Wiladat Se Aghaz-e-Nubuwwat Tak

ولادت با سعادت سے

آغاز نبوت تک

عبد اللہ اور آمنہ

قریش کے سردار عبد المطلب کے دس صاحبزادے تھے جو سب ممتاز اور نامور

تھے عبد الله اپنے سب بھائیوں میں بہت ستودہ صفات اور مرکزی حیثیت کے مالک تھے

اُن کے والد نے ان کی شادی بنی زہرہ کے مزار و ہب کی صاحبزادی آمنہ سے کی جو

اس وقت اپنی عالی نسبی اور عزت و وجاہت میں قریش کی سب محترم خاتون بھی جاتی تھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مادری تھے کہ آپ کے والد عبد الله کا انتقال

ہو گیا، حضرت آمنہ کو آپ کی ولادت سے پہلے ایسی بہت سی نشانیاں اور آثار

نظر آئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے فرزند کی مستقبل میں بڑی شان ہونی ہے۔

آپ کی ولادت با سعادت اور عالی نسبی

آپ کی ولادت شریفہ ۱۲ ربیع الاول عام الفیل (مطابق نشاہ علیسوی)

کے ابن ہشام جو امنا کہ ایضاً من کہ ایضا مش که مشہور روایت یہی ہے

لیکن فلکیات کے مشہور مصری عالم اور محق محمود باشاکی تحقیق یہ ہے کہ آپ کی ولادت شریف دخانی

کے دن ربیع الاول کو واقعہ فیل کے پہلے سال ہوئی جو ۲۰ اپریل نشاہ عیسوی کے مطابق ہے۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۲۸

دوشنبہ کے دن ہوئی، یہ تاریخ انسانیت کا سب سے روشن اور مبارک دن تھا۔ کا سب رومن اور مبارک دن تھا ۔

آپ کا نسب مبارک اس طرح ہے محمد بنعبد الل بن عبد المطلب بن ہاشم بن

عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرة بن كعب بن لوی بن غالب بن فهر بن مالک بن

النضر بن کنانہ بن خمر بیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان .

عدنان کا نسب سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہا السلام تک پہونچتا ہے جب

آپ کی ولادت ہوئی تو آپ کی والد ماجد نے آپ کے دادا کو یہ اطلاع بھیجوائی، وہ آئے محبت

سے آپ کو دیکھا اور گو میں لے کر کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور

دعاکی اور آپ کا نام محمد کا یہ نام بلکل نیا تھا چنانچہ عربوں کو ا پر بہت تعجب ہوا۔

ایام رضاعت

چند دن آپ کو آپ کے چچا ابو لہب کی باندی تثویبہ نے دودھ پلایا پھر مل لطلب

نے اپنے تمیم پوتے کے لئے (جن سے زیادہ اپنی اولاد میں ان کو کوئی محبوب نہ تھا، دیہاتی

اے سیرت ابن ہشامت اصل ۲ نیز بیرت تاریخ اور انساب کی دیگر اہم کتب اہم نے عدنان تک آپ کا

نسب یہاں درج کیا ہے جس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے کے سیرت ابن ہشام ج ام ۱۵-۱۶۰

میں ابن کثیر ج اصلاح و ابن ہشام شده اسہیلی کی کتاب الروض الانف اور این تورک کی الفصول

سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے پہلے پوری تاریخ میں صرف تین اشخاص ایسے ملتے ہیں جنہوں نے

اہل کتا ہے یہی کہ کہ جزیرۃ العرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والےمیں ان کانام محمد ہوگا ان کو یہی بتایا جاتا

تھا کہ اس کا وقت قریب ہے ان کی بیویاں حمل سے تھیں اس وقت اس لالچ میں انھوں نے یہ نذر مانی کہ

لڑاکا ہوا تو اس کا نام محمد رکھیں گے چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا بعض لوگوں نے اس سے زیادہ بھی تعداد

بیان کی ہے لیکن راقم سطور کا خیال ہے کہ ملا بھی بہت تحقیق طلب ہے اس لئے کہ قریش کے ہر فرد نے

اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تھا، نیز اس روایت کی فنی جانچ پڑتال کی بھی ضرورت ہے۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

