Ghazwah Bani Qurayzah

۳۳۷

غزوه بنی قریظہ

بنی قریظہ کی عہد شکنی

شته)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین

اور انصار کے درمیان ایک ایسا عہد نامہ تحریر کرایا جس میں یہود کو امان دی گئی تھی

اور ان سے معاہدہ کیا گیا تھا، جس میں ان کے مذہب اور مال و املاک کی حفاظت

کی ذمہ داری کی کی تھی کچھ نہیں ان کے نہیں لگائی گئ تھیں اور چھ شرطیں ان کے

عائد کی گئی تھیں اس عہد نامہ کی خاص خاص باتیں یہ تھیں ۔

یہود میں سے جو ہمارا ساتھ دے گا اس کے ساتھ تعاون اور مساوات کا معاملہ

کیا جائے گا، نہ ان پر ظلم کیا جائے گا، اور نہ ان کے خلاف مادی جائے گی، دینیہ کا کوئی

مشرک قریش کے جان و مال کو امان اور پناہ دے گا، اور نہ کسی مومن کے مقابلہ میں اس

کے لئے سینہ سپر ہوگا یہود لڑائی میں جب تک شریک رہیں گے مسلمانوں کی طرح اس کے

اخراجات بھی برداشت کریں گے یہود کے قبائل مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم کی طرح

رہیں گے یہودیوں کو اپنے مذہب کی آزادی رہے گی مسلمانوں کو اپنے مذہب کی

لے اس ماہ میں قبائل ہو کے نام یہ دیے گئے ہیں اینی کو اپنی ساعدہ اپنی جنم بنی الاوس اورپنی تعلیہ

………………………………………………………………………………………………………………

وہ اپنے ماتحتوں غلاموں اور اپنے معاملہ میں پوری طرح با اختیار ہوں گے۔

اس میں یہ بھی تھا کہ اس عہد نامہ اور تحریری معاہدہ کی رو سے جنگ میں ایک دوسرے

کی مدد کرنا ان پر لازم ہوگا، جائز امور اور اطاعت الہی کے حدود کے اندر خیر خواہی

خلوص اور اصلاح کا رویہ رکھنا ہوگا، یثرب پر حملہ ہوا تو وہ مشترکہ طور پر اس کا مقابلہ

کریں گے ہے لیکن بنی النضیر کے سردار حیی بن اخطب یہودی نے بنی قریظہ کو سلمانوں سے

عہد شکنی اور قریش سے اتحاد دوستی پر آمادہ کرلیا، حالانکہ ان کے سردار کعب بن اسد القرظی

نے کہا تھا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سچائی اور وفاداری کے سوا کوئی اڑ

چیز نہیں دیکھی بہر حال کعب بن اسد نے اپنا عہد توڑ دیا، اور اس کے اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو کچھ طے پایا تھا، اسے اپنے کو بری کرلیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس عہد شکنی کی اطلاع ملی تو

آپ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو جو اوس کے سردار تھے، اور اوس بنو قریظہ کے

حلیف تھے اور فریج کے اسرار سعد بن عبادہ کو انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ اس خبر کی

تحقیق کے لئے روانہ کیا، وہاں انھوں جا کر نہ لگایا تو بتانا تھا اسے بدتر حالت پائی

ان لوگونے رسول اله صلی الہ علیہ وسلمکے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے اور تلخ ہیں

کہنے لگے کیسا الہ کا رسول ہالے اور محمد صل اللہ علہ سلم کے درمیان کوئی عہد ماہ ہی ہے۔

انھوںنے جن کی باقاعده بیماری بھی شروع کردی اور سلمان کے پٹھ مجھے پھراگھونپنا چاہیے

 لیے سیرت ابن ہشام جا امان ۵۰۴۰ ۵۲ سیرت ابن ہشام ج ۲ ۱ ۲ ۲۳۳ ۵۳ مونٹگمری واٹ کی

کتاب CAMBRIDGE HISTORY OF ISLAM میں ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک بڑا قبیلہ باقی رہ گیا تھا ۔

یہ بنی قریظہ کا قبیلہ تھا جب مشرکوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تھا تو اس وقت مسلمانوں (باقی ۳۳۵ پر)

amunununununununununur

………………………………………………………………………………………………………………

٣٣٩

یہ نوعیت کھلے ہوئے حملے اور دوید و میدان جنگ سے کہیں زیادہ سخت اور خطر ناک تھی

اس صورت حال کی تصویر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں اس طرح پیش کی گئی ہے ؟

إِذْ جَاءُوا مِن فَوقكم ومن جب وہ تمھارے اوپر اور نیچے کی

اسْفَلَ منكُم (سورہ احزاب (۱) طرف تم پر چڑھ آئے۔

مسلمانوں کے لئے یہ بہت سخت حادثہ تھا اور اس کو قدرتی طور پر بہت محسوس

کیا گیا، اس کا اندازہ ہمیں اس سے ہو سکتا ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی جو ان سے

زیادہ سے زیادہ قریب اور مصیبت میں مددگار و نم گسار رہ چکے تھے، غزوہ خندق کے

موقع پر جب ایک تیر ان کے شانہ پر لگا اور اس سے وہاں کی ایک نازک دراہم رگ

کٹ گئی اور ان کو اپنی موت کا یقین ہوگیا تو یہ جملہ کہاکہ اے اللہ مجھے اس قت تک

موت نہ دے جب تک میری آنکھیں بنی قریظہ کی تباہی دیکھ کرٹھنڈی نہ ہو جائیں ہی

بنی قریظہ کی طرف پیش قدمی

جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور سلمان غزوہ خندق سے واپس ہوئے

اور مدینہ پہونچ کر سب مسلمانوں نے اپنے ہتھیار رکھ دیئے تو حضرت جبرئیل تشریف

(باقی اس کام کے ساتھ خصوصی و دوستی کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ در پردہ

مشرکین سے مل چکا تھا اور پشت سے وار کرنے کے لئے اولین موقع کے انتظار میں تھا۔ ج اصل ۔

لے حضرت سود کو ایک قریشی کا تیر لگا تھا بنی قریظہ کے کسی آدمی کے ہاتھ سے انھوں ختم نہیں کھایا تھا

صحیح بخاری میں اس کا نام ابن الفرقہ قریشی بتایا گیا ہے، اس لئے یہ بھنا صحیح نہیں ہے کہ اس تیر کی

وجہ سے حضرت سید کو بنی قریظہ پر غصہ تھا۔ اور اسی بنا پر انھوں نے یہ سخت فیصلہ کیا۔

………………………………………………………………………………………………………………

لائے اور کہاکہ یا رسول الٹرہا کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اس پر

حضرت جبرئیل نے کہا کہ فرشتوں نے ابھی اپنے ہتھیار نہیں رکھے اللہ عز و جل نے

آپ کو یہ حکم دیا ہےکہ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں میں بھی وہیں کا ارادہ کر رہا ہوں

کہ ان میں تزلزل پیدا کر دوں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے ایک منادی کرنے والے کو

طلب فرمایا اور حکم دیا کہ وہ لوں میں جاکر اعلان عام کرے کہ ہر اس شخص کو جو سنتے

اور مانے والا ہے یہ چاہئے کہ نماز عصر بنی قریظہ میں پڑھی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قریظہ میں پہونچ کر ان کا محاصرہ کر لیا

جس کا سلسلہ بجلی شب و روز جاری رہا، یہاں تک کہ وہ اس محاصرہ سے تنگ

آگئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔

ابولبابہ کی ندامت اور توبہ کی قبولیت

اس درمیان میں بنی قریہ نے سول اللہصلی اللہ علیہ سلم کو یہ پیام بھیجاکہ آپ

ہمارے پاس بنی عمرو بن عون کو بھیج دیجئے یہ لوگ اس کے حلیف بھی تھے تاکہ ہم ان سے

اپنے معالم میں شور کر سکیں، ان کی درخواست پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے

ابولبا یہ کو وہاں بھیجد یا ان کو دیکھتے ہی سب لوگ سر و قد کھڑے ہوگئے عورتیں اور

لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۲۳۳۵-۲۳۴ صحیح بخاری میں یہ قصہ کسی قدر تفصیل واضافہ کے ساتھ باب

مرجع النبي صلى الله عليه وسلم من الاحزاب، ومخرجه الى بني قريظه ومحاصرته اياهم

میں بیان کیا ہے صحیح مسلم میں کتاب الجہاد وا میری باب جواز قتال من نقض العهد وجواز انزال

الحصن على حكم عادل حکیم اهل العدل میں یہ واقعہ درج کیا ہے کہ سیرت ابن ہشام ج ۲۳۵۲

………………………………………………………………………………………………………………

………………………………………………………………………………………………………………

بچے دھاڑیں مار کر رونے لگے، یہ دیکھ کر ان ک دل کچھ پیچ گیا اس کے بعد یہ سب لوگ

کہنے لگے ابولبابہ کیا محمد صل اللہ علیہ سلم کے فیصلہ پر تسلیم خم کرلیا جائے انہونی

کہا ہاں، اس کے ساتھ اپنے لے پر ہاتھ پھیر کر اسکی طرف اشارہ کیا ابو لبایہ کہتےہی کے

ابھی میرے قدم بھی وہاں سے نہ ہٹے تھے کہ جھے محسوس ہوا کہ میں نے اللہ اور اس کے

رسول صل اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی ہے چنانچہ وہ فورا الٹے پاؤں واپس ہوئے

اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے بجائے مسجد نبوی کے ایک

ستوں سے اپنے کو باندھ دیا اور اعلان کر دیا کہ یہ اس وقت تک اس جگہ سے نہ ہٹوں گا

جب تک اللہ تعالے میرے قصور کو معاف نہ فرمادے گا، انھوں نے اللہ تعالی اسے یہ مہینے

کیا کہ آئندہ وہ بنی قریظہ کے علاقہ میں قدم بھی نہ رکھیں گے اور اس مقام کی بھی شکل

نہ دیکھیں گے جہاں انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تو یہ قبول فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی :۔

وَالخَرُونَ اعْتَرَ فواید توبیم اور کچھ لوگ ہیں کہ اپنے گنا ہوں کا

خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا واخر (مات) اقرار کرتے ہیں انھوں نے

سَيِّنَا عَلَى اللهُ أَنْ يَتوب اچھے اور بڑے علموں کو ملا جلا دیا

عَلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ غَفُور رحيم تھا، قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی

(پسوره تو یه – ۱۰۲)

سے توجہ فرمائے بے شک خدا بخشنے والا

مہربان ہے۔

تو فورا لوگ ان کو کھولنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھئے انھوںنے کہا نہیں خدا کی تم

جب تک رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم خود اپنے دست مبارک سے مجھے آزاد نہ کریں گئے

anunununununununununununu

………………………………………………………………………………………………………………

۳۲۲

میں اسی حالت میں رہوں گا، جب نماز فجر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر

تشریف لائے اور ان کے قریب سے گذرے تو آپ نے ان کو کھولا کی جو کے اس نئے سے )

تقریباً ہمیں رات بندھے رہے ہر نماز کے وقت ان کی اہلیہ آئیں اور نماز کے لئے

ان کو کھول دیتیں پھر وہ دوبارہ اپنے کو اس سے باندھ لیتے۔

سعد بن معاذ کی حق پرستی اور بے لاگ فیصلہ

بنو قریظہ نے رسو اللہ صل اللہ علیہ سلم کے فیصل کو تسلی کر لیا لیکن قبیلہ

اوس کے دل میں بنی قریظہ کی طرف سے نرم گوشہ تھا، وہ تیزی کے ساتھ رسول اللہ کے ساتھ رسول

صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ خورج کے مقابلہ میں ہمارا

ان سے معاہدہ ہے اور انھوں نے ہمارے بھائیوں کے حلیفوں (یعنی بنی قبیقاع )

کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا ہے وہ آپ کے علم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

ان کی یہ بات سن کر فرمایا اس کے لوگو کیا تم اس پر تیار ہو کہ تھا راہی کوئی آدمی

اس کا فیصلہ کردے انھوں نے کہا ہاں ہم تیار ہیں، آپ نے فرمایا میں یہ کام سعد بن

معاذ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں ان کو بلوایا گیا، جب وہ آئے تو ان کے قبیلہ والوں نے

ان سے کہا کہ ابو عمرو اپنے حلیفوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اس لئے کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے سپرد یہ معاملہ اسی لئے کیا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ

حسن سلوک کا برتاؤ کرو جب انھوں نے زیادہ اصرار کیا تو انھوں نے کہا کہ سعد کو

قسمت سے یہ موقع ملا ہے کہ آج اس کو حکم الہی کے سامنے اس وقت کسی کی علامت کیا

له سیرت ابن ہشام ج ۲ ص۲۳۶-۲۳۸

………………………………………………………………………………………………………………

پروارہ نہ ہو، سعد نے کہا میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے مرد قتل کر دیئے جائیں ان کا

مال تقسیم کر لیا جائے بچے اور عو د میں غلام بنالئے بھائیں، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی شریعت کے مطابق سزا

فیصلہ بنی اسرائیل کی شریعت کے جنگی قوانین کے بھی مطابق تھا اس لئے کہ

تو رات آیت ۱۱-۱۲-۱۳ میں ہے:۔

اور جب تو کسی شہر کے پاس اس سے لڑانے کے لئے آپہو نچے تو پہلے

لے سیرت ابن ہشام ج ۲ من ۲۳ – ۲۴۰ مسلم شریف کے الفاظ یہ میں فضیت بحكم الله وبرهنا قال

بحکم الملا تم نے ال کے حکم کے مطابق فیصل کیا اور شاید آپ نے فرمایا کہ مالک الملک کے فیصد کے مطابق

فیصلہ کیا) مشہور روایت کسرہ کے ساتھ ہے اور اس کے معنی وہ ہیں جو کے کور ہوئے بعض روایتوں میں فتحه کے

ساتھ ہے، اس سے حضرت جبرئیل علیہ اسلام مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ اثر تا لے کی طرف سے رشتہ ہو فیصلہ نے کر

آیا تھا اس کے مطابق تم نےفیصلہ کردیا (صحیح مسلم باب جواز قتال من نقض العهد كتاب الجهاد والين

ان مقتولین کی تعداد آٹھ تو پا نہیں کی تھی جیسا کہ اصل ابن اثیر ج ۱۲ میں ہے۔

بعض معاصرات فلم نے مدینہ جیسے چھوٹے شہر اور بی رحت کی کریانہ سر کے پیش نظر تاریخی اسناد کے

بجائے قیاس کام لیتے ہوئے اس تعداد کو مقید بتایا ہے محافظ ہو ا کر ہر کام کی کتاب (MURAT

JEWS)

اس واقعہ کے متعلق جو یہود کے دینی شعور کو متاثر کرنے والا ہے یہودی آخر کبھی خاموش ہیں

ایک یہودی مولف سموئیل ایک نے سولہویں صدی کیچ میں ایک اہم کتاب تاثر شہداء یہود لکھی لیکن اس نے

بھی تو قیاع اور تو غیر کی مدینہ سے جلا وطنی اور تو قریظہ کے جنگ جوؤں کے قتل کا ذکر نہیں کیا۔

………………………………………………………………………………………………………………

اس سے صلح کا پیغام کر تب یوں ہوگا کہ اگروہ تھے جواب دے کر صلح منظور

اور دروازے تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق ہو اس شہر میں پائی جاوے

تیری خوان گذار ہوگی اور تیری خدمت کرے گی اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے

بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو اس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اسے میرے

قبضہ میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو توار کی دھار سے قتل کر، مگر

عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارا لوٹ

اپنے لئے لئے اکتاب استثناء – باب ۲۰ آیات ۱۰ تا ۴ اکتاب مقدس

منجانب بائبل سوسائیٹی شاہ)۔

بنی اسرائیل میں قدیم زمانہ میں ہی رواج تھا تو ریت میں آتا ہے اور انھوں نے

دیانیوں سے لڑائی کی جیسا خداوند نے موسی کو فرمایا تھا، اور سارے مردوں کو قتل کیا

اور انھوں نے ان مقتولوں کے سوا اوی اور راقم اور صور ور اور رانی کو جو مریان کے

پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور ان کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا اور

بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اوران کی مواشی

اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا اور ان کے سارے شہروں کو جن میں

وے رہتے تھے، اور ان کے سب قلعوں کو پھونک دیا۔

موسی علیہ اسلام کے زمانہ میں اس قانون پرعمل کیا جاتا تھا، اور اس کوان کی

اجازت اور تائید حاصل تھی تو ریت ہی میں ہے۔

تب موسیٰ اور العازر کا بہن اور جماعت کے سارے سرداران کے استقبال

له کتاب مقدس گفتی، باب ۳۱ – آیت ، تا اینجانب بائبل سوسائیٹی مطبوع تشاه

………………………………………………………………………………………………………………

۳۲۵

کے لئے خیمہ گاہ سے باہر گئے اور موشی لشکر کے رئیسوں پر اور ان پر جو ہزاروں کے سرادر

تھے اور ان پر جو سیکڑوں کے سردار تھے جو جنگ کر کے پھر سے غصہ ہوا، اور ان کو کہا کہ

کیا تم نے سب عورتوں کو چینا رکھا۔ سعد بن معاذ کے اس فیصلہ اور کم کی تیل کی گئی ، سعدبن لیق

