صلح حديبيه
ذی القعده سه )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا خواب اور گرمیں داخلہ کے لئے سلمانوں کی تیاری
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے خواب میں دیکھا کہ آپ کہ میں داخل ہوئے اور
بیت اللہ کا طواف کیا۔
یہ رویائے صادقہ تھا لیکن اس میں زمانہ مہینہ اور سال کا کوئی تعین نہ تھا
آپ نے صحابہ کرام کو دینی به خواب نا یا به روش خبری سن کر سب لوگ بہت مسرور
ہوئے مکہ اور کیہ (جس کی محبت و عظمت ان کے خمیر میں شامل اور ان کے رگ وریشہ میں
پیوست تھی) ترت ہوئی ان سے چھوٹ چکا تھا، ان کے دل میں طواف کا بڑا اشتیاق
تھا اور وہ بہت بے چینی سے اس دن کے منتظر تھے جب یہ سعادت ان کو دوبارہ حاصل
ہوا جہا جرین میں مکہ کا اشتیاق قدرتی طور پر بہت زیادہ تھا، اس لئے کہ وہ وہیں پیدا
ہوئے اور پلے بڑھے تھے اور اس کی محبت کو یا ان کی گھٹی میں پڑی تھی، بایں ہمہ عرصہ
دراز سے وہ اس کے دیدار اور زیارت سے محروم تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان کو یہ خبر دی تو ان کو اس میں ذرا بھی شیشہ نہ ہوا کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال
اے ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ الفتح ہے۔ از ابن کثیر ( لقد صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّوبا بالحي اليه))
………………………………………………………………………………………………………………
۳۵۸
نکل آئے گی اس بات سے ان کی آتش شوق کو اور بھڑکا دیا اور وہ سب کے سب آپ
کے ساتھ روانہ ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے شاذونادر ہی کوئی اس سے مستنی تھا عمرہ کا
احرام بھی آپ نے باندھ لیا تھا تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو جائے کہ آپ صرف زیارت
بیت اللہ کی عرض سے تشریف لے جارہے ہیں۔
وہاں پہونچ کر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک مخبر کو قریش کا پتہ لگانے کے لئے تعین
کیا جب آپ مقام عفان کے قریب پہونچے تو اس مخبر نے آپ کو اطلاع دی کہ
قبیلہ کعب بن لوی نے آپ کے مقابلہ اور پیش قدمی روکنے کے لئے امام عیش کو اکٹھا
کر رکھا ہے اور خاصی بڑی فوج منظم کرلی ہے ان کا ارادہ ہے کہ جنگ کرکے آپ کو
بیت اللہ تک پہونچنے سے باز رکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش قدمی جاری
رکھی جب آپ اس گھاٹی پر پہونچے جہاں سے ان کی طرف آغاز شروع ہوتا ہے تو آپ
کی اونٹنی قصواء بیٹھ گئی لوگوں نے دیکھ کر کہنا شروع کیا تصور اوگئی قصواء
اڑ گئی آپ نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور یہ اس کا شیوہ نہیں اس کو ہاتھیوں
کے روکنے والے نے روکا ہے اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے
وہ لوگ کوئی بھی ایسا مشورہ پیش کرتے ہیں جس میں ارحام کے تنظیم کا پہلو ہوتا نظر رکھا
جاتا ہے اور مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کرتے ہیں تو میں ان کا سوال ضرور پورا کروں گا
پھر آپ نے روشنی کو ڈانٹا وہ اسی وقت اچھل کر کھڑی ہوگئی لیکن اپنا رخ بدل کر
له زاد المعاد ج اخت ۳۸۰ نیز ابن ہشام ۲۰ ۳۰۰ ۵۲ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک موضع ہے۔
میں جنگ جو افراد جو مختلفت قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ہے آپ کا اشارہ ابر ہ کے ہاتھی کی
طرف تھا جس کو اللہ تعالی نے مکہ میں داخل ہونے سے باز رکھا۔
………………………………………………………………………………………………………………
۳۵۹)
حدیبیہ کی طرف روانہ ہوگئی، اور اس کے آخری کنارہ پر ایک پانی کے گڑھے کے پاس
جس میں ذرا سا پانی تھا رک گئی، لوگوں نے رسول الله صل اللہعلیہ لم سے پیاس کی شکایت
کی آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور حکم دیا کہ اس کو اس گڑھے میں ڈال دیا
جائے اس کو ڈالتے ہی پانی اس میں جوش مارنے لگا اور سب لوگ اچھی طرح سیراب ہوئے۔
مسلمانوں کے مکہ میں داخلہ سے قریش کی پریشانی
قریش کو جب رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی تشریف آوری اور اس جگہ قیام
کی خبر ملی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی آپ نے اس موقع پر مناسب سمجھا کہ اپنے
اصحاب کرام میں سے کسی ایک کو بھیج کر ان کو اطمینان دلا دیا جائے چنانچہ وہاں بھیجنے
کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ
صلی یم مکہ میں بی عدی بن کعب کا ایک آدی بھی موجود نہیں ہے جو ان کے
در پئے آزار ہونے پر میری حمایت کر سکے آپ عثمان کو وہاں جانے کا حکم فرمائیں کہ ان کا
پورا خاندان وہاں موجود ہے اور وہ پیغام رسانی کا فریضہ بھی اچھی طرح انجام
دے سکتے ہیں، آپ نے حضرت عثمان کو بلوا کر قریش کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ ان سے جاکر
کہا کہ ہم جنگ کرنے کے لئے نہیں بلکہ عمرہ کا ارادہ کرکے یہاں آئے ہیں ان کو اسلام کی بھی
دعوت دینا، آپ نے ان کو یہ بھی ہدایت کی کہ کمزور جو اہل ایمان مرد و عورتیں ہیں ان کے
پاس جا کر ان کو فتح کی بشارت دیں اور ان کو یہ خوش خبری سنائیں کہ اللہ تعالے مکہ میں اپنے
دین کو غالب کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی ضرورت باقی نہ رہی ہے۔
له زاد المعاد ج امثله لله ايضا
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۰
عشق و وفا کا امتحان
حضرت عثمان روانہ ہوئے کہ پہونچ کر وہ ابوسفیان اور قریش کے سربرآوردہ
اشخاص کے پاس گئے اور رسو الله صلی اللہ عیہ علم کا یہ پینا ان کو پہونچا یا جب
وہ اپنی بات کہہ چکے تو انھوں نے حضرت عثمان سے کہا کہ اگر تم طواف کرنا چاہتے ہو
تو طواف کر لو انھوں نے جواب دیا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف
نہ کر لیں گے، ہمیں اس وقت تک طواف نہیں کر سکتا۔
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس آئے تومسلمانوں کا ابوعبد اللهتم و بڑے مزے
میں ہے تم نے توطواف کر کے اپنے دل کا رمان نال لیا ہوگا کہنے لگے تم وگونے بڑی بدگمانی سے
کام لیا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر مجھے ایک سال بھی وہاں ٹھہرنا
پڑتا اور رسول اله صل الله علیہ سلم مدین میں تشریف فرما ہوتے تب بھی میرا اس قت تک طوا ز کرنا
جب تک کہ حضور وان نزکیلیے مجھے و فرش نے ان کی دو بھی دی تھی ہیں مں نے انکار کردیا۔
بیعت رضوان
ادھر رسول اله صلی اللہ علہ علم کویہ اطلاع ملی کہ حضرت عثمان شہید کر دیئے
گئے، آپ نے لوگوں کو بیعت کی دعوت دی تمام لوگ جوش و وارستگی کے ساتھ آپ کے
چاروں طرف جمع ہو گئے آپ اس وقت ایک درخت کے نیچے تشریف رکھتے تھے۔
آپ نے اس پر پیجت کی کہ کوئی راہ فرار اختیار کرے گا سوا ل صلی الہ علیہ سلم نے خود اپنا
دست مبارک تھا اور فرمایا ایمان کی طرف سے ہے یہ وہی بیعت رضوان بھی وجود میں
له بیرت ابن ہشام ۲۲ ۳۱۵۰ که زاد المعادج اصل ۳۸ ۵۳ ايضا .
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۱
ببول کے ایک درخت کے نیچ انجام پائی اور اسکا ذکر قرآن مجید کی سب ہی آیات میں کیا گیا۔
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤمِنين (اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت
اذْيْنَا بِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجرة کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو قصد ان
فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَانزَلَ سے خوش ہوا، اور جو اصالت و خلوص)
السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمُ ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے
فتحاً قريباه
معلوم کر یا توان پرستی نازل فرمائی
(سوره فتح – ۱۸)
اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔
مذاکرات ثالثی اور صلح کی کوشش
صورت حال بھی قائم تھی کہ اچانک بدیل بن ورقاء اخر ائی اخرام کے چھ آدمیوں
کے ساتھ وہاں پہونچا اس نے ان عام گفتگو کرناچاہی اور دریافت کیا کہ آپ کی آمد کا
مقصد کیا ہے؟
رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے فرمایاکہ ہم لوگ کسی سے جنگ کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں
ہم صرف عمرہ کی نیت یہاں آئے ہیں قریش جنگ نے پہلی چور پر رکھا ہے اگروہ چاہیں
تو میں کچھ مدت اُن سے طے کرلوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان کا راستہ چھوڑ دیں،
اور اگر وہ چاہیں تو اس گروہ میںشامل ہو جائیں جن میں دو لوگ شامل ہوئے ورنہ انہیں کچھ اتے
آرام کا موقع توبل ہی جائے گا لیکن اگر جنگ کے علاوہ کوئی صورت ان کو قبول نہیں تو اس ذات
کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں اپنے اس معاملہ (دین کے سلسل میں جنگ کروں گا
یہاں تک کہ میرا سرتن سے جدا ہو جائے یا اللہ اپنے دین کو غالب فرمائے۔
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۲
جب تم میل نے ان کو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا پیغام پہونچایا تو عروہ بین
مسعود الثقفی نے کہا کہ ان لوگوں نے بہت سمجھ داری کی تجویز رکھی ہے میری رائے یہ ہے کہ تم
اس کو مان لو اور مجھے ان سے مل لینے دو اس لیے کہا ہاں جاؤ بات کر لو عروہ بن مسعود
سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ملے اور آپ نے ان سے گفتگو شروع فرمائی پر کنکھیوں
حابہ کرام کو دکھتے جاتے تھے جنکا حالیہ کار اگر آپ تھوکتے توکوئی کوئی اس کو ہاتھ
پر لے لیتا اور اپنے ہر وں پرل لیتا، آپکوئی حکم فرمائے تو شخص تعمیل کے لئے ہے کے
وضو فرماتے تو وضو کے پانی پر جان نثار اس طرح ٹوٹے کہ ریائی کا خطرہ ہونے لگتا، آپ
کلام فرماتے توسب ہمہ تن گوش ہوجاتے تو عظیم اور ادب کی وجہ سے کوئی آپ سے نظر ملانے
کی ہمت نہ کرتا عروہ نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں کا کہ اے قوم میں بادشاہوں دربار اکر اپنے ں نے کہا
میں گیا ہوں نے قیصر کری اور نجاشی کی کی شان نشا وشو بھی کچھی ہے لیکن خداکی قم می نے
نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے درباری مصاحبین ایسا ادب اور اس تعظیم کرتے ہوں جیسے
کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبھی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں انھوں جوکچھ یہاں
دیکھا اس کی تفصیل ان کو بتائی اور کہاکہ انھوں بہت اچھی تجویز رکھی ہے تم لوگ اس کہانی
معاہدہ و صلح نامه
اس در میان میں بنی کنانہ کا ایک شخوص (جس کا نام مکرز بین شخص تھا بھی رہا
پہونچا اور دونوں نے اپنے چشم دید واقعات قریش کے سامنے بیان کئے قریش نے سہیل بن عمرو
کو رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی خدمت مں روانہ کیا آپ نے ان کو دیکھتے ہی فرمایا کہ ان کو
له زاد المعادج اص۳۵
24
………………………………………………………………………………………………………………
بھیجنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح کے خواہشمند ہیں آپ نے کبھی فرمایا کہ معابر کی حریری دستاویز
تیار کرد
علم و حکمت کی جامعیت کی ایک مثال
آپ نے معاہدہ کی تحیر کے لئے کاتب جو حضرت علی کرم اللہ وجہ تھی طلب
رایا اور ارشاد ہوا لکھو بسم الله الرحمن الرحیم سہیل نے کہا جہاں تک حمان
کا تعلق ہے بخدا ہم اس سے واقف نہیں ہیں اسی پرانے دستور کے مطابق باسمك اللهم
کھا آپ نے فراک کا سالانہ ایک کرواتے ہیں ہم تو اللہ
الرحمن الرحیم لکھیں گے رسول ال لا الہعلیہ سلم ارشاد وا ا اما الماری کھو۔
پھر آپ نے فرمایا کہ کھو یہ وہ ہے جس کا الہ کے رسول نے معاہر کیا ہیں کر سہیل نے
کہا کہ خدا قسم اگر ہار اسپرایمان ہوا کہ اللہ کے سول ہی تو ہم آپ کو بیت اللہ
سے روکتے ہی کیوں ؟ اور آپ سے جنگ ہی کیوں کرتے آپ اس کی جگہ محمدبن عبدالل لکھیں۔
سول اللہ صل اللہ علیہ سلم فرمایا یا رسول ہوں خواتم جھٹلا کو مدین باللہ
آپ نے حضرت علی کو اکسانے کا کم یا حرا علی کہا کہ ایک تم مجھ سے یہ کام
نہیں ہو سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی جگہ دکھاؤ
انھوں نے آپ کو یہ جگہ دکھائی تو آپ نے اس کو خود مٹا دیا۔
صلح اور آزمائش
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللہ کےرسول نے یہ معاملہ اس پر کیا ہے کہ
اے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۱ نیز صحیح بخاری باختلاف بعض الفاظ ملاحظه هو کتاب المغازی باب
عمرة القضاء – ٥٣ صحیح مسلم كتاب الجهاد والسير باب صلح الحديبية
………………………………………………………………………………………………………………
تم لوگ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہ ہو اور ہم اس کا طواف کرلیں سہیل نے
کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ عربوں میں ایسا چرچا ہونے لگے کہ یہ معاہدہ ہم نے دب کر کیا ہے،
آئندہ سال آپ طواف کر سکتے ہیں آپ نے یہ دفعہ بھی معاہدہ میں شامل کرلی۔
سہیل نے کہا کہ جب بھی نام ہوگا کہ اگر ہمارے ہاں سے کوئی شخص آپ کے یہاں
چلا جائے خواہ وہ آپ ہی کے مذہب پر ہو تو آپ اس کو ہمیں پلٹ دیں گے مسلمانوں نے کہا کہ بھی الہ
اگر کوئی مسلمان ہو کر ہمارے پاس آتا ہے تو ہم اسکو مشرکوں کے حوالے کیسے کرسکتے ہیں؟
یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ اچانک ابو جندل بن سہیل بیڑیوں میں گرتے پڑتے پہونچے
وہ مکہ سے تشریف لائے تھے اورکسی طرح اپنے آپ کو مسلمانوں تک پہونچا دیا تھا نہیں
نے کہاے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ پہلا شخص ہے جس کی واپسی کا مطالبہ (عہد نامہ کی
رو سے ہیں آپ سے کرتا ہوں رسول اله صلی الہ علیہ نے فرمایا، ابھی توہم نے تریر بھی
مکمل نہیں کی، اس نے جواب دیا، اگر ایسا ہے توپھر میں کسی بات پر آپ سے معاملہ کرنے پر تیار
نہیں ہوں، آپ نے فرمایا میرے کہنے سے انھیں اجازت دید و اس نے کہا میں آپ کے
کہنے سے اجازت نہیں دے سکتا، آپ نے فرمایاکہ اچھا جو تھارا جی چاہے کرو اس نے کہا
مجھے کچھ نہیں کرنا ہے یہ سب سن کر ابو جندل بولے مسلمانوں میں مسلمان ہو کر آیا ہوں اور پھر
مشرکوں کو واپس کیا جا رہا ہوں کیا تم لوگ دیکھتے نہیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟
انھوں نے اللہ کے راستے میں سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اس
مطالبہ پر ان کو واپس فرما دیا، فریقین میں یہ بھی معاہدہ ہوا کہ دس سال تک دونوں
کشت و خون سے پر ہیز کریں گے تاکہ لوگ ان بر اظمینان کے ساتھ رہ سکیں اور کوئی کی ہے۔
له زاد المعارج اصل ۱۳۸ صحیح بخاری میں یہ واقعہ باب الشروط فی الجہاد کے تحت آیا ہے ۔
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۵
دست درازی نہ کرسکے دوسری بات یہ طے ہوئی کہ اگر قریش سے کوئی شخص اپنے ولی
و سر پرست کی اجازت کے بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنکلا تو اس کو واپس
کردیں گے اور اگر محمد کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص قریش کے پاس آنکلا تو وہ اس کو واپس
ن کریں گے نیز یہ کہ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کے مادو اور جوار حفاظت میں داخل
ہونا چاہے ہو سکتا ہے اس طرح جو قریش کے معاہد و اورجا ری آنا چاہے اسکو اس کی اجازت ہو گا۔
مسلمانوں کا امتحان
جب مسلمانوں نے یہ صلح اور واپسی کی بات سنی اور انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے کس طرح اس کو برداشت کیا تو یہ بات ان کے لئے اتنی روح فرسا ثابت
ہوئی کہ ان کی جان پر بن گئی یہاں تک کہ حضرت عمر حضرت ابو بکر کے پاس آئے
اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ہم سے نہیں فرمایا تھا کہ ہم لو باللہ
جائیں گے اور طواف کریں گئے ؟ انھوں نے کہا ہاں فرمایا تھا لیکن کیا انھوں نے
تم سے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ بھی جاؤ گے اور طواف بھی کرو گے لیے
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس صلح نامہ سے فارغ ہوئے تو آپ قربانی
کے بھانوروں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو جا کر ذبح کیا اس کے بعد حلق کردیا سلمانوں
کے لیے یہ بات کس سے بھی اس لے کہ مدینہ سے نکلے وقت ان کے دلی میں اس کا کسی
سوس بھی نہیں تاکہ انھی کہ جانے اور کرنے کا موقع مل سکے گاین جب
انھوں نے آپ کو قربانی کرتے اور حلق کراتے دیکھا تو سب اسی وقت تیزی سے
اه سیرت ابن ہشام ۳۱۸۰۲۵-۳۱۸ ۵۲ صحیح بخاری با بالشروط في الجهاد و المصالحة من اهل العرب
………………………………………………………………………………………………………………
کھڑے ہو گئے اور آپ کی اتباع کرتے ہوئے قربانی اور حلق میں مشغول ہو گئے لیے
ذلت آمیز صلح یا کھلی ہوئی فتح ؟
اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے اور راستے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں :
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَما مبينا اے محمد صل اللہ علیہ وسلم ہم نے تم کو
ليَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدم من فتح دی صریح درضا تا کہ خدا تمھارے
ذَنْبِكَ وَمَا تَأخر و اگے اور پھلے گناہ بھی ہے اورتم پر اپنی
عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِراطاً نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے
مُسْتَقِيمًا، وَيَنْصُرك الله راستہ پر چلائے اور بمدالتھاری
نصرا عزيزان (سوره فتح (۳) زیر دست مدد کرے۔
حضرت معروف الشرع نے عرض کیا یارسول ترکی ہی فت ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں
بصورت ناکامی حقیقت کامیابی
جب آپ مدینہ تشریف لے آئے آپ کے پاس قریش کا ایک آدمی پہونچا جس
کا نام ابوبصیر عقبہ بن اسید تھا، اس کی تلاش و تعاقب میں انھوں نے دو شخص بھیجے
اور وہ معاہدہ آپ کو یاد دلایا، چنانچہ آپ نے اس شخص کو ان دونوں کے حوالے کیا،
اور یہ دونوں اسے ساتھ لے کر واپس آگئے لیکن راستہ میں شخص کسی طرح کے نکلنے
میں کامیاب ہو گیا، اور سمندر کے ساحل پر آگیا، دوسری طرف ابو جندل بن سہیل بھی
لے تفصیل کے لئے دیکھیں زاد المعاد اصل ہے دیکھئے صحیح علم کتاب الجہاد والسیر باب کےلئے ادار مادی ہے میں مسلم اسباب
………………………………………………………………………………………………………………
کسی طرح ان کی زد سے نکل آئے اور ابو بصیر سے آملے اور اب یہ ہونے لگا کہ قریش کا
جو بھی مسلمان مکہ سے جان اور ایمان بچا کر نکلتا تو وہ سیدھا ابوبصیر سے جا ملتا، رفتہ
رفتہ ان کی پوری جمعیت تیار ہوگئی، یہ لوگ یہ کرتے کہ قریش کا ہو بھی قافلہ شام
جانے والا انھیں ملتا یہ اس کا راستہ روک کر اس کے مال اسباب پر قبضہ کر لیتے اور سب
قافلے والوں کو قتل کر ڈالتے، عاجز ہو کر قریش نے اللہ کا واسطہ اور رشتہ داری اور قرابت
کی دہائی دے کر رسول اللہ صل للہ علیہ سلم سے درخواست کی کہ آپ ان لوگوں کو ضرور
بلوا بھیجیں اب جو بھی آپ کے پاس پہونچے گا، وہ مامون و محفوظ رہے گا۔
یہ صلح فتح و ظفر میں کیسے تبدیل ہوئی؟
آخر میں پیش آنے والے واقعات نے یہ ثابت کر دکھا یا کہ صلح حدیبیہ سے
جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے موقف سے بہت کچھ اتر کر معا مرضا فرمایا
تھا اور قریش کا مطالبہ بان لیا تھا، اور انھوںنے بھی اس کو اپنی بڑی جیت اور نفع کا
سورد اسمجھا تھا اور سلمانوں نے اس کو اپنی ایمانی قوت اور نبی کی کامل اطاعت کے جذبہ ہے
برداشت کر لیا تھا) در اصل اسلام کے اقبال ظفر مندی کا ایک نیا دروازہ کھل گیا
اور اس کی وجہ سے اسلام کو جزیرۃ العرب میں اس قدر تیزی کے ساتھ فروغ ہوا کہ اس سے
پہلے کبھی نہ ہوا تھا، اس نے فتح مکہ کا بھی دروازہ کھولا اور اس کے نتیجہ بر قصر کسری توفی
نجاشی اور امراء عرب کو دعوت اسلام دی گئی اللہ تعالی نے بالکل صحیح ارشاد فرمایا ہے۔
وَعَسَى أَن تَكرَ هُوَ اشَيَا وھو خیر لكم نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے
له زاد المعادج اص۳۸
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۸
خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَن تحبوا اور وہ تمھارے حق میں بھلی ہو اور
شيئًا وَهُوَ شَرٌ لَكُمْ وَالله يعلم معجمہ نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور
وَأَنتم لا تَعْلَمُونَ وہ تمھارے لئے مضر ہوا اور ان باتو
( سورة البقرة – ۲۱۶)
)
خدا ہی بہتر جانتا ہے اور کو تم نہیں جانتے۔
اس صلح کے بہترین فوائد و نتائج میں ایک یہ بات بھی تھی کہ قریش نے مسلمانوں کی
حیثیت اور مرتبہ کو تسلیم کیا اور ایک باعزت اور طاقت ورفریق کی حیثیت سے جس کیساتھ
معاہدے کئے جاتے ہیں اور مذاکرات ہوتے ہیں ان کوان کی جائے جگہ دی اور شاید اس صلح کا
رہے بہتر نہ وہ جنگ بندی اور امن کی فضا تھی جس کی وجہ سے مسلمانو ان کو جو عرصہ سے
جنگوں کے ایک طویل ملے میں بھنتے ہوئے تھے او میں نے ان کی ساری توانائی اور قوت نچوڑی
تھی، اطمینان کی سانس لینے اسی قدر آرام کرنے اس پرسکون اور پرامن قدر میں کوئی
اور جمعیت خاطر کے ساتھ اس کی دعوت پہونچانے اور اور ای تبلیغ ادا کرنے کا بہترین وقت لگی۔
اس صلح کے مسلمانوں اور ترکوں کو جواب تک باہم دست وگریبان تھے ایک دوسرے
سے ملنے جلنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا اور اس کی وجہ سے اسلام
کے وہ محاسن مشرکین کے سامنے آئے جو اب تک اس قدر حسن و زیبائی کے ساتھ سامنے
نہ آئے تھے، مثلا شرک ثبت پرستی کی نجاست سے یکسر نفرت دشمنی و عداوت انسانی خون کی
پیاس اور قتل و غارت گری سے مکمل نفرت جو قومی شیوہ بن گیا تھا، اخلاقی قلب اہمیت
و انقلاب ہو پندرہ سال کی قلیل مدت میں ان لوگوں کی زندگی میں رونما ہوا تھا جوکسی ہوتی
قوم کے افراد یاکسی غیر ملک کے باشندے تھے انھیں کے ہم قوم ہم رنگ و ہم زبان تھے
انھیں کی طرح مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی ایک عمر انمیں کے ساتھ بسر ہوئی تھی اور ان کی کے تھی۔
………………………………………………………………………………………………………………
پھر یہی چیز کا کرشمہ تھا کہ وہ ان چند برسوں میں مٹی سے کسی اور پھر سے بارس بن گئے تھے؟
اسلام کی تعلیمات اور صحبت نبوی کے سوا کوئی چیز اہل کہ اور ان مہاجرین کے درمیان فرق
کرنے والی نہ تھی چنانچہ ایک سال بھی اس صلح پر نہ گزرا تھا، اور کبھی بھی فتح ہونا باقی تھا
کہ عربوں کی اتنی بڑی تعداد حلقہ بگوش اسلم ہوئی گذشتہ پندرہ برسوں برای قدری ہوئی تھی۔
امام ابن شہاب زہری (م ) کہتے ہیں اسلام کو اس سے پہلے اتنی بڑی
کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی جب فریقین (قریش اور سلمان میں صلح ہوئی، جنگ بندی کا
اعلان ہوا، اور لوگ بلاخوف و خطر ایک دوسرے سے ملنے لگے اور ان کو ساتھ رہنے اور یا جیت
کرنے کا موقع ملابس مجھ وارد سے اسلام کے بلے پر گفتگوی گی وہ دائر اسلامی داخل کیا۔
تنہا ان دو برسوں میں اتنے آدمی داخیل اسلام ہوئے جلتے اب تک ہوئے تھے۔
بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ
ابن ہشام کہتے ہیں۔ زہری کے قول کی مزید دلیل یہ ہے کہ رسول اله صلی اللہ علیہ
سلم کے ساتھ حد معینہ میں بروایت جابر بن عبد اللہ چودہ سو آدمی تھے اس کے دو سال
بعد فتح مکہ کے موقع پر آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کی جمعیت تھی ہے۔
اس جنگ بندی اور الحنامہ کی بدولت ان سلمانوں کو فائدہ پہونچا جو ہمیں اپنی
مجبوری ولی لسی کی وجہ سے باقی رہ گئے تھے اور قریش کے استہزاء وامانت کارت بنے ہوئے تھے
اور ابو جندل کے ہاتھ پر قریش کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلم قبول کیا، اسلام کے اس سے
دائی اور ان کی یہ کوشش اور اسلام کا کم می فروغ مشرکین کے لئے ایک درد سربن گیا۔ درد سربن
یہ سب لوگ ابو بصیر کے کاروان حق سے ملے اور دیکھتے ہی دکھے اسلام کی دعوت
ے سیرت ابن ہشام ج۲ ص۳۲۲ ۱۲ ایضا
………………………………………………………………………………………………………………
وقوت و شوکت کا ایک بڑا مرکز تعمیر ہو گیا قریش کو اس کی بڑی فکر دامن گیر ہوئی انھوں نے
رسول اله صل اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو مدینہ بلا لیں چنانچہ آپ نے
ایساہی کیا اور اس طرح جس تنگی مصیبت میں یہ لوگ گرفتار تھے اس سے ان کو نجات ملی کی سب
در اصل اسی صلح کی برکت اور جنگ بندی کے اسی میا کا نتیجہ تھا اس مصالحانہ اور امن
پسندانہ رویہ کا جو آپ کے اس موقع پر اپناتا ہی جن کے علم میں صلح جوئی کے جذبہ اور بردباری
و اعتدال کے جس طرز عمل کا آپنے اظہار کیا اس کا یہ ای تا اکیلاک وہ عرب قبائل جو ابھی
اسلام مں داخل نہیں ہو تھے اس دین اوراس کی عالی ای کوئی نظرسے دکھنے لگے ان دوں پر اسلام کی
عظمت اور اس کا وہ احرام اور میت پیدا ہوگئی جو اس پہلے بھی یہ ایک یا تیلینی و وتی نا تھا
جو معمولی نہیں کہا جاسکتا اس کی وایاں ہی کی گئی۔
خالدبن ولید اور عمر و بن العاص
صلح حدیبیہ یوں کی فاتح ثابت ہوئی، چنانچہ خالد بن الولید نے (جو قریش
کے سوار افواج کے سپہ سالار تھے، اور جنھوں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے تھے، صلح حدیبیہ
کے بعد ہی اسلام قبول کیا ، رسول الله صل اللہ علیہ وسلم نے انھیں سیف اللہ (خدا کی
تلوار) کا لقب مرحمت فرمایا وہ راہ خدا میں ہر طرح کا میاب با مراد اور سر خورد و سر فراز
ہوکر نکلے اوراللہ تعا نے ان کے ہاتھوں سے شام کا علاقہ فتح کروایا۔
عمرو بن العاص نے بھی جو ایک بڑے سپہ سالار اور جونی ت تھے اور بعد میں قاری مصر
کی حیثیت سے سامنے آئے اسی زمانہ میں اسلام قبول کیا، دونوں صلح حدیبیہ کے بعد
مدینہ طیبہ حاضر ہوکر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اور مراتب علیا حاصل کئے۔
له زاد المعاد ج ۱ ۳۸۵-۳۸۹ دیکھئے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۲۷۷۰-۲۷۸