۵۵۱
ازواج مطہرات اولاد اطهار
ازواج مطہرات
آپ کی ازواج مطہرات میں سب سے پہلا نام حضرت خدیجہ بنت خوی کد رضی اللہ عنہ
کا ہے یہ آپ کی نبوت سے قبل جب ان کی عمر چالیس سال تھی آپ کی زوجیت میں آئیں
حضرت خدیجہ نے آپ کی نبوت کے بعد پیش آنے والی مشکلات میں آپ کی پوری مدد کی
اور بہا دو قربانی نہیں آپ کی رفاقت و شرکت فرمائی اور اپنی ہمدردی و محبت اور اپنے
مال و دولت ہر طریقہ سے آپ کی نسلی تسکین کا سامان فراہم کیا، ان کی وفات ہجرت
سے تین سال قبل ہوئی، رسول اللہصلی الہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سیدنا ابراہیم کو
چھوڑ کی حضرت خدیجہ سے ہے، آپ تعریف اور احسان شناسی کے ساتھ ان کا ہمیشہ
ذکر فرماتے رہے کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی بکری ذبح کی جاتی تو آپ اس کے مختلف حصے علمیہ
کر کے حضرت خدیجہ ہن کی سہیلیوں کے پاس بھجواتے ہے
ان کی وفات کے کچھ دن بعد سودہ بنت زمعہ کو آپ کی رفیقہ حیات بننے کا
شرف حاصل ہوا، اس کے بعد آپ نے حضرت عائشہ نہ سے نکاح کیا جو آپ کی بہت
عزیز و محبوب بیوی تھیں، اُمت کی خواتین میں فقہ و علم دین میں کوئی ان کا ہم پایہ
اے متفق علیہ حضرت عائشہ رض سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی ازواج مطہر آن
میں سے کسی پر انتشار شک نہیں آیا ، جتنا خدیجہ پر حالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں۔
36
nununununununu
………………………………………………………………………………………………………………
۵۵۲un
نہ تھا، اکابر صحابہ مختلف مسائل میں ان سے رجوع فرماتے تھے اور ان کا فتوی اور
رائے چاہتے تھے ، اس کے بعد آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت
حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، اس کے بعد زینب بنت خزیمہ سے شادی
ہوئی جو شادی کے دو ماہ بعد وفات پا گئیں پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت
میں آئیں ان کی وفات ازواج مطہرات میں سب کے بعد ہوئی، پھر آپ نے زینب
بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی یہ آپ کی پھوپھی امیمہ کی صاحبزادی
تھیں، اس کے بعد آپ نے جویریہ بنت الحارث ہ سے شادی کی جو قبیلہ بنو مصطلق
سے تعلق رکھتی تھیں پھر ابوسفیان کی صاحبزادی ام جیبہ سے اور اس کے بعد
قبیلہ بنی النضیر کے سردار حتی بن اخطب کی صاحبزادی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا
سے شادی کی اچھی بن اخطب حضرت موسی علیہ السلام کے بھائی ہارون بن عمران
کی اولاد میں تھے ، اس کے بعد میمونہ بنت الحارث الہلالیہ سے شادی ہوئی، ازواج
مطہرات میں سب سے آخر میں انھیں کو یہ شرف حاصل ہوا۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی وفا کے وقت
آپ کی ازواج مطہرات میں سے و نو موجود تھیں حضرت خدیجہ اور زینب بنت
خزیمہ کا آپ کی حیات مبارکہ ہی میں انتقال ہوگیا تھا، یہ سب حضرت عائشہ یی
کو مستثنی کر کے شادی شدہ تھیں ہے
آپ کی وفات کے وقت آپ کی دو باندیاں موجود تھیں، ایک ماریہ بنت
شمعون جو مصر کے قبطی خاندان کی فرد تھیں جن کو مصر کے حاکم مقوقس نے آپ کی
له زاد المعارج ۲۶-۲۹ تلخیص کے ساتھ۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۵۳)
۵۵۳
خدمت میں پیش کیا تھا، اور جو آپ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کی والدہ
تھیں، دوسری قبیلہ بنی النضیر کی خاتون ریحانہ بنت زیاد تھیں ، اسلام قبول )
کرنے کے بعد آپ نے ان کو آزاد فرما دیا، اور پھر ان کو اپنی زوجیت میں قبول کیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد ان ازواج مطہرات سے شادی ملمانوں
پر حرام قرار دے دی، اس لئے کہ وہ امہات المومنین کا درجہ رکھتی تھیں اس تعلق
(زوجیت کے ساتھ اس مقدس اور نازک رشتہ کی پوری حفاظت و رعایت نہیں
ہو سکتی تھی، جو امت کو اپنے نبی سے (دائمی طور پر ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :۔
وَمَا كَانَ اگر ان کو دوا اور ہم کویہ شایاں نہیں کہ پنیر
رَسُولَ اللهِ وَلَا أَنْ تَكْحُوا خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کر ان کی
أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا بیویوں سے کبھی ان کے بعد
إِن ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ الله نکاح کروا بے شک یہ خدا
عظيما (احزاب (۵۳) کے نزدیک بڑے گناہ کا کام
ہے۔
ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔
علماء کا اس بات پر مکلی اتفاق ہے کہ آپ کی وفات کے بعد کسی دوسرے
کے لئے آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا حرام ہے اس لئے کہ دنیا و آخرت
دونوں جگہ وہ آپ کی بیٹیاں اور اہل ایمان کی مائیں ہیں ہے۔
ہ ایک روایت یہ ہے کہ وہ بنی قریظہ میں سے تھیں سے ابن کثیر ج ۲ ص ۱۰-۶۰۵
ابن کثیر ج ۴ ص۱۹۳ (دار الاندلس)
………………………………………………………………………………………………………………
تعدد ازدواج پر ایک نظر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر مبارک کا ایک حصہ تجرد میں گزارا
پچیس سال کی وہ مدت ہے جو نو جوانی کا خاص زمانہ ہوتا ہے، آپ کا مل لفظرت
انسانی و عربی جوانمردی اور جسمانی صحت کا بہترین و اعلیٰ پیکر تھے، بادیہ عرب میں
آپ کی پرورش ہوئی تھی، تہذیب و تمدن کے امراض اور عیوب سے اللہ تعالے
نے آپ کی حفاظت فرمائی تھی، شہسواری اور مردانگی کی اعلیٰ صفات سے
آپ کو حصہ وافر ملا تھا جن کی عربوں کی نگا میں بڑی اہمیت تھی اور جن کوعلم نفق
اور اخلاقیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔
آپ کے بدترین دشمنوں کو بھی اس زمانہ میں (جو نبوت سے قبل آپ کا
بہت اہم اور نازک دور تھا آپ پر حرف گیری اور انگشت نمائی کا کوئی
نہ آپ کی نبوت کے بعد آج تک کس نے اس سلسلہ میں آپ پر نکتہ چینی کی آپ طہارت آپ
و عفت، پاکیزگی قلب و نظر معصومیت و طہارت کی اعلیٰ مثال تھے اور بر اس
کمزوری سے بہت دور تھے، جو آپ کے شایان شان نہ تھی۔
پچیس سال کی اس عمرمیں آپ نے سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے
نکاح کیا جو بیوہ تھیں، چالیس سال کی ان کی عمر تھی اس سے قبل ان کی دو شادیاں
ہو چکی تھیں، صاحب اولاد تھیں، پھر شہوروں کے مطابق آپ کے اور ان کے بن ہیں
پندرہ سال کا فرق تھا۔ اس کے بعد دوسری شادی آپ نے حضرت سودہ بنت
زمعہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت کی جبکہ آپ کی عمر مبارک پچاس سال سے زیادہ
۱۵
……………………………………………………………………………………………………………
۵۵۵
ہو چکی تھی، ان کے شوہر کا حبشہ میں ایک مہاجر مسلمان کی حیثیت سے انتقال ہو گیا
تھا، آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی دوشیزہ اور غیر شادی شد
خاتون سے نکاح نہیں فرمایا، اس کے علاوہ کتنی شادیاں آپ نے فرمائیں، اس میں
دین اور دعوت دین کی کوئی مصلحت، فراح قلبی و عالی ظرفی، مکارم اخلاق مسلمانوں
کا کوئی مفاد عام یا کسی بڑے اجتماعی خطرہ اور فسردہ کا سد باب آپ کے پیش نظر تھا۔
رشتوں اور ازدواجی قرابتوں کی عربوں کی قبائلی اور سماجی زندگی میں جس قدر
اہمیت ہے، اتنی کسی اور سوسائٹی اور سماج میں نہیں ہے اس لئے یہ شادیاں
اور نئی قرابتیں اسلامی دعوت اور اسلام کے مثالی معاشرہ کی تاریخ، خون بہانے
سے حفاظت اور عربی قبائل کے ضرر سے بچاؤ کا ایک بڑا ذریعہ تھیں۔
مزید یہ کہ ان ازواج مطہرات کے ساتھ آپ کی زندگی کوئی عیش و آرام
مرفہ الحالی بالذت کام و دہن کی زندگی نہ تھی جو تعدد ازدواج میں بہت سے لوگوں کے
پیش نظر رہتا ہے، وہ اس درجہ زہد و تقشفت اور ایثار و قناعت کی زندگی تھی،
جس کی استطاعت قدیم اور جدید دور کے بڑے سے بڑے حوصلہ مند اور اولیا العزم
افراد اور نامور زہاد میں بھی نہیں ہے، اس کی کچھ جھلکیاں اور نمونے اخلاق و شمائل
کے حصے میں پیش کئے جائیں گے تاہم ایک انصاف پسند شخص کے لئے قرآن مجید کی
یہی ایک آیت کافی ہے :۔
يَاتِهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجد کے پیمبر اپنی بیویوں سے کہدو کہ
إن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی
وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ امَتِّعُكُنَّ زینت و آرائش کی خواہشمند گار ہو تو اؤ
………………………………………………………………………………………………………………
۵۵۶
وَأُسَبِّحُلُنَّ سَرَاحًا جَميلًا میں تمھیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الله وَرَسُولَهُ سے رخصت کر دوں اور اگر تم
وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ الله شهدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت
أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنكُنَّ کے گھر ریعنی بہشت) کی طلب گار
اجراعظيما
(سوره احزاب – ۲۸-۲۹
ہو تو من میں جو نیکو کاری کرنے والی
ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم
تیار کر رکھا ہے۔
اس عالی مقصد پاکیزہ جذبہ پاک وصاف ذہن اور عمیق و حکیمانہ تربیت
کا اثر یہ تھا کہ ان سب ازواج مطہرات نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور ادنی درجہ کے
تردد کے اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دی مثال اور نمونہ کے طور پر
حضرت عائشہ کا وہ جواب کافی ہے جو اس سلسلہ میں انھوں نے دیا۔ آپ نے
یہ آیت ان کے سامنے تلاوت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ دیکھو جلدی نہ کرنا اپنے
والدین سے مشورہ ضرور کر لینا، انھوں نے جواب دیا، بھلا اس معاملہ میں بھی والدین
سے مشورہ کی ضرورت ہے؟ مجھے تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر مطلوب ہے
وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیویوں نے ایسا ہی کیا ہے۔
تعدد ازدواج اور اس کے نفسیاتی ، اقتصادی اور اجتماعی اثرات اور تقاضو
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کی عظیم ذمہ داری ، جہد و مجاہدہ کی زندگی
اور مسلمانوں کے اہم ترین امور سے ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں کیا، بلکہ اس سے آپ کی
الے صحیح بخاری بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری ابن ابی حاتم واحمد
………………………………………………………………………………………………………………
۵۵۶
وَأُسَبِّحُلُنَّ سَرَاحًا جَميلًا میں تمھیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الله وَرَسُولَهُ سے رخصت کر دوں اور اگر تم
وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ الله شهدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت
أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنكُنَّ کے گھر ریعنی بہشت) کی طلب گار
اجراعظيما
(سوره احزاب – ۲۸-۲۹
ہو تو من میں جو نیکو کاری کرنے والی
ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم
تیار کر رکھا ہے۔
اس عالی مقصد پاکیزہ جذبہ پاک وصاف ذہن اور عمیق و حکیمانہ تربیت
کا اثر یہ تھا کہ ان سب ازواج مطہرات نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور ادنی درجہ کے
تردد کے اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دی مثال اور نمونہ کے طور پر
حضرت عائشہ کا وہ جواب کافی ہے جو اس سلسلہ میں انھوں نے دیا۔ آپ نے
یہ آیت ان کے سامنے تلاوت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ دیکھو جلدی نہ کرنا اپنے
والدین سے مشورہ ضرور کر لینا، انھوں نے جواب دیا، بھلا اس معاملہ میں بھی والدین
سے مشورہ کی ضرورت ہے؟ مجھے تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر مطلوب ہے
وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیویوں نے ایسا ہی کیا ہے۔
تعدد ازدواج اور اس کے نفسیاتی ، اقتصادی اور اجتماعی اثرات اور تقاضو
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کی عظیم ذمہ داری ، جہد و مجاہدہ کی زندگی
اور مسلمانوں کے اہم ترین امور سے ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں کیا، بلکہ اس سے آپ کی
الے صحیح بخاری بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری ابن ابی حاتم واحمد
………………………………………………………………………………………………………………
……سرگرمی و اولوالعزمی اور قوت و نشاط میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ ازواج مطہرات
تبلیغ اسلام اور تعلیم دین کے مقصد عظیم میں آپ کی معاون ومدد گار تھیں وہ غزوات )
میں آپ کے ہمراہ رہتی تھیں ، زخمیوں کا علاج معالجہ اور مریضوں کی تیمار داری کرتی
تھیں، آپ کی گھر یلو اور معاشرتی زندگی کا ایک تہائی حصہ اور اس کے علاوہ اور دیتے
احکام و تعلیمات ازواج مطہرات ہی کی رہین منت ہیں، اور سلمانوں نے نے ان کو
باقاعدہ ان سے سیکھا، یاد کیا، اور دوسروں کو بتایا اور سکھایا ہے۔
اس سلسلہ میں صرف حضرت عائشہ کا نام لے لینا کافی ہے، جن کے متعلق
فن علم الرجال اور طبقات کے امام ذہبی (م ) نے اپنی مشہور کتاب
تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ :۔
وہ فقہائے صحابہ میں بھی سب سے ممتاز تھیں، فقہائے صحابہ مسائل
میں ان سے رجوع کرتے تھے، قلبیعہ بنت زویر نے سے روایت ہے کہ
حضرت عائشہ مسائل سے سب سے زیادہ واقف تھیں، اکابر صحابہ ان سے
مسائل دریافت کیا کرتے تھے ابو موسی کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی حدیث کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تو عائشہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے اور ان کے پاس اس کا علم ضرور ہوتا
لے تعدد ازدواج اور اس کی حکمتوں اور مصلحتوں اور اس کے متعلقہ حالات اور تقاضوں پر
مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اپنی نفیس کتاب رحمتہ للعالمین کی دوسری جلد
میں بہت اچھی روشنی ڈالی ہے (دیکھئے ص ۱۴ ۱۴۴) مصر کے مشہور فاضل عباس محمد انعقاد نے اپنی کتاب
عبقری محمد میں تعدد ازدواج اور اسباب تعدد زوجاتہ” کے عنوان کے تحت اچھا کلام کیا ہے۔
…………………………………………………………………………………………………………
۵۵۸
حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے قرآن مجید ، حلال و حرام، فرائض
و احکام ، اشعار تاریخ عرب اور انساب سے ان سے زیادہ کسی کو واقفت
نہیں پایا۔
جہاں تک مکارم اخلاق، عالی ہمتی، جود و سخا ہمدردی و خواری اور شفقت
و دلداری کا تعلق ہے، اس کے متعلق جتنا بھی کہا جائے کم ہی ہوگا، اس سلسلہ میں وہ
روایت کافی ہوگی جو ہشام نے اپنے والد سے نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ معاویہ رضی اللہ
عنہ نے حضرت عائشہ کو ایک لاکھ درہم بھیج بخدا ایک مہینہ بھی نہیں گذرا تھا کہ
حضرت عائشہ یہ اہل حاجت پر اس کو تقسیم کرکے فارغ ہوگئیں ان کی باندی نے
کہا کہ اگر آپ اس میں ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اچھا تھا، کہنے لگیں کہ
تم نے اس وقت یاد نہ دلا دیا ؟ اس وقت حضرت عائشہ یہ روزہ سے تھیں۔
اس مسئلہ نے مغرب کے بہت سے اہل فکر اور متشرقین کے ذہن و دماغ کو الجھا
رکھا ہے، اور اس کا سبلب صرف یہ ہے کہ انھوں نے ممالک عرب میں اور اسلامی شریعیت
میں ازدواجی زندگی کے مخصوص نظام کو مغربی تصورات اور حالات و عادات او
رسم و رواج کا پابند بنانا چاہا ہے، انھوں نے مغرب کے پیمانوں کو جو ایک خاص
تہذیب اور سوسائٹی کی پیدا وار ہیں) اس صورت حال پر مسلط کرنے کی کوشش
کی ہے، جو فطرت سلیم اور عربی ماحول کے عین مطابق تھی اور جس کے پیچھے مختلف
اخلاقی اور سماجی مصالح کار فرما تھے، اور جس کی خدا کی طرف سے اجازت بھی تھی
لا تذکرة الحفاظ ج اص ۲۸ شائع کرده دار احياء التراث العربي ه ايضا مت
ه ايضا – اضافه از روایت ام ذره .
………………………………………………………………………………………………………………
۵۵۸
حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے قرآن مجید ، حلال و حرام، فرائض
و احکام ، اشعار تاریخ عرب اور انساب سے ان سے زیادہ کسی کو واقفت
نہیں پایا۔
جہاں تک مکارم اخلاق، عالی ہمتی، جود و سخا ہمدردی و خواری اور شفقت
و دلداری کا تعلق ہے، اس کے متعلق جتنا بھی کہا جائے کم ہی ہوگا، اس سلسلہ میں وہ
روایت کافی ہوگی جو ہشام نے اپنے والد سے نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ معاویہ رضی اللہ
عنہ نے حضرت عائشہ کو ایک لاکھ درہم بھیج بخدا ایک مہینہ بھی نہیں گذرا تھا کہ
حضرت عائشہ یہ اہل حاجت پر اس کو تقسیم کرکے فارغ ہوگئیں ان کی باندی نے
کہا کہ اگر آپ اس میں ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اچھا تھا، کہنے لگیں کہ
تم نے اس وقت یاد نہ دلا دیا ؟ اس وقت حضرت عائشہ یہ روزہ سے تھیں۔
اس مسئلہ نے مغرب کے بہت سے اہل فکر اور متشرقین کے ذہن و دماغ کو الجھا
رکھا ہے، اور اس کا سبلب صرف یہ ہے کہ انھوں نے ممالک عرب میں اور اسلامی شریعیت
میں ازدواجی زندگی کے مخصوص نظام کو مغربی تصورات اور حالات و عادات او
رسم و رواج کا پابند بنانا چاہا ہے، انھوں نے مغرب کے پیمانوں کو جو ایک خاص
تہذیب اور سوسائٹی کی پیدا وار ہیں) اس صورت حال پر مسلط کرنے کی کوشش
کی ہے، جو فطرت سلیم اور عربی ماحول کے عین مطابق تھی اور جس کے پیچھے مختلف
اخلاقی اور سماجی مصالح کار فرما تھے، اور جس کی خدا کی طرف سے اجازت بھی تھی
لا تذکرة الحفاظ ج اص ۲۸ شائع کرده دار احياء التراث العربي ه ايضا مت
ه ايضا – اضافه از روایت ام ذره .
………………………………………………………………………………………………………………
۵۶۰
اس کے علاوہ تعدد ازدواج کی وہ قباحت جو آج مغرب میں ایک بدیہی
حقیقت بن گئی ہے، اور اہل مغرب نے اس کو آنکھ بند کرکے تسلیم کرلیا ہے کوئی ایسی
قباحت نہیں جو صدیوں اور نسلوں تک قائم رہے، یہ نہ طے شدہ علمی اصولوں پر قائم
ہے نہ انسان کی فطرت سلیم کے مطابق ہے، یہ دراصل ایک خیالی اور جذباتی قبات
ہے، جو پر جوش اور طاقتور پروپیگینڈہ اور شہیر کے بل پر قائم ہے اور اس کا پورا
امکان ہے کہ زمانہ کی رفتار اور اقتصادی، سماجی اور تربیتی رجحانات اور حالات
کی تبدیلی کے ساتھ نہ صرف اس کا زور کم ہو جائے بلکہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے ۔
)FUTURE SHOCK( نے اپنی نی کتاب )ALWIN TOFFLER( ایک مغربی مصنف
میں جس نے مغرب کے علمی حلقوں میں ایک ہلچل مچادی ہے، اس ذہنی و سماجی تبدیلی کی طرف
اشارے بھی کئے ہیں، جس کا مستقبل قریب میں امکان ہے۔
آپ کی اولاد و احفاد
حضرت خدیجہ سے آپ کے ایک صاحبزادے القاسم پیدا ہوئے ان ہی
کے نام پر آپ کی کنیت تھی، ان کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا ، اس کے بعد
بالترتیب حضرت زینب حضرت رقیہ ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمه
رضی اللہ عنہن پیدا ہوئیں، صاحبزادوں میں ، حضرت عبداللہ رضہ حضرت طبیب اور
حضرت طاہر کے بارے میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے ان کو تین شمار کیا ہے
لیکن علامہ ابن القیم کی تحقیق یہ ہے کہ طیب و طاہر عبداللہ کے نقب تھے،
ALWIN TOFFLER, FUTURE SHOCK, BANTAM BOOKS INC, NEW YORK. 1970
له
………………………………………………………………………………………………………………
یہ سب اولاد حضرت خدیجہ سے تھیں لیے
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی سب سے زیادہ محبوب صاحبزادی
تھیں، آپ نے ان ہی کے لئے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ جنت میں عورتوں کی سردار ہوں گی ہے
آپ نے بھی فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جس بات سے اُسے تکلیف ہوتی ہے
اس سے مجھے ہوتی ہے، اہل بیت میں سب سے پہلے آپ ہی اس دنیا سے رخصت
ہوئیں اور آپ سے جاملیں۔
ماریہ قبطیہ سے آپ کے ایک صاحبزادے ابراہیم نہوے، ان کی وفات بھی
بچپن میں اس وقت ہوئی جب وہ اپنے پالنے میں تھے، ان کی وفات پر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے :-
تدمع العين ويحزن القلب آنکھیں اشک بار ہیں اور دل
ولا نقول ما يسخط الرب نور لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے
وانا بك يا ابراهيم لمحزونون جو رب کو ناراض کرنے والی ہوا
ہے
ابراہیم ! ہم تم پر غمزدہ ہیں۔
ان کے انتقال پر سورج گرہن ہو گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ ابراہیم کے انتقال
کی وجہ سے سورج گرہن ہو گیا ہے، آپ نے اس موقع پر صحابہ کو جمع کر کے ان سے
خطاب فرمایا، اور کہا کہ سورج اور چاند الله عز وجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں
ہیں جن کو کسی کی موت سے گرہن نہیں ہوتا۔
۵۱۶
له زاد المعادن امت ۲ – ۲۶ ۵۲ جامع الترمذی ج ۲ ص ۳۲ ۵۳ متفق علیہ.
ے صحیح مسلم بروایت اسماء بنت یزیدین اسکی تفصیل کے ساتھ ہے صحیح مسلم کتاب الکسون ۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۶۲
غالیانہ خوش عقیدگی اور شخصیت پرستی کا استیصال
رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم نے ساہتمام کے ساتھ صحابہ کرام کوجمع کر کے
ان سے خطاب فرمایا، اور اس کی وضاحت فرمائی کہ سورج اور چاند کے گرین اور
کائنات کی کسی تبدیلی کو کسی کی موت وحیات سے کوئی تعلق نہیں، خواہ اس کا کچھ
رتبہ ہو اور اس کوکسی بڑی سے بڑی محبوب شخصیت سے نسبت ہوا یہ کل ہم پرستی
بلکہ غالبا نه خوش عقیدگی اور شخصیت پرستی کی جڑ کاٹتا ہے دنیا کا کوئی دائی کوئی
پیشوا کسی تحریک کا علمبردار کسی انسانی جماعت کا قائد ہوتا توکم سے کم درجہ یہ تھا کہ
اگر اسی خیال کی تردید نہ کرتا تو خاموش رہتا کہ یہ بات ہماری تحریک کے مفاد میں جاتی
ہے ہیں نے تو کہلوائی بھی نہیں، خود بخود لوگوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ سورج گرین
پیغمبر خدا کے فرزند عزیز کے انتقال پر ہوا ہے، اس کی تردید کچھ ضروری نہیں ہے۔
یہی فرق ہے پیغمبر اور غر ستمبر یں کہ سیاسی ذہن رکھنے والے جن واقعات سے
فائدہ اٹھاتے ہیں (خواہ وہ واقعات غیر اختیاری طریقہ پر پیش آئے ہوں ) پیغمبر
عقیدہ کا فساد اور دین کا نقصان گوارہ نہیں کرتا، وہ ان سے فائدہ اٹھانا حرام
اور منصب نبوت کے منافی سمجھتا ہے، اس موقعہ پر اگر آپ خاموشی اختیار فرماتے تو
اس سے دنیا میں کوئی عظیم فساد برپا ہونے والا نہیں تھا لیکن اس سے عقیدہ توحید
پر اثر پڑنا، اور شخصیت پرستی اور تصرف الکائنات کے امکان کا دروازہ کھل جاتا
اور یہ ذہن انسانی کا وہ انحراف تھا جو بہت خطرناک ہے، اور ایک نبی برحق کے
لئے اس کا علاج اور سدباب ضروری تھا۔
………………………………………………………………………………………………………………
حضرت زینب کے جو حضرت خدیجہ پن کے بھانجے ابو العاص بن ربیع کی
زوجیت میں تھیں، ایک صاحبزادے ہوئے جن کا نام علی تھا، اور ایک صاحبراوی
جن کا نام امامہ تھا حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان سے ہوئی اور ان سے
ایک لڑکے عبداللہ ہوئے حضرت رقیہ کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ بدر میں
تھے، اور حضرت عثمان خان کی تیمار داری میں مشغول تھے، ان کے بعد انھوں نے ان کی
بہن ام کلثوم سے شادی کی اسی لئے ان کا لقب ” ذوالنورین پڑ گیا۔ ان کی وفات
بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ہی میں ہوئی۔
حضرت فاطمہ کی شادی ابو طالب کے صاحبزادے او حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
کے ابن عم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوئی، ان کے ایک صاحبزادے حسن و جن کے
نام پراں کی گیت تھی، اور دوسرے صاحبزادے سین تھے جن کے متعلق رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ وہ اس دنیا میں میرے دو پھول ہو نے ان دونوں
کے بارے میں آپ نے یہ بی ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں اہل جنت میں نوجوانوں کے مزار
ہوں گے ہے
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی اولاد میں خوب برکت عطا فرمائی، اور اسلام
اور مسلمانوں کو ان سے عظیم الشان فائدہ پہونچا، ان میں بڑے بڑے سردار اور قائد
علم و دین اور جہاد اور زہد و تقوی کے امام پیدا ہوئے اور انھوں نے تاریخ اسلام
کے مختلف ادوار میں بڑے نازک وقتوں میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دیا علم جہاد بلند کیا، حضرت فاطمہ کی حضرت علی پینے سے دو صاحبزادیاں زینب تنے اور
ملہ صحیح بخاری کتاب المناقب باب مناقب الحسن والحسین ۲ ترندی ج ۲ ص ۲۴۳
………………………………………………………………………………………………………………
ام کلثوم بھی تھیں زینب کی شادی ان کے ابن عم عبد اللر من جعفر بن ابی طالب سے ہوئی
جن کا عرب کے چند سخی ترین افراد میں شمار تھا، ان سے علی اور عون دو صاحبزادے
پیدا ہوئے ام کلثوم کی شادی حصہ دم کی شادی حضرت عمر بن الخطاب سے ہوئی اور ان سے ایک
صاحبزادے زید ہوئے نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اولاد کا آپ کی حیات ہی میں انتقال
ہوا ہے حضرت فاطمہ کے جن کا انتقال آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا۔ نے
له ماخوذ از سیرت ابن کثیر ج ۲ ص ۵۸۲۰۵۸ و دیگر مراجع سے زاد المعاد از علامہ ابن قیم ۳۱۷