کی کسی دودھ پلانے والی کی تلاش شروع کی عرب اس زمانہ میں اپنے بچوں کی رضاعت

اور ابتدائی پرورش کے لئے شہروں سے زیادہ دیہاتوں کو پسند کرتے تھے، اس لئے کہ

وہاں کی آب ہوا زیادہ صاف و پاکیزہ اور وہاں کے رہنے والوں کے اخلاق میں

اعتدال اور سلامتی طبع زیادہ نمایاں تھی، شہر کے مفاسد سے بھی حفاظت تھی اور وہاں

کی زبان بھی صحیح اور فصیح مانی جاتی تھی۔

قبیلہ بنی سعد کی عورتیں اس کام میں اور فصاحت و بلاغت میں خاص

شہرت رکھتی تھیں، ان میں حلیمہ سعدیہ بھی تھیں، جن کو یہ دولت عظمی ہاتھ آئی یہ ک

کی تلاش میں اپنے گاؤں سے آئی تھیں، خشک سالی کا زمانہ تھا اور لوگ سخت پریشانی

میں مبتلا تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب عورتوں کے سامنے پیش کیا گیا ،

لیکن اکثر نے یہ سوچ کر کہ یہ نیم بچہ ہے اس کے والد ہوتے تو کچھ نفع کی امید تھی،

ماں اور دادا سے کیا مل پائے گا ؟ آپ کی طرف زیادہ التفات نہ کیا، پہلے پہل حلیمہ نے

بھی آپ کی طرف کچھ خاص توجہ نہ کی اور ان کا رخ بھی دوسری طرف ہونے لگا لیکن

اچانک ان کے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گئی کوئی دوسرا بچہ بھی سامنے نہیں تھا،

چنانچہ وہ واپس آئیں اور آپ کو لے کر اپنے قافلہ میں واپس گئیں، اور اسی وقت

آپ کی برکت کھلی آنکھوں انھوں نے دیکھ لی ان کی ہر چیز میں ایک دوسرا رنگ نظر آے گا

ان کو دودھ میں جانوروں میں رزق میں ہر چیز میں صاف برکت محسوس ہوئی ان

کے ساتھ کی جتنی دودھ پلانے والیاں تھیں اب انھوں نے کہنا شروع کیا کہ حلیم تم کو

بہت مبارک بچہ ملا ہے بہت مبارک جان ہے انکو بی بی حلیمہ سے حد بھی ہونے لگا۔

دوسری طرف خیر و برکت کا سلسلہ برابر قائم رہا، یہاں تک کہ بنی سعد کے

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اس قبیلہ میں آپ کی عمر مبارک کے دو سال پورے ہوگئے اور بی بی حلیمہ نے آپ کا

دودھ چھڑا دیا، آپ کا نشو و نما عام بچوں سے مختلف طور پر ہو رہا تھا، اس موقع پر

وہ حضور صلی اللہ علیہ سلم کو لے کر آپ کی والدہ کے پاس حاضر ہوئیں اور ساتھ ہی

یہ خواہش ظاہر کی کہ کچھ مدت کے لئے ان کو اور رہنے دیا جائے چنانچہ بی بی آمنہ

نے آپ کو ان کے پاس واپس لوٹا دیا۔

واپسی کے بعد جب آپ بنی سعد میں تھے، دو فرشتے آئے آپ کا سینہ مبارک

شق کیا، آپ کے قلب مبارک سے گوشت کے ٹکڑے با لوتھڑے کی مانند ایک

سیاہ چیز نکال کر پھینک دی پھر آپ کے قلب کو خوب اچھی طرح دھو کر اور صاف

کر کے اپنی جگہ واپس کر دیا، اور وہ اسی طرح ہو گیا جیسے پہلے تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی بھائیوں کے ساتھ جنگل میں بکریاں

بھی چایا کرتے تھے اور سادگی و جفا کشی، فطرت صحیحہ اور گاؤں کی صاف ستھری

زندگی شہر کی آلائشوں سے محفوظ آب ہوا، اور فصاحت و بلاغت کے ماحول

میں آپ کی پرورش ہو رہی تھی جس میں بنی سعد کا بڑا نام تھا، آپ صحابہ کرام سے

اے رضاعت کی طویل و دلنواز کہانی سیرت ابن ہشام میں بہت بلیغ اندازمیں بیان کی گئی ہے دیکھئے

194 کے اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں لاحظ فرائین امام سلم نے انس بن مالک کی روایت سے

کتاب الایمان باب الاسراء برسول الله صل اللہ علیہ وسلم کے تحت اس واقعہ کو بیان کیا ہے حضرت شاہ ولی اللہ

صاحب نے اپنی کتاب محجہ الشر البالغہ میں لکھا ہے کہ فرشتے ظاہر ہوئے آپ کے سینہ مبارک کوشش کر کے

دل کو اس میں سے نکالا اور اس کو ان کی راہ کا مال اور ای شاد کی درمیانی حالت

کا واقعہ ہے بیش قصد اس طرح کی چیزنہ تھی جس مضر ہونا ہے اس کو دوبارہ پینے کا اثر آپکے سینہ مبارک

پرباقی نہ رہا، عالم مثال اور عالم شہادت یہاں تنے ہیں وہ اس طرح کے واقع پیش آتے ہیں وجہ التراب الفرح وانتا

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۳۱

کبھی کبھی فرمایا بھی کرتے تھے ہمیں تم سے زیادہ عرب ہوں، قریشی ہوں اور بنی سعد بن

بکر کے قبیلہ میں میں نے دودھ پیا ہے؟

بی بی آمنہ اور دادا عبد المطلب کی وفات

جب آپ کا سن چھ سال کا ہوا تو آپ کی والدہ آپ کو آپ کے دادا کا

نا نھیاں دکھانے کے لئے یثرب لے گئیں، وہ اپنے محبوب شوہر عبد اللہ بن عبد المطلب

کی قبر بھی جانا چاہتی تھیں کہ مکہ واپس ہوتے ہوئے ایک مقام پر جس کو الابواء الا بجاء

کہتے ہیں بی بی آمنہ کا انتقال ہو گیا، اب ایک طرف محبوب اور چاہنے والی ماں

کی جدائی کا غم تھا، دوسری طرف مسافرت کی تنہائی، آپ کی ولادت سے برابر

آپ کے ساتھ کچھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا رہا، یہ تربیت انہی کے وہ اسرار ہیں،

جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ایک باندی ام ایمن برکتہ حبشیہ آپ کو لے کر

مکہ آئیں اور یہ خدائی امانت آپ کے دادا عبد المطلب کے سپرد کی، اس کے

بعد آپ دادا کے سایہ شفقت میں رہے، جو آپ کو دل و جان سے زیادہ چاہتے

تھے اور کسی وقت آپ سے غافل نہ ہوتے تھے کعبہ کے سایہ میں اپنے فرش پر آپ کو

اپنے ساتھ بٹھاتے اور طرح طرح سے محبت و شفقت کا اظہار کرتے۔

له ابن ہشام ج املا له رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر کے کچھ واقعات بیان فرماتے تھے۔

ہجرت کے بعد آپ نے نی انبار کے مکان کو دیکھ کر فرمایا کہ میری ماں میں اتری تھیں اور بنی عدی بن

النخار کی باؤلی میں میں خوب پیرا تھا، (شرح المواہب اللدنیہ ج اصل ۱ – ۱۶۸) سه به مقام مستور

کے قریب ہے جو اس وقت مکہ اور مدینہ کے درمیان کی مشہور منزل اور نصف راستہ پر ہے۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۳۲

جب آپ کی عمر مبارک آٹھ سال کی ہوئی تو دادا عبد المطلب کا بھی انتقال

ہو گیا، اور آپ کو یتی کا ذائقہ پھر چکھنا پڑا جو پہلے سے زیادہ تلخ اور سخت تھا، اپنے

والد کو تو آپ نے دیکھا بھی نہیں تھا، اور ان کی شفقت و محبت کے مزے سے بھی

آپ نا واقف تھے، اس لئے ان کے انتقال کا صدر رد عقلی اور روایتی سے زیادہ نہ تھا

لیکن دادا کے لطف و محبت سے محرومی کا احساس حتی اور تجرباتی تھا، اور ان دونوں کا

کھلا ہوا فرق ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔

چچا ابو طالب کے ساتھ

دادا کے انتقال کے بعد آپ اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ رہنے لگے جو آپ کے

والد کے حقیقی بھائی تھے، عبد المطلب ان کو آپ کی خبر گیری اور حسن سلوک کی وصیت

برابر کرتے رہتے تھے اس لئے وہ یکسو ہو کر آپ کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنے

صاحبزادوں علی جعفر اور قیل (رضی اللہ عنہم) سے زیادہ نمی شفقت اور

نگہداشت و پرورش کا معاملہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکھا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ جس وقت ابو طالب تجارت کے لئے ایک قافلہ میں شامل ہو کے

شام جانے لگے اس وقت آپ کی عمر نو (9) سال تھی، آپ یہ دیکھ کر اپنے چا سے لپٹ گئے

ابو طالب پر اس کا بہت اثر پڑا ، اور انھوں نے اس سفر میں آپ کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس سفر

جب یہ تجارتی قافلہ بصری کے مقام پر پہونچا جو شامی علاقہ میں واقع ہے تو

یہاں اس نے پڑاؤ کیا، یہاں ان کی ملاقات بحیر اراہب سے ہوئی جو اپنے معبد یا خانقا

کے سیرت ابن ہشام ج ام ۱- ۱۶۹ كه ايضا 190 میں زیادہ صحیح روایت کے مطابق

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

میں رہتے تھے بحیری راہب نے معمول کے خلاف قافلہ کی میزبانی کی اور بہت

اچھی طرح اس کا استقبال کیا، اس لئے کہ ان کو اس قافلہ کے ساتھ خدا کا خاص معاملہ

اور غیر معمولی واقعات نظر آرہے تھے، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو دیکھا

تو آپ کی اور زیادہ پذیرائی کی، اور اس کا اطمینان کیا کہ نبوت کی نشانیاں آپ کے

اندر موجود ہیں انھوں نے ابو طالب کو آپ کے شان اور مرتبہ کی بلندی کی طرف متوجہ کیا

اور کہا کہ اپنے بھتیجے کولے کر وطن واپس جائیں اور یہود سے آپ کی خاص طور پر صفات اور سے

کریں اس لئے کہ تمھارے بھتیجہ کی آگے چل کر بڑی شان ہونے والی ہے چنانچہ ابوطالب

آپ کو بحفاظت کہ واپس لے آئے لیے

لے یہ واقعہ سیرت ابن ہشام اور سیرت کی دوسری کتابوں میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا

ہے اور اس کی صحت میں محدثین ناقدین کو روایت و اینا دونوں لحاظ سے کلام ہے علامہ شبلی نعمانی

سیرت النبی میں لکھتے ہیں کہ امام تر ماری اس حدیث کے بعد لکھتے ہیں۔ حدیث حسن غریب

لا نعرفه الا من هذا الوجه اس کے زاویوں میں عبد الرحمن بن غزوان کا بھی نام آتا ہے

جن کے بالے میں کلام کیا گیا ہے، علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ وہ شنگر احادیث روایت کرتے ہیں اور

ان سے زیادہ منکر حدیث وہ ہے جس میں نجیری کا قصہ آیا ہے (ج انتشا)

ایک اور بات قابل گرفت یہ ہے کہ اس میں یہ بھی ذکرہے کہ ابو طالہ کے رسولا له صلی اللہ علیہ

وسلم کو بلال کے ساتھ روانہ کیا، علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ نریزی اور دوسری کتابوں

میں یہ آتا ہے کہ انھوںنے آپ کے ساتھ بلال کو روانہ کیا جو بالکل غلط ہے، اس لئے کہ بلال شاید ای است

موجود ہی نہ تھے اور اگر تھے بھی تو آپ کے چا یا حضرت ابویہ کے ساتھ ہر گز نہ تھے (زاد المعاد الشام

منتشرقین اور بہایت مور تین ایسے مواقع ہمیشہ ڈھونڈتے رہتے ہیں چنانچہ (باقی ۳ پر)

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

آسمانی تربیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشو و نما خاص محفوظ و معصوم طریقہ پر ہوئی،

ریا تی ملا کا بحیرہ کی راہ سے آپ کی اس سر راہ ملاقات کو رجم کے عقیدہ اور علمی مرتبہ کا کچھ نام و

نشان نہیں تھا، انھوں نے رائی کا پرت بنا دیا اور اس پر پورا ہائی لو میر کیا اور یہ ثابت کرنے کی

کوشش کی کہ عقیدہ توحید کی یہ منا بے لگ تعلیمات آپ نے دراصل ایک عیسائی عالم سے حاصل کی ہیں۔

اس سے زیادہ قابل تعجب بات یہ ہے کہ ایک فرانسیسی مستشرق CARRA DE VEAUX نے اس

موضوع پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی اور اس کا نام مصنف قرآن رکھا، اور اس میں یہ دعوی

کیا کہ اس مختصر ملاقات میں بیری نے پورا قرآن محمد صلی اللہ علیہ سلم کو بلا کرایا۔

اگر میری راہ سے ملاقات کا واقعہ صیح بھی تسلیم کیا جائے تب بھی کوئی سمجھ دار عالی شخص

جس کے ہوش و ہوا اس سلامت نہیں اور اس میں انسان کا کوئی ذرہ موجود ہے اس بات پر فخر کرنے کا بھی

روانہ ہوگا، یہ بات کس کی ہی آسکتی ہے کہ ایک کی امن ریہ روایت کے مطابق شمال

اور زیادہ سے زیادہ بارہ سال بتائی گئی ہے ایک ایسے سن رسیدہ شخص سے جس کی زبان سے بھی وہ آشنا

نہیں اور جس کو صرف ایک وقت کے کھانے پر ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا ہے ایسے دقیق واہم مسائل او

نازکی تفصیلات پر تبادلہ خیالات کرے گا، اور پٹی صدی عیسوی میں عیسائی کے فور شدہ

شرکانہ عقائد و خیالات کی ان باریکیوں سے آگاہ ہو جائیگا جہاں تک پروٹسٹنٹ مذہب کے

بڑے بڑے پادریوں اور عالموں کی رسائی نہ ہوسکی، پھر تیس چالیس سال کے بعد جب بگیری

راہب کی ہڈیاں بھی خاک میں مل چکی ہوں گی، قرآن کی شکل میں ان سب کو مرتب کر کے پیش کردے گا ؟

یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کو قصہ ہے اندھا کردیا ہو یا خیال آرائی اور فرضی روہی باتیں

تصنیف کرتے ہیں اس کو کمال ہوا اگر یہ قصہ سیرت کی کتابوں میں نہ ہوا تو اسکے ذکر کی بھی یہاں ضرورت نہ تھی۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۳۵

اور جاہلیت کی نجاستوں اور بڑی عادتوں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ دور اور پاک

رکھا، آپ اپنی قوم میں شروع ہی سے رہے زیادہ حمیدہ صفات و عالی بہت ہی اخلاق ا

سے آراستہ، جادار، راست گفتار امانت دار اور بد کلامی اور نخش بیانی سے بہت

دور سمجھے جاتے تھے یہاں تک کہ آپ کی قوم کے لوگ آپ کو امین کے نام سے یاد کرنے

لگے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان تمام باتوں اور جاہلیت کی عادتوں سے محفوظ

رکھا تھا، جو آپ کے شان و رتبہ کے مطابق نہ تھیں اگر چہ اس معاشرہ میں ان کے

اندر کوئی حرج نہ سمجھا جاتا تھا، نہ ان باتوں پر کسی کی نگاہ پڑتی تھی، آپ رشتوں کا

خیال کرتے لوگوں کا بوجھ ہلکا کرتے اور ان کی ضرورتیں پوری فرماتے ، جہان کا کام کرتے۔

اور خیر و تقوی کے کاموں میں دوسروں کی مدد کرتے محنت کر کے روزی تعامل کرتے

اور مولی اور ضرورت پھر غذا پر اکتفا فرماتے تھے۔

آپ کی عمر چودہ پندرہ سال کی تھی کہ قریش اور قبیلہ فیس کے درمیان

حرب الفجار شروع ہو گئی، اور آپ نے اس کو قریب سے دیکھا بلکہ آپ دشمن کے استعمال کئے

ہوئے تیروں کو قریش تک پہونچاتے تھے، جو جنگ کا خاص طریقہ ہے اس موقع پر آپ

کو جنگ کا عملی تجربہ ہوا، اور شہواری و سپہ گرمی سے شناسائی ہوئی ہے

جب عمر مبارک کچھ اور زیادہ ہوئی تو آپ نے ذریعہ معاش کی طرف توجہ کرنا

ضروری سمجھا، اور بکریاں چرانے کا پیشہ اختیار کیا جو اس زمانہ کا ایک شریفیانہ

ے سیرت ابن ہشام و امت ۱۸ ۲ ملاحظہ ہو حضرت خدیجہ کی شہادت جو انھو رنج آپ کے

غار حرا سے واپسی پر آپ کے اخلاق کے بارے میں دی۔ ۳ سیرت ابن ہشام ج اصلاح

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

ذریعہ معاش ہونے کے علاوہ نفسیاتی تربیت اور کمزوروں و محتاجوں پر شفقت

اور محبت کے جذبات پیدا کر نے نیز صاف و تازہ ہوا کا لطف لینے اور جسم کی تقویت

و ورزش کا سامان بھی اپنے اندر رکھتا ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ انبیاء کی سنت

ہے۔ چنانچہ نبوت کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے

بکریاں نہ چرائی ہوں پوچھا گیا کہ آپ نے بھی اسے اللہ کے رسول؟ فرمایا یہاں بنتے بھی۔

آپ نے پہلے بھی بنی سعد میں اپنے رضاعی بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرائی تھیں

اس لئے آپ اس کام سے کچھ نا واقف و بے خبر نہ تھے صحاح سے ثابت ہے کہ آپ مکہ

میں چند قیراط کے عوض وہ آپ بکریوں کے مالکوں سے لیتے تھے کہ یا چراتے تھے۔

حضرت خدیجہ سے رشتہ ازدواج

جب آپ پچیس سال کے ہوئے تو حضرت خدیجہ بنت خویلد کے ساتھ آپ

نے نکاح کیا، حضرت خدیجہ قریش کی بہت با اثر و با رسوخ خاتون تھیں اور فہم و فراست

ان علامہ شبلی سیرت النبی جلد اول میں لکھتے ہیں کہ قراری کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے

ابن ماہ کے شیخ سوید بن سعید کی رائے یہ ہے کہ یہ تیرا کی جیت ہے جو درہم یا دنیا کا ایک جز تھا

اس لحاظ سے ان کے نزدیک حدیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجرت پر بکریاں

چراتے تھے، اور اسی وجہ سے بخاری نے باب الاجارۃ میں اس کا ذکر کیا ہے ابراہیم اکبری کی تحقیق

یہ ہے کہ یہ اجیاد کے قریب ایک جگہ کا نام ہے ابن جوزی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے اور

علامہ عینی نے بہت قوی اور قابل ترجیح دلائل کے ساتھ اسی رائے کی توثیق کی ہے۔ نور النبراس کے

مصنف نے بھی طویل بحث کے بعد اسی کو اختیار کیا ہے کے سیرت ابن ہشام ج ۱ ۱۸۶

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….۱۳۷

اخلاق کریمانہ نیز مال و دولت کے لحاظ سے بھی نامور تھیں، یہ بیوہ تھیں اور ان کے

شوہر ابو ہالہ کا انتقال ہو چکا تھا، اس شادی کے وقت آپ کی عمر شریف چیئس سال

اور حضرت خدیجہ کی چالیس سال تھی ہے

حضرت خدیجہ تجارتی کاروبار بھی کرتی تھیں، روپیہ ان کا ہوتا تھا اور

دوسرے لوگ محنت کرتے تھے، اور اپنی محنت کا معاوضہ پاتے تھے، قریش بڑی باجر

قوم تھی، حضرت خدیجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راست گفتاری اوخال

اور وجہ خیر خواہی کا علم بھی آپ کے سفر شام سے بخوبی ہو چکا تھا، جب آپ ان کا

مال لے کر بغرض تجارت شام گئے تھے اور اس سفر میں جو انوکھے واقعات پیش آئے

تھے اس کا بھی انکو علم تھا چنانچہ انھوں نے آپ سے رشتہ کی خواہش کی حالانکہ

اس سے پہلے وہ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی درخواست کو نا منظور کر چکی

تھیں، آپ کے چچا سید ناحمزہ نے یہ پیغام آپ تک پہونچایا، ابو طاہر نے خطبہ نکاح

پڑھا اور آپ کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوگا، اور آپ کے صاحبزادے ابراہم کو

چھوڑ کر (جن کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا، آپ کی ساری اولاد ان ہی

سے ہوئی ہے

کعبہ کی تعمیر نو اور ایک بڑے فتنہ کا سدباب

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی تو

لے سیرت ابن ہشام ج ام ۱۹ و سیرت ابن کثیر ۳۱۷-۲۶۵ ۱۲ سیرت ابن ہشام

جام ۱۵۸-۱۹ ۳ سیرت ابن ہشام جو انتشار و دیگر کتب سیرت

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۳۸

قریش نے کعبہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا اور اس پر چھت ڈالنے کی تجویز کی، اس سے

پہلے اس کی نوعیت یہ تھی کہ مٹی اور گارے سے جوڑے بغیر بھاری پتھر تلے اوپر رکھ

دیئے گئے تھے جن کی بلندی قد آدم سے زیادہ تھی، اب اس کے منہدم کر کے از سر نو

تعمیر کیا جانا تھا، جب دیواریں بلند ہوکر حجر اسود کی بلندی اتک پہونچیں تو حجر اسود

کے معاملہ میں سخت اختلان پیدا ہوگیا، ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس کو یہ شرفت حامل

ہو اور وہ اس کو اٹھا کر اس کی صحیح جگہ نصب کرے، یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے جنگ

جدال تک پہونچا، دور جاہلیت میں اس سے معمولی معمولی باتوں میں جنگیں ہوتی

رہی ہیں، یہ تو ایک بڑی بات تھی۔

عرض کہ جنگ کی پوری تیاری کر لی گئی، بنو عبد الدار نے خون سے بھری

ہوئی ایک بڑی لگن تیار کی اور انھوں نے اور بنو عدی نے مرتے دم تک لڑنے کا

آپس میں معاہدہ کیا، اور خون کی لگن ہی ہاتھ ڈال کر یہ معاہدہ اور عہد و پیمان پختہ

کیا، یہ ایک بڑی تباہی اور عظیم فتنہ وفا کا پیش خیمہ تھا قریش کئی روز تک اسی اکھن

میں رہے، پھر اس پر ان سب کا اتفاق ہو گیا کہ جو شخص مسجد حرام میں رہے پہلے

داخل ہوگا، وہ اس بات کا فیصلہ کرے گا چنانچہ سب سے پہلے مسجد حرام کے دروازہ

سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور آپ کو دیکھتے ہی سب نے

بے ساختہ کہا کہ یہ حمد الامین ہیں، ہم ان پر راضی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوائی، حجر اسود اٹھا کر اپنے

دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایاکہ ہر قبیلہ چادر کا ایک کونہ پکڑ کر اٹھائے

سب نے ایسا ہی کیا، جب وہ جگہ قریب ہوگئی جہاں اس کو نصب کرنا تھا تو آپ نے

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اپنے ہاتھ سے اٹھا کر اس کو اس جگہ رکھ دیا ، اس کے بعد باقی عمارت کی تعمیر ہوئی۔

اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بڑے کشت و خون سے

بچالیا، آپ نے اس معاملہ میں جس حکمت اور تادیر سے کام لیا اس سے بڑھ کر کوئی

حکمت اور تدبیر نہیں ہوسکتی تھی۔ نبوت کے بعد آپ نے تمام انسانوں اور دنیا کی

قوموں کو جس طرح جنگوں کی بھٹی سے نجات دی، یہ واقعہ دراصل اسی کا پیش خیمہ

اور مبارک آغاز تھا، اور آپ کے فہم و تدبیر بہترین تعلیمات ، نرمی و تلطف

اور رفع نزاع وصلح جوئی کا ترجمان و آئینہ دارا یہ وہ بات تھی جس نے آپ کو

رحمتہ للعالمین کا منصب عالی عطا کیا اور آپ اس سادہ اور ان پڑھ قوم

کے ان جنگ جو اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے قبائل کے لئے نبی رحمت

ثابت ہوئے۔

حلف الفضول

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلف الفضول میں بھی شریک رہے جو عربوں کا

سے شریفانہ اور کریمانہ معاہدہ تھا، اس کا قصہ یہ تھا کہ زبیر کا ایک شخص مکہ

میں کچھ سامان تجارت لے کر آیا اور قریش کے ایک سردار عاص بن وائل نے سیب

سامان خرید لیا لیکن اس کا حق اس کو نہیں دیا، زبیدی نے سرداران قریش کی

حمایت حاصل کرنا چاہی لیکن عاص بن وائل کی حیثیت و وجاہت کی وجہ

سے انھوں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور اس کو سخت سست کہہ کر

ے سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۱۹-۱۹۷

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

واپس کر دیا، اب زبیدی نے اہل مکہ سے فریاد کی اور ہر با حوصلہ ، صاحب ہمت

اور حق و انصاف کے حامی شخص سے جو اسے مل سکا شکایت کی آخر کار ان لوگوں میں

غیرت نے جوش کیا اور یہ سب لوگ عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے،

انھوں نے ان سب کی دعوت و ضیافت کی، اس کے بعد انھوں نے اللہ کے نام

پر یہ عہد و پیمان کیا کہ وہ سب ظالم کے مقابلہ اور مظلوم کی حمایت میں ایک ہاتھ

کی طرح رہیں گے اور کام کریں گے جب تک ظالم مظلوم کا حق نہ دے دے اقریش نے

اس معاہدہ کا نام ” حلف الفضول ” یعنی فضول کا معاہدہ ، رکھا، اور کہنے لگے کہ

انھوں نے ایک فالتو کالم میں، جون کے فرائض میں نہیں آتنا دخل اندازی کی ہے

پھر سب مل کر عاص بن وائل کے پاس گئے اور زبیدی کا سامان و اسباب اُن سے

زبردستی لے کر زبیدی کو واپس کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدہ سے بہت خوش تھے اور بعثت کے

بعد بھی آپ نے اس کی تعریف و تحسین کی اور فرمایاکہ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان

پر ایک ایسے معاہدہ میں شریک تھا جس سی اور اس کا ہر سال کے بعدبھی مجھے بلایا جائے تو

میں اس کی تکمیل کے لئے تیار ہوں، انھوں نے اس پر یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ جن بحق دار

تک پہونچائیں گے اور یہ کہ کوئی ظالم مظلوم پر غلبہ نہ حاصل کر سکے گا۔

کے سیرت ابن کثیر ی امت ۲۵ – ۱۵۹ اس کی ایک وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قریش سے پہلے قبیلہ جرہم نے

بھی ایک ایسا معاہدہ کیا تھا، اس میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے تین کا نام فضل تھا، اس ماثلت

کی وجہ سے قریش کے اس معاہدہ کا نام بھی یہی پڑگیا الروض الانف شرح سیرۃ ابن ہشام) است

علاوہ اس کی اور توجہات بھی ہیں۔ کے سیرت ابن کثیر ج ام ۲۵

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۱

جزیرۃ العرب کے حالات اور جزیرہ کے دینی، تہذیبی و سیاسی مرکز دگر گریہ)

کے احوال پر نظر رکھنے والا جانتا ہے کہ اس حلت پر باضمیر لوگوں کی تیاری کا سبب

محض کسی فرد واحد یا چند لوگوں کی حق تلفی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس کا قوی محرک انتشار

بدامنی اهے اصولی اور لاقانونیت کی وہ حالت تھی جو مکہ اور اس کے ماحول پر طاری

تھی ، نیز اس کا ایک اور محرک امن و استحکام کی مخصوصا حرب فجار کے بعد

ضرورت اور حقوق کے احترام، اور مکہ آنے والے تاجروں اور کاریگروں کی

حفاظت و حمایت کی اہمیت کا احساس بھی تھا۔

مبہم بے چینی

آپ اپنے اندر ایک مہم بے چینی محسوس کرتے تھے جس کا سیب اور سرچشمہ اور اس

کا مستقبل اور بال کار آپ کو معلوم نہ تھا، آپ کے دل میں کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہ آنا

تھا کہ اللہ تعالے وحی و رسالت سے آپ کو سر فراز فرمانے والا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوما اور اس طرح ہم نے اپنے حکم سے تمھاری

مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الكتب طرف روح القدس کے ذریعہ قرآن

وَلَا الْإِيمَانُ وَالكِن يعلنه لورا بھیجا ہے نہ تو کتب کو جانتے تھے اور

نَّهْدِي بِهِ مَنْ تَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَاء نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہم نے اسکور

وإنك لتهدى إلى صراط ہے کہ اس سے ہم اپنے نوں ہی سے جس کے

مستقره (سوره شوری (۵۲) چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بے انک

اے محمد تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو۔

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۴۲

دوسری جگہ ارشاد ہے :۔

وَمَا كُنتُ تَرْجُوا أَن يُلْقَى إِلَيْكَ اور تھیں امید نہ تھی کہ تم پرکتاب

الكتبُ الَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ نازل کی جائے گی مگر تمھارے پروردگا

فَلَا تَكُونَنَّ ظهيرا لِلْكَفِرِين کی مہربانی سے نازل ہوئی تو تم

(سوره قصص – ۸۶) ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا۔

اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت و تربیت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشو نما

بحیثیت امتی کے ہوئی آپ نہ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے اس طرح آپ دشمنان اسلام

کی تہمت طرازیوں اور افترا پردازیوں سے بہت دور اور محفوظ ہے، قرآن مجید نے

اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :۔

وَمَا كُنتَ تَتْلُوا مِن قَبْلِهِ مِن اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب

كتبِ وَلَا تَه سطہ بند پڑھتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ سے

إِذًا لارْتَابَ الْمُبْطِلُون لکھ ہی سکتے تھے۔ ایسا ہوتا تو اہل بایل

(سوره عنکبوت – (۴۸) ضرور شک کرتے۔

قرآن مجید میں اسی لئے آپ کو اتی کا لقب دیا گیا اور ارشاد ہوا :-

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولی وہ جو ( محمد ) رسول اللہ کی جو

النَّبِيَّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يَجِدُونه نبی اتی ہیں پیروی کرتے ہیں

مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التوراست جن کے اوصاف کو وہ اپنے ہاں

والانجيل.

تورات اور انجیل میں لکھا ہوا

(سورہ اعراف – ۱۵۷) پاتے ہیں۔