Akhlaq Wa Shamail

۵۶۵

اخلاق و شمائل

رسول الله الہ صل اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ اورضا کریمی و حلیہ مبارک

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ اوصاف کریمیہ اور خصائل شریفیہ کا

ذکر ہند بن ابی باریہ نے (جوام المومنین حضرت خدیجہ کے فرزند اور حضرت حسن و حسین

کے ماموں ہیں، بہت جامع اور بلیغ انداز میں کیا ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں :۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت آخرت کی فکر میں اور امور آخرت کی

سوچ میں رہتے اس کا ایک نسل قائم تھا کسی وقت آپ کو چین نہیں ہوتا تھا اکثر

طویل حکوت اختیار فرماتے بلا ضرورت کلام فرمانے گفتگو کا آغاز فرماتے تو ہیں مبارک

سے اچھی طرح الفاظ ادا فرمائے اور اسی طرح اختتام فرمائے آپ کی گفتگو اور بیان

بہت مان واضح اور دو ٹوک ہوتا، نہ اس میں غیر ضروری طوالت ہوتی نہ زیادہ

اختصار آپ نرم مزاج و نرم گفتار تھے، درشت خو اور بے مروت نہ تھے، نہ کسی کی اہانت کرتے خو

تھے اور نہ اپنے لئے اہانت پسند کرتے تھے کہ نعمت کی بڑی قدر کرتے اور اس کو بہت یاد

لے یعنی تکبیروں کی طرح ہے تو جہی پہلے نیازی کے ساتھ ادھ کئے الفاظ استعمال نہ کرتے ہے یہاں المین

کا لفظ آیا ہے جو ہم پریمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے اگر میں مراد لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے

کر کسی کی اہانت آپ نہ فرماتے تھے اور اگر نہیں ہو تو اس سےمراد یہ ہوگی کہ آپ اپنے لئے ذات اور ستی پند

نہ فرماتے تھے مطلب یہ ہے کہ نہ درشت خو تھے کہ کمزور طبیعت کے مالک تھے کہ ہر چیز گوارا فرمالیتے

بلکہ ہمیت و رعب اور جلال و وقار کے مختلف پہلوؤں کے جامع تھے۔

nununununununununun

………………………………………………………………………………………………………………

۵۶۶

جانتے خود کتنی ہی قلیل ہوا کہ آسانی سے نظر بھی نہ آئے اور اس کی برائی نہ فرماتے

کھانے پینے کی چیزوں کی برائی کرتے نہ تعریف دنیا اور دنیا سے متعلق جو بھی چیز ہوتی

اس پر آپ کو کبھی غصہ نہ آتا لیکن جب تھا کے کسی حق کو پامال کیا جاتا تو اس وقت

آپ کے جلال کے سامنے کوئی چیز بھی نہ سکتی تھی یہاں تک کہ آپ اس کا بدلہ لے لیتے

آپ کو اپنی ذات کے لئے نہ غصہ آتا نہ اس کے لئے انتقام لیتے، جب اشارہ فرماتے تو

پورے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے، جب کسی امر پر تعجب فرماتے تو اس کو پلٹ دیتے

گفتگو کرتے وقت داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ملاتے غصہ

اور ناگواری کی بات ہوتی تو روئے انور اس طرف سے بالکل پھیر لیتے، اور اعراض

فرمالیتے، خوش ہوتے تو نظریں جھکا لیتے، آپ کا ہنا زیادہ تر مقیم تھا جس سے تو

صرف آپ کے دندان مبارک جو بارش کے اولوں کی طرح پاک نشان تھے ظاہر ہوتے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ جو فرد خاندان تھے اور جن کو علم و واقفیت کے بہترین

ذرائع اور مواقع حاصل تھے، اور جن کی نظر نفسیات انسانی اور اخلاق کی باریکیوں پر

بہت گہری تھی ، قریب ترین اشخاص میں سے تھے، اور اسی کے ساتھ وصف و بیان اور

منظر کشی میں بھی آپ کو س سے زیادہ قدرت تھی، آپ کے علی عظیم کے متعلق یہ کہتے ہیں رہے

آپ طلیق پر کلامی اور بے حیائی و بے شرمی سے دور تھے اور تکلفا بھی ایسی کوئی

بات آپ سے سرزد نہیں ہوتی تھی، بازاروں میں آپ کبھی آواز بلند نہ فرماتے برائی کا

بادلہ برائی سے نہ دیتے بلکہ عفو درگزر کا معامل فرمائے آپ نے کسی پر بھی دست درازی

نہ فرمائی سوائے اسکے کہ جہادفی سبیل اللہ کا واقعہ کی خادم یا عورت پر آپ نے

کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا، میں نے آپ کو کسی ظلم وزیادتی کا انتقام لیتے ہوئے بھی

………………………………………………………………………………………………………………

۵۶۷

نہیں دیکھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی نہ ہو اور نہیں دیکھا تک اللہ تعالی کی

اس کی حرمت و ناموس پر آنچ نہ آئے وہاں اگر اللہ تالے کے کسی حکم کو پامال

کیا جاتا، اور اس کے ناموس پر حرف آتا تو آپ اس کے لئے ہر شخص سے زیادہ

غصہ ہوتے دو چیزیں سامنے ہو تمیں تو ہمیشہ آسان چیز کا آپ انتخاب فرماتے جب

اپنے دولت خانہ پر تشریف لاتے تو عام انسانوں کی طرح نظر آتے، اپنے کپڑوں کو

مات کرتے بکری کا دودھ دوہتے اور اپنی سب ضرورتیں خود انجام دیتے۔

اپنی زبان مبارک محفوظ رکھتے اور صرف اسی چیز کے لئے کھولتے جس سے

آپ کو کچھ سروکار ہونا لوگوں کی دلداری فرماتے، اور ان کو نظر نہ کرتے کسی قوم قوم

و برادری کا معربا شخص آتا تو اسکے ساتھ اکرام و اعزاز کا مال فرماتے اوراس کو

اچھے اور اعلی عہد پر مقرر کرتے لوگوں کے بارے میں محتاط تبصرہ کرتے بغیر اس کے کہ اوران

اپنی بشاشت اور اخلاق سے ان کو محروم فرمائیں اپنے اصحاب کے حالات میں برابر

خبر رکھتے لوگوں سے لوگوں کے معاملات کے بارے میں دریافت کرتے رہتے۔

اچھی بات کی اچھائی بیان کرنے اور اس کو قوت پہونچاتے بڑی بات کی

برائی کرتے اور اس کو کمزور کرتے، آپ کا معاملہ معتدل اور یکساں تھا، اس میں

تغیر و تبدل نہیں ہوتا تھا، آپ کسی بات سے غفلت نہ فرماتے تھے، اس ڈر سے کہ

کہیں دوسرے لوگ بھی غافل ہونے لگیں اور اکتا جائیں ہر حال اور ہر موقع

کے لئے آپ کے پاس اس حال کے مطابق ضروری سامان تھا، نہ حق کے معاملہ

میں کوتاہی فرمانے نہ حد سے آگے بڑھتے آپ کے قریب جو لوگ رہتے تھے وہ

ہے اچھے اور منتخب ہوتے تھے، آپ کی نگاہ میں رہے زیادہ افضل وہ تھا،

37

……………………………………………………………………………………………………………

جس کی خیر خواہی اور اخلاق عام ہو، سو سے زیادہ قدر و منزلت اس کی تھی،

جو غمخواری و ہمدردی اور دوسروں کی مدد اور معاونت میں سو سے آگے ہوا خدا کا

ذکر کرتے ہوئے کھڑے ہوتے اور خدا کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھتے جب کہ میں تشریف

لے جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی اسی جگہ تشریف رکھتے، اور اس کا حکم بھی فرماتے

اپنے حاضرین مجلس اور مشینوں میں ہر شخص کو اپنی توجہ اور التفات ہیں) پورا

حصہ دیتے آپ کا شریک مجلس یہ سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر آپ کی نگاہ میں کوئی

اور نہیں ہے اگر کوئی شخص آپ کو کسی غرض سے بٹھا لیتا یا کسی ضرورت ہمیں

آپ سے گفتگو کرتا تو نہایت صبر و سکون سے اس کی پوری بات سنتے یہاں تک کہ

وہ خود ہی اپنی بات کر کے رخصت ہوتا، اگر کوئی شخص آپ سے کچھ سوال کرتا

اور کچھ مرد چاہتا تو بلا اس کی ضرورت پوری کئے واپس نہ فرماتے یا کہ کم از کم

نرم و شیریں لہجہ میں جواب دیتے آپ کا حسن اخلاق تمام لوگوں کے لئے وسیلے

اور عام تھا، اور آپ ان کے حق میں باپ ہو گئے تھے، تمام لوگ حق کے معاملہ میں

آپ کی نظرمیں برابر تھے، آپ کی مجلس علم و معرفت حیاء و شرم اور صبر اور

امانت داری کی مجلس تھی، نہ اس میں آوازیں بلند ہوتی تھیں نہ کسی کے عیوب

بیان کیے جاتے تھے، نہ کسی کی عزت و ناموس پر حملہ ہوتا نہ کمزوریوں کی تشہیر کی

جاتی تھی سب ایک دوسرے کے مساوی تھے اور صرف تقویمی کے لحاظ سے ان کو

ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہوتی تھی اس میں لوگ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں

کے ساتھ رحمدلی و شفقت کا معاملہ کرتے تھے حاجتمند کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے

مسافر اور تو وارد کی حفاظت کرتے اور اس کا خیال رکھتے تھے؟

………………………………………………………………………………………………………………

حضرت علی مزید فرماتے ہیں :۔

آپ ہمہ وقت گشاده رو اور انبساط و بشاشت کے ساتھ رہتے تھے بہت

زم اخلاق اور نرم پہلو تھے نہ سخت طبیعت کے تھے نہ سخت بات کہنے کے عادی

نہ چلا کر بولنے والے نہ عامیانہ اور مبتذل بات کرنے والے نہ کسی کو عیب لگانے والے

نہ تنگ دل تخیل جو بات آپ کو پسند نہ ہوتی اس سے تغافل فرماتے دیتی اس کو نظر اندا

کر دیتے اور گرفت نہ فرماتے) اور صراحتا اس سے مایوس بھی نہ فرماتے اور اس کا جواب

بھی نہ دیتے تین باتوں سے آپ نے اپنے آپ کو بالکل بچا رکھا تھا، ایک جھگڑا دو ستر

تکبر اور تیسرے غیر ضروری اور لاطینی کام، لوگوں کو بھی تین باتوں سے آر آپ نے بچا رکھا

تھا نہ کسی کی برائی کرتے تھے نہ اس کو عیب لگاتے تھے اور نہ اس کی کمزوریوں اور

پوشیدہ باتوں کے مجھے پڑتے تھے ، صرف وہ کلام فرماتے تھے جس پر ثواب کی

امید ہوتی تھی جب گفتگو کرتے تھے تو شر کاء مجلس ادب سے اس طرح سر جھکا لیتے تھے کہ

معلوم ہوتا تھا کہ ان سب کے سروں پر چڑیاں بھی ہوئی ہیں کہ جب آپ خاموش ہوتے

تب یہ لوگ بات کرتے آپ کے سامنے کبھی نزاع ن کرتے اگر آپ کی مجلس میںکوئی شخص

گفتگو کرتا تو بقیہ سب لوگ خاموشی سے سنتے یہاں تک کہ وہ اپنی بات ختم کر لیتا آپ کے

