کہ قریش ہر سال کچھ مقر کردہ رقم اس کے اخراجات کے لئے قصی کو پیش کرتے تھے الخضری )

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….

تاران اور جرمانہ وغیرہ تھا، خالد بن الولیڈ کے پاس جو بنی مخزوم میں تھے قبہ اور اعنہ

کا قلم دان تھا، فیہ اس خیمہ کو کہتے ہیں جس میں فوجی ضروریات کا سامان رکھا جاتا تھا تھا۔ ؟

اعنہ وہ سامان تھا جو جنگ کے دوران قریش کے گھوڑوں پر رہتا تھا عمر بن الخطاب

کے پاس سفارت تھی جب کسی قبیلہ سے جنگ مقصود ہوتی تو ان کو سفیر بنا کر فریق

مخالف کے پاس بھیجا جاتا، اگر کوئی برادری ان پر فخر کرتی تو اس کے مقابلہ کے لئے

ان کا انتخاب ہوتا ، اور سب اس پر راضی رہتے صفوان بن امیہ (بنی حجح) کے

قت آیا رو از لام کا کام تھا کوئی بڑا اقدام اس عمل کے بغیر کیا جاتا حارث بن

قیس کے پر نظم و انتظام اور بتوں کے نام پر جمع کیا ہوا مال تھا، یہ ذمہ داریاں

اور اعلیٰ مناصب ان کو آباء و اجداد سے نسلی طور پر حاصل ہوئے تھے۔

تجارتی سرگرمیاں اور درآمد و بر آمد

فزایش تجارتی اغراض سے دو سفر کرتے تھے ایک شام کی طرف موسم گرمیا میں

دوسرائین کی طرف موسم سرمامیں اشهر محرم (رجب ذی قعدہ ، ذی الحجه الحرم)

ان کے نزدیک عزت و حرمت کے مہینے سمجھے جاتے تھے، اور ان میں جنگ سے

احتراز کیا جاتا، ان میں ان کے بازار بیت اللہ کے پہلو میں حرم شریف کے اندر

لگتے تھے، اور جزیرۃ العرب کے دور دراز مقامات سے لوگ اس میں ذوق و شوق

کے ساتھ شریک ہوتے تھے، اور اس میں ان کو ضروریات زندگی کا پورا سامان

ے ایسار و از لام – جوئے کے دو پانسے جو کسی معامہ میں کسی پہلو کو ترجیح دینے کے لئے پھینکے جاتے

ان پر مختلف علامتیں ہاں نہیں لکھی رہتیں۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….

۱۱۵

ملتا تھا کہ کی تاریخ میں ہمیں جن بازاروں کا ذکر ملتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ

وہاں کے باشندے تمدن و ترقی کی کسی سطح پر تھے، ان بازاروں میں ایک بازار عطرفروشوں کو

کے لئے مخصوص تھا، ایک مختلف پھلوں کے لئے ایک مطب کے لئے ایک بازار حرف

حجاموں کے لئے تھا، یہ سب بازار بہت کشادہ اور وسیع ہوتے تھے، جس پر گیہوں

گھی شہد اور مختلف اجناس جو تجارتی قافلے باہر سے لاتے تھے، بڑی مقدار میں

له موجود رہتی تھیں، بیمامہ اہل مکہ کے لئے غلہ کی منڈی تھی ، ان بازاروں کے علاوہ

خاص ایک گئی جوتوں کی دکانوں کے لئے اور ایک کپڑوں کے لئے مخصوص تھی۔

اہل کر کی کچھ تفریح گاہیں بھی تھیں جہاں گرمی کے دنوں میں ہر شام مکہ کے

خوش باش و خوش طبع نوجوان جمع ہوتے تھے جو زیادہ دولت مند اور ناز نعیم کے

عادی تھے وہ سڑیاں کریں گزارتے تھے اور گرمیاں طائف میں مکہ کے کچھ نوجوان کیا کمر

خوش پوشاکی دجامه زیبی اور تجمل و آرائش میں مشہور تھے ان میں سے بعض کی پوشاکیں

کئی کئی سو درہم میں تیار ہوتیں ۔

تجارتی سرگرمیاں اور نقل و حرکت کر میں پورے عروج پر تھی، وہاں کے تاجر

افریقہ وایشیاء کے مختلف ممالک کا سفر کرتے رہتے تھے اور ہر ملک کے نوادرات تحفے

اور مشہور و مخصوص اشیاء یا وہ چیزیں جن کی ان کے ملک کو ضرورت تھی اپنے ہمراہ

لاتے تھے، افریقہ سے جو چیزیں وہ درآمد کرتے تھے ان میں گونڈہ ہاتھی دانت سونا،

لے چنانچہ جب ثمامہ بن اثال نے دو بنی حنیفہ کے ایک سردار تھے، اسلام لانے کے بعد کار گیہوں لے جانے پر

پابندی لگادی تو قریش کو بہت دشواری کا سامناکرنا پڑا اور انھوتے سول انہ صل اللہ علیہ سلم کی خدمت میں

ایک عرضداشت کی کہ اس امر کو لانے ے جانے پرپابندی ہٹالیے کالم میں اپنے بیاہی کیا اوالعادی

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….

119

آبنوس کی لکڑی ہمیں سے کھالیں اگرینتی و لوبان اور کپڑے عراق سے گرم سائے کا

ہندستان سے سونا ہمیں جواہرات ہاتھی دانت صندل کی لکڑی گرم مسالے اور

زعفران مصر و شام سے مختلف قسم کے تیل غلہ و اجناس ، اسلحہ اور ریشم اور شادی شامل ہیں۔

و بعض سلاطین و امراء کو کہ کی خاص مصنوعات سوغات کے طور پربھی بھیجا

کرتے تھے، ان میں سو سے زیادہ خاص چیز چمڑا ہوتا تھا چنانچہ جب قریش نے حبشہ کے

بادشاہ نجاشی کے پاس اپنے دو نمایندے عبداللہ بن ربیعہ اور عمرو بن العاص بن

وائل کو بھیجا اور جو مسلمان وہاں ہجرت کر گئے تھے ان کو واپس لینے کی کوشش کی تھے کو واپسی

تو انھوں نے مکہ کے خاص تحفہ کے طور پر اس کو چھڑا بھی دیا تھا۔

عورتیں بھی تجارتی کاروبار کرتی تھیں اور شام اور دوسرے ممالک میں ان کے

تجارتی قافلے جایا کرتے تھے، حضرت خدیجہ بنت خوئید اور نظمیہ ام ابی جہل اس میں

زیادہ مشہور تھیں، اللہ تعالے کے اس ارشاد سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے :۔

الرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا التَسبوا مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے

والتاء نَصِيبٌ مِّمَّا الکسین اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی

(سورة النساء – ۳۲)

اقتصادی حالت اوزان اور پیمانے

ان وجوہ کی بنا پر کہ تجارت میں آگے تھا، اہل مکہ میں سے متعد افراد بہت

خوش حال اور فارغ البال تھے، اور ان کے پاس خاص سرمایہ اکٹھا ہو گیا تھا، اس کا

ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ قریش کا تجارتی کارواں جو غزوہ بدر کے موقع پر شا سے واپس آیا۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….

114

وہ ایک ہزار اونٹوں پر تمل تھا، اور اس پر پچاس ہزار دینار کا مال واسباب لدا ہوا تھا۔

اہل مکہ رومانی اور باز نطینی اور ایرانی و ساسانی سکے استعمال کرتے تھے، مکہ اور

جزیرۃ العرب میں اس وقت رائج کے دوقسم کے تھے ایک درہم دوسرے دینا را داریم کی

دو میں تھیں، ایک قسم وہ تھی جس پر فارس کا نقش اور مہر تھی اس کو بغلیہ اور سود لو دامیہ

کہتے تھے دوسری تم وہ تھی جس پر روم کا نقش تھا، اور اس کو زیادہ تر طریقہ اور بی نطیبہ

کہتے تھے، وہ سب چاندی کے سکے تھے ان کے مختلف اوزان تھے اسی لئے اہل مکہ

ان کے شمار پر نہیں بلکہ وزن پر معال کرتے تھے، علماء کے اقوال سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ

درہم جس کا شریعت میں اعتبار ہے جو کے پچین دانوں کے ہم وزن ہے اور دوسش دارم

سات مثقال سونے کے مساوی ہے اور خالص سونے کا ایک شقال بہتر دانوں کے

ہم وزن ہے اور اسی پر (جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے) سب کا اجماع ہے۔

عہد نبوت میں جو سکے رائج تھے اور جن کا زیادہ استعمال تھا، وہ اکثر چاندی کے

ہوتے تھے علماء کا قول ہے کہ اس زمانہ میں چاندی کا رواج تھا ہونے کا نہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۳ ص ۲۲۲)

جہاں تک دینار کا تعلق ہے وہ سونے کا ہوتا تھا، اور جاہلیت اور اسلام

کے ابتدائی دور میں شام اور حجاز میں اس کا رواج تھا، یہ سب سکتے رومی تھے، جو روم

ہی میں ڈھالے جاتے تھے اور ان پر بادشاہ روم کی تصویر ہوتی تھی اور اس کا نام

رومی زبان میں کندہ ہوتا تھا، جیسا کہ ابن عبدالبر نے التمہید میں لکھا ہے الفظ دینا

در اصل ایک قدیم روی سکه (DENARIUS) سے عربی زبان میں آیا ہے اور محض مغربی مالک

میں یہ لفظ اب تک رائج ہے اور انجیل میں اس کا ذکر متعد دیار آیا ہے دینار کا وزن

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

ایک شتقال کے برابر مانا جاتا تھا، اور خالص سونے کا ایک شقال جیسا کہ اوپر

گزر چکا ہے متوسط جو کے بہتر (۲) دانوں کے ہم وزن مان گیا تھا اور یہ ہور ہے کہ

جاہلیت اور اسلام کی عہدمیں اسمیں خیر نہیں ہو ودائرة المعارف الاسلامیہ میں

کسی اس

ہے کہ باز نطینی دیناره گرا کے برابر ہوتا ہے اس شرق زیباور کی تحقیق یہ ہے کہ

کارہ کا متقال ۲۲۰ گرام کے برابر ہوتا ہے (دیکھئے مادہ دینا ج 9 ما داریم اور

دینار کے مابین تناسب ہے تھا۔

جہاں تک اس کے تبادلہ کا تعلق ہے، حدیث، فقہ، تاریخ سے یہ ثابت ہوتا

ہے کہ اس زمانہ میں ایک دینار دس درہم کے مساوی تھا، ابو داؤد میں عمرو بن شعیب

سے مروی ہے کہ دیت کی قیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۸۰۰ دینار

یا آٹھ ٹھ ہزار (…) درہم تھی، اس کے بعد صحابہ کا اسی پر عمل رہا، یہاں تک کہ اسی پر

پر

انت کا اجماع ہو گیا مشہور احادیث میں درہم کے نصاب اور اس کی واجب مقدار کے

بارہ میں جو صراحت آئی ہے اور جمہور فقہاء کی بھی یہی رائے ہے اس سے اس کا پورا ثبوت ملتا

ہے کہ سونے کا نصاب میں دینا ر ہے اور اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عہد جاہلیت

اور آغاز اسلام میں ایک بنار کی قیمت دس درہم یا اس کے مساوی سکوں کے برابر تھی۔

امام مالک نے موطا میں لکھا ہے کہ و صحیح مسلک جن میں ہمارے نزدیک کوئی

اختلاف نہیں ہے یہ ہے کہ زکوہ بیں دینا پریا دو سو درہم پر واجب ہے ؟

ے بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس دور میں دینار کا معیاری وزن رہی تھا جو ہو نی مولد یوس کا

تاینی تقریبا ۵ گرام خلیف عبدالملک کی اصلاح کے بعد اس کا وزن گھٹا کہ ۴۶۲ کر دیاگیا۔

که مستفاد از بلوغ الارب في معرفته احوال العرب الروسي التراتيب الادارية عبدالحي الكتاني فق الزكاة

يوسف القرضاوی – تفسیر ماجدی

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

119

ناپ تول کے جو پیمانے اس زمانہ میں رائج تھے ان میں صاع، مر، رطل

او قيه اور مثقال تھے اور انھیں میں سے کچھ نئی قسمیں انھوں نے اور نکالی تھیں،

علم الحساب سے بھی ان کو واقفیت تھی جموں اور میراث کی تقسیم میں قرآن نے

ان کے اسی حساب پر اعتماد کیا ہے۔

قریش کا دولت مند طبقہ

جن گھرانوں میں خوش حالی اور مانی فراوانی تھی، ان میں بنو امیہ اور بنو مخزوم

خاص طور پر قابل ذکر ہیں اشخاص میں وليد بن المغيرة عبد العزی (البوليب) الواحيد

بن سعید بن العاص بن امیہ (جس کا ابوسفیان کے قافلہ میں تیس ہزار دینار کے بقدر

حصہ تھا، عبد اللہ بن ربیعہ المخزومی جیسے امیروں میں لوگ تھے ان میں عبد اللہ بن

جدعان التیمی زیادہ نامورا اور شہور تھے جن کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ سونے کے پیالہ

میں پانی پیتے تھے اوران کا پورا لنگر خانہ تھا جس میں غریبوں اور بھو کے لوگوں کو

کھانا کھلایا جاتا تھا، عباس بن عبد المطلب کا شمار بھی قریش کے دولت مند

لوگوں میں تھا، وہ اپنی دولت لوگوں پر خوب خرچ کرتے تھے، اور سودی لین دین

بھی کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام کا غلبہ ہوا سود کی حرمت نازل ہوئی اور رسول الہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقعہ پرسودی رقوم کے خاتمہ کا اعلان فرمایا، اور

اس کا آغاز اپنے چا عباس بن عبد المطلب سے کیا اور ارشاد ہوا کہ پہلا سود جس کو

میں ساقط کرتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے”

ان میں ایسے تقلیش پند دولت مند بھی تھے جن کے گھروں میں شبیہ محفلیں

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۲۰

گرم رہتی تھیں نکمے فرش فروش سے آراستہ دستر خوان سجے ہوئے اور بادہ و جام

کا دور چلتا ہوا۔

سرداران قوم کی محفلیں زیادہ تربیت اللہ کے سامنے جمتی تھیں، جہاں

شعر و شاعری ہوتی جاہلیت کے ممتاز شعراء جیسے بلبید بن ربیعہ وغیرہ اس میں شریک کے

ہوتے بھی ذکر آتا ہے کہ عبد المطلب کا فرش کعبہ کے سایہ میں کھتا تھا، ان کے

لڑکے ان کے ادب احترام میں فرش کے باہر چاروں طرف بیٹھتے اور جب تک

وہ نہ آجاتے کوئی فرش پر نہ بیٹھتا۔

مکہ کی صنعتیں اور ادب ثقافت

اہل مکہ کی نظر میں صنعت و حرفت کی زیادہ اہمیت نہ تھی، بلکہ وہ اس کو

حقارت سے دیکھتے تھے اور اپنے لئے باعث تنگ عار سمجھتے تھے، عام طور پر صنعت

ور گرفت غلاموں یا نجیوں کے ساتھ مخصوص بھی جاتی تھی تاہم بعض صنعتیں

جن کی انھیں سخت ضرورت تھی، وہاں موجود تھیں، اور مکہ کے بعض لوگ ان سے

متعلق تھے روایت میں آتا ہے کہ حضرت خباب بن الارت تلواریں تیار کرتے تعمیرات

وغیرہ میں میں کی ضرورت ہر شخص کو پیش آتی ہے روی اور ایرانی مزدوروں سے کام

لیا جاتا تھا۔

نا خواندگی وہاں عام تھی لیکن کچھ لکھنے پڑھنے والے لوگ موجود تھے،

قرآن مجید نے اسی لئے ان کو امی یعنی نا خواندہ سے تعبیر کیا ہے ” هُوَ الَّذِی

بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنهُم (الجمعه (۲) (وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں کی

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۲۱

انھیں میں سے ایک پیغمبر بھیجا )

مکہ والے پورے جزیرۃ العرب میں حسن ذوق الطاقت طبع اور آرائش وتجمل میں

ممتاز سمجھے جاتے تھے، جیسا کہ تقریبا ہر قدیم تہذیب رکھنے والے دارالسلطنت

اور پایہ تخت کا حال ہوتا ہے۔

یہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے اس کو سند اور میزان کا درجہ حاصل

تھا اور جزیرۃ العرب کے اطراف واکنان میں اسی پر اعتماد کیا جاتا تھا ، مکہ کے باشندے

سب سے زیادہ فصیح و بلیغ، اور قادر الکلام تھے اور ابتدازل و سوقیانہ پن نیز بھی اثرات

سے بہت دور اور محفوظ رہتے، تناسب اعضاء جسمانی ساخت حسن و جمال تیز

اعتدال و توازن میں بھی دوسرے علاقوں کی بہ نسبت وہ زیادہ ممتاز تھے،

اور جوانمردی و عالی ظرفی کے ان اعلیٰ صفات کے حامل تھے، جس کو عربی میں الفتور

اور المروۃ ” سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور جن کا ذکر عرب شعراء اور خطاء نے بار بار کیا

اس لئے وہ خیر و شر دونوں میدانوں میں سب کے استاد تھے۔

ان کی دلچسپی کے موضوعات میں بالترتیب انساب اخبار عرب

شعر و شاعری ، علم نجوم ، چھتر پرندوں سے شگون لینے اور کسی قدر طب و علاج

جوان کے مجربات اور بزرگوں کی روایات پر مبنی تھا، اور بہت کچھ شہواری

گھوڑوں کی پہچان اس کے اعضاء وصفات سے گہری واقفیت اور قیافہ

شناسی جیسے علوم شامل ہیں ، علاج و معالجہ کے جو طریقے ان میں رائج تھے،

ان میں داغنے، فاسد عضو کو کاٹنے، فصد کھلوانے، پچھنا لگوانے اور استعمال

ادویہ کا ذکر آتا ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جنگی طاقت

۱۲۲

جہاں تک جنگی طاقت کا تعلق ہے، قریش طبعا امن پسند اور عافیت کوش

تھے، دوسری معاصر قوموں کی طرح ان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تجارت کے

فروغ ، قافلوں کی مستقبل آمد و رفت بازاروں اور منڈیوں کی تنظیم اور تاجروں

اور سیاحوں کی آمد پر تھا جس سے ان کی مذہبی عظمت و اہمیت میں بھی اضافہ

ہوتا تھا، اور اقتصادی منفعت بھی حاصل ہوتی تھی، اور ہر طرح کا رزق مختلف

جہتوں سے وہاں پہونچتا رہتا تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :-

فَلْيَعْبُدُ وَارَبَّ هُذا البيت تو چاہئے بندگی کریں اس گھر

الَّذِي الْعَمَهُمْ مِّنْ جُوعہ کے رب کی اس نے ان کو کھانا

وَامَن هُم مِّن نَويه دیا بھوک ہیں اور امن دیا

(سورہ لایلات (۴۳) ڈریں۔

عرب کی طویل اور خوں ریز جنگوں کی وجہ سے بھی جن کا سلسلہ میں میں جائیں۔ سلامی

چالیس برس تک جاری رہا اور جن کے نتیجہ میں (جیسا کہ جاہلی شاعر زبیر بن ابی سلمی

نے اپنے معتلقہ میں اس کا تذکرہ کیا ہے) ہزاروں بچے تمیم اور ہزاروں عورتیں بے سہاگ

اور بیوہ ہوگئیں، وہ جنگ کے خوفناک نتائج اور اس کے دور رس اثرات سے نا واقفت

نہ تھے وہ مکہ کی سحرب الفجار” اور مدینہ کی جنگ بعاث کا حشر دیکھ چکے تھے کہ اُن کا

ان دونوں شہروں کی تمدنی، اقتصادی اور اخلاقی زندگی پر کیا اثر پڑا تھا اس لئے

ایک حقیقت پسند انسان کی حیثیت سے وہ عرب کے دوسرے جنگ جو قبائل کی طرح

…….

(جن کا پیشہ ہی جنگ تھا) بلا ضرورت جنگ کو دعوت دینے کے لئے تیار نہ تھے۔

دوسرے الفاظ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قریش (جب تک ان کی قبائلی

وند یہی غیرت کو لکار انہ جائے بقائے باہم” کے اصول پر کار بند تھے لیکن اس کے

ساتھ وہ قابل لحاظ فوجی طاقت کے بھی مالک تھے، شجاعت و بہادری میں ضرب المثل

اور شہ سواری میں فردا چنانچہ الفضية المغربية (مصری غصہ) پورے جزیرة العرب

میں معروف تھا، اور زبان و ادب اور محاورات و امثال میں شامل ہو گیا تھا۔

قریش نے اپنی اس ذاتی طاقت پر پس نہیں کیا، بلکہ وہ انامبین کی قابل

لحاظ قوت سے بھی فائدہ اٹھاتے رہے جو کہ مکہ کے اطراف میں رہنے والے بعض عرب

قبائل النانہ اور خزیمہ بن مدرکہ کے بطن سے تھے، خزاعہ قریش کے حلیف تھے

اس کے علاوہ قریش کے پاس غلاموں کی بھی بڑی تعداد تھی جو تمام لڑائیوں میں

ان کے پرچم کے نیچے رہتے تھے وہ بیک وقت کئی ہزار جنگ جو میدان میں جھونک

دیتے تھے، غزوہ احزاب میں یہ تعداد دس ہزار تک جا پہونچی تھی اور یہ عہد

جاہلیت کی تاریخ میں جزیرۃ العرب کی سب سے بڑی جنگی نفری تھی ۔

مكة جزيرة العرب کا ایک بڑا شہر اور اس کا روحانی وسماجی پائی خفت

اس مذہبی حیثیت و مرکزیت، معاشی فارغ البالی، تجارتی سرگرمیوں اور

تمدن و معیشت میں ترقی کی وجہ سے مکہ جزیرۃ العرب کا ایک بڑا شہر بن گیا تھا

اور یمن کے مشہور شہر صنعاء سے آنکھیں ملا رہا تھا، اور جب چھٹی صدی عیسونی

کے وسط میں صنعاء پر یکے بعد دیگر ے حبشہ اور ایران کا تسلط ہو گیا اور حیرہ اور

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۲۴

غسان کی ریاستوں کی بھی وہ سابقہ شان و شوکت جاتی رہی تو اس وقت

لکہ نے جزیرۃ العرب کے ایک ایسے مذہبی اور سماجی پایہ تخت کی حیثیت اختیار )

کر لی جس میں اس کا کوئی شریک و ہمسر نہ تھا۔

اخلاقی پہلو

کہ کا اخلاقی پہلو بہت کمزور تھا سوائے ان چند جاہلی روایات و اقدار کے

جن کو وہ اپنے سینہ سے چمٹائے ہوئے تھا جوڑے کا کاروباران میں عام تھا، اور وہ

اس پر فخر کرتے تھے شراب نوشی عام طور پر رائج تھی عیش و طرب اور رقص و نغمہ کی

محفلیں بکثرت آراستہ ہوتی تھیں اور دور جام چلتا تھا، بہت سے فواحش ظلم و سفاکی

حق تلفی و نا انصافی اور ناجائز کمائی ان کے معاشرہ میں بری نظر سے نہ دیکھی جاتی تھی۔

اس اخلاقی پستی کی رجو عام طور پر جزیرۃ العرب اور خاص طور پر اہل کریں

ہمیں نظر آتی ہے سب سے بیچی اور نازک تصویر وہ ہے جو قریش ہی کے ایک فرزند اور مکہ

کے اصلی و تقدیم ساکن جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے سامنے پیش کی تھی اور انشرات

کی عربی معاشرت اور جاہلی کردار کا نقشہ کھینچا تھا، ان کا بیان یہ تھا کہ :

اے بادشاہ اہم جاہلیت الی قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے

تھے، ہر طرح کی بے حیائی کرتے تھے، رشتوں کو توڑتے تھے، پڑوسی

کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور طاقت دور کمز در کوکھاتا تھا۔

اے سیرت ابن ہشام جو اصل ۳۳

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

مذہبی پہلو

مذہبی پہلو د اخلاقی و تمدنی زاویہ نگاہ سے، اور زیادہ کمزور تھا، اس کی

وجہ یہ تھی کہ نہ نبوت سے ان کا فاصلہ بہت بڑھ چکا تھا، جہالت عام تھی بت پرستی

جو انھوں نے اپنے پڑوس کی قوموں سے سیکھ لی تھی دوں میں گھر کر چکی تھی بہتوں سے ان کو

