۲۹۹
غزوة أحد
(شوال ه)
جاہلی جمعیت اور جذبہ انتقام
جنگ بدر میں جب قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور باقی ماندہ فوج
نے منتشر ہو کر مکہ کی طرف راہ فرار اختیار کی تواس کا مکہ والوں پر بہت برا اثر پڑا ،
یہ واقعہ ان کے لئے ایک عظیم سانحہ سے کم نہ تھا، چنانچہ وہ سب لوگ جن کے باپ بیٹے
اور بھائی مارے گئے تھے جمع ہو کر ابوسفیان کے پاس گئے، اور اسے اور قریش کے اس قافلہ میں
جن لوگوں کا حصہ تھا ان لوگوں سے بھی اس معاملہ میں مشورہ کیا اور انھیں کے روپیہ
سے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک نئی جنگ کی تیاری شروع کی شاعری نے
ان کو حسب معمول غیرت دلائی شروع کی اور ان کی حمیت جاہلیت کو ابھارا۔
ہجرت کے تیسرے سال ماہ شوال کے وسط میں قریش کاپی کر اپنے پورے سازو سانان
کے ساتھ روانہ ہوا، قریش کے ان نوجوانوں کے ساتھ دوسرے قبائل کے لوگ بھی تھے،
جو قریش کو اپنا سردار تسلیم کرتے تھے، ان کے ساتھ عورتیں بھی تھیں جواپنے محل میں اس شکر
کے ساتھ اس غرض سے بھیجی گئی تھیں کہ مردان کی وجہ سے راہ فرار نہ اختیار کر سکیں
اه ابن ہشام ج ۲ ص ۶۲۶
………………………………………………………………………………………………………………
قریش کے سردار اپنی بیویوں کے ساتھ تھے، غرض یہی شکر روانہ ہوا اور اس نے مدینہ کے
سامنے پڑاؤ ڈالا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رائے تھی کہ مسلمان مدینہ میں ہی رہیں اور
ان لوگوں سے کوئی تعریض نہ کریں، اگر وہ خود حملہ کریں تو ان سے قتال کریں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم شہر چھوڑ کر اور باہر نکل کر ان سے مقابلہ پر نہیں فرمارہے تھے
عبد اللہ بن ابی کی بھی رائے وہی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی لیکن
بعض ان سلمانوں نے جو بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور ان کو اس کی حسرت
رہ گئی تھی یہ کہا کہ یارسول اللہ آپ باہر نکل کر دشمنوں کا مقابلہ کریں کہیں ان کو
یہ نہ مجھو ہمیں نہ ہو کہ ہم بزدلی اور کمزوری کی وجہ سے باہر نہیں نکل رہے ہیں یہ لوگ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس قسم کی باتیں کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
دولت کدہ میں تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر تشریف لائے، اس وقت ان لوگوں کو
جو باہر نکل کر مقابلہ کے داعی تھے ندامت ہوئی انھوںنے کہا، یا رسول اللہ ہم نے آپ کو
آپ کی مرضی کے خلاف اس کام پر آمادہ کیا ہے تو ہمیں نہیں کرنا چاہئے، اگر آپ
چاہیں تو تشریف رکھیں اور یہیں رہ کر مقابلہ فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ نبی کی شان نہیں کہ مسلح ہونے کے بعد جنگ سے پہلے ہتھیار رکھ دیے
رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم ایک ہزار صحابیوں کے ساتھ مقابلہ کے لئے تشریف لے چلے
مدینہ سے کچھ دور پہونچے تھے کہ عبد اللہ بن ابی ایک تہائی آدمیوں کے ساتھ آپ کو چھوڑ کر
واپس چلا گیا، اس نے کہا کہ میری بات تو انھوں نے ٹھکرادی اور نوجوانوں کی تابعداری کی۔
اے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۶۲ ایضاً منہ
………………………………………………………………………………………………………………
۳۰۱
اُحد کے دامن میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش قدمی کر کے اور پہاڑ کے دامن میں (جو
مدینہ منورہ سے تین کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے پڑاؤ ڈالا ، آپ نے اپنی پشت اُحد کی
طرف کی اور شکر کو بھی اسی حساب سے تعینات کیا ، اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ
جب تک میں حکم نہ دوں کوئی جنگ کا آغاز نہ کرے پھر آپ نے جنگ کی باضابطہ تیاری
فرمائی ، آپ کے ہمراہ اس وقت سات سو آدمی تھے تیر اندازوں پر آپ نے عبداللہ
بن جبیر کو مامور کیا ، ان کی تعداد پچاس تھی ، ان کو آپ نے صراحت کے ساتھ
حکم دیا کہ وہ تیر انداز کے ذریعہ گھوڑ سواروں کی پیش قدمی روکیں اور اس کا
خیال رکھیں کہ وہ ہماری پشت پر نہ آجائیں ، خواہ جنگ کا پانسہ ہمارے حق میں ہو
یا ہمارے خلاف ہو، آپ نے ان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی پوزیشن کسی حالت میں
نہ چھوڑیں اور اس جگہ سے ہر گز نہ ہٹیں، خواہ چڑیاں مسلمانوں کے شکر کو اچک لے جائیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اس موقع پر دہری زرہ پہنی اور اسلامی لشکر کا
پرچم مصعب بن عمیر کو عطافرمایا ۔
ہم عمروں میں مقابلہ اور مسابقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد میں کچھ نو عمر لڑکوں کو ان کی کم عمری
لے میدان جنگ کی صحیح پوزیشن اور جنگی حکمت عملی کو سمجھنے کے لئے ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب حیدر آبادی
حال مقیم پریس کی کتاب عہد نبوی کے میدان جنگ کا مطالعہ کیا جائے۔ سے سیرت ابن ہشام ج ۲
سے زاد المعارج اص ۳۴۹ نیز صحیح بخاری باب غزوہ احد کتاب المغازی ۔
………………………………………………………………………………………………………………
کی وجہ سے واپس فرما دیا تھا، ان میں سمرة بن جندب اور رافع بن خدیج بھی تھے ان دونوں
کی نظریں پندرہ سال سے زیادہ نہ تھیں رافع کے والد نے اپنے لڑکے کی سفارش کرتے ہوئے
عرض کیا کہ یا رسول اللہ امیرالہ کا رائع بہترین انداز ہے۔ آپ نے ان کی سفارش قبول
فرمائی اور ان کو اس غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی، پھر سمرہ بن جندب آپ
کے سامنے پیش کئے گئے وہ بھی رافع کے ہم سن تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو
بھی واپس فرما دیا امرہ نے عرض کیا کہ حضور آپ نے رافع کو اجازت دے دی اور
مجھے واپس فرمادیا حالانکہ اگر میری ان سے کتنی ہوتو میں ان کو پھاڑ سکتا ہوں دونوں میں
کشتی ہوئی اور سمہ نے رافع کو چت کردیا اور اس طرح انکو بھی غزوہ احد میں شرکت کی
اجازت مل گئی لیے
لڑائی کا آغاز
لڑائی شروع ہوئی اور دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھ گئے ہند بنت مغلیہ
عورتوں مں موجود تھی عورتیں دن بجا بجا کر مردوں کو جنگ پر آمادہ کر رہی تھیں یہاں کے
جنگ اپنے پہلے باب پر ہوں گئی اور جان رسو ل صلی الہ علیہ وسلم سے تو لے کر
میدان جنگ میں گھس گئے ہو کوئی ان کےسامنے آنا ان کی تلوار سے بچ کر نہ جاتا۔
یہ ہفتہ کے روزے رشوال سر کا واقعہ ہے۔
حضرت حمزہ اور صعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حمزہ نے بھی اس لڑائی میں اپنی شجاعت کے خوب جو ہر دکھائے
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص له ايضا ۶۶-۲۸
nunuunuun k
………………………………………………………………………………………………………………
۳۰۳
اور بڑے بڑے سرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا کسی کو ان کے سامنے ٹھہرنے کی طاقت
تھی لیکن جبیر بن عظیم کا غلام حبشی ان کی گھات میں تھا وہ بھالا پھینک کر اپنے مقابل کو
ختم کرنے میں خاص مہارت رکھتا تھا، جبیر نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ حمزہ کو قتل
کر دے گا تو اس کو اس کے انعام میں آزاد کردے گا، اس کا چا طعیمہ جنگ بدر میں مارا گیا
تھا اور اس کا ملال بھی اس کے دل میں تھا، دوسری طرف ہند اس کو حضرت حمزہ کے قتل
پر اکسا رہی تھی، وہ ان کی شہادت سے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرنا چاہتی تھی وحشی نے اپنا بھالا
تان کر پوری طاقت سے حضرت حمزہ پر حملہ کیا، وہ ان کی ذات سے باز کل گیا حضرت حمزہ
تڑپ کر گرے اور جاں بحق تسلیم ہوئے ، مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ سپر ہوکر لڑتے رہے اور آپ پر قربان ہوگئے مسلمانوں نے اس غزوہ
میں سرفروشی دور جاں بازی کا حق ادا کر دیا، اور راہ حق کی ہر آزمائش پر پورے اتر سکے، میں
مسلمانوں کا غلبہ
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے مرد نازل فرمائی اور اپنا وعدہ پورا فرمایا مشرکین
و کفار کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑی اوران کی عورتوں نے جو مردوں کو غیرت دلانے
آئی تھیں راہ فرار اختیار کی، وہ اپنے پائنچے اُٹھا اُٹھ کر بھاگتی نظر آرہی تھیں،
مسلمانوں کے خلاف جنگ کا پانسہ کیسے پلٹا؟
جب مشرکین شکست کھا کر بھاگنے لگے اور اب ان کی عورتوں کی بھی باری
له سیرت ابن ہشام ج ۲ مت (۲۰) یہ پورا واقعہ خود وحشی کی زبان سے صحیح بخاری میں نقل کیا گیا ہے دیکھئے
غزوہ احد باب قتل حمزة من الشرعنہ کے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۳ ۱۳ ایضا مت
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
آگئی تو نیز اندازوں نے یہ دیکھ کر اپنی پوزیشن چھوڑ دی اور شکر سے آملے، ان کو فتح کا پورا
یقین تھا وہاں پہونچ کر انھوں نے نعرہ لگایا، مال غنیمت ! مال غنیمت ! اس موقع پر
ان کے امیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعہدان کو یاد دلایا لیکن اس جوش میں کسی
نے ان کی بات نہ سنی، اور پورا یقین کرتے ہوئے کہ اب مشرکین کو واپس آنا نہیں ہے
یہ محاذ انھوں نے خالی کر دیا، اور مسلمانوں کی پشت پر گھوڑ سواروں کی فوج کا راستہ
کھل گیا، مشرکین کے پرچم کو جو لوگ سنبھالے ہوئے تھے مارے گئے، یہ مارے گئے پرچم کے قریب آنے کی
کوئی ہمت نہیں کر رہا تھا، اسی وقت مشرکین نے مجھے اگر آواز لگائی کہ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم شہید ہو گئے، یہ سن کر سلمانوں کا لشکر ا چانک پیچھے کی طرف مرما، اور کرین
کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور اس نازک موقع سے انھوں نے پورا فائدہ اٹھایا
یہ مسلمانوں کے لئے سخت آزمائیش و ابتلاء کا دن تھا، اس درمیان میں دشمن رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچ گئے ان میں عبداللہ بن قمیہ اور غلبہ بن ابی وقاص
شقاوت اور اس جسارت میں پیش پیش تھے، اس وقت ایک پتھر آپ کے لگا لیانا کے
آپ دائیں پہلو پر غارمیں گر گئے سامنے والا ایک انت زخمی ہوا سر مبارک میں زخم
آیا، اور لب مبارک خون آلود ہوگئے ہوں چہرہ انور پہ بہہ رہا تھا، آپ اس کو پو نچھتے
جاتے تھے اور فرماتے تھے، وہ قوم ر فرماتے تھے، وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے
کو خون سے ترکر ردیا، دیا، جوان کوان ان کے رب رب کی طرف بلاتا تھا تھا تھا؟ ہے
مسلمانوں کو خبر نہ تھی کہ آپ کس جگہ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو
سہارا دیا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے آپ کو اٹھایا، چنانچہ آپ کھڑے ہو گئے
کے زاد المعارج امته ۳ که سیرت ابن ہشام ج ۲ مشت
………………………………………………………………………………………………………………
مالک بن سنان نے اس مبارک ہو کو جس سے آپ کا روے اور ر ہو گیا تھا وہ محبت میں نوش کر دیا۔
در اصل قراره تنها یک جنگی حکم علی تھی جوہر فوج کو وخت ضرورت اختیار کرنی پڑتی
ہے پھر بھی کروہ دوبارہ حملہ آورہوتی ہے مسلمانوں کو اس موقع پر آزمائیش کی حس تلخی کا مزہ
چکھنا پڑا، اوران کو جو جانی نقصان ہوا اور متعد اجا صحابہ جو اسلام اور سلمانوں کے لئے
سر چشمہ قوت اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے حامی و پاسبان تھے شہید ہوئے
وہ سب دراصل ان تیر اندازوں کی نفریش اور چوک کا نتیجہ تھا کہ انہوں حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے اس صریح حکم اور ہدایت کی آخری لمحہ کی تعمیل نہ کیاور اپنی اس پوزیشن کو
چھوڑ دیا، جہاں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعینات فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَلَقَدْ صَدَ قَكُمُ اللهُ وَعْدَہ اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا لعنتی
اذْ تَحْتُونَهُمْ بِإِذنه ، حتی إذا اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے
فَلْتُمْ وَتَنَا عُتُهُ فِي الْآمر حکم سے قتل کرہے تھے یہاں تک کہ
وَعَصَيْتُهُ مِن بعدي الرا جو تم چاہتے تھے خدانے تم کو کھا دیا
ما تحبون منكم من يريد اس کے بعدتم نے بہت باروی او کیم
الدُّنْيَا وَمِنْكُم من يريد الآخر انجیر میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی
ثُمَّ صَرَ فَكُم عَنْهُم نافرمانی کی بین توتم ہی سے دنیا کے
لِيَبْتَلِيَكُم وَلَد خواستگار تھے جن آخرت کے طالب
عَفَا عَنكُمُهُ وَالله دو فصل اس وقت خدا نے تم کو ان کے مقابلہ
ے سیرت ابن ہشام ج ۲ منت
………………………………………………………………………………………………………………
۳۰۶
عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
سے پھرا کر بھگا دیا تاکہ تمہاری آزمایش
سوره آل عمران – ۱۵۲) کرے اور اس نے تمھارا قصور منا کر دیا اور
خدا مومنوں پر پڑا فضل کرنے والا ہے۔
محبت اور جاں نثاری کی نئی نظریں
حضرت ابو عبيدة بن الجراح نے خود کی ایک کڑی کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کالا تو
اسی کے ساتھ ان کا ایک دانت بھی گر پڑا، دوسری کڑی نکالی تو دو سادات بھی اس کے گڑا
ساتھ آگیا، ابو دجانہ ڈھال بن کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے تیران پر گرتے رہے لیکن
وہ اسی طرح آپ پر کھلے رہے یہاں تک کہ ان کی پیٹھ تیروں سے چھلنی ہوگئی سعد بن
ابی وقاص اسی جگہ کھڑے حضور کے دفاع میں دشمن پر تیر چلاتے رہے۔ آپ ایک ایک
تیران کو اپنے دست مبارک سے عنایت فرماتے اور ارشاد ہوتا ۔ ارم فداك ابی دائی
تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اسی طرح تیر چلاتے رہو ہے
فتادہ بن النعمان کی آنکھ پر ایسی ضرب آئی کہ آنکھ مل کر ان کے رضا پر آگئی
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے اسی جگہ کر دیا، وہ آنکھ ایسی اس دیا وہ آنے
اچھی ہوئی کہ اس کی بصارت پہلی آنکھ سے بھی تیز ہوگئی ہے کہ اس کی ۔
گروه
مشرکین آپ کی تلاش میں تھے لیکن تقدیر الہی کا فیصل کچھ اور تھا جب انھوں نے
آپ پر ہجوم کیا تو تقریبا دس آدمی آپ کے سامنے آگئے اور سب ایک ایک کر کے آپ پر
نے سیرت ابن ہشام ج ۲ منش ۸۲ نیز صحیح بخاری بسلسلہ غزوہ احد باب قول الله تعالی
اذْهَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنكُمُ ان تفشلا له سیرت ابن ہشام ج ۲ صلاح
………………………………………………………………………………………………………………
قربان ہو گئے، پھر حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے اپنا ہاتھ اتے کردیا اور تیروں کوروکنا شروع
کیا یہاں تک کہ ان کی سیبا انگلیاں زخموں سے لہو لہان ہو گئیں اور ہاتھ مفلوج ہو گیا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ایک چٹان پر چڑھنا چاہتے تھے لیکن زخموں کی وجہ سے
خاصا ضعف ہو گیا تھا اور پڑھنا دشوار ہو رہا تھا یہ دیکھ کر حضرت طلحہ آپ کے نیچے بیٹھ گئے اور
ان کا سہارا لے کر آپ اس چٹان پر تشریف آئے نماز کا وقت آیا تو آپ نے بیٹھ کرنماز پڑھی ہے
یہ وقت تھا جب لوگ شکست کھا کر منتشر ہونے لگے تھے لیکن انس بن النظر
وجود سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں نے اس دوت
بھی شکست تسلیم نہ کی اور آگے بڑھتے رہے، سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ ان کو راستہ میں ملے
اور پوچھا کہ کدھر کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے کے بعد مجھے جنت کی خوشبو احد پہاڑ کے اس طرف
صاف محسوس ہو رہی ہے، انس بن النضر مہاجرین وانصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے
گزیے اور دیکھ کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ کے بیٹے ہیں انھوں نے کہاکہ تم لوگ یہاں بیٹھے
کیا کر رہے ہوں انھوںنے کہا کہرسول اللہصلی اللہ علیہ سلم شہید ہو گئے، انس ابن النفرة
نے کہا پھر آپ کے بعد زندہ رہنے کا کیا فائدہ اٹھو اور جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے جان دی ہے اسی پر تم بھی جان دے دوا یہ کہ کر آگے بڑھے دشمن سے دوا دو
ہاتھ گئے اور جان دے دی ان کے بھتیجہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن
ہم نے ان کے جسم پر پشتر زخم شمار کئے، زخموں کی کثرت سے ان کو پہچانا نا ممکن ہو رہا م پر ستزدیم
تھا صرف ان کی بہن نے ان کی انگلی کے ایک پورے ان کو پہچانا جس پر چین کی نشانی تھی ہے۔
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص و زاد المعارج امت ۳۵ ۲ زاد المعادج انه ۱۳ اصل
روایت صحیحین میں ہے سے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۸۳
nunununununu
………………………………………………………………………………………………………………
زیاد بن السکن پانچ انصاریوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ عیہ سلم کی حفاظت
کرتے ہوئے لڑ رہے تھے، اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے یہاں تک کہ یہ
زخموں سے چور اور نڈھال ہوکر گر پڑے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ان کے
میرے قریب لے آؤ، لوگوں نے اٹھا کر ان کو آپ کے سامنے لٹا دیا، آپ نے ان کے
سر کو اپنے قدم مبارک پر رکھ لیا اور اس حالت میں ان کی جان نکلی کہ ان کے
رخسار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر تھے ہے
عمرو بن الجموع کے پاؤں میں شدید لنگ تھا، ان کے پھاڑ صاحبزادے تھے
سب جوان تھے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے ساتھ قربانی و سرفروشی کے موقع پر
حاضر بھی رہتے تھے، جب آپ غزوۂ احد کے لئے روانہ ہوئے تو عمرو بن الجموح نے بھی
چلنے کا ارادہ کر لیا ان کے بیٹں نے کہا کہ اللہ تعالی نے آپ کے لئے رخصت رکھی ہے اگر
آپ تشریف رکھیں تو اچھا ہے ہم لوگ آپ کی طرف سے کافی ہیں آپ پر جہاد فرض نہیں ہے۔
عمر و بن ن الجموع رسل الل صل اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
میرے بیٹے مجھے جہاد میں شرکت سے بادمیں شرکت سے روک رہے ہیں، اور خدا کی قسم میری آرزو ہے کہ روک
میں بھی شہادت پاؤں اور جنت میں اسی طرح لنگڑاتا ہوا چلوں رسول اللہ صلی اللہ
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ما، اس موقع پر مولانا شبلی نے سیرت النبی میں فارسی کا، اور قاضی
محمد سلیمان صاحب نے صور پوری نے رحمۃ للعالمین میں اردو کا ایک ایک ایسا منتخب شعر لکھا ہے جس نے
واقعہ کی تصویر کھینچ دی ہے اور جس سے ہر شر کا انتخاب شکل ہے یہ دونوں شعر علی الہ
علی الترتیب یہ ہیں
بچه ناز رفته باشد ر جہاں نیاز مندی کہ بوقت جان سپردن پسرش ریز باشی
سر وقت ذبیح اپنا اسکے زیر پائے ہے نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
………………………………………………………………………………………………………………
علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ الہ نے جہاد سے تھیں معافی دے دی ہے اور ان کے بیٹوں
سے ارشاد فرمایا کہ کیا حرج ہے کہ تم ان کو جہاد میں جانے دو وہ اپنا ارمان نکال کے
لیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے
اور شہادت کی آرزو و نمنا پوری ہوئے ہے۔
زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے مجھے سعد بن الربیعہ کی تلاش میں بھیجا اور فرمایا کہ گروہ نظر آجائیں تو
میرا سلام کہنا اور کہنا کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہے کہ اشت
تمھیں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ کہتے ہیں کہ مقتولین کے درمیان میں ان کو تلاش
کرتا پھر رہا تھا کہ ایک جگہ وہ مجھے نظر آئے، میں قریب گیا دیکھا تو آخری وقت تھا
ان کے جسم پر یرہ تلوار اور تیر کے نشتر زخم تھے، میں نے کہا سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ
سلم نے تمھیں سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے بتاؤ اس وقت تمھاری کیا کیفیت ہے
انھوں نے جواب دیا کہ رسول للہ صلی للہ علیہ سلم سے سلام عرض کرنا اور کہنا کیابول انا
صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس قت جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے اور میری قوم انصار
ے یہ کہا کہ اگر شم رسول للہصلی للہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے اور تھاے میں دم رہا
تو اللہ تعالی کے لئے تمھارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا، یہ کہتے ہی ان کی روح پرواز کرگئی۔
عبد اللہ بن بحش نے غزوہ احد کے سلسہ میںکہا اے اللہ سے تیری قسم کہیں کل
دشمن کا مقابلہ کروں وہ مجھے قتل کر دیں پھر میرا پیٹ چاک کر دیں اور میرے ناک کان
کاٹ ڈالیں پھر تو مجھ سے پوچھے کہ یہ سب کس کے لئے تھا؟ میں جواب دوں تیرے لئے۔
له زاد المعارج ا ص ۳۵ ۲ه ايضا له ايضا
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۰
مسلمانوں کا دوبارہ جماؤ
جب مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو ان کو نئی زندگی کی
اور وہ ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے آپ ان کو لے کر دوبارہ وادی کی طرف بڑھے راستہ
میں ابی بن خلف نے آپ کو دیکھا اور دیکھتے ہی کہنے لگا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر
تم سلامت رہے تو میری خیر نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کو جانے دو
لیکن جب وہ آپ سے بالکل قریب آ گیا تو آپ نے ایک صحابی سے نیزہ لے کر اس کی
گردن میں ما را نیزہ لگتے ہی اس نے گھوڑے سے گرکر کئی قلابازیاں کھائیں اس موقع
پر حضرت لی کرم اللہ وہ اپنے ڈھا میں پانی بھر کر لائے اور روٹ اور پورج چون تھا،
اس کو دھویا، صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کو دھوتی تھیں، اور
حضرت علی کرم اللہ وہ دھا میں پانی لے کر ڈالتے تھے جب حضرت فاطمہ نے
دیکھا کہ پانی سے خون کسی طرح بند نہیں ہو رہا ہے بلکہ اور زیادہ بنے گا تو انھوں نے
پٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے بھلایا، اور اس کی راکھ زخم پر باندھ دی، اس سے
یہ خون اسی وقت تھم گیا ہے۔
حضرت عائشہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اس غزوہ میں مشکیزے اپنی کم پہ لا کر
مجروحین کو پانی پلائیں جب شکیزے خالی ہو جاتے تو واپس جا کر انھیں دوبارہ اور
اے سیرت ابن ہشام ج ۲ م سے صحیح بخاری غزوہ احد باب ما اصاب النبي من الجرح
يوم احد وصحیح مسلم باب غرفة احد معمولی اختلاف کے ساتھ، نیز ابن ہشام ج ۲ ص
وزاد المعارج ۱ص ۳۵۲
………………………………………………………………………………………………………………
سہ بارہ بھرتی رہیں، اور ان لوگوں کی پیاس بجھائیں کہ ام سلیم ان کے مشکیزوں میں
پانی بھر کر ان کے حوالے کرتی تھیں۔
ہند بنت عتبہ نے کچھ اور عورتوں کے ساتھ مسلح مقتولین کی لاشوں کی
بے حرمتی اور ان کا مثلہ کرنا، اور کان ناک کاٹنا شروع کئے وہ حضرت حمزہ رضی الله
عنہ کا جگر کال کر اسے چھانے لگی لیکن وہ اس کے گلے سے اتر نہ سکا اور اسنے اسے فورا الل دیا۔
جب ابوسفیان واپس ہونے لگے تو پہاڑ پر کھڑے ہو کر بہت بلند آواز سے
انھوتی نعرہ لگایا جنگ کا معاملہ ڈانواں ڈول ہے، آج اس کی فتح کل اس کی نہیں
کا نام اونچا رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا مر کھڑے ہو کر اس کا جواب
اور کہو کہ اللہ بہت بلند و بالا ہے اس کے سوا کوئی نہیں، ہمارے مقتولین جنت میں
ہیں اور تمھارے مقتولین دوزخ میں ہیں یہ سن کر ابوسفیان بولے ” لنا العربى ولا
عربی لکھ (ہمارے پاس عربی (ثبت) ہے تمھارے پاس نہیں)۔ رسول اللہ صل الله
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کا جواب دو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کیا ہیں؟ آپ
فرمایا کہو کہ اللہ مولانا ولا مولی لکم اللہ ہمارا سر پرست ہے تمھارا کوئی
سر پرست نہیں شام جب وہ اپنی طرف چلے اور مسلمان اپنی طرف روانہ ہونے لگے تو
انھوں نے پھر آواز لگائی آئندہ سال بدر میں پھر ہمارا تمھارا مقابلہ ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ ہاں یہ تاریخ ہمارے تمھارے درمیان طے ہے۔
له صحیح بخاری غزوہ احد باب اذْهَمتُ طَائِفَتَانِ مِنكُمُ أَن تَقتلا، وسلم باب غزوه
النساء مع الرجال ، صحیح بخاری باب ام سلیط و ۳ سیرت ابن ہشام ج ۲ ماه
سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۵ صحیح بخاری باب غزوه احمد نے سیرت ابن ہشام ج ۲
نے
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۲
لوگوں کو اپنے اپنے مقتولین کائم تھا اور وہ ان کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے ۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ کی شہادت کا بڑا اثر تھا جو آپ کے
چچا اور رضاعی بھائی تھے اور ہمیشہ آپ کے لئے سینہ سپر رہے۔
ایک مومنہ کا صبر
صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا جو ان کی حقیقی بہن تھیں ان کو دیکھنے
آئیں تو آپ نے ان کے صاحبزادے زبیر بن العوام سے فرابا کران سے مل کر ان کو
واپس لوٹا دو، ان کے بھائی کی نعش کیجو بے حرمتی کی گئی ہے، اس پہ ان کی نظر
نہ پڑے انھوں نے چار کہا کہ اماں رسول اله صلی الہ علیہ وسلم کاحکم ہے کہ آپ
واپس جائیں کہنے لگیں کیوں ؟ مجھے معلوم ہے کہ میرے بھائی کا مثلہ کیا گیا ہے لیکن
یہ سب اللہ کی راہ میں ہے اس لئے میں انشاء اللہ اجر و ثواب کی نیت رکھوں گی
اور پورے صبر سے کام لوں گی اس کے بعد وہ وہاں آئیں اپنے بھائی کو دیکھا اللہ پڑھا،
ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور خوب دعائیں دیں، اس کے بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ
وسلم نے ان کی تدفین کا حکم فرمایا، اور وہ احد کی ہی شہادت گاہ میں آسودہ خاک ہوئے ہے۔
مصعب بن عمیر اور دیگر شہدائے احد کس طرح دفن کئے گئے؟
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمکے پرچم بردار صعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام
سے پہلے قریش کے بہت ناز پروردہ نوجوان تھے اور اپنے تحمل اور خوش پوشا کی ہیں
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۹
………………………………………………………………………………………………………………
ضرب المثل تھے ان کو ایک چادر کفن میں مل سکی جو اتنی چھوٹی تھی کہ جب سر چھپایا جاتا
تو پاؤں کھل جاتے پر چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا، رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم نے فرمایا
ان کا سر چھپا دو اور پیروں پر اخر گھاس ڈال دو۔
رسول الله صل اللہ علیہ وسلم کو دو شہیدوں کو ایک چادر میں کفن دینے کا حکم
دیتے پھر فرماتے کہ قرآن بید کے علم و حفظ میں کس کا حصہ زیادہ ہے یہ کس کی طرف اشارہ
کیا جاتا، آپ پہلے اس کو محدمیں اتارنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ میں قیامت کے
روزان کا گواہ ہوں گا، آپ نے ان کو اسی طرح زخمی حالت میں دفن کرنے کا
حکم دیا، بلاش ان کی نماز جنازہ ہوئی نہ غسل دیا گیا۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر صحابیات کی جاں نثاری
مسلمان مدینے پہونچے تو راستہ میں بنی دینار کی ایک خاتون کے مکان پر
لے صحیح بخاری غزوۂ احد سے صحیح بخاری باب من قتل من المسلمين يوم احد – ۳ شہداء کو عسل
نہ دینے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ان کو خون میں لتھڑا ہوا اسی طرح دفن کر دیا جاتا ہے کہ خدا کے
حضور میں اسی طرح پہونچیں البتہ نماز جنازہ کے بارے میں اللہ کا خلاف ہے امام مالک شافعی اور احمد کیان نامی
تھی کا ہے امام ابوحنیفہ کا اور حض دوسرے علماء اعلام اوزاعی، سفیان ثوری اور اسحاق ابن راهوی
اس کے قائل ہیں کہ نماز پڑھی جائے امام احمد سے بھی اس کی ایک وایت ہے ان کی دیل بعض وہ روایات
ہیں جن میں احدمیں شہداء پر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے خود عقبہ بن عامر سے امام بخاری وغیرہ نے روایت
کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن احد تشریف لے گئے اور آپ نے وہاں کے شہیدوں پر ایسی
نماز جنازہ پڑھی جیسے مرنے والے پر پڑھی جاتی ہے ( بخاری کتاب الجنائی، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو شرح
معانی الآثار، طحاوی، باب الصلواة على الشهداء ونصب الرايه للزيلعي باب احاديث الصلوة على
الشهيد .
………………………………………………………………………………………………………………
ان کا گذر ہوا جس کے شوہر بھائی، اور باپ سب اس جنگ میں کام آگئے تھے جب مسلمانوں نے
ان کو یہ خبر سنائی تو انھوں نے س سے پہلے کہا کہ سول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خیریت تا ہے؟
ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے ام فلاں ! الحمد للہ حضور جیسا کہ تمھاری آرزو
ہے صحیح سلامت نہیں کہنے لگیں کہ مجھے آپ کو دکھاؤ میں آپ کو خود دیکھنا چاہتی
ہوں لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا، انھوں نے پاس آکر چہرہ مبارک کو دیکھا
اور کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سلامت ہیں تو ہر مصیبت پہنچ ہے۔
جاں نثاری اور فرماں برداری کی ایک مثال
ادھر دشمنان دین اور کفار مشرکین نے ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرنی
شروع کی اور کہنے لگے تم نے کچھ کرکے نہیں دیا تم نے ایک طرف تو ان کی قوت
اور شوکت کو مجروح کیا، اور ان کا زور توڑا، پھر ان کی پوری سرکوبی کئے بغیر ان کو
چھوڑ دیا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دشمنوں کا تعاقب
کیا جائے یہ وہ وقت تھا جب مسلمان زخموں سے چور چور ہو رہے تھے، دوسرے
دن یکشنبہ کو صبح کے وقت آپ کے منادی نے اعلان کیا کہ لوگ دشمن کے تعاقب
کے لئے نکل کھڑے ہوں ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اس تعاقب میں وہی
شریک ہو سکتا ہے جو کل اس جنگ میں شریک تھا، حالت یہ تھی کہ کوئی ایک
مسلمان بھی ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی زخم اور تکلیف میں مبتلا نہ ہو، لیکن وہ سو کے
سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگئے، ایک شخص بھی ان میں سے
له سیرت ابن ہشام ج ۹۹۲
21
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۵
مجھے نہ رہا جب سب لوگ مدینہ سے آٹھ میل کی ساخت پر تقام حمراء الاسترتک
پہنچ گئے تورسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ہاں قیام کیا آپ اور تمام مسلمان دوشنبہ
رشته چهار شنبه تین روز وہاں مقیم رہے اس کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے ہے
اللہ تعالیٰ نے اس جذبۂ اطاعت اور خوئے تسلی و وفا کا ذکراپنی افغانی
کتاب میں اس طرح فرمایا ہے :۔
الَّذِينَ اسْتَجاب الله والرسم جنھوں نے باوجود زخم کھانے کے
مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الفرح خدا اور رسول کے حکم کو قبول کیا
لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنهُم وانتوا جو لوگ ان میں نیکو کار اور
أَجْرٌ عَظِيمُ الَّذِينَ قَالَ ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے (جب)
لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ
قَدْ جَمَعُو الكُمْ فَاخْشَوهُم کفار نے تمھارے (مقابلہ کے لئے
فَزَادَهُمُ ايْمَانات وقَالُوا (شکر کثیر جمع کیا ہے تو ان سے
حَسبُنَا اللهُ وَنِعم الوکیل ڈرو توان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا
فَانقَلَبُوا بنعمة من الله اور کہنے لگے ہم کو خا کافی ہے اور
وَفَضْلٍ لَّمْ يَيْسَر سوں وہ اچھا کارساز ہے، اور پھر وہ خدا
واتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل کے
وَاللهُ ذُو فَضْلٍ عَظِیم ساتھ خوش و خرم واپس آئے
انماء الكُمُ الشَّيطان يخون ان کو کسی طرح کا ضرورنہ پہونچا
اه سیرت این کثیر جلد ۹۴ ۳ مه
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۶
أوْلِيَاءَ ، فَلَا تَخَافُهُمْ اور وہ خدا کے خوشنودی کے تابع
وَخَافُونِ إِن كُنتُم مومنین رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
(سوره آل عمران – ۱۷۲-۱۷۵) یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان
جان سے زیادہ عزیز
ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے تو
اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا
اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا۔
ہجرت کے تیسرے سال قبیلہ عقل اور قبیلہ قارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے درخواست کی کہ کچھ ایسے لوگ ان کو دیئے جائیں، جو ان کو دین کی تعلیم سیکھ ہیں
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں سے کچھ حضرات کا ایک قداس کام کے لئے
بھیجا جس میں عاصم بن ثابت، خبیب بن عدی اور زید بن الدثنہ بھی تھے جب
وہ مقام رجیع میں پہونچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان واقع ہے تو ان قبائل نے
ان کے ساتھ غداری کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم اللہ کے سامے عہد کرتے ہیں کہ ہم کسی
جان سے نہ ماریں گے۔ کچھ سلمانوں نے کہاکہ ہم مشرک کے کسی عہد کو قبول نہیں کرتے،
انھوں نے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے زید بن الدشتہ حبیب بن عدی اور عبد اللرین
طارق نے ہتھیار رکھ دیئے اور ان کو گرفتار کر لیا گیا عبداللہ بن طارق خراستہ میں شہید
کئے گئے خبیب اور زید بن الدثنہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔
یب کو جرید اران یا ان کے ایین الا
………………………………………………………………………………………………………………
صفوان بن امیہ نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے بادل کے لئے خریدا زید رضی اللہعنہ کو
حرم سے باہر قتل کے لئے لے جایا گیا تو اس قت قریش کے بہت سے لوگ جمع تھے، جن میں
ابوسفیان بھی تھے انھوں حضرت زید سے کہا یہیں سے ہم دلاکر پوچھتاہوں یا کہ پند
کرو گے کرم آرام سے اپنے گھر والوںمیں ہو اور تھری یا محمد صلی الہ علیہ وسلم ہوں انھوں
ے جواب کیا مجھے تو بھی گوارانہیں کہیں اپنے گھر آرام سے ہوں اور م صلی اللہ علیہ ہم
کو ایک کانٹا بھی چھے ! ابوسفیان نے اس پر کہ کہیں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے
نہیں دیکھا جتنی محبت محمد صلی اللہ علیہ سلم کے ساتھی کرتے ہیں اس کے بعد ان کو
شہید کر دیا گیا ہے۔
جب یہ لوگ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی دینے کے لئے لائے تو انھوں نے
کہا کہ اگر اس میں کوئی حرج ہ سمجھو تو مجھے دورکعت پڑھ لینے کی اجازت دے دو
انھوں نے کہا ہاں پڑھ لو انھوں نے دو رکعت اطمینان اور پورے آداب کے ساتھ
پڑھیں پھر انکی طرف توجہ ہوکر کہا اور جب یہ خیال ہوا کرتے اور اس کو ر پر
محمول کروگے تومیں ابھی اور نماز پڑھتا اس کے بعد انھوں نے یہ اشعار پڑھے :-
فلست أبالى حين أقتل مسلماً على أي شيق كان في الله مصرفی
(جب میں اسلام کے لئے قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھ کو اس کی پرواہ نہیں کہ
اللہ کی راہ میں کس پہلو پر گر کر جان دوں گا۔)
وذالك في ذات الاله وان يشاء يبارك على أوصال شلو ممرع
یہ جوکچھ ہے خابات کے لئےہے اگر چاہے گا نا پارہ پارہیم پر نازل کریگان
له روایت این اسحاق این هشام ج ۲ ص ۱۷۳
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۸
يه شوقیہ اشعار پڑھتے ہوئے راہ حق میں شہید ہوئے ہے
بئر معونه
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن مالک کی درخواست پر ان میں اسلام کی تبلیغ
و دعوت کے لئے ایک جماعت بھیجی جن میں سر بہترین و جدید مسلمان شامل تھے یہ لوگ والانہ
ہوئے اور سیر معونہ میں قیام کیا یہاں بنی سلیم کے قبائل خصیہ ، رغل اور ذکوان نے
کر پولے قافلہ کو گھر لیا جب انھوں نے یہ دیکھ تو تلواریں پہنچے ہیں اور لڑاکر کے
سب شہید ہو گئے، صرف کعب بن زید باقی بچے جنوں غزوہ خندق میں شہادت پائی ہے
ایک مقتول کے آخری الفاظ جو قاتل کے قبول اسلام کا سبب بن گئے
اسی مرتبہ میں حرام بن ملحان بھی شہید ہوئے ان کو جارین علمی نے قتل کیا احرام بن
لمحان نے انتقال کے وقت جو الفاظ کہے وہی ان کے اسلام لانے کا سب بن گئے اجتبار خود
یان کرتے ہیںکہ مجھ حزینہ نے اسلام کی طرف بھیجا وہ یہ واقعہ ہے کہ میں نے ان کی دادی کے
دونوں شانوں کے درمیان ایک نیزہ مار میں نے دیکھا کہ وہ سینہ کے پار ہو گیا ہے اسی وقت
ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے فزت ورب الكعبة، رب کعبہ کی قسم میں کامیاب
ہو گیا۔ میں نے اپنے دل میں خیر سے کہا کیسی کامیابی ؟ کیا میںنے ان کو قتل نہیں کیا !
بعد میں میں نے ان کے الفاظ کی تحقیق کی تو لوگوں نے بتایا کہ ان کا مطلب شہادت تھا،
لے تفصیل کے لئے دیکھئے سیرت ابن ہشام ج ۱۲-۱۶ صحیح بخاری کتاب المغازی، باب التوحيد
والجہاد معمولی اختلالات کے ساتھ، نیز ابن کثیر ج ۲ ۱۲۳۰-۱۲۵ ۳ بخاری و سلم و سیرت ابن ہشام .
………………………………………………………………………………………………………………
۳۱۹
میں نے کہا خداکی قسم وہ کامیاب رہے اس طرح یہ جملہ ان کے اسلام کا سب بنا۔
بنی النضیر کی جلا وطنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم علی النضیر کے پاس تشریف لے گئے جو یہود کا
بہت بڑا قبیلہ تھا، وہاں جا کر آپ نے ان سے بنی عامر کے دو مقتولین کی دیت میں مڈ
چاہی ان کے اور بنی عامر کے درمیان عہد معاہدہ تھا، انہوں اس موقعہ پرتو آپ سے بہت
میٹھی باتیں کیں اور اچھی امیدیں لائی لیکن در پردہ آپ کے خلاف سازش میں مشغول رہے ،
ایک مرتبہ رسول الہ صل اللہ علیہ وسلم انکے ایک گھر کی دیوار کے نیچے تشریف فرما تھے،
یہ دیکھ کر یہ لوگ آپ ہی کہنے گے کہ اس سے اچھی پوزیشن پرنم کو ہاتھ نہ آئے گی
اگر ایک آدمی اوپر چڑھ کر ایک بھاری پتھر لڑھکا دے تو ہم سب کی جان چھوٹ جائے گی۔
آپ کے ساتھ اس موقع پر کئی حضرات صحابہ موجود تھے جن میں حضرت ابو بکر صدیق حضرت
عمرہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی تھے۔
اللہ تعالی نے رسول للہصلی الہ علیہ وسلم کان کے ناپاک را د سے آگاہ فرما دیا
آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ روانہ ہوگئے یہاں آکر آپ نے ان سے جنگ کی
تیاری شروع کی اور ان کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے اور آگے بڑھ کر ان کے قبلے میں راؤ
کیا یہ ماہ ربیع الاول شدہ کا واقعہ ہے آپ نے چھ راتوں تک ان کا محاصرہ کیا ان کے
دلوں میں اللہ تعالی نے انتشار عب الا کہ انھوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ الا رسول صلی علیہ سلم سے خود
درخواست کی کہ آپ ان کو یہاں سے جلا وطن کر دیں لیکن ان کو جان کی امان دے ہیں
ے اس واقعہ کو بخاری میں باب غزوة الرجیع (کتاب المغازی میں بیان کیا گیا ہے ابن ہشام ج ۲ ۱
………………………………………………………………………………………………………………
۳۲۰
اونٹ جتنا لے جاسکیں اس کے جانے کی ان کو اجازت ہوگی البتہ ہتھیار و عقل نہ کریں گے
آپ نے ان کی یہ درخواست قبل فرالی اور سارا سالن اپنے ساتھ لے گئے جوانوں پر جاسکتا تھا؟ لے
پر نظر رکھا یا کہ ایک دم انا پور اور اگر خداپنے ہاتھ سے گر رہا ہے اور جتنا سامان لادنا
ممکن ہے اونٹ پر لا کر روانہ ہو رہا ہے، اس غزوہ کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :۔
هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو
من أهل الكتب مِن دِيَارِهِم حشر اول کے وقت ان گھروں سے
لأوَّلِ الْحَيرُه مَا ظننتم آن نکال دیا تھا سے خیال میں بھی نہ تھاکہ
يَخْرُجُوا وَظَنُّوا نه رمانه مر وہ نکل جائیں گے اوروہ لوگ یہ مجھے کو
حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ تھے کہ ان کے قلعے ان کو خدا کے عذا)
اللهُ مِنْ حَيْثُ لم يتبوا سے بچا لیں گے گر خدا نے ان کو وہاں سے
فقدت في قلوبهم الرعب آیا جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا
يُخْرِبُونَ بيوتهم باید بہم اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی
وَأَيْدِي الْمُؤمنين فاعتبروا کر اپنے گھروں و خود اپنے ہاتھوں اور
يا ولِي الْأَبْصَارِه
(سوره حشر (۲)
مومنوں کے ہاتھ سے اجاڑ نے لگے تو
اے بشیر کی آنکھیں رکھنے والوبرت کیو
ان میں سے کچھ لوگ خیبر می چا ہیے کچھ لوگ شام چلے گئے اور سلمانوں کو مکرو فریب
سازش اور منافقت کے ایک بہت بڑے اڈہ سے نجات ملی اور قتال کی ضرورت
بھی پیش نہیں آئی وکفی الله الْمُؤْمِنِينَ القِتَالَ ان کی جلا وطنی کے بعد
ے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۱-۱۹۱
………………………………………………………………………………………………………………
۳۲۱
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان کا سب مال و دولت حاجرین میں تقسیم فرمادیا۔
غزوة ذات الرقاع
چو تھے سال رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے نجد کے علاقہ کی طرف بغرض جہاد رخ
فرمایا، آپ کا مقصد بنی محارب اور بنی تعلمہ (قبیلہ غطفان) کو سبق دینا تھا، آپ
روانہ ہوکر مقام محل میں اترے۔ ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم کچھ اشخاس
کے درمیان ایک ہی اونٹ تھا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ پیدل چلنے کی وجہ سے لوگوں کے
پیچھلنی ہو گئے، اور انگلیوں کے ناخن تک گر گئے، اور اس تکلیف سے بچنے کے لئے
لوگوں نے اپنے پیروں پر پٹیاں اور چیتھڑے باندھ لئے، اور اسی لئے اس غزوہ
کا نام غزوہ ذات الرقاع، یعنی پیٹیوں والا غزوہ پڑ گیا ۔
فریقین ایک دوسرے سے قریب ہوئے لیکن جنگ کی نوبت نہ آئی لوگ
ایک دوسرے سے خائف تھے، اس موقع پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صلاة
خوف بھی ادا فرمائی۔
اس وقت تمھیں کون بچا سکتا ہے؟
جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے واپس ہوئے تو دوپہر کو اپنے
لے نجد میں غطفان کے علاقہ میں ایک مقام کا نام ہے۔ صحیح بخاری بروایت حضرت ابوموسیٰ الاشعری
رضی اللہ عنہ باب غزوہ ذات الرقاع امام بخاری نے تصریح کی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع خیبر کے بعد
پیش آیا۔ بقیہ میت ابو موسیٰ اشعری کا بیان ہے سے سیرت ابن ہشام ج ۲۰۲۰۰
………………………………………………………………………………………………………………
۳۲۲
ایسی جگہ آرام فرمایا جہاں ہول کے بہت سے درخت تھے، اور لوگ ان درختوں کی صورت
چلے گئے اور خود بدولت رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم ہول کے ایک پیڑ کے نیچے
آرام فرمانے لگے اور اپنی تلوار اسی درخت پر لٹکادی۔
حضرت جابر رضی اللہعنہ بیان کرتے ہیںکہ اسی در بیان میں ہماری آنکھ لگ گئی
اور ہم تھوڑا سوئے تھے کہ محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں آواز دے رہے
ہیں ہم نے دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے آپ نے فرمایا کہ میں سو سو رہا رہا
تھا کہ اس نے یہ تلوار اٹھائی میری آنکھ کھلی تو یہ تلوار میرے سر پر کھینچے ہوئے تھا۔ اس کہ نے
اس نے مجھ سے کہا کہ اس وقت تمھیں کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا ، اللہ لو یہ بیٹھا
ہوا ہے لیکن رسول اله صل اللہ علیہ سلم نے اس کوکوئی سزا نہیں دی ہے
کچھ غزوات جن میں قتال کی نوبت نہیں آئی
ہجرت کے چوتھے سال شعبان کے مہینہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے بدر کا
قصد فرمایا، ابوسفیان نے تاریخ طے کی تھی، آپ نے وہاں پہونچ کر منزل کی اور آٹھ راتیں
وہاں قیام فرمایا اور ابوسفیان کے انتظارمیں رہے ابوسفیان بھی مقابلہ کے لئے نکلے لیکن
واپسی میں اُن کو زیادہ عافیت معلوم ہوئی انھوں نے اپنے آدمیوں ہی اپنے کہاکہ اور کہ یہ قحط اور
خشک سالی کا زمانہ ہے میرا کی ٹنے کا ارادہ ہے اور لوگوں کو بھی لوٹ چلنا چاہئے غرض
اس طرح لڑنے کی نوبت نہ آسکی اور اللہ تعالے نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
دومتہ الجندل کے غزوہ میں بھی جنگ کی ضرورت پیش نہ آئی اور آپ مدینہ تشر عند لائے۔
له صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع ۵۲ سیرت ابن ہشام ج ۱ ۲۰۹ – ۲۱۳