ازواجِ مطہرات و اولادِ اطہار

ازواجِ مطہرات

آپ کی ازواجِ مطہرات میں سب سے پہلا نام حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا ہے۔ یہ آپ کی نبوت سے قبل، جب ان کی عمر چالیس سال تھی، آپ کی زوجیت میں آئیں۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کی نبوت کے بعد پیش آنے والی مشکلات میں آپ کی پوری مدد کی اور ہر بار قربانی میں آپ کی رفاقت و شرکت فرمائی، اور اپنی ہمدردی و محبت اور اپنے مال و دولت، ہر طریقہ سے آپ کی قلبی تسکین کا سامان فراہم کیا۔

ان کی وفات ہجرت سے تین سال قبل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد، سیدنا ابراہیمؓ کو چھوڑ کر، حضرت خدیجہؓ سے ہے۔ آپ تعریف اور احسان شناسی کے ساتھ ان کا ہمیشہ ذکر فرماتے رہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی بکری ذبح کی جاتی تو آپ اس کے مختلف حصے تقسیم کر کے حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کے پاس بھجواتے۔

متفق علیہ۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہؓ پر، حالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں۔

ان کی وفات کے کچھ دن بعد حضرت سودہ بنت زمعہؓ کو آپ کی رفیقۂ حیات بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت عائشہؓ سے نکاح کیا، جو آپ کی بہت عزیز و محبوب بیوی تھیں۔ امت کی خواتین میں فقہ و علمِ دین میں کوئی ان کا ہم پایہ نہ تھا۔ اکابر صحابہؓ مختلف مسائل میں ان سے رجوع فرماتے اور ان کا فتویٰ اور رائے چاہتے تھے۔

اس کے بعد آپ نے حضرت عمرؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہؓ سے نکاح فرمایا۔ اس کے بعد حضرت زینب بنت خزیمہؓ سے شادی ہوئی، جو شادی کے دو ماہ بعد وفات پا گئیں۔ پھر حضرت ام سلمہؓ آپ کی زوجیت میں آئیں؛ ان کی وفات ازواجِ مطہرات میں سب کے بعد ہوئی۔

پھر آپ نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے شادی کی۔ یہ آپ کی پھوپھی امیمہ کی صاحبزادی تھیں۔ اس کے بعد آپ نے حضرت جویریہ بنت الحارثؓ سے شادی کی، جو قبیلہ بنو مصطلق سے تعلق رکھتی تھیں۔ پھر ابو سفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہؓ سے، اور اس کے بعد قبیلہ بنی النضیر کے سردار حُیَیّ بن اخطب کی صاحبزادی حضرت صفیہؓ سے شادی ہوئی۔ حُیَیّ بن اخطب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون بن عمران علیہ السلام کی اولاد میں تھے۔

اس کے بعد حضرت میمونہ بنت الحارث الہلالیہؓ سے شادی ہوئی۔ ازواجِ مطہرات میں سب سے آخر میں انہی کو یہ شرف حاصل ہوا۔

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی ازواجِ مطہرات میں سے نو موجود تھیں۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ کا آپ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ حضرت عائشہؓ کو مستثنیٰ کر کے باقی سب ازواج پہلے شادی شدہ تھیں۔

آپ کی وفات کے وقت آپ کی دو باندیاں موجود تھیں۔ ایک ماریہ بنت شمعون تھیں، جو مصر کے قبطی خاندان کی فرد تھیں اور جنہیں مصر کے حاکم مقوقس نے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا؛ وہ آپ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیمؓ کی والدہ تھیں۔ دوسری ریحانہ بنت زید تھیں، جو قبیلہ بنی النضیر کی خاتون تھیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے ان کو آزاد فرما دیا اور پھر ان کو اپنی زوجیت میں قبول کیا۔

زاد المعاد، تلخیص کے ساتھ۔ ایک روایت یہ ہے کہ حضرت ریحانہؓ بنی قریظہ میں سے تھیں۔

امہات المