Madinah Mein

مدینہ میں

مدینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کس طرح کیا؟

انصار کو یہ اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سےروانہ ہوچکے

ہیں چنانچہ انھوں نے اپنا یہ معمول بنالیا کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد شہر کے آخری

کنارہ پر پہونچ جاتے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسل کا انظار شروع کر دیتے اور

اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹتے جب تک کہ دھوپ بہت تیز اور نا قابل برد است

نہ ہو جاتی اور وہ سائے کی پناہ لینے پر مجبور ہوتے اس وقت وہ اپنے اپنے گھروں میں

پہلے جاتے یہ گرمی کا موسم اور سخت پیش کا زمانہ تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے اس وقت انصار

انتظار کے بعد اپنے گھروں میں جاچکے تھے اس سے پہلے آپ پر ایک یہودی کی نظر ڑی یہودی

انصار کو روز یہ سب کرتے دیکھتے تھے، آپ کو دیکھ کر اس نے بہت زور سے آواز

لگائی اور انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع دی وہ

سب یہ سنتے ہی نکل پڑے اور دیکھا کہ حضور ایک کھجور کے درخت کے نیچے تشریف

فرمائیں، اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکرہ ہیں جو آپ ہی کے ہم عمر معلوم ہو رہے تھے

ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے پہلے یاد نہیں کی کی

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۲

اس لئے ان لوگوں نے اپنے ذوق و شوق میں دونوں کو گھیر لیا اور ہجوم بڑھنے لگا،

حضرت ابوبکر نے محسوس کیا کہ لوگ یہ نہیں مجھ پارہے ہیںکہ ان میں خدوم کون ہے؟

اور خادم کون ؟ چنانچہ انھوں نے ایک چادر لے کر حضور کے سر پر سایہ کر لیا، اور

اس سے یہ شبہ زائل ہو گیا ہے

تقریبا پانچ سو انصاریوں نے اس مبارک قافلہ کا استقبال کیا اور آخر میں

اد کے ساتھ عرض کیا حضور تشریف لے چلیں ، آپ ہر طرح مامون و محفوظ ہیں اور

آپ کے

آپ کی ہر بات میں اطاعت کی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے

رفیق سفر اس قافلہ کے طلو میں روانہ ہوئے، اور ادھر سارا مدینہ آپ کے استقبال

اور خوش آمدید کے لئے نکل کھڑا ہوا خواتین کوٹھوں کی چھتوں سے نئے قافلے کو

دیکھ رہی تھیں اور ایک دوسرے سے کہتی تھیں کہ دیکھو ان میں حضور کون ہیں؟

حضرت اسرا کہتے ہیںکہ پھر ہم نے کبھی ایسا نظارہ نہیں دیکھا ہے

لوگ راستوں اور گزرگاہوں پر اور مکانوں کی چھتوں کھڑکیوں اور دروازوں

پر جمع ہو گئے تھے، لڑکے اور نوکر خدمت گار ہر طرف کہتے تھے اللہ اکبر جاء رسول الله

الله اكبر جاء محمد الله البرجاء محمد الله اکبر جاء رسول الله (الشراب رسول الله

تشریعیت لے آئے اللہ اکبر حمد تشریف لائے اللہ اکبر رسول اللہ تشریف لے آئے ہے

براء بن عازب نے جو اس وقت کم سن تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہل مدینہ کو کسی

چیز سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے،

اے سیرۃ ابن ہشام ص۲۹۲ کے امام احمد بروایت انس ابن مالک ( ابن کثیر ج ۲۱۹۶۲)

سے صحیح بخاری مسلم بطریق اسرائیل نمبروایت ابو بکر رضی اللہ عنہ (حدیث ہجرت)

17

………………………………………………………………………………………………………………

لونڈیاں تک پکارتی پھر رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لیے

مسلمانوں نے آپ کی آمد آمد سے خوش ہو کر جوش و مسرت کے ساتھ تو بگیر

بلند کیا کہ اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی مسرت نہ ہو سکتی تھی۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے مدینہ اس وقت مسکر اور فخر و مسرت سے اٹھلا رہا

ہوا انصار کی بچیاں بڑے سرو دوستی کے عالم میں یہ اشعار پڑھتی تھیں ۔

طلع البدر علينا من ثنيات الوداع

وجب الشكر علينا ما دعا الله داع

أيها المبعوث فينا جئت بالامر المطاع

(صحیح بخاری (بات تقدم النبي صلى اللهعلیہ وسلم وصحاب الی الدینہ سے ابن کثیر ۱۳۶ بیتی روایت دا

کے حافظ ابن قیم نے زاد المعاد میں اس موقع پر ایک علمی بحث پیدا کر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ثمینہ الوداع

جس کا ذکر ان اشعار میں آیا ہے کہ سے مدینے آنے والے کے راستہ میں جو جنوب سے شمال کی طرف آتا ہے)

نہیں پڑھتا ہے اس لئے کہ ثمینہ الوداع شام جانے والے یا شام سے آنے والے کے راستہ میں واقع ہے،

ان کی تحقیق ہے کہ یہ اشعار اس موقع پر پڑھے گئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے بڑی عزت

کامرانی کے ساتھ واپس تشریف لارہے تھے. خود صحیح باری میں غزوہ تبوک کی واپسی پر یہ الوداع کا ذکرکیا گیا ہے۔

لیکن عام طور پر اہل سیر جن میں سیرت کے قدیم مصنفین بھی شامل ہیں ان اشعار کو کہ سے تشرین

آوری کے موقع پر نقل کرتے ہیں راقم نے بعض ایسے حضرات سے دریافت کیا جو دینے کے گلی کوچے سے واقف

تھے، انھوں نے کہا کہ کر سے آنے وال بھی یہ راستہ اختیار کر سکتا ہے اور ہجرت جن حالات میں پیش آئی انہیں

یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ آپ نے عام راستہ چھوڑ کر یہ اول سے مدینہ کا فرمایا اواراتی پر

………………………………………………………………………………………………………………

ترجمہ : پہاڑی کے اس موڑ سے یہاں سے قافلے رخصت کئے جاتے ہیں آج

چودھویں کا چاند نکل آیا ہے۔

جب تک دنیا میں السر کا ایک نام لینے والا بھی رہے گا ہم پر تکرار کرتا

واجب رہے گا۔

اے وہ ذات پاک جس کو ہمارے درمیان بھیجا گیا ہے آپ احب الامان

حکم لے کر آئے ہیں۔

انس ابن مالک انصاری جو اس وقت کم عمر تھے کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں میں حاضر تھا، واقعہ یہ ہے کہ میں نے کوئی دن

اس سے زیادہ حسین اور روشن نہیں دیکھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

باقی کا) اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ مدینہ میں ثنیہ الوداع کے نام کا ایک ہی مقام

نہ تھا، مکہ کے راستہ میں بھی ایک ایسی چڑھائی تھی جس کے انار پر وادی حقیق واقع تھی، اور وہ چاروں طرف ہے

ترہ سے گھری ہوئی ہے یہ اس زمانہ میں اہل دین کی ایک برگا ھی تھی جہاں گرمیوں میں شام کو لوگ جیسے

ہوتے تھے یہ بالکل مکن ہے کہ ان اشعار یا اس مقام کی طرف اشارہ ہو تاریخ کی ای کتاب سے معلوم ہوتا

ہے کہ اہل مدینہ مکہ جانے والوں کو یہاں تک پہونچانے آتے تھے (آثار الہ دینہ المنورہ ملا اطبع سوم)۔

خودان اشعار میں اس امر کی داخلی شہادتیں پائی جاتی ہیں کہ یہ ترانہ شکر و سترت اسی وقت

گایا گیا ہے پہلی نہی میں آپ کے قدیم میمنت لازم سے شرف ہوا اشعار کی ہے سانگی بوش مسرت اور خاص طور

پر آخری شعرابها المبعوث فينا جئت بالامر المطاع، بول رہا ہے کہ یہ اشعار اس وقت پڑھے گے جب

الدین میں اپنی لیا تے آ کے دیدار پانی سے ہوا وہیں اگر وہ ج کے موقع پر بھی اشعار پڑھے گئے جیسا کہ

بعین میں روایت میں آیا ہے تو اس میں کوئی استاد نہیں ہ اسطرح کا ترانہ ست بار بار انتقال کے و برابری استاد کیا

………………………………………………………………………………………………………………

ترجمہ : پہاڑی کے اس موڑ سے یہاں سے قافلے رخصت کئے جاتے ہیں۔ آج

چودھویں کا چاند نکل آیا ہے۔

جب تک دنیا میں الہ کا ایک نام لینے والا بھی رہے گا ہم پر تکرار کرتا

واجب رہے گا۔

اے وہ ذات پاک جس کو ہمارے درمیان بھیجا گیا ہے آپ اجر لا یا ہم

حکم لے کر آئے ہیں۔

انس ابن مالک انصاری جو اس وقت کم عمر تھے کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے میں حاضر تھا ، واقعہ یہ ہے کہ میں نے کوئی دن

اس سے زیادہ حسین اور روشن نہیں دیکھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(باقی ماء کا) اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ مدینہ میں نبیہ الوداع کے نام کا یک ہی مقام

نہ تھا، مکہ کے راستہ میں بھی ایک ایسی چڑھائی تھی جس کے انار پر وادی حقیق واقع تھی، اور وہ چاروں طرفہ ہے

تہ سے گھری ہوئی ہے یہ اس زمانہ میں اہل مدینہ کی ایک برگا تھی جہاں گرمیوں میں شام کو لوگ جتے

ہوتے تھے یہ بالکل مکن ہے کہ ان اشعار با اس مقام کی طرف اشارہ ہو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا

ہے کہ اہل مدینہ مکہ جانے والوں کو یہاں تک پہونچانے آتے تھے ( آثار المند بین المنوره لا طبع سوم)۔

خود ان اشعار میں اس امر کی داخلی شہادتیں پائی جاتی ہیں کہ یہ ترانہ شکر و سترت اسی وقت

گایا گیا پہلے مصرعہ میں آپ کے قدیم میمنت لزم سے شرف ہوا اشعار کی ہے سانگی جوش مسرت اور خاص طور

پر آخری شعر ابنا المبعوث فینا جئت بالامر المطاع بول رہا ہے کہ یہ اشعار اس وقت پڑھے گئے جب

ان کا میں میں رہتے یا کے بارہ پانی سے ہٹ گئے یا اس موقع پر بھی اشعار پڑھے گئے جیسا کہ

مین میں روایت میں آیا ہے تو اس میں کوئی استعداد نہیں کیونکہ اسطرح کا ترانہ ستر بار بار انتقال کے اور میں بھی استاد کیا

………………………………………………………………………………………………………………

ہمارے ہاں (مدینہ ) تشریف لائے لیے

مسجد قباء اور مدینہ کا پہلا جمعہ

رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے قباء میں چار روز قیام فرمایا اور ایک

مسجد کی بنیاد رکھی جمعہ کے روز آپ وہاں سے آگے روانہ ہوئے، جمعہ بتی سالم بن

عورت کی برادری میں پڑا چنانچہ جمعہ کی نماز آپ نے ان ہی کی مسجد میں ادا کی جمعہ کی

یہ پہلی نماز تھی، جو آپ نے مدینہ میں پڑھی ہے

ابو ایوب انصاری کے گھر میں

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے گذرے تو راستوں میں جماعتیں بنا بنا کر

لوگوں نے آپ سے اس کی درخواست کی کہ آپ ان کے ہاں قیام فرمائیں کہ کہتے تھے

آپ ہمارے ہاں اقامت فرمائیں تعداد سامان اور عزت و شوکت کے ساتھ بھی کبھی

لوگ آپ کی اونٹنی کی کیل اپنے ہاتھ میں لے لیتے، آپ فرمائے کہ اس کو بجانے دو، یہ

اللہ کی طرف سے مامور ہے، ایسا کئی بار ہوا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی النجار کے محلہ سے گزرے تو بچیوں اور

باندیوں نے ان اشعار سے آپ کا استقبال کیا۔

نحن جوار من بني النجار ياحبذ المحمد من جار

ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں۔ اے خوش بخت کہ مھدا آج جانے پر ہی ہیں۔

له داری بروایت انسی که این هشام ۴۹ سے بہیقی برعایت انس بن مالک این بشیری ۲۲)

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۶

جب آپ بنی مالک بن النجار کے گھر تک پہونچے تو اونٹنی ایک جگہ پر جہاں آج

مسجد نبوی کا دروازہ ہے خود بخود ٹھہر گئی، اس وقت اس جگہ کھجور کا ایک کھلیان تھا ،

جونی تجار کے دیتیم لڑکوں کی ملکیت تھا، اور وہ آپ کے نانہائی رشتہ دار بھی تھے۔

رسول الللا علیہ وسلم وانی سے ارے ابوایوب انصاری الدین زید

التجاری الخزرجی) نے فورا آپ کا سامان انزوا یا اور اٹھا کر ے گئے، رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے یہیں قیام فرمایا، ابوایوب انصاری نے آپ کی میزبانی، ضیافت

خاطر مدارات اور ادب و تنظیمیں کوئی کسر اٹھانہ کبھی بالائی منزل میں رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند ہو کر رہا ان کو گوارانہ ہوا وہ نیچے آگئے، اور حضور سے درخواست

کی کہ آپ او پر تشریف رکھیں وہ اور ان کے گھروالے نیچے نہیں گئے آپ نے ارشاد فرمایا

ابو ایوب ہم کو اور ہمارے ملنے والوں کو اسی میں زیادہ راحت ہوگی کہ ہم نیچے رہیں۔

ابو ایوب انصاری کچھ نوش حال لوگوں میں نہ تھے لیکن آج اپنے گھرمیں آپ کے

قیام سے ان کی خوشی کی کوئی انتہا تھی اور اس سرفرازی اور عزت ابو الشر تعالے نے

ان کو عطا کی تھی کے شکراداکرنے سے ان کی زبان قاصر تھی محبت خدمت در است

رسانی کے آداب خود سکھ دیتی ہے، ابوایوب انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اله صلی اللہ

علیہ وسلم کے لئے رات کا کھانا تیار کرکے بھیجتے اگر آپ کا پس خوردہ واپس آتا تو میں

اور اہم اتو یخ اس طرف سے یہاں سے آپ نے کھایا ہونا یہ بچا ہوا کھاتے اور برکت حاصل

کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیے کی منزل میں تشریف رکھتے تھے اور ہم لوگ او پر

تھے، ایک مرتبہ شکا جس میں ہم پانی رکھتے تھے ٹوٹ گیا، میں نے اور ایم بیوی نے اپنی چادر

سے تیس کے علاوہ ہمارے پاس اوڑھنے کی کوئی چیز نہ تھی اس پانی کو خشک کیا کہ کہیں

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۷

خدانخواستہ نیچے نہ ٹیکنے لگے اور آپ کو تکلیف ہوئے۔

مسجد نبوی اور مکانات کی تعمیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دولڑکوں کو جو اس کھلیان کے مالک تھے

بلا بھیجا اور ان سے یہ جگہ مسجد کی تعمیر کے لئے خریدنا چاہی، دونوں نے عرض کیا یا رسول لہر

صلی اللہ علہ وسلم یہ ہماری طر سے ہی ہے لیکن سوال نشر صلی الہ علیہ وسلم نے اس کی طرح

قبول نہ فرمایا او کسی نہ کی طرح قیمت دے کر قطعہ زمین حاصل کیا اور وہاں سجد کی عمر کی ہے

آپ نے مسجد کی تعمیر میں فری نفیس شرکت فرمائی، آپ انہیں یہاں ہوئیا تے

تھے، اور مسلمان آپ کی پیروی کرتے تھے، اس موقع پر آپ یہ ارشاد فرماتے تھے۔

اللهم ان الاجراجر الآخرة فارحم الانصار والمهاجرة

اے السلم الاجرت تو آخرت کی اجر ہے پس انصار اور مہاجرین پر رحم فرما

مسلمان اس وقت بہت سرور اور شادماں تھے شوقیہ اشعار پڑھے اور سر تال کا کیا ہے۔

رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے ابو ایوب انصاری کے گھر میں سات ماہ قیام فرمایا

له ابن اسحاق بروایت ابوایوب انصاری خود این کثیر ج ۲ ص ۲) ۱۲ صحیح بخاری باب

مقدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه إلى المدنية » ۱۳ ابن كثير ج ۲ ص ۲۵

ه ابن کثیر ج ۲ ۲۷۹ ۔ یہ ابن سعد کے نزدیک اقای کی روایت ہے اور فتح الباری میں ابن حجر

نے بھی اس کی توثیق کی ہے اور ابن اسحق کہتے ہیںکہ رسول ا صل للہ علیہ سلم نے دینہ آنےکے سال ہیں

ربیع الاول سے صفر تک قیام کیا، اور وہاں مسجد نبوی تعمیر کی، اور سکونت کے لئے گھر نہائے اس طرح

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوایوب نے کے یہاں دس ماہ سے زیادہ قیام رہا

………………………………………………………………………………………………………………

انصار کا کام ایثار تھا، مہاجرین کا استغناء اور خود داری۔

مؤاخات اور اس کی اہمیت

یہ موافاة (بھائی چارہ ) اپنی نوعیت کی منفر د اسلامی و عالمی اخوت کی نشان

ایک صاحب دعوت امت کے قیام کا مقدمہ تھی جو ایک نئی دنیا کی تعمیر کے لئے

بر پا ہو رہی تھی، اور جو صحیح معین عقائد اور دنیا کو بدبختی و بد نظمی سے نجات دینے

والے نیک مقاصد اور ایمان و معنوی اخوت اور متحدہ سرگرمی کے تعلقات کے لئے

قائم ہو رہی تھی، اس طرح مہاجرین و انصار کے درمیان یہ محدود اخوت دنیائے

انسانیت کی نئی زندگی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، اسی لئے اللہ تعالی نے ایک چھوٹے

شہر کی ایک چھوٹی سی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

إلا تفعلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ في الأرض اگر یہ نہ کرو گے تو زمین میں (ٹھا)

وفساد كبيرة (سورۃ الانفال میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔

حضور کی تحریر اور یہود سے امن وامان کا معاہدہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر مہاجرین و انصار کے لئے

ایک تحریر تیار فرمائی جس میں یہود سے امن وامان کا معاہدہ تھا، اور ان کے

ے صحیح بخاری باب الإخاء النبي صلى الله عليه وسلم بين المهاجرين والانصار)

اور باب کیف آخی صلى الله عليه وسلم بين (صحابہ) میں عبد الرحمن بن عووت

اور سعد بن الربیع کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔

………………………………………………………………………………………………………………

۲۶۰

اپنے دین و مذہب پر رہتے اور مال و جائداد کی حفاظت و بقا کا ذمہ لیا گیا تھا، او

ان کے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کی نشان دہی کی گئی تھی ہے

اذان کا حکم

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل کو مدینہ میں امن واطمینان حاصل ہوا اور اسلام

کو استحکام نصیبہ ہوا تو آپ نے نماز کے لئے اطلاع و دعوت کے وہ طریقے جو یہود اور

نصاری میں رائج تھے مثلاً ناقوس، گھنٹہ یا شعل وغیرہ ناپسند فرمائے اس وقت تک

مسلمان بغیر کسی دعوت و اعلان کے نماز کے اوقات میں خود جمع ہو جاتے تھے اس

موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اذان سے سرفراز فرمایا، اور خواب میں بعض صحابہ کو

اس کا مشاہدہ کرایا گیا چنانچہ آپ نے اسی اذان کو متعین فرما دیا اور شرعی طور پر

اس کا اجرا ہو گیا، یہ خدمت حضرت بلال بن رباح حبیشی کے حوالہ ہوئی وہ رسول اللہ

ے ملاحظہ کیجیے ابن ہشام منزہ ۔ اس سیاسی دستاویز کی اہمیت معلوم کرنے کے لئے اسے دنیا کا قدیم ترین

باضابط تحریری دستور کہا جاسکتا ہے جو کی شکل میں آج بھی موجود ہے اور اس گہرے سیاسی زندگی اور رنگی شماست

حکمت نبوی، اور ہدایت ربانی اور حالات کے متوازن جائزہ کے لئے ملاحظہ ہو ڈاکٹر محم حمید الہ سابق استدان

بین الاقوامی قانون جامع عثمانیہ حیدرآباد کا مقالہ جس کا عربی ترجمہ مولف کتاب نبی رحمت کے قلم سے

مجموعہ مباحث علمية (مث 116) دائرة المعارف العثمانیہ حیدرآباد سے مشاہرہ میں شائع ہوا تھا۔

اس دستاویز کا فن سیرت ابن ہشام قر اصل ۵۰۴۰۵ طبع مصطفی البابی، مصر، کتاب الاموال

لابي عبيد البداية والنهاية لابن كثير ج ۵۳ والنهاية لابن کثیر ج ۳ ص ۲۲ ۲۲۶، اور مجموعة الوثائق السياسية في العهد ۱

النبوى والخلافة الراشدة، از ڈاکٹر حمید اللہ ( طبع لجنة التأليف الترجمة والنشر قاہرہ) میں

ے

………………………………………………………………………………………………………………

۲۹۲

جب اسلام مدینہ منقل ہوا، رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم اور صحابہ کرام کو امن

و استحکام کا موقع حاصل ہوا، اسلام کو فروغ ہونے لگا اور اسلامی معاشرہ اپنے سارے

شرائط و لوازمات کے ساتھ وجود میں آگیا تو اس وقت صورت حال میں ایک خاص

تبدیلی واقع ہوئی اور نفاق نے سر نکالا، یہ ایک بالکل فطری اور نفسیاتی بات تھی

جس سے مفر ممن نہ تھا، اس لئے کہ نفاق ہمیشہ وہیں پیدا ہوتا ہے اور ہاتھ پیر

نکالتا ہے، جہاں دو مقابل دعوتیں اور حریت قیادتیں موجود ہوں، اس موقع پر

یہ مذبذب اور متردد گروہ ان دونوں دعوتوں اور قیادتوں کے درمیان ہچکولے

کھاتا رہتا ہے اور متردد و فکر مند رہتا ہے کہ کس دعوت کو اختیار کرے اور کریس کو

چھوڑے کبھی وہ کسی ایک دعوت کو قبول کر لیتا ہے اور اس کے کیمپ میں چلا جاتا

ہے اور جذباتی لگاؤ اور وفاداری کا تعلق بھی اس سے قائم کر لیتا ہے لیکن اس کی

دنیا وی صلحتیں اور مقابل دعوت کا فروغ اور اس کا غلبہ عروج اس کو اپنے صحیح

موقف اور پہلی دعوت کے پرچم کے نیچے آجانے کے اعلان سے باز رکھتا ہے، اور

وہ اپنے قدیم ماحول سے رشتہ بالکل منقطع نہیں کر پاتا، قرآن مجید نے نز د داور اضطر آن

کی اس کیفیت اور حالت کی بہت نازک اور بولتی ہوئی تصویر پینے دی ہے،

ارشاد ہوتا ہے :۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ الله اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے

عَلَى حَرْفٍ : فَإِنْ أَصَابَة جو کنارے پر کھڑا ہو کر) خدا کی

خَيْرُ الْمَانَ به ، وان عبادت کرتا ہے اگر اس کو کوئی

أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقلب على (دنیاوی) فائدہ پہونچے تو اس کے

………………………………………………………………………………………………………………

وجْهَةَ خَيْرَ الدُّنْيَا سب بطئن ہو جائے، اور اگر کوئی

وَالْآخِرَةَ ، ذلك هو الخران آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے

المبين (یعنی پھر کافر ہو جائے) اس نے دنیا

(سوره حج – 11 ) میں نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی

یہی تو نقصان صریح ہے۔

اسی گروہ کی صفت دوسری جگہ یہ بیان کی گئی ہے :-

مد بن بين بين ذالى الہ بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں،

هؤُلَاءِ وَلَا إلى هؤلاء نہ ان کی طرف ( ہوتے ہیں ) نہ

(سورة النساء – ۱۴۳) ان کی طرف ۔

ان منافقین کی جو اوس وخزرج اور یہود سے تعلق رکھتے تھے سر براہی

ورهنمائی عبداللہ بن ابی بن سلول کے ہاتھ میں تھی ، بات کی جنگ کے بعد سے بنے

متفقہ طور پر اس کو اپنا سردار تسلیم کرلیا تھا جب اسلام کا یہاں داخلہ ہوا، اس وقت

اس کی تاج پوشی کی پوری تیاری تھی جب اس نے دیکھا کہ لوگ بہت بڑی تعداد

میں اور شرعت کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں تو یہ بات پھانس بن کر اس کے دل میں

چھ گئی ، اس کو کسی کل قرار نہیں آتا تھا، ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ جس وقت

رسول الله صل الله علیه وسلم مدینہ تشریف لائے، اس وقت عبد الله بن ابی بن سلول

دین والوں کا سردار تھا ، اوس و خزرج اسلام کی آمد سے قبل اس کے سوا کبھی بھی

کسی پر تفق نہ ہوسکے تھے اور ان دونوں قبیلوں کے کسی ایک شخص کو اپنا سردار کسی پر رفت نہ ہو سکے تھے اور ان

بنانے پر راضی نہ تھے، اس کی قوم نے اس کی تاج پوشی کے لئے کوڑیوں کا ایکتا ہے بھی

………………………………………………………………………………………………………………تیار کیا تھا اور اس کو بادشاہ بنانے کی تجویز تھی، یہ کیفیت چل رہی تھی کہ الله تعالیٰ نے

اپنے رسول صلی الہ علیہ وسلم کو یہاں بھیج دیا اور جب اس کی قوم اس کو چھوڑ کر مسلمان

ہوگئی تو اس کے دل میں سخت کینہ و حسد پیدا ہو گیا، اور اس کو محسوس ہوا کہ رسول الله

صلی الله علیہ وسلم نے اس کو اس سرداری اور اعزاز سے محروم کر دیا لیکن یہ دیکھ کر کہ

اس کی قوم کسی حالت میں بھی اسلام کو ترک کرنے والی نہیں وہ بھی بادل ناخواستہ

داخل اسلام ہوا، اور اپنے نفاق جین اور کینہ پر بدستور قائم رہا۔

ایسے تمام لوگ اسلام دشمنی پر اتر آئے جن کے دل ہی کوئی چور تھا، اور میں جو سیادت

کے خواہاں تھے وہ اس نئے دین سے گھٹن محسوس کرنے لگے جس نے ان کے منصوبوں کو

خاک میں ملا دیا اور امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا، اورمیں نے مدینہ کا رنگ بدل کر مہاجرین

و انصار کی ایک دل و یک جان است تیار کی تھی جو رسول اله صل الله علی سلم ایران

چھڑکتی اور آپ کی محبت کو اپنے باپ بیٹوں اور بیویوں کی محبت پر بھی ترجیح دیتی تھی

ی نظر دیکھ کر ان منافقین کے دل غصے اور حسد سے بھر گئے اور وہ آنحضرت کے

خلاف منصوبے بنانے اور سازشیں کرنے لگے اس طرح مدینے میں اسلامی معاشرے

کے اندر ہی ایک مخالف محاذ پیدا ہو گیا جس کی طرف سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنا

ضروری ہوگیا کیونکہ یہ گرہ تار آستین کی حیثیت رکھتا تھا اور اسلام اورسلمانوں

کے لئے کھلے دشمنوں سے زیادہ خطر ناک تھا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کثرت سے ان کا ذکر کرنا اور ان کے کرتوتوں سے

پردہ اٹھاتا ہے اسلام کا ان کے ساتھ مختلف نوع کا تعلق رہا ہے، اس لئے

لے سیرت ابن ہشام ج ۱ص۵۰-۵۸۵

………………………………………………………………………………………………………………

۲۶۵

سیرت کی کتابوں میں ناگزیر طور پر ان کا ذکر آتا ہے اور اس کتاب میں بھی آئے گا۔

یہود کی دشمنی کا آغاز

ابتدا میں کسی قدر غیر جانب داری اور خاموشی کے بعد پہلی بار یہود کی دشمنی اور

کینہ پروری کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، ان کا موقت پہلے مسلمانوں اور

مشرکوں اور اہل مکہ اور اہل مدینہ میں غیر جانب داری کا تھا، بلکہ شاید وہ اس وقت

اسلام اور مسلمانوں کی طرف نسبتا زیادہ مائل تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ نوت رسالت

اور روز آخرت پر ایمان میں (خواہ بعض تفصیلات میں اختلاف ہو۔ نیز اللہ تعالی کی

ذات وصفات اور عقیدہ توحید میں وہ مسلمانوں سے بہت قریب تھے، اگر چہ

یہ عقیدہ بھی جاہلی اقوام کے پڑوس میں ایک طویل عرصہ تک رہنے اور بت پرستی

کے ماحول میں جلا وطنی کی بہ طویل مدت گزارنے کی وجہ سے بہت کمزور پڑ چکا تھا، اور

اس میں غلو اور بعض انبیاء کی تقدیس بھی شامل ہوگئی تھی، جیسا کہ گذشتہ صفحات

میں بیان کیا گیا ہے۔

تمام قرائن یہ بتاتے تھے کہ اگر وہ اسلام کا ساتھ نہیں دیں گے تو کم از کم

اس معاملہ میں غیر جانب دار ضرور رہیں گے، اس لئے کہ اسلام ان کی مذہبی کتابوں کی

تصدیق کرتا ہے اور رسول اله صل اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے تمام انبیاء پر ایمان کی

دعوت دیتے ہیں، قرآن مجید اہل ایمان کی زبان سے کہتا ہے :۔

كُلِّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلكته سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر او

لے دیکھئے باب ” عہد جاہلیت”

………………………………………………………………………………………………………………

۱۹۶

وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ اس کی کتابوں پر اور اس کے

بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ ۔ پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور

(سوره بقره -۲۸۵) کہتے ہیں) ہم اس کے پیغمبروں میں سے

کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔

اگر ایسا ہو سکتا تو آج نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کا رخ دوسرا ہوتا

اور اسلامی دعوت کو ان مشکلات و مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو احیاے اسلام و یهودیت

کی آویزش اور ان اولین مسلمانوں (جو اپنی نشو و نما کے دور میں تھے) اور ان یہودیوں

(جو طاقتور با اثر دولت مند و معلم یافتہ تھے) کی کش مکش نے پیدا کر دیئے تھے اس کے

صرف دو بنیادی سبب تھے، ایک یہودیوں میں حسد تنگ دلی اور جمود و تعصب کا

مادہ، اور دوسرے ان کے عقائد باطلہ اخلاق رذیلہ اور قبیح عادتیں جن پر قرآن مجید

میں جابجا تنقید کی گئی ہے اور ان کی اس طویل تاریخ کا پردہ چاک کیا ہے جو انبیاء کرام

سے بر سر جنگ ہوئے ان کے پیغام و دعوت کا مقابلہ کرنے، ان کو شہید کرنے کی جسارت

عناد و سرکشی، راہ حق سے روکنے اللہ تعالی پر بہتان باندھنے دولت سے عشق،

با وجود ممانعت کے سودی کاروبار سے دل چسپی نا جائز طور پر لوگوں کا مال کھانے

حرام مال کا شوق ، توریت میں اپنی حسب مرضی ردو بدل اور ترمیم و اضافہ زندگی

سے حد سے بڑھی ہوئی محبت اور بہت سے ان قومی و نسلی خصوصیات سے بھری ہوئی ہے۔

رسول اللہ علیہ وسلم کی جگہ کوئی سیاسی رہنما ہوتا تو اس پھیپده

صورت حال کا جو اس وقت مدینہ میں قائم تھی اندازہ لگا کر اس کی روشنی میں

مصلحت آمیز قدم اٹھانا، وہ اگر یہودیوں کے ساتھ خوشامد اور منھ بھائی کا معاملہ

………………………………………………………………………………………………………………

کرتا تو کم ازکم ان کو قتل کرنے اوران کی دشمنی مول لینے سے ضرور احتیاط کرتا لیکن

آپ تبلیغ رسالت دین حق کے صاف و واشگاف طریقہ پر اعلان حق و باطل کی تمیز)

اور فساد و گمراہی کے مقابلہ اور ستر باب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے اور آپ کے

اس کا ذمہ دار بنا یا گیا تھا کہ آپ دنیا کی تمام قوموں اور افراد اور جماعتوں کو جن میں

یہود و نصاری جیسے اہل کتاب بھی شامل ہیں، اسلام کی بر ملا دعوت دیں، خواہ اس کی

آپ کو بڑی سے بڑی قیمت دینی پڑے اور طرح طرح کی مشکلات اٹھانی پڑیں یہ نبوت کا

وہ مزاج اور نہیچ ہے جس پر سارے انبیاء ہمیشہ کار بند رہے یہی مزاج اور نہی سیاست

اور نبوت کی راہوں کو الگ کرنا اور انبیاء اور قومی زعماء میں بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔

یہود کے عقائد اور ان کی زندگی اور سیرت و کردار پر ان باتوں سے فریبکاری

لگی اور اس اس نے ان کو اسلام اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور دشمنی پر پر کرست کر کر دیا دیا چنانچہ

انھوں نے اپنا پرانا رویہ بدل دیا، اور خفیہ علانیہ دونوں طریقوں سے اسلام کی

مخالفت پر اتر آئے اور مقابلہ کے لئے میدان میں آگئے ، یہودی فاضل

اسرائیل توفین نے اس نزاع و دشمنی کے اسباب پر کسی قدر جہات اور رضا گوئی

کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، وہ لکھتا ہے :۔

اگر رسول کی تعلیمات صرف ثبت پرستی کی مخالفت تک محدود درست ہیں اور

یہود سے ان کی رسالہ تسلیم کرنے کا مطالبہ نہ کیا جاتا تو یہود اور سلمانوں

میں کوئی جھگڑا پیدانہ ہوتا، اور یہود احترام تنظیم کی نگاہ سے سوال کی

تعلیمات کو دیکھتے، ان کی حمایت کرتے اور جان ومال سے ان کی برد

کرتے یہاں تک کہ آپ ان بتوں کو پاش پاش کر دیتے جس کا جزیرۃ العربی

 ………………………………………………………………………………………………………………

میں دور دورہ تھا اور بت پرستانہ عقائد کا خاتمہ ہو جاتا جو سارے

عرب میں پھیلے ہوئے تھے لیکن اس کی شرط یہی تھی کہ وہ ان سے اور ان کے

دین سے کوئی سروکار نہ رکھیں اور نہ ان کو یہ نئی رسالت قبول کرنے پر

مجبور کریں اس لئے کہ یہودی ذہنیت کسی ایسی چیز کے سامنے زم نہیں

پڑ سکتی جو اس کو اس کے دین سے ہٹانا چاہتی ہو، وہ بنی اسرائیل کے

سوا کسی اور نسل کے کسی نبی کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتی ہے۔

یہود میں اس بات نے مزید اشتعال پیدا کر دیا کہ ان کے بعض عالم جیسے

عبد اللہ بن سلام جن کا وہ بڑا احترام کرتے تھے، اسلام لے آئے یہود کو اس کا خیال

بھی نہیں آسکتا تھا کہ ان جیسا شخص مسلمان ہو جائے گا، اس نے ان کے سینہ میں

حسد اور تیلین کی آگ اور بھڑکا دی۔

یہود نے صرف اسلام کی مخالفت اور اس سے بد و وحشت پر اکتفا نہیں کی۔

بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ مشرکوں اور بت پرستوں کو ان سلمانوں پر کھلی ترجیح دینے

گے جو عقیدہ توحید میں یہود کے شریک و ہمنوا تھے، توقع اس کی تھی اور معقولیت کا

تقاضا بھی یہی تھا کہ جب قریش کے ادیب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

لائے ہوئے دین کا موازنہ ہو گا اور ان میں ترجیح و انتخاب کا مسئلہ سامنے آئے گا تو وہ

انے تاریخ اليهود في بلاد العرب (ولفن) ۱ ۲ یہود کے جو لوگ مسلمان ہوئے اور ان کو شرف

صحبت حاصل ہوا۔ ان کی تعداد ۲۷ تک پہونچتی ہے اور ان کے نام اور حال زندگی طبقات صحابہ ملا اور صابیت

اور الاستیعاب اور اسد الغابہ وغیرہ میں آئے ہیں ان میں بعض بڑے جلیل القدر علماء اور اجلہ صحار شامل

تھے یہ تعداد مولانا مجیب الرندی کی کتاب اہل کتاب صحابہ تابعین شائع کردہ دارالمصنفین اعظم گڑھ سے

18

………………………………………………………………………………………………………………

مسلمانوں سے اپنے اختلاف کے باوجود شرک و بت پرستی پر اسلام کی حقانیت برتری

کی شہادت دیں گے لیکن اسلام دشمنی نے انکو اس کی اجازت نہ دی، چنانچہ جب

ایک موقع پر یہودی علماء سرداران قریش سے مکہ میں ملنے گئے تو سرداران قریش نے

کہا کہ آپ لوگ رہتے اول اہل کتاب ہیں اور ہمارے اور محمد (صل اللہ علیہ وسلم) کے

درمیان جو اختلاف چل رہا ہے وہ آپ کو معلوم ہے آپ کیا کہتے ہیں، ہمارا مذہب

بہتر ہے یا ان کا ؟ انھوں نے جواب دیا، آپ لوگوں کا دین ان کے دین سے بہتر ہے

اور آپ زیادہ حق پر ہیں۔

یہی یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل و فنسن اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے

لکھتا ہے :۔

لیکن ایک بات جس پر ان لوگوں کو واقعی ملامت کی جا سکتی ہے، اور

جس سے ہر اس شخص کو تکلیف پہونچے گی جو خدائے واحد پر ایمان رکھتا

ہے خواہ وہ یہودیوں میں سے ہو یا مسلمانوں میں سے وہ گفتگو ہے جو کچھ

یہودیوں اور قریش کے بت پرستوں میں ہوئی تھی اور جس میں ان یہودی کو

نے قریش کے مذہب کو پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین پر ترجیح دی تھی؟

آگے بڑھ کر وہ لکھتے ہیں :۔

جنگی ضرورتوں نے قوموں کے لئے حیلہ سازی اور دروغ گوئی اور دشمن پر

غلبہ حاصل کرنے کے لئے فریب دہی کی مختلف تدبیروں کو جائز قرار دیا ہے

لے ابن ہشام ج ۲ ص ٢١٣٥٢

………………………………………………………………………………………………………………

اور قریش کے ذمہ داروں کے سامنے اس کی صراحت نہ کرنی چاہیئے تھی کہ

بتوں کی پرستش اسلامی توحید سے بہتر ہے خواہ اس کی وجہ سے ان کے

مقاصد پورے نہ ہو پاتے اس لئے کہ بنی اسرائیل جو طویل صدیوں تک

بت پرست اقوام کے مقابلہ میں اپنے قدیم آباء واجداد کے نام پر توحید

کا پرچم بلند کئے رہے اور جنھوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اس عقیدہ

کی خاطر نا قابل شمار مصائب برداشت کئے اور قتل و خون کے سخت مرحلوں

سے گزارے ان کا آج یہ فرض تھا کہ وہ مشرکین کو ناکام و نامراد کرنے کے

لئے اپنی متاع حیات اور نفیس سے نفیس شے کی قربانی دیں ؟

قرآن مجید نے اس آیت میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے :۔ ب ۱ –

الَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُولُوَ نصيبا بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا

مِّنَ الكِتُبِ يُؤْمِنُونَ بالجبت جن کو کہتا ہے حصہ یا گیا ہے کہ بتوں

وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار

كفر و الهو الام امدى من کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ

الَّذِينَ امنو اسيا (سورہ انار ) مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں۔

قبلہ کی تبدیلی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان اب تک بیت المقدس کی طرف

رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، مدینہ تشریف آوری کے بعد ایک سال چار مہینے تک نماز

له اليهود في بلاد العرب ما ۱۴

………………………………………………………………………………………………………………

اسی ٹی پر پڑھی جاتی رہی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کر یہ مسلمانوں کا

قبلہ بنا دیا جائے یہ عرب سلمان بھی جن کی نشونما کعبہ کی محبت اور عظیم پر ہوئی تھی اور

ی محبت اور عظیم اور ان کے گوشت پوست اور خون میں پیوست تھی دل سے یہی چاہتے

تھے کہ جب ان کا قبلہ ہوتا وہی جگہ کبھی کبہ اورسیدنا ابراہیم و اسماعیل کے قبیلہ کے

مقابلہ کا نہیں سمجھتے تھے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اور اس کو

اپنا قبلہ تسلیم کرنا ان کے لئے ایک شدید استحان تھا لیکن بے چون و چرا انھوں نے

اس حکم کو تسلیم کیا اور سمعنا واطعنا اور ہم نے سنا اور اطاعت کی اور آمنا

به كل من عند ترین اہم ایمان لائے جو کچھ ہے ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے)

کے سوا ان کی زبان سے کچھ او نہ نکلا وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور

اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینے کے علاوہ اور کچھ نہ جانتے تھے، خواہ وہ ان کی خواہش مرضی

اور ان کی عادت اور مذاق طبیعت کے موافق ہو یا نہ ہوا جب اللہ تعالیٰ نے ان کے

لوں کا امتحان لے لیا اورانھوں نے تقوی اور طاعت کا پورا ثبوت سے دبان رول لر

صل اللہ علیہ وسلم اورتمام مسلمانوں کا رخ کعبہ کی طرف کروادیا گیا، قرآن مجید میں آتا ہے ۔

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطًا اور اسی طرح ہم نے تم کو اقت معتدل

تَكُونُوا شُهَدَاء على الناس بنایا تاکہ تم لگوں پرگاه تو اور پیر

وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُم ترهيا آخرالزماں تم پر گواہ ہیں اور میں

وَمَا جَعَلَ الْقِبْلَةَ التي كنت قبلہ پرتم پہلے تھے، اس کو ہم نے

عليها إِلَّا لِيَعْلَمَ من ينم اس لئے مرد کیا تھاکہ معلوم کریں کہ

الرَّسُولَ مِمَّن يُنقلب علیٰ کون ہمارے پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور

………………………………………………………………………………………………………………

عَقِبَيهِ ، وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرٌ کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور

الَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى الله یہ بات رابیت المقدس کی طرف

( سوره بقره – ۱۷۳) نماز پڑھنا، گران معلوم ہوئی مگر جن کو

خدا نے ہدایت بخشی روہ اسے گراں

نہیں سمجھتے تھے ؟

مسلمانوں نے خدا ور رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اپنا رخ اسی وقت کعبہ کی

طرف کر لیا، اور وہی قیامت تک کے لئے مسلمانوں کا قبلہ قرار پا یا مسلمان (خواہ

دنیا کے کسی حصہ میں ہوں ) اپنا منھا اسی کی طرف کر کے نماز پڑھنے کے لئے امور ہیں۔

مدینہ کے مسلمانوں سے قریش کی چھیڑ چھاڑ

جب مدینہ میں اسلام کے قدم جم گئے، اور قریش نے دیکھا کہ اس کی وسعت

اور مقبولیت میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے اور اگر یہ صورت حال کچھ دن او

باقی رہ گئی تو نام کا ان کے ہاتھ سے بالکل نکل جائے گی اور اس کے بعد وہ اس کا کچھ بگاڑ

نہ سکیں گے یہ دیکھ کر انھوں نے مخالفت اور دشمنی کے لئے اچھی طرح کمرکس لی اور ہر طرف

اس کے خلاف ایک شور و غوغا شروع ہو گیا لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالی کی طرف سے صبر

اور عفو و در گزر کا حکم اور کھوا أَيْدِيكُمْ وَاقِبُو الصَّلاةَ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور

نماز قائم کروں کی تعلیم تھی، اس کا مقصد یہ تھا کہ زندگی اور اس کی لذتیں اور راحتیں

ان کی نظر طرمیں میں ان ارزاں و بے قیمت ہو جائیں اور اطاعت فیض کی مخالفت اور ایثار و قرائتی کا

لے دیکھئے صحاح ستہ اور قرآن مجید کی ان آیات کی تفسیر جن میں تبدیل قبلہ کا ذکر ہے۔

………………………………………………………………………………………………………………

۲۷۳

مشکل کام ان کے لئے آسان ہو جائے۔

قتال کی اجازت

جب ان کی طاقت کچھ اور بڑھی اور ان کے باز ومضبوط ہو گئے تو اس قت ان کو

قتال کی اجازت دیدی گئی لیکن میری اجازت تھی اسکو فرض قرارنہیں دیاگیا تھا فرمایا گیا۔

اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بأنہم جن مسلمانوں سے خواہ مخواہ لڑائی کی

ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللهَ علی جاتی ہے ان کو اجازت ہے کہ روہ

نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُه بھی لڑیں، کیونکہ ان پر ظلم ہورہاہے

(سوره حج – (۳۹) اور خدار ان کی مذ کرے گا، یقینا

وہ ان کی مدد پر قادر ہے۔

عبد اللہ بن جحش کا سریہ اور غزوہ ابواء”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل اور علاقوں میں سرایا اور چھاپیے

بھیجنے کا آغاز فرمایا، ان کی نوعیت اکثر با قاعدہ جنگ کی نہ ہوتی تھی اس کوہم کسی قد

طاقت آزمائی یا جھڑپ اور چھا پہ سے تعبیر کر سکتے ہیں جس کا مقصد مشرکین کو

مرعوب و خوف زدہ کرنا اور اسلام کی شان و شوکت اور سرگرمی و فعالیت کا مظاہر

کرتا تھا، اور یہ فائدہ ان سرایا اور چھاپوں سے پوری طرح حاصل ہوا۔

اس موقع پر ہم خصوصیت سے عبداللہ بن جحش کے سریہ کا ذکر کریں گے اس لئے کہ

لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو زاد المعاد ج اص۳۱۲

………………………………………………………………………………………………………………

اس سریہ کے متعلق ایک آیت بھی نازل ہوئی نیز اس سے اس اہم حقیقت پر روشنی پڑتی

ہے کہ قرآن مجید مسلمانوں کی کسی کوتاہی اور غلطی کا ساتھ نہیں دیتا، بلکہ وہ مختلف قوموں

اور جماعتوں کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے یا رائے قائم کرنے میں میزان عدل ہے جس پر

ہر عمل کو تو لا جائے گا، یہ واقعہ مختصرا یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ے عبداللہ بن حسن الاسدی کو رجب سے ہمیں

ایک مہم پر روانہ فرمایا اور مہاجرین کے آٹھ آدمی ان کے ساتھ کئے ، آپ نے ان کو

ایک تحریربھی لکھ کردی اور یہ حکمفرمایا کہاس تحریر کو ابھی نہ دیکھیں جب دو دن کی

مسافت طے کر لیں تب اس کو کھول کر پڑھیں اور پھر کچھ اس میں ہے اس کی تعمیل

کریں لیکن اپنے کسی رفیق کو اس کی تعمیل پر مجبور نہ کریں۔

جب عبد اللہ بن جحش نے دو دن کی مسافت طے کرلی تو یہ خط کھول کر دیکھا،

اس میں لکھا ہوا تھا جب یہ خط تم دیکھ لینا تو آگے بڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان

نخلستان میں اتر جانا، اور وہاں سے قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور ان کی

خبریں ہمارے پاس بھیجتے رہنا ” عبد اللہ بن جحش نے خط پڑھ کر کہا “سمعا وطاعة

آنا کا حکم سر آنکوں پر پھراپنے فضاء سے کہا رسول الل صل اللہ علہ سلم نےمجھے

کم دیا ہے کہ آگے نخلستان میں اتر کر وہاں سے قریش کی سرگرمیوں پر نظر رکھوں اور

اس کی خبریں آپ کو پہونچاتا ہوں مجھے آپ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہمیں کسی اور کو

اس پر مجبور نہ کروں، اب تم میں سے جس کو شہادت کا شوق ہے وہ ہمارے ساتھ آئے

اور جو یہ نہیں چاہتا وہ واپس لوٹ جائے، مجھے بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلیم

کے حکم کی تعمیل کرتی ہے، اس کے بعد وہ آگے روانہ ہو گئے اور ان کے سب ہی رفقاء

………………………………………………………………………………………………………………

ان کے ساتھ رہے ایک آدمی نے بھی پیچھے رہنا گوارا نہ کیا۔

۲۷۵

آگے چل کر وہ اور ان کے سب رفقاء نخلستان میں مقیم ہوئے اتنے میں قریش کا

ایک قافلہ وہاں سے گذرا اس میں عمرو بن الحضرمی بھی تھا، قریش اس قافلہ کو دیکھ کر

ڈر سے گئے ان کا پڑاؤ بھی قریب ہی تھا اتنے میں عکاشہ بن محصن نے جن کا سرمنڈا ہوا

تھا، اپنا سر اٹھا کر دیکھا قریش نے جب ان کو دیکھا تو اطمینان کا اظہار کیا اور کہا ان سے

ڈرنے کی بات نہیں یہ تو عمرہ والے ہیں، یہ حجاب اسامہ کے آخری دن کا واقعہ ہے اس کے

مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا اور رائے یہ ہوئی کہ اگر تم نے ان کفار کو اس رات میں

چھوڑ دیا تو مسجد حرام میں داخل ہو جائیں گے اور تم کو وہاں جانے سے باز رکھیں گئے

اور اگر تم ان سے قتال کرتے ہو تو شہر حرام میں جنگ کرنا پڑے گی اس بات سے لوگوں میں

ترو کی کیفیت پیدا ہوگئی اور ان کو اس قسم کے اقدام سے ڈر سا محسوس ہوا لیکن پھر

انھوں نے اپنے کو اس پر آمادہ کرلیا اور سقفہ کی رائے یہ ہوئی کہانی سے جتنے کم ہیں

ان کو تو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا جائے،

چنانچہ ان میں سے واقد بن عبد اللہ التیمی نے پہلا تیر چلایا اور عمرو بن الحضرمی کا خاتمہ

لے عرب ماہ رجب میں عمرہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے رجب حرمت کے چار بہینوں میں پہلا مہینہ ہے انار حرام

میں جنگ کرنا منوع تھا اور عہد جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی دورمیں عرب اس پر کار بند تھے باقی تین مہینے

ذی القعدہ ذی الحجہ اور محرم کے ہیں، جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت سورہ براءت کی اس آیت سے

منسوخ ہوچکی ہے”ما قَتَلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدُ تُمُوهُمْ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَةً لما

قَاتِلُونَكُمْ كَافَةً سعيد بن السید سے پوچھا گیاکہ کیا مسلمان شہر میں کفار سے جنگ کرسکتے ہیں۔ فوری جواب این

اسلامی فتوحات اور دگرکر آرائیں میں اس پر کھل تھاد کہیں تاریخ ی نہیں لا کر ہر سال ایک مہینہ رجب

ی تین مہینے ذی قعدہ، ذی الحجہ محرم میں جنگ بند کر دی جاتی ہے اور اسلامی فوجی چھاؤنیوں میں ایس

ہوتی ہیں۔

………………………………………………………………………………………………………………

کردیا، دو آدمیوں کو قیدی بنا لیا گیا، اور عبداللہ رض بن حجش اور ان کے ساتھی اس

قافلہ اور دو قیدیوں کو لے کر واپس روانہ ہوئے۔

جب مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی حاضری ہوئی تو

آپ نے فرمایا کہ میں نے تم کو شہر حرام میں جنگ کرنے کے لئے تو نہیں کہا تھا؟ پھر آپ نے

ان میں سے کسی چیز کو لینے سے انکار کر دیا جو مال غنیمت میں لائے تھے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، اور خطرہ

ہوا کہ اب ہلاکت یقینی ہے، دوسری طرف مسلمانوں نے بھی ان کو بہت سخت سست کہا اور

لعنت ملامت کی، قریش نے کہاکہ محمد (صلی الہ علیہ وسلم نے شہر حرام میں بھی جنگ

اور خوں ریزی جائز کر دی ! اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :-

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهر الحرام والے محمد صل اللہ علیہ وسلم لوگ تم سے

قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قَالَ فِيهِ عزت والے مہینوں میں زنی کرنے

كَبِيرُهُ وَصَةٌ عَنْ سَبِيلِ اللہ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہا

وكفرية والمسجد الحرام کہ ان میں لڑنا بڑا گناہ ہے

وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ اكبر اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے

عِندَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ اكبر کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی خانه کعبه

من القتل

میں جانے سے روکنا اور اہل حدود

(سورة البقره – (۲۱۷)

اس میں سے نکال دینا جو یہ کفار

کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی

ے سیرت ابن ہشام من 100

………………………………………………………………………………………………………………

زیادہ (گناہ) ہے، اور فتنہ انگیزی

خوں ریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔

علامہ ابن القیم زاد المعاد” میں لکھتے ہیں :۔

اللہ سبحانہ و تعالے نے اپنے دوستوں اور دشمنوں میں عدل و انصاف کا

معاملہ فرمایا، اور اپنے مقبول و پسندیدہ بندوں کی ان کے اس فعل ہیں کہ وہ

شہر حرام میں گناہ کے مرتکب ہوئے حمایت نہیں کی، بلکہ اس کو بہت بڑی

بات قرار دیا اور ساتھ ہی اس کا بھی اظہار کر دیا کہ اس کے شمن مشترک تنہا ایک

شهر حرام میں از تکاب گناہ سے کہیں زیادہ قابل مذمت اور میزا کے لائق ہیں،

خاص طور پر این صورت کہ اس کے بقبول بندوں نے اس میں تاویل سے کام لیا تھا۔

یا یہ کہنا چاہئے کہ ان سے اس معاملہ میں ایک طرح کی تقصیر ہوئی تھی جس کو

اللہ تعالے ان کے عقیدہ توحید اطاعت و عبادت رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت اور الہ کے لئے قربانی کی بات مان کرنے والا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۃ الا بو اء میں جس کو بواط بھی کہا جاتا ہے

نفس نفیس شرکت فرمائی یہ آپ کا پہلا غزوہ ہے لیکن اس میں جنگ کی نوبت نہیں

آئی چنانچہ آپ واپس تشریع نا لے آئے اس کے بعد تعاد سرایا اور غزوات پیش آئے۔

روزہ کی فرضیت

جب عقیدہ مسلمانوں کے دلوں میں خوب راسخ ہو گیا، ان کو نماز سے پوری من است

لے زاد المعارج امر ۳۳ کے تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے بیرت ابن ہشام ج م ۵۹-۶۰۶

………………………………………………………………………………………………………………

۲۷۸

پیدا ہو گئی اور یہ ناسبت بڑھتے بڑھتے عشق کے درجہ تک پہونچ گئی ان کے

اندر احکام شرعی در اوامر الہیہ کی تعمیل کرنے کا ایک ایسا مزاج پیدا ہو گیا کہ معلم جو ہونا

تھا کہ وہ ان احکام کے انتظار میں رہتے ہیں تو انشر تعالے نے روزہ کا حکم نازل فرمایا.

یہ ہجرت کے دوسرے سال کا واقعہ ہے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :۔

يا أيها الذين امنوا ليت عليكم مونوا تم پر روزے فرض کئے گئے

الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر

مِن قَبْلِكُمْ لَعَلم تقون فرض کئے گئے تے ناکام پرہیز گار ہوں

(سوره بقره – ۱۸۳)

دوسری آیت یہ نازل ہوئی :۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ (روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ

القران هُدى النَّاسِ وَبی ہے جس میں قرآن (اول اول) نازل

مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَان فمن ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے جس میں

شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهر فلم ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور

( سوره بقره – ۱۸۵) جو حق و باطل کو الگ الگ کرنے والا

ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینہ

میں موجود ہو چاہئے کہ پورے نہینہ

کے روزہ رکھے۔

لے روزے کے اسرار و حکم معلوم کرنے، اس کی مشروعیت کی تفصیلات کے لئے ہماری کتاب

ارکان اربعہ ملاحظہ ہو۔