عہدِ جاہلیت
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کے بڑے مذاہب، قدیم مذہبی صحیفے اور ان کے احکام و قوانین، جنہوں نے مذہب، اخلاق اور علم کے میدان میں مختلف موقعوں پر اپنا مخصوص کردار ادا کیا تھا، بازیچۂ اطفال بن چکے تھے، اور تحریف کے علم برداروں، منافقوں اور ناخدا ترس و بے ضمیر مذہبی رہنماؤں کی ذاتی اغراض کا نشانہ اور حوادثِ زمانہ کا اس طرح شکار ہو چکے تھے کہ ان کی اصل شکل و صورت کا پہچاننا مشکل، بلکہ ناممکن تھا۔
اگر ان مذاہب کے اولین بانی و علم بردار اور ان کے انبیاءِ کرام دوبارہ واپس آ کر اس حالت کو دیکھتے تو ان مذاہب کو خود نہ پہچان سکتے اور ان کا انتساب اپنی طرف کرنے پر ہرگز تیار نہ ہوتے۔
یہودی مذہب
یہودی مذہب چند بے جان رسموں اور روایات کا نام تھا، جن میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔ علاوہ بریں یہودیت بجائے خود ایک نسلی مذہب ہے جس کے پاس دنیا کے لیے کوئی پیغام، اقوامِ عالم کے لیے کوئی دعوت اور انسانیت کے لیے چارہ سازی و مسیحائی کا کوئی سامان نہیں ہے۔
یہ مذہب اپنے عقیدۂ توحید میں بھی، جو مختلف مذاہب اور قوموں میں اس کا امتیازی شعار رہا ہے، جس میں اس کی عزت و شرف اور زمانۂ قدیم میں بنی اسرائیل کی دوسری قوموں پر فضیلت کا راز پنہاں ہے، اور جس کی وصیت حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی، ثابت قدم نہ رہ سکا۔
یہودیوں نے اپنی پڑوسی قوموں کے اثر سے یا غالب و فاتح قوموں کے دباؤ سے ان کے بہت سے عقائد قبول کر لیے اور ان کی بہت سی عادتیں اور مشرکانہ، بت پرستانہ اور جاہلی روایات اختیار کر لیں۔ اس کا اعتراف بعض منصف مزاج یہودی مورخین خود کرتے ہیں۔
بابل کی تالمود، جو یہودیوں میں حد درجہ مقدس سمجھی جاتی ہے اور بعض اوقات توریت پر بھی اس کو ترجیح دی گئی ہے، اور جو چھٹی صدی عیسوی میں یہودیوں میں مقبول و رائج تھی، کم عقلی، بدزبانی، خدا کے حضور جسارت و گستاخی، حقائقِ مسلمہ اور دین و عقل کے ساتھ تمسخر کے ایسے عجیب و غریب نمونوں سے بھری ہوئی ہے جن کو دیکھ کر اس صدی میں یہودی معاشرہ کی ذہنی پستی اور مذہبی ذوق کے بگاڑ کا پورا اندازہ ہوتا ہے۔
عیسائیت
عیسائیت اپنے دورِ اول ہی میں انتہا پسندی کی تحریف، جاہلوں کی تاویل اور رومی نصرانیوں کی بت پرستی کا شکار ہو گئی تھی۔ حضرت مسیحؑ کی سادہ و پاکیزہ تعلیمات اس تمام ملبہ کے نیچے دفن تھیں، توحید اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کا نور گہرے بادلوں کے اندر چھپ چکا تھا۔
چوتھی صدی کے آخر میں عیسائی سوسائٹی میں تثلیث کا عقیدہ کس طرح سرایت کر گیا تھا، اس کے متعلق ایک عیسائی فاضل لکھتا ہے:
ایک معاصر عیسائی مورخ نے عیسائی سوسائٹی میں بت پرستی کے آغاز، اس کی نو بہ نو شکلوں، دوسری مشرک و بت پرست قوموں کی اندھی تقلید، اور مذہبی و قومی شعائر، عادات، اطوار، تہواروں اور تقریبوں میں ان کی ہو بہو نقل کرنے کے جذبہ کا ذکر کیا ہے۔
چھٹی صدی عیسوی جس وقت شروع ہوئی، اس وقت شام و عراق کے عیسائیوں اور مصر کے عیسائیوں کی جنگ پورے شباب پر تھی۔ یہ جنگ حضرت مسیح کی حقیقت و ماہیت کے موضوع پر ہو رہی تھی، اور اس کی وجہ سے مدارس، کلیسا اور گھر سب متحارب کیمپوں میں تبدیل ہو گئے تھے، جو ایک دوسرے کی تکفیر میں مشغول اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ دو مذہبوں یا دو مخالف قوموں کی جنگ ہے۔ اس کی وجہ سے عیسائیوں کو اس کی فرصت نہ تھی کہ عالم گیر فساد کے انسداد اور اصلاحِ حال کی کوشش کرتے اور انسانیت کو فلاح و نجات کا پیغام دیتے۔
دیکھیے: Alfred J. Butler, Arabs Conquest of Egypt and the Last Thirty Years of Roman Dominion , Oxford, 1902, pp. 44–45.
مجوسی
مجوسی، یعنی ایران کے پارسی، قدیم زمانہ سے عناصرِ اربعہ کی عبادت کرتے تھے، جن میں سب سے بڑا عنصر آگ تھا۔ انہوں نے اس کے لیے مخصوص آتش کدے اور عبادت گاہیں تعمیر کی تھیں۔ آتش پرستی ملک کے طول و عرض میں عام تھی۔
آگ کی پرستش اور سورج کی تقدیس کے سوا ہر عقیدہ و مذہب وہاں مٹ چکا تھا۔ مذہب ان کے نزدیک چند رسموں یا چند قدیم روایات سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا، جن کو وہ مخصوص مقامات میں ادا کرتے تھے۔ عبادت گاہوں سے باہر وہ بالکل آزاد تھے، جہاں اپنی مرضی اور خواہشِ نفس کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔
اہلِ ایران آگ کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے۔ ایران کے آخری بادشاہ یزدگرد نے ایک مرتبہ سورج کی قسم کھاتے ہوئے کہا تھا: ’’میں سورج کی قسم کھاتا ہوں جو سب سے بڑا معبود ہے۔‘‘
اہلِ ایران ہر زمانہ میں ثنویت کا شکار رہے، حتیٰ کہ یہ ان کی علامت اور پہچان بن گئی۔ وہ دو خداؤں کے قائل تھے: ایک روشنی یا خیر کا خدا، جس کو آہور مزدا یا یزداں کہتے تھے، اور دوسرا ظلمت یا شر کا خدا، جس کا نام اہرمن تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دونوں میں باہمی کشمکش اور طاقت آزمائی برابر جاری ہے۔
ایران بعہدِ ساسانیان، باب ’’مذہبِ زردشت: سرکاری مذہب‘‘، ص ۱۸۳۔۲۳۳۔
ایرانی مذہب کے مورخین نے ان کے معبودوں کے متعلق جو کہانیاں لکھی ہیں اور پورا علم الاصنام MYTHOLOGY تیار کر دیا ہے، وہ اپنی بوالعجبی، عجائب پسندی اور تفصیلات و جزئیات میں یونانی یا ہندوستانی دیومالا سے کسی طرح کم نہیں۔
بودھ مذہب، جو ہندوستان اور وسط ایشیا میں پھیلا ہوا تھا، وہ بھی ایک بت پرستانہ مذہب میں تبدیل ہو چکا تھا۔ جہاں اس کے قافلہ کا پڑاؤ ہوتا، وہاں گوتم بدھ کی مورتی نصب کی جاتی اور دیکھتے دیکھتے ایک معبد تیار ہو جاتا۔
ہندو مذہب
جہاں تک ہندو مذہب کا تعلق ہے، وہ دیوی دیوتاؤں کی کثرت میں دوسرے مذاہب سے بہت آگے ہے۔ چھٹی صدی میں بت پرستی اس میں پورے شباب پر تھی۔ معبودوں کی تعداد اس صدی میں ۳۳ کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔
غرض ہر عظیم یا ہیبت ناک یا نفع پہنچانے والی چیز معبود تھی۔ بت تراشی اور مجسمہ سازی کا فن بھی نقطۂ عروج پر تھا اور اس میں طرح طرح کی جدت طرازیاں کی جاتی تھیں۔
۱۔ ایران بعہدِ ساسانیان، ص ۲۰۴۔۲۰۹۔
۲۔ ’’ہندوستانی تمدن‘‘، نیز Discovery of India از پنڈت جواہر لال نہرو، ص ۲۰۱۔۲۰۲۔
۳۔ بودھ مذہب پر مقالہ، Encyclopaedia Britannica۔
۴۔ R. C. Dutt, Ancient India، اور L. S. S. O’Malley, Popular Hinduism – The Religion of the Masses.
ایک ہندو فاضل C. V. VAIDYA اپنی کتاب History of Mediaeval Hindu India میں راجہ ہرش ۶۰۶ء تا ۶۴۸ء کے بارے میں لکھتے ہیں:
اس میں شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ بت پرستی اس زمانہ میں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ بحرِ اوقیانوس سے بحرالکاہل تک دنیا بت پرستی میں غرق تھی۔ عیسائیت، سامی مذاہب اور بدھ مت گویا بتوں کی تعظیم و تکریم میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں مصروف تھے۔
ایک اور ہندو فاضل اپنی کتاب Popular Hinduism – The Religion of the Masses میں لکھتے ہیں:
عرب
جہاں تک ان عربوں کا تعلق ہے جو عہدِ قدیم میں دینِ ابراہیمی کے حامل تھے اور جن کی سرزمین میں خدا کا سب سے پہلا گھر تعمیر ہوا، وہ نبوت اور انبیاءِ کرام سے بُعدِ زمانی اور جزیرہ نمائے عرب میں محصور رہنے کی وجہ سے بہت گھٹیا درجہ کی بت پرستی میں مبتلا تھے۔
وہ شرک میں بھی بہت آگے تھے اور خدا کو چھوڑ کر بہت سے معبود انہوں نے تجویز کر لیے تھے، اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ خود ساختہ معبود کائنات کے نظم و انتظام میں خدا کے ساتھ شریک ہیں اور نفع و نقصان پہنچانے اور زندہ رکھنے اور مارنے کی ذاتی صلاحیت اور قدرت رکھتے ہیں۔
چنانچہ پوری عرب قوم بتوں کی پرستش میں ڈوب چکی تھی۔ ہر قبیلہ اور علاقہ کا علیحدہ بت تھا، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر گھر صنم خانہ تھا۔
خود کعبہ کے اندر اور اس کے صحن میں، جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا، تین سو ساٹھ بت تھے۔ وہ بتوں اور معبودوں کی عبادت سے آگے بڑھ کر ہر قسم کے پتھروں کو پوجنے لگے تھے، اور فرشتوں، جنوں اور ستاروں کو بھی اپنا معبود سمجھتے تھے۔
صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب فتح مکہ۔
کتاب الاصنام لابن الکلبی، ص ۳۳، ۴۴۔
دنیا کے ملکوں اور قوموں پر ایک عمومی نظر
یہ ان مذاہب کا حال تھا جو اپنے اپنے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے لیے آئے تھے۔ جہاں تک ان متمدن ممالک کا تعلق ہے جہاں عظیم الشان حکومتیں قائم تھیں، علوم و فنون کا بازار گرم تھا اور وہ تہذیب و تمدن، صنعت و حرفت اور علوم و فنون کا مرکز سمجھے جاتے تھے، وہاں مذاہب کی شکل بالکل مسخ ہو چکی تھی۔
وہ اپنی اصل حقیقت، قدر و قیمت اور قوت و افادیت کھو چکے تھے، اور مصلحین اور معلمینِ اخلاق دور دور نظر نہ آتے تھے۔
مشرقی رومی سلطنت
مشرق کی رومن شہنشاہی میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار تھی کہ اہلِ ملک اپنی حکومت پر ہر غیر ملکی حکومت کو ترجیح دینے لگے تھے۔ بار بار انقلابات اور بغاوتیں ہوتی تھیں۔ صرف ۵۳۳ء کے ایک فساد میں قسطنطنیہ کے تین ہزار آدمی قتل کیے گئے۔
ان کا سب سے بڑا مشغلہ اور دلچسپی کسی نہ کسی ذریعہ سے مال حاصل کرنا، پھر عیش و عشرت میں اسے خوب خرچ کرنا تھا۔ تفریح و تعیش میں وہ اتنا آگے بڑھ گئے تھے کہ اس کی سرحدیں درندگی و بربریت سے مل گئی تھیں۔
مصر، جو دولت مند بازنطینی سلطنت کی ایک ریاست تھی، زبردست مذہبی مظالم اور بدترین سیاسی استبداد کا شکار تھا، اور اسی کے ساتھ وہ بازنطینی سلطنت کی خوش حالی کا بڑا ذریعہ اور سرچشمہ بھی تھا۔ اس کی مثال اس گائے کی سی تھی جس کو اچھی طرح دوہا جائے اور چارہ کم سے کم دیا جائے۔
شام، جو بازنطینی شہنشاہی کی دوسری ریاست تھی، اہلِ روما کی توسیع پسندی اور ہوسِ ملک گیری کا شکار تھا۔ افلاس کا حال یہ تھا کہ اکثر شامی اپنا قرض ادا کرنے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کر دیتے تھے۔
ایرانی شہنشاہی
مذہبِ زردشت، جس نے مزدائیت کی جگہ لی، ایران کا قدیم مذہب ہے۔ زردشت، جو اس مذہب کا بانی تھا، ساتویں صدی قبلِ مسیح میں ظاہر ہوا۔
ایرانی شہنشاہی مشرق کی رومن شہنشاہی سے اپنے رقبہ، ذرائعِ آمدنی اور شان و شوکت میں زیادہ بڑی تھی۔ اس کی بنیاد ۲۲۴ء میں اردشیر کے ہاتھوں پڑی۔
طیسفون، المدائن، جو اس شہنشاہی کا پایۂ تخت اور شہروں کا ایک مجموعہ تھا، پانچویں صدی اور اس کے بعد کے زمانہ میں اپنے تمدن و ترقی اور تعیش و اسراف کے آخری نقطہ پر تھا۔
مذہبِ زرتشتی اول روز سے نور و ظلمت اور خیر و شر کی کشمکش اور بھلائی کے خدا اور برائی کے خدا کے درمیان مسلسل معرکہ آرائی کے تصور پر قائم تھا۔
تیسری صدی عیسوی میں ’’مانی‘‘ اس مذہب کے مصلح کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس نے تجرد کی زندگی کی دعوت دی اور نور و ظلمت کے امتزاج سے نجات کے لیے نسلِ انسانی کے سلسلہ اور ازدواجی تعلقات کو ختم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں ’’مزدک‘‘ ظاہر ہوا، اور اس نے مال و دولت اور عورت میں مکمل مساوات اور اشتراک کی کھلی دعوت دی۔ اس کی دعوت نے جلد ہی قوت پکڑ لی۔
ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم ایران میں انتہا پسندانہ دعوتوں اور تحریکوں کو قبول کرنے کی عجیب و غریب صلاحیت تھی۔ وہ ہمیشہ شدید عمل اور ردِ عمل کے اثر میں رہا اور فلسفۂ لذتیت اور آخری درجہ کی رہبانیت و نفس کشی کے درمیان ہچکولے کھاتا رہا۔
اس شہنشاہی میں، خاص طور پر ساسانی عہدِ اقتدار میں چھٹی صدی تک، حالت بہت بگڑ چکی تھی۔ پورا ملک ان سلاطین کے رحم و کرم پر تھا جو موروثی طور پر تخت و تاج کے مالک بنتے تھے اور اپنے کو عام انسانوں سے بالاتر سمجھتے تھے۔
ملک کی تمام دولت اور آمدنی کے وسائل ان بادشاہوں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے۔ دولت جمع کرنے، تحائف و نوادر اور قیمتی اشیاء اکٹھا کرنے، معیارِ زندگی کی بلندی، جدت طرازی، تفریح و تعیش اور دنیا کے مزے اڑانے کی ریس بہت آگے بڑھ چکی تھی۔
دوسری طرف غریب عوام سخت مفلوک الحال اور مصیبت زدہ تھے۔ مختلف قسم کے ٹیکسوں، طرح طرح کی بندشوں اور بیڑیوں نے ان کی زندگی کو عذابِ جان بنا دیا تھا۔
ہندوستان
ہندوستان جو عہدِ قدیم میں ریاضیات، فلکیات، طب اور فلسفہ میں دنیا میں بڑا نام پیدا کر چکا تھا، اس کے متعلق مورخین کی عام رائے یہ ہے کہ اس کا مذہبی، اخلاقی اور اجتماعی طور پر سب سے تاریک اور بدترین دور چھٹی صدی عیسوی کے آغاز سے شروع ہوتا ہے۔
عورت کی کوئی قیمت اور عزت و عصمت باقی نہ رہی تھی۔ شوہر اپنی بیوی کو جوئے میں ہار جاتا تھا۔ اگر اس کا شوہر مر جاتا تو وہ زندہ درگور کی مانند ہوتی تھی، نہ شادی کر سکتی تھی، نہ اس کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
ہندوستان اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی برادری میں طبقاتی عدم مساوات اور انسانوں کے درمیان فرق و امتیاز میں بہت آگے تھا۔ یہ ایک سخت اور بے رحمانہ نظام تھا جس میں نرمی اور لچک کی کوئی گنجائش نہ تھی۔
اس نظام نے ہندوستان کے باشندوں کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا:
- مذہب کے اجارہ دار، یعنی برہمن۔
- سپاہی اور فوج میں بھرتی ہونے والے افراد، یعنی چھتری۔
- زراعت پیشہ اور تجارت کرنے والے، یعنی ویش۔
- نوکر چاکر اور خدمت گار، یعنی ’’اچھوت‘‘۔
یہ آخری طبقہ، جو سب سے بڑی تعداد میں تھا، پستی کی آخری منزل میں تھا۔ اس کے متعلق یہ تصور تھا کہ وہ خالقِ کائنات کے پاؤں سے پیدا ہوا ہے، اس لیے اس کا کام صرف ان تینوں طبقوں کی خدمت کرنا اور ان کو آرام و راحت پہنچانا ہے۔
اچھوت نہ کچھ کما سکتے تھے، نہ جمع کر سکتے تھے، نہ کسی برہمن کے قریب بیٹھ سکتے تھے، نہ اس کے بدن کو چھو سکتے تھے، نہ مقدس کتابوں کا پڑھنا ان کے لیے جائز تھا۔
پورا ملک انتشار کا شکار تھا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ اس میں سینکڑوں ریاستیں اور حکومتیں تھیں جو اکثر برسرِ پیکار رہتی تھیں۔
جزیرۃ العرب
عربوں کے اخلاق بھی بہت بگڑ چکے تھے۔ وہ شراب اور جوئے کے رسیا تھے۔ ان کی قساوتِ قلبی اور حمیتِ جاہلی کا اندازہ ان کے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے سے کیا جا سکتا ہے۔
قافلوں کو لوٹنا اور بے گناہوں کو تہِ تیغ کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ عورت کی ان کے یہاں کوئی عزت باقی نہ تھی۔ مکان کے دوسرے سامان و اسباب یا مویشیوں کی طرح جہاں چاہتی منتقل کی جاتی یا ورثہ میں ملتی۔
قبائلی، نسلی، خاندانی اور خونی عصبیت اور جانب داری بے حد شدید تھی۔ جنگ ان کی گھٹی میں پڑی تھی، اور ایک دوسرے کو قتل کرنا ان کے لیے کھیل اور تفریح تھا۔ ایک معمولی واقعہ اکثر بڑی خونریز اور طویل جنگوں کا سبب بن جاتا، بعض جنگوں کا سلسلہ چالیس چالیس سال چلا۔
یورپ
یورپی قومیں جو شمال و مغرب کے اندر دور تک آباد تھیں، جہالت و ناخواندگی کے مہیب سایہ میں تھیں اور خونریز جنگوں میں مشغول تھیں۔ وہ تمدنِ انسانی کے کارواں سے بہت پیچھے اور علوم و فنون کی دنیا سے بہت دور تھیں۔
ان کے پادری اور راہب جسم کو اذیت پہنچانے اور انسانوں سے فرار میں نہایت درجہ متشدد اور انتہا پسند تھے۔
گھٹا ٹوپ اندھیرا اور جان لیوا مایوسی
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی، جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، تاریخ کا بدترین دور تھا، اور انسانیت کے مستقبل اور اس کی بقا و ترقی کے لحاظ سے انتہا درجہ تاریک اور مایوس کن۔
مشہور انگریز مصنف H. G. WELLS نے بھی ساسانی اور بازنطینی حکومتوں کے ذکر میں اس عہد کی تصویر کھینچی ہے۔
عالمگیر فساد
بعثتِ محمدی کے زمانہ میں پوری انسانیت خودکشی کے راستہ پر تیزی کے ساتھ گامزن تھی۔ انسان اپنے خالق اور مالک کو بھول چکا تھا اور خود اپنے آپ کو، اپنے مستقبل اور انجام کو فراموش کر چکا تھا۔
اس کے اندر بھلائی اور برائی اور زشت و خوب میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت باقی نہیں تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسانوں کے دماغ و دل کسی چیز میں کھو چکے ہیں۔ ان کو دین و آخرت کی طرف سر اٹھا کر دیکھنے کی بھی فرصت نہیں۔
روح و قلب کی غذا، اخروی فلاح، انسانیت کی خدمت اور اصلاحِ حال کے لیے ان کے پاس ایک لمحہ خالی نہیں تھا۔ بسا اوقات پورے پورے ملک میں ایک شخص ایسا نظر نہ آتا جس کو اپنے دین کی فکر ہو، جو خدائے واحد کی پرستش کرتا ہو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، جس کے جگر میں انسانیت کا درد ہو اور اس کے تاریک و ہولناک انجام پر کچھ بے چینی ہو۔
یہ صورتِ حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی ہو بہو تصویر تھی: