Ghazwah Hunain

۴۵۷

غزوہ حنین

(شوال شه)

شمع اسلام کو پھونکوں سے بجھانے کی ایک ور ناکام کوشش

جب فتح مکہ کی مکمل ہوگئی اور لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں اسلام

قبول کرنا شروع کیا تو اس وقت گردو پیش کی آبادی نے اسلام اور مسلمانوں کے

خلاف اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے مقابلہ اور جزیرۃ العرب میں اسلام کے فروغ اور اشاعت کو روکنے کی ایک مایوسانہ

کوشش تھی۔

ہوازن کا اجتماع

قبیلہ ہوازن قریش کے بعد نمبر دو کی طاقت سمجھی جاتی تھی ان کے اور

قریش کے درمیان رقابت اور مقابلہ کا جذبہ پہلے سے موجود تھا چنانچہ قریش نے

اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کے سامنے ہتھیار رکھ دیئے اور اپنی شکست تسلیم

کر لی لیکن ہوازن نے اپنا سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ اس کے اندر یہ جذبہ

اور شوق پیدا ہو گیا کہ اسلام کی بیخ کنی کا سہرا اُس کے سر بندھے اور عرب میں

30

………………………………………………………………………………………………………………

………………………………………………………………………………………………………………

۴۵۷

غزوہ حنین

(شوال شه)

شمع اسلام کو پھونکوں سے بجھانے کی ایک ور ناکام کوشش

جب فتح مکہ کی مکمل ہوگئی اور لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں اسلام

قبول کرنا شروع کیا تو اس وقت گردو پیش کی آبادی نے اسلام اور مسلمانوں کے

خلاف اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے مقابلہ اور جزیرۃ العرب میں اسلام کے فروغ اور اشاعت کو روکنے کی ایک مایوسانہ

کوشش تھی۔

ہوازن کا اجتماع

قبیلہ ہوازن قریش کے بعد نمبر دو کی طاقت سمجھی جاتی تھی ان کے اور

قریش کے درمیان رقابت اور مقابلہ کا جذبہ پہلے سے موجود تھا چنانچہ قریش نے

اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کے سامنے ہتھیار رکھ دیئے اور اپنی شکست تسلیم

کر لی لیکن ہوازن نے اپنا سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ اس کے اندر یہ جذبہ

اور شوق پیدا ہو گیا کہ اسلام کی بیخ کنی کا سہرا اُس کے سر بندھے اور عرب میں

30

………………………………………………………………………………………………………………

اس کے اس کارنامہ کی شہرت ہوا اور لوگ کہیں کہ جو کام قریش نہ کر سکے اس کو

ہوازن نے کر دکھایا۔

قبیلہ کے سردار مالک بن عوف النضری نے اعلان جنگ کیا خود ان کے

قبیلہ ہوازن کے ساتھ پورے قبیلہ ثقیف اور قبائل نصر وجیم اور سعد بن بکر نے

ان کی آواز پر لبیک کہا ، کعب اور کلاب نے ان کی حمایت نہیں کی سب نے مل کر

صف آرائی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیش قدمی کا پروگرام

بنایا اور مال و متاع، عورتیں اور بچے شکر کے ساتھ رکھے تاکہ گھر والوں کی عزت

و ناموس کے خیال سے وہ پامردی سے مقابلہ کریں اور راہ فرار اختیار نہ کر سکیں۔

اس محرکہ میں درید بن الصمہ بھی شریک تھا، جو ایک سن رسیدہ اور تجربہ کار

شخص تھا اور بہت عقلمند اور صائب الرائے سمجھا جاتا تھا ان کا لشکر اوطاس

میں اترا ، حالت یہ تھی کہ اونٹوں کی بلبلاہٹ گدھوں بچوں کی چیخ پکارا بکریوں

کے ممیانے اور بچوں کے رونے چلانے سے شکر کے اندر ایک شور بر پا تھا مالک بن

عوف (سردار قبیلہ نے اپنے سپاہیوں کو ہدایت کی کہ تم مسلمانوں کو دکھنا تو (سردار قبیلہ)

اپنی تلواروں کے نیام توڑ دینا اور ایک ساتھ پوری طاقت سے حملہ کر د نیا

دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے دو ہزار مسلمان تھے

جن میں سے کچھ لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے کچھ لوگوں کے ابھی اسلام قبول کرنے کی

نوبت نہیں آئی تھی اس کے علاوہ آپ کے اصحاب کرام اور فدائیان اسلام کی

لے قبیلہ ہوازن کے علاقہ میں طائف کے نزدیک ایک مقام ہے جہاں غزوہ حنین پیش آیا ۔

سیرت ابن ہشام ج ۴۳۴۵ – ۴۳۹

……………………………………………………………………………………………………………

۲۵۹

دس ہزار فوج آپ کے ساتھ تھی، جو مدینہ سے آپ کے ساتھ نکلے تھے اس طرح

ان کی تعداد اب تک کے تمام غزوات سے زیادہ تھی یہ دیکھ کر چھ سلمان کہنے لگے کہ

آج ہم قلمت تعداد کی وجہ سے شکست نہیں کھا سکتے کثرت تعداد پر ان کوایک طرح کا

ناز سا ہو گیا۔

اس موقع پر رسول اللہ اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے ربا وجود

اس کے کہ وہ مشرکین میں سے تھے، کچھ بند میں اور ہتھیار وغیرہ مستعار لئے اور

ہوازن کے معرکہ کی نیت سے تشریف لے چلے گیے

اب بہت پرستی واپس نہیں آسکتی خواہ کی شکل میں ہو

سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس لشکر میں کچھ ایسے افراد بھی تھے

جو ابھی ابھی تازہ تازہ جاہلی زندگی کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئے تھے قصہ

یہ تھا کہ عرب میں بعض قبائل کو ایک بڑے اور سرسبز درخت سے جس کا نام ذات

انواط تھا خاص عقیدت تھی، وہ اس میں اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، قربانیاں

کرتے تھے، اور ایک دن اس کے نیچے قیام کرتے تھے، چنانچہ جب دوران سفر میں

یہ درخت انھیں نظر آیا تو جاہلیت کی ان قدیم رسموں اور باتوں کو یاد کر کے

اور ان زیارت گاہوں کو دیکھ کر ان کے منھ میں پانی بھر آیا اور بے ساختہ کہنے لگے

یا رسول اللهم اجیا ان لوگوں کا ذات انواط تھا، ویسا ہی ایک ہمارے

لئے بھی مرکز عقیدت تجویز فرمادیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

لے تفسیر طبر کا اصل ۶۳ ۵۲ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص

………………………………………………………………………………………………………………

ب سن کر فرمایا اللہ اکبر اس کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے تم نے مجھ سے ایسی

فرمائش کی ہے پہلے موسیٰ کی قوم یہود نے موسیٰ سے کی تھی اور کہا تھا۔ اجعل

تَنَا اللَّرِيَّا كَمَا لَهُمُ الهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ (آپ ہمارے لئے بھی

ایک معبود بنا دیئے جیسے ان کے بہت سے معبود ہیں انھوں نے جواب دیا کہ تم

بڑی جہالت کی باتیں کرنے والی قوم ہو، پھر آپ نے فرمایا بے شک تم اپنی پیشرو

قوموں کی ایک ایک بات اور طریقہ کی پیروی کرو گے۔

وادی حنین میں

جب مسلمان وادی حنین میں پہونچے تو شوال کی دس تاریخ رشتہ تھی،

انھوں نے صبح کے دھندلکے میں نشیب کی طرف اترنا شروع کیا ہوازن ان سے پہلے

اس وادی میں پہونچ چکے تھے اور اس کی گھاٹیوں اتنگ راستوں اور آڑوں

میں کمین گا ہیں اور مورچے بنائے تھے، مسلمانوں کو صرف اتنا نظر آیاکہ انھوں نے

ان کو اپنے تیروں پر رکھ لیا ہے اور تلواریں بے نیام ہیں انھوں نے ایک ساتھ اور

ایک وقت میں بھر لو پر حملہ کیا، وہ مانے ہوئے تیر انداز تھے۔

اکثر مسلمان اس اچانک حملے سے گھر کر پچھے کی طرف پلے کوئی کسی کو دیکھنا نہ

تھاکہ وہ کہاں ہے۔ یہ ایک خطرناک اور ہی کی قسم کا تھا اور قریب تھا کہ جنگ کا پان مسلمان

کے خلاف پلیٹ جائے پھر اس کے بعد ان کو سمجھنے اوراپنا مرکز قائم رہنے کی بھی بخٹ

لے سورہ الاعراف – ۱۳۸ ۵۲ سیرت ابن ہشام ج ۲ ، اصل روایت صحاح میں بھی ہے۔

ابن ہشام ۴۳۰ – ۴۳۳ ۵۲ زاد المعاد ج ۱ ص ۲۴

………………………………………………………………………………………………………………

نہ رہے یہاں جو کچھ ہوا وہ غزوہ احد سے بہت مشابہ تھا، جب یہ مشہور ہو گیا تھا کہ

رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم شہید ہو گئے ہیں اور وہاں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔

دشمنوں کی شماتت اور ضعیف الایمان لوگوں کی نفریشیں

کر کے اکٹھ لوگ جو آپ کے ہمراہ اس لشکر میں تھے اور جن کے دلوں میں ابھی ایمان

اندانہ تھا، ہزیمیت کی شکل دیکھ کر مختلف باتیں کرنے لگے، دلوں کا چھپا ہوا کینہ

اس وقت ان کی زبانوں پر آ گیا، انھوں نے کہا اب سمندر سے ادھر ان کی ہریت

کا سلسلہ ختم نہ ہو گا بعض لوگ کہنے لگے آج ان کا جادو ٹوٹ گیا۔

فتح اور سکینت

مسلمانوں کو جس قدر نا دیب اور تنبیہ اللہ تعالی کو منظور تھی وہ ہو گئی اور

کثرت تعداد پرخوش ہونے کی وجہ سے اللہ تعالے نے انکو فتح کی حلاوت کے بعد

پھر شکست کی تلخی کا مزہ بھی چکھایا تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہوا اور فتح سے ان کے اندر

کوئی اتراہٹ اور ہریت سے کسی قم کی مایوسی پیدا نہ ہو تو اسے پھر انکو حمل کی پوزیشن

میں پہونچا دیا، اور اپنے رسول اور تمام مسلمانوں پر ایک قسم کی سکینت نازل فرمائی جناب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے سفید رنگ خچر (شہباء) پر اپنی جگہ

اسی طرح بے خوف و بے تردد تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ مہاجرین انصار

اور اہل بیت کے بہت کم افراد باقی رہ گئے تھے، عباس بن عبد المطلب بضی اللہ عنہ

سیرت ابن ہشام ج ۲ ۲۲ ۳ ۴۴ اختصار کے ساتھ۔

………………………………………………………………………………………………………………

آپ کے خچر کی لگام تھامے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے تھے۔

انا النبی الا كذب .

انا ابن عبد المطلب

میں پیغمبر صادق ہوں ۔

میں فرزند عبد المطلب ہوں ۔

اس حالت میں جب مشرکین کے دستے آپ کے سامنے آئے تو آپ نے ایک مٹھی

مٹی لے کر دشمنوں کی آنکھوں میں دور تک اس طرح پھینک دی کہ وہ ان کی آنکھوں میںبھر گئی۔

جب آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ہر شخص اپنی فکرمیں ہے تو ارشاد ہوا کہ عباس بہ آواز

ولة يا معشر الأنصاريا أصحاب السمرة (اے انصارائے بول کے درخت والا)

انھوں نے سنتے ہی کہا لبیک البیک ان کی آواز بہت بلند تھی جب ان کی آواز کسی آدمی

تک پہونچی تو وہ اسی وقت اپنے اونٹ سے کو پڑھا اور اپنی تلوار اور ڈھال ہے کہ رسولا بشیر

صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو جاتا جب ایک جماعت اس طرح تیار ہوگئی توانھوں نے

کفار سے مقابلا شر کر دیا اوردونوں فرق کئے گئے رسول ا صل اللہ علیہوسلم اپنے

دستہ کے ساتھ بلندی پر تشریف لائے آپ نے دیکھا کہ دونوں فریق بر سر پکار میں منظر

دیکھ کر آپ نے فرمایا اب نور گرم ہوگیا ہے ( زور کارن پڑا ہے) اس کے بعد آپ نے

کچھ کنکریاں لے کرکفار کی طرف پھینک دیں عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد

میں برابر دیکھتا رہاکہ دشمن کی تیزی ماند پڑ رہی ہے اور وہ پسپا ہوتے نظر آرہے ہیں۔

ل صحیح بخاری رباب قوله تعالى اذا عام کو بیکم) اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ

ابوسفیان بن الحارث آپ کے سفید خچر کی باگ تھامے ہوئے تھے یہ روایت صحیح مسلم باب غزوہ حین میں

بھی ہے ہے اس سے مراد وہ درخت ہے، جس کے نیچے انھوں امریکہ میں بیعت رضوان کی تھی عربی میں

بول کے درخت کو سر کہتے ہیں اس لئے اصحاب السمرة كالفت باگیا۔ سے بہتر ابن ہشام ج ا ا حمى الوطيس

تنور گرم ہو گیا ہے اس موقع پر اس عربی محاورہ کا ستعمال سے پہلے آپ کی زبان مبارک سے ہوا ہے کہ صیح مسلم

………………………………………………………………………………………………………………

۳۶۳

دونوں فریق اچھی طرح لڑے اور ابھی شکست کھا کر لوگ پوری طرح واپس بھی

نہیں ہوئے کہ ان کے قیدی جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کی خدمت مبارک میں حاضر نظر آئے۔ اللہ تعالی نے فتح و نصرت کے فرشتے نازل فرمائے

اور پوری وادی اُن سے بھر گئی ، اس طرح ہوازن کی شکست اتمام تک پہنچی۔

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو ڈوری ہے

كثيرة ويوم من الم اور جنگ میو میں کے دن جب ہم اپنی

كثرَتُكُمْ فَلم نين عنكم شيئاً جماعت کی کثرت پر تھے تو وہ

وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرض بما تھانے کچھ بھی کام نہ آئی اور زمین

حَبْتُ ثُمَّ وليتم مدبرین با وجود اتنی بڑی فراخی کے تم پینگ

ثُمَّ أَنزَلَ الله کینتہ علی ہوگئی تھی پھر پھر کر یں گے پھر خدانے

وَأَنْزَلَ جُنُودً الَّمْ تَروها تسکین نازل فرمائی اور ہماری دو

وَعَذَابَ الَّذِينَ كَفَرُواء مدلل کو فرشتہ کے شکریہ تھیں نظر نہیں

جزاء الكفرين.

آتے تھے ( آسمان سے انا ہے اور کافروں

( سورة التوبة: ۲۵-۲۶) کو عذاب بالا ویر کرنے والوں کاہی پرام

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آخری جنگ

عربوں کے سینہ میں اسلام او مسلمانوں کے خلاف جو آگ سلگ رہی تھی وہ

سے سیرت ابن ہشام ۲ ۲۶۵ که ایضا م ۴۳ صحیح مسلم میں کتاب الجہاد والسیر

کے تحت غزوہ حنین کے باب میں یہ واقعہ با تفصیل بیان کیا گیا ہے۔

………………………………………………………………………………………………………………

غزوہ حنین کے بعد ٹھنڈی پڑ گئی، اس لئے کہ اس لڑائی نے ان کی باقی ماندہ طاقت بھی ختم کر دی اور ان کے ترکش کے سارے تیر بیکار کر دیئے ان کی جمعیت ذلیل اور

پراگندہ ہوگئی، اور ان کے دل قبول اسلام کے لئے کھل گئے۔

اوطاس میں

ہوازن کی شکست کے بعد ان کے ایک گروہ نے جس میں سردار قبیلہ مالک بن

عوت بھی تھا، طائف میں جا کر پناہ لی اور وہاں اپنے کو قلعہ بند کر لیا ایک دوسرے دستہ

نے پھیل کر اوطاس میں پڑاؤ ڈال دیا، ان کے تعاقب کے لئے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم

نے ایک مرتبہ ابو عامر الاشعری کی سرکردگی میں روانہ فرمایا جس نے ان سے جہاد کیا اور انکو

شکست دی حنین کا مال غنیمت اور باندیاں وغیرہ آپ کے پاس پہونچیں تو آپ نے

ان سب کو حیرانہ بھجوا دیا اور ان کو وہاں حفاظت و حراست میں کر لیا گیا ہے

غلاموں اور باندیوں کی تعداد چھ ہزار تھی اونٹ چوبیس ہزارہ بکریاں چالیس

ہزار سے زیادہ اس کے علاوہ چار ہزار اوقیہ چاندی، اس میں شامل تھی یہ سر سے

بڑا مال غنیمت تھا جو اب تک مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین میں اپنے اصحاب کرام اور رفقائے

ار کا نام پر کام کا کے لے ہاتھ اٹھایا

جائے آپ نے ایک عورت کے قتل پر جو چنین میں ماری گئی تأسف کا اظہار فرمایا۔

نے ابن کثیر ج ۳ صترانة مکہ معظمہ سے شمال مشرق راستہ پر ایک اہم منزل ہے۔

سیرت ابن ہشام ج ۲ ص۳۵ که بسیرت ابن کثیر ج ۳ ص۶۳۵