۵۲۹
وفات
ربیع الاول سلامه )
تبلیغ دعوت اور اجرائے شریعت کا نقطہ عروج اور تصال حق کی تیاری
جب دین نقطہ عروج اور منتہائے کمال کو پہونچ گیا اور یہ آیت نازل ہوگئی ۔
الْيَوْمَ الملت لكم دينكم (اور) آج ہم نے تمارے لئے
فَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نعمتی تمھارا دین کامل کر دیا، اور اپنی
وَرَضِيتُ لَكُم الاسلام نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے
دینا۔ (سورہ مائدہ (۳) لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ے پیغام ہدایت لوگوں کو پہونچا دیا، امانت الہی
بے کم و کاست پہونچا دی اور راہ حق میں قربانی اور جانفشانی کا حق ادا کر دیا، اور
ایک ایسی امت تیار کر دی جو نبوت کی ذمہ داریوں کو منصب نبوت پر فائر کیے بغیر
انجام دے سکتی تھی، اور اس کو اس دعوت کا علمبرار اور اس دین کو تحریف سے نجام دےسکتی اور کو اس علمبردار اور دین کو
محفوظ رکھنے کا ذمہ دار بنایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
كنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَت (مومنو اجتنی انہیں (یعنی قومیں)
النَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالمعروف لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سے
………………………………………………………………………………………………………………
وَتَهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُوْمِنُونَ بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو
بالله (سوره آل عمران – ۱۱۰) اور بڑے کاموں سے منع کرتے ہو اور
خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وجہ اس دین کی اساس اور ایمان
ویقین کا سر خیمہ اور متبع ہے ) حفاظت اور بقا کی ذمہ داری بھی لے لی اور فرمایا :۔
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ بے شک یہ (کتاب) نصیحت یہ ہیں
لحافظون (سوره حجر – 9) نے اتاری ہے اور ہمیں اس کے
نگہبان ہیں۔
دوسری طرف اس نے اس دین کی طرف لوگوں کے رجوع عام اور بڑی بڑی
جماعتوں اور قبیلوں کے قبول اسلام سے اپنے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور پورے
عالم میں اس کے فروغ اور اشاعت کے آثار ظاہر ہونے لگے اور صاف نظر آنے لگا کہ
دیکھتے ہی دیکھتے یہ دین دنیا کے سارے مذاہب پر غالب آجائے گا سورہ النفر
میں اللہ تعالیٰ نے اس کا اشارہ بھی فرما دیا ہے :-
إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله والفتم جب اللہ کی مدد پہنچے اور فتح الحال
وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ ہوگئی اور تو نے دیکھ کر کہ لوگ قول کے
فِي دِينِ اللَّهِ اقواماً نستیم قول خدا کے دین مبین داخل ہو رہے ہیں
بحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِره تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ وہیے
إِنَّهُ كَانَ تَوَّابَاهُ کرو اور اس سے مغفرت مانگو بے شک
(سوره نصر – ۱-۳)
وہ معاف کرنے والا ہے۔
b
………………………………………………………………………………………………………………
۵۳۱
قرآن مجید کا دور اور اعتکاف میں اضافہ
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف میں اس قدر اضافہ فرما دیا کہ رسال
آپ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی وفات
ہوئی ، آپ نے بیس روز کا اعتکاف فرمایا
حضرت جبرئیل کرمضان کی ہر شب میں آپ سے آکر ملنے اور آپ ان کے
ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے، لیکن اس سال آپ نے فرمایا کہ اس مرتبہ وہ
ایک کے بجائے دو بار آئے ہیں اس سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میر وقت قریب آگیا ہے۔
اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تقاء رب اور وصال حق کی اجازت
عطا فرمائی جن سے زیادہ اس کی ملاقات کا شوق و اشتیاق اور کس کو نہیں ہوسکتا
تھا، اللہ تعالے کو بھی اس نقاء کا اشتیاق تھا، اور آپ کو بھی اس کا غایت درجہ
شوق اور اور آرزو تھی۔
اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو جن سے بڑھ کر آپ کا چاہنے والا روئے زمین پر
کوئی اورنہ تھا، آپ کی خبروفات سنتے اور اس صدمہ عظیم کو برداشت کرنے
کے لئے جس سے کوئی چارہ نہ تھا، پہلے سے تیار کر دیا تھا، اس سے پہلے غزوہ احمد
میں ان کو آپ کی شہادت کی اچانک خبر ملی تھی، پھر بعدمیں علوم ہوا کہ یہ شیطان کی
سازش اور پھیلائی ہوئی افواہ تھی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی حیات طیبہ
ے صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب الاعتكان في العشر الاوسط من رمضان
سے صحیح بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة “
………………………………………………………………………………………………………………
اور صحبت سے فائدہ اٹھانے کا ایک موقع عطا فرمایا ہے، اگر چہ یہ حادثہ بہر حال
کسی نہ کسی روز پیش آنے والا ہے، چنانچہ الہ کا ارشاد ہوا کہ :
وَمَا مُحَمَّد الا رسول قد خلت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف
مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَان مات (خدا کے پیغمر میں ان سے پہلے بھی
أو قبل انقَلَبْتُ على اعقا بکھر بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں پھلا
وَمَنْ يَنقَلِبُ عَلَى عقبه اگر ان کی وفات ہو جائے یا شہید
فَلَن تَمِ الله شیشان کر دیئے جائیں تو تم اسے پاؤں پھر
و سجزى الله الشکرین جاؤ گے ؟ این مر تم ہو جاؤ گے اور
(سورہ آل عمران (۱۴۴) جولائے پھرجائے گا تو خدا کا چھ نقصان
نہیں کر سکے گا اور خدا شکر گزاریں
کو ر بڑا ثواب دے گا۔
یہ اولین مسلمان جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین تربیت فرمائی تھی
اور ان کے دلوں کو اللہ تعالے کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا، اور دنیا کے دور دراز گوشوں
اور دور افتادہ قوموں تک اسلام کا پیغام پہونچانے کے عظیم اور مقدس کام میں
ن کو مشغول کر دیا تھا، اس بات کا پورا یقین رکھتے تھے کہ آپ کسی نہ کسی دن
اس عالم فانی کو چھوڑ کر ان سے بعدا ہو جائیں گے، اور اپنی اس طویل محنت قربانی
ان
کا بہترین نمرہ اور جزاء حاصل کرنے کے لئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائیں گئے
جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَاللہ کی آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے مجھ لیا کہ
یہ آیت جدائی کی گھڑی کا پیش خیمہ اور اعلان ہے، اس لئے کہ نبوت کا کام پایہ تکمیل تک
………………………………………………………………………………………………………………
پہونچ چکا ہے اور خدا کی نصرت اور فتح آچکی ہے۔
جس وقت آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم ” نازل ہوئی تو اس وقت )
بہت سے جلیل القدر صحابہ نے محسوس کیا کہ آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔
لفاء مولی کا شوق اور دنیا کو وداع
حجة الوداع سے واپسی کے بعد رسول اللہ علیہ سلم سے ایسی باتیں ظاہر کریں
جن سے اشارہ ملتا تھا کہ آپ کی وفات کے دن قریب ہیں اور آپ اس سفر کے لئے تیار
اور الرفیق الاعلیٰ سے ملنے کے مشاق ہیں آپ نے احد کے شہداء کے لئے آٹھ سال
کے بعد اس طرح دعاکی کہ جیسے آپ عنقریب اپنے اصحاب کرام سے بعدا ہونے والے
ہیں ، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو رخصت کرنے والا کرتا ہے ۔
پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میں تمھارے آگے جانے والا ہوں اور
تم پر گواہ ہوں، اب تم سے ملاقات مومن کوشی پر ہوگی میں اپنے کو اس مقام پر کھڑا
ہوا دیکھ رہا ہوں، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں مجھے یہ ڈر نہیں کہ
تم میرے بعد شک کرنے لگے کہیں اس سے ڈتا ہوں کی حصول دنیا میں ایک سرے سے
آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو اور یہی گذشتہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں تم بھی بلاک ہو جاؤ۔
اے ابن عباس کہتے ہیں کہ جہاں تک میں جانتا ہوں اس رسول اللہصلی اللہ علیہ سلم کی وفات مراد
ہے امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب اذاجاء نصر الله والفتح
نازل بھی تورسول اللہ لا الہ الہ وسلم فرمایا مجھے اس سورہ میں اپنی وفات کی خبر دی گئی ہے (دیکھئے
تغیر ابن کثیر ہے دیکھئے ابن کثیر سے صحیح سلم میں جابر رضی اللہ عہ سے یہ روایت آئی ہے کہ آپنے
جمرة العقہ کے قریب کی کریم لگو را مجھ سے ایک یا اس کا یارا سال کے بی جی کا تو ہے
………………………………………………………………………………………………………………
۵۳۴
علالت کا آغاز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو شکایت ماہ صفر کے آخرمیں پیدا ہوئی ، اس کا
آغاز اس طرح ہوا کہ آپ نصف شب کو جنت البقیع تشریف لے گئے اور
اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر اپنے گھر تشریف لے آئے ، جب صبح ہوئی تو
اسی روز سے علالت شروع ہوگئی ہے
ام المومنین حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بقیع سے واپس آئے تو آپ نے مجھے اس حالت میں پایا کہ میرے سری سخت درد تھا
میں کہ رہی تھی کہ میرے سری کتنی تکلیف ہے ، آپ نے فرمایا نہیں میرے سر میں کتنا
درد ہے عائشہ میرے سر کی کتنی تکلیف ہے ، علالت میں ترقی ہوئی ، اس وقت
آپ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ، آپ نے تمام ازواج مطہرات کو طلب فرمایا
اور ان سے اجازت چاہی کہ آپ بیماری کا زمانہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گذاری
انھوں نے اس کو بخوشی منظور کیا ، آپ گھر کے دو افراد کے سہارے جن میں ایک فضل بن
عباس اور دوسرے حضرت علی نے تھے ، وہاں سے تشریف لے چلے سر مبارک پر پٹی بندگی
ہوئی تھی ، آپ کے قدم زمین پر گھنٹے تھے اسی طرح آپ حضرت عائشہ کے گھر تشریف لے یا
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آپ اس مرض میں جس میں آپ کی وفا ہوئی ،
یہ احادیث کے تنقیح اور قول راج کی بنیاد پر یہی معلوم ہوتا ہے ، اور اغلب ہے کہ یہ دوشنبہ کا
دن تھا۔ سہ سیرت ابن ہشام ج ۲ ۱۳ و این کثیر ج ۱۳۳۲ ۳ این ابشار ج ۱۳۳
سے صحیح بخاری (باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفانہ)
……………………………………………………………………………………………………………
یہ فرماتے تھے کہ عائشہ میں اس کھانے کی تکلیف اب تک محسوس کرتا ہوں جو میں نے
خیبر میں کھایا تھا، اس وقت اس زہر سے میری رگ (ہا بہتر کٹ رہی ہے۔
آخری شکر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک شکر کا امیر
بنا کر شام بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ ان کے گھوڑے بلقاء اور داروم کی سرزمین تک
ضرور جائیں جوار من فلسطین کا حصہ ہے۔
اس لشکر میں آپ نے مہاجرین و انصار کے چیدہ اور برگزیدہ اصحاب کو
شامل فرمایا جن میں سب سے نمایاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے آپ نے ان کو سخت بیماری
کی حالت میں وہاں پہونچنے کاحکم دیا۔ اس وقت اسامہ کا لشکر جرمن میں خیمہ
انداز تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ
نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے اسامہ کے لشکر کی پیش قدمی
ملتوی نہیں کی بلکہ اس پر پورا پورا عمل کیا۔
جیش اسامہ سے آپ کی پچیسی و اہتمام
رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے محسوس یا کہ لوگ ہیں اسامہ کے معام میں کسی قدر
ے صحیح بخاری معلقا ( باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفانہ حافظ بیہقی نے حاکم سے اور انھونے
زہری سے بھی اس کو روایت کیا ہے، دیکھئے ابن کثیر ، ہے زہر اس رگ کو کہتے ہیں جو پٹھے
سے نکل کر دل سے مل جاتی ہے وہ اگر کٹ جاتے تو آدمی مر جاتا ہے ۱۳ این امام ج ۲ این شیری
36
………………………………………………………………………………………………………………
۵۳۶
سنتی سے کام لے رہے ہیں، اس سے پہلے لوگوں نے اسی طرح کی باتیں کی تھیں کہ
ایک نو عمر لڑکے کو جلیل القدر صحابہ مہاجرین و انصار کا امیر بنایا گیا ہے رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم اسی درد کی حالت میں سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف
لائے اور منبر پر بیٹھ گئے پہلے اللہ تعالی کی وہ حمد و ثنا بیان کی جو اس کی شان کے
لائن ہے پھر زیبا کہ لوگو! اسامہ کے شکر کو روانہ کرو، اگر آج تم ان کی امارت کے
بارے میں چہ میگوئی کرتے ہو تو کل تم نے ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا
تھا، بے شک وہ امارت کے لائق اور اس کے مستحق ہیں جیسے ان کے والد اس کے وہ امارت کے لان اور اس کے سنتی ان
مستحق تھے اتنا فرما کہ آپ منبر سے نیچے اتر گئے اور لوگ تیزی کے ساتھ تیاریوں میں
مشغول ہو گئے ادھر سول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی علالت پہلے سے بہت بڑھ گئی
دوسری طرف اسامہ اس لشکر کولے کر روانہ ہو گئے، اور مدینہ سے تین میل کے
فاصلہ پر جون میں اپنا پڑاؤ ڈالا تاکہ باقی لوگ جو آنا چاہتے ہیں وہ سب
یہاں مجتمع ہو جائیں اس وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی طبیعت سخت علیل تھی اور
اسامہ اور ان کے سب ساتھی وہاں رکے ہوئے تھے کہ دیکھئے اللہ تعلی کو کیا منظور ہے۔
آپ نے اسی مرض میں مسلمانوں کو وصیت کی کہ وہ اس لشکر کو اسی طرح خوانہ
کریں جیسے آپ ان کو روانہ فرمایا کرتے تھے اور جزیرۃ العرب میں دو مذہب
باقی نہ چھوڑیں اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مشرکین کو یہاں سے نکال دیا جائے ہے
اس سیرت ابن ہشام ج ۲ ۵ نیز صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوہ زید بن حارثہ اس میں
اتنا اضافہ ہے کہ اگر تم آج ان کی بات پرطعن کرتے ہو تواس سے پلے تم نے ان کے والد کی امارت پر
طعن کیا تھا، اور خدا کی قسم وہ امارت کے مستحق تھے اور مجھے محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ میرے
بہت محبوب لوگوں میں ہیں۔ سے دیکھئے صحیح بخاری باب ( عرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته)
nunununununun
………………………………………………………………………………………………………………
۵۳۸
میں ایک مرتبہ دریافت فرمایا عائشہ اس سونے کو کیا کیا؟ وہ پانچ سے سات با ت
کے درمیان اشرفیاں لائیں آپ ان کو لے کر اپنے ہاتھ سے الٹے پٹے اور زمانے کے
میں ان کے ساتھ خدا کو کیا منہ دکھاؤں گا، جاؤ ان سب کو راہ خدا میں خیرات کر دو
نماز کا اہتمام اور حضرت ابو بکر کی امامت
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں اضافہ ہوا اور طبیعت زیادہ
بھاری ہوگی تو آپ نے اسی حالت میں دریافت فرمایا کہ کی لوگوں نے نماز پڑھ لی؟
ہم نے جواب یا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگ آپ کا انتظار
کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا میرے لئے لن میں پانی رکھدو لوگوں نے تعمیل کی آپ نے
غسل فرمایا، پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن آپ پرغشی طاری ہوگئی جب
آپ کو ہوش آیا تو فرمایا کہ کیا ہے نماز پڑھ لی لوگوں ے جواب دیا نہیں سوال اور
سب لوگ آپ کے منتظر ہیں، تمام لوگ اس وقت مسجد نبوی میں خاموش بیٹھے ہوئے
نماز عشاء کی نظر تھے اور اللہ اللہ علیہ سل نے حضرت ابو بکر کو پیام
کہلوایا کہ وہ نماز پڑھائیں حضرت ابو بکر بہت رقیق القلب شخص تھے انھوں نے
کہا عمر تم نماز پڑھاؤ، انھوں نے کہا آپ اس سے مجھ سے زیادہ حقی ہیں چنانچہ
ان دنوں حضرت ابو بکرہ ہی نماز پڑھاتے رہے۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افاقہ اور طبیعت میں ایک پین محسوس فرمایا
لے حدیث کے اصل الفاظ ہیں ما خلان محمد بالله عز وجل او لقيه وهذة عند جبر کا لفظی
ترجمہ ہوا محمد کا اللہ کے ساتھ کیا گمان ہوگا جب اس سے ملاقات ہوگی، اس حالت میں کہ یہ اشرفیاں
اس وقت اس کے پاس نہیں ۲ مندا امام احمد ج ۶ ص۲۹
………………………………………………………………………………………………………………
اور دو آدمیوں کے سہارے سے جون میں ایک عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے علی
کریم اللہ وہ تو طہر کی نا کے لئے باہر تشریف لائے جب حضرت ابوبکر نے آپکو
دیکھا تو وہ پیچھے بٹنے لگے آپ نے اشارہ سے ان کو ہدایت کی کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں اور
ان دونوں حضرات سے آپ نے فرمایا کہ وہ آپ کو ابو بکرے کے پہلومیں بٹھا دیں حضرت
ایکریہ کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے رہے اور آپ نے بڑھ کر نماز ادا فرمائی
ام الفضل بنت الحارث روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ سلام
کو مغرب کی نماز میں سورہ والمرسلات ” پڑھتے سنا، اس کے بعد آپ کو کسی نماز کی امامت
کی نوبت نہ آئی یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے پاس بلالیا ؟
خطبة الوداع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ان ایام میں میری پیٹھ کر جو کمات ارشاد فرمائی
اور اس حالت میں فرمائے کہ آپ کے سرمبارک پر کپڑا بندھا ہوا تھا، اس میں ایک موقع
پر آپ نے یہ بھی فرمایا۔ ان عبد من عباد الله خيره الله بين الدنيا وبين
ما عنده فاختار ما عند الله (اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالی
نے دنیا اور اللہ کے پاس جو چیز ہے کسی ایک چیز کے انتیار کرنے کا اختیار دیا تو اس نے
جو کچھ اللہ کے پاس ہے اُسے اختیار کیا) حضرت ابو بکر یہ ان الفاظ کے معانی سمجھ گئے
اور انھوں نے محسوس کیا کہ یہ دراصل آپ نے اپنے لئے کہا ہے یہ خیال کرکے وہ اوپر کے
اور کہا نہیں، ہماری جانیں اور اولاد سب آپ پر فدا ہیں؟
لح صحیح بخاری رباب مرض النبی صلی الہ علیہ یوم وفات ہے احادیت کے تابع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ریاب اللہ علیہ تین سے علم ہوتا
………………………………………………………………………………………………………………
آپ نے فرمایا ابوبکر ٹھر و جلدی نہ کرو، بلاشبہ کوئی شخص ایسا نہیں میں نے
اپنی جان اور مال مال سے مجھ پر اتنا حسان کیا ہے جتنا ابوبکر نے کی ہے اور اگریں لوگوں کو
میں کسی کو اپنا خلیل الخاص دوست و محبوب بناتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بنانا
لیکن اسلام کا تعلق اور اسلام سے محبت سے افضل ہے۔
آپ نے بھی فرمایاکہ مسجد کا ہر دریچہ جس سے میرا سامنا ہوتا ہے بند کرد
صرف خوخه ابوبکر کو باقی چھوڑی وی
انصار کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
حضرت ابوبکر وحضرت عباس رضی اللہ عنہما ایک بار انصار کی ایک محفل سے
گزارے انھوں نے دیکھا کہ وہ لوگ رو رہے ہیں انھوں نے پوچھا کہ تم لوگ کیوں ڈو نے کمر
رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور مجلس ہمیں یاد
آرہی ہے رسول اللہ علیہ وسلم کو اسکی اطلاع پہونچی تو آ یا ہر تشریف لائے
آپ نے سر مبارک کو اپنی چادر کے معاشیے سے لپیٹ لیا تھا، آپ منبر پر جلوہ افروز
ہوئے اس دن کے بعد پھر آپ کو منبر پر جانے کا موقع نہیں آیا پھر آپ نے
ل صحیح بخاری کتاب الصلاة باب الخوخة والمرفی الصلاة ” ہے یہاں پر خوانہ کا لفظ آیا ہے جو
چھوٹے دروانے کو کہتے ہیں سے صحیح بخارى كتاب الصلاة باب الخريفة والمتر في الصلاة
کے قول راجح یہی ہے کہ یہ آپ کا وہی آخری خطبہ ہے جو جمعرات کے روز ظہر کی نماز کے بعد آپ نے
دیا تھا، اس لئے کہ حدیث کے راوی جو انس بن مالک نہیں کہتے ہیں۔ آپ سب پر چڑھے اور اس دن کے
بعد پھرآپ کو ہر ہرجانے کا نہیں کیا آپ نے ادا کی حمد بیان کیا اس کی دانا
………………………………………………………………………………………………………………
۵۴۱
اللہ تعالیٰ کی حمد ثنا بیان کی جو اس کی شان عالی کے لائق ہے، اس کے بعد ارشاد ہوا:
میں تم کو انصار کے ساتھ حسن سلوک کی) وصیت کرتا ہوں وہ جسم و جان
کی طرح ہیں اور میرے معتمد اور راز دار ہیں ان پر جو ذمہ داری تھی اس کو انھوں نے
پورا کیا، ان کا جو دوسروں پر حق ہے وہ باقی ہے اس لئے ان کے اچھے اور صالح
لوگوں کی بات قبول کرنا اور ان میں سے جو لوگ قصور وار ہوں ان سے درگزر کرنا۔
مسلمانوں کی صف بستہ جماعت پر آپ کی آخری نگاہ
حضرت ابو بکر بدستور نماز پڑھاتے رہے، دو شنبہ کے دن وہ لوگ نماز فجر میں
صفیں باندھے کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ
اٹھایا اور کچھ دیر پ نہ نظر دیکھتے رہے کہ مسلمان اپنے رب کے حضور کس طرح حاضر
ہیں آپ کی دعوت اور جہا دوستی کیا رنگ لائی ہے اور یہ امت کسی طرح تیار
ہوئی ہے جو نماز سے اس درجہ تعلق رکھتی ہے، اور اپنے نبی کی موجودگی اور غیر موجودگی
دونوں حالتوں میں اسی جوش و نشاط اور سرور و شوق کے ساتھ بارگاہ الہی میں
دست بسته حاضر ہے یہ خوشگوار منظر اوراس کامیابی کودیکھ کر آپ سے پہلے کسی نبی یا
دائی کو نصیب نہیں ہوئی تھی آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، اور آپ کو اس کا اطمینان
ہوا کہ اس دین اور اللہ سبحانہ و تعالے سے اس امت کا تعلق دائمی اور پائدار ہے جو
آپ کی وفات کے بعد بھی ختم نہ ہوگا، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس وقت آپ کو اس بات سے
الے صحیح بخاری، فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اقبلوا من
محسنهم وتجاوزوا عن مسيهم
اور
………………………………………………………………………………………………………………
کس درجہ مسرت ہوئی ہوگی یہ منظر دیکھ کر روئے انور فرط مسرت سے دیکھنے لگا ،
صحابہ کرام رضوان الله تعالى علیہم اجمعین بیان فرماتے ہیں کہ :۔
” رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ عائشہ کا پردہ کھولا اور کھڑے ہوئے
ہمیں برابر دیکھتے رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا روئے مبارک ورق مصحف ہے
پھر آپ مسکرائے اور نہیں پڑھے ہمیں یہ خیال ہوا کہ کہیں ہم لوگ بھی خوشی کی وجہ سے
آزمائش میں نہ پڑھائیں اور بے قابو ہو جائیں ہمیں یہ بھی گمان ہوا کہ شاید آپ
نماز کے لئے باہر تشریف لانے والے ہیں آپ نے اشارہ فرمایا کہ نماز پوری کرلو اس کے بعد آپ نے پردہ گرا دیا، اور اسی دن آپ کی وفات ہوگئی ؟
قبروں کی پرستش اور ان کو عبادت گاہ مسجد بنانے کی نزمت نعمت
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری الفاظ یہ تھے، قاتل الله اليهود والنصاری اتخذوا قبور انبيائهم مساجد، لا يبقين دينان على ارض العرب والله تعالى
یہود و نصاری کو تباہ کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہر زمین
عرب میں بیک وقت دو مذہب نہ رہیں )
حضرت عائشه و حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں کہ جب رحلت کا وقت قریب آیا تو ایک سیاہ دھاری دار چادر آپ پر پڑی ہوئی تھی آپ اس کو کبھی چہرہ مبارک پر ڈالتے، جب تکلیف ہونے لگتی تواس کو ہٹا دیتے اس حال میں
آپ نے ارشاد فرمایا یہود و نصاری پر خدا کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کی بارے نبی صل الله علیه وسلم وفات بروایت موطا امام مالک ابن کثیر رحمة الله وبركاته
………………………………………………………………………………………………………………
عبادت گاہیں بنا لیا آپ مسلمانوں کو اس سے خبر دار فرما رہے تھے۔
آخری وصیت
وفات کے قریب آپ کی زیادہ تر وصیت پہتی الصلاة و ما ملکت أيمانكم
دیکھو نماز کا خیال رکھنا اور اپنے ماتحتوں اور غلاموں کا ) یہ آپ برابر فرماتے رہے،
یہاں تک کہ زبان سے ان الفاظ کا اداکرنا مشکل ہوگیا اور معلوم ہوا کہ آپ یہ مبارک
سے ان الفاظ کو ادا کرنے کی کوشش فرمارہے ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ آپ نے اس موقع پر نماز اور زکواۃ
اور ماتحتوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں آپ پر موتین
پڑھ کر دم کرنے لگی کہ آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور رانا فی الرفيق الاعلیٰ
في الرفيق الاعلى اس سے اعلیٰ رفیق کے پاس اس سے اعلیٰ رفیق کے پاس ) کے اس
اسی وقت عبد الرحمن بن ابی بکر با داخل ہوئے ان کے ہاتھ میں سیلوکی روتار
شاخ تھی آپ نے اس کو ایک نظر دیکھا، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کو اس کی ضرورت
ہے چنانچہ میں نے وہ ان سے لے کر پتے وغیرہ جھاڑ کر مسواک تیار کی اور آپ کو پیش کی،
آپ نے اس سے بہت اچھے طریقہ سے مسواک کی پہلے آپ کبھی فرمایا کرتے تھے
پھر مجھے واپس کرنے لگے لیکن وہ آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ہے
لے بہتی واحمد ( ابن كثير السيرة النبويه ج ۵۷۳۵۴) ۱۲ امام احمد (ابن کثیر ج ۲ ۴۷۳)
سه سیرت ابن کثیر ج ۲۰۰۴ نیز صحیح بخاری ( باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته )
………………………………………………………………………………………………………………
عبادت گاہیں بنا لیا آپ مسلمانوں کو اس سے خبر دار فرما رہے تھے۔
آخری وصیت
وفات کے قریب آپ کی زیادہ تر وصیت پہتی الصلاة و ما ملکت أيمانكم
دیکھو نماز کا خیال رکھنا اور اپنے ماتحتوں اور غلاموں کا ) یہ آپ برابر فرماتے رہے،
یہاں تک کہ زبان سے ان الفاظ کا اداکرنا مشکل ہوگیا اور معلوم ہوا کہ آپ یہ مبارک
سے ان الفاظ کو ادا کرنے کی کوشش فرمارہے ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ آپ نے اس موقع پر نماز اور زکواۃ
اور ماتحتوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں آپ پر موتین
پڑھ کر دم کرنے لگی کہ آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور رانا فی الرفيق الاعلیٰ
في الرفيق الاعلى اس سے اعلیٰ رفیق کے پاس اس سے اعلیٰ رفیق کے پاس ) کے اس
اسی وقت عبد الرحمن بن ابی بکر با داخل ہوئے ان کے ہاتھ میں سیلوکی روتار
شاخ تھی آپ نے اس کو ایک نظر دیکھا، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کو اس کی ضرورت
ہے چنانچہ میں نے وہ ان سے لے کر پتے وغیرہ جھاڑ کر مسواک تیار کی اور آپ کو پیش کی،
آپ نے اس سے بہت اچھے طریقہ سے مسواک کی پہلے آپ کبھی فرمایا کرتے تھے
پھر مجھے واپس کرنے لگے لیکن وہ آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ہے
لے بہتی واحمد ( ابن كثير السيرة النبويه ج ۵۷۳۵۴) ۱۲ امام احمد (ابن کثیر ج ۲ ۴۷۳)
سه سیرت ابن کثیر ج ۲۰۰۴ نیز صحیح بخاری ( باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته )
………………………………………………………………………………………………………………
آپ کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس
تین صالح جو پر رہن رکھی ہوئی تھی اور آپ کے پاس کوئی چیز نہ تھی کہ آپ اسے دے کہ
زرہ کو چھڑا سکتے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
آپ نے اپنے مرض وفات میں چالیس غلاموں کو آزاد فرمایا، آپ کے پاس
سات یا کچھ دینار تھے حضرت عائشہ یہ کو حکم ہوا کہ ان کو بھی صدقہ کر دیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی
وفات اس حالت میں ہوئی کہ میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو کوئی جاندار
کھا سکتا، البتہ ذرا سا جو میری الماری پر رکھا ہوا تھا، میں نے اسی میں سے کچھ کھایا
وہ بہت دن چلا یہاں تک کہ میں نے ایک دن اس کی تاب پھول کی البر اسی کے بعد ختم ہو گیا ہے۔
آپ کی وفات دو شنبہ کے روز ۱۲ ربیع الاول سان مہجری کو زوال کے بعد ہوئی کے سے عمر شریف ترسٹھ سا سال تھی اور مسلمانوں کے لئے رہے زیادہ تاریک اور وحشت ناک دن تھا بڑا صدمہ اور ابتلاء اور پوری انسانیت کا ہے بڑا سانحہ تھا، جس طرح آپ کی ولادت با سعادت کا دن انسانیت کا ہے سے مبارک روشن اور تابناک دن تھا۔ حضرت انسو و ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دینہ تشریف لائے تھے تو دینہ کی ہر چیز آپ کی آمد سے روشن اور منور ہوگئی تھی جو دن آپ کی وفات ہوئی، اس دن اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی ام ایمن بھی رورہی تھیں لوگو نے سبب پوچھا تو انھونے جواب یا کہ بے شک مجھے معلوم تھا کہ ولد الہ علی اللہ علیہ سلم اس دنیا سے له البضا الله بقى ٥ ٥٣ السيرة الحلبية ج ٣ من نقوز علیه (البخاری کتاب الرقاق با فضل الفقر) ومسلم کتاب الزير شهد بعض روایات میں صنفی اور ضحوہ آتا ہے جو پاشت کا وقت ہے (ان انتخاب )ج امت ) 21 قول راج کی بنیاد پر ۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۲۶
تشریف لے جائیں گے لیکن برای با پرواہ ہوں کہ جی کا اسلام سے ہیش کے لیے نقل ہوگیا
صحابہ کرام نے آپ کی وفات کی خبر کس طرح سنی ؟
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی وفا کی خب صحابہ کرام پہیلی بن کر گری اس کی وجہ
ان کا وہ عاشقانہ تعلق تھا، جس کی نظیر نہیں وہ آپ کے سایہ شفقت میں اس طرح رہنے
کے عادی ہو گئے تھے جس طرح بچے ماں باپ کے آغوش محبت میں رہتے ہیں بلکہ اس سے بھی
زیادہ اس لحاظ سے ان پر جتنا بھی اثر پڑ تاکم تھا، الہ تعالی کا ارشاد ہے :۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ میں (لوگو) تمھارے پاس تم ہی میں ایک تغیر
أَنْفُسِكُمْ عَزِير عَلَيْهِ مَا عَنتُم آئے ہیں تھا وہ تکلیف ان کو گران علوم
حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِین ہوتی ہے اور تمھاری بھلائی کے بہت
رون رَّحِيمُ
خواہشمند ہیں (اور) مومنوں پر نہایت
(سوره توبه – ۱۲۸) شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں۔
ان میں سے شخص سمجھتا تھا کہ وہ آپ کی نگاہ لطف و کرم میں رہے زیادہ محبوب
اور مور والطاف و کرم ہے بعض صحابہ کو اس پر یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ اقعہ پیش آیا،
ان میں پیش پیش حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے انھوں نے ایسے شخص پر جوبہ کہتا ہے کہ
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی بہت نکیر کی وہ سجد نبوی میں آئے اور
لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی وفا اس قت تک
نہ ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ منافقوں کو ختم نہ کر دے گا
له السيرة النبويه از ابن کثیر ج ۵۴۴۰۴-۵۴۶ ۱۲ سیرت این کثیر ج ۵۴۲۰۴-۵۷۶
………………………………………………………………………………………………………………
حضرت ابوبکرہ کا فیصلہ کن اور جرات مندانہ قدم
ان حالات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جن کو اللہ تعالی نے نبوت کی
نیابت و خلافت اور عربیت محکمت کے موقف کے لئے تیار کیا تھا جیسے عالی حوصلہ
اور عزم و ہمت کے پہاڑ کی ضرورت تھی جو اپنی جگہ سے جبیں بھی نہ کرئے ابوبکر صدیق کو
رجہ مقام سنج (مضافات مدینہ) میں تھے اطلاع ہوئی تو اسی وقت تشریف لائے
(بخاری ) اور سجد نبوی کے دروانے پر ایک لمحہ کے لئے کے اس قب حضرت عرضی اللہ
عنہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے پھر کسی طرف ملتفت ہوئے بغیر سید ھے حضرت
عائشہ کے گھرسول اللہصل اللہ علیہ سل کے قریب پہونچے آپ پر ایک چادر پڑی ہوئی
تھی ا صورتی درامی اور سکائی اور جا کر دے بہار کا بوسہ لیا اور کہا یہاں پاپ
آپ پر قربان اموت کا مزہ جو اللہ تعالی نے آپ کے لئے مقدر کر دیا تھا، آپ نے لکھ لیا دیا لیا،
اب آپ کو کبھی بھی موت کی تکلیف نہ ہوگی اس کے بعد انھوںنے چادر سے آپ کے روئے مبارک
کو اسی طرح چھپا دیا، اس کے بعد مسجد نبوی میں آئے حضرت عمر رضی اللہعنہ کا سلسلہ کلام
اس وقت تک بھاری تھا انھونے کہا عمرا ذرا مہر و لیکن جوش کلام میں انھوں نے
ان کی بات نہیں سنی ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ خاموش نہیں
ہو رہے ہیں تو مجمع کی طرف متوجہ ہو کر انھوں نے اپنی بات شروع کی، لوگوں نے جب
ان کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے حضرت عمرہ کی طرف سے شیخ پھر کر ان کی
بات سنتی شروع کردی حضرت ابو بکرن نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد کہا :-
لوگو ! اگرکوئی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اس کو معلوم
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
ہو جائے کہ بلا شبہ ان کی وفات ہوگئی، اور اگر اللہ تعالی کی عبادت کرتا تھا تو اطمینان
رکھے کہ اللہ تعالئے زندہ ہے، اس کے لئے موت نہیں ہے پھر انھوںنے یہ آیت تلاوت کی۔
وَمَا تُحَمَّدُ الأَرْسُولُ تدخلت اور محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تو حضر
مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، آفان (خدا کے پیر یں اسے پہلے بھی یہ پیر
مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى پیغمبر و گذرے ہیں بھلا اگر ان کی وفات
أَعْمَا بِكُمْ وَ مَنْ يتقلب ہو جائے یا شہید کر دیئے جائیں تو تم
عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُر الله الٹے پاؤں پھر جاؤ یعنی مرتد ہو جاؤ
شيئًا وَسَيَجْزِي الله الشکری اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا
(سوره آل عمران ۱۴۴) کا کچھ نقصان نہیں کر سکے گا اور
خدا شکر گزاروں کو بڑا ثواب دیا۔
جو لوگ اس موقع پر حاضر تھے اور یہ منظر دیکھ رہے تھے، ان کا بیان ہے کہ
خداکی قسم جب حضت ابو بکر نے یہ آیت تلاوت کی تو ایسا سو ہوا کہ یہ آیت ابھی
نازل ہوئی ہے اور حضرت ابو بکر نے ان کے منھ کی بات کہدی حضرت عریان کرتے
ہیں کہ میں نے جب ابو بکرہ کو آیت تلاوت کرتے نا تو حیرت زدہ ہوکر بے ساختہ زمین پرگر گیا
میرے پیروں کی طاقت ختم ہو چکی تھی اس سے قبل یہ کہ مجھے علم ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔
حضرت ابوبکری کی بعیت خلافت
اس کے بعد تم مسلمانوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر ملا کی
له سیرت ابن ہشام ج ۲ ۱۵۵۰ ۱۵۶ صحیح بخاری باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ میں
پوری تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔
……………………………………………………………………………………………………………
بیعت کی اس عجلت کا مقصد یہ تھا کہ شیطان کو ان کے دلوں میں پھوٹ ڈالنے اور
ان کے اندر رخنہ پیدا کرنے کا موقع نہ ملے اور نفسانی خواہشات سرنہ اٹھا سکیں اور )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری سفر یہ اس حال میں روانہ ہوں کہ مسلمان ایک رشتہ
میں مسلک اور پوری طرح متحد اورہم رنگ ہم آہنگ ہوں ان کا امیر موجود ہوا اور انکے
سارے معاملات کی دیکھ بھال رہا ہو تی کہ خو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی
تجہیز تکفین اور تدفین کا کام بھی امیرالمومنین اور خلیفہ المسلمین کے ہاتھوں نام پیئے
مسلمانوں نے اپنے رسول کو کس طرح الوداع کہا ؟
اس کے بعد لوگ پر سکون ہو گئے اور تخیر اور صدمہ کا اثر بدلی کی طرح چھٹ گیا۔
اور وہ ان کاموں اوران فرائض کی تکمیل میںمشغول ہو گئے ہو آپ ان کو علم فرائ تھے۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے عل اور تکفین کا کام آپ کے اہل بیت نے انجام دیا
اس سے فراغت کے بعد آپ کے جنازہ مبارک کو گھر میں رکھ دیا گیا، اس موقع پ حضرت
ابوبکر نے کہاکہ انھوںنے رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم کویہ کہتے ہوئے تا ہے کہ خبر
نبی کا بھی انتقال ہوا اسکو اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں اس کا انتقال ہوا تھا، چنانچہ ایمان بانها
آپ کا بستر مبارک میں پر آپ کی وفات ہوئی تھی اٹھا دیا گیا، اور ٹھیک اس کے
نیچے پر کھودی گئی ابوطلحہ انصاری نے یہ کام انجام دیا۔
اس کے بعد لوگوں نے جماعتوں کی شکل میں حاضر ہونا شروع کیا، ایک جماعت
آتی اور نماز جنازہ ادا کرتی اس کے بعد دوسری جماعت آکر نماز پڑھتی پہلے مرد داخل
ہوتے رہنے اسکے بعد عورتوںکو داخلہ کی اجازت دی گئی عورتوں کے بعد بچوں کو
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
اجازت ہوئی اور انھوں بھی آپ کی نا جان بھی لوگوں نے کسی مکان کو آرام نہیں بنایا
یہ واقعہ تفتہ کے دن کا ہے۔
یہ مدینہ کا ایک غمین دن تھا، جب حضرت بلال نے فجر کی اذان دیا تو حضور
کو یاد کر کے بے ساختہ رونے لگے اور ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اس نظر سے مسلمان جو پہلے
ہی سے مردہ تھے اور گہرے رنج وغم میں ڈوب گئے ان کے کان اس اذان کو اس حال میں
سنتے تھے کہ ولا الہ صل اللہ علیہ سلم ان کے درمیان تشریف فرماتھے۔ آن صورت بالکل ملتی تھی ہے۔
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی تھیں کتنی سخت مصیبت تھی ہمیں
جب ہم کو یہ مصیبت یاد آتی ہے تو ہر مصیبت اس کی وجہ سے پینے اور آشنا معلوم ہوتی ہے
رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق ارشاد فرمایا تھا اے لوگو تم میں سے
یا اہل ایمان میں سے کسی کو بھی کوئی مصیبت پہونچے تو وہ اس مصیبت کے لئے جو اس کو
دوسرے کے انتقال سے پیش آرہی ہے اس مصیبت سے تسلی حاصل کرے جو میری وفات
سے اس کو پیش آئی ہے اس لئے کہ میری امت میں کسی شخص کو میری وفات کے صدمہ
سے بڑھ کر کوئی مصیبت پیش نہ آئے گی ہے۔
جب تدفین سے لوگ فارغ ہو گئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :
يا أنس أطابت أنفسكم أن تتحبوا انس کیا تمھارے دلوں نے یہ گوارا
في
على رسول الله صلى الله علیہ والة اقرار کر لیا کہ جنید مبارک پر مٹی ڈالو۔
سے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۵۳۴ ه طبقات ابن سعد السیرة النبوية لابن کثیرج ید
السيرة النبوية لابن کثیرج ۴ ۵۲۰ – ۵۳۹ ه ایضاح ۵۴۹ از ابن ماجہ
صحیح بخاری (باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفانہ)