Ahd-e-Besat Ke Yathrib Madinah Par Aik Nazar

۲۲۱

عہد بعثت کے شہریت پر ایک نظر

مکی اور مدنی معاشروں کا فرق

شہر شریب کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ

علیہ وسلم کا دارالہجرہ، اسلام کی عالمی دعوت کا مرکز اور ظہور اسلام کے بعد قائم

ہونے والے پہلے اسلامی معاشرہ کا گہوارہ بنایا، ہیں اس کی تمدنی، معاشرتی ،

اقتصادی صورت حال قدیم قبائل کے باہمی تعلقات اور وہاں کے یہود کی

معاشرتی اقتصادی اور جنگی اہمیت اور اس زر خیز شہر کے معیار زندگی کو سمجھنا ہوگا

جہاں متعد د مذاہب ثقافتیں اور معاشرے دوش بدوش تھے، جب کہ مکہ مکرمہ

کا ایک رنگ ایک طرز اور ایک ہی مذہب تھا، اس سلسلہ میں یہاں پر قارئین کے

سامنے کچھ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں جن کی مدد سے وہ زمانہ بعثت کے شہر شریب

کی نوعیت اور صورت حال کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔

یہود

اس تاریخی حقیقت کو ترجیح حاصل ہے کہ یہود کی اکثریت جزیرة العرب

میں عموما اور شہر شیرے میں خصوصاً پہلی صدی مسیحی میں آئی مشہور یہودی فاضل

15

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۲

ڈاکٹر اسرائیل ولفنسن لکھتا ہے :۔

منہ میں جب یہودی اور رومی جنگ کے نتیجے میں فلسطین اور بیت المقدس

برباد ہو گئے، اور یہود دنیا کے مختلف علاقوں میں کھو گئے تو یہود کی بہت سی

جماعتوں نے بلاد عرب کا رخ کیا، جیسا کہ یہودی مورخ جو زیفیس کا کہنا ہے

جو خود بھی اس جنگ میں شریک تھا، اور جن مواقع پر اس نے یہودی ٹکڑیوں

(UNITS) کی بھی قیادت کی تھی عربی ما خذ بھی اس کی تائید کرتے ہیں

مارین میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے جن میں بالغوں کی تعداد وہ ہزار سے اوپر تھی)

قینقاع تضیر، قریظہ اندازہ کیا گیا ہے کہ قینقاع کے لڑنے والوں کی تعداد سات سو

تھی، تغیر کے آدمیوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی، جب کہ قریظہ کے بالغوں کی تعداد

سات سو اور نو سو کے درمیان تھی۔

لے تاریخ الیہود في بلاد العرب في الجاہلیة وصدر الاسلام اسرائیل ولفنسن (ابو ذویب) ص (20 قاهرة (۱۹۲۹)

کے یہ اندازہ سیرت ابن ہشام کے ان اعداد و شمار سے کیا گیا ہے جو جنگوں اور واقعات کے تذکرے میں

آئے ہیں، جیسے بنی تغیر کی جلا وطنی، بنی قریظہ کا قتل و غیرہ، قینقاع نضیر اور قریظہ بڑے قبیلے تھے

جن کے ماتحت شاخیں بھی تھیں، جیسے بنی ہدل قریظہ کے تابع تھے جن میں سے بعض بڑے صحابی بھی

ہوئے اور جیسے بنی زنباع جو بنی قریظہ کی شاخ ہے بعض یہودی جماعتوں کے نام اس معاہدے

میں بھی آئے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان ہوا تھا، جیسے بنی عوف

بنی النجار بنی ساعدہ اپنی نقلیہ اپنی بیفتہ اپنی الحادث وغیرہ اس معاہدے میں ان جماعتوں کے

ذکر کے بعد آیا ہے کہ ان بطانة يهود كا نفسهم ( یہود کے خواص اور ان کے محمد سلیم کا معاملہ

بھی انھیں کی طرح ہے) اس لئے یہودی صاحب وفاء الوفاء کا کہنا ہے کہ یہود میں قبیلوں سے

زیادہ تھے۔ (وفاء الوفاء ۱۱۶)۔

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۳

ان نمینوں قبائل کے باہمی تعلقات کشیدہ رہتے تھے اور کبھی لڑائیاں بھی

ہوتی تھیں، ڈاکٹر ولفنسن کہتا ہے :۔

بنی قینقاع اور بقیہ یہود میں عداوت چلی آتی تھی جس کا سبب

بہ تھا کہ بنی قینقاع بنی خزرج کے ساتھ یوم تبعات میں شریک تھے

اور بنی نضیر اور بنی قریظہ نے بنی قینقاع کا بڑی بے دردی سے کشت و خون

کیا تھا، اور ان کا شیرازہ بری طرح سے منتشر کر دیا تھا، حالانکہ انھوں نے

گرفتار ہونے والے نام تمام یہود کا فدیہ بھی ادا کردیا تھا چنانچہ یوم بیعاثا

کے بعد یہودی قبائل میں باہمی نزاع چلی آرہی تھی، جب قینقاع

اور انصار کے درمیان جنگ ہوئی تو انصار کے مقابلہ پر ان کا کسی

یہودی نے بھی ساتھ نہیں دیا ؟

قرآن مجید نے بھی یہود کی باہمی عداوت کی طرف اشارہ کیا ہے :۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَا قَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ تم

دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُم آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور اپنوں

مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُم وَ أَنْتُم کو اپنے وطن سے نہ نکالو گے پھر

تَشْهَدُونَ ، ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤلاءِ تم نے اقرار کیا او تم مانے ہو پھر

تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ تم ہی اپنوں کو قتل کرتے ہو اور

فَرِيقًا مِنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالا ثم نکالتے ہو، ان پر چڑھائی کرتے ہو

اپنے ایک فرقے کو ان کے گھروں سے

له اليهود في بلاد العرب ص ۹ ۱

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۴

وَالْعُدْوَانِ قَرَآن یا توکر گناہ اور ظلم کے طور پر اور گردو

أسرى تُقدِّ وَهُمْ وَهُوَ تمھارے پاس قید ہو کر آئیں تو تم

مُحَرَّمُ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُم فدیہ دیتے ہو، حالانکہ ان کا

(سورة البقرة -۸۴-۸۵) نکال دینا بھی تم پر حرام ہے۔

یہود مدینہ کی مختلف بیسیوں اور محلوں میں رہتے تھے، جو انھیں کے لئے مخصوص

تھیں بنو قینقاع کو جب بنو نضیر اور بنو قریظہ نے مدینہ کے نواحی محلے سے بھگایا تو وہ

شہر کے اندر ایک خاص محلے میں رہنے لگے، بنو نضیر مدینہ سے دو تین میل کی دوری

پر وادی بطحان کی بلندی پر رہتے تھے، جو کھجوروں اور کھیتوں سے مالا مال تھی ،

بنو قریظہ مدینہ کے جنوب میں چند میلوں پر واقع مہزور کے علاقے میں رہتے تھے لیے

مدینہ میں یہود کی مخصوص بیتیاں تھیں جن میں قلعے اور تحکم عارتیں بنی ہوئی

تھیں ان میں وہ مستقل طور پر رہتے تھے، انھیں یہودی حکومت بنانے کا موقع

نہیں ملا، بلکہ وہ قبائلی سرداروں کی حمایت و حفاظت کے تحت چین سے رہتے

تھے، اور اس حمایت کے بدلے میں انھیں سالانہ محصول ادا کرتے تھے، جس کے

سبب وہ بددوں کے حملوں سے بھی محفوظ رہتے تھے، اس خطرے کے پیش نظر

یہودی معاہدوں پر مجبور تھے، چنانچہ ہر یہودی سردار اعراب اور روسائے عرب

میں سے کسی نہ کسی کو اپنا حلیف بنائے رکھتا تھا۔

21 ” بنو اسرائیل فی القرآن والسنة للدكتور محمد بيد الطنطاوي من

له تشخیص از تاریخ العرب قبل الاسلام” ج ۲۳۰۷: ڈاکٹر جواد علی (بغداد)

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۵

مذہبی امور

یہودی اپنے کو ایک مستقل مذہب اور آسمانی شریعت کا حامل سمجھتے تھے۔

چنانچہ وہ اپنے مدرسوں میں (جن کو ید راس کہتے تھے) اپنے دینی اور دنیوی امور،

شرعی احکام، تاریخ اور اپنے انبیاء اور رسولوں کے حالات پڑھتے اور پڑھاتے تھے، اسی طرح

مخصوص عبادت گاہوں میں وہ اپنی عبادات اور دینی شعائر انجام دیتے تھے، وہ

انہی جگہوں پر اپنے تمام دینی اور دنیوی امور کے سلسلے میں مشورہ اور تبادلہ خیالات

کے لئے جمع ہوتے تھے، یہودی اپنے مخصوص دینی قوانین پر عمل کرتے تھے جن میں سے

کچھ انھوں نے اپنی کتابوں سے اخذ کئے تھے اور کچھ ان کے کاہنوں اور عالموں نے

اپنی طرف سے ایجاد کر لئے تھے، اسی طرح وہ اپنی عیدیں الگ مناتے تھے کچھ خاص

دنوں جیسے یوم عاشورہ میں روزے رکھتے تھے۔

یہود کی مذہبی و اخلاقی حالت

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود مدینہ کا اپنے اصل دین اور اپنی کتابوں کی تعلیمات

سے تعلق بہت کمزور ہو گیا تھا، اور مرور ایام سے وہ بھی اپنے ہمسایہ قبیلوں کی طرح

ہو گئے تھے، مگر توحید کا کچھ اثر اور کھانے پینے میں حلال وحرام کی تمیز باقی رہ گئی تھی۔

لیکن جب اسلام خالص و قطعی عقیدہ توحید کے ساتھ آیا جو قرآن میں ہے تو ان کے

رہا سہا یہ امتیاز بھی ختم ہو گیا۔

لے بنو اسرائيل في القرآن والسنة منه ۸۱

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۶

وہ اخلاقی پستی کی انتہا کو پہونچ گئے تھے اپنی حاجت روائی کے لیے سفلی اعمال

سحر وغیرہ اپنے مخالفین سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کھانے میں زہر کی ملاوٹ،

طنز و تعریض، اور دھو کہ میں ڈالنے والے دو معنی کلمات بول کر اپنے مجروح دل کو

تسکین دیتا ان کی عادت بن گئی تھی، جوان پست ذہنیت، شکست خورده

معاشروں کی پہچان ہوتی ہے، جو مردانگی اور اخلاقی جرات سے محروم ہوتے ہیں

فنون سحر و کہانت میں یہود کی مہارت تاریخ کے مسلمات میں ہے اور ان کے

علماء و اکا بر اس کا فخریہ اظہار بھی کرتے ہیں، اور قرآن مجید نے بھی آیت :۔

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيْطين انھوں نے (اس سحر و جادو) کی

عَلَى مُلْكِ سُلَي من الخ بھی پیروی کی جن سے شیاطین سلیمانی

( سورة البقرہ – ۱۰۲) کی کی سلطنت اور جہد میں کام لیتے تھے۔

سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، یہود کا یہ شخف عہد رسالت تک باقی تھا مشہور کا تک تھامت

یہودی مستشرق مارگولیتھ (MARCOLIOUT) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ

وسلم اور اسلام کے بارے میں اپنے تعصب کے لئے بھی مشہور ہے ، لکھتا ہے :-

مدینہ کے یہود فن سحر میں بڑے ماہر تھے اور علانیہ جنگ اور مردانہ وار

صف آرائی پر کالے کرتب (جادو) کو ترجیح دیتے تھے ہے

غزوہ خیبر کے بیان میں بکری کے گوشت میں زہر ملانے کا واقعہ آئے گا جو

نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی مگر آپ محفوظ رہے اور شیرین براون

معرور جنہوں نے کھانے میں شرکت کی تھی انتقال کر گئے ہے

  1. S. MARGOLIOUTH: MUHAMMAD & THE RISE OF ISLAM P. 189 له

صحیح بخاری باب ” الشاة التي تمت للنبي صلى اللہ علیہ وسلم بخیر

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۷

معروف کلمات کو ایک خاص طرز سے استعمال کرنے اور ان سے بڑے معنی

مراد لینے کا ذکر قرآن شریف میں اس طرح آیا ہے :۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوا اے ایمان والوتم را عنان مت کہا

رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرُنا و اسمع کرو اور انظر نا کہہ دیا کرو اور

وَالكُفِرِينَ عَذَابَ الیم سن لیجیو کافروں کو مسز اد روناک

( سورة البقرة – ۱۰۴)

ہوگی۔

ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہود آہستہ سے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے راعنا کہتے تھے جو ان کی زبان میں ایک بڑی گالی تھی ، وہ

رابعہ کہتے تھے کہ آپس میں ہنستے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور اس کے یہ کہ آپس میں نہ تھے اس پر اللہ تعالی نے آیت اور اس کے

ستر باب اور مسلمانوں کو مشابہت سے بچانے کے لئے اس سے روک دیا گیا، اور

یہودیوں کے یہاں اس کلمہ کے معنی اسمع لا سمعت (سنو خدا تم کو سننا نصیب

نہ کرے) کے ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ (نعوذ بالشر) انھوں نے آپ کی نسبت ” رعن

سے کی جو رعونت سے نکلا ہے ، جس کے معنی جہل و حماقت کے ہیں اور الف مریوت

کے لئے ہے۔

بخاری نے حضرت عائشہ سے عروہ کی روایت نقل کی ہے کہ وہ فرمانی

تھیں کہ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے وقت “السلام عليك”

کہتے تھے اور اس سے مراد موت لیتے تھے۔

له روح المعانی از علامہ آلوسی بغدادی ج ۱ ۳۳۵۰-۳۴۹

ه جامع صحیح ، کتاب الدعوات .

………………………………………………………………………………………………………………

حدیث میں آتا ہے لكل داء دواء الا السلام (موت کے سوا ہر بیماری کی دوری)

اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ :۔

وَإِذَا جَاءُوكَ حَبَّوك بما اور وہ لوگ جب آپ کے پاس

الله لم يحيك به الله آتے ہیں، آپ کو ایسے لفظ سے

سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے

آپ کو سلام نہیں فرمایا۔

اسی طرح وہ ایسی اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے جس کی کسی مہذب صاحب کردار

اور شرعی و آسمانی تعلیمات پر مبنی معاشرہ سے توقع نہیں کی جا سکتی، اس رجحان

کا پتہ اس عرب عورت کے قصہ سے بھی ہوتا ہے جو بنو قینقاع کے بازار میں ایک کاریگر

کے پاس کسی کام سے گئی تو یہود نے اس سے چہرہ سے نقاب اتارنے کے لئے اصرار کیا اور

اس کے انکار پر کا ریگر نے اس کی نقاب پیچھے سے باندھ دی اور جب وہ کھڑی ہوئی تو

اس کی بے پردگی پر سب سہنی پڑے اور عورت نے ایک چیخ ماری جسے سن کر ایک مسلمان

نے لپک کر اس کا ریگر کا کام تمام کر دیا، اور پھر یہود نے اس مسلمان کو شہید کر دیا۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تھا اور اسواق

عرب میں اس کا امکان مشکل تھا۔

اقتصادیات

دوسری قوموں سے ان کے بیشتر مالی معاملات رہن اور سود پر قائم تھے

الم مجمع بحار الأنوار ج ۵۵۰۳ ۵۲ المجادلہ ۔ دیکھئے روح المعانی اور غیر ان کثیر سے سیرت ابن ہشام ق م

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۹

اور مدینہ جیسے زراعتی علاقے کے پیش نظر انھیں اس کا سنہرا موقع بھی حاصل تھا

کیونکہ کسانوں کو کھیتی کے موقع پر اکثر قرض کی ضرورت پیش آتی ہے۔

زمین کا نظام صرفت زریال تک ہی محدود نہ تھا، بلکہ مجبوری کی حالت میں

عور تیں اور بچے بھی رہن رکھ لئے جاتے تھے، چنانچہ کعب بن الاشرف کے قتل کے

سلسلے میں امام بخاری نے یہ روایت نقل فرمائی ہے۔

قال له محمد بن مسلمة محمد بنے ہونے کو ہے کہاکہ ہم چاہتے

قد اردنا ان تسلفنا وسفا ہیں کہ تم ایک وسق یا دو وسق غلہ

او وسقين فقال نعم ہمیں قرض دو اس نے کہا کہ بشرطیکہ

ار هنونی قانوا ای شی تم میرے پاس کچھ رہن رکھو ا نھوں نے

تريد ؟ قال ادھنونی پوچھا تم کیا چیز چاہتے ہو؟ کو نئے

ناء كم قالوا کہا ہ ہم تم میرے پاس اپنی عورتوں کو

کیفت نرھن نساونا رہن رکھوا انھوں نے کہا کہ ہم

وانت اجمل العرب اپنی عورتوں کو تمھارے پاس کیسے

قال : فارهنونی ابناء کو رہن رکھ دیں جبکہ تم عربوں میں

قالوا كيف نرهنك خوبصورت ترین انسان ہوا

ابناءنا فيسب احدهم اس نے کہا کہ تب اپنے بیٹوں کو

فيقال رهن بوست رہن رکھو، اس پر انھوں نے

او وسقين قال هذا کہا کہ ہم تمھارے پاس اپنے بیٹوں

لے بنو اسرائيل في القرآن والسنة منشتا

………………………………………………………………………………………………………………

عار علينا ولكن نرهنگ کیسے رکھ دیں کہ آگے انھیں طعنہ

اللأمة.

دیا جائے کہ وہ ایک یا دو دست

کے بدلے رہن رکھے گئے تھے اور

یہ ہمارے لئے بڑی شرم کی بات

ہوگی، البتہ ہم تمھارے پاس

ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔

اس قسم کے رہن کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ راہوں اور مرتہوں کے درمیان

نفرت و عداوت پیدا ہو جائے خصوصا اس وقت جبکہ عرب اپنی عورتوں کے فرت و عداوت پیدا ہو جائے خصوصا اس وقت جبکہ عرب اپنی عورتوں کے

سلسلے میں غیرت وحمیت کے لئے شہرت رکھتے تھے، دینہ کی اقتصادیات پر

یہوں کے اس تسلط کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کا معاشی دباؤ بہت بڑھ گیا، اور وہ

منڈیوں میں من مانی کرنے لگے، اپنی مصلحت و منفعت کے مطابق مصنوعی

قلت پیدا کر کے پور بازاری اور ذخیرہ اندوزی سے کام لینے لگے اس لئے

مدینہ کی اکثریت ان کی دھاندلی اور حد سے زیادہ سود خوری اور نفع اندوری

کی ایسی شرمناک حرکتوں کی وجہ سے ان سے نفرت کرنے لگی تھی جن سے ایک

عرب آدمی دور رہتا ہے۔

ان کی حبابی سیاست حرص و ہوس اور توسیع پسندی کے پیش نظر

DE LACY OF LEARN) نے اپنی کتاب عرب قبل محمد میں لکھا ہے کہ :

لے بخاری نے اسے کتاب المغازی میں باب قتل کعب بن الاشرف میں ذکر کیا ہے ان تمام

نے بھی تھوڑے فرق کے ساتھ یہ قصہ السیرۃ النبویہ خاص اور پر نقل کیا ہے کہ بنو اسرائیل فی القرآن السار

………………………………………………………………………………………………………………

۲۳۱

اصل بدوی باشندوں اور تو آباد یہودیوں کے تعلقات ساتویں صدی کا

مسیحی میں بہت خراب ہو گئے تھے کیونکہ ان یہودیوں نے اپنی کاشت کے

علاقے ان بدوؤں کی چراگاہوں تک وسیع کر لئے تھے؟

اوس و خزرج (مدینہ کے عرب باشندے) اور یہود کے تعلقات ذاتی نفع

اور استحصال پر مبنی تھے، یہود ان دونوں قبیلوں کو لڑانے پر بھی اپنے فائدے کی صورت

میں بہت خوب کرتے تھے جیسا کہ اوس و خزرج کی متعد د لڑائیوں میں انھوں نے

کیا تھا جن کے نتیجہ میں یہ دونوں قبیلے تباہ ہو رہے تھے، ان کے پیش نظر صرف یہی رہتا

تھا کہ مدینہ پر ان کا مالی تسلط بر قرار رہے، آنے والے نبی کے سلسلے میں یہود کی گفتگو

نے بھی اوس و خزرج کو داخل اسلام ہونے پر آمادہ کردیا تھا۔

دینی و ثقافتی حالت

بلاد عرب کے یہود کی زبان فطری طور پر عربی ہی تھی لیکن وہ خالص نہیں

رہ گئی تھی، بلکہ اس میں تھوڑی سی عبرانی کی بھی آمیزش ہو گئی تھی، کیونکہ انھوں نے

عبرانی کا استعمال پوری طرح نہیں چھوڑا تھا، وہ اپنی عبادتوں اور تعلیمی امور

میں اس کا استعمال کرتے رہتے تھے کہیے

اے ان سے عرب قبائل مراد ہیں، جیسے اوس و خزرج اور دوسرے عرب جو مدینہ کے اطراف میں

ان کے پڑوسی تھے .

ARABIA BEFORE MOHAMMAD, (LONDON 1927), P. 174

بنو اسرائیل فی القرآن والسنة اللدكتور محمد سيد الطنطاوی ص ۷۳-۱۰۱

مكة والمدينة في الجاهلية وعبد الرسول : احمد ابراہیم الشریف ۲۰۳

………………………………………………………………………………………………………………

یہود کے دینی و دعوتی پہلو کے بارے میں ڈاکٹر اسرائیل پفن لکھتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود کو عرب میں اپنا دینی انتدار وسیع