سامنے ہر شخص کی گفتگو کا یہی درجہ ہوتا جوان کے پہلے آدم کا ہوتا کہ پورے اطمینان

سے اپنی بات کہنے کا موقع ملتا، اور اسی قدردانی اور اطمینان کے ساتھ اُسے سنا جاتا)

لے یعنی جلد مہربان ہو جانے والے بہت لطف و کرم والے اور بہت آسانی سے درگزر کرنے والے

تھے یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی سے نزاع نہیں فرماتے تھے ایک قول یہ ہے کہ اس سے

مراد سکون و وقار اور خشوع وخضوع ہے کے یعنی بے حس و حرکت کر کہیں جنبش سے چڑیاں نہ اڑ جان

………………………………………………………………………………………………………………

جس بات سے سب لوگ ہفتے اس پر آپ بھی بنتے جس سے سب تعجب کا اظہار کرتے

آپ بھی تعجب فرماتے، مسافر اور پر دیسی کی بے تمیزی اور ہر طرح کے سوال کو صبر وتحمل کے

ساتھ سنتے یہاں تک کہ آپ کے اصحاب کرام ایسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے

تا کہ آپ پر کوئی بار نہ ہو آپ فرماتے تھے کہ تم کسی حاجتمند کو پاؤ تو اس کی مدد کرو

آپ مدح و تعریف اسی شخص کی قبول فرماتے جو حد اعتدال میں رہتا کسی کی گفتگو کے

دوران کلام نہ فرماتے اور اس کی بات کبھی نہ کاٹتے، ہاں اگر وہ حد سے بڑھنے لگتا تو

اس کو منع فرما دیتے یا مجلس سے اٹھ کر اس کی بات قطع فرمادیتے۔

آپ سے زیادہ فراخ دل کشادہ قلب راست گفتار نرم طبیعت اور

معاشرت و معاملات میں نہایت درجہ کریم تھے جو پہلی بار آپ کو دیکھتا وہ مرغوب

ہو جاتا، آپ کی صحبت میں رہتا اور جان پہچان حاصل ہوتی تو آپ کا فریفتہ اور دلداده

ہو جاتا، آپ کا ذکر خیر کرنے والا کہتا ہے کہ نہ آپ سے قبل میں نے آپ جیسا کوئی شخص

دیکھا نہ آپ کے بعد صلی اللہ علی نبینا وسلم

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو لباس جمال و کمال سے آراستہ

فرمایا تھا، اور آپ کو محبت و دلکشی اور رعب و سہلیت کا حسین جھیل سیکر بنایا تھا،

ہند بن ابی ہالہ بیان کرتے ہیں :۔ :-

آپ بہت خود دارو باوقار اور شان و شوکت کے حامل تھے اور دوسری

کی نگاہ میں بھی نہایت پر شکوہ آپ کا روئے انور چودھویں رات کے چاند کی طرح

دیکھتا تھا

اه اقتباس از شمائل ترندی که سید نا حسن بروایت ہند بن ابی ہالہ (شمائل ترنزی)

………………………………………………………………………………………………………………

۵۷۱

براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :-

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے میں نے آپ کو ایک مرتبہ سرخ قباء لو میں دیکھا، اس سے اچھی کوئی چیز میں نے کبھی نہیں دیکھیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ

عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ میانہ قد تھے اطول کی طرف کسی قدر مائل رنگ نہایت

گورا پیش مبارک کے بال سیاہ دہانہ نہایت مناسب اور بین آنکھوں کی پلکیں دراز

پوٹے شانئے آخرمیں کہتے ہیں کہ میں نے آپ یا آپ کے پہلے آپ کے بعد بھی نہیں دکھایا۔

حضرت انس راوی ہیں کہ میں نے حریر و دیباج کو بھی آپ کے دست مبارک

سے زیادہ نرم نہیں پایا، نہ آپ کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی خوشبو سونگھی ہے

تعلق مع الله

با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت محبوبیت اور حسن انتخاب

سے نوازا تھا، اور آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیئے تھے، آپ عبادت میں

میں سے زیادہ کوشاں اور اس کے سب سے زیادہ شائق اور مشاق تھے۔

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ ایک مرتبہ رسول اله صل اللہ علی سلم نماز نفل

اتنی دیر تک کھڑے رہے کہ آپکے قدم مبارک پروم آگیا عرض کیا گیا ۔ آپکے تو اگر کھلے

گناہوں کی معافی ہوچکی ہے یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا کیا میں خدا کا شکر گزار با ن ہوں

متفق علیہ ( لہ الادب المفرد للبخاری باب (اذا التفت التفت جميعا) له متفق علیہ

البخاري في كتاب المناقب در باب صفة النبي صلی اللہ علیہ و فی کتاب فضائل ) ہے اس لیے کو

امام بخاری نے سورۃ الفتح کی تفسیر میں اور سلیم ترمذی اور نسائی نے بابا حیاء اللیل میں نقل کیا کہ

………………………………………………………………………………………………………………

۵۷۲

حضرت عائشہ فرماتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے قرآن کی ایک

آیت میں پوری رات گزار دی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ

صل اللہ علیہ وسلم رات کونماز کے لئے کھڑے ہوئے اور ایک آیت میں صبح کر دی وہ آیت یہ ہے :

إِن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ اگر تو ان کو عذاب دے تو بے شک

وَإِن تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ وہ تیرے بندے ہیں اور اگر معان

بلد

العزيز الحكيمة (المائده – ۱۱۸) فرمادے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔

حضرت عائشہ یہ بھی روایت فرماتی ہیں کہ آپ جب رونے رکھتے تو اس کی

کثرت دیکھ کر لوگ کہے کہ اب شاید آپ ہمیشہ روزہ ہی سے رہیں گے جب روزہ

سے نہ ہوتے تو ہم سوچتے کہ شاید اب آپ روزہ نہ رکھیں گے ہے۔

حضرت انس راوی ہیں، اگر کوئی آپ کو قیام لیل میں شغول دیکھنا چاہتا تو

دیکھ سکتا تھا، اور اسی طرح نیند کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو بھی دیکھ سکتا تھا؟

عبد اللہ بن الشخير رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر

ہوا میں نے دیکھا کہ آپ نمازمیں مصروف ہیں اور گریہ کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آواز نکل رہی ہے پیسے دیکھی اہل رہی ہوں

آپ کو نماز کے سواکسی اور چیز سے تسلی نہ ہوتی تھی اورمعلوم ہوتا تھا کہ نماز

کے بعد بھی آپ نماز کے مشتاق اور منتظر ہیں، آپ ارشاد فرماتے تھے، جعل قرة عينی

لے ترندی کے نسائی نے اس کو باب تردید الانہ ہیں اور ابن ماجہ نے باب ما جاء في القرأة

باللیل میں درج کیا ہے کہ یہ سب نفلی روزوں کے متعلق ہے ہے۔ صحیح بخاری باب قیام

النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونومه – کتاب التهجد ) کے شمائل ترنزی –

………………………………………………………………………………………………………………

في الصلاة” (میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

صحابہ کرام کا بیان ہے کہ جب کوئی پریشانی کی بات درپیش ہوتی تو آپ

بے ساختہ نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب کبھی رات کو تیز ہوائیں چلیں تو آپ

مسجد میں پناہ لیتے یہاں تک کہ ہوا تھم جاتی اگر ملک میں کوئی تغیر مثلا سویچ گرین یا

چاند گرہن رونما ہوتا تو آپ نماز کی طرف رجوع فرماتے اور اس سے پناہ حاصل کرتے

یہاں تک کہ گرمی ختم ہو جاتا اور مطلع صاف ہو جاتا آپ نماز کے ہر وقت نشان رہتے

اور اس کے بغیر آپ کو اطمینان و سکون حاصل نہ ہوتا ، اور جب تک نماز پڑھ نہ لیتے

آپ کی بے کلی اور بے چینی برقرار رہتی بھی آپ اپنے موذن بلال رضی اللہ عنہ سے

ارشاد فرماتے بلال نماز کا اہتمام کرو اور ہمارے سکون کا سامان کر

آپ کی نگاہ میں متاع دنیا کی حیثیت اور اس سے آپ کی لیے غنیتی

جہاں تک درہم و دینار اور دنیا کے مال و متاع کا تعلق ہے الفاظ کا بڑے سے

بڑا ذخیرہ اور اعلیٰ درجہ کی قادر الکلامی بھی آپ کی نگاہ میں اس کی صحیح حیثیت کو

پوری طرح بیان نہیں کر سکتی ، اس لئے کہ آپ کے ایمانی اور ربانی مدرسہ کے پروردین

اور عرب عجم میں ان کے شاگردوں کے شاگرد اور خوشہ چیں بھی درہم و دینار کو

حرف ریزوں اور ٹھیکروں سے زیادہ وقعت نہیں دیتے تھے اور ان کی زاہدانہ زبانی

ے نسائی ( کتاب عشرة النساء – باب حب النساء) له ابوداؤد نے طبرانی

شه ابوداؤد ( كتاب الادب باب – في صلاة العتمة)

………………………………………………………………………………………………………………

متاع دنیا کی بے وقتی دوسروں پر اپنا مال خرچ کرنے کا شوق اور ان کو اپنے اوپر ترجیح

دینے کا ذوق، قدر کفایت پر قناعت اور شان بے نیازی و استغناء کے جو واقعات

تاریخی طور پر ثابت ہیں ان سے عقل انسانی حیران ہو جاتی ہے، جب آپ کے غلاموں کے

غلاموں کا یہ حال ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خود بدولت صلی اللہ علیہ وسلم جو

ان سب کے امام و رہنما اور ہر خیر و صلاح اور فضیلت و تقویٰ میں ان کے مربی

اور معلم تھے ان کا حال اس معاملے میں کیا ہو گا ؟

اس لئے اس سلسلے میں ہم صرف ان چند روایات کا ذکر کرتے ہیں جو صحابہ کرام

کی زبان سے ہم تک پہنچی ہیں ، اس لئے کہ واقعات سے بڑھ کر کوئی چیز موثر نہیں

اور ان سے زیادہ صحیح اور بلیغ ترجمانی کسی عبارت آرائی سے نہیں ہو سکتی ۔

آپ کا ماثور و مشہور قول جس پر آپ حرف بحرف عامل تھے اور جو آپ کی

پوری زندگی کا مرکزی نقطہ اور محور کہا جا سکتا ہے، یہ ہے :۔

اللهم لا عيش الاعيش اے اللہ اصل زندگی تو آخرت

کی زندگی ہے۔

الآخرة .

آپ فرمایا کرتے تھے:۔

مالي والدنيا وما انا والدنیا مجھے دنیا سے کیا سروکار، میرا

الأكراكب استظل تحت دنیا سے واسطہ اتنا ہی ہے جیسے

شجرة ثم راح وتر کا کوئی مسافر راہ میں تھوڑی دیر کے لئے

لے اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لئے عبد الله بن المبارک کی کتاب الزہد ابن الجوزی

کی صفۃ الصفوة اور ابی نعیم کی حلیۃ الاولیاء کا مطالعہ مفید ہوگا کے مسند ابی داؤد

الصلوۃ

……………………………………………………………………………………………………………

کسی درخت کے سایہ میں دم لے لے

پھر اپنی راہ لے اور اس کو چھوڑ کر

چلدے۔

حضرت عرضی اللہ عنہ نے آپ کو ایک مرتبہ چٹائی پر اس حالت میں لیٹے ہوئے

دیکھا کہ آپ کے پہلو میں اس کے نشانات پڑ گئے تھے، یہ نظر دیکھ کران کی آنکھیں انکیتا

ہو گئیں، آپ نے دریافت فرمایا کیا بات ہے ؟ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!

آپ اللہ کی مخلوق میں سے برگزیدہ ہیں، اور عیش کسری اور تقصیر کر رہے ہیں یہ سن کر

آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور آپ نے فرمایا ” ابن الخطاب کیا تھیں کچھ نک ہے پھر

آپ نے ارشاد فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا کی زندگی کے سالے مزے ہیں دیدیئے گئے ہیں۔

آپ وہ طرز معیشت یا وہ معیار زندگی نہ صرف اپنے لئے نا پسند فرماتے تھے

بلکہ اپنے اہل بیت کے لئے بھی اس کے روادار نہ تھے چنانچہ آپ کی دعا تھی اللهم

اجعل رزق ال محمد توتا (اے الہ آل محمد کا رزق بقدر ضرورت اعلی حضرت

ابو ہریرہ راوی ہیں۔ قسم اس کی جس کے قبضے میں ابو ہریرہ کی جان ہے اللہ کے نبی اور

ان کے اہل بیت کبھی متواتر تین دن گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کرنہ کھا سکے یہاں تک کہ

اس دنیا سے پردہ فرمالیات

ام المومنین حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں ہم اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ

وسلم) کو ایک چاند گزر کر دو سرا چاند نظر آجاتا اور ہمارے گھر میں چو لہانہ جلتا،

لے حدیث کا پورا تن صحیحین میں ملاحظہ فرمائیں کے متفق علیہ صحیح بخاری (کتاب الرقاق)

صحیح مسلم (کتاب الزید) سے بخاری واحمد بروایت احمد، صحیح مسلم، کتاب الزهد –

Jarunununununununununa

………………………………………………………………………………………………………………

صرف کھجور اور پانی پر ہماری گذر بسر ہوتی تھی کہے

آپ کی زیرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی، اور آپ کے پاس اتنا

نہ تھا کہ آپ اس کو چھڑا سکتے یہاں تک کہ اسی حال میں آپ کی وفات ہو گئی ہے

آپ نے حجۃ الوداع اس حال میں کیا کہ حد نگاہ تک سلمان نظر آرہے تھے پورا

جزیرۃ العرب آپ کی زیرنگیں تھا، اور کیفیت یہ تھی کہ آپ ایک نہایت خستہ حال

کجا وہ پر تھے آپ پر صرف ایک چادر پڑی ہوئی تھی جس کی مالیت چار درہم سے

زیادہ نہ تھی، اس وقت آپ نے فرمایا اے اللہ اس کو ایسا حج بنا جس میں کوئی

ریا اور شہرت طلبی نہ ہو

حضرت ابو ذر سے آپ نے ایک موقع پر فرمایا مجھے یہ گوارا نہیں کہ میرے

پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تین دن گذر جائیں اور اس میں سے ایک دینا بھی

میرے پاس باقی رہے سوائے اس کے کہ کسی دینی کام کے لئے میں اس میں سے کچھ

بچا رکھوں، ورنہ اللہ کے بندوں میں میں اس کو اس طرح اور اس طرح دائیں

بائیں اور پیچھے لٹا دوں

جابربن عبد الرضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ

وسلم سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے اس کے جواب میں نہیں کہاں ہوا ابن عباس سے

مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم فیاضی اور ادوار میں تیز ہوا سے زیادہ تیز رفتار تھے

لے متفق علیہ لے ترندی لے شمائل ترندی بروایت انریخ متفق علیہ یہ الفاظ

بخاری کے ہیں کتاب الوفاق باب قول النبي صلى الله عليه وسلم ما أحب أن لى أحدا .

ذهبا همه بخاری کتاب الادب (باب حسن الخلق) 21 حدیث کا پورا سیاق صحیحین میں ملاحظ کریں ۔

………………………………………………………………………………………………………………

r

66

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے کچھ سوال کیا تو آپ نے

اس کو بکریوں بھیڑوں کا پورا گلہ عطا فرمایا جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا، وہ یہ سب

بکریاں لےکر اپنی قوم میں واپس آگیا اور کہنے لگا لوگو! اسلام لے آو محمد صلی اللہ علیہ

وسلم) اس طرح دے دلا رہے ہیں کہ جیسے ان کو فقر وفاقہ کا ڈر ہی نہ ہو ایک مرتبہ آپ کی

خدمت میں نوے ہزار درہم پیش کئے گئے۔ یہ رقم ایک چٹائی پر ڈالدی گئی اور آپ نے

کھڑے ہو کر اسکو تقسیم کرنا شروع کیا اور سی سائل کو بھی آپ نے واپس نہ فرمایا،

یہاں تک کہ سارا ھی ختم ہوگیا؟

خلق خدا کے ساتھ

لیکن اس ذوق عبادت دنیا اور سامان دنیا سے بے تعلقی کمال زهاد الشر تعالی

کی طرف رجوع کامل اور اس کے حضور آہ وزاری اور دعا و مناجات سے آپ کی خند چینی

حسن اخلاق شفقت و ملاطفت دلداری و دلنوازی اور ہر شخص کو اس کا جائز حق

دینے اور اس کے مرتبہ حیثیت کے مطابق سلوک کرنے میں کوئی فرق نہ آنا تھا، اور

یہ دونوں باتیں ایسی ہیں کہ ان کو اس طرح جمع کرنا کسی دوسرے شخص کے لئے ناممکن

ہے آپ فرماتے تھے:۔

لو تعلمون ما أعلم لضحكتم جو میں جانتا ہوں وہ اگر تم جان لیتے تو

قليلا ولكيتم كثير الله بہت کم سنتے اور بہت زیادہ روتے۔

آپ تمام لوگوں میں سے زیادہ فراخ دل نرم طبیعت اور خاندانی لحاظ سے

ل میچین

………………………………………………………………………………………………………………

سب سے زیادہ محترم تھے اپنے اصحاب کرام سے الگ تھلگ نہ رہتے تھے بلکہ ان سے

پورا میل جول رکھتے تھے ان سے باتیں کرتے ان کے بچوں کے ساتھ خوش طبعی

و خوش مذاقی کے ساتھ پیش آتے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھاتے، غلام اور آزاد باندی

مسکین اور فقیر سب کی دعوت قبول فرماتے بیماروں کی عیادت فرماتے خواہ وہ شہر

کے آخری سرے پر ہوں، عذر خواہ کا عذر قبول فرماتے ، آپ کو کبھی صحابہ کرام کی

مجلس میں پیر پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا گیا تا کہ اس کی وجہ سے کسی کو تنگ و دشواری نہ ہو۔

عبد اللہ بن الحارث روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سے زیادہ خندہ رو اور مسکر تم کسی کو نہیں دیکھا جابر بن سمرہ راوی ہیں کہ مجھے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا کہ

آپ کے اصحاب کرام ایک دوسرے سے اشعار سن رہے ہیں اور بنارے ہیں اور جاہلیت

کی بعض باتوں اور واقعات کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں اور آپ ساکت ہیں یا کبھی کوئی

ہنسی کی بات ہوتی تو ان کے ساتھ آپ بھی تقسیم فرماتے ہیں؟

شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے

امیة بن الصلت کے اشعار سنے کی فرمائش کی، چنانچہ نہیں میں نے آپ کو اس کو اس کے اشعار سنان ہے

آپ نہایت درجہ نرم دل محبت کرنے والے اور لطف و عنایت کے پیکر تھے،

انسانی جذبات اور لطیف احساسات آپ کی سیرت میں بہترین اور حسین ترین شکل

میں جلوہ گر تھے انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی

صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے، میرے دونوں بیٹوں حسن

روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت ابونعیم الحلیہ) بے شمائل ترندی سله الادب المفرد

للبخاري مكلا

………………………………………………………………………………………………………………

و حسین رضی اللہ عنہا کو بلاؤ وہ دوڑے ہوئے آتے تو آپ ان دونوں سے منہ ملاتے

اور ان کو اپنے سینہ سے لگا لیتے آپ نے ایک مرتبہ اپنے نو احسن بن علی رضی اللہ

عنہ کو بلایا وہ دوڑتے ہوئے آئے، اور آپ کی گود میں گر پڑے، پھر آپ کی ریش مبارک

میں اپنی انگلیاں ڈالنے لگے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اپنا

دہن مبارک کھول دیا، اور وہ اپنا منہ آپ کے دہن مبارک میں ڈالنے لگے کہتے

حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ زید بن حارثہ (جو آپ کے غلام تھے) فرماتی

مدینہ آئے تو اس وقت آپ گھر پر تشریف فرما تھے وہ گھر پر آئے اور دروازہ پر

رکے، رسول اللہ امی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے آپ اس وقت

کپڑوں میں ملبوس نہ تھے، چادریم مبارک سے گری جا رہی تھی ان کو دیکھ کر

پوچھنے

آپ نے معانقہ فرمایا اور بوسہ لیا

اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی

نے آپ کو یہ پیغام کہلایا کہ میرے بچہ کا دم واپسیں ہے آپ اس وقت یہاں تشریف

لے آئیں آپ نے ان کو سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے ہے جو اس نے لیا،

اور اسی کے لئے ہے جو اس نے عطا کیا، ہر چیز اس کے یہاں نامز د اور مقرر ہے۔

پس چاہیئے کہ صبر سے کام لیں اور اجر و ثواب کی نیت اور امید رکھیں، انھوں نے

آپ کو قسم دلائی کہ آپ ضرور تشریف لائیں آپ کھڑے ہوئے اور ہم سب آپ کے

ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، جب آپ وہاں بیٹھے تو بچہ گود میں آپ کے پاس لایا گیا

ے بروایت ترندی ابواب المناقب، باب مناقب الحسن و الحسين له الادب المفرد البخاري

۰ ۱۷۳ سه ترندی.

………………………………………………………………………………………………………………

آپ نے اس کو اپنے آغوش مبارک میں لے لیا، اس وقت اس کی سانس اکھڑ چکی تھی

ی نظر دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ

یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ رحم ہے جو اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں

چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور بے شک اللہ تعالی اپنے رحم دل بند ہی رحم فرماتا ہے۔

جب بدر کے قیدیوں کے ساتھ حضرت عباس کی مشکلیں کسی گئیں اور رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کراہ کو نیند نہیں آئی جب انصار کو یہ بات معلوم

ہوئی تو انھوں نے ان کی مشکلیں کھول دیں انصار کی یہ رحم دلی حضور صلی اللہ علیہ

ر

سلم کو اس بات پرآمادہ ہرکسی کو حضرت عباس اور دیگر قیدیوں میں فرق رکھا گیا

انصار نے یہ دیکھ کر کہ حضرت عباس کی مشکلیں کھولنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

خوش ہوئے تھے، یہ خواہش کی کہ ان کا فدیہ بھی چھوڑ دیا جائے ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ خوش ہوں لیکن آپ نے اس بات کو قبول نہ فرمایا۔

ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگ

اپنے بچوں کو پیار کرتے ہیں ہم تو ان کو پیار نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرمایاکہ اگر اللہ تعالی نے تمھارے دل سے رحم نکال لیا ہو میں تم سے کیا کر سکتا ہوں ۔

آپ بچوں پر یہ شفیق تھے اور ان سے بہت نرمی اور محبت کا معاملہ فرماتے تھے

حضرت انس راوی ہیں کہ آپ اگر کچھ بچوں پر ہوا جو کھیل رہے تھے آپ نے انکو سلام کیا۔

له صحیح بخاری کتاب المرضى باب عبادة الصبيان نيز کتاب الجنائز باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم

يجذب الميت ببكاء أهله فتح الباری ج ۳۲۲۵۸ (مصری ایڈیشن) بروایت

عائشہ صحیح بخاری (کتاب الادب باب رحمته الولد) صحیح بخاری (کتاب الاستیذان)

………………………………………………………………………………………………………………

۵۸۱

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں گھلے ملے رہتے

تھے میرے ایک چھوٹے بھائی سے آپ فرماتے ابو عمر ، تغیر کیا ہوتا ہے

مسلمانوں پر آپ ہے کہ شفیق اور مہربان تھے اور ان کے احوال کی بہت رعائت

فرماتے تھے انسانی طبائع میں اکتناہٹ اور وقتی طور پر پست ہمتی یا تعطل پیدا ہوتا

رہتا ہے ا اس کا برابر لحاظ رکھتے تھے۔

حضرت عبد اللرین مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الش علیہ اسد ام کو

جو وعظ و نصیحت فرماتے تھے وہ وقفوں کے ساتھ ہوتی تھی اس خیال سے کہ کہیں

ہمارے اندر اکتا ہٹ نہ پیدا ہونے لگے، نماز ہے اس قدر تعلق اور شیفتگی کے باوجود آپ

اگر کسی بچہ کا رونا سن لیتے تو نماز مختص فرما دیتے آپ نے خود یہ ارشاد فرمایا ک میں نماز کے

لئے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ طویل نماز پڑھوں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں

تو اس خیال سے نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کو دشواری اور تکلیف نہ ہو

عبد اللہ بن مسعود راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ بخدا کی قسم

میں اپنے محلہ کی صبح کی نماز میں محض اس لئے نہیں پہونچتا کہ فلاں صاحب بہت

طویل نماز پڑھاتے ہیں، اس کے بعد جو وعظ آپ نے فرمایا اس سے زیادہ غصہ کی حالت

میں میں نے گی اور میں آپ کو نہیں دیکھا آپ نے فرمایا تم میں وہ وگ ہیں جولوگوں

کو تنفر کرتے ہیں تم میں سے و نماز پڑھائے اس کو چاہئے کہ منتر ریڑھے، اس لئے کہ

نمازیوں میں کمزور بھی ہوتے ہیں، بوڑھے اور ضرورت والے بھی

لے چھوٹی چھڑیا جس سے بچے اکثر کھیلتے ہیں۔ بله الادب المفرد من سے صحیح بخاری کتاب الصلات

( باب من اخف الصلاة ) ، صحیح بخاری کتاب الصلاة (باب تخفيف الامام القرأة )

……………………………………………………………………………………………………………

۵۸۲

اسی سلسلہ میں یہ واقعہ بھی آسکتا ہے کہ انجشہ جو عورتوں کے قافلہ کے حدی خواں

تھے، بہت خوش آواز شخص تھے، ان کی خوش آوازی کی وجہ سے اونٹ بہت تیز رفتاری

کے ساتھ بڑھنے لگتے تھے اور عورتوں کو اس سے زحمت ہوتی تھی، یہ دیکھ کر آپ نے انجشہ

سے فرمایا البتہ ذرا آہستہ ! اس تیز رفتاری سے آبگینوں (کمزور و نازک ہستیوں)

کو تکلیف نہ پہونچ جائے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو کینہ سے اور کسی کا برا چاہنے سے ہر طرح پاک کر دیا

تھا، آپ فرماتے تھے کہ میں کوئی شخص مجھ سے کسی دوسرے کی شکایت کرے

اس لئے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تمھارے سامنے اس حالت میں آؤں کہ میرا دل بالکل صاف ہو

آپ مسلمانوں کے حق میں شفیق باپ کی طرح تھے اور سارے مسلمان آپ کے سامنے

اس طرح تھے جیسے وہ سب آپ کے اہل و عیال میں شامل ہوں اور ان سب کی

ذمہ داری آپ پر ہو آپ کو ان پر اس درجہ شفقت اور ان سے اس درجہ تعلق تھا،

جیسے مال کو اپنے گود کے بچے سے ہوتی ہے مسلمانوں کے پاس مال و دولت اور ان کے رزق

میں جو فراخی اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی اس سے تو آپ کو کوئی سروکار نہ تھا لیکن ان کے

قرضوں اور ان کو زیر بار کرنے والی چیزوں کو یکا کرنا، آپ نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، آپ

فرماتے تھے جس نے ترک میں مال چھوڑا وہ اس کاروں کا ہے کچھ قرضہ وغیرہ باقی ہے تو وہ

ے دسته ایک دوسری روایت یہ ہے کہ آپ نےفرمایا کوئی مومن ایسا نہیں کا

مجھ سے زیادہ دنیا و آخرت میں کوئی ولی ہوا اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو:۔

له الادب المفرد ه ۱۸ نیز صحیح بخاری و صحیح مسلم لله کتاب الشفاء م بروایت ابو داود

س صحیح بخاری کتاب الاستقراض، باب (الصلاة على من ترك دينا )

………………………………………………………………………………………………………………

النَّبِيُّ أَولَى بِالْمُؤمِنين من بنی مسلمانوں کے لئے ان کی جانوں

لنفيهم (الاحزاب (۶) سے زیادہ دوست اور رفیق ہیں۔

اس لئے جس مسلمان کا انتقال ہوا اور وہ کچھ مال چھوڑے تو وہ اس کے عصبہ، قریبی

رشتہ داروں کا حق ہے وہ جو بھی ہوں، اگر اس کے ذمہ کچھ قرض اور زمین جائیداد

رہ جائے تو میرے پاس آئے، اس کا والی اور ذمہ دار میں ہوں

اعتدال فطرت اور سلامت ذوق

اللہ تعالی نے آپ کو جس اعلی درجہ کے اخلاق اور اعلی درجہ کی طبعی خلقی

موزونیت سے نوازا تھا، وہ آنے والی صدیوں اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لئے

معرات کمال ہے اور اس کو ہم اعتدال فطرت اسلامت ذوق الطاف ہے شور توازن

و جامعیت اور افراط و تفریط سے پر ہیز سے تعبیر کر سکتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ

عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسل اللہ لا الہعلیہ سلم کو جب دو کاموں کی کسی ایک کو

ترجیح دینی ہوتی تو ہمیشہ اس کو اختیار فرماتے جو زیادہ سہل ہوتا بشرطیکہ اس میں گناہ کا

شائیہ نہ ہوا اگراس میں گناہ ہوتا تو آپ اس سے رہے زیادہ دور ہوتے ؟

آپ تکلفات ضرورت سے زیادہ زہد و تقشف اور نفس کے جائز حقوق سے

روگردانی سے بہت دور تھے حضرت ابو ہر بہیہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا

دین آسان ہے، اور جو بھی دین سے زور آزمائی کرے گا، دین اس پر غالب آئے گا،

اس لئے میانہ روی اور اعتدال کے ساتھ چلوا کر کے پہلوؤں کی رعایت کرو اور ابادر کوی

له ايضا و صحیح مسلم (باب مباعد نہ صلی اللہ علیہ وسلم الا نام)

38

………………………………………………………………………………………………………………

اور صبح و شام اور کسی قدر تاریکی شب کی عبادت سے تقویت حاصل کرو وہی

آپ نے یہ بھی فرمایا ٹھیرا اتنا ہی کرو جتنا کرنے کی تمھارے اندر طاقت ہو

اسکے کہ خداکی قسم اللہ تعالی تو نہیں تھے اتنی ہی تھک جاؤ گے ابن عباس سے مروی

ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیا کہ الہ تعالی ک کون سا دین رہے

زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا الحنیفیه السمحه (سهولت و خلوص والادین ابراهی )

عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرمایا مبالغہ سختی سے کام لینے والے اور بال کی کھال نکالنے والے ہلاک ہوتا ہے

آپ نے اپنے بعض صحابیوں کو کسی جگہ تعلیم اوروعظ ونصیحت کے لئے بھیجا

تو ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا تنگ نہ کرنا بشارت دینا اور تنتظرنہ کرنا عبد الله بن

عمرو بن العاص راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ الہ تعالیٰ اس

بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا نشان اپنے بندہ پر دیکھے ہی؟

اپنے گھرمیں اہل و عیال کے ساتھ

آپ آپ اپنے گھر میں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے اور جیسا کہ خود حضرت عائشہ

ا صحیح بخاری کتاب الایمان باب الدین بسیرلہ الادب المفرد منها ( طبع المطبه السلفیہ)

ے صحیح مسلم یعنی دین کے معاملات میں ایچ پیچ کرنے والے اور اس میں تشدد اور مبالغہ کرنے والے۔

کے ترنزی نے یہ حدیث ابواب آداب میں بیان کی ہے باب (ان اللہ جب ان پرسی اثر نعمت علی عبدا)

یعنی اللہ نے اس کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، اس کی زندگی سے اس کا اظہار ہوا آسودہ حال آدمی خستہ حال

آدمی کی طرح ہے تو گویا وہ خدا کے احسن کی ناشکری کرتا ہے اوراپنے فقر کا بلاضرورت اعلان کرتا ہے۔

………………………………………………………………………………………………………………

۵۸۵

نے بیان فرمایا ہے ، آپ اپنے کپڑوں کو بھی صاف فرماتے تھے، بکری کا دودھ بھی خود

دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود انجام دیتے تھے آگے بیان فرماتی ہیں کہ اپنے کپڑوں

میں پیوند لگا لیتے تھے ، جو تا گانٹھ لیتے تھے اور اس طرح کے اور کام کرتے تھے حضرت

عائشہ رض سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے گھر میں کس طرح رہتے تھے انھوں نے جواب دیا کہ آپ

گھر کے کام کاج میں رہتے تھے جب نماز کا وقت آتا تو ناز کے لئے باہر چلے جاتے ؟

ایک روایت میں ہے کہ آپ اپنی جوتی ٹانک لیتے تھے، کپڑا سی لیتے تھے

جیسا تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کرتا ہے ہے؟

حضرت عائشہ نے بیان فرماتی ہیں کہ آپ تمام لوگوں میں سے زیادہ نرم اور

سے زیادہ کم تھے اور بنے کراتے رہتے تھے

حضرت انس بیان کرتے ہیں میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اپنے اہل و عیال پر شفیق ورحیم اور حضرت عائشہ رض سے

مروی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے زیادہ بہتر وہ ہے

جو اپنے اہل و عیال کے لئے سب سے بہتر ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے معاملے میں

تم سب سے زیادہ بہتر ہوں

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم نے کسی کونے

میں کبھی عیب نہیں نکالا، اگر خواہش ہوئی تو تناول فرمایا، نا پسند ہوا تو چھوڑ دیا

لے صحیح بخاری کتاب الصلاة، باب (من کان في حاجة اهله) نیز بردایت احمد و عبد الرزاق .

مصنف عبد الرزاق حدیث نمبر ۲۰۴۹۲ ج ۱ ۲ ۳ ابن عساکر که مد احمدی روایت اس میں مسلم

همه این ماجر (باب حسن معاشرة النساء الله متفق علیہ صحیح بخاری کتاب الاطعمة ( باب الحاب النبی صلی اللہ علیہ)

و سلم طعامًا) نیز صحیح مسلم

………………………………………………………………………………………………………………

۵۸۶

خطرات اور آزمائشوں میں سے آگے اور انعام واکرام میں رہے مجھے

اپنے اہل بیت اہل و عیال اور قرابتداروں کے ساتھ آپ کا مستقل معالمہ اور

اصول یہ تھا کہ جو آپ سے جس قدر قریب ہوتا، آپ خطرات اور آزمائشوں میں اس کو

اسی قدر آگے رکھتے اور انعام واکرام اور مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس قدر پے

رکھتے جب عتیبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نے جو مکہ کے نامی گرامی

بہادروں اور جنگ آزمائوں میں تھے۔ بدر میں قریش کو لکا را اور مبارز طلبی کی

تو آپ نے حمزہ علی اور عبیدہ کو آواز دی اور ان کے مقابلہ پر ھیجا حالانکہ آپ مکہ کے

ان شہواروں کی حیثیت و اہمیت سے خوب واقف تھے، مہا جرین میں متعدد ایسے

بہادر اور جری شہسوار موجود تھے جو ان سے دو دو ہاتھ کر سکتے تھے بنی ہاشم کے

یہ تینوں افراد وہ تھے، جو خون اور رشتہ میں آپ سے رہے قریب تھے اور آپ کو ایسے

زیادہ عزیز و محبوب بھی تھے لیکن آپ نے ان کو اس خطرہ سے بچانے کے لئے دوسرے

حضرات کو خطرہ میں نہیں ڈالا اور انھیں کو مقابلہ کے لئے بھیجا، اللہ تعالی کا کرنا کہ

اس نے ان کو اپنے دشمنوں پر غالب فرما دیا، اور فتح عطا فرمائی حضرت حمزہ و حضرت

علی رضی الله عنها مفر منصور اور صحیح سالم واپس آئے علیدہ رضی الله عنه رزقی

حالت میں لایا گیا۔

آپ نے جب سود کو حرام اور جاہلیت کے خون کو کالعدم قرار دیا تو اس کی ابتدا

اپنے عم محرم عباس بن عبد المطل اور اپنے بھتیجے (ربیع بن الحارث بن عبدالمطلب

کے فرزند) سے فرمائی حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا ۔

………………………………………………………………………………………………………………

۵۸۷

زمانہ جاہلیت کا سود آج سے ختم اور کالعدم ہے اور پہلا سو جو میں ختم کرتا ہوں

وہ ہمارے ہاں کا عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، زمانہ جاہلیت کا خون بھی کالعدم )

ہے اور وہ ہمارے ہی یہاں کا ربیعہ بن الحارث کے فرزند کا خون ہے؟

راحت و آرام اور انعام و اکرام کے موقع پر آپ عام سلاطین و حکمرانوں یا

سیاسی رہنماؤں کی روش اور عادت کے خلاف ان حضرات کو ہمیشہ مجھے رکھتے تھے

اور ان پر دوسرو کو ترجیح دیتے تھے، حضرت علیکم اللہ وجہ او ہیں کہ فاطمہ کو

چکی پیسنے میں مشقت ہوتی تھی، اسی زمانہ میں انکو یہ خیبریا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے پاس کچھ باندیاں آئی ہیں وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اس کی

خواستگار ہوئیں کہ ان کو بھی ان میں سے خدمت و مدد کے لئے کوئی باندی عطا ہو جائے،

لیکن رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اس وقت دولت خانہ پر تشریف نہیں رکھتے تھے

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا، حضرت عائشہ نے

آپ سے اس کا تذکرہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف

لائے اس وقت ہم سونے کے لئے لیٹ چکے تھے آپ کو دیکھ کر ہم کھڑے ہونے لگے،

آپ نے فرمایاں کے رہے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں

محسوس کی آپ نے ارشاد فرمایا کیا ہی تم کو اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جس کا تم نے

سوال کیا تھا، جب تم سونے کے لئے لیٹ تو و بار اشتراکی کی ۳۳ بار احمد بیتا اور ۳ بار

سبحان اللہ کہو یہ تمھارے لئے اس سے بہتر ہے جس کا سوال تم دونوں نے مجھ سے کیا تھا

لے صحیح مسلم کتاب الحج باب حجتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم داود بروایت جابر بن عبد اللہ اس کے کا نام

بعض روایات میں لیا اس آیا ہے۔ کہ صحیح بخاری کتاب الجهاد، باب الدليل ان أمس النوائب

رسول اللہ علیہ وسلم .

………………………………………………………………………………………………………………

ایک دوسری روایت میں اس واقعہ کے ساتھ یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے ان سے

فرمایا کہ خدا کی قسم اس حالت میں کہ اہل صفہ کے پیٹ بھوک سے پیٹھ سے لگ گئے ہیں

میں تمھیں کچھ نہیں دے سکتا میرے پاس ان پر خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ان کو

فروخت کر کے میں ان کی آمدنی ان پر خرچ کروں گا ہے

لطافت شعور اور جذبات کی بلندی و پاکیزگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی سیرت میں نبوت اور دعوت حق کے کاظیم

انسانیت کے در دو سوز اور ان مسلسل فکروں اور گرانباریوں کے ساتھ جن کا تحمل پہاڑوں جن

کے لئے بھی آسان نہ تھا، لطیف انسانی احساسات اور پاکیزہ و بلند جذبات پوری

آب و تاب کے ساتھ جلوہ ریز تھے، اس غیر معمولی قوت ارادی غیر متزلزل رائے

و مسلک کے ساتھ جو انبیاء کا شیوہ اور امتیازی خصوصیت ہوتی ہے اور جو دعوت الی اللہ

اور اعلاء کلمتہ اللہ کے راستے اور اس کے احکام کی تعیل میں کس چیز کو کوئی وزن نہیں دیتی

اور کسی بات کو خاطرمیں نہیں لاتی آپ نے اپنے ان وفادار رفقاء کو اپنی زندگی کے

آخری ایام تک فراموش نہیں کیا، جنھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا، اور

راہی میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا، اور حد کے معرکہ میں شہادت پاکر حیات جاوید

حاصل کی تھی آپ ان کا برابر ذکر فرماتے رہے ان کے لئے دعائیں کرتے رہے، اور

ان کے ہاں تشریف لے جاتے رہے۔

یہ محبت و وفا انسانی جسموں سے تجاوز کر کے ان بے جان پتھروں پہاڑوں

له بروایت احمد ( فتح الباری ج ۷ ۲۳-۲۴)

………………………………………………………………………………………………………………

اور وادیوں تک میں سرایت کر گئی جہاں عشق و وفا اور قربانی و جہاں نثاری کے

یہ مناظر چشم فلک نے دیکھے تھے اور جن و ان کی جائے قیام بننے کا شرف حاصل

ہوا تھا، انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے احد کو دیکھ کر ارشاد فرمایا ھذا

جبل حبنا ونحبه (یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت

کرتے ہیں ابی حمید راوی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک

سے واپس آئے، جب مدینہ قریب آیا تو آپ نے فرمايا هذه طابة، وهذا الجبل يحبنا ونحبه

یہ طالبہ (مدینہ طیبہ ہے اور یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

عقبہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اہل احد کے پاس

تشریف لے گئے، اور ان کے لئے دعاء مغفرت کی جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے

دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اصحاب احد کا ذکر کیا گیا تو آپ

نے فرمایا خدا کی قسم میری خواہش تھی کہ یں بھی شہداء احد کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں

جا نا، آپ نے اپنے چاہنے والے چچا اور رضاعی بھائی کی شہادت کا صدمہ

جنھوں نے آپ کی محبت و حمیت اور اسلام کی نصرت و حمایت میں جان

دی اور ان کی نعش کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو کسی کے ساتھ نہ ہوا تھا) انبیاء

اولو العزم کے صبر کے ساتھ برداشت کیا لیکن جب آپ احمد سے واپس ہوتے

ہوئے مدینہ تشریف لائے اور بنی عبد الاشہل کے گھر کے سامنے آپ گزرے، اور

ان کے شہداء پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں آئی تو اس واقعہ نے آپ کے

لطیف انسانی احساسات کو چھیڑ دیا، اور آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں آپے فرمایا

کے صحیح بخاری کتاب المغازی (باب احد محجبنا) کے صحیح بخاری کتاب المغازی واقع بوک ۵۳ ایضاً

unununununun

………………………………………………………………………………………………………………

۵۹۰

(لكن حمزة لا بواكى له، لیکن حمزہ کے لئے رونے والیاں نہیں ہیں)

تاہم یہ تشریفانہ و اعلیٰ انسانی احساسات و جذبات نبوت اور دعوت اسلامی )

کی عظیم ذمہ داریوں اور حدود الہیہ کی رعایت و حفاظت پر کبھی اثر انداز نہیں ہوئے

سیرت نگار اور مورخ بیان کرتے ہیں کہ جب سعد بن معاذا اور اسید بن حضیر رضی اللہ

عنہا بنی عبدالاشہل کے گھر واپس آئے تو انھوں نے اپنے گھر کی عورتوں کو حکم دیا کہ

تیار ہو کر جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاسید تا حمزہ رضی اللہ عنہ کا

ماتم کریں۔ ان خواتین نے ایسا ہی کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف

لائے تو ان کو مسجد نبوی کے دروازے پر روتا ہوا پایا آپ نے فرمایا اللہ رحم فرائے

واپس جاؤ، تمھارے یہاں آنے ہی سے عمخواری کا سامان ہو گیا ” ایک روایت میں

یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ سب کیا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ انصار

نے اپنی عورتوں کو کس مقصد سے یہاں بھیجا ہے، آپ نے خدا کے حضور مغفرت طلب کی

اچھے الفاظ سے ان کو خطاب کیا، اور فرمایا: میرا مطلب یہ نہیں تھا، میں بیت پر

رونا پسند نہیں کرتا، پھر آپ نے اس سے منع فرمایا ہے

اس سے نازک موقع اسد اللہ سید نا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی کے

ساتھ پیش آیا، جب مسلمانوں نے مکہ کو فتح کر لیا تو دنیا ان کی نظر میں تاریک ہوگئی

اور راستے مسدود نظر آئے اُن کے لئے قدرتی طور پر شکلات پیدا ہو گئیں انھوں نے

شام و یمین اور بعض دوسرے مقامات پر جانے کا ارادہ کیا ان سے لوگوں نے کہا

بھلے آدمی ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جو آپ کے

ے ابن کثیر ی ۹۳ امام احمد نے اس کو ابن عمر رض سے روایت کیا ہے ان کثیر کاقول ہے کہ اذاعلی شہر مسلم

ابن کثیر ۹۳

………………………………………………………………………………………………………………

…………………………………………………………………………………………………………

دین میں داخل ہو جائے ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور وہ کلمہ شہادت پڑھ کر

مسلمان ہو گئے مسلمان ہونے کے بعد جب وہ پہلی بار حضور کی خدمت میں حاضر

ہوئے تو آپ نے ان کا اسلام قبول فرمایا اور کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جس سے

ان کے دل میں خوف پیدا ہو، حضرت حمزہ کے قتل کا واقعہ آپ نے ان سے سنا،

جب وہ سب کہہ چکے تو آپ کے اندر وہ لطیف انسانی احساس اور کیفیت ضرور

پیدا ہوئی لیکن یہ خاص کیفیت اور جذبہ آپ کے منصب نبوت کے مزاج اور

احساس ذمہ داری پر غالب نہیں آنے پایا کہ آپ ان کے اسلام کو قبول نہ فرماتے

یا غصہ میں ان کو قتل کر وا دیتے، آپ نے اس کے علاوہ کچھ نہ فرمایا۔ بندہ خدا میرے

سامنے نہ آتا میں یہ چاہتا ہوں کہ میری نظر م پر نہ پڑئے وحشی کہتے ہیں کہ اس کے بعد

میں برابر آپ کے سامنے آنے سے کتراتا رہاکہ کہیں آپ مجھے دیکھ نہ لیں یہاں تک کہ

ان کا وقت موعود آگیا

بخاری میں ہے کہ آپ کی نظر جب مجھ پر پڑی تو آپ نے فرمایا کیا تم وحشی

ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کیا تھیں نے حمزہ کو شہید کیا تھا؟ میں نے کہا

آپ کو جما طلا پہونچی ہے وہ درست ہے آپ نے فرما کہ کیاتم یہ کرسکتے ہو کہ

میرے سامنے نہ آیا کرو

ان فطری و انسانی احساسات وکیفیات اور اعلیٰ ولطیف جذبات کی

جھلک ہیں وہاں بھی نظر آتی ہے جب آپ ایک مٹی ہوئی پرانی قبر پر تشریف لے گئے

له ابن ہشام ج ۲ صحیح بخاری میں یہ واقعہ کتاب المغازی باب قتل حمزہ رضی اللہ عنہ میں میں باب اللرعت

بیان کیا گیا ہے۔ ۲ صحیح بخاری، باب قتل حمزہ

………………………………………………………………………………………………………………

۵۹۲

اس وقت آپ پر رقت طاری ہوئی اور آپ رو دیئے، پھر آپ نے فرمایا یہ آمنہ

کی قبر ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب ان کی وفات پر طویل عرصہ گذر چکا تھا۔

گرم گستری اور تحمل و بردباری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکارم اخلاق نوازش و کرم گستری اور تواضع میں

ساری انسانیت کے امام و مقتداد پیشوا تھے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :۔

إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عظيم بے شک آپ بہت عظیم اخلاق کے

حامل ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا :

ادینی ربی فأحسن تأدیبی میری تربیت اللہ تعالیٰ نے فرمائی

ہے اور بہترین فرمائی ہے۔

حضرت جابڑ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

ان الله بعثنی تمام مکارم الاخلال الله تعالے نے مجھے مکارم اخلاق اور

وكمال محاسن الأفعال ليئے محاسن اعمال کی تکمیل کے لئے مبعوث

فرمایا ہے۔

حضرت عائشہ رض سے آپ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا، انھوں نے کہا :

كان خلقه القرآن آپ اخلاق میں قرآن کا بستم نمونہ تھے۔

ے بیتی بروایت سفیان ثوری (دیکھئے ان کثیری (۲۳) العلم یہ ۳ شرح السته و مشکاة

المصابیح شاه که صحیح مسلم بروایت عالترین

………………………………………………………………………………………………………………

600- 700

۵۹۳

عفو و در گذرا تحمل و بردباری کشادہ قلبی اور قوت برداشت میں آپ کا جو نظام کو

تھا، وہاں تک اہل ذہانت کی ذہانت اور شعراء کے خیال و تصور کی بھی رسائی نہیں ہوسکتی

اگر ان واقعات کو اس مخصوص طریقہ سے بیان نہ کیا گیا ہوتا جو شک و شبہ سے بالاتر

ہے تو لوگوں کے ذہن آج اس کو قبول نہ کرتے لیکن یہ روایات اس قدر صحیح اور

مسلسل اسناد اور ایک نقره و عادل راوی سے دوسرے نفقہ و عادل را وی تک

اس انضباط و ارتباط کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، اور ان میں اس درجہ تو اتر پایا جاتا

ہے کہ اس کی وجہ سے وہ خبر ترین تاریخی دستاویزات سے کہیں زیادہ قابل اعتماد ہیں۔

اس موقع پر ہم اس سلسلہ کے چند واقعات بیان کریں گے۔

آپ کی نوازش و کرم اور بڑے سے بڑے دشمن کے ساتھ دلداری اور احسان

کا ایک نمونہ وہ تھا جب منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول کو قبر میں

اتارا گیا، آپ وہاں تشریف لائے حکم دیا کہ اس کو قبر سے نکالا جائے، اس کے بعد

آپ نے اس کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اپنی قیصی

مبارک اس کو پہنائی کہیئے۔

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ

چل رہا تھا، آپ اس وقت نجران کی چادر زیب تن کئے ہوئے تھے جس کے کنارے

موٹے تھے، راستہ میں ایک اعرابی آپ کو ملا اور آپ کی چادر مبارک پکڑ کر زور سے

کھینچی میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ آپ کی گردن پر اس کے کھنچنے کی وجہ سے

اے شہ میں تبوک سے واپسی پر ماہ ذی قعدہ میں اس کی موت واقع ہوئی، الزرقانی ج ۳

م ۱۱ ۱۱۳ ۱۲ صحیح بخاری کتاب الجنائہ تلخیص کے ساتھ۔

……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….………

پڑ گئے ہیں، پھر اس اعرابی نے کہا یا محمد اللہ کا جمال آپ کے پاس ہے وہ مجھ دینے کا

حکم دیجئے آپ نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور بنے پھر ہدایت کی کہ اس کو دیا جائے .

زید بن سعد (قبول اسلام سے قبل آپ کے پاس آیا اور قرض کا مطالبہ کیا جو

آپ نے اس سے لے لیا تھا، پھر اس کے بعد اس نے کپڑا پکڑ کر آپ کے شانہ مبارک سے

زور سے کھینچا اوراپنی مٹھی میں کپڑے کو لے لیا اور سخت الفاظ میں بات کی پھر کہا کہ

تم عبد المطلب کی اولاد بڑے ٹال مٹول کرنے والے ہو حضرت عمر نے اس کو جھڑ کا

اور سخت لہجہ میں بات کی لیکن رسول اللہ صل اللہ علیہ کا رویہ مسکراہٹ کا رہا، آپ

نے حضرت عمر سے فرمایا عمرہ اور شخص تمہاری طرف سے دوسرے رویہ کے مستحق

تھے، مجھے تم قرش جلد ادا کرنے کا مشورہ دیتے اور اس کو نم طریقہ سے تقاضہ کرنے کو کہتے!

پھر آپ نے فرمایا کہ اس کی بہت ادائیگی میں ابھی تین دن باقی ہیں بہر حال آپ نے

حضرت عمرہ کو اس کے قرض کی ادائیگی کا حکم یا اور ہیں صاع اس کو مزید دینے کو

فرمایا کہ یہ اس کا معاوضہ ہے جو حضرت عرض نے اس کو خوف زدہ کردیا تھا اور پھر یہی تا

اس کے اسلام کا باعث بن گئی۔

حضرت ان بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار کہ سے اینٹی مسلح آدمی جبل تنظیم سے اچانک

وارد ہوئے اور دھو کہ میں رکھ کر آپ کو گزند پہونچانا چاہا، آپ نے ان ان سب کو قیدی

بنالیا، اور ان کو زندہ رہنے دیا

لم صحیح بخاری کتاب الجہاد باب كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم نزند

امام احمد ۳ ما الفاظ کے تھوڑے اختلاف کے ساتھ کے بروایت بیٹی (تفصیل کے ساتھ) و

روایت احمج ۱۵ الفاظ کے کسی قدر اختلاف کے ساتھ کے صحیح مسلم کتاب الجہا دوالیس

باب قول اللهُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمُ

.……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……

جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

ساتھ نجد کی طرف لشکرکشی کی راستہ میں دوپہر کا وقت ہوا اور آرام کی ضرورت محسوس

ہوئی، اس علاقہ میں کثرت سے جھاڑیاں تھیں، آپ ببول کے ایک درخت کے سایہ

میں استراحت فرمانے لگے اور اپنی تلوار درخت پر ان کا دی، اور لوگ بھی منتشر ہو کر

مختلف درختوں کے نیچے پناہ گیر ہو گئے، یہ کیفیت تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم

نے ہمیں آواز دی ہم حاضر خدمت ہوئے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا

ہے آپ نے فرمایا کہیں سورہاتھاکہ شخص آیا اورمیری تیاری کی نہیں بیدار جانور ہوا

کھینچے ہوئے میرے سر پہ کھڑا تھا، اس نے کہا تمھیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے

کہا اللہ اس نے تلوار نیام میں کرتی، اس کے بعد بیٹھ گیا، اور یہ ہے وہ شخص جو تمھارے

مانے بیٹھا ہوا ہے راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول صل اللہ علیہ سلم نے اس کو کوئی

سزا نہ دی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم و بردباری کا یہ حال تھا کہ تمام

صحابہ کرام کا علم بھی مل کر آپ کے برابر نہ تھا، حالانکہ سب صحابہ کرام حلیم

و سکنیت کے حامل تھے، آپ کی حیثیت ان تمام معاملات میں سب کے لئے

ایک شفیق استاد اور رحمدل و مہربان صلح و ترقی کی تھی اس کا ایک نمونہ ہیں حضرت

ابو ہریہ کی روایت میں نظر آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عربی نے مسجد میں

ل اس موقع پر لفظ شامہ آیا ہے جس کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ اس نے تلوار نیام میں کرلی اور اس کے

یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اس نے تلوار کھینچی اور اس کو دیکھا ملاحظہ ہو مجمع بحار الانوار)

صحیح بخاری کتاب المغازی باب (غزوة بني المصطلق)

…..……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

پیشاب کر دیا، لوگ یہ دیکھ کر اس پر دوڑ پڑے رسول اللہ صل اللہ علہ وسلمنے فرمایا

اس کو چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کر دیا ہے، اس پر ایک ڈول پانی کا کچھ پانی

کے ڈول بہا دوا اور خیال رکھو کہ تم آسانی پیدا کرنے والے بناکر بھیجے گئے ہو تنگی

و دشواری پیدا کرنے والے بنا کر نہیں ہے

معاويه بن الحکم راوی ہی کریں رسول اللہصلی اللہ علہ ولی کے ساتھ نماز

پڑھتا تھا کہ ایک شخص کو پھینک آئی میں نے کہا بیرحمك الله لوگ پیس کر مجھے

گھورنے لگے میں نے کہا تمھاری ماں تم پر روئے، آخر کیا ہوا ہے کہ تم لوگ مجھے اس طرح

تیز نگاہوں سے گھور رہے ہو یہ سن کر لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے، جب میں نے

محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرنا چاہتے ہیں تو یں چپ ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر قربان میں نے نہ آپ سے پہلے

آپ کی طرح کوئی مری او تم دیکھا اور آپ کے بعد خدا کی قسم ہ آپ نے مجھے ڈانٹا

ه مارانه برا بھلا کا بس یہ فرمایاکہ نماز میں عام انسانی گفتگو مناسب نہیں ہوتی، نماز

صرف نبی تکبیر اور تلاوت قرآن کے لئے ہے

انس بن مالک بیان کرتے ہی کہ رسول اللہ صل اللہ علی سلیم بہت رحم دل

تھے آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اس سے وعدہ ضرور کرتے اور اگر کچھ

ہوتا تو اس وقت اس کی حاجت پوری فرمائے ایک بار نماز کھڑی ہوچکی تھی کہ ایک ، بار نماز بھی ہو تھی ایک

اعرابی آگے بڑھا اور آپ کا بڑھا اور آپ کا کپڑا پکڑ کر کہنے لگا کہ میری ایک معمولی سی ضرورت باقی اور کر گا سی

رہ گئی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں بھول نہ جاؤں، آپ اس کے ساتھ تشریف لے گئے،

ا صحیح بخاری کتاب الوضو) له مسلم باب تحريم الكلام في الصلاة .

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

جب اس نے اپنا کام کر لیا تو آپ واپس تشریف لائے اور نماز ادا فرمائی

آپ کے تحمل ، قوت برداشت، کشادگی قلب اور صبر و عزیمت کے واقعات

میں آپ کے خادم حضرت انس کی وہ شہادت ہے جو انھوں نے اس سلسلہ میں دی ہے۔

اس وقت وہ بہت کم سن تھے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

کی دس سال خدمت کی آپ نے کبھی ہوں بھی نہیں کہا، اورنہ یہ فریاکہ خلال کام

تم نے کیوں کیا اور فلاں کام تم نے کیوں نہ کیا؟

شعا دابن عمر تے ہیں کہ ہم میں سول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے پاس حاضر ہوا۔

اور میرے کپڑے پر زعفران سے ملی ہوئی خوشبو کا نشان تھا، آپ نے دیکھا تو فرمایا

پھینکو ورنہ

ور بینکو پھینکو اور میرے پیٹ پر ایک چھڑی ماری جس سے مجھے

تکلیف ہوئی میں نے کہا یا رسول اللہ میرا قصاص کا حق ہو گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ

علیہ وسلم نے حکم مبارک سے کپڑا ہٹا دیا اور فرمایا قصاص لے تو

آپ کی تواضع

تواضع آپ کے اندر انتہا درجہ کی تھی اور آپ کسی چیز میں نمایاں اور ممتاز ہونا

پسند نہیں فرماتے تھے اور نہ آپ اس کو اچھا سمجھتے تھے کہ لوگ آپ کے لئے کھڑے ہوں

اور آپ کی مدح و توصیف میں مبالغہ سے کام لیں جیسے گذشتہ امتوں نے اپنے انبیا

کے ساتھ کیا تھا یا آپ کو عبدیت اور رسالت کے درجہ سے بلند کریں، حضرت نہیں

لے مسلم کتاب الفضائل باب حسن خلقہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک زرد بوٹی جس سے کپڑا

زنگا جاتا ہے لے کتاب الشفاء یہ انھوں نے محبت میں کہا تھا قصاص لینے کے لئے نہیں۔

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص محبوب تھا،

لیکن ہم آپ کو دیکھتے اور اس خیال سے کھڑے نہیں ہوتے تھے کہ آپ اس کو پسند نہیں

فرماتے ہے

آپ سے عرض کیا گیا کہ یا خیر البریة (اے مخلوق میں سب سے افضل)

كلة آپ نے فرمایا ذالك ابراهیم علیہ السلام (یہ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے)

حضرت عمر آزادی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری

اس طرح آگے بڑھ کر تعریف و توصیف نہ کرو جس طرح نصاری نے عیسی ابن مریم کے ساتھ

کیا تھا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو

عبد اللرین ابی اوفی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس میں

کوئی تکلف اور عارہ ہوتا تھا کہ آپ کی غلامی کی بیوہ کے ہمراہ لیں یہاں تک کہ

اس کی ضرورت پوری ہو جائے ۔

حضرت انس کہتے ہیںکہ مدینہ کی لونڈیوں اور باندیوں میں سے کوئی آپ کا

ہاتھ پکڑ لیتی اور جوکچھ کہنا ہوتا کہتی اور کتنی دور چاہتی لے جاتی ہے

عدی بن حاتم الطائی جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے

ان کو اپنے گھر بلایا باندی نے تکیہ ٹیک لگانے کے لئے پیش کیا، آپ نے اس کو اپنے

اور عدی کے درمیان رکھ دیا اور خود زمین پر بیٹھ گئے، عدی کہتے ہیں کہ اس سے

له ترندی ( باب ما جاء في كراهية قيام الرجل للرجل ) و بروایت مند احمد ج ٣ مل۳ في مراج

مسلم کتاب الفضائل باب من فضل ابراہیم علیہ السلام سے بخاری کتاب الانبیاء کے بہیقی رباب

تواضع رسول الله و سند احمد وجمع الفوائد الكتاب الناقب باب صفاته واخلاقه

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

میں سمجھ گیا کہ آپ بادشاہ نہیں ہیں۔

حضرت انس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ما عیادت

فرماتے تھے، جنازہ میں شریک ہوتے تھے گدھے پر بھی سواری فرماتے تھے، اور غلام کی

دعوت قبول فرماتے تھے کہیے

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور کے

خیال سے اپنی رفتار مست فرما دیتے تھے اور اس کے لئے دعا فرماتے تھے ہیں

انس یعنی الله عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کی روٹی او

ایسے سالن پچی کا مزہ بدل چلا ہو، وہ ہوتے تو بھی آپ قبول فرماتے ہیں پر

ان رسول یہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا کہ صلی

میں بندہ ہوں بندہ کی طرح کھانا ہوں، اور بندہ کی طرح بیٹھتا ہوں

عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الله

علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ہیں نے چھڑے کا نیکہ جس میں پھال بھی ہوتی تھی

آپ کو پیش کیا آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ کو میرے اور اپنے درمیان رکھ دیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خو گھر کی صفائی فرمالیتے، اونٹ کو باندھ

لینے اور اپنے جانور کو چارہ بھی دیتے اپنے خدمت گار کے ساتھ کھانا تناول فرماتے

اور آٹا گوندھتے ہیں اس کا ہاتھ بٹاتے اور بازار سے سود ابھی لے آتے ہے۔

له زاد المعا درج السلام کے شمائل ترندی (باب تواضع النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الترغیب

والتربيب المنذری که شمائل ترنزی باب تواضع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ومسند احمد ج ۳

۲- ۲۸۹ ۵ه الشفاء من الله الادب المفرد من که کتاب شفاء لنا بروایت بخاری

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

شجاعت دلاوری اور شرم و حیا

آپ کی سیرت میں شجاعت و دلاوری اور شرم و حیا جس کو بہت سے لوگ متضاد

سمجھتے ہیں کی یکساں نمود تھی جہاں تک آپ کی حیا کا تعلق ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ

عنہ فرماتے ہیں کہ آپ پردہ نشین کنواری لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے، جب آپ کو کوئی

چھیڑنا گوار ہوتی تھی تو اس کا ثرآپ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہوجاتا تھا شرم وحی کی

وجہ سے کسی کے دو ہر ایسی بات نہ کہ سکتے تھے جو اس کو ناگوار ہو چنانچہ یہ کام سی او کے

حوالے فرماتے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اله صل اللہ علیہ سلم کی مجلس پر ایک شخص

تھا جس کے کپڑوں پر زردی کا اثر غالب تھا چونکہ آپ کسی کے روبرو ایسی بات کہنا پند

نہیں فرماتے تھے جو اسکو ناگوار ہو اس لئے جب وہ کھڑا ہوگیا تو آپ نے لوگوں سے ریم کا کہ

اچھا تھا اگرتم اس سے یہ کہے کہ وہ زرد رنگ کا استعمال چھوڑ دے۔

حضر ما نشه بیان فرماتی ہیں کہ جب آپ کو کس کے متعلق کسی برائی کی اطلاع میتی تو

آپ اس کام کو یہ فرمانے کا ایا کیوں کیا آپ لیا تے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ

یا کہتے ہیں یا ایسا کرتے ہیں اس کی مخالفت تو فرانے میں کام کرے الے کا مظاہرہ کریں

جہاں تک شجاعت و دلاوری کا تعلق ہے تو اس کے لئے پر اعلی مرتضی کرم شہر

وجہ کی شہادت کافی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب زور کارن پڑتا تھا اور معلوم تھا تھا کہ

آنکھیں حلقوں کا ہر آجائیں گی تو اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

ال صحیح بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ملی شمائل ترنزی باب

خلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم سه سنن ابی داؤ د باب حسن العشرة.

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

4-1

آپ کی پناہ لینے کے لئے ڈھونڈتے اور یہ دیکھتے تھے کہ دشمن سے آپ سے زیادہ

کوئی قریب نہیں ہے غزوہ بدر میں ہمارا یہی حال تھا ہم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی

پناہ لے رہے تھے اور آپ دشمن سے ہم رہے زیادہ قریب تھے یہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے

زیاد حسین و جمیل ہر ہے زیادہ تھی و فیاض اور سب سے زیادہ شجاع و بہادر تھے ایک راست

اہل مدینہ خوف زدہ ہو گئے، اور جدھر سے آواز آئی تھی ادھر لوگوں نے بری کیا، راستے

میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے ہوئے ملے آپ آواز سن کر ان سی ہے

پہلے وہاں تشریف لے گئے تھے، آپ فرماتے جاتے تھے کہ ڈرو نہیں ڈرو نہیں آپ اس وقت

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار تھے جس پر یہ بھی نہ تھا اور آپ کے شانے سے تشک

رہی تھی آپ نے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا میں نے اس کو سمندر کی طرح رواں اور

تیز رفتار پایا

غزوہ احد اور غزوہ حنین میں جب بڑے بڑے بہادر اور جگر دار تیر بتر ہوگئے تھے،

اور میدان خالی تھا، اس وقت بھی آپ اپنے خچر پر اسی سکون اور ثابت قدمی کے ساتھ

اپنے مقام پر موجود وجد تھے معلوم ہوتاتھا کہ کوئی بات ہی نہیں ہوئی آپ پر جو بھی پڑھتے جاتے تھے

أنا النبي لا كذب – انا ابن عبد المطلب

میں نہیں ہوں یہ کوئی چھوٹ بات نہیں ہے میں عبد المطلب کا فرزند ہوں

شفقت و محبت و رحمت عامه

اس شجاعت و بہادری کے ساتھ آپ بے روزم دل تھے آپ کی آنکھیں بہت جلانا

له الشفاء صله له الادب المفرد من بروایت صحیحین

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

اور انکار ہو جاتیں کر دوں اور بے زبان جانوروں کے ساتھ پانی کا کراتے تھے

شداد بن اوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم نے فرمایا اللہ تعالی نے جزا کے ساتھ

اچھا کام کرنے او نرم برا کرنے کاحکم دیا ہے اس کی بھی کو انچی لے کردیا کرو تو

چھی لے کرو تم میں جو نہ کرنا چاہے وہ اپنی پھر پہلے ہی کرے اور اپنے دیر کو رام ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک بکری زمین بن فریج کرنے

کے لئے لٹائی اس کے بعد چھری تیز کرنا شروع کیا رسول اللہ صل اللہ علی وسلم نے یہ دیکھ کر

رمایا کہ تم اس کو ڈوبا را نا چاہتے ہو اس کوان سے پہلےتم نے چھری تیز کیوں کرتی

آپ کے صحابہ کرم کو جانوں کو چارہ پانی دین کی ہدایت فرمائی اور انکو پریشان

کرنے اور ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے کی مانعت کی اور جانوں کی تکلیف دور کرنے او

ان کو آرام پہونچانے کو باعث اجر و ثواب اور قرب الی الرکا ذریعہ قراردیا اور اس کے

فضائل بیان فرماے حضرت ابو ہریرہ راوی ہی کہ ایک شخص کہیں سفر پر تھا، راستہ میں اس کو

سخت پیاس لگی سامنے ایک کنواں نظر پڑا وہ اس میں اتر گیا جب باہر آیا تو دیکھا

کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس نے اپنے دلمیں کہا کہ یہاں

سے جو میرا حال ہو رہا تھا، یہی اس کا بھی ہے، وہ پھر کنویں میں اترا اپنے چپڑے کے

موزے پانی سے کا سے بھرے پھر اپنے دانتوں سے ان کو دبایا اور اوپر کر کتے کو پلایا

اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا، اور اس کی مغفرت فرمادی لوگوں نے اس

عرض کیا کہ یا رسول اللہ بہائم اور جانوروں کے معاملہ میں بھی اجر ہے آپ نے فرمایا

ان مسلم باب الامر با حسان الذبح (كتاب الذبح) له طبرانی اور حاکم کا قول ہے کہ

یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

ہر اس مخلوق میں جو ترو تازہ جگر رکھتی ہے، اجر ہے ۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

بیان فرمایا کہ ایک عورت کو صرف اس بات پر عذاب دیا گیا کہ اس نے اپنی بچی کو

کھانا پانی نہیں دیا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ حشرات الارض ہی سے اپنا

پیٹ بھرے

شہیل بن عمرور اور ایک روایت میں ہے شہیل بن الربیع بن عمرو)

روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسے اونٹ پر

ہوا جس کی پیٹھ لاغری کی وجہ سے اس کے پیٹ سے لگ گئی تھی، آپ نے فرمایا

ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ سے خون کرو، ان پر سواری کرو تو اچھی طرح

ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت استعمال کرو تو اس حالت ہیں کہ وہ اچھی حالت

میں ہوں”

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ایک انصاری کے احاطہ میں داخل ہوئے اس میں ایک اونٹ تھا، اس نے

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا تو وہ پھیلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے

آنسو بہنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب تشریف لائے اور

اس کے کوہان اور کنپٹیوں پر اپنا دست مبارک پھیرا، اس سے اس کو سکون ہو گیا۔

اح صحیح بخاری کتاب المساقاة، باب فضل سقى الماء، وصحیح مسلم، باب فضل سقى البهائم

که امام نووی بروایت مسلم ۵۳ ابو داؤد باب ما يؤمر به من القيام

على الدواب ؟

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

پھر آپ نے پوچھا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ ایک انصاری تو جوان آیا،

اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ میرا ہے آپ نے فرمایا کیا تم اس جانور کے

معاملے میں جس کا مالک اللہ تعالیٰ نے تم کو بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے

وہ مجھ سے شکایت کر رہا تھا کہ تم اس کو تکلیف دیتے ہو اور ہر وقت کام میں

لگائے رکھتے ہوں

حضرت ابو ہریرہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم

کسی سرسبز جگہ جاؤ تو اونٹوں کو زمین پر ان کے حق سے محروم نہ کرو اور اگر نشان زمین

میں جاؤ تو وہاں تیز چلو، رات کو پڑاؤ ڈالنا ہو تو راستہ پر نہ ڈالو اس لئے کہ وہاں

جانوروں کی آمد و رفت رہتی ہے اور کیڑے مکوڑے وہاں پناہ لیتے ہیں

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے ساتھ ایک غرس تھے کہ آپ ایک ضرورت کے لئے وہاں سے تھوڑی دیر کے

لئے تشریف لے گئے، اس درمیان ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے ساتھ دو بچے

تھے ہم نے دونوں بچے لے لئے، وہ یہ دیکھ کر اپنے پروں کو پھڑ پھڑانے لگی، آپ

تشریف لائے اور پوچھا کہ کس نے اس کے بچے چھین کر اس کو تکلیف پہنچائی

ہے، پھر آپ نے حکم دیا کہ اس کو بچے واپس کر وہ یہاں ہم نے پونٹیوں کی ایک

آبادی دیکھی اور اس کو جلا دیا نے آپ فرمایا اس کو کس نے جلایا ہے ہم نے نے

عرض کیا کہ ہم لوگوں نے آپ نے فرمایا کہ آگ سے عذاب دینے کا حق صرف اللہ کے رب کو ہے

له البيضًا – له مسلم باب مراعاة مصلحة الدواب له ابوداؤ د كتاب الجهاد باب .

کراہیة حرق العد و بالنار

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

۶۰۵

خادم، نوکر اور مزدور کے ساتھ جو اور انسانوں کی طرح انسان ہیں، اور

جن کا اپنے مالک اور آقا پر احسان ہے آپ نے حسن سلوک کی جو تعلیم دی ہے،

وہ اس کے علاوہ ہے، جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم

نے فرمایا کہ جو تم کھاتے ہو وہی ان کو کھلاؤ جو تم پہنتے ہو وہی ان کو پہنا دی اور

اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے ماتحت

کیا ہے تمھارے بھائی تمھارے خادم اور مددگار ہیں، جس کا بھائی اس کا ماتحت ہوا

اس کو چاہئے کہ جو خود کھاتا ہے وہی اس کو کھلائے، جو خود پہنتا ہے وہی اس کو پہننا

ان کے سپر ایسا کام نہ کرو جو ان کی طاقت سے باہر ہوا اگر ایسا کرنا ہی پڑے تو

پھر ان کا ہاتھ بٹاؤ

عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

پاس آیا اور پوچھا کہ میں اپنے نوکر کو ایک دن میں کتنی مرتبہ معاف کروں آپ نے

فرمایا نشر مر یہ وہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو

کامل، عالمگیر اور لازوال نمونه

اس فصل کا انتنام حضرت الاستاد مولانا سید سلیمان ندوی کی مشہور کتاب

خطبات مدراس کے ایک اقتباس و انتخاب پر کیا جا رہا ہے جس میں سید صاحب نے

له بخاری الادب المفرد م۳ ۵۲ بخاری و ابو داؤد که ترندی وابوداود.

که ابن ماجه البواب الرحمون (باب اجر الأجراء )

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل، عالمگیر اور لافانی نقش حیات، آپ کی

جامعیت و کاملیت اور تمام طبقات انسانی نیز ہر ماحول، ہر زمانہ ہر پیشہ اور

ہر مشغلہ، غرض ہر قسم کے حالات اور ہر سطح و معیار کے لئے آپ کی کامل و جامع

رہنمائی اور اسوۂ حسنہ کی نہایت مؤثر اور بلیغ انداز میں تشریح کی ہے وہ لکھتے ہیں:

ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے

مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو؟

صرف محمد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی سیرت ہے، اگر تم دولت مند

ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو، اگر تم غریب ہو تو

شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سند، اگر تم

بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو، اگر تم رعایا ہو تو قریش کے

محکوم کو ایک نظر دیکھو اگر تم فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پرنگاہ

دوڑاؤ، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکۂ احد سے عبرت حاصل کر وہ

اگر تم اسناد اور کم ہو تو صفہ کے درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو اگر شاگرد

ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جاؤ، اگر تم واعظ و ناصح

ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو، اگر تم تنہائی

اور لیے کسی کے عالم میں حق کے منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو ۔

کمر کے بے با روی گارنی کا اسوہ حسنہ تمھارے سامنے ہے، اگر تم حجت کی

نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور اپنے مخالفں کو کمز در بنا چکے ہو تو

فار مکہ کا نظاره کرد، اگر تم اپنے کاروبار اور دنیادی جد و جہد کا

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر، خیبر اور فدک کی زمینوں

کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو اگر یتیم ہو تو عبدالرحمن اور آمنہ

کے جگر گوشہ کو بھولو، اگر چہ بو تو یہ سعدیہ کے لاڈلے کو دیکھو اگر تم

جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو اگر تم سفری کاروبار

میں ہو تو بصری کے کاروان سالار کی مثالیں ڈھونڈو، اگر تم عدالت

کے قاضی ہو اور پنجابیوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے

پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ

میں کھڑا کر رہا ہے مدینہ کی کچھ مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو

دیکھو میں کی نظر انصاف میں شاہ، دگرا اور امیر و غریب سب برابر

تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہ کے مقدر میں شوہر کی

حیات پاک کا مطالعہ کرو، اگر تم اولا دوالے ہو تو فاطمہ کے باپ

اور حسن و حسین کے نانا کا حال پوچھو، عرض تم جو کچھ بھی ہو اور کسی حال

میں بھی ہو تمھاری زندگی کے لئے نمونہ تھاری سیرت کی درستگی و اصلاح

کے لئے سامان تھانے ظلمت خانے کے لئے ہدایت کا چراغ اور انتہائی

کا نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت کبری کے خزانے میں ہر وقت

اور ہمہ دم مل سکتا ہے اس لئے طبقات انسانی کے ہر طالب علم اور

نور ایمانی کے ہر تلاشی کے لئے صرف محمد رسول اللہ کی سیرت ہاسات

کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے جس کی نگاہ کے سامنے محمد رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اس کے سامنے نوح و ابراہیم

….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…

ایوب و یونس ، موسی اور عیسی علیہم السلام سب کی سیرتیں موجود

ہیں گویا تمام دوسرے انبیاء کرام کی سیرتیں، ایک ہی جنس کی

اشیاء کی دوکانیں ہیں اور محمد رسول اللہ کی سیرت، اخلاق و اعمال

کی دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے جہاں ہر جنس کے خریدار اور ہر شئے

کے طلب گار کے لئے بہترین سامان موجود ہے؟

لے خطبات مدراس صحه ۵۹۰