ایک قسم کا عشق ہو گیا تھا چنانچہ صرف کعبہ کے اندرا و صحن میں تین سو ساٹھ بت تھے

جن میں سب سے بڑا نہیں تھا جس کو مخاطب کرتے ہوئے ابو سفیان نے جنگ احد میں

کہا تھا، اعمل مبل (ٹیبل کی بڑائی ہوں یہ جون کعبہ کے اندر ایک گڑھے کے اوپر تھا،

شکل میں تھا جس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، قریش نے اس کو اسی طرح سے پایا تھا،

اس میں انھوں نے سونے کا ہاتھ لگوا دیا تھا، کعبہ کے سامنے درست رہتے تھے جن میں ایک

کا نام اسان تھا دوسرے کا نائلہ ایک کعبہ سے بالکل ملا ہوا تھا، دو سر از مرزم کے

پاس تھا، قریش نے کعبہ کے قریب والے بت کو بھی دوسرے بت کے پاس منتقل کر دیا ،

یہ وہ جگہ ہے یہاں عرب قربانی و غیرہ کرتے تھے، صفا پر بھی ایک صنم تھا جس کا نام تھا

نهيك مجاود الريح ” قروه پر جو بیت نصب تھا، اس کا نام مطعم الطیر تھا۔

ملہ کے ہر گھر میں ایک ثبت تھا جس کی یہ گھر والے عبادت کرتے تھے، عربی عرفات سے

قریب تھا، اور اس پر ایک معبد بنا دیا گیا تھا یہ قریش کے نزدیک تمام بہنوں سے زیادہ

معزز اور بڑا تھا، وہ ان بتوں کے سامنے تیروں سے فال نکالا کرتے تھے، الخلصة

ملکہ کے نشیب میں نصب تھا اس ثبت کو ہار پہنائے جاتے تھے، جو اور گیہوں کا نذرانہ

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۲۶

اس کو پیش کیا جاتا تھا، اس کو دودھ سے نہلایا جاتا تھا، اس کے لئے قربانی کی جاتی

تھی، اور اس پر پیشتر مرغ کے انڈے لٹکائے جاتے تھے، ثبت مکہ میں گلی گلی آواز دے کر

بیچے جاتے تھے، دیہات کے لوگ پسند کرتے، خرید تے اور اپنے گھر کی زینت بناتے۔

اس طرح یہ قوم اپنی ساری جواں مردی، وفاداری و جاں نثاری اور اپنے

کریمانہ عربی اوصاف کے باوجود) ثبت پرستی ابنوں سے عشق شیفتگی اوہام و خرافات

سے وابستگی صحیح دینی مفہوم سے ناواقفیت اور پاکیزہ نظیف و لطیف دین حنیف

اور تلیت ابراہیمی سے دوری و بے تعلقی کے اس پست درجہ پر تھی، جہاں دنیا کی

بہت کم قومیں ہوں گی ۔

یہ چھٹی صدی کے وسط کا مکہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت او

اس کے سرد و تاریک افق سے آفتاب اسلام کے طلوع سے پہلے ہمیں نظر آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بالکل صحیح ارشاد فرمایا ہے :۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَا بَاءُ ھم یہ خدائے غالب مہربان نے نازل

فَهُمْ عَقِلُونَ.

کیا ہے تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے

(سورہ یسین – ۶)

باپ داد کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا،

متنبہ کردو کہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

انے اس فصل میں تغیر وحدیث میں آنے والے انتشارات کی رہنمائی سے نیز متفرق معلومات میں حسب پیل کتا ہے۔

ولی گئی ہے کتاب الامسام الکلی (م ۱۳۶) سیرت ابن ہشام (م ) اخبار از نام الی الولید

محمد الازرقی (م ۲۲۳) بلوغ الأرب في معرفة احوال العرب یا خود شکری الگوسی (م ۱۳۳۴)

نی تاریخ که از استا احمد باعی اور کتب مكة والمدينة في الالية وعبدالرسول الاتان براهم الشريف

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….