کرنے کے وسائل حاصل تھے، اور وہ اگر چاہتے تو حاصل کردہ اقتدار

سے کہیں زائد اثر و نفوذ حاصل کر سکتے تھے لیکن تاریخ یہود کا ہرجانے

والا جانتا ہے کہ یہود نے دوسری قوموں کو اپنے دین کے قبول کرنے پر

کبھی آمادہ نہیں کیا اور بعض وجوہ سے اشاعت دین یہود کے لئے

ممنوع رہی ہے یہ

یہود (اپنے قومی مزاج کے مطابق اپنے معاشرہ کو نئے حالات و تغیرات

کے مطابق ڈھالنے، نئے چیلنج کو سجھتے اور موقعہ سے فائدہ اٹھانے، اور اسلام کو

اختیار کر کے اپنی ثقافت و ذہانت اور تجربہ و صلاحیت کے لائق مقام پانے میں

ناکام رہے اور یہی افسوس ناک انجام ہر اس معاشرہ کا ہوا ہے جو اپنے ماضی، نام و

نسب پر فخر، اور خواب و خیال کی دنیا میں رہنا بہتا ہے اور کھو کھلی قیادت کا

ہارا لیتا ہے۔

یہود اپنے کو صحیح طور پر نمایاں کرنے اور ایک صاحب پیغام اور اہل کتاب

اور انبیاء سابقین کی امت و ذریت ہونے کے لحاظ سے اپنی صلاحیت و فوقیت

ثابت کرتے ہیں ناکام رہے اور عرب کی گھٹیا بت پرستی اور پست ترین جاہلیت

کو دیکھ کر انہیں کوئی بے چینی نہیں پیدا ہوئی اور انھوں نے کم سے کم اس

عقیدہ توحید کی بھی دعوت نہیں دی جس کے وہ صدیوں سے اپنے اخلاقی

له اليهود في بلاد العرب : اسرائیل و لفتن ۷۲ ۔

………………………………………………………………………………………………………………

الخطاط اور قومی کمزوریوں کے باوجود) حامل چلے آرہے تھے، جس کا بنیادی

سبب یہ تھا کہ وہ اپنے دین کی طرف کسی غیر اسرائیلی فرد کو دعوت دینے کے قائل

نہ تھے یہودیت کو نسلی دین و اعزاز سمجھنے کا عقیدہ ان کا دائی شعار تھا،

جیسا کہ اسرائیل الفتن اور سابق امریکی یہودی اور حال کی مسلم فاضلہ مریم جمیلہ

کا کہنا ہے، اس کے ساتھ ان کی آرام طلبی اور حد سے زائد تجارتی و معاشی سرگرمی

بھی ان کے لئے ایک رکاوٹ تھی۔

لیکن یقینی بات ہے کہ اوس وخزرج اور دوسرے عرب قبائل سے تعلق

رکھنے والے بہت سے افراد نے یہودیت کو اپنی مرضی سے یا رشتہ داری ، یا یہودی

ماحول میں پرورش پانے کے سبب اختیار کر لیا تھا عرب کے یہود میں سوتی ہیں پائی جاتی

تھیں یہ بھی معلوم ہے کہ نماز یہودی تاجر اور شہورشا ترکیب بن الاشرت (و نفری

کی نسبت سے بھی معروف ہے، قبیلہ طئے کا ایک فرد تھا، اس کے باپ نے بنی نصیر میں

شادی کی تھی چنا نچہ کعب ایک پر جوش بہودی کی صورت میں پروان چڑھا،

ابن ہشام لکھتے ہیں کہ :۔

” اس کا آبائی تعلق قبیلہ طے پھر بستی نیہان سے تھا ، اس کی ماں بنی تغیر

سے تھی ہے

عربیوں میں ایک رسم یہ تھی کہ جس کا لڑکا زندہ نہ رہتا تھا وہ یہ نذرمانا تھا کہ

اگر وہ زندہ رہا تو اس کو یہودیوں کے سپرد کردے گا کہ وہ اس کو اپنے میں شامل کر لیں

چنا نچہ بہت سے عرب اس طرح بھی یہودی بن گئے تھے، سنن ابو داؤ دین حسب بیل

ہے ابن ہشام ج ام ۵۱۴

………………………………………………………………………………………………………………

روایت ملتی ہے :۔

عن ابن عباس قال : كانت جس عورت کا بچہ زندہ نہ رہتا تھا

المرأة تكون مقلاه فتجعل وہ نذر مانتی تھی کہ اگر بچہ زندہ ربا تو

على نفسها أن عاش لها ولدان اسے یہودی بنا دے گی چنانچہ

تهوده، فلما الجليت بنو النضير جب بنو نضیر جلا وطن ہوئے تو

كان فيهم من ابناء الانصار ان میں سے انصار کے لڑکے بھی

فقالو الا ندع ابناءنا، تھے، اس لئے وہ کہنے لگے کہ ہم

فانزل الله تعالى : لا اکراہ اپنے بیٹوں کو نہیں چھوڑیں گے

في الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرشد اس پر یہ آیت اتری لا اكراه

مِنَ الْغَيِّ

في الدين

اوس و خزرج

اوس و خزرج (مدینہ کے عرب باشندوں) کا سلسلہ نسب بین کے قلیاء ارد ازد

سے ملتا ہے، جہاں سے یثرب کی طرف ہجرت کی لہریں مختلف وقفوں میں اٹھتی

رہیں جس کے کئی اسباب تھے ان میں بین کی غیر یقینی صورت حال مین کا حملہ

سید یا رب کے انہدام شتگی کے بعد آپپاشی کی دقت وغیرہ بھی ہیں اس طرح

اوس و خزرج مدینہ میں یہود کے بعد آئے ملے اوں کے قبائل دینہ کے جنوب مشرق

لکھتے ہیں کہ ان الوراء کتاب الجهاديان الأيضاً لكيلا يهديكم إلى الإسلام سے مشہور مشرق سیڈیو کی تحقیق ہے کہ میں اور

خزرج نے نشتر میجی میں مشرب کو اپنا وطن بنایا سیرت میں ان کا نیب پر تسلط مکمل ہو گیا تھا۔ (تاریخ العرب

العام ترجمه عربی عادل زعتر صلا

………………………………………………………………………………………………………………

میں آباد ہوئے، جو عوالی کا علاقہ کہلاتا ہے، تخریج کے قبائل وسطی اور شمالی علاقے میں آباد

ہوئے جو مدینہ کا نشیبی حصہ ہے، ان کے بعد مغرب میں حرة الوبرہ تک اور کچھ نہیں ہے۔

خریج چار قبیلے تھے، (1) مالک (۲) عدی (۳) مازن (۴) دیناریست

سب بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے جنھیں تیم اللات” کہا جاتا ہے بنو نجار کے قبائل

مدینہ کے اس سطی حصے میں آباد ہوئے جہاں اب اس وقت مسجد نبوی واقع ہے اوس

مدینہ کے زرخیز زراعتی علاقوں میںتقسیم ہوئے اور یہود کے اہم قبیلوں اور جماعتوں

کے پڑوسی بنے خوارج جہاں ٹھہر سے وہ زیادہ سرسبز علاقہ نہ تھا، ان کا صرف ایک

بڑا یہودی قبیلہ قیقات ہی پڑوسی تھا ہے۔

اب اوس و خزرج کے افراد کی یقینی تعداد معلوم کرنا بہت دشوار ہے لیکن

حالات و حوادث پر نظر رکھنے والان کی جنگی قوت کا اندازہ ان جنگوں سے کر سکتا ہے

جن میں وہ ہجرت نبوی کے بعد شریک ہوئے چنانچہ فتح مکہ کے دن ان کے لڑنے

والے افراد کی تعداد چار ہزار تھی ہے

مدینہ میں ہجرت کے وقت عربوں ہی کو بالا دستی اور اقتدار حاصل تھا یہود اپنے

ان حریفوں کے مقابلے میں متحد اور نظم نہیں تھے ان کے مختلف قبیلوں میں پھوٹ تھی

کچھ قبیلے اوس کے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے تھے اور کچھ خروج کے ساتھ تھے، لڑائی کے

وقت وہ اپنے ہم مذہبوں کے مقابلے پر عربوں سے زیادہ سخت گیر واقع ہوئے تھے

قینقاع اور بنی نضیر اور بنی قریظہ کی باہمی عداوت ہی کے نتیجے میں بنی قینقاع

لے مکہ والمدینہ ط۳ ۵۲ ايضا ۳ امتاع الاسماع بما للرسول من الابناء والاموال الحفرة

والمتاع ( علامہ تقی الدین احمد بن علی المقریزی) ۳

………………………………………………………………………………………………………………

اپنے کھیت چھوڑ کر صنعت و حرفت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے لئیے

اسی طرح اوس و خزرج کے درمیان بھی بہت سی جنگیں ہوئیں جن میں سے

پہلی جنگ سمیر تھی آخری جنگ بعاث تھی، جو ہجرت سے سال پہلے ہوئی تھی یہود

اوس و خزرج کو باہم لڑانے کے لئے سازشیں کرتے اور اختلات اور مقابلے کی آگ

بھڑکاتے رہتے تاکہ عرب ان کی طرف سے غافل رہیں، عرب بھی اس بات کو محسوس

کرتے تھے اس لئے ان کو ثعالب ( لومڑی) کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

اس سلسلے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت سے جو واقعہ لکھا ہے

اس سے اس پر خاصی روشنی پڑتی ہے اس واقعہ میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک پیر السین

یہودی شعت بن قیس نے ایک جگہ اوس و خزرج کو اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مجلس

میں بیٹھے لطف و محبت کی باتیں کرتے ہوئے سناء اس کو منظر دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی

اور وہ برداشت نہ کر سکا، اس نے ایک یہودی نوجوان کو جس کے انصار سے تعلقات تھے

اشارہ کیا کہ وہ اس مجلس میں شریک ہو جائے پھر کسی تقریب سے جنگ بعاث اور اس سے

پہلے کی جنگوں کا ذکر چھیڑ دے اور ان موقعوں پر کہے ہوئے اشعار پڑھے تاکہ دونوں

قبیلوں کے زخمہائے کہن تازہ ہو جائیں اور حمیت جاہلیت اپنا رنگ دکھائے۔

یہ سازش بے نتیجہ نہیں رہی اور ان دونوں قبیلوں کی جو حریفوں اور دشمنوں

کی طرح لڑتے تھے رگ حمیت بھڑک اٹھی، قریب تھا کہ تلواریں میانوں سے نکل

آئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے ساتھ تشریف لے آئے اور اپنے

ے مکه والمدینه ۳۲۲ که فتح الباری ج ، منه ، جنگ بعاث کی تفصیلات اور اسباب

و محرکات کے لئے ملاحظہ ہو کامل ابن الاثیر

………………………………………………………………………………………………………………

۲۳۶

ارشادات یہ ان کے ایمان کی چنگاری کو فروزاں اور ان کے دینی جذبہ کو بیدار کر دیا،

ان کو فورا احساس ہوا کہ وہ ایک گہری سازش کا شکار ہو گئے، ان کی آنکھوں سے سیل اشک

رواں ہو گیا، اوس و خزرج باہم بغل گیر ہوئے اور ایسا معلوم ہوا کہ کچھ نہیں ہوا تھا۔

طبعی اور جغرافیائی کیفیت

یثرب ہجرت نبوی کے وقت مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا، جن میں یہودی اور

عرب قبائل رہتے تھے اور ہر علاقہ کسی کسی قبیلے کے حصہ میں تھا، ان علاقوں کی دو قسمیں

تھیں ایک قسم زراعتی زمینوں اور مکانات اور ان کے رہنے والوں پر مشتمل تھی اور دوسری قسم

میں آطام (یا آظہر یا گڑھیان اور قلعہ بند محلے تھے یہود کی ان گڑھیوں (آطام) کی

تعداد 59 تھی ڈاکٹر ولفنسن ان آطام (گڑھ میں) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

یثرب میں آطام (گڑھیوں) کی بڑی اہمیت تھی جہاں دشمن کے حملے کے

وقت قبیلے کے لوگ پناہ لیتے تھے اور خاص طور پر عورتوں بچوں اور معذور

لوگوں کو اس وقت ٹھکانا ملتا تھا جب مرد لڑنے کے لئے چلے جاتے تھے

یہ گڑھیاں گودام کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھیں جن میں غلے اور بیٹی جمع

کئے جاتے تھے کیونکہ وہ کھلی جگہوں پر ٹوٹ اور غارت گری کا نشانہ

بن سکتی تھیں، اس کے علاوہ ان میں مال اور ہتھیار بھی رکھے جاتے تھے

یہ دستور تھا کہ سامان سے لدے ہوئے تجارتی قافلے گڑھیوں کے

له ملاحظه ہو ابن هشام ج ۵۵۵۵۵۷۵۱ ماخوذ از تاریخ الیہود في بلاد العرب : اسرائیل

ولفنسن ۱۱۶ – ۵۳ وفاء الوفاء في اخبار دار المصطفى اللسمهودی – ۱۱۶/۱

…………………………………………………………………………………………………………

قریب ہی اترتے تھے اور ان ہی گڑھیوں کے دروازں پر بازار بھی لگتا

تھا خیال کیا جاتا ہے کہ ان گڑھیوں میں عبادت گا ہیں اور مدرس لا

(یہودی مدارس بھی ہوتے تھے، اس لئے کہ جو عمدہ اور وافر سامان دریا

رہتا تھا اس سے اسی کا پتہ چلتا ہے، وہاں دینی کتابیں بھی رہتی تھیں

چنانچہ وہاں بحث ومشورہ کے لئے یہودی سردار جمع ہوتے، جہاں وہ

کسی اہم معاملے کو پتہ کرنے یا عہد معاہدہ کے وقت کتب مقدسہ کی قسمیں

کھاتے تھے اے

ڈاکٹر ن کور العلم” کی تشریح کرتے ہوئے مزید لکھتا ہے:۔

عبرانی زبان میں اس کے معنی بند اور مسدود کر دینے کے ہوں گئے دیواروں

کے ساتھ جب یہ لفظ آتا ہے تو اس کے معنی ان کھڑکیوں کے ہوتے ہیں،

باہر سے بندگر اندر سے کھولی جاسکتی ہوں اس کا استعمال فصیل با مردی

حفاظتی دیوار کے لئے بھی ہوتا تھا، اس طرح ہم فرض کر سکتے ہیں کہ ہو

الم کو چھوٹے قلعہ کے معنی میں استعمال کرتے تھے، اس میں باہر سے

روشندان ہوتے تھے جو باہر سے بند اور اندر سے کھولے جاتے تھے *

یشرب ان ہی محلوں اور قلعہ بندیوں کا نام تھا جو دراصل قریب قریب کی

بستیوں کا مجموعہ تھا، جن سے شہر بن گیا تھا، قرآن نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔

مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ جو کچھ دیا اللہ نے اپنے رسول کو

من أهل القرى (سورہ حشر) بستیوں والوں سے۔

له اليهود في بلاد العرب ۱۱۶-۱۱۷ ۵۲ ايضا ۱۱۷

………………………………………………………………………………………………………………

نیز دوسری جگہ فرمایا گیا ۔

لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي وہ تم سے اکٹھے نہیں لڑتے گریہ کہ

قرى محصنة أو من وراء قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں

حجدد (سورہ حشر (۱۴) کے پیچھے ہوں ۔

مدینہ طیبہ میں حرات کی بھی بڑی اہمیت تھی حرہ لا یہ پہلے ہوئے سیاہ

پتھروں کے اس علاقہ کو کہتے ہیں جن کو آتشیں سیال مادہ نے ایک دوسرے سے

جوڑ دیا ہے اور جو بالکل بے ترتیب اور سخت نوکیلے اور آڑے ترچھے میلوں کی وسعت

میں پھیلے ہوئے ہیں ، ان پر نہ پیدل چلنا آسان ہے اور نہ اونٹوں اور گھوڑوں کا

گزرنا، مدینے کے دوسرے مشہور میں ، ایک جانب مغرب جس کو سحرة الوبرہ کہتے ہیں اور

ایک جانب مشرق جو حرہ واقم کے نام سے مشہور ہے علامہ مجد الدین فیروز آبادی

نے اپنی کتاب المغانم المطالبة في معالم طالبة میں متعدد تحرکات کا ذکر کیا ہے

مدینے کے گرد پھیلے ہوئے ہیں کہ ان دونوں حرات (حرة الوبر اور حرہ واقم) نے

مدینے کو ایک قلعہ بند شہر بنا دیا ہے جس پر صرف شمالی جانب سے فوج کشی ہو سکتی

تھی اور یہی وہ جا نب ہے جس کو غزوہ احزاب میں خندق کھود کر محفوظ کر دیا گیا

تھا، جنوبی جانب گھنے نخلستانوں اور باغات اور گنجان آبادی کے ایک دوسرے

سے ملے ہوئے مکانات سے ایسی گھری ہوئی ہے کہ ادھر سے بھی بیرونی حملہ مشکل ہے

ہجرت کے لئے مدینے کے انتخاب میں مدینے کے اس قدرتی استحکام اور فوجی خصوصیت

لہ لا یہ اور لاوا (۱۸۷۸) متقارب الصوت اور تقارب المنی لفظ میں یہ اس آتش گیر مادہ کو کہتے ہیں۔

جو کسی کوہ آتش فشاں سے یا طبقا الارض کی کسی تبدیلی سے ایل کی بہتتا ہے۔ کہے ملاحظہ ہومش – ۱۴!

جو

………………………………………………………………………………………………………………

۲۴۰

کو بھی دخل تھا۔

حرة واقم جو مدینے کے مشرق میں تھا وہ حرۃ الوبرہ سے زیادہ آباد تھا جب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیب کو ہجرت فرمائی تو حرہ واقم میں یہود کے اہم قبائل

جیسے بنو نظیر و بنو قریظہ وغیرہ رہتے تھے، ان کے ساتھ اوس کی اہم شاخیں

بنو عبد الاشہل، بنو ظفر بنت حارثہ بن معاویہ بھی وہیں مقیم تھے واتم بن الاشہل

ہی کے علاقے میں تھا جس کے نام پر حره واقم تھا۔

دینی حالت اور معاشرتی حیثیت

مدینہ کی عرب آبادی بیشتر معاملات میں قریش ہی کے تابع رہتی تھی، اور اہل کر

قریش کو کعبہ کا متولی، دینی رہنما اور عقیدہ و عمل میں لائق تقلید مثال سمجھتے تھے، وہ

جزیرۃ العرب میں پھیلی ہوئی بت پرستی کے تو تابع تھے ہی لیکن خاص طور پر انہی بنوں

کو پوجتے تھے جنھیں قریش اور اہل حجاز پوجتے تھے الا یہ کہ بعض قبائل کی بعض علاقائی اہل

بتوں سے زیادہ وابستلی تھی، اس طرح مناۃ اہل مدینہ کا سب سے محبوب اور پرانا

ثبت تھا اور اوس و خزرجہ اس کو مقدس ترین سمجھتے تھے، اور اسے خدا کا شریک

ٹھہراتے تھے یہ ثبت جبل قدید کے مقابل مشکل کے مقام پر واقع تھا ہو ساحل کی

طرف مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے ” لات ” اہل خائف کا محبوب ثبت تھا، عربی

اہل مکہ کا قومی بہت تھا، اس لئے ان شہروں کے لوگ اپنے اپنے ان بتوں سے جذباتی

تعلق رکھتے تھے اہل مدینہ میں سے جو کوئی لکڑی یا کسی چیز کا بت اپنے گھریں رکھتا تو

لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب کا باب میرب کی خصویا سے منزل الوحی الدکتر محد حین بر کل شی

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۱

اسے مناہ ہی کے نام سے پکارتا جیسا کہ بنی سلمہ کے ایک سردار عمرو بن الجموح نے

اسلام لانے سے پہلے بنا رکھا تھا۔

امام احمد نے عروہ کے حوالے سے حضرت عائشہ سے ان الصفا والمروة

من شعائر الله الآیه کی تفسیریں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا انصار اسلام لانے

سے پہلے مناہ کے نام پر تلبیہ پڑھتے تھے اور جس کی و شکل کے پاس پوجا کرتے تھے اور اس کے

نام پر ہی شروع کرنے والا صفا و مروہ کی سی صحیح نہیں سمجھتا تھا جب لوگون رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ یارسول اللہ ہم زمانہ جاہلیت

میں صفا و مروہ کے طواف میں حرج سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الآيه.

ہم مدینے میں کسی اور بت کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ لات و مناتی عربی

قبیل کی طرح مشہور ہوا ہو اور لوگ اس کی عبادت کرنے اور اس کے لئے مدینہ کے باہر

سے آتے ہوں کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکہ کی طرح مدینہ میں بتوں کی کثرت تھی

اس لئے کہ کہ کے ہر گھر میں ایک خاص بیت ہوتا تھا کہ میں بتوں کو لوگ پھیری میں

لے کر نکلتے اور بیچتے تھے، بہر حال کہ بت پرستی میں مقتدی اور رہنما کی حیثیت رکھتا

تھا، اور مدینے کی حیثیت ذیلی تھی۔

اہل مدینہ سال کے دودنوں میں کھیل کود کا تیوہار مناتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ

وسلم جب مدینے تشریف لائے تو اہل مدینہ سے فرمایا ” قلابد لكم الله تعالى بهما

له ما خود از بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب از علامه محمود شکری الآلوسی ۳۴۶۷۱- ۲۸/۲

ہے اس میں صحابہ سے اور کئی روایتیں بھی منقول ہیں۔ کلہ سورۂ بقرہ – ۱۵۸

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۲

خیر اہم اللہ نهما یوم الفطر والاضح ” اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان دو دنوں سے بہتر دن

عطا کئے ہیں ۔ یوم نظر اور عید الاضح بعض شارحین حدیث نے ان دونوں کے

متعلق بتایا ہے کہ وہ نوروز اور مہرجان کے دن تھے جنھیں شاید ان لوگوں نے

اہل ایران سے لیا تھا۔

اوس و خزرج کی شرافت نسب کا اعتراف قریش کو بھی تھا جو عرب عاربہ

سے تعلق رکھنے والے بنو قحطان کی شاخ میں سے تھے، قریش ان سے شادی بیاہ

کا تعلق بھی رکھتے تھے چنانچہ عبید قریش باشم بن عبد منات نے بنی النجار میں

شادی کی تھی، ان کی شادی سلمیٰ بنت عمرو بن زید سے ہوئی تھی جو بنی عدی بن

النجار سے تھیں، جو خزرج کی ایک شاخ ہے اس کے باوجود قریش اپنے کو مدینہ

کے عرب قبائل سے برتر سمجھتے تھے، غزوہ بدر کے دن جب عقیبہ بن ربیعہ شیبہ بن ربیعہ

اور ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی اور ان کے مقابلہ پر انحصار

کے کچھ نوجوان نکلے تو انھوں نے پوچھا تم کون ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم انصار

ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہمیں تم سے مطلب نہیں، پھر ان میں سے ایک آدمی نے آواز دی

کہ اسے محمد ہمارے مقابلے پر ہمارے ہم قوم اور ہمارے ہمسر افراد بھیجئے اس پر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبیدہ بن الحارث اہم بڑھو حمزہ تم بڑھو

علی تم کھڑے ہو تو جب یہ لوگ ان کے قریب گئے اور اپنے نام بتائے تو قریش نے

کہا کہ ہاں یہ شریف ہمارے جوڑ کے ہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کاشت کاری کو رجس کے اہل مدینہ اپنے علاقائی

صحیحین کہ بلوغ الارب له ابن هشام ج ۶۲۵۰

لہ

………………………………………………………………………………………………………………

حالات کی وجہ سے عادی تھے، کس قدر حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، اس کا اظہار

ابو جہل کے اس جملے سے بھی ہوتا ہے جسے عفراء کے دو انصاری لڑکوں نے قتل کیا

تھا، حضرت عبد اللہ بن سعود سے اس نے جاں کنی کے عالم میں کہا۔ کو غیر آگار قالی

(کاش ایک کسان کے علاوہ کسی نے مجھے قتل کیا ہوتا۔ہ)

اقتصادی اور تمدنی حالت

مدینہ اپنی زمین کی نوعیت کے لحاظ سے ایک زرعی علاقہ تھا، اس لئے اس کے

باشندوں کا انحصار زراعت اور باغیانی ہی پر تھا۔ اسکی اہم پیدا واروں کی کھجوریں

اور انگور تھے، کیونکہ وہاں ان کے بہت سے باغ تھے ملے جن میں بہ سے ٹیلیوں والے اور

بہت سے بے مٹی کے تھے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت دوننے کے اور ایک تنے کے ہوتے تھے ہے

کھیتی میں مختلف علے اور سبزیاں ہوتی تھیں کھجور میں قحط اور خشک سالی کے

وقت لوگوں کی بیشتر غذائی ضرورت پوری کرتی تھیں، اور ضرورت کے وقت مکہ کی طرح

لے علامہ محمد بن طاہر بینی نے مجمع البحارہ میں اس کے معنی کسان اور کاشت کار دیئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ

وہ اہل عرب کے نزدیک کم درجہ کا پیشہ ہے، ابو جہل کا مطلب یہ تھا کہ عفرا کے لڑکے کسان ہیں اس لئے

اگر کسی اور نے قتل کیا ہوتا تو بیمار نہ لگتا ۔ ج امثلا

لے بیرحاء کے بارے میں ابو طلحہ کی حدیث ملاحظہ کریں جسے شیخین نے روایت کیا ہے۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہےکہ مدینے میں اسے گھنے باغ بھی تھے کہ گو یا خشکی میں چھوٹی

ا ھی کی ایک نہیں بات تھی ا الا انا اے تے ہیں کہ وہ اپنے ان میں ان پڑھ رہے تھے کہ

اتے ہیں کہ گر یا باغ سے نکلنے کے لئے ادھر ادھر اڑنے لگی، چنانچہ اس عجیب منظر کو ہ کچھ دیر تک دیکھتے رہے

اسی قصے میں آگے ہے کہ اس غفلت کی وجہ سے انھوں نے اس باغ کو صدقہ کر دیا ملاحظہ ہو

(موطا امام مالک) ۵۳ ملاحظہ ہو سورۃ الانعام ۱۳۱- اور الرعد ۴ –

………………………………………………………………………………………………………………

ان سے بیع و شراء میں مدد لی جاتی تھی، اس طرح کھجور کے باغ اہل دینہ کی زندگی

میں بڑے خیر و برکت کا سرمایہ تھے، ان سے وہ غذا بھی حاصل کرتے اور صنعت و تعمیرات

اور ایندھن اور جانوروں کو کھلانے کے کام میں بھی لاتے تھے لیے

مدینے کے کھجوروں کی بہت سی قسمیں تھیں جن کا احاطہ مشکل ہے اہل مدینہ کو

طویل تجربے سے کھجوروں کی پیداوار کی افزائش اور عمدگی کے بہت سے طریقے معلوم تھے

جن میں سے نرومادہ کی تمیز اور ان کے زیروں کا استعمال بھی تھا جس کو تا بیر کے لفظ سے

