عہد جاہلیت
مذاہب اور اہل مذاہب پر ایک اجمالی نظر چھٹی صدی عیسوی میں
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کے بڑے مذاہب قدیم مذہبی صحیفے اور ان کے احکام و قوانین جمهوری مذہب اخلاق اور علم کے میدان میں مختلف موقعوں پر اپنا مخصوص کردار ادا کیا تھا) بازیچہ اطفال بن چکے تھےم اور تحریف کے علم برداروں، منافقوں اور نا خدا ترس و بے ضمیر ذہبی رہنماؤں کی ذاتی اغراض کا نشانہ اور حوادث زمانہ کا اس طرح شکار ہو چکے تھے کہ ان کی اصل شکل و صورت کا پہچاننا مشکل بلکہ نا مکن تھا، اگران نداہر کے اولین بانی علم بردار اور ان کے انبیاء کرام دوبارہ واپس اگر اس حالت کو دیکھتے تو ان مذاہب کو خود نہ پہچان سکتے اور ان کا انتساب اپنی طرف کرنے پر ہر گز تیار نہ ہوتے لیے له ان قدیم قوموں (جو بڑے مشہور مذاہب کی علم بردار رہی ہیں) کے مذہبی صحیفے جس بے دردی دبے رحمی کے ساتھ تحریف کا شکار ہوئے بلکہ جس طرح ان کی صورت و حقیقت مسخ کی گئی اور بعض اوقات ان کو کامل طور پر تباہ وبرباد کیا گیا، اس کی تفصیل مستند تاریخی شواہد و دستا ویزات اور خود ان کے علماء و تدریسی رہنماؤں کے اعترافات کی روشنی میں عہد عتیق اور عہد جدید کے اسفار سے لے کہ ایران کی مذہبی کتاب اوستا اور ہندوستان کے دیدوں تک مصنف کی کتاب منصب نبوت اور اس کے عالی مقام عالمین کے ساتویں خطبہ ختم نبوت ) ۲۲۵۵-۲۴۲ میں ملاحظہ فرمائیں، شائع کردہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام – لکھنوی
یہودی مذہب
یہودی مذہب چند بے جان رسموں اور روایات کا نام تھا جن میں زندگی کی
کوئی رہیق باقی رہی تھی علاوہ بریں یہودیت بجائے خود ایک نسلی مذہب ہے جس کے پاس دنیا
کے لئے کوئی پیغام، اقوام عالم کے لئےکوئی دعوت اور انسانیت کے لئے چارہ سازی سچائی
کا کوئی سامان نہیں ہے ۔
یہ مذہب اپنے عقیدہ توحید میں بھی جو مختلف مذاہب اور قوموں پر اس کا امتیازی
شعار رہا ہے جس میں اسکی عزت و شرت اور زمانہ قدیم میں بنی اسرائیل کی دوسری قوموں
پرفضیلت کا راز پنہاں ہے اور جس کی وصیت حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب اور
علیہ السلام نے اپنے بیٹیوں کو کی تھی ثابت قدم رہ سکا یہودیوں نےاپنی پڑوسی قوموں کے
اثر سے یا غالب فاتح قوموں کے دباؤ سے ان کے بہت سے عقائد قبول کر لئے اور ان کی
بہت سی عادتیں اور مشرکانہ بت پرستانہ اور جاہلی رو آیا اختیار کرلیں، اس کا اعتراض بعض
منصف مزاج یہودی مورخین خود کرتے ہیں، جویش انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ کا لکھنا
بت پرستی کے خلاف نیبیوں کا غیظ و غضب یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیوتاؤں کی
پرستش اسرائیلی عوام کے دلوںمیں گھر کرچکی تھی اور بابل کی جلاوطنی سے واپس
آنے کے وقت تک پوری طرح اس کا استعمال نہیں ہوا تھا ہم پستی اور سحر کے
ذریعہ بہت سے مشرکانہ خیالات اور سوم دوبارہ عوام نے قبول کرلئے تھے تالمودسے بھی
اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ بت پرستی میں ہود کے لئے بڑی جاذبیت کشش بھی ہے
بایل کی تا مود ور جو یہودیوں میں حد درجہ مقدس کبھی جاتی ہے اور رضا دو تا توریت
JEWISH ENCYCLOPEDIA, VOL, XII P. P. 568-69 ه
ہے تالمود کے معنی ہیں یہودیوں کے مذہب اور آداب کی تعلیم کی کتاب یہ دراصل علماء یہود کی کتاب
شریعت “المثنا” کے شروح و حواشی کا مجموعہ ہے جو مختلف زبانوں میں رائج رہا ہے۔
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
پہ بھی اس کو ترجیح دی گئی ہے اور جو چھٹی صدی عیسوی میں یہودیوں میں مقبول و رائج تھی)
عقلی پر زبانی خدا کے حضور جارت و گستاخی حقائق ومسلمات اور دین عقل کے
ساتھ مسخر کے ایسے عجیب غریب نمونوں سے بھری ہوئی ہے جن کو دیکھ کر اس صدی میں
یہودی معاشرہ کی ذہنی پستی اور مذہبی ذوق کے بگاڑ کا پورا اندازہ ہوتا ہے۔
عیسائیت اپنے دور اول ہی میں انتہا پسندی کی تحریف جاہلوں کی تاویل اور
روی نصرانیوں کی بت پرستی کا شکار ہوگئی تھی حضرت مسیح کی سادہ و پاکیزہ تعلیمات اس تمام
طبلے کے نیچے دفن تھیں توحید اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کا نور گہرے بادلوں کے
اندر چھپ چکا تھا۔
چوتھی صدی کے آخر میں عیسائی سوسائٹی میں تثلیث کا عقید و کس طرح
سرایت کر گیا تھا ، اس کے متعلق ایک عیسائی فاضل لکھتا ہے :۔
یہ عقیدہ کہ خدائے واحد بین اقانی سے مرکب ہے عیسائی دنیا کی پوری زندگی
اور افکار میں چوتھی صدی کے آخر ہی میں سرایت کر چکا تھا اور طویل عرصہ تک
سرکاری اور تسلیم شدہ عقیدہ کی حیثیت سے جس کو پوری بھی دنیا مانتی تھی باقی
رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں اس عقیدہ
کے تغیر اور اس شکل تک پہونچنے کا راز فاش ہوا ؟
ایک معاصر عیسائی مورخ نے عیسائی سوسائٹی میں بہت پرستی کے آغاز اور
کے تفصیل کے لئے دیکھئے یہودی تالمود کی روشنی میں از ڈاکٹر روهنگ اور اس سے اس کا عربی ترجمہ
الكنز المرصود في قواعد التلمود از ڈاکٹر یوست حنا سے ماخوذ از
NEW CATHOLIC
مقالهة تثلیث مقدس” ج ۱۴ ۲۹۵۰ باختصار
ENCYCLOPEDIA, VOL. 14, 1967
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
اس کی نو بہ نو شکلوں اور دوسری مشرک و بت پرست قوموں کی ان کے مذہبی و قومی
شعائر عادات و اطوار اور تہواروں اور تقریبوں میں اندھی تقلید مرعوبیت یا باران
ی بنیاد پران کی وہ قتل کرنے کا جذبہ اور اس معالم میں عیسائیوں کی جدت طرازی
اور تفنن طبع کا خوب ذر کیا ہے وہ اپنی کتاب سمیت علم جدید کی رانی مینی ۱۴
HISTORY OF CHRISTIANITY IN THE LIGHT OF MODERN KNOWLEDGE)
میں لکھتا ہے :۔
ثبت پرستی ختم تو ہوئی مگرتباہ نہیں ہوئی بلکہ جذب کرلی گئی تقر یا سب ہیں
کچھ جو بت پرستی میں تھا عیسائیت کے نام سے چلتا رہا جن لوگوں کو اپنے دا لوگوںکو دیوتا نے
اور مشاہیر سے ہاتھ دھونے پڑے تھے انھوں نے غیر شعوری طور پر بہت آسمانی
سے کسی شہید کو پرانے دیوتاؤں کے اوصاف سے متصف کر کے کسی مقامی
مجسمہ کو اس کا نام دے دیا، اور اس طرح کا فرانہ ملک اور دیو مالان
مقامی شہداء کے نام منتقل ہوگئی اور خدائی اوضاسے متصف اولیاء کے
عقیدے کی بنیاد پڑ گئی ان اولیاء پڑ گئی، ان اولیاء نے ایک جانب تو آر یوسین کے عقائد کی
بنا پر انسان اور خدا کے درمیان شان ایزدی رکھنے والے انسانوں کی شکل
اختیار کرلی اور دوسری جانب یہ قرون وسطی کے تقدس اور پارسائی کے
نشان بن گئے بت پرستانہ تیو با قبول کر کے ان کے نام بدل دیئے گئے رستان تنہا قول کے ان کے نام مارنے گئے
یہاں تک کہ کمر تک پہنچتے پہنچتے سورج دیوتا کے قدیم تو ہارنے سے
کے یوم پیدائش کی شکل اختیار کر لی ہے
له
REV. JAMES HOUSTON BAXTER IN THE HISTORY OF CHRISTIANITY IN THE al
LIGHT OF MODIERN KNOWLEDGE (GLASGOW. 1929) 9.37
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
چھٹی صدی عیسوی جس وقت شروع ہوئی اس وقت شام و عراق کے عیسائیوں
اور مصر کے عیسائیوں کی جنگ پورے شباب پر تھی یہ جنگ حضرت مسیح کی حقیقت کا ہیت کے
موضوع پر ہو رہی تھی اور اس کی وجہ سے مدارس کلیسا اور گھرسب متحارب کیمپ میں
تبدیل ہو گئے تھے جو ایک دوسرے کی تکفیر میں مشغول اور ایک دوسرے کے خون کے
پیاسے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھاکہ یہ دو نرمذ ہوں یا دو مخالف قوموں کی جنگ ہے،
اس کی وجہ سے عیسائیوں کو اس کی فرصت نہ تھی کہ عالم گیر فساد کے انسداد اور
اصلاح حال کی کوشش کرتے اور انسانیت کو فلاح و نجات کا پیغام دیتے۔
مجوسی (ایران کے پارسی) قدیم زمانہ سے عناصر اربعہ ( جس میں سب سے بڑا عنصر
اگ تھام کی عبادت کرتے تھے اور انھوں نے اس کے لئے مخصوص آتش کرے اور مخصوص
عبادت کا ہی تعمیر کی تھیں، آتش پرستی ملک کے طول و عرض میں عام تھی، اس کے لئے
بہت ظلم اور دقیق قوانین و احکام مقرر تھے جن پر عمل در آمر لازمی تھا، آگ کی پرستش
اور سورج کی تقدیس کے سوا ہر عقیدہ وہ زہب ہاں مٹ چکا تھا ، مذہب ان کے
نزدیک چند رسموں یا چند قدیم روایات سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا، جن کو
وہ مخصوص مقامات میں ادا کرتے تھے عبادت گاہوں باہر وہ بالکل آزاد تھے
جہاں وہ اپنی مرضی اور خواہش نفس کے مطابق زندگی گزارتے تھے، ایک مجوسی
اور ایک بے دین بے ضمیر وبے کردار شخص میں کوئی فرق باقی نہ رہ گیا تھا ہے
ایران بعہد ساسانیان کے مصنفت آرتھر کو سٹین بلین نے اس زمانہ کے
کی کتاب
لہ دیکھئے
ALFRED J. BUTLER
“ARABS CONQUEST OF EGYPT AND
THE LAST THIRTY YEARS OF ROMAN DOMINION” (OXFORD 1902), P. P. 44-45
که ایران بهد ساسانیان من ها
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
مذہبی فرائض اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ :۔
“سرکاری ملازمین کے لئے لازمی تھا کہ وہ دن میں چار بار سورج کی پوجا کریں
چاند کی آگ کی اور پانی کی پوجا اس کے علاوہ تھی سونے جاگنے نہانے جنیو
پہنے، کھانے پینے، چھینکنے حجامت بنوانے اور ناخن ترشوانے اقضاء سحاب
اور شمع جلانے ہر کام کے لئے دعائیں تھیں اور ان کا کرنا ان پر ضروری تھا
ان کو اس کا بھی حکم تھا کہ آگ کسی وقت بجھنے نہ پائے اور آگ پانی ایک
دوسرے سے نہ ملیں، دھات کو زنگ نہ لگے اس لئے کہ معدنیات بھی
ان کی نگاہ میں مقدس تھیں لے
اہل ایران آگ کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ایران کے آخری
بادشاہ بزرگ نے ایک مرتر یہ سورج کی قسم کھاتے ہوئے یہ جملہ کہاتھا کہ میں
سورج کی قسم کھاتا ہوں جو سب سے بڑا معبود ہے اس نے ان عیسائیوں کی
جنھوں نے عیسائیت سے توبہ کرلی تھی، اس کا پابند کیا تھا کہ وہ اپنی
سچائی ثابت کرنے کے لئے سورج کی پوجا کریں ، اہل ایران ہر زمانہ میں
ٹنویت کا شکار رہے حتی کہ یہ ان کی علامت اور پہچان بن گئی، وہ دو خداوردی
کے قائل تھے ایک روشنی یا خیر کا خدا جس کو وہ آہور مز دا یا یزداں کہتے تھے،
دوسرا ظلمت یا شر کا خدا جس کا نام نوں ماہرین جویز کیا تھا ان کا عقیدہ
تھا کہ ان دونوں خداؤںمیں باہمی کش مکش اور طاقت آزمائی برابر جاری ہے۔
링
له ایران بعهد ساسانیان (ترجمه اردو از فرنچ بقلم پروفیسر محمد اقبال اور نٹیل کانی لاہور ۱۵۵
شه ايضا م ۱۸۷۰۱۸ ۰۵۳ ایران بعد ساسانیان باب (مذہیب زردشت بسر کاری مذہب ) تا ۲۳۳۱۸
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….ام
ایرانی مذہب کے ان مورخین نے ان کے معبودوں کے متعلق جو کہانیاں
لکھی ہیں اور پورا علم الاصنام myth ology تیار کر دیا ہے وہ اپنی
بوالعجبی عجائب پسندی اور تفصیلات و جزئیات میں یونانی یا ہندستانی
دیو مالا سے کسی طرح کم نہیں ہے۔
بودھ مذہب جو ہندوستان اور وسط ایشیاء میں پھیلا ہوا تھا وہ بھی ایک لیے
بت پرستانہ مذہب میں تبدیل ہو چکا تھا کہ بت اس کے جلو میں چلتے تھے، جہاں اس کے
قافلہ کا پڑاؤ ہوتا وہاں گوتم بدھ کی مورتی نصب کی جاتی اور دیکھتے دیکھتے ایک معبد
تیار ہو جاتا، اہل علم و اصحاب نظر کو اس مذہب اور اس کے بانی کے بارے میں یہ ہی تک
یہ شبہ ہے کہ آسمان و زمین اور خود انسان کے خالق خدا کے وجود پر بھی ان کا عقیدہ
و ایمان تھا یا نہیں ان کو حیرت ہے کہ ایمان و عقیدہ کے بغیر عظیم مذہب کیسے قائم رہ سکتا۔
جہاں تک ہندو مذہب کا تعلق ہے وہ دیوی دیوتاؤں کی کثرت میں دوسر
مذاہب سے بہت آگے ہے چھٹی صدی میں بت پرستی اس میں پورے شباب پر تھی، معبودوں
کی تعداد اس صدی میں (۳۳) کروڑ تک بتائی جاتی ہے، غرض ہر عظیم یا ہیبت ناک
یا نفع پہونچانے والی شئی معبود تھی ، بت تراشی اور مجسمہ سازی کا فن بھی نقطہ عروج
پر تھا اور اس میں طرح طرح کی جدت طرازیاں کی جاتی تھیں
لے دیکھئے ایران بعہد ساسانیان ۲۰۰۴- ۲۰۹ ۲ دیکھئے کتاب ہندوستانی تمدن اردو
از ایشورا و پا م پر و فیسر تہذیب ہند حیدر آباد یونیورسٹی، نیز کتاب DISCOVERY OF INDIA
از پنڈت جواہر لال نہرو ۳۰۶- ۲۰۲۰ سے دیکھئے بودھ مذہب پر مقالہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا”
ے دیکھئے آر سی دت کی کتاب Ancient India ج ۳ ص ۲۷۶ اور
L S.S. O’MALLEY : POPULAR HINDUISM – THE RELIGION OF THE MASSES.
(CAMBRIDGE, 1935) P. P. 6-7
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۴۲
ایک ہند و فاصل (CAD) اپنی کتاب ہسٹری آف میڈیول
ہندو انڈیا
(HISTORY OF MEDIAEVAL HINDU INDIA)
میں راجہ ہرش
(۱۲۸-۶۰۶) کے بارے میں لکھتے ہیں یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس کے بعد ہی
جزیرۃ العرب میں اسلام کا ظہور ہوا :-
اس زمانہ میں ہندو مذہب اور بدھ مت دونوں ہی یکساں طور پر
ثبت پرست تھے، بلکہ شاید مبدھ مت بت پرستی میں ہند نذیر سے بھی آگے
بڑھ گیا تھا، یہ مذہب حقیقتا خدا کے انکار سے شروع ہوا لیکن آخر کار اپنے
بدھ کو ہی سب سے بڑا خدا بنالیا، بعد میں اور دوسرے خداؤں مثلاً
BODHISATVAS کا اضافہ ہوتا گیا اور خصوصا بہایا نا مذہب
(اسکول میں بت پرستی نے حتمی طورپر قدم جمائے ہندوستان میں اسے اس قدر
عروج حاصل ہوا کہ بعض مشرقی زبانوں میں بدھ کا نا ہی بہت ہی معنی ہوگیا۔
اس میں شبہ نہیں کیا جاسکتا کیت پرستی اس زمانہ میں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی
تھی، بحر اوقیانوس سے بحر الکاہل تک نیابت پرستی میں غرق تھی عیسائیت سامی
مذاہب ، بد ھومت گویا بتوں کی تعظیم و تکریم میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی
کوشش میں مصروف تھے کہیے
له
VOL. I, POONA. 1924, P. 101
فارسی اور اردو ادب میں بہت کا لفظ جس کثرت
سے استعمال کیا گیا ہے، اس کی تصدیق ہوتی ہے یوں بھی بدھ اور بیت صوتی حیثیت سے ایک
- V. VAIDYA: HISTORY OP MEDIAEVAL HINDU INDIA دوسرے کے شاہر ہیں۔ کے
VOL. I. (POONA 1924) P. 101
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
ایک اور ہندو فاضل اپنی کتاب POPULAR HINDUISM -THE RELIGION
میں لکھتے ہیں :۔
OF THE MASSES
خدا سازی کا عمل یہیں پر ختم نہیں ہو گیا بلکہ مختلف زبانوں میں اس
خدائی اکاڈمی یا کونسل میں اتنی بڑی تعداد کا اضافہ ہو گیا کہ اس کا شمار مشکل
ہے ان میں بہت ہندوستان کے قدیم باشندوں کے معبود تھے، جن کو
ہندو مذہر کے دیوتاؤں اور خداؤں کے ساتھ شامل کر لیا گیا تھا، ان کی
کل تعداد تین ملین (۳ کروڑ) بتائی جاتی ہے۔
جہاں تک ان عربوں کا تعلق ہے جو عہد قدیم میں دین ابراہیمی کے عال
تھے اور جن کی سرزمین میں خدا کا ہے پہلا کر تعمیر ہوا وہ نبوت اور انبیاء کرام سے
بعد زمانی اور جزیرہ نمائے عرب میں محصور رہنے کی وجہ سے بہت گھٹیا درجہ کی ثبت پرستی
میں مبتلا تھے جس کی نظیر مہندوستان کے بت پرستوں اور مشرکوں کے سوا اور کہیں نہیں
ملتی وہ مشرک میں بھی بہت آگے تھے اور خدا کو چھوڑ کر بہت سے معبود انھوں نے
تجویز کرلئے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ خود ساختہ معبود کائنات کے نظم و انتظام
میں خدا کے ساتھ شریک ہیں اور نفع نقصان پہونچانے اور زندہ رکھتے اور مارنے کی
ذاتی صلاحیت اور قدرت رکھتے ہیں، چنانچہ پوری عرب قوم بہنوں کی پرستش میں ڈوب
چکی تھی ہر قبیلہ اور علاقہ کا علیحدہ بود تھا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر گھر صنم خانہ تھا۔
خود کعبہ کے اندر اور اس کے صحن میں رجس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف
L.S.S. O’MALLEY C.L. B. 1. C. 8. POPULAR HINDUISM-THE RELIGION OF THE
MASSES (CAMBRIDGE, 1935) PP. 6-7
کہ دیکھنے کتاب الاصنام لابن الکلی صدرسے
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا، تین سو ساٹھ بت تھے اور بتوں اور
کی عبادت سے آگے بڑھ کر رسم کے پچھوں کو وچنے لگے تھے اور فرشتوں اور جنوں اور
ستاروں کو بھی اپنا معبود سمجھتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں جن خدا کے
شریک ہیں اس وجہ سے وہ ان کی طاقت اور اثر کے قائل تھے اور ان کی عبادت کرنا
ضروری سمجھتے تھے ہے
دنیا کے ملکوں اور قوموں پر ایک عمومی نظر
یہ ان مذاہب کا حال تھا جو اپنے اپنے زمانہ میں اللہ تعالی کی طرف بلانے کے
لئے آئے تھے جہاں تک ان متمدن مالک کا تعلق ہے جہاں عظیم الشان حکومتیں قائم تھیں
علوم و فنون کا بازار گرم تھا اور وہ تہذیب و تمدن صنعت حرفت اور علوم و فنون کا مرکز سمجھے
جاتے تھے وہاں مذاہب کی شکل بالکل مسخ ہوچکی تھی اور انھوںنے اپنی اصل حقیقت
اور قدر و قیمت اور قوت افادیت کھودی تھی اور مصلحین اور امین اخلاق در دو نظر آتے تھے۔
مشرقی رومی سلطنت
مشرق کی رومن شہنشاہی میں ٹیکسوں کی اتنی بھرا تھی کہ اہل ملک اپنی حکو پر
لے صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب فتح مکہ سے کتاب الاصنام ۴۴)
سے مشرقی رومی سلطنت کا ذکر تاریخ میں بازنطینی سلطنت کے نام سے آتا ہے، عرب اس کو روم
کہتے ہیں جس عہد کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔ اس کی قلمرو میں حسب ذیل ممالک شامل تھے یونان بلقان
ایشیائے کوچک سیر باد فلسطین، پورا بحر روم کا علاقہ اور کل شمالی افریقہ۔ اس کا پایہ تخت
قسطنطنیہ تھا، اس سلطنت کا آغاز ۳۹۵ء میں ہوا، اور اختتام ۱۵۳ میں جو بے طنطنیہ
پر عثمانی ترکوں کا قبضہ ہو گیا۔
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
لله
ہر غیر ملکی حکومت کو ترجیح دینے لگے تھے بار بار انقلابات اور بنا و تیں ہوتی تھیں صرف
۵۳۳ٹ کے ایک فسادمیں قسطنطنیہ کے تین ہزار آدمی قتل کئے گئے ، ان کا سب سے بڑا شغلہ
اور پیچسپی کسی نہ کسی ذریعہ سے مال حاصل کرنا پھر عیش و عشرت میں اس کو خوب کرنا تھا،
تفریح تعیش میں وہ اتنا آگے بڑھ گئے تھے کہ اس کی سرحدیں درندگی و بربریت
سے مل گئی تھیں ہے۔
“CIVILIZATION PAST AND PRESENT
باز نطینی سوسی
کے مصنفین نے باز نطینی سوس
کے اس عجیب تضاد اور اخلاقی فساد، تفریح طبع اور تعیش کے عشق پر روشنی ڈالتے ہوئے
لکھا ہے کہ :۔
باز نطینیوں کی سماجی زندگی میں زبر دست تضاد پایا جاتا تھا، نہیں
رجحان ان کے ذہنوں میں گہرے طور پر پیوست ہو چکا تھا، ترک دنیا اور
رہبانیت سلطنت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تھی اور مولی درجہ کا شہری
بھی عمیق ذہنی مباحث میں گہری دلچسپی لیتا تھا، اور اسی کے ساتھ سبھی
لوگوں کی روز مرہ کی زندگی پر اسرار پسندی اور باطنیت کی چھاپ لگی
ہوئی تھی لیکن اس کے بر عکس یہی لوگ ہر غم کے کھیل تماشوں کے غیر معمولی
شائق بھی تھے ازبر دست سرکس کے میدان تھے جس میں اتنی ہزار تماش بینوں
کے پٹھنے کی جگہ تھی جہاں تھوں کی دوڑ کے زور دار مقابلے ہوا کرتے تھے
کے
عوام کو نیلے اور ہرے دو گروہوں میں بانٹ دیا گیا تھا، باز نطینیوں
اے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا مقالہ “JUSTINIAN
EDWARD GIBBON: DECLINE AND FALL OF THE ROMAN EMPIRE
نه ملاحظہ ہو
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
میں حُسن سے پیار بھی تھا، اور ظلم و خباثت کا رحجان بھی ان کے کھیل تماشے
اکثر خونریز اور اذیت رساں ہوتے تھے، ان کی اذیتیں ہولناک اور ان کے
خواص کی زندگی عیش و طرب سازش، تکلفات اور برائیوں سے مرکب بھی
نظر
مصر (جو دولت مند بازنطینی سلطنت کی ایک ریاست تھی) زیر دست
ندسیبی مظالم اور بدترین سیاسی استبداد کا شکار تھا، اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ بازنطینی
سلطنت کی خوش حالی کا بڑا ذریعہ اور سرچشمہ بھی تھا، اس کی مثال اس گائے کی سی
تھی جس کو اچھی طرح دوہا جائے اور چارہ کم سے کم دیا جائے۔
شام جو بازنطینی شہنشاہی کی دوسری ریاست تھی، اہل روما کی توسیع پند اور کی توسیع یا
اور ہوس ملک گیری کا شکار تھا، جہاں صرف طاقت کے سہارے غیر ملکیوں کی طرح حکومت
کی جاتی تھی، اور محکوم رعیت کو کبھی شفقت و محبت سے واسطہ نہ پڑتا تھا، افلاس کا
حال یہ تھا کہ اکثر شامی اپنا قرض ادا کرنے کے لئے اپنے بچوں کو فروخت کر دیتے تھے۔
مختلف نوع کے مظالم اور حق تلفیوں، غلام بنانے اور بیگار لینے کا عام رواج تھا۔
ایرانی شہنشاہی
مذہب زردشت، جس نے مزدائیت کی جگہ لی ایران کا قدیم مذہب ہے
انتہی
زردشت جو اس مذہب کا بانی تھا، ساتویں صدی قبل مسیح میں ظاہر ہوا ایرانی شہستانی
له
- WALTER WALL BANK AND ALASTAIR. M. TAYLOR, CIVILIZATION. PAST
AND PRESENT (1954). P. 261-62.
لہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفر ڈیٹر کی کتاب
اور THE ARAB CONQUEST OF EGYPT.
HISTORIANS, HISTORY OF THE WORLD, VOL. VII
تفصیل کے لئے لاحظہ ہو خطط الشام از کرد علی ج اصلا
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
مشرق کی رومن شہنشاہی سے (رومتہ الکبری سے علیحدگی کے بعد) اپنے رقبہ ذرائع
آمدنی اور شان و شوکت میں زیادہ بڑی تھی، اس کی بنیاد سر میں اردشیر کے
ہاتھوں پڑی، اپنے عروج کے زمانہ میں اسیر یہ خوزستان، میڈ یا فارس، آذربائیجان
طبرستان، سرخس، مرجان، کرمان، مرو، بلخ سفر استان، هرات، خوراسان، خوارزم
عراق اور بین سب اس کی قلم رو میں شامل تھے کسی زمانہ میں گزرگاہ دریائے سندھ
کے درمیانی اضلاع اور اس کے دہانے کے آس پاس کے صوبے اپنی کچھ کاٹھیا واڑ
مالوہ ان کے پرے کے علاقے بھی اس کے زیر نگیں تھے۔
طیفون (المدائن) جو اس شہنشاہی کا پایہ تخت اور شہروں کا ایک مجموعہ
تھا، جیسا کہ اس کے عربی نام سے اندازہ ہوتا ہے پانچویں صدی میں اور اس کے بعد
کے زمانہ میں اپنے تمرین و ترقی اور رتیش و اسراف کے آخری نقطہ پر تھا۔ تفصیل
کے لئے دیکھئے ایران بهد ساسانیان از پر و فیسر آرتھر کرسٹن بین)
مذہب زنشتی اول روز سے نور و ظلمت اور خیر وشر کی کش مکش اور بھلائی کے
خدا اور برائی کے خدا کے درمیان سلسل معرکہ آرائی کے تصور پر قائم تھا میری صدی
عیسوی میں مانی” اس مذہب کے ریفارمر اور صلح کی حیثیت سے سامنے آیا ، اس کے بعد
شاہ پور (اردشیر بانی دولت دولت ساسانیان اللہ کے بعد کا حکمراں) پہلے اس مذہب کا
پیرو ودائی اور پھر اس کا مخالف ہو گیا ، اس لئے کہ مانی دنیا سے شر و فساد کا مادہ ختم
کرنے کے لئے تجرد کی زندگی کا داعی تھا، اس کی دعوت بھی کہ نور و ظلمت کا امتزاج بجائے خود
لے مانی کی تعلیمات اور دعوت و فلسفہ کو سمجھنے کے لئے ” ایران بہر ساسانیان ” کا چوتھا باب
بعنوان پیغمبر مانی اور اس کا مذہب ملاحظہ کریں ص۲۳۳-۲۶۹
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۴۸
ایک ایسا شر اور ایسی برائی ہے جس سے انسان کو چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے اس نے
فنائیت اور عدم سے جلد ہم آغوش ہونے ظلمت پر نور کے غلبہ کے لئے نسل انسانی کے سلسلہ
کر ختم کرنے اور ازدواجی تعلقا کو ختم کرنےکا راستہ اختیار کیا، اس کے کئی سال جلادینی
میں گزارے پھر ایران واپس آیا اور بہرام اول کے عہد میں مارا گیا لیکن اس کی تعلیمات
اس کی موت کے بعد بھی زندہ رہیں، اور ایرانی طرز فکر اور ایرانی سوسائٹی کو طویل
عرصہ تک متاثر کرتی رہیں۔
پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں مزدک ظاہر ہوا، اور اس نے مالی دولت
اور عورت میں کمل مساوات اور اشتراک کی کھلی ہوئی دعوت دی اور یہ چیزیں تمام
انسانوں کے لئے بلا کسی قید و لحاظ کے جائز کر دی گئیں، اس کی دعوت نے جلد ہی
قوت پکڑلی، حالت یہ ہو گئی کہ لوگ جس کے گھر میں چاہتے بے تکلف گھس جاتے
اور اس کے مال و اسباب اور عورتوں پر زبر دستی قبضہ کر لیتے، ایک قدیم ایرانی
دستاویز میں جو نام تفسر کے نام سے موسوم ہے ان حالات کی تصویر کشی کی گئی
ہے جو مزد کیت کے عروج اور تسلط و اقتدار کے زمانہ میں نظر آتے ہیں :۔
ناموس ادب کا پردہ اُٹھ گیا، ایسے لوگ پیدا ہوگئے جن میں نہ شرافت تھی
نہ عمل زندان کے پاس موروثی جاگیر تھی اور نہ انھیں خاندان اور قوم کام تھا،
نہ ان میں صنعت تھی نہ حرفت نہ انھیں کس قسم کی فکر دامن گر تھی اور نہ ان کا کوئی
پیشہ تھا، چنچلی اور شرارت میں مستعد اور دروغ بیانی اور نہمت میں مشاق تھے
یہی ان کا ذریعہ معاش تھا، اور اسی کو تحصیل مال وجاہ کا وسیلہ بناتے تھے ایہ
ای از نامه تفسر طبع مینوی صا
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
آرتھر کرسٹن سن اپنی کتاب “ایران بعہد ساسانیان” میں لکھتا ہے :۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف کسانوں کی بغاوتیں برپا ہو گئیں لوٹ مار کرنے والے
امراء کے محلوں میں گھس جاتے تھے مال و اسباب لوٹ لیتے تھے عورتوں کو پکڑ
نے جاتے تھے اور جاگیروں پر قبضہ کر لیتے تھے زمینیں رفتہ رفتہ غیر آباد
ہو گئیں ، اس لئے کہ یہ نئے جاگیر دار زراعت سے بالکل نا واقف تھے۔
ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم ایران میرا انتہا پدرانہ دعوتوں اور
تحریکوں کو قبول کرنے کی عجیب غریب صلاحیت تھی اور وہ ہمیشہ شد ید عملا اور دیل
کے اثر میں رہا اور فلسفہ اترقی ہے، اور آخری درجہ کی رہبانیت او نفس کشی کے درمیان
ہمیشہ ہچکولے کھاتا رہا کبھی وہ خاندانی و موروثی جاگیر دارانہ نظام یا نذہبی اجارہ داری
کے دباؤ میں رہا کبھی بے قید اشتراکیت او مطلق العنان انار کی ولا قانونیت کے مہیب سایہ
میں اس کی وجہ سے اس میں وہ توازن اعتدال اور سکون و سنجیدگی کبھی پیدا
نہ ہوسکی جو فطری و صحت مند معاشرہ کے لئے ضروری ہے۔
اس شہنشاہی میں (خاص طور پر ساسانی عہد اقتدار میں چھٹی صدی تک)
حالت بہت بگڑ چکی تھی پورا ملکان سلاطین کے رحم و کرم پرتھا جو موروثی طور پر تخت تاج
کے مالک بنتے تھے اور اپنے کو عام انسانوں سے بالاتر سمجھتے تھے بادشاہ آسمانی خداؤں
کی نسل سے تسلیم کیا جاتا تھا اخر دوم پرویز اپنے نام کے ساتھ حسب بل القاب لکھتا ہے ۔
میں خداؤں میں انسان غیر فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی اس کے نام کا
ای از نامه تفسر طبع مینوی ۴۷۵ یونانی فلسفی (EPICURUS) کا نکالا ہوا فلسفه دارد
تھا اس کا کہنا تھا کہ لذت ہی سب کچھ ہے اور وہی رہے بڑی چیز ہے۔
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۵۰
له
بول بالا، آفتاب کے ساتھ طلوع کرنے والا، شب کی آنکھوں کا اجمال
ملک کی تمام دولت اور آمدنی کے وسائل ان بادشاہوں کی ملکیت سمجھے جاتے ؟
تھے دولت جمع کرنے تخالف ونوادر او نیمتی اشیاء اکٹھا کرنے کے جنون معیار زندگی کی بلندی
اور جدت طرازی زندگی سے لطف اندوز ہونے اور تفریح تعین کے شوق یح تفتیش کے شوق دولت مند
بنے اور دنیا کے مزے اڑانے کی ہیں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ اس پر خیال آرائی اور شاعری
کا شہر ہونے لگتا ہے اور اس کا تصور صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس نے قدیم ایران کی
تاریخ اور شعرو ادب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہوا اور شہر برائن ایوان کسری بہار کسری
وہ قالین جس پر موسم بہارمیں شاہان ایران شراب نوشی کیا کرتے تھے، تاج کریں
اور ایرانی بادشاہوں سے وابستہ خادم چشم بیویوں اور لونڈیوں خدمت گار لڑکوں
باورچیوں اور خانساماؤں پرندوں اور درندوں کے سدھانے والے اور سامان شکار او
ظروف بر تینوں کی ان افسانوی تفصیلات مجزئیات سے واقف با خبر ہو اس کا اندازہ مارتن
اس ایک واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اسلامی فتوحات کے نتیجے میں ایران کا آخری تاجدار یزدگرد
اپنے دارالحکومت مدائن سے فرار ہوا تو اس حالت میں بھی اس کے ساتھ ایک ہزار یا ور کی ایک
ہزار فنی ایک ہزار چینیوں کے منظم اور ایک ہزار شکروں کی دیکھ بھال کرنے والے اور خدم عشقم
اور مصاحبین کی ایک بڑی تعداد تھی اتنے بڑے لاؤ لشکر کے باوجود بھی وہ اس تعداد کو کم
اور خود کو ایک انتہائی معمولی اور حقیر پناہ گزیں سمجھتا تھا، و محسوس کرتا تھا کہ مصاحبی با زمین
دا و وتی وتفریح کے امن کی کمی کے باعث اس کی حالت انتہائی قابل ہم سے
له ایران بعہد ساسانیان ۳۳۹۵ سے اس کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوا تاریخ طبری ج ۲ 0
میں دیکھئے شاہین مکاریوس کی تاریخ ایران تعربی طبع ۱۸۹۸ء شد که ایضا
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۵۱
دوسری طرف غریب عوام سخت مفلوک الحال اور مصیبت زدہ تھے اور اپنی
قسمت کو روتے تھے ان کو جسم و جان کا رشتہ باقی رکھنے کے لئے بھی سخت جدوجہد کرنی
پڑتی تھی مختلف قسم کے ٹیکسوں طرح طرح کی بندشوں اور بیڑیوں نے ان کی زندگی کو
عذاب، جان بنا دیا تھا، اور وہ مویشیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے اس مصیبت سے
تنگ آکر اور ان ٹیکسوں اور لازمی فوجی بھرتی سے عاجز ہو کر بہت سے کسانوں نے اپنے
کھیتوں کو خیر باد کہ دیا اور راہبوں کی خانقاہوں اور معبدوں میں پناہ کی، وہ
مشرقی ساسانی سلطنت اور مغربی باز نطینی سلطنت کی طویل و خون آشام جنگوں
میں جو تاریخ کے مختلف وقفوں میں ہوتی رہیں اور جن میں نہ عوام کی کوئی مصلحت
اور نہ ان کو اس سے کوئی دلچسپی تھی، حقیر ایندھن کی طرح کام آتے رہے۔
ہندوستان
ہندوستان جو عہد قدیم می ریاضیات ، فلکیات اور طب فلسفہ میں دنیا میں
بڑا نام پیدا کر چکا تھا، اس کے متعلق موریقین کی عام رائے یہ ہے کہ اس کا مذہبی
اخلاقی اور اجتماعی طور پر سبسے تاریک اور بد ترین دور چھٹی صدی عیسوی کے آغاز
سے شروع ہوتا ہے، بے حیائی اور عیاشی سے ان کی عبادت گاہیں بھی پاک نہ تھیں
اور ان کاموں میں کوئی عیب نہ سمجھا جاتا تھا، اس لئے کہ نذیر نے ان کو تقدس اور
عبادت کا رنگ دے دیا تھا، عورت کی کوئی قیمت اور عزت و عصمت باقی نہ رہی تھی
له دیکھئے ایران بہر ساسانیان کا پانچواں باب ہے۔ دیکھئے – ANCIENT INDIA ج ۳
مؤلفہ آر سی دت ۳ ملاحظہ ہو ستیارتھ پرکاش از دیانند سرسوتی ۳۳۵
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
شوہر اپنی بیوی کو جوئے میں ہار جاتا تھا ، اگر اس کا شوہر مر جاتا تھا وہ زندہ درگور
کی مانند ہوتی تھی نہ شادی کر سکتی تھی ، نہ اس کو کوئی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا
تھا شوہر کے انتقال پر عورت کے ملتی ہو جانے کا اعلیٰ اور خوش حال خاندانوں میں
رواج تھا، اور اس کا مقصد اظہار وفاداری اور تنگ و عار سے گلو خلاصی تھا۔
يہ بدترین رسم انگریزی اقتدار کے بعد ہی ختم کی جاسکی ہے
ہندوستان اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی برادری میں طبقاتی
عدم مساوات اور انسانوں کے درمیان فرق و امتیازمیں بہت آگے تھا، یہ ایک سخت
اور بے رحمانہ نظام تھا جس میں نرمی اور لچک کی کوئی گنجائش نہ تھی اس امتیازی سلوک کو
مذہب اور عقیدہ کی سند اور پشت پناہی حاصل تھی اور آرین حملہ آوروں کی مصلحت
اور مذہب اور تقدس کے اجارہ دار پر ہمنوں کے مفاد کا بھی یہی تقاضا تھا یہ نظام
ان پیشوں کی بنیاد پر قائم تھا جو مختلف برادریوں اور ذاتوں کی نسلی طور پر چلے آرہے
تھے، اس کے پیچھے اس ملکی سیاسی اور مذہبی قانون کی طاقت تھی جس کو ان ہند
قانون سازوں نے وضع کیا تھا جو نہ یہی حیثیت کے بھی مالک تھے۔ یہ قانون بلا کم و کاست
پورے معاشرہ پر نافذ تھا، اور اس کو زندگی کا دستور العمل سمجھا جاتا تھا ، اس نے
ہندوستان کے باشندوں کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
ا مذہب کے اجارہ دار اور برہمن جن کو برہمن کہا جاتا تھا۔
۲۔ سپاہی اور فوج میں بھرتی ہونے والے افراد یعنی چھتری۔
زراعت پیشہ اور تجارت کرنے والے یعنی ویش
دیکھئے مہا بھارت کا ابتدائی حصہ ہے دیکھئے فرانسیسی بیا بریر کا سفرنامہ قرون وسطی کے
راجگان کا تاریخ
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
نوکر چاکر اور خدمت گار یعنی ” اچھوت
یہ آخری طبقہ (جو ہے بڑی تعداد میں تھا، پستی کی آخری منزل میں تھا۔ اس کے
متعلق یہ تصور تھا کہ وہ خالق کائنات کے پاؤں سے پیدا ہوا ہے اس لئے اس کا کام
صرفت ان تینوں طبقوں کی خدمت کرنا اور ان کو آرام وراحت پہنچاتا ہے۔
اس قانون نے برہمنوں کو اتنے حقوق دے دیئے تھے اور ان کو اتنا بلند مرتبہ
عطا کیا تھا، جس میں کوئی دوسرا ان کے برابر نہ تھا، برہمن کے سارے گناہ معان تھے
خواہ وہ تینوں دنیاؤں کو اپنے گنا ہوں اور بدکرداریوں سے گنڈہ اور تباہ دیر باد
کر دے، اس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا تھا، اس کو کسی صورت میں بھی سزائے موت
نہیں دی جا سکتی تھی، اس کے برعکس اچھوت نہ کچھ کما سکتے تھے نہ جمع کر سکتے تھے،
نہ کسی برہمن کے قریب بیٹھ سکتے تھے نہ اس کے بدن کو چھو سکتے تھے نہ مقدس کتابوں
کا پڑھنا ان کے لئے جائز تھا۔
اہل حرفہ اور خدمت کرنے والے طبقہ کے لوگ جو چنڈال کہلاتے تھے) شہر سے
باہر رہتے تھے، راست کو خواہ کوئی موسم ہو) ان کا شہر میں رہنا مکن نہ تھا شہر کی چاردیوار
میں طلوع آفتاب کے بعد وہ کام کرنے کے لئے داخل ہوتے تھے اور غروب سے پہلے ان کو
باہر نکل جانا پڑتا تھا۔
لے اس قانون کی تفصیلات اور دفعات جاننے کے لئے من شاستر کا مطالعہ کریں۔ باب ۱-۲-۹۰۸
۱۱-۱۰- ۵۳ قطب الدین ایبک کے عہد میں (۶۱۲۷۶ – ۶۱۲۱۰ به جابرانہ نظام ختم ہوا اور شہر کی
چہار دیواری طبقاتی تقسم کی نشانی ہونے کے بجائے شہر پناہ بن کر رہ گئی اور شہروں میں امراء
کے محلات اور فقراء کے جھونپڑے ایک ساتھ نظر آنے لگے۔
کا
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۵۴
پورا ملک انتشار کا شکار تھا، اور ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا، اس میں سینکڑوں
ریاستیں اور حکومتیں تھیں جو اکثر بر سر پیکار رہتی تھیں بدامنی اور بدانتظامی اور
رعیت کی طرف سے بے پرواہی اور ظلم و استبداد عام تھا۔
علاوہ بریں یہ ملک دنیا سے کٹ کر زندگی گزار رہا تھا، اس پر جمود طاری تھا۔
وہ عادات و روایات اور رسم ورواج کے سخت شکنجہ میں گرفتار طبقاتی کش مکش اور ناہمواری
کا شکار اور خون نسل اور نسب کے تعصبات سے زار و نزار ہو رہا تھا، ایک ہند مورخ
و یادهر مهاجن سابق پروفیسر تاریخ پنجاب یونیورسٹی کالج، اسلام کی آمد سے
قبل ہندستان کی حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :-
ہندوستان کے عوام ساری دنیا سے کئے ہوئے تھے وہ اپنے آپ میں
لگن اور دنیا کے حالات سے بے خبر تھے اور اس بے خبری نے ان کی پوزیشن
بہت کمزور کر دی تھی، ان میں جمود پیدا ہو چکا تھا اور ہر بیت وانحطاط
کے آثار نمایاں تھے اس زمانہ کے ادب میں کوئی جان نہیں تھی، فن تعمیر
مصوری اور دوسرے فنون لطیفہ میں بھی انحطاط تھا، ذات پات کی
پابندیاں شدید تھیں ہواؤں کی شادی نہیں کی جاتی تھی اور کھانے پینے کے
سلسلہ میں شدید پابندیاں تھیں اچھوت بستیوں کے باہر رہنے پر مجبور تھے ؟
جزيرة العرب
عربوں کے اخلاق بھی بہت بگڑ چکے تھے، وہ شراب اور جوئے کے رسیا تھے،
له
VIDYADHAR MAHAJAN: MUSLIM RULE IN INDIA, 1 NEW DELHI (970), P. 3341
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
ان کی قساوت قلبی اور حمیت جاہلی کا اندازہ ان کے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے سے
کیا جاسکتا ہے قافلوں کو لوٹنا، اور بے گناہوں کو تہ تیغ کرنا ان کا محور بندر تھا عورت کی
ان کے یہاں کوئی عزت باقی تھی، مسکن کے دوسرے سامان اسباب کی طرح یا مویشیوں کی
طرح جہاں چاہتی منتقل کی جاتی یا ورثہ میں ملتی، کچھ کھانے مردوں کے ساتھ مخصوص تھے
عور نہیں ان کو استعمال نہیں کر سکتی تھیں آدمی جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کر سکتا تھا
بعض لوگ اپنی اولاد کو افلاس اور معاشی پریشانی کے خون سے قتل کر ڈالتے تھے ایے
قبائلی اور نسلی ، خاندانی اور خونی عصبیت اور جانبہ داری بے حد شدید تھی جنگ
ان کی گھٹی میں پڑی تھی اور ایک دوسرے کو قتل کرنا ان کے لئے ایک کھیل اور تفریح تھا
ایک معمولی واقعہ اکثر بڑی خوں ریز اور طویل جنگوں کا سبب بن جاتا لبعض جنگوں کا
سلسلہ ۴۰ – ۴۰ سال چلا اور ہزاروں آدمی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہیے
یورپ
یورپین تو میں جو شمال و مغرب کے اندر دور تک آباد تھیں جہالت نا خواندگی
کے مہیب سایہ میں تھیں اور خوں ریز جنگوں میں مشغول، وہ تمدن انسانی کے کارواں سے
بہت پیچھے اور علوم و فنون کی دنیا سے بہت دو تھیں، نہ بیرونی دنیا کو ان سے کوئی
سرو کار تھا نہ ان کو بیرونی دنیا سے کوئی مطلب ان کے جسم گندے اور دماغ اوہام
و خرافات سے بھرے ہوئے تھے کہ وہ نظافت کی طرف توجہ اور پانی کا استعمال کم سے کم
لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو قرآن مجید کتب حدیث اشعار عرب حاسة سلع معلقات و غیره
ے دیکھئے شعر جاہلی ایام عرب اور اخبار عرب کے سلسلہ کی کتب ۔
THILLY: HISTORY OF PHILOSOPHY, (NEW YORK 1945)
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
کرتے تھے، ان کے پادری اور راہب جسم کو اذیت پہونچاتے اور انسانوں سے فرار میں
نہایت درجہ قشر د اور انتہا پسند تھے، ان کے یہاں ابھی تک یہی بات طے نہیں ہوئی
تھی کہ عورت انسان ہے یا حیوان ؟ اس کے اندرا بدی و غیر فانی روح ہے یا نہیں؟
اس کو ملکیت اور بیع و شرا کا حق حاصل ہے یا ان میں سے کسی بات کا وہ حق نہیں رکھتی؟
ROBERT BRIFFAULT
لکھتا ہے :۔
پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک یورپ پر گہری تاریکی چھائی
ہوئی تھی اور یہ تاریکی دریا زیادہ گھر اور بھیانک ہوتی جارہی تھی اس دور
کی وحشت بر بریت زمانہ قدیم کی وحشت بر بریت کئی درجہ زیادہ بڑھی پڑھی
تھی، کیونکہ اس کی مثال ایک بڑے تمدن کی لاش کی تھی جو سٹرکئی ہوا اس تمدن
کے نشانات مٹ رہے تھے اور اس پر زوال کی مہر لگ چکی تھی وہ مالک ہورہا
به تمرین برگ با رایا اور رشتہ مان میں اپنی انتہئی ترقی و پنچ گیا تھا جیسے
اٹلی، فرانس وہاں تباہی ، طوائف الملوکی اور ویرانی کا دور دورہ تھا ہے
گھٹا ٹوپ اندھیرا اور جان لیوا مایوسی
مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تاریخ کا بدترین دور تھا، اور انسانیت کے مستقبل اور اس کی
بقاو ترقی کے لحاظ سے انتہا درجہ تاریک اور مایوس کن
ام
LECKY, W. E. H.. HISTORY OF EUROPEAN MORALS, (NEW YORK 18551
THE MAKING OF HUMANITY. P. 164
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….
۵۷
مشہور انگریز مصنف HG WELLS نے بھی ساسانی اور بازنطینی حکومتوں
کے ذکر میں اس عہد کی تصویر کھینچی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :۔
سائنس اور سیاسیات دونوں ان بر سر پیکار اور زوال پذیر حکومتوں ہیں
موت کی نیند سوچکے تھے، ایمنی کے متاخرین فلسفیوں نے اپنی تباہی تک
جو اس پر مسلط کر دی گئی تھی، عہد قدیم کے ادبی سرمایہ کو اگرچہ پیر سوچے مجھے
گر بے انتہا عقید کے ساتھ محفوظ رکھا تھا لیکن اب بنا میں انسانوں کا
کوئی طبقہ ایسا باقی نہیں رہا تھا جو عہد قدیم کے شرفاء کی طرح بحری
اور آزاد خیالی کا حامی ہوتا، اور قدماء کی تحریروں کی طرح تلاش تحقیق
با جرات مندانہ اظہار خیال کمال ہوتا اس طبقہ کے ختم ہونے کی خاص بد
سیاسی اور سماجی افراتفری تھی، لیکن ایک مہرہ اور بھی تھی جس کے باعث
اس عہد میں ذہن انسانی گند اور بنجر ہو چکا تھا، ایران اور بازنطینہ
دونوں ملکوں میں عدم رواداری کا دور تھا، دونوں حکومتیں ایک نئے انداز
کی مذہبی حکومتیں تھیں جس میں آزادانہ اظہار خیال پرکڑے پہرے بٹھادیے گئے تھے۔
باز نطینی شہنشاہی پر ایرانی شہنشاہی کے حملہ اور باز نطینوں کی فتح کا کسی قدر
تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد چھٹی صدی عیسوی میں سماجی و اخلاقی پستی پر روشنی ڈالتے
ہوئے مصنف لکھتا ہے :۔
اگر کوئی سیاسی پیشین گو ساتویں صدی کے آغاز میں نیا کا جائزہ لینا
تو اس نتیجہ پر پہونچتا کہ صرف چند صدیوں کی بات ہے کہ پورا یورپ اور
ایشیا منگولوں کے زیر اقتدار آجائے گا مغربی یورپ میں نہ کوئی نظم تھا
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….
اور نہ اتحاد، باز نطینی اور ایرانی حکومتیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے پر
تلی ہوئی تھیں، ہندوستان بھی منقسم اور تباہ حال تھا۔
عالمگیر فساد
عرض بعثت محمدی کے زمانہ میں پوری انسانیت خود کشی کے راستہ پر تیزی کے
ساتھ گامزن تھی انسان اپنے خالق اور مالک کو بھول چکا تھا اور خود اپنے آپ کو اور
اپنے مستقبل اور انجام کو فراموش کر چکا تھا، اس کے اندر بھلائی اور پرائی اور زشت
و خوب میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت باقی نہیں تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسانوں کے
دماغ و دل کسی چیز میں کھو چکے ہیں ان کو دین و آخرت کی طرف سر اٹھ کر دیکھنے کی بھی
فرصت نہیں اور روح و قلب کی غذا، اخروی فلاح، انسانیت کی خدمت اور
اصلاح حال کے لئے ان کے پاس ایک لمحہ خالی نہیں، بسا اوقات پورے پورے ملک
میں ایک شخص ایسا نظر نہ آتا جس کو اپنے دین کی فکر ہو جو خدائے واحد کی پرستش کرتا۔
اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہوا جس کے جگر میں انسانیت کا درد ہو اور اسکے تاریک
و ہولناک انجام پر کچھ بے چینی ہو یہ صورت حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی جو ہو تصویر تھی کہ
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ البَحْر خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال
بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاس کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا
لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الذی عملوا ان کو ان کے بعض علموں کا مزہ چکھائے
لَعَلَّهُم يُرْجِعُونَ (سوره روم ۴۱) عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔
A SHORT HISTORY OF THE WORLD (LONDON 1924), PP. 140-41, 144.
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….
۵۹
محمد رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم
جزيرة العرب میں کیوں مبعوث ہوئے؟
اللہ تعالی کی مشیت و حکمت کا فیصلہ تھا کہ انسانیت کی ہدایت و نجات کا
یہ آفتاب جس سے ساری کائنات میں روشنی پھیلی ، جزیرۃ العرب کے افق سے طلوع ہو
جو دنیا کا ہے تاریک خطہ تھا اور جس کو اس تیز روشنی کی رسے زیادہ ضرورت تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کے لئے عملوں کا انتخاب اس لئے کیا اور ان کو ساری
دنامی اس کی تبلیغ و اشاعت کا ذمہ دار بنایا ان کے دل کی تختی بالکل مان تھی
اس میں پہلے سے کچھ نقوش تحریر و نقش و نگار و بو نہ تھے جن کو مٹانا مشکل ہوتا بر خلاف
رومیوں ایرانیوں یا ہندستانیوں کے جن کو اپنی ترقی علوم و فنون اور اپنے تہذیب تمدن
اور فلسف پر بڑانا اور غرور تھا، اور اس کی وجہ سے ان کے اندر کچھ ایسی نفسیاتی گرہیں اور
فکری و ذہنی پچیدگیاں پیدا ہوگئی تھیں جن کا دور ہونا آسان نہ تھا۔ عربوں کے دل دماغ
کی سادہ تختیاں صرف ان معولی اور پکی پھلکی تحریر سے آشنا تھیں جن کو ان کی بہالت
و نا خواندگی اور بڑی زندگی نے ان میں ثبت کردیا تھا، اور جن کا دھونا اور ٹانا اور ان کی
جگہ پر نئے نقش قائم کرنا بہت آسان تھا موجودہ علمی اصطلاح میں وہ جیل بسیط
یا جہل سادہ کا شکار تھے، اور یہ وہ غلطی ہے جس کا مداوا ہو سکتا ہے، دوسری متمدن
اور ترقی یافتہ قومیں جہل مرکب میں مبتلا تھیں جس کا علاج اور تدارک اور اس کو
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….
۶۰
دھو کر کے نئے حروف لکھنے کا کام ہمیشہ بے حد دشوار ہوتا ہے ۔
یہ عرب اپنی اصل فطرت پر تھے مضبوط اور آہنی ارادہ کے مالک تھے اگر می با
ان کی سمجھ میں نہ آتی تو وہ اس کے خلاف شمشیر تک اٹھانے میں کوئی تکلیف نہ کرتے اور
اگر حق کھل کر سامنے آجاتا تو وہ اس سے دل و جان سے زیادہ محبت کرتے اس کو
گلے سے لگاتے اور اس کے لئے جان تک دینے میں پس و پیش نہ کرتے۔
یہ عربی نفیسات اور ذہن شہیل بن عمرو کے ان الفاظ میں جھلکتا ہے جو
صلح حدیبیہ کے معاہدہ کی تحریک کے وقت ان کی زبان سے نکلے، معاہدہ کا آغاز ان
الفاظ سے ہوتا تھا ، هذا ما قاضی علیه محمد رسول اللہ (یہ وہ ہے جس کا فیصلہ
محمد رسول اللہ نے کیا، انھوں نے کہا کہ والله لوكنا نعلم انك رسول الله ما
صددناك من البيت ولا قاتلان والا اگرہم یہ جانتےاور مانے کہ آپ خدا کے
رسول ہیں تو نہ آپ کو بیت اللہ سے روکتے نہ آپسے جنگ کرتے) یہ ذہن ومزاج مگر میرین
ابی جہل کے الفاظ میں بھی جھلک رہا ہے، یرموک کی لڑائی پورے شباب پر تھی اور عکرمہ پر
سخت دباؤ پڑ رہا تھا، جب رومی بلغار کرتے ہوئے عکر یہ کی طرف بڑھے تو انھوں نے
ان کو پکار کر کہا کہ عقل کے دشمنو ار جب تک بات میری سمجھ میں نہیں آئی، میں رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ ہی ہر جگہ صف آراء رہا، آج میں تم سے بھاگوں گا، پھر
انھوں نے پکار کر کہا کہ ہے کوئی جو موت پر مجھ سے بیعت کرے ؟ کچھ لوگ آئے اور
له بیعت کی پھر وہ آگے بڑھ کر لڑانے لگے یہاں تک کہ زخمی ہوئے اور شہادت پائی۔
ی عرب بڑے حقیقت پسند سنجیده وسلیم الطبع ، صاف گو سخت کوش سخت جان
اه تاریخ طبری ج ۳۴
این
….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….
٦١
تھے، وہ نہ دوسروں کو فریب دیتے تھے، نہ اپنے کو غریب میں رکھنا پسند کرتے تھے،
چی اور پکی بات کے عادی ثبات کی لاج رکھنےوالے اور پختہ ارادہ کے مالک تھے،
اس کا ایک واضح نمونہ اور ثبوت بیعت عقبہ ثانیہ میں نہیں نظر آتا ہے جس کے بعد ہی
مدینہ طیبہ ہجرت کا آغاز ہوا۔
ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب اوس و خروج عقبہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لئے جمع ہوئے تو عباس بن عبادہ الخزرجی نے
(اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا اے اہل خوارج کیا تمہیں علم ہے کہ تم حضور
صلی اللہ علیہ وسلمسے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ انھوں نے جواب دیا ہاں کہنے لگے کہ
تم ان سے احمر و اسود ہرقسم کے لوگوں سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو یعنی بہت بڑی
تعداد اور مختلف اصناف کے لوگوں ) اگر تم ایسا خیال کرتے ہو کہ تمہارے مال لوٹ لئے جائیں گے
اور تباہ وبرباد کردیئے جائیں گے تمہارے اشراف اور سرداران قبیرہ قتل کر دیئے جایں گے اور قتل کردیئے جائیں۔
توتم ان کو دشمنوں کے حوالہ کر کے علیحدہ ہو جاؤ گے اگر ایسا ہے تو ابھی اس بات کو ختم
کر دو، اس لئے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو واللہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کی رسوائی
ہے اور اگر تمہارا فیصلہ یہ ہے کہ جس چیز کے لئے تم نے ان کو دعوت دی ہے اس کو
پورا کرو گے خواہ تمہارا سالامال و ایسا نہیں نہیں ہو جائے اور تمہارے سردار اشتران
قتل کر دیئے جائیں تو اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دو، اس وقت اس میں خدا کی
قسم دنیا و آخرت دونوں جگہ کی کامیابی و بھلائی ہے، ان لوگوں نے جواب یا کہ
مال و دولت کی تباہی اور سرداروں کے قتل ہر چیز ہم آپسے بیعت کرتے ہیں،
لیکن اس کا صلہ یارسول اسرا ر ی نے یہ عہد پر کیا کی ہے کہ اپنےفرمایا جنت
….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….
۶۲
کہنے لگے ہاتھ بڑھائیے، آپ نے اپنا دست مبارک آگے کیا اور ان سر سے آپ سے بیعت کی۔
اور واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے اس عہد کو جس پر آپکے بیعت کی تھی پورا کیا حضرت
سعد بن معاذ نے اپنے مشہور جملے میں ان سب کی ترجمانی کی تھی کہ خدا کی قسم اگر آپ
چلتے چلتے برگ النماد تک پہونچ جائیں گے تب بھی ہم آپکے ساتھ چلتے رہیں گے اگر
آپ اس سمندر کو عبور کرنا چاہیں گے تو ہم آپ کے ساتھ سمندر میں کو د جائیں گے ؟
عزم و اراد کی بیچکی اور سچائی عمل کی سنجیدگی اور حق کے سامنے تسلیم خم کردینے کا
مزاج اور طبیعت اس جملہ سے بھی عیاں ہے جو اسلامی افواج کے مشہور قائد اور سپہ سالار
عقبہ بن نافع سے منسوب ہے، جب ان کی فتوحات اور پیش قدمیوں کی راہ میں بحرا وقیانوس
(اٹلانٹک) حائل ہوا تو اس موقع پر انھوں نے کہا کہ خدایا یہ بحر ذخار حائل ہے،
ورنہ جی چاہتا ہے کہ برابر آگے بڑھتا جاؤں اور بحر و بر میں تیرے نام کی منادی کر دوں
اس کے برخلاف یونان روم اور ایران کے لوگ زمانہ سازی اور ہوا کے کئی پر
چلنے کے عادی تھے کوئی ظلم وزیادتی ان کے اندر تحریک پیدا کرنے سے قاصر تھی کوئی
اصول پسندی اور حقیقت ان کے لئے کشش نہ رکھتی تھی، کوئی دعوت اور عقیدہ
ان کے خیالات و افکار اور احساسات و جذبات پر اس طرح طاری نہ ہوتا تھا کہ
سے سیرت ابن ہشام ج ام ۲۳ طبع مصطفی البابی الحلبی) طبع دوم سے ہرکی اتحاد کے متعلق مختلف
اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ مین کا کوئی دور دراز مقام ہے ہیلی کہتے ہیں کہ اس کار می مقصد
یہ ہے کہ اگرآپ بعید ترین مقام تک بھی لے جائیں گے توہم ہم رکاب میں جائیں گے اور ساتھ چھوڑیں گے۔
سے زاد المعاد . ج ا ۳۴۳۳۰ سیرت ہشام ج امثال بخاری مسلم میں بھی یہ روایت آئی ہے ۔
سے مسلمان مورخین اور منین عام طور پر اسکو بحر ظلمات یاد کرتے ہیں سے کامل ابن اثیر ج ۴ ۲۶
….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
کا
UPDF
WWW.UPDF.COM
۶۳
وہ اس کے لئے اپنی ہستی کو فراموش کر دیں اور اپنے عیش اور دنیاوی لذتوں کو خطرہ میں
ڈال دیں۔
عرب تهذیب تمدن اور عیش و آرام طبی کی پیدا کی ہوئی ا تمام بیماریوں اور خالی
سے محفوظ تھے جن کا علاج بڑا دشوار ہوتا ہے اور جو کسی ایمان و عقیدہ کے لئے گرم جوشی
و جاں فروشی میں ہمیشہ حائل ہوتی ہیں اور اکثر آدی کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں۔
ان کے اندر صداقت بھی تھی دیانت بھی اور شجاعت بھی منافقت اور سازش ان کے
مزاج سے ناسبت نہھتی ہے جگری سے لڑنے والے گھوڑوں کی پیٹھ پر زیادہ وقت گزارنے والے
سخت قوت مدافعت اور قوت برداشت کے مالک سادہ زندگی کے عادی نشہ سواری اور اور سادہ
فنون جنگ کے عاشق ، جو ایک ایسی قوم کے لئے ضروری شرط ہے جس کو دنیا میں کوئی بڑا
کارنامہ انجام دینا ہو، خصوصا اُس دور میں جب معرکہ آرائیوں اور ہم جوئیوں کا
سلسلہ ہو اور بہادری و شجاعت کا عام چھین ہو۔
دوسری بات یہ کہ ان کی فکری و علی قومیں اور فطری صلاحیتیں محفوظ تھیں اور
خیالی فلسفوں کے قائد منطقی بحثوں اور مونگافیوں علم کلام کے دقیق و تازی مضامین
یا مقامی و علاقائی خانہ جنگیوں میں ضائع نہیں ہوئی تھیں یہ ایک تو خیز اور اس لحاظ
سے محفوظ قوم تھی اور زندگی و حرارت بوش و نشاط اور عزم و آہنی ارادہ سے بھر پور تھی۔
آزادی و مساوات، فطرت اور مناظر قطر سے محبت اور سادگی و سادہ دلی اس کی سے
گھٹی میں پڑی تھی اس کو بھی کی غیر کی اقدار کےسامنے جھکنا نہ پڑاتھا یہ تو غلامی اور ایک
انسان کے دوسرے انسان پریم چلانے کے منی سے ناآشا تھی اس کو ایرانی رومی شہنشاہوں
کے تکبر اور انسان اور انسانیت و نگاه تار دینے کا بھی تجربہ نہ ہواتھا ایک بال ایرانی
….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
سلاطین و جزیرۃ العرکے پڑوس میں تھے، مافوق البشر سمجھ جاتے تھے اگر ایرانی بادشاہ
قصد کھلوانا یا کوئی دوا استعمال کرتا تو دار السلطنت میں اعلان کر دیا جاتا کہ آج بادشاہ است
نے فصد کھلوائی ہے یا دوا استعمال کی ہے اس اعلان کے بعد شہر میں نہ کوئی پیشہ وراپنے پیشہ میں
مشغول ہوتا اور نہ کوئی سرکاری درباری آدی کوئی کام کر سکتا، اگر اس کو چھینک آتی تو اس کے
لئے کسی کو دعائیہ کلمات کہنے کا حق نہ تھا ، وہ خود گر دا کرتا تو آئین بھی نہیں کر سکتا تھا اگر
وہ اپنے وزراء و امراء میں اس کے گھر فروکش ہوتا تو یہ بہت غیرمعمولی اور اہم سمجھاجاتا اور اس
دی سے اس خاندان کی نئی تقویم او نئی جنتری شروع ہوتی اور خطوط میں نئی تاریخ ڈالی جاتی ایک
معینہ تک کے لئے ٹیکس منا کر دیے جاتے، وہ شخص مختلف قسم کے اعزازات انتقام اور معافیوں
و ترقیو سے نوازا جاتا محض اس بنیاد پر کہ بادشاہ نے اپنی تشریف آور ہے اس کو سرفراز کیا ہے۔
به ان آداب در لوازم تعظیم و بندگی کے علاوہ ہے جس کا جانان ارکان سلطنت اور
اہل دربار اور دو سر تمام اشخاص کے لئے ضروری تھا مثلاً ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے
هنا یعنی سینہ پر ہاتھ رکھ کر دکے ساتھ سرباز خم کر دینا ان کے سامنے اس طرح مودب کھڑا
رہنا جس طرح نمازوں میں خدا کے سامنے کوئی کھڑا ہوتا ہے یہ اس بادشاہ کے عہد کا تذکرہ ہے
جو نوشیرواں عادل کے نام سے شہرہ آفاق ہے یعنی خسرو اول ( نوشرو ) اس سے
لے ملاحظه ہو ایران بعد ساسانیان ۵۳۵ – ۵۳۶ ۵ ایضا سے اس کے لئے عربی میں ایک مستقل
محاورہ بن گیا تھا کہتے تھے، گھر فلان یعنی چھکتے ہوئے اپنا ہاتھ سینہ پرکھ کر تنظیم سر جھکا دینا یہ ایران کا نام
رواج تھا اور وہاں یہ اصطلاح نکلی اور لغت عرب میں داخل ہوئی ہے۔ لسان العرب میں ہے کہ گھر کے معنی ہیں
ایرانی کا اپنے بادشاہ کی تعظیم کرنا اور اہل کتاب کی تکفریہ ہے کہ تسلی و آداب کے طور پر آدمی اپنا سر جھکا دے
انھوں جزیہ کے اس شعر سے استناد کرتے ہوئے فضعوا السلام و کفر والتکفیر الکھا ہے کہ جیسے کوئی به آنا
کسان اپنے کھیا اور زردار کے سامنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر دیا اپنا سرجھکا دیتا ہے لسان العرب ج ،
….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۶۵
اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایران کا شہنشاہوں کیا حال ہو گا تو ظلم و سفاکی اور بے رحمی میں
شہور زمانہ تھے۔
آزادی خیال اور اظہار رائے نہ کہ تنقید و نکتہ چینی وسیع ایرانی سلطنت میں
تقریبا مفقود تھی، اطہری نے اس سلسلہ میں نوشیروان عادل کی ایک لچسپ حکایت
بیان کی ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی شہنشاہی میں آزادی رائے اور اظہار
خیال پرکتی سخت پابندی تھی اور دربار شاہی میں لب کشائی کی قیمت کیا ادا کرنی پڑتی
تھی، اس واقعہ کو ایران بعہد ساسانیان کے مصنف نے طبری کے حالہ سے قلم بند کیا ہے ۔
اس نے ایک کونسل منعقد کی اور دبیر خون کو حکم دیا کہ دکان کی نئی شرحیں
اواز بند پڑھ کرسنائے جب وہ ہو چکا تو رونے دو نو حاضری وپاک کی کوئی
اعتراض تو نہیں ہے ؟ سب چپ رہے جب بادشاہ نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو
ایک شخص کھڑا ہوا تنظیم کےساتھ پوچھے گا یا بادشاہ کی ناہے کہ ناپایدار
چیزوں پر دائی ٹیکس لگائے جو مردو زمانہ نا انصافی پر ہی ہو گا۔ اس پر بادشاہ
لکار کر بولا کہ اے مرد ملعون و گستاخ بانو کن لوگوں ہی سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ
میں دبیروں میں سے ہوں بادشاہ نے حکم دیا کراس و قلم دانوں سے پیٹ پیٹ کر
مارڈالو اس پر پر ایک بی نے اپنے اپنے قلم دان سے اس کو مارنا شروع کیا
یہاں تک کہ وہ بیچارہ مرگیا، اس کے بعد سی نے کہا کہ اے بادشاہ اجتنے میں
تو نے ہم پر لگائے ہیں وہ ہمارے نزدیک سب انصاف پر بنی ہیں ۔
ہنڈانستان میں عزت و ناموس کی تذلیل و تو ہیں اور ان پس ماندہ طبقوں کی تحقیر
له ایران بعهد ساسانیان ملاه ما خود از ترجمه پروفیسر محمد اقبال
5
….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
جن کو فاتح آرین قوم اور لکی قانونی ایک ترین مخلوق قرار دیا تھا اور جو پالتو جانوروں سے
صرف اس بنا میں مختلف تھے کہ دو پیرو پر چلتے تھے اور آدمیوں جیسی شکل رکھے تھے تصویر کا ورا
ہے اس قانون میں یہ باقاعد وقفہ موجود تھی کہ اگرکوئی شود کسی برہمن کو نقصان پہونچانے کے
لئے ہاتھ اٹھائے بال اکٹھی اٹھائے تو اسکا ہاتھ کاٹ دیا جائے اگر اس کو ات مارے تو اسکا پی اے
دیا جائے گر یہ وہی کرے کہ وہ اسکو تعلم دے سکتا ہے تواسکو کھولتا ہوانہیں پایا جائے۔ اس
قانون کی رو سے کتے بلی مینڈک گرگٹ کو ہے تو اور اس اچھوت طبقہ کے فرد کے قتل
م
کا جرمانہ برابر تھا۔
رومی بھی اس معاملہ میں ایرانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے اگرچہ بے شرمی اور
تذلیل انسانیت ہیں یہ بلند در جهان و حاصل نہ تھا ایک مغربی مونیخ VICTOR CHOPART انسان کا
اپنی کتاب THE ROMAN WORLD میں لکھتا ہے :۔
قیصر عبود سمجھے جاتے تھے یہ بات موروثی و خاندانی طور پرنہ تھی بلکہ جو بھی تخت
و تاج کا مالک ہوتاہ قد تسلیم کرلیاجاتاتھا، اگرچہ اسیر ایسی کوئی نشانی اور عات
نہ ہوتی جو اس کو اس درجہ پر فائزہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی (AUGUSTUS)
کا شام انہ لقب ایک شہنشاہ سے دوسرے شہنشاہ تک دستور و قانون کے بموجب مستقل
نہیں ہوتا تھا بلکہ روی ایران حکومت کاصرف انشا کا تھا ک پر اس کی پو شیر
کی دھار پر صادر و صاد کر دیا کرے، یہ شہنشاہی صرف ایک فوجی آمریت
ڈکٹیٹر شب) کی ایک شکل تھی ہے
اگر اس کا موازنہ عربوں کی اس حریت پسندی ، عزت نفس اور ادبی تنظیم میا عتدال
لے منو شاستر (دسواں باب ۲ آرسی، دست ۳۲۲۰-۳۴۳
THE ROMAN WORLD (LONDON 1928), P. 418.
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….
५८
سے کیا جائے جو ظہور اسلام سے قبل ان کے اندر ملتا ہے تو دونوں قوموں کے مزاج اور عربی
و عجمی معاشرہ کا فرق اچھی طرح واضح ہو جائے گا، وہ بعض اوقات اپنے بادشاہوں کو ابیت
النحن” و”عم و عم صباحا جیسے الفاظ سے خطاب کرتے تھے یہ آزادی و خود شناس و خود شناسی اور اپنی عربی
و ناموس کی حفاظت پایانی عربوں میں اس درجہ پڑھی کہ وہ اپنے ملک امراء کے بعض مطالبوں اور
فرمائشوں کو پورا کرنے سے بھی بعض اوقات عذر کر دیتے تھے، اس سلسلہ میں یہ بچسپ افتہ تاریخ
میں آتا ہے کہ ایک عرب بادشاہ نے بنی تمی کے ایک شخص سے ایک گھوڑی جس کا نام شیکا
تھا، طلب کی تو اس نے دینے سے صاف انکار کردیا اور یہ شہور شعر کہے جس کا مطلع یہ ہے ۔
أبيت اللعن أن سكاب علق
اور مقطع یہ ہے ۔
نفيس لا تغار ولا تباع
فلا تطمع أبيت اللعن فيها ومنعكها بشي يستطالع
به آزادی و خود نگری بلندی نفس اور شرافت و حو صلہ مندی عوام کے سب طبقوں
میں موجود تھی اور مردوں اور عورتوں دونوں میں پائی جاتی تھی اس کا ایک نمونہ ہیں حیرہ
کے بادشاہ عمرو بن ہند کے قتل کے واقعہ میں نظر آتا ہے یہ اقعہ عرب مورخین نے اس طرح بیان
کیا ہے کہ عمر بن ہند نے مشہور عرشی ہوا اور شعر عمروبن منوم کی دعوت کی اور یہ خواہش
کی کہ اس کی ماں بادشاہ کی ایک ساتھ دو میں شریک ہو چنانچہ عربی علوم و تقلب کی
ایک جماعت کے ساتھ جزیرہ سے حیرہ کی طرف روانہ ہوا، اور اس کی ماں پہلی بیست میلہل بھی
له ابيت اللعن دعائیہ حملہ ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کی سے محفوظ رہیں عمر صباحا ” آپ اچھی طرح
صبح کریں ۔ ۵۲ دیوان الحماسه باب الحماسه ۶۸۷ شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے بادشاہ ! یہ بہت
قیمتی اور نہیں گھوڑی ہے نہ اس کو عاریتا دیا جا سکتا ہے، نہ اسے بیچا جا سکتا ہے، اس کو حاصل
کرنے کی آپ کو شش نہ کریں، اس کا آپ سے روکنا میرے لئے ممکن ہے”
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….
بنی نقل کے کچھ ذمہ داروں کے ساتھ روانہ ہوئی عمروبن ہند کا خیمہ حیرہ اور فرات کے
درمیان نصب کیا گیا، ایک طرف عمروبن ہند اپنے خیمہ میں داخل ہوا اور دوسری طرف
لیلیٰ اور ہند خیمہ کے ایک علحدہ کمرہ میں جمع ہوئیں، عمرو بن ہند نے اپنی ماں سے کہہ یا تھا کہ
جب کھانا لگ جائےتو نوکروں کو اعلی کر دیا اورکوئی ضرورت ہو تو یہی سے کام
یا چنانچ کر بن ہندنے دستر خوان لگانے کاحکم دیا پھر کھانا گایا۔ اس درمیان میں
ہند نے لیلیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہن! ذرا یہ طباق تو مجھے اٹھا دو ہیلی نے کہا کہ
جس کو ضرورت ہو وہ خود اٹھائے، اس نے دوبارہ مانگا اور اصرار کرنے لگی اس قت پہلی
ے صدا لگائی ہائے کیا ذلت کی بات ہے اے بنی اغلب یہ آواز عمروبن منو نے سنی و اسکی
آنکھوں یں خون اتر آیا اس پیک کو مروی ہند کی تلوار جو ان لٹک رہی تھی اٹھائی اوراس کے
سر پر پار دی اس کے ساتھ ہو تا ہے یہ کولوٹ لیا اور جزیرہ کی طرف واپس آئے اسی
واقعہ پر عمرو بن کلثوم نے وہ مشہور قصیدہ کہا جس کا شمار سبعہ معلقہ میں کیا جاتا ہے۔
اسی طرح جب مغیره ی شعبہ سلمانوںکے سیرین کریم کے درباریں گے تو وہ اپنی پوری
شان و شوکت اور لازم امر کے ساتھ اپنے تن پر بٹھا تھا غیرہ بن شعبہ عربوں کی
عاد کے موافق اسی کے ساتھ اس کے تخت پر گاؤ تکیہ کے پاس بیٹھ گئے، اسے درباری فورا
ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو نیچ انا رائے اس پراٹھوں کہا کہ ہم کو یہ خیر ہی تھیں کہ تم
لوگ بہت عقل مند ہولیکن مجھے تم سے زیادہ بیوقوف کوئی نظر نہیں آتا ہم عرب توسب سے
برابری کا معاملہ کرتے ہیں ہم میں سے کوئی کسی کو غلام نہیں بنانا سوائے حالت جنگ کے
یر امان تھا ہم بھی اپنی قوم سے اسی طرح مساوات و برابری کا معاملہ کرتے ہو گئے
ل كتاب الشعر و الشعراء لابن قتينيه صلاح
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….
५१
اس سے بہتر یہ تھا کہ تم مجھے پہلے ہی مطلع کر دیتے کرتے نے آپس میں ایک دوسرے کو خدا
بنا رکھا ہے، اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ طے نہ ہو سکے گا ، اس صورت میں ہم تم سے
یہ برتاؤ نہ کرتے اور نہ تمھارے پاس آتے لیکن تم نے ہمیں خود دعوت دی ہے۔
جزیرۃ العرب میں آخری نبی کی بعثت کا دوسرا سبب جزیرۃ العرب اور مکا میں
کعبہ کا وجود تھا جس کو حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہا السلام نے اس لئے تعمیر
کیا تھا کہ ایک اشر کی عبادت کی جائے اور یہ جگہ ہمیشہ کے لئے توحید کی دعوت کا مرکز بنے۔
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ پہلا گھر وہ لوگوں کی عبادت کرنے کے
الَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لئے مقدر کیا تھا، وہی ہے جو کہیں ہے
لِلْعَالَمِينَ
برکت اور جہاں لئے موجب ہدایت با برکت اور جہان کے لئے منوح
بائبل (عادت عقیق) میں اس قدر تخریب کے با وجود وادی بکہ کے الفاظ آج تک
موجود ہیں لیکن مترجمین نے اس کو وادی البکاء بنا دیا ہے اور علم کے بجائے نکرہ کردیا
ہے، مزامیر داؤد کے الفاظ جو عربی میں آتے ہیں وہ یہ ہیں :۔
طوبى لا ناس عنهم بك ، طرق بيتك في قلوبهم عابرين في
وادی البكاء يصيرونه ينبوعا. (مزامير ۸۴-۵-۶-۷)
مبارک وہ انسان میں میں قوت تجھ سے ہے ان کے دل پر تیری راہیں ہیں وہ بھائی
وادی میں گزارتے ہوئے اسے ایک کیوں بناتے (کتاب مقدس برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی
3
له تاریخ طبری ج ۴ بکه بلد حرام کا نام ہے، اس کے بگہ اور مکہ دونوں نام آتے ہیں
اس لئے کہ عربی زبان میں تم اور میں اکثر تبادلہ ہوتا رہتا ہے جیسے لازم اور لازب اور بلیط الرابط
سوره آل عمران آیت ۹۶ ۵۴ الكتاب المقدس في ساحة استور من مدينة نيويارك لندن کم
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….
٧٠
لیکن علماء یہود کو صدیوں کے بعد احساس ہوا کہ یہ ترجمہ غلط ہے چنانچہ
(JEWISH ENCYCLOPEDIA) میں یہ اعتراف موجود ہے کہ وہ ایک مخصوص وادی ہے
جن میں پانی نہ تھا اوروں نے یہ مذکور بالا بات رکھی ہے اس کے ذہن میںایک ایسی
دادی کی تصویر تھی جس کے خاص قدرتی حالات تھے جن کی ترجمانی اس نے ان الفاظ سے کی ہے۔
ان صحیفوں کے انگریزی ترجموں نے ترجمہ میں صحت و احتیاط کا عربی ترجموں سے
زیادہ ثبوت دیا ہے انھوں نے بکہ ” کا لفظ اسی طرح باقی رکھا ہے جیسا کہ اصل صحیفہ میں
تھا انھوں نے اس کو حرف ” 8 ” ہ کہ ” ” سے لکھا ہے جیسے عام طور پر اسماء و اعلام
کو لکھا جاتا ہے۔ یہ انگریزی ترجمہ درج ذیل ہے ہے۔
(BLESSED IS THE MAN WHOSE STRENGTH IS IN THEE:
IN WHOSE HEART ARE THE WAY’S OF THEM. WHO PASSING
THROUGH THE VALLEY OF BACA MAKE IT A WELL:)
PSALM 84: 5-6
مبارک باد ہے ان لوگوں کو جن کی عزت و قوت تیرے ساتھ ہے جن کے
ولوں میں تیرے راستے ہیں جو وادی بر کو بور کر کے اور اسکے ایک کنواں بنائیں گے)
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہا السلام
کی اس دعا کانتیجہ تھی جو انھوں نے کعبہ کی بنیادیں رکھتے اور اس کی تعمیر کرتے وقت کی تھی یہ عادی ہے۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رسُولا مر مر کے ہالے پروردگار ! ان لوگوں میں
الكتب والحِكْمَةَ وَيُزکریم تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر نا یا کرے
له VOL. II. . as ۲ با خود از تغییر ماجدی از مولانا عبد الماجد دریا بادی، و رحمة للعالمین از
قاضی سلیمان منصور پوری جلد اول ۔
….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….
61
إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے
(سوره بقره – ۱۲۹ )
اور ان کے دلوں کو پاک بنا کیا کرے کے
بے شک تو غالب اور صاحب حکمت ہے
اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے مخلصین صادقین اور اپنی ذات عالی سے
کو لگانے والوں اور دامن احتیاج پھیلانے والوں کی دعا ضرور قبول کرتا ہے انبیاء و
مرسلین کا رتبہ تو اس سے بھی اونچا ہے صحت سماویہ اور اخبار صادقہ ان مثالوں سے
بریز ہیں، خود تو ریت میں اس کا ثبوت موجود ہے کہ الہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام
کی یہ دعا قبول کی اکتاب پیدائش (۲۰) کے صاف الفاظ یہ ہیں :۔
اور اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا، او
اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا
ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا؟
اسی لئے رسول اللہ صلی الہ علیہ آلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اپنے بارہ میں فرمایا
کرتے تھے کہ انا دعوة ابراهیم و بشری عیسی میں ابراہیم کی دعا و عیسی کی بشارت
ہوں ) توریت میں (اس کی تحریف کے با وجود اب تک اس کے شواہد ملتے ہیں کہ دینا قبول
ہوئی کتاب استثناء (۱۸- ۱۵) میں موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔
” يقيم لك الرب الهك نبيا من وسطك من أخوتك مثلى له تسمون “
ترجمہ : خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں
میں سے میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اس کی طرف کان دھر لو۔
لے مند امام احمد .
….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
اخوتك (تیرے ہی بھائیوں) کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ اس سے مراد بنی اسماعیل
ہیں جو بنی اسرائیل کے ابناء عم تھے ، اسی صحیفہ میں دو آیتوں کے بعد یہ الفاظ درج ہیں )
” قال لى الرب قد أحسنوا فيما تكلموا أقيم لهم نبيا من وسط الخواتم
مثلك، واجعل كلامي في فمه فيكلم هم بكل ما أوصيه به
(سفر التثنه – ۱۸-۱۸۰۱۷)
اور خدا وند نے مجھے کہا کہ انھوں نے جو کچھ کہا اس اچھا کہا میں ان کے لئے
ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا یک نبی برپاکروں گا اور اپنا کلام اس کے متھے
میں ڈالوں گا اور کچھ میں سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا ؟
أجعل كلامي في قمة (اپنا کلام اس کے منھ میں ڈالوں گا) کے الفاظ محمد
صلی اللہ علیہ وسلمکی نعلین طور پر نشان دہی کرتے ہیں، اس لئے کہ آپ ہی وہ تنہا
نبی ہیں جن پر اللہ تعالی کا کلام لفظاً ومعنا نازل ہوا اور اللہ تعالی نے اس کا اعلان بھی فرمایا۔
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُو اور نہ خواہش نفس سے مجھ سے بات
الا وحي يوحى نکالتے ہیں، یہ قرآن تو حکم خدا ہے
( سوره نجم ۲۳ – ۲۴
دوسری جگہ آتا ہے ۔
جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے۔
لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ اس پر چھوٹ کا دخل نہ آگے سے
وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حکیم ہوسکتا ہے کہ پیچھے سے دانا اور خوبیوں
حدیده (سوره حم سجدہ (۴۲) والے خدا کی اتاری ہوئی ہے۔
اس کے برخلاف انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفے اس کا بالکل دعوی نہیں کرتے کہ ہے
….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
لفظاً و معنا دونوں طرح اللہ کا کلام ہیں، ان کے علماء بھی ان کو انبیاء کی طرف منسوب
کرتے ہیں تکلف سے کام نہیں لیتے، جیولیش انسائیکلو پیڈیا میں آتا ہے کہ :۔
کتاب مقدس (عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابیں (جیسا کہ قدیم یہودی تدریجی
روایات ہمیں بتاتی ہیں، موسی نبی کی تالیف ہیں، آخری آٹھ آیات کو مستثنی
کر کے جن میں موسیٰ کے انتقال کا واقعہ بیان کیا گیا ہے) رتی (یہودی عالم)
اس تضاد اور ایک دوسرے سے مختلف روایات پر غور کرتے رہتے ہیں جو ان
صحیفوں میں آئی ہیں، اور اس میں اپنی حکمت ذہانت سے اصلاح کرتے رہتے ہیں ؟
جہاں تک اناجیل اربعہ کا تعلق ہے جن کو معہد جدید کہا جاتا ہے ان کو نقطاً
و معنا کلام الہی ہونے سے دور کا بھی واسطہ نہیں اس کا اطمینان ہر وہ شخص کر سکتا ہے
جس کی ان کتابوں پر نظر ہے، واقعہ یہ ہے کہ یہ کتابیں سوانح و وقائع کی کتابیں زیادہ
معلوم ہوتی ہیں، خدا کی نازل کردہ کتابیں جو وحی و الہام پر پینی ہوں کم کیے
اس کے بعد جزیرۃ العرب کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کا نمبر آتا ہے میں نے اس کو
رہے موزوں مرکز دعوت کی شکل دے دی ہے، جہاں سے یہ دعوت و پیغام ساری دنیا کو
پہونچایا جا سکتا ہے اور ساری قوموں کو خطاب کیا جا سکتا ہے ایک طرف وہ براعظم ایشیا کا
ایک حصہ ہے دوسری طرف براعظم افریقہ اور اس کے بعد یو سے بھی قریب ، اور یہ سب
وہ علاقے ہیں جو تہذیب تمدن علوم و فنون اور مذاہب افکار کا ہمیشہ مرکز ہے، اور
جہاں بڑی وسیع، اور طاقتور سلطنتیں قائم ہوئیں پھر یہ علاقہ تجارتی کاروانوں کی
تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں ہماری کتاب
منصب نبوت کا ساتواں خطبہ ختم نبوت فصل آسمانی صحیفے اور قرآن علم و تاریخ کی روشنی میں
JEWISH ENCYCLOPEDIA, VOL. 9, P. 589
….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
گزرگاہ بھی تھا جس کے ذریعہ مختلف ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے یہ کئی
براعظموں کو جوڑتا تھا اور ایک جگہ کی خصوص اشیاء اور پیداوار دوسری جگہ جہاں اس کی
ضرورت تھی منتقل کرتا تھا، یہ جزیرہ نمائے عرب دو زبر دست بر سر پیکار طاقتوں کے
درمیان واقع تھا عیسائی طاقت اور مجوسی طاقت مغرب کی طاقت اور مشرق کی طاقت
لیکن اس کے باوجود اپنی آزادی اور اپنی شخصیت کی اس نے ہمیشہ حفاظت کی اور اپنے
چند سرحدی مقامات اور بعض قبائل کو چھوڑ کر اس نے کبھی ان طاقتوں کی اتنی قبول نہیں کی
وہ نبوت کی ایک ایسی عالی دعوت کا بجاطور پر مرکز بن سکتاتھا جو بین الاقوامی خطوط پر
قائم ہو انسانیت کو بلند سطح سے خطاب کر کے اس ہم کے سیاسی دباؤ اور غیر کی اثرات سے
بالکلیہ آزاد ہو۔
ان سب وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جزیرۃ العرب اور مکہ مکرمہ کو رسول اللہ
صلی الہ علیہ آلہ سلم کی بعثت وحی آسانی کے نزول اور دنیا میں اسلام کی اشاع کے
عالم گیر مرکز اور نقطہ آغاز کے طور پر منتخب فرمایا۔
اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَل اور اللہ تعالے زیادہ جانتا ہے کہ اس کا
رسالته . (سورة الانعام ۱۴۳) پیغام کہاں اور کس کے حوال کیا جائے۔
نے ڈاکٹر حسین کمال الدین نے جو ریاض یونی ورسٹی کے انجینیرنگ کالج میں سول انجینرزنگ کے شعبہ کے
صدا میں اپنے ایک پریس انٹرویومیں کہا کہ وہ ایک نے جغرافیائی نقطہ نظر پر پہونچ چکے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا
ہے کہ کر کرمہ روئے زمین پر خشکی کے حصہ) کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے انھوں نے اپنی تحقیق کا آغاز ایک ایسے
نقشہ سے کیا جس میں کہ کر سے دوسرے مقامات کی مسافتیں کھائی گئی تھیں ان کا مقصد اس سے در اصل
ایک لیے کم قیمت آلہ کی تیاری تھی جو سمت قبلہ کا تعین کر سکے، اسی درمیان ایران پر حقیقت واضح ہوئی
ہے کہ کرم ٹھیک دنیا کے وسط میں واقع ہے اسی تحقیق سے ان پر یہ راز بھی منکشف ہوا کہ مکہ مکرمہ کو
بیت اللہ کا مرکز اور ہدایت آسانی کا نقطہ آغاز بنانے میں خدا کی مصلحت کیا تھی (روزنامه الاهرام درود
1945
….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
۷۵
عرب کا تاریک ترین دور
اور ایک مستقل نبی کی بعثت کی ضرورت
ان صلاحیتوں اور خوبیوں کے باوجود جن سے اللہ تعالیٰ نے عربوں کو سرفراز کیا تھا
اور جن کی وجہ سے بعثت محمدی اور ظہور اسلام کے لئے ان کا انتخاب فرمایا تھا جزیرة العرب
میں بیداری اور بے چینی کے کوئی آثار نظرنہ آتے تھے اور صفا اور ملا ہی کا جذبہ
رکھنے والے چند نفوس باقی رہ گئے تھے جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے، اور جن کی حیثیت
برسات کی اندھیری اور ٹھٹھری ہوئی رات میں جگنوں سے زیادہ نہ تھی جو نہ کسی
گم گشتہ کو راہ دکھا سکتے ہیں نہ کسی کو گرمی و حرارت پہونچا سکتے ہیں۔
یہ دور میں میں رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی بعثت ہوئی جزیرۃ العرب کی تاریخ
کا بھی تاریک ترین دور تھا یہ ملک ظلمت و انحطاط کی اس آخری منزل پر تھا جب اصلاح
کی امید ختم ہو جاتی ہے یہ وہ سخت و جاں گداز او نگین مرحلہ تھا جو کسی نبی کو تبلیغ کے
راستہ میں پیش آیا ہوگا۔
سیرت نبوی کے ایک انگریز مصنف (SIR WILLIAM MUIR) نے جو اسلام اور
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بار میں اپنی خوردہ گیری اور عیب چینی میں مشہور ہے اس دو
کی خوب تصویر مینی ہے اور مغربی مصنفین کے اس نقطہ نظر کی تردید کی ہے کہ آپ کی
لے شفاء ان کو کہتے ہیں جو بت پرستی چھوڑ چکے تھے اور اپنی سمجھ کے مطابق ابراہیمی عید پر قائم تھے۔
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….
بعثت سے قبل لا وا بالکل یک چکا تھا، محمدرصلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا کیا کہ برقت
اور صحیح جگہ پہونچ کر اس کو آگ دکھادی چنانچہ یہ لاوا پھوٹ پڑا ، وہ کہتا ہے ۔
محمد کے عنفوان شباب کے زمانہ میں جزیرہ نمائے عرب بالکل نا قابل تغیر
تھا، شاید اس سے زیادہ نا امیدی کی حالت کسی اور زمانہ میں نہیں تھی ہے
یہی مصنفت دوسری جگہ لکھتا ہے :۔
فروغ عیسائیت کی معمولی کوششوں نے عرب کی اوپری سطح پر وقتاً فوقتاً
معمولی ارتعاش و پیدا کیا تھا اور نسبتاً شدید تر یہودی اثرات کبھی کبھی اندرونی
سطح میں بھی نظر آجاتے تھے لیکن مقامی ثبت پرستی اور اسماعیلیوں کی توہم کیتی
کا تیز دھارا ہر سمت سے کعبہ کی جانب الُمڈ کر آرہا تھا، اور اس کا واضح ثبوت
ہیا کر رہا تھا کہ مکہ کا مذہب اور طریقہ عبادت عربوں کے ذہن پر
شدت کے ساتھ اور بلا شرکت غیرے قابض ہو چکا تھا ہے
اسی تاریخی حقیقت کا با سورتھ اسمتھ (BOSWORTH SMITH) نے اختصار
لیکن طاقت اور وضاحت کے ساتھ اظہار کیا ہے، وہ لکھتا ہے :۔
سے زیادہ فلسفیانہ رجحان رکھنے والا ایک مورخ کہتا ہے کہ ان تمام
انقلابات میں جنہوں نے انسانیت کی عمرانی تاریخ پر لافانی تقویش چھوڑے
ہیں، ان میں کسی کا ظہور عقل انسانی کے لئے اتنا غیر متوقع نہ تھا جتنا کہ
عرب کے اس مذہب کا۔
لہ
WILLIAM MUIR: THE LIFE OF MAHOMET, VOL. 1 (LONDON 1858), P. CCXXXV-III
WILLIAM MUIR: THE LIFE OF MAHOMER, VOL. (LONDON 1858), P CCXXXIX
—
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….
ہمیں پہلی ہی نظر می تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ علم تاریخ اگر علم تانی نام کی
کوئی چیز ہے اس سے قاصر ہے کہ وہ اسباب علیل کی ان کرا ہوں کو تلاش
کرے جن کا تلاش کرنا اس کا فرض ہے؟
نبی کی ضرورت
چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں حالات کا بگاڑ اتنا بڑھ گیا تھا اور انسانیت
بیتی اس حد کو پہونچ چکی تھی کہ اب کسی مسلح، ریفارم او علم ر اخلاق کے بس کی بات
نہ تھی ہٹلر کی ایک عقیدہ کی تصحیح کا کسی مخصوص عادت کو بدلنے کا یاکسی طریقہ عبادت
کی ترویج کا یا کسی معاشرہ کی سماجی اصلاح کا نہ تھا، اس کے لئے و صلح اور مسلمین اخلاق
کافی تھے جن سے کوئی زمانہ اور کئی علاقہ کبھی خالی نہیں رہا بلہ یہ تھاکہ جاہلیت کے
مشرکانہ ویت پرستانہ اور انسانیت کے اس مہلک اور تباہ کن طیبہ کو کس طرح ہٹایا اور
صاف کیا جائے جو صدیوں اور نسلوں سے لے اوپر جمع ہو رہا تھا، اور جس کے نیچے ابیاء کرام
کی صحیح تعلیمات اور مسلحین کی مساعی اور خدمات دفن تھیں پھر اس کی جگہ پر وہ شی مستحکم
اور ظیم الشان، وسیع و عریض اور بلند و بالا عمارت کیسے قائم کی جائے جس کے سایہ رحمت
میں ساری انسانیت کو پناہ مل سکے بلکہ یہ تھاکہ وہ انسان کوں کو بنایا جائے جواپنے پیش رو
انسان سہر چیز یں جدا ہو اور ایسا نظر آئے کہ وہ ابھی ابھی وجود میں آیا ہے یا اس نئی زندگی کی ہے۔
اوَ مَنْ كَانَ ميتا نا ھی بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس
زندہ کیا اور اس کے لئے روشنی کردی
وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يمشي بے
MOHAMMED AND MOHAMMEDANISM (LONDON, 1876) P. 105
له
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….
في النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظلمت جس کے ذریعہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے
لَيْسَ بِخَارِج مِنْهَا .
کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیر
(سوره انعام (۱۲۲) میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی سکے۔
پیا فساد کی جڑ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے اور بت پرستی کی بنیاد کو بیچ وبس اس طرح
اکھاڑ پھینکنے کا تھا کہ دور دور اس کا کوئی اثر اور تشی باقی نہ رہ جائے اور عقیدہ توحید رضی انسانی
کی گہرائیوں میں ملا اس طرح پیوست اور راسخ کر دیا جائے کہ اسے زیادہ تصور کرنا مشکل ہے اس کے
اندر الشر تعالی کی رضا جوئی اور عبادت کا رجحان انسانیت کی خدمت اور حق پرستی کا جذبہ اور
غلط خواہش اور شوق کو لگام دینے کا ملکہ اور اس کی صلاحیت قوت پیدا کی جائے مختص یہ کہ اناست
b
چھوڑی تھی کچڑ کر کے دنیا و آخرت کے بت سے بچا جائے اور اس کو اس شاہراہ پر ڈالا جائے
جس کا پہلا سراوہ حیات طیبہ ہے جو عارفین اہل ایمان کو اس دنیا ہی میں نصیب ہوتی ہے اور دوسرا اور
انتہائی سرا وہ ہمیشہ رہنے والی جنت ہے جس کا تقوی کی زندگی اختیار کرنے والوں کے وہ کیا گیا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشت کے احسان اذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن جی میں جو
ارشاد فرمایا ہے اس سے بڑھ کر اس صورت حال کی کوئی تصویر اور ترجمانی نہیں ہوسکتی ہے ارشاد ہے۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمُ اذ كنتم اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کر جبکہ تم ایک دوسر
أَعْدَاء فَالَفَ بَيْنَ فُولر کا حجم کے دشمن تھے تو اس تمہارے دلوں میں الفت
بينة إخوانا وكُنتُم عَلى شفا ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی
حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَانْقَذَ كم ہو گئے اونم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہونچے
منها (سوره آل عمران (۱۰۳) چکے تھے تو خدانے تم کو اس سے بچا لیا۔
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….
۷۹
بنی نوع انسان کی پوری تاریخ میں ہمیں اسے زیادہ نازک اور بے چیٹ کام اور اس سے
بڑی اور عظیم الشان ذمہ داری نظر نہیں آتی جو ایک نبی اور فرستادہ الہی کی حیثیت سےمحمد صلی اللہ
الرسول پر ڈالی گئ نہ کوئی کھیتی اتنی زرخیز ثابت ہوی اور برگ با لائی جیسی آپ کی کوئی
کوشش وسیعی اتنی بار آور ثابت ہوئی جتنا آپ کی سعی انسانیت عامہ کے حق میں فید و
جات بخش ثابت ہوئی یہ عجائبات تاریخ کا سے بڑا گھوڑا اور دنیاکا سے بڑا جرم ہے اس کی
شہادت مشہور فرانسیسی ادیب اور شاعر نے بھی بڑی قوت بلاغت اور وضاحت و صراحت کے
ساتھ دی ہے یہ ادیب پیر ٹائن (LA MARTINE) ہے وہ نبوت محمدی کو خراج تحسین پیش
کرتے ہوئے کہتا ہے :-
کسی بھی انسان نے کبھی بھی شعوری یا غیر شعوری طور پراپنے لئے ان رفیع الشان قص حروب
نہیں کیا اس لئے کہ ی قصد انسان کی طاقت باہر تھا تو تھا اورخوش اعتقادوں
کو جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان حجاب بن گئی تھیں زیر وزبر کرنا انسان کی خدا
کے وار کرنا اور ایک چوکھٹ پر انسان کولانا، اس زمان کی اصنام پنی کے مادی
خداؤں کی جگہ خدائے واحد کے پاکیزہ اور الی تصور کو از سر و بحال کرنا، یہ تھا
عظیم مقصد کسی انسان کبھی بھی ایسے عظیم الشان کام کاج کسی صورت سے
سے
انسانی طاقتوں کے بس کا نہ تھا، اتنے کمزور ذرائع کے ساتھ بڑا نہیں اٹھایا۔
آگے لکھتا ہے :۔
اس سے بھی زیادہ آپ کا یہ کارنامہ ہے کہ اپنے قربان گاہوں دیوتاؤں مذاہب
تصور ، عقائد او نفوس کے اندر ایک تہلکہ ڈال دیا، ایک ایسی کتا کے اساس بنا کر
جس کا ہر حرف قانون کی حیثیت رکھتا ہے آپ نے ایک ایسی روحانی ملت کی تشکیل
….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….
کی جو ہر نسل اور ہر زبان کے اراد پر پھیل ہے اس محبت اسلامیہ کی امت کی خصوصیت
جسے محمد نے ہمارے لئے ورثہ میں چھوڑا ہے یہ ہے اس جھوٹے خداؤں سے سخت نفرت ہے
اور مادہ سے مبرا خدا سے شدید لگا یہی محبت اسے خدائے واحد کی ایکان کے خالق
انتقام پر مجبور کردیتی ہے اور یہ محبت محمد کے متبعین کی خوبیوں کی بنیاد یتی ہے
اپنے عقائد کوایک تہائی نیا تعلیم کا بنا ہے آپ کا مزہ تھالیکن زیادہ صحیح
تو یہ ہے کہ یہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عقل کا معجزہ ہے خدا کی توحید کے تصور کا ایسے
دوری علان کرنا جب کہ نیا لاتعداد ضمنی خداؤں کی یوتی کے بوجھ سے دبی ہوئی تھی
بذات خود ایک کے معجزہ تھا محمد کی زبان سے جیسے ہی اس یقین کا اعلان ہوا انہوں کی
نام قدیم معبدوں میں خوا میں انکار نے لی اور ایک نیا یا این حوار سے بری ہوگئی ہے
یہ عمومی اور ہمہ گیر انقلاب اور انسانیت کی حیات نو با تعمیر تو عظیم الشان کام
نئی رسالت کا طالب تھا جو تمام رسالوں اور نو تو نون پڑھ کر ہو اور ایسے ہی کا و انگار
تھا جو ہدایت اور دین حق کا پرچم آفاق عالم میں ہمیشہ کے لئے بلند کرے اللہ تعلی کا ارشاد
لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اهیل جو لوگ کافر ہیں یعنی اہل کتاب در شرک
الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِين وہ کفر سے باز رہنے والے نہ تھے جب تک
حتى تَأْتِيَهُمُ البَيِّنَة رسول ان کے پاس کھلی ہیں نہ آتی بینی خدا کے
مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحفا مطهر پیر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں جن میں
فيها كتب قيمة (سورہ بینہ (۳) مستحکم آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔
جلد دوم
لا ٹر کی LAMARTINE HISTOIRE DE LA TURQUTE
۲۷۷۰۲۷۶۰ پیرس (۱۸۵۴) ماخوذ از اسلام ان دی ورلڈ نصیت ڈاکٹر کی علی لاہور (۱۹۳۷