اور اس طرح مدینہ یہودی سازش، مکر و فریب اور فتنہ سامانیوں سے محفوظ ہو گا

اور مسلمانوں کو اطمینان ہوگیا کہ اب مجھے سے ان پر کوئی حل نہ ہوگا اور کسی اندرونی سازش

کو سراٹھانے کا موقع نہ لے گا۔

خه خزرج رج نے سلام بن ابی الحقیق کو بھی قتل کر دیا جس نے مسلمانوں کے خلاف

یہ سب پارٹی بندی کی تھی، اور ان کا نا پاک اتحاد قائم کیا تھا، اس سے پہلے اوس

کعب بن الاشرف کا خاتمہ کر چکے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت اور

آپ کے خلاف لوگوں کو اکسانے اور شورشیں برپا کرنے میں سب سے آگے تھا، ان دونوں

کے قتل سے سلمانوں کو فتنہ وفساد کے ان سرغنوں سے نجات ملی جو اسلام اور سلمانوں کے

خلاف مستقل اور ہمہ وقت سازش میں مشغول رہتے اور نئی نئی تحریکیں اور تجویزیں

کرتے رہتے تھے اور سب نے اطمینان کی سانس لی ہے

رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم نے بنی قریہ سے و معاملہ فرمایا و جنگی یاست

اور رکے یہودی قبائل کی سرشت اور افتاد طبع کے مطابق تھا، ان کے لئے اس تم کی

سخت اور عبرت ناک سزا کی ضرورت تھی، جس سے عہد شکنی کرنے والوں اور دھوکہ بازوں کے

ہمیشہ کے لئے سبق مل جائے اور آئندہ نسلیں اس سے عبرت پکڑیں

اپنی کتاب

له ايضاً آیت ۱۳ – ۱۴-۱۵ ۵۲ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷

  1. V. C. DODLEY

THE MESSENGER-THE LIFE OF MOHAMMAD

میں اس واقعہ پر

………………………………………………………………………………………………………………

روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے :۔

“محمد بلاد عرب میں تنہا تھے، یہ ملک رقبہ کے لحاظ سے ریاست ہائے متحدہ

امریکہ کا ایک تہائی ہے اور اس کی آبادی پچاس لاکھ ہے ان کے پاس

ایسے شکر بھی تھے جولوگوں کو امتثال امرا اور اطاعت پر مجبور کر سکتے

سوائے ایک مختصر تشکر کے جس کی نفری تین ہزار تھی، پیکر بھی پوری طرح

مسلح نہ تھا، اس لحاظ سے اگر محمد اس سلسل میں مستی و غفلت سے کام لیتے اور

بنی قریظہ کو ان کی بد عہدی پر کوئی سزا دیئے بغیر چھوڑ دیتے تو جزیرۃ العرب

میں اسلام کی بقا مشکل تھی، اس میں شک نہیں کہ یہود کے قتل کا معالمہ بہت

سخت تھا لیکن یہ مذاہب کی تاریخ میں کوئی انوکھا اور نیا واقعہ نہ تھا اور

مسلمانوں کے نقطہ نظر سے اس کاروائی کا پور جواز موجد تھا، اس دوسرے

عرب قبال اور بہو کی عہد شکنی اور غاری سے پہلے باربار سوچنے پرمجبور

ہوئے اس لئے کہ وہ اسکا انجام بد دیکھ چکے تھے اور اپنی آنکھوں سے

دیکھ چکے تھے کہ حمد اپنے فیصلہ کونا فذ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں،

سرا سٹینلی لین پول لکھتا ہے :۔

“یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان لوگوں کا جرم مملکت سے غداری تھا، وہ بھی

ایک محاصرہ کے دوران جن لوگوں نے تاریخ میں یہ پڑھا ہے کہ ویلنگٹن کی

فوج جس راستہ سے گذری اس کی نشاندہی مغرور سپاہیوں اور لوٹ مار

کرنے والوں کی لاشیں کرتی تھیں، جو درختوں پر ٹکی ہوئی تھیں انھیں ایک غدار

THE MESSENGER-THE LIFE OF MUHAMMAD, (LONDON 1946). P. P. 202-203 له

23

………………………………………………………………………………………………………………

قبیلہ کے ایک سرسری فیصلہ کی روسے قتل کے جانے پرتعجب نہیں ہونا چاہیئے

مدینہ میں یہود کے اس آخری قلعہ اور مورچہ کے خاتمہ کا ایک فائدہ یہ ہو کہ نفاق کا

کیمپ قدرتی طورپر کمزور پڑگیا اور منافقین کی سرگرمیاں مست ہوگئیں ان کے حوصلے پست

ہو گئے، اور ان کی بہت کچھ خود اعتمادی اور بڑی بڑی امیدیں جو انھوںنے باندھ رکھی تھی ختم جوانترین

ہو گئیں اس لئے کہ یہ ان کے محکم قلعوں میںسے آخری قلعہ تھا جو فتح ہوگیا، ڈاکٹر اسرائیل

ولفنسونی غزوہ بنی قریظہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے۔

مہاں تک منافقین کا تعلق ہے بنی قریظہ کی لڑائی کے بعد ان کی آواز پست

گئی اور اس کے بعدان کے اعمال و اقوال سے کوئی ایسی بات ظاہر ن ہوئی

جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے فیصلہ کے خلاف ہوتی

جیسا کہ اس سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہیے

عفو و درگزر اور سخاوت و دریادلی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے بند کی طرف کچھ سواروں کو ایک ہم پروانہ فرمایا

SELECTION FROM THE KORAN INDRO. P. IXY

ال الیهو في بلاد العرب منها – استاذ محمد احمد با شمیل نے مسیح لکھا ہے کہ غزوہ احزاب صرف

یہودی غزوہ تھا جسے یہود کے سازشی ذہن نے بغیر یں یہ پاگیا اور اس میں یہودی سرمایہ صرف ہوا ؟

جنگ چھڑنے اور یہودی دائرہ اثر بڑھانے کے لئے ضمانتوں کے حصول کے لئے ہی صرف ہوتا ہے۔

ری مبنی تقریر غزوہ احزاب کی توی شکل تھی کیونکہ بی این قریہ قریشی یہودی فوجی اتحاد

کا میرا بازو تھا جو سلمانوں کی انگلر برباد کرنے پر مادہ تھا، غزوہ بنی قرنیه ۱۳۹۶-۱۵۵)

………………………………………………………………………………………………………………

یہ لوگ واپس آئے تو اپنے ساتھ بنی حنیف کے سردار ثمامہ بن اثال کو قیدی بنا کر لائے اوران کے

مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا ، جب رسول الله صل اللہ علیہ وسلم ادھر سے گذرے تو آپ

نے ان کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا مامہ کچھ کہنا تو نہیں ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ

اے محمد صل اللہ علیہ وسلم اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کی گردن کے قتل کا خو

خون ہے اگر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار اور احسان شناس پر احسان کریں گے اور اگر

آپ کو مال و دولت مطلوب ہے تو آپ بتائیں آپ جو مطالبہ بھی رکھیں گے وہ پورا کیا جاے گا

آپ یہ سن کر آگے بڑھ گئے دوسری بار جب آپ کا اُدھر سے گذر ہوا تو آپ نے اس سے یہی

سوال کیا اور اس نے ہی جواب دیا اور آپ نے وہی رویہ اختیار کی جو پہلے کیا تھا تیسری بار

جب آپ اور ھر تشریف لے گے تو آپ نے حکمایا کہ شام کو رہا کر چنانچہ اس کو رہا کر دیا

گیا ، اس کے بعد ثمامہ نے سجد کے قری کے ایک بھور کے باغ میں جاکر عمل کیا اور آپ کی خدمت

میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور عرض کیا کہ خداکی قسم ایک وقت تھا کہ مجھے آپ کے چہرے

سے زیادہ کوئی چہرہ برانہ لگتا تھا لیکن آج آپ کا روئے اور مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز

ہے اور خدا کی قسم آپ کے دین سے زیادہ روئے زمین پر مجھے کسی اور دین سے بغض رتھا

لیکن آج آپ کا دین سارے ادیان و مذاہب سے زیادہ مجھے عزیز ومحجوب ہے میرا قصہ یہ ہے کہ

میں عمرہ کی نیت سے جا رہا تھا کہ آپ کے سواروںنے مجھے گرفتار کرلیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے ان کو بشارت دی اور عمرہ اداکرنے کی ہدایت فرمائی، جب شمامہ قریش سے

لے تو ان لوگوں نے کہا کہ شمامہ تم بے دین ہو گئے، انھوں نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم میں تو

محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لایا ہوں، بخدا تھا سے پاس یامہ کے گیہوں کا

ایک دانہ بھی اس وقت تک نہ پہونچے گا جب تک رسول الله صل اللہ علیہ وسلم کی منظوری

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۹

نہ ہوگی یا مکہ سے غلہ کی منڈی تھی اور وہیں سے غلہ کی رسد آتی تھی، اس کے بعد وہ

اپنے علاقہ میں واپس گئے اور اونٹوں کے کاروان کو جو بونے کر جاتے تھے کر جانے سے روک

دیا گیا اور اخر یہ ہوا کہ فری کو فاقہ کی نوبت آگئی اور انھوں نے رسول اللہ ا السلام

کی خدمت مبارک میں عرض داشت بھی کہ شمامہ کو غذائی اشیاء اور اجناس کے برآمد کی

اجازت دے دیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست قبول فرمائی ہے

غزوہ بنی المصطلق اور واقعہ افک

شعبان شر میں رسول اللہ ا سلام کو برلی کہ بنی المصطلق (جو

خزاعہ کی ایک شاخ تھے جنگ کے لئے جو ہو رہے ہیں۔ یہ اطلاع سن کر آپ بھی مقابلہ

کے لئے تشریف لے چلے اور منافقین کی اتنی بڑی تعداد آپ کے ساتھ ہوگئی کہ اس سے پہلے

کسی غزوہ میں بھی ان کا رہا اور تارا ہین مول بھی ساتھ تھا غزوہ

احزاب میں جس میں قریش نے پورے اتحاد کامظاہرہ کیا تھا اور وہ دے تمام قبائل اپنے

ساتھ ملائے تھے مسلمانوں کی فتح و کامران نے اس گروہ کو نعل در آتش کر دیا مسلمانوں کا

ستاره اقبال برابر عروج پر تھا ہم کامیابیاں کفارمکہ ، مدینہ اور اس کے اطراف میں پینے والے

یہود اور منافقین کے لئے حلق کا ایک ایسا کانٹا بن گئی تھیں جس سے ان کو کسی وقت قرار

سکون نہ ملا تھا وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ مسلمانوں کو اب میدان جنگ میں اور کثرت تعداد

اے زاد المعارج اللہ و صحیح مسلم کتاب الجہاد والسر باب المراد بالملاكمة يوم بنده که ان سورائی نےتان

طبقات میں لکھتے ہیں آپ کے ساتھ اس خزوہ میں منافقین کی اتنی بڑی تعداد شریک ہوئی جو اس پہلے کبھی

کسی خزوہ میں شریک نہیں ہوئی تھی (کتاب الطبقات الکبیرات ج آن باید ۱۳۲۵ ه م )

………………………………………………………………………………………………………………

اور سازو سانان سے شکست نہیں دی جا سکتی ، اس لئے انتھونی داخلی محاذ میں رخنہ اندازی

اور فتنہ پردازی کا راستہ اختیار کیا مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے قومی اور قبائلی خوت

کو ہوادی، مقام رسالت کی بے حسی اور اس پر ممنوں کے اعتمادی کو کمزور کرنے منصور

بنایا اور کا شانہ نبوت کے خلاف زبان درازی اور الزام تراشی کی خطرناک مہم چلانے کا

فیصلہ کیا، ان کا خیال تھا کہ اس طرح اس نئے اور مثالی معاشرے کی چولیں ہل جائیں گی

جس میں ہر فرد دوسرے کا آئینہ ہے جب وہ اپنے بھائی کے بارے میں کوئی ناروا اور تازیا

بات سنتا ہے تو پہلے اپنا جائزہ لیتا ہے اگر اپنے نف کو پاک اور صاف پاتا ہے تو پھر طرح

اپنے لئے ایسی بے بنیاد بات نہیں کرتا دوسرے کے لئے بھی نہیں کرتا اس طرح اگر اہل بیت

نبوت پر اعتماد نہ رہے تو اس معاشرے میں ایک دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جائے گا،

کسی شخص پر بھی اعتماد باقی نہ رہے گا، یہ لاشی منافقین کی ایک نہایت خطرناک اور

گہری سازش تھی، اور یہ چال اور مکرو فریب کی پالیسی بنی المصطلق کے غریدہ با میں

جس طرح کھل کر سامنے آئی اتنی کسی اور غزوہ میں نہ آئی تھی طرح کھل کر سائے آئی

تھی۔

آخر کار لڑائی کا وقت آپہونچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقابلہ کے لئے روانہ

ہوئے اور بنی المصطلق کے چشمہ پر س کو مریسیع کہتے ہیں آپ نے قیام کیا، یہ ساحل

کے رخ پر تمام قدیر کے قریب واقع تھی، یہاں دونوں لشکر باہم دست و گریبان

ہوئے، اور انجام کا ریبنی المصطلق کو شکست ہوئی ہے

ہ اس نسبت سے اس غزوہ کو غزوہ المسیع بھی کہا جاتا ہے دیکھئے طبقات ابن سعد و غیرہ) کے غزوہ

بنی المصطلق سیاسی فوجی اور اقتصادی اہمیت کا بھی حامل تھا، اس لئے کہ اس کا صدر مقام مرتبیع کہ

کی تجارت کی شاہراہ پر واقع تھا کہ ہے یہ کالی رات بھی تھا سامان اور اجرتی قا نے گراتے

تھے

இவ

………………………………………………………………………………………………………………

اسی موقع پر حضرت عمرہ کا ایک اجیر خونی غفار کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا، اور

جہینہ کا ایک شخص ہو تزویج کا حلیف تھا آپس میں لڑانے لگے تو جہنی نے آواز لگائی

اے انصاری را اجیر نے صدا لگائی اسے مہاجرین اب عبد اللہ بن ابی بن سلول یہ سن کر

بہت غصہ ہوا وہ اس وقت اپنے آدمیوں میں بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ اچھا ان مہاجرین

کے حوصلے یہاں تک ہونچے؟ انھوں نے ہمارے علاہ میں اکریم سے رسہ کشی کی اور اپنی تعداد

بڑھانے کی کوشش کی والہ یہ معامہ ویسا ہی ہے جیسا اس مثال میں بیان کیا گیا ہے

ہم مدینہ واپس جائیں گے تو وہاںکے باعزت وسر بر آوردہ وہاں کے ذلیل لوگوں کو

نکال باہر کریں گے پھر اپنے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوکر اس کا یہ سب کچھ م نے اپنے ہاتھوں

کیا ہے تم نے اپنے وطن میںان کو جگہ دی اپنا مال اپنے اوران کے درمیان قسیم کیا خدای تم

گر تم اپنے ہتھ کو زاروک لیتے اور اس در فراخ دلی سے کام لیتے تو یقینا دوسراگھر کیتے۔

جب رسول اللہ اللہ علیہ سلم یہ بات تو آپ نے شکر کی اسی کا حکم دیا

روز

تاکہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں اور شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقعہ مل سکے یہ ایسی آپ کے

معمول کے خلاف تھی آپ کے حکم پ سب لوگ چل کھڑے ہوئے آپ اس دور نسل چلتے رہے

یہاں تک کہ شام ہوگئی رات بھر سر رہا یہاں تک صبح ہوگئی سفر جاری رہا یہاں تک کہ

دن پڑھ گیا، اور سورج کی تمازت سے لوگوں کو تکلیف ہونے لگی اس وقت آپ نے قیام

فرمایا، لوگ اس قدر تھک چکے تھے کہ زمین سے ان کی پچھے بھی رنگی تھی کہ وہ نیند کے آخویش

میں پہونچ گئے عبداللہ نالی کے فرزند عبداله شکر سے پہل مدینہ پہونچ گئے اور رات ہیں

اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے انھوں نے عبداللرین آبی کو دیکھا تواپنی اونٹ

………………………………………………………………………………………………………………

بٹھایا اور کہا کہ یہیں تھیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ اپنی زبان سے

تم نہ کہو کہ میں ذلیل ہوں اور صاحب عزت محمدی (صلی اللہ علیہ سلم اس درمیان

میں رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کا ادھر گزر ہوا آپ نے یہ منکر فرمایا عبداللہ جانے دو

جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے ہے

رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کا قاعدہ تھا کہ جب آپ سفر کا ارادہ فرماتے تو

ازواج مطہرات کے لئے قرعہ اتے جس کا نام نکلتا ان کو اپنے ہمراہ ے لیے غزوہ بنی ا مطلق

میں حضرت عائشہ کے نام قرعہ نکل چنانچہ آپ ان کواپنے ہمرا لے گئے، واپسی پر جب مدینہ

قریب ہو تو آپ نے قیام فرمایا اور رات کا کچھ حصہ وہیں گزارا، اس کے بعد آپ نے کوچ کا

اعلان کیا حضرت عائشہ صدیقہ قضاء حاجت کے لے گئیں تو ایک بار جو ان کے گے ہیں بڑا

ہوا تھا کی جگہ ٹوٹ کر گیا، اوران و پتہ کی جیل کا جب وہ اپنے محل میں واپس آئیں تو

ان کو معلوم ہو کر ان کا ہارا ہے وہ اس کی تلاش کے لے پھر ہار گئیں اسی درمیان میں

کوچ کا اعلان ہو گیا جن حضرات کے زمران کی سواری تھی وہ جموں کے مطابق آئے اور سمجھ کر

کہ حضرت عائشہ اندروں کی حمل تام یا ور روانہ ہوگئے وہ بت کی اور کی چکی تھیں

اس لئے انھیں اندازہ نہ ہو سکا اور اس کا شبہ بھی نہیں ہوا کہ وہ اس کے اندر تشریف نہیں رکھتی

ہیں حضرت عائشہ صدیقہ واپس آئیں تو یہاں کوئی نہ تھا سب روانہ ہو نہ تھا سب روانہ ہوچکے تھے تصورات اپنی

چادر اوڑھی اور وہیں لیٹ گئیں اسی درمیان بن صفوان بن حل علمی جواپنی ایک ضرور سے

قافلہ سے بچھڑ گئے تھے۔ ادھر آنکلئے انکو دیکھا تو انا لہ پڑھا اورکہنے لگے کہ یہ تورسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم محترم ہیں اس کے بعد انھوںنے اپنا اونٹ اُن کے قریب کر دیا اور خود

لے طبقات ابن سعد ج ۲ مت طبع لیڈن

………………………………………………………………………………………………………………

مجھے پہلے گئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں سوار ہوگئیں تو انھوںنے اونٹ کی نکیل

تھائی اور تیز رفتاری کے ساتھ قافلہ کے تعاقب میں روانہ ہوئے جب وہ قافلے کے قریب

پہونچے تو قافلہ منزل پر پڑاو کر چکا تھا لیکن اس واقعہ سےلوگوں کی کسی قسم کی منی پیدا

نہیں ہوئی اس لئے کہ صحراکی زندگی اور قافلوں کی آمد ورفت میں وہ ان باتوں کے عادی

تھے عزت ناموس کی حفاظت ان کے خمیر میں تھی اور ارقم کی پست خیالی سے ان کو کیا عربی

اوش کو کوئی واسطہ تھا اہلیت اور اسلام والوں کا ایک شاعر کہا ہے ۔

وأخفض طرفي ان بدت لي جارتي حتى يوارى جارتي ما وانت

(دیوان الحماسه)

اگر میرے پڑوس کی کسی خاتون پرمیری نظر بھی پڑھاتی ہے تو ی اپنی نظریں نیچی

کر لیتا ہوں، یہاں تک کہ اس کا نشین اس کو اپنے اندر چھپائے “

ے اسی طرز عمل کی ایک جھلک ام سلمہ کے واقعہ میں بھی نظر آتی ہے جب انکو اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ ہجرت

کرنے سے بھر دو کیا گیا۔ چنانچہ روزانہ وہ جاکر اس جگہ بیٹھ جائیں اور شام تک روتی رہتیں تقریباً ایک سال

تک ان کا یہ حال رہا یہاں تک کہ ان سنگ دلوں کا دل بیجا اور انھوںنے ان کو مدینہ جانے کی اجازت

دے دی انھوں نے اپنا اونٹ تیار کی اور الرحلہ کا نام لےکر اس پریٹھ گئیں اور روانہ ہوگئیں راستہ

میں انھیں عثمان بن طلحہ ملے اور ان کی یہ حالت دیکھ کراز راہ ہمدردی ان کی نکیل تھام لی اور مدینہ

تک ان کے ساتھ ہے اس کہتی ہیں کہ ا سے زیادہ کسی شریف عربی میرا سابقہ نہیں پڑا ان کا حال

یہ تھا کہ جب کوئی منزل آتی تو وہ اونٹ کو بٹھاکر مجھے چلے جاتے ہیں اتر جاتی تو آتے اور سامان اتار کر چلے

اس کو ایک درخت سے باندھ دیتے آگے کہتی ہیں کہ جب تکمجھے مدینہ نہیں پہنچا دیا وہ باب ہی کرتے رہے

(سیرت ابن کثیر ج ۲ ۳۱۵-۲۱۷) یہ اس وقت کی بات ہے جب عثمان بن طلحہ اسلام نہیں لائے تھے اس لحاظ

سے صفوان بن ام محل السلیمی اسپارک نفی اور اخلاق عالیہ کے زیادہ حقدار تھے اس لئے کہ وہ بہت پہلے

اسلام قبول کر چکے تھے اور رسول اللہصلی الہ علیہ سلم کی محبت و رفاقت کا شرف ان کو حاصل تھا۔

………………………………………………………………………………………………………………

دوسری طرف صحابہ کرام کا سول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم سے تعلق وہ تھا جہاں بیٹے

کے درمیان ہوتا ہے، آپ کی ازواج مطہرات امہات المومنین کا درجہ رکھتی تھیں ؟ آپ

ان کی نظر میں حقیقی باپ اور ساری دنیا سے زیادہ محبوب تھے صفوان بن احمل بھی دین دار کا

صلاح و تقویٰ اور حیا و عفت میں نیک نام تھے یہ بھی ذکر آتا ہے کہ ان کو عورتوں سے

کوئی دل چسپی اور سروکار نہ تھا۔

غرض کہ یہ کوئی ایسا مسلہ نہ تھا، جس کی طرف لوگوں کو انتفات بھی ہوتا لیکن

عبد اللہ الین بن ابی نے اس کو بالکل اپنا لیا اور مدینہ واپس آکر اس کا خوب چرچا کیا،

منافقین نے جو اس کے منتظر تھے، اس موقع کو غنیمت جانا اور اس کی اچھی طرح تشہیر کی

ان کے نزدیک یہ ایک ایسا رویہ تھا جس سے مسلمان آسانی کے ساتھ فقلتہ میں پڑ سکتے تھے،

اور مقام رسالت اور اہل بیت کے ساتھ ان کی تعظیم اور محبت کا رشتہ مزدور کیا جاسکتا

تھا، اس سے مسلمانوں کا باہمی اعتماد اور ایک دوسرے پر بھروسہ بھی مجروح ہوتا تھا،

اس سازش کے کچھ ایسے سادہ دل مسلمان بھی شکار ہوگئے جن کو زیادہ باتیں کرنے کا

شوق تھا اور جو بغیر تحقیق کے بات نقل کرنے کے عادی تھے ہے

جب حضرت عائشہ رض کو مدینہ میں اچانک اس کی خبر ہوئی تو وہ ہائے میں گئیں

اور رنج و ہم سے ان کا یہ حال ہوگیا کہ آنسو تھمے نہ تھے، راتوں کی نیند اڑ گئی، رسول اللہ کی

صل اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ معامل بہت سخت اورنگین تھا، آپ کو جب علم جو کہ بات

لے اسی بات کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے اذن تَلَقَّوْنَهُ بِالسِنَتِكُمُ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُرُ

مَّا لَيْسَ الُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحَسُبُونَهُ هَبْنَا وَهُوَ عِندَ اللهِ عَظِيم، (جب تم اپنی زبانوں سے

اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم

اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے، اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی ۔ (سورۃ النور – (۱۵)

………………………………………………………………………………………………………………

کہاں سے چلی تھی تو اس وقت آپ تشریف لائے اور عبداللرین آئی کے سلسلہ میںکچھ کہنے

کی اجازت لی آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا اے سلما نو مجھے

کون اس شخص کے معاملہ میں کچھ کہنے کی اجازت دیتا ہے جس کی میرے گھر والوں کے

الے میں اینا سانی کا مجھے پتہ چلا ہے خدا کی سمجھے اپنے اہلخانہ کے بارے میں کچھ علم ہے

وہ اطمینان بخش ہی ہے لوگوں نے اس معاملہ میں جن صاحب کا ذکر کیا ہے ان کے بارے

میں بھی مجھے اچھی ہی بات علوم ہے وہ جب کبھی میرے گھر آتے تو میرے ہمراہ آتے تھے

اوس کے کچھ لوگ بین کر غیظ و غض سے بھر گئے اور کہنے لگے کہ جس نے اتنی بڑی بات

زبان سے نکالی ہے ہم اس کی گردن اڑا دینے کے لئے تیارہیں خواہ وہ اس کا آدمی ہو

یا خروج کا عبد اللہ بن ابی کا خزرج سے تعلق تھا، اس کی یہ گفتگوسن کر قبائلی حمیت

پیدا ہونے لگی اور دونوں قبیلے ہوش میں آگئے قریب تھا کہ شیطان کا جادوان پر

پھل جائے اور وہ باہم دست وگریبان ہو جائیں لیکن رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم

کے نمو ندی اور لیمو بردباری کی برکت سے یہ بات وہیں ختم ہوگئی، ادھر حضرت عائشہ

کو اپنی بے گناہی کا پورا یقین تھا، اس لئے ان کے رویہ میں اعتماد خود داری اور

عزت نفس کی پوری جھلک نظر آرہی تھی ان کا حال اس بے گناہ اور معصوم صفت

ہستی کا تھا جو ہر تنگ شیبہ اور الزام سے بالا تر ہوتی ہے ان کو پورا یقین تھا کہ

اللہ تعالیٰ ان کو بالا خرصات بری کردے گا، اور دامان رسالت پر بد گمانی اور بہت کا

یہ داغ ہر گزیاتی نہ رہے گا لیکن انکو یہ خیال نہ تھاکہ اللہ تعالی اس کے لئے خاص طور

وحی نازل فرمائے گا اور یہ آیتیں قرآن مجید کا جز بن کر قیامت تک پڑھی جاتی ہیں گی

ان کو زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑا کہ ان کے بارے میں قرآن کی حسب ذیل کے

anununununununununununu

………………………………………………………………………………………………………………

آیتیں نازل ہوئیں اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی برأت کا اعلان کیا گیا۔

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بالا فك جن لوگوں بہتان باندھا ہے تم ہی

عُصْبَةٌ مِّنكُم لا تيبوهُ شَرًّا میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے

لكُم هُو خَيْرٌ لكم كل امرئ میں میں برا نہ سمجھا بلکہ وہ تمھارے

منهم امل كتب من الأثير لئے اچھا ہے ان میں ایسے جس شخص نے

وَالَّذِي تَوَلَّى كَبُرَهُ منهم کے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے

عَذَابٌ عَظِيمة ولولا دا لک میاب عظیم ہے اور اس نے ان میں سے

منَ الْمُؤْمِنُونَ وَالمُؤمِنت اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے

بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هذا اس کو بڑا عذاب ہو گا جب تم نے

إِفْكُ مُبِينٌ .

وہ بات سنی تو مومن مردوں اور

( سوره نور – ۱۱-۱۲) عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں

نیک گمان نہ کیا اور کیوں نہ کہا

کہ یہ صریح بہتان ہے۔

اس طرح اس زبردست فتنہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا اور یہ بات اس طرح

ختم ہوئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بات ہی نہیں ہوئی مسلمان معمول کے مطابق اسی

جوش اور ولولہ کار کے ساتھ اپنے ان عظیم کاموں کی تکمیل میں مشغول ہو گئے جن پر

نہ صرف ان کی بلکہ پوری انسانیت کی فلاح و کامرانی کا انحصار تھا۔

لہ یہ واقعہ سیرت ابن ہشام سے ماخوذ ہے ج ۲ ص ۲۵-۳۰۲ نیز حدیث عائشہ بروایت بخاری ۔