تعبیر کرتے تھے کہیے

باغبانی اور زراعت کا مطلب یہ نہیں کہ مدینہ میں کوئی تجارتی سرگرمی تھی ہی

نہیں البتہ کل کی طرح اس کی گرم بازاری نہ تھی کیونکہ بے آب گیاہ وادی مکر کے لوگوں کا

انحصار قدرتی طور پر تجارت اور موسم سرما و ریا کے تجارتی سفروں پر تھا۔

مدینہ کی بعض صنعتیں یہودیوں ہی کے ساتھ مخصوص تھیں جنہیں شاید وہ بین سے

لائے تھے بنی قینقاع کے لوگ عام طور پر ساری اور زگری کا پیشہ کرتے تھے اور یہود

مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار تھے ان کے گھر مال و دولت اور سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے۔

له ملاحظه بو بخاری کتاب العلم (باب طرح الامام المسألة على الناس ليختبر ما عندهم من العلم اور

اس کی شرح این جی کی فتح الباری با عینی کی عمدۃ القاری میں ملاحظہور سے کھجور سے متعلق عربی میں

الفاظ کا جو وسیلے ذخیرہ پایا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ دلوں کی زندگی میں ھوا اور اہل بیتی کی

زندگی میں خصوصا کجور کو کسی اہمیت و مرکزیت حال تھی مثال کے طورپر ابن قتیبہ کی اور الکتاب تعالی کی

فقہ اللہ اور ابن بیا کی المخصص ملاحظہ ہوں ہوتے ہی علم کو مستقل کتابیں بھی ہیں ہے بابر کا مطلب

ادہ جوں کے خوشوں کو پر کرن کھجور کے زیرے ڈالنے کے ہیں (شرح ملم النودی) کے الیہود فی بلاد العرب ما

………………………………………………………………………………………………………………

مدینہ کی زمین آتش فشاں علاقوں (حجرات کی موجودگی کی وجہ سے بہت زیادہ

نیز واقع ہوئی ہے جس کی وادیوں سے میلا کا پانی بھی خوب بہتا ہے اور زمینوں کے ساتھ

کھیتوں اور باغوں کو بھی سیراب اور شاداب کرتا جاتا ہے ان میں سب سے مشہور وادئی

عقیق تھی جو مدینے کی تفریح گا تھی اس میں پانی با فراط رہتا تھا، اور باغوں کی کثرت

تھی مدینے کی زمین کنویں کھودنے کے لئے بھی بہتر تھی جن کا باغات میں عام رواج تھا۔

باغات کے گرد چہار دیواری بھی ہوتی تھی، ایسے باغ کو اہل مدینہ حائفہ کہتے تھے

اسی طرح مدینے کے بہت سے کنویں اپنے پانی کی فراوانی و شیرینی کے لئے مشہور تھے وہاں

نہریں اور رہاٹ کا نظام بھی تھا، جس کے ذریعہ وہ اپنے باغوں تک پانی پہنچاتے تھے

غلوں میں اولیت جو اور پھر گیہوں کو حاصل تھی اور سبزیوں اور ترکاریوں کی تو

بہتات تھی کھیتی کے معاملات کی کئی قسمیں تھیں مثلا مزابنہ مخابرہ معاوضه

ے صحیح بخاری (کتاب المغازی) میں گویہ ابن مالک کی ابتداء کا واقعہ دیکھئے جس میں آیا ہے کہ جب مجھ پر

لوگوں کی تو دور بے اعتنائی دیکھی تو میں نے اپنی کھجوروں کی دیوار اٹھا لی اور اچھا بھائی تھانی

کے ابو ہریرہ کی وہ حدیث پڑھیں جسے مسلم نے روایت کیا ہے اور جس میں ایک باغ کے سیراب

کرنے کا ذکر آیا ہے اور اس میں خراج پانی کی نالیاں اور مسمار دکھاوڑے) سے آپانی کا بھی

ذکر ہے۔ سے صحاح میں حرث و مزارعہ کے ابواب دیکھئے، مزابنہ درخت میں لگی ہوئی کھجوروں کو نقد

کھ دو نیچے کو کہتے ہیں محافظہ خوشوں میں لگے ہوئے غلے کو نہ ملے یعنی جو وجہ کے بدلے اور کہو کی

گیہوں کے بدلے تول کر لینے کو کہتے ہیں مخابرہ اور مزارعہ کچھ یکساں ہیں یہ زمین کی پیداوار کی تنہائی

یا چوتھائی پر معاملہ کرنے کو کہتے ہیں لیکن مزارعہ میں بیچ مالک کے ہوتے ہیں، اور مخابرہ میں کاشتکا

کے اہل لغت کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہی ہیں مزارعتہ ومخابرہ کی صحت میں خلافت

و ساعت کا اختلاف مشہور ہے یا خود از شرح مسلم النوی معاومہ کئی سال کی فصلوں کو بیچ

دینے کو کہا جاتا ہے، جیسے درخت کے پھل دو تین سال یا زیادہ کے لئے بیچ دیئے جائیں۔

………………………………………………………………………………………………………………

ان شکلوں میں سے بعض کو اسلام نے باقی رکھا اور جن کو منع کر دیا یا اس کی اصلاح کردی۔

مکہ اور مدینہ میں جو سکے رائج تھے وہ ایک ہی تھے اور ہم ان تفصیل سے مکہ سے

سلسلہ میں ذکر کر چکے ہیں، اہل مکہ کے مقابلے میں اہل مدینہ کو ناپ تول کے پیمانوں سےزیادہ

واسطہ پڑتا تھا، کیونکہ وہاں کے باشندوں کا سرمایہ غلے اور پھل ہی تھے مدینے میں استعمال

ہونے والے پیمانے یہ تھے مد، صاع، فرق، حرق، وسی وزن کے لئے یہ چیزیں تھیں

در هم، شقاق، دائق ، قیراط ، نواة ، رطل، قنطار، اور اوقیہ کی

مدینہ اپنی زر خیزی کے با وجود غذائی طور پر خود کفیل نہ تھا، اس لئے وہاں کے

باشندے باہر سے بھی غذائی اشیاء در آمد کرتے تھے وہ میدہ کا آٹا گھی اور شہد شام سے

لاتے تھے، جیسا کہ ترندی نے قتادہ بن نعمان ہے سے روایت کیا ہے جس میں آیا ہے کہ

مدینے کے لوگوں کی غذا کھجوریں اور جو تھے اور جب آدمی خوشحال ہوتا تو جب شام سے

ضاف لا میں لے کر آتا تو اس سے اپنے لئے وہ چیزیں خریدیتا لیکن اہل وعیال

کھجوریں اور جو ہی کھاتے تھے یہ قصہ مدینہ کی غذائی صورت حال اور معیار زندگی

کے اختلاف پر کافی روشنی ڈالتا ہے، جو ہجرت کے بعد اچانک سامنے نہیں گئی تھی۔

یہود جن کی فطرت اور تاریخ ہر جگہ یکساں رہی ہے مدینہ میں بھی عربوں سے زیادہ

تین تفصیل کے لئے عمویت اور خلافت کی کتابیں لکھیں اور اوزان کے لئے دیکھیں التراتيب الاداری

اس ۴۱۵ – ۳ حافظ کے متعلق علامہ محمد طاہر یہی کہتے ہیں اضافظ اور ضغاط سے کہا جاتا تھا جو

مال و اسباب شہروں تک پہونچاتا تھا اپنی قوم کے افراد ہوتے تھے جو اپنے تک آنا تیل وغیرہ پہونچانے

تھے (صحیح البحار / ۲۱ طبع جید آباد ) کئے یہاں دورہ کے لفظ آیا ہے جو سفید دید کو کہتے ہیں اس کو اور دو کرے

ه ملاحظه ولا تَكُ خَوا تَعَنِ الَّذِينَ يَنَالُونَ أَنْفُسُهمُمَان اللَّهَ لا تُكُمَنْ كَانَ خَوَانًا ايها “

کی تفرزندی میں ۔ (سورۃ النساء – ١٠٤)

………………………………………………………………………………………………………………

مالدار واقع ہوئے تھے، عرب اپنے بدوی اور قومی مزاج کی وجہ سے تنقبل کے بارے

میں زیادہ سوچنے کے عادی نہ تھے کہ اس کے لئے مال جمع کرنے کی فکر کرتے ، اس کے

ساتھ ہی وہ مہمان نواز اور قیا م بھی تھے ، اس وجہ سے یہود سے قرض لینے پر مجبور

ہو جاتے تھے ، اور یہ قرض اکثر سودی یا رہنی ہوتا تھا۔

اہل مدینہ کے پاس اونٹ، گائیں اور بکریاں بھی تھیں، اونٹ کو زمین کی

سینچائی کے لئے بھی استعمال کرتے تھے ، اور ایسے اونٹوں کو الابل التواضح کہتے تھے،

ان کے پاس چھرا گاہیں بھی تھیں، جن میں مشہور زغالیہ اور غابہ تھیں ، جہاں سے

لوگ لکڑیاں بھی حاصل کرتے اور مویشیوں کو چراتے بھی تھے ، گھوڑوں کو وہ جنگوں میں

استعمال کرتے تھے ، اگر چہ وہ سکے کی نیت کم تعداد میں پائے جاتے تھے، بنو سلیم

گھوڑوں کے لئے مشہور تھے جنھیں وہ باہر سے درآمد کرتے تھے۔

مدینے میں کئی بازار بھی تھے جن میں سب سے اہم سوق بنی قینقاع تھا، جو

سونے اور چاندی کے زیورات و مصنوعات اور کپڑے والوں کا خاص بازار

تھا ، اس وقت مدینے میں سوتی اور ریشمی کپڑے، نگین غالیچے اور نقش پر دیتے

عام طور پر موجود تھے، عطر فروش مختلف قسم کے عطر اور شک فروخت کرتے تھے ،

اسی طرح غیر اور پارسلے کے تاجر بھی پائے جاتے تھے، خرید و فروخت کی بہت سی

لے یاقوت حموی کی معجم البلدان اور یہودی کی وفاء الوفاء ملاحظہ ہو کہ حضرت عائشہ کی حدیث

لاحظہ ہو جسے تخمین نے روایت کیا ہے اس می رام کا ذکر آیا ہے رام کے بارے میں عام پانی کہتے ہیں

وہ باریک پردہ کئی رگوں کی اون کی چادر یادہ پردہ ہوتا ہے جو جلہ عروسی میں گتا ہے کہا جاتا ہے کہ

وہ مزین دو شش بھی ہوتا ہے (مجمع بحار الانوار ۲۵۰/۴) سلة التراتيب الادارية ۹۷۱

………………………………………………………………………………………………………………

قسموں میں بعض کو اسلام نے باقی رکھا، اور بعض کو روک دیا، جیسے نبی و اختار تلقی

الركيان، بيع المراة (جانوروں کے تھن میں دودھ محفوظ کر کے بچیا) بیع نسئیہ

بيع الحاضر للبادي ابيع المجازفہ، بیع المزابنہ اور محاصرہ ، اوس و خر رج کے

کچھ لوگ بھی سودی کاروبار کرنے لگے تھے، مگروہ یہود کی نسبت بہت ہی کم تھا۔

مدینے کی تمدنی زندگی میں وہاں کے باشندوں کے مزاج و خوش مذاقی کے

سیب خاصی ترقی ہو چلی تھی، چنانچہ دو منزلہ مکان بننے لگے تھے کہے

بعض گھروں کے ساتھ پائین باغ بھی تھے وہ میٹھے پانی کے عادی تھے می وہ پانی تھے

جسے انھیں کبھی دور سے بھی لانا پڑتا تھا، بیٹھنے کے لئے کرسی کا استعمال بھی ہوتا تھا۔ بھی

شیشے اور پتھر کے پیالے اور آنیوالے استعمال میں آتے تھے اورمختلف قسم کے چراغ

استعمال ہوتے تھے ہے گھر اور کھیت کے کاموں میں چھوٹی ٹوکریاں اور زنبیلیں کام

میں لائی جاتی تھیں، مال داروں خصوصا یہود کے گھروں میں خاصا فرنیچر پایا جاتا

تھا قسم قسم کے زیورات بھی استعمال ہوتے تھے، جیسے کنگن اور بازوبند پازیب اور

کڑے کان ن کے بندے اور بالیاں، انگوٹھیاں اور سونے یا منی دانوں کے ہار

لے کتب حدیث و فقہ کے ابواب بیع اور مجمع بحارالا نوار ملاحظہ ہوں ، جہاں ان لفظوں کی

شرح اور ان کی حالت و حرمت کے احکام لیں گے ہے ملاحظہ ہو حدیث ہجرت اور

حضرت ابوایوب انصاری کے مکان میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے قیام فرمانے کا واقعہ

له التراتيب الادارية ٩۶/١ ه ايضا مت کے واقعہ افک میں حضرت عائشہ

کی حدیث ملاحظہ ہو، جسے بخاری نے کتاب المغازی میں نقل کیا ہے، اس میں جزا کا لفظ ہے۔

جو سیاہ سفید رنگ کے دانوں کو کہتے ہیں۔

………………………………………………………………………………………………………………

۲۴۹

عورتوں میں پینے اور کاتنے کا عام رواج تھا ، اور سلائی ، رنگائی معماری

اور خشت سازی اور سنگ تراشی ان صنعتوں میں تھیں جو ہجرت سے بہت پہلے

تا مدیے میں معروف تھیں۔

یشرب کا پیچیدہ اور ترقی یافتہ معاشرہ

اس طرح یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم اور مہاجرین نے مکہ سے بشرب نام کے کسی گاؤں کی طرف سفر نہیں کیا تھا بلکہ

وہ حضرات ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف منتقل ہوئے تھے، اگر چہ یہ دوسرا

شہر پہلے شہر کے مقابلے میں زندگی کے بہت سے مظاہر میں مختلف تھا ، اور

نسبتاً مکہ شہر سے کچھ چھوٹا بھی تھا لیکن وہاں کی زندگی پیچیدگی میں مکہ سے بڑھی ہوئی

تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آنے والے مسائل مختلف نوعیت کے

تھے، کیونکہ وہاں کئی مذاہب اور معاشرے اور ثقافتیں موجود تھیں جن پر قابو

پانے اور مدینہ کو ایک عقیدے اور ایک دین کے رنگ میں رنگنے کا کام مؤید من السحر

رسول ہی کر سکتا تھا، جیسے اللہ نے حکمت و بصیرت اور قوت فیصلہ اور انسانیت

کے بکھرے شیرازے کو جمع کرنے اور متارب قوتوں اور نظریوں کو ہدایت اور

تعمیر انسانیت کے کام میں ایک دوسرے کا مدد گار نہانے کی غیر معمولی صلات

سے نواز ا تھا، اور جسے ایک دلکش شخصیت عطا کی تھی، اللہ تعالٰی نے کتنا صحیح

کہا ہے کہ :۔

هُوَ الَّذِي أَيَّدَك بنصر رہی ہے جس نے اپنی مداد سلانوں

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۰

وَبِالْمُؤْمِنِينَ ، والف کے ذریعہ آپ کی پشت پناہی

بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انفقت کی اور ان کے دل ملا دیئے کہ اگر

مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ما آپ دنیا کی ساری دولت بھی

الفتَ بَيْنَ قُلُوبهم خرچ کر دیتے تب بھی ان کے

وَالكِنَّ اللَّهَ الَّفَ بَيْنَ ھر دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے،

إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِیم لیکن اللہ ہی نے ان میں جوڑا اور

( سورة الانفال ۶۲-۱۳) اتفاق پیدا کر دیا، وہ غالب

اور حکمت والا ہے ۔

*