وفات

(ربیع الاول سنہ ۱۱ھ)

تبلیغ، دعوت اور اجرائے شریعت کا نقطۂ عروج اور وصالِ حق کی تیاری

جب دین نقطۂ عروج اور منتہائے کمال کو پہنچ گیا اور یہ آیت نازل ہو گئی:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
سورۃ المائدہ، آیت ۳

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغامِ ہدایت لوگوں کو پہنچا دیا، امانتِ الٰہی بے کم و کاست پہنچا دی، راہِ حق میں قربانی اور جانفشانی کا حق ادا کر دیا اور ایک ایسی امت تیار کر دی جو منصبِ نبوت پر فائز ہوئے بغیر نبوت کی ذمہ داریاں انجام دے سکتی تھی۔ اس امت کو دعوتِ اسلام کا علمبردار اور اس دین کو تحریف سے محفوظ رکھنے کا ذمہ دار بنایا گیا۔

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی: نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
سورۃ آلِ عمران، آیت ۱۱۰

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید، جو اس دین کی اساس، ایمان و یقین کا سرچشمہ اور مرجع ہے، اس کی حفاظت اور بقا کی ذمہ داری بھی خود لے لی:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
بے شک ہم ہی نے یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
سورۃ الحجر، آیت ۹

دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اس دین کی طرف عام رجوع، بڑی بڑی جماعتوں اور قبیلوں کے قبولِ اسلام اور پورے عالم میں اس کے فروغ و اشاعت کے آثار دکھا کر اپنے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی فرمائیں۔ صاف نظر آنے لگا کہ یہ دین دنیا کے دوسرے مذاہب پر غالب آنے والا ہے۔

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۝ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ۝ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو؛ بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
سورۃ النصر، آیات ۱-۳

قرآنِ مجید کا دور اور اعتکاف میں اضافہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف میں اس سال خاص اضافہ فرمایا۔ آپ ہر رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی آپ نے بیس روز کا اعتکاف فرمایا۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر شب آپ سے آ کر ملتے اور آپ ان کے ساتھ قرآنِ مجید کا دور فرماتے تھے۔ اس آخری سال قرآن کا دور دو مرتبہ ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ اس مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے میرے ساتھ قرآن کا دور دو بار کیا ہے، اور میں اسے اس بات کی علامت سمجھتا ہوں کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو لقاءِ رب اور وصالِ حق کی اجازت عطا فرمائی۔ اللہ کے دیدار کا شوق جس قدر آپ کو تھا، کسی اور کو کیا ہو سکتا تھا۔ صحابۂ کرامؓ کو بھی، جو روئے زمین پر آپ سے بڑھ کر کسی کو محبوب نہ رکھتے تھے، اس عظیم صدمہ کے لیے پہلے سے تیار کیا جا رہا تھا۔

غزوۂ اُحد میں وہ ایک مرتبہ آپ کی شہادت کی اچانک خبر سن چکے تھے، پھر معلوم ہوا کہ یہ محض افواہ تھی۔ اسی موقع پر یہ عظیم اصول نازل ہوا تھا:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
محمد تو ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتا، اور اللہ شکر گزاروں کو جزا دے گا۔
سورۃ آلِ عمران، آیت ۱۴۴

اولین مسلمانوں کو یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہ ایک دن اس عالمِ فانی کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ سورۃ النصر کے نزول کے بعد جلیل القدر صحابہؓ نے محسوس کر لیا تھا کہ نبوت کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے اور جدائی کی گھڑی قریب ہے۔ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کے نزول نے بھی بہت سے صحابہ کو یہی احساس دلایا۔

صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف؛ صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ۔

لقاءِ مولیٰ کا شوق اور دنیا کو وداع

حجۃ الوداع سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی باتیں ظاہر ہونے لگیں جن سے اشارہ ملتا تھا کہ آپ کی وفات کے دن قریب ہیں اور آپ سفرِ آخرت کے لیے تیار اور الرفيق الأعلى سے ملنے کے مشتاق ہیں۔

آپ نے شہدائے اُحد کے لیے آٹھ سال کے بعد اس طرح دعا فرمائی جیسے عنقریب اپنے اصحاب سے جدا ہونے والے ہوں، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

میں تم سے آگے جانے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں۔ اب تم سے میری ملاقات حوضِ کوثر پر ہوگی۔ میں اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ تم دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے اور اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جیسے تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئیں۔

علالت کا آغاز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری ماہِ صفر کے آخر میں شروع ہوئی۔ ایک رات نصف شب کے وقت آپ جنت البقیع تشریف لے گئے اور اہلِ قبور کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ پھر گھر واپس تشریف لائے۔ صبح ہوئی تو اسی روز سے علالت شروع ہو گئی۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے واپس تشریف لائے تو مجھے سر درد تھا اور میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر! آپ نے فرمایا: بلکہ عائشہ! ہائے میرا سر!

علالت بڑھ گئی۔ اس وقت آپ حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھے۔ آپ نے تمام ازواجِ مطہراتؓ کو بلایا اور ان سے اجازت چاہی کہ بیماری کے ایام حضرت عائشہؓ کے گھر گزاریں۔ سب نے خوشی سے اجازت دے دی۔

آپ دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے گئے، جن میں ایک حضرت فضل بن عباسؓ اور دوسرے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ سرِ مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور شدتِ ضعف کی وجہ سے قدم مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اسی مرض میں، جس میں آپ کی وفات ہوئی، آپ فرمایا کرتے تھے: عائشہ! میں خیبر میں کھائے ہوئے اس کھانے کی تکلیف اب تک محسوس کرتا ہوں، اور اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس زہر کے اثر سے میری رگ کٹ رہی ہو۔

صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ؛ سیرت ابن ہشام؛ ابن کثیر۔

آخری لشکر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر شام کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ ان کے گھوڑے بلقاء اور داروم کی سرزمین تک ضرور پہنچیں، جو ارضِ فلسطین کا حصہ تھا۔

اس لشکر میں مہاجرین و انصار کے چیدہ اور برگزیدہ اصحاب شریک تھے، جن میں حضرت عمرؓ بھی نمایاں تھے۔ شدید بیماری کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کے روانہ ہونے پر خاص زور دیا۔ لشکر جُرف کے مقام پر خیمہ زن ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ کی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے لشکرِ اسامہ کی پیش قدمی ملتوی نہیں کی بلکہ اسے روانہ فرمایا۔

جیشِ اسامہ سے آپ کی دلچسپی و اہتمام

بعض لوگوں نے حضرت اسامہؓ کی کم عمری کی وجہ سے ان کی امارت پر چہ میگوئیاں کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی درد کی حالت میں، سرِ مبارک پر پٹی باندھے ہوئے، باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے۔

حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

لوگو! اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو۔ اگر آج تم اس کی امارت کے بارے میں گفتگو کرتے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم! وہ امارت کے مستحق تھے اور مجھے بہت محبوب تھے، اور ان کے بعد اسامہ بھی میرے محبوب لوگوں میں سے ہیں۔

اس کے بعد لوگ تیزی سے تیاری میں مشغول ہوئے۔ دوسری طرف آپ کی علالت بڑھتی گئی۔ لشکر جُرف میں رکا رہا تاکہ باقی ساتھی بھی جمع ہو جائیں۔ مرض کی شدت میں بھی آپ اس کے روانہ کیے جانے کی تاکید فرماتے رہے۔

آپ نے مسلمانوں کو یہ وصیت بھی فرمائی کہ اس لشکر کو اسی طرح روانہ کیا جائے جیسے آپ نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا، اور جزیرۃ العرب میں دو دین باقی نہ رہنے دیے جائیں۔

سیرت ابن ہشام؛ صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ زید بن حارثہ؛ صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ۔

مسلمانوں کے لیے دعا اور ذاتی سربلندی کے شوق اور تکبر سے دور رہنے کی آگاہی

علالت کے دوران کچھ صحابۂ کرامؓ حضرت عائشہؓ کے گھر میں جمع ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ان کے لیے ہدایت، نصرت اور توفیق کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا: میں تم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بعد تمہارا نگراں بناتا ہوں۔ میں اس کی طرف سے تم کو کھلا ڈرانے والا اور آگاہی دینے والا ہوں۔ دیکھنا، اللہ کی بستیوں اور اس کے بندوں میں تکبر اور برتری اختیار نہ کرنا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور تمہارے لیے یہی فرمایا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے رکھتے ہیں جو زمین میں برتری اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے، اور اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔
سورۃ القصص، آیت ۸۳

پھر آپ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی:

أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ
کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟
سورۃ الزمر، آیت ۶۰

دنیا سے بے تعلقی اور مال کے بچ جانے سے کراہت

علالت کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: وہ سونا کہاں ہے؟ چند دینار لائے گئے۔ آپ انہیں دستِ مبارک میں الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمانے لگے: محمد اپنے رب سے کس حال میں ملے گا اگر یہ اس کے پاس رہ گئے؟ پھر حکم فرمایا کہ انہیں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا جائے۔

السیرۃ النبویۃ لابن کثیر؛ مرضِ وفات کے واقعات۔

نماز کا اہتمام اور حضرت ابوبکرؓ کی امامت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں اضافہ ہوا اور طبیعت بہت بھاری ہو گئی۔ آپ نے اسی حالت میں پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ عرض کیا گیا: نہیں یا رسول اللہ، سب لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

آپ نے فرمایا: میرے لیے پانی رکھو۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن غشی طاری ہو گئی۔ ہوش آیا تو پھر پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ جواب دیا گیا: نہیں، سب آپ کے منتظر ہیں۔

آخر آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پیغام بھیجا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نہایت رقیق القلب تھے۔ انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا: آپ نماز پڑھا دیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ چنانچہ ان دنوں حضرت ابوبکرؓ ہی نماز پڑھاتے رہے۔

ایک موقع پر آپ کو کچھ افاقہ محسوس ہوا تو دو آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لائے، جن میں ایک حضرت عباسؓ اور دوسرے حضرت علیؓ تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، مگر آپ نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ قائم رہیں۔ آپ کو حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔ حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرماتے رہے۔

ام الفضل بنت الحارثؓ روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ اس کے بعد آپ کو کسی نماز کی امامت کی نوبت نہ آئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔

خطبۃ الوداع

ان ایام میں، جب سرِ مبارک پر کپڑا بندھا ہوا تھا، آپ نے کئی اہم ارشادات فرمائے۔ ایک موقع پر فرمایا:

إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ

اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ نے دنیا اور اپنے پاس موجود چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا، تو اس بندے نے اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لیا۔

حضرت ابوبکرؓ ان الفاظ کا مطلب فوراً سمجھ گئے اور محسوس کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بارے میں فرما رہے ہیں۔ وہ رونے لگے اور عرض کیا: ہمارے ماں باپ، ہماری جانیں اور اولاد سب آپ پر قربان ہیں۔

آپ نے فرمایا: ابوبکر! ٹھہرو۔ کوئی شخص ایسا نہیں جس نے اپنی جان اور مال سے مجھ پر اتنا احسان کیا ہو جتنا ابوبکر نے کیا ہے۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کا تعلق اور اسلامی محبت اس سے بھی افضل ہے۔

پھر فرمایا کہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، صرف حضرت ابوبکرؓ کا چھوٹا دروازہ، یعنی خوخۂ ابوبکر، باقی رکھا جائے۔

صحیح بخاری، کتاب الصلاة، باب الخوخة والممر في المسجد؛ صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ۔

انصار کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت

حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عباسؓ ایک مرتبہ انصار کی ایک مجلس سے گزرے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں۔ پوچھا: کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور مجلس یاد آ رہی ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ باہر تشریف لائے۔ سرِ مبارک کو چادر کے حاشیہ سے لپیٹا ہوا تھا۔ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس کے بعد آپ کو پھر منبر پر تشریف لانے کا موقع نہ ملا۔

حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

میں تم کو انصار کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ وہ میرے جسم و جان کی طرح اور میرے معتمد و راز دار ہیں۔ جو ذمہ داری ان پر تھی انہوں نے پوری کر دی، اور ان کا جو حق دوسروں پر باقی ہے اسے ادا کیا جائے۔ ان کے نیک لوگوں کی بات قبول کرو اور ان میں سے جو قصور وار ہوں ان سے درگزر کرو۔

صحیح بخاری، فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب قول النبی: اقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم۔

مسلمانوں کی صف بستہ جماعت پر آپ کی آخری نگاہ

حضرت ابوبکرؓ بدستور نماز پڑھاتے رہے۔ دوشنبہ کے دن لوگ نمازِ فجر کے لیے صفیں باندھے کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرۂ عائشہؓ کا پردہ اٹھایا اور کچھ دیر مسلمانوں کی صفوں کو دیکھتے رہے۔

یہ امت اپنے رب کے حضور پورے نظم، شوق اور خشوع کے ساتھ کھڑی تھی۔ آپ کی دعوت، جہاد اور تربیت نے کیسا رنگ پیدا کیا تھا۔ آپ کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں حالتوں میں اس امت کا تعلق نماز اور اللہ تعالیٰ سے قائم تھا۔

صحابۂ کرامؓ بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرۂ عائشہ کا پردہ اٹھایا اور کھڑے ہو کر ہمیں دیکھتے رہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کا روئے مبارک ورقِ مصحف ہے۔ پھر آپ مسکرائے۔ ہم خوشی سے بے قابو ہونے کے قریب تھے اور ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ نماز کے لیے باہر تشریف لانے والے ہیں۔ آپ نے اشارہ فرمایا: نماز پوری کرو۔ پھر پردہ گرا دیا، اور اسی دن آپ کی وفات ہو گئی۔

قبروں کی پرستش اور ان کو عبادت گاہ و مسجد بنانے کی مذمت

رحلت کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو قبروں کے بارے میں ایک نہایت اہم خطرہ سے خبردار فرمایا۔ روایت میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں:

قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ

اللہ یہود و نصاریٰ کو ہلاک کرے؛ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ عرب کی سرزمین میں دو دین باقی نہ رہیں۔

حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رحلت کا وقت قریب آیا تو ایک دھاری دار چادر آپ پر پڑی ہوئی تھی۔ آپ کبھی اسے چہرۂ مبارک پر ڈال لیتے اور جب تکلیف بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں فرمایا:

لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو؛ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا۔

آپ مسلمانوں کو اس سے خبردار فرما رہے تھے کہ انبیاء و صالحین کی قبروں کو عبادت اور سجدہ کی جگہ نہ بنایا جائے۔

آخری وصیت

وفات کے قریب آپ کی زیادہ تر وصیت یہ تھی:

الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ

نماز کا خیال رکھنا اور اپنے ماتحتوں اور غلاموں کے حقوق کا خیال رکھنا۔

آپ برابر یہ الفاظ فرماتے رہے، یہاں تک کہ زبان سے ان کا ادا کرنا دشوار ہو گیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے نماز، زکوٰۃ اور ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ میں معوذتین پڑھ کر آپ پر دم کرنے لگی۔ آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:

بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ

بلکہ رفیقِ اعلیٰ کے پاس۔

اسی وقت حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ اندر آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک کی ایک تازہ شاخ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا۔ حضرت عائشہؓ سمجھ گئیں کہ آپ مسواک چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسے لے کر نرم کیا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے نہایت اچھی طرح مسواک فرمائی۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کے سامنے پانی کا ایک کٹورا تھا۔ آپ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے، چہرۂ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَكَرَاتٍ

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؛ بے شک موت کی سختیاں ہیں۔

پھر آپ نے دستِ مبارک اوپر اٹھایا اور فرماتے رہے:

فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَىٰ… فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَىٰ

رفیقِ اعلیٰ کے پاس… رفیقِ اعلیٰ کے پاس۔

یہاں تک کہ روحِ مبارک عالمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی اور دستِ مبارک ایک طرف جھک گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رحلت کے وقت آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ ایک لمحہ کے لیے آپ پر غشی طاری ہوئی، پھر آپ کو ہوش آیا، آپ نے گھر کی چھت کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:

اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ

اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ۔

یہی وہ آخری الفاظ تھے جو رحلت کے وقت آپ کی زبانِ مبارک سے نکلے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے کس حال میں تشریف لے گئے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا سے پردہ فرما گئے تو پورا جزیرۃ العرب آپ کے زیرِ نگیں تھا، دنیا کے سلاطین و امراء پر آپ کا جلال و رعب قائم تھا، اور صحابۂ کرامؓ اپنی جان، اولاد اور مال و متاع سب آپ پر نثار کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ اس کے باوجود آپ اس دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ نہ کوئی دینار و درہم چھوڑا، نہ کوئی غلام یا لونڈی، اور نہ کوئی دنیاوی مال؛ صرف ایک خچر، آپ کے ہتھیار اور ایک قطعۂ زمین تھا جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔

آپ کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی اور آپ کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی کہ اسے دے کر زرہ چھڑا لیتے۔

مرضِ وفات میں آپ نے چالیس غلام آزاد فرمائے۔ آپ کے پاس چند دینار تھے، حضرت عائشہؓ کو حکم دیا کہ وہ بھی صدقہ کر دیں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکتا، صرف کچھ جو ایک جگہ رکھے ہوئے تھے۔ میں ان میں سے کھاتی رہی اور وہ کافی مدت تک چلتے رہے۔

آپ کی وفات دوشنبہ کے روز، ۱۲ ربیع الاول سنہ ۱۱ھ، زوال کے بعد ہوئی۔ عمرِ مبارک تریسٹھ سال تھی۔ مسلمانوں کے لیے یہ نہایت تاریک، وحشت ناک اور صدمہ و ابتلا کا دن تھا۔

حضرت انسؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز آپ کی آمد سے روشن ہو گئی، اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن مدینہ کی ہر چیز تاریک محسوس ہوئی۔

حضرت ام ایمنؓ بھی رو رہی تھیں۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس دنیا سے تشریف لے جائیں گے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

صحیح بخاری، کتاب الرقاق؛ صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ؛ سیرت ابن کثیر؛ السیرۃ الحلبیۃ۔

صحابۂ کرامؓ نے آپ کی وفات کی خبر کس طرح سنی؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر صحابۂ کرامؓ پر بجلی بن کر گری۔ اس کی وجہ ان کا وہ عاشقانہ تعلق تھا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ آپ کے سایۂ شفقت میں اس طرح رہنے کے عادی تھے جیسے بچے ماں باپ کی آغوشِ محبت میں رہتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان پر بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت خواہش مند اور مومنوں پر بہت شفقت کرنے والے، مہربان ہیں۔
سورۃ التوبہ، آیت ۱۲۸

بعض صحابہؓ کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ عظیم واقعہ پیش آ گیا ہے۔ حضرت عمرؓ اس کیفیت میں سب سے نمایاں تھے۔ وہ مسجدِ نبوی میں آئے اور لوگوں کے سامنے سخت انداز میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔

حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ کن اور جرأت مندانہ قدم

ان حالات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نیابت، خلافت اور امت کی قیادت کے لیے تیار کیا تھا، غیر معمولی عزم و ثبات کے ساتھ سامنے آئے۔

وہ سنح، مدینہ کے مضافات، میں تھے۔ اطلاع ملی تو فوراً تشریف لائے۔ مسجد کے دروازے سے گزرے اور کسی طرف متوجہ ہوئے بغیر سیدھے حضرت عائشہؓ کے گھر پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر پڑی ہوئی تھی۔

حضرت ابوبکرؓ نے چادر ہٹائی، رخِ انور کا بوسہ لیا اور عرض کیا:

میرے ماں باپ آپ پر قربان! موت کا وہ ذائقہ جو اللہ نے آپ کے لیے مقرر کیا تھا آپ چکھ چکے۔ اب اس کے بعد آپ کو کبھی موت نہ آئے گی۔

پھر مسجد میں آئے۔ حضرت عمرؓ اب بھی گفتگو کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خاموش ہونے کو کہا۔ جب وہ خاموش نہ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:

لوگو! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں۔

پھر حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت تلاوت کی:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
سورۃ آلِ عمران، آیت ۱۴۴

حاضرین کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں: جب میں نے حضرت ابوبکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تو میرے قدموں کی طاقت جاتی رہی اور میں زمین پر گر پڑا۔ اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو چکا ہے۔

سیرت ابن ہشام؛ صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ۔

حضرت ابوبکرؓ کی بیعتِ خلافت

اس کے بعد مسلمانوں نے سقیفۂ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس عجلت کا مقصد یہ تھا کہ امت میں پھوٹ پیدا نہ ہو، نفسانی خواہشات سر نہ اٹھائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری سفر پر اس حال میں روانہ ہوں کہ مسلمان ایک جماعت، ایک رشتہ اور ایک قیادت کے تحت متحد ہوں۔

اس طرح امت کا امیر موجود تھا، مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی نگرانی قائم رہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین کے معاملات بھی منظم طور پر انجام پائے۔

مسلمانوں نے اپنے رسول کو کس طرح الوداع کہا؟

اس کے بعد لوگ قدرے پُرسکون ہوئے اور صدمہ و حیرت کا ابتدائی اثر کم ہوا۔ وہ ان فرائض کی تکمیل میں مشغول ہوئے جو اس وقت ان کے سامنے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل اور تکفین کا کام آپ کے اہلِ بیت نے انجام دیا۔ اس سے فراغت کے بعد جنازۂ مبارک کو گھر میں رکھا گیا۔

حضرت ابوبکرؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا: جس نبی کا جہاں انتقال ہوتا ہے، وہیں اسے دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ بستر اٹھا دیا گیا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور اسی جگہ قبر کھودی گئی۔ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ نے قبر تیار کی۔

اس کے بعد لوگ جماعتوں کی صورت میں حاضر ہونے لگے۔ ایک جماعت آتی، نمازِ جنازہ ادا کرتی اور پھر دوسری جماعت آتی۔ پہلے مرد داخل ہوئے، پھر عورتوں کو اجازت دی گئی اور اس کے بعد بچوں نے بھی نمازِ جنازہ ادا کی۔ کسی ایک شخص کو سب لوگوں کا امام مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ واقعہ منگل کے دن کا ہے۔

یہ مدینہ کا نہایت غمگین دن تھا۔ حضرت بلالؓ نے اذان دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے بے ساختہ رونے لگے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔ مسلمانوں کا غم پھر تازہ ہو گیا۔

ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ فرمایا کرتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی مصیبت ایسی تھی کہ جب ہم اسے یاد کرتے تو دوسری ہر مصیبت اس کے مقابلہ میں ہلکی محسوس ہوتی۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اہلِ ایمان میں سے جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے تسلی حاصل کرے، کیونکہ میری امت کو میری وفات کے صدمہ سے بڑھ کر کوئی مصیبت پیش نہیں آئے گی۔

جب تدفین سے فراغت ہوئی تو حضرت فاطمہؓ نے حضرت انسؓ سے فرمایا:

يَا أَنَسُ، أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ؟

اے انس! کیا تمہارے دلوں نے یہ گوارا کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟

سیرت ابن ہشام؛ طبقات ابن سعد؛ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر؛ سنن ابن ماجہ؛ صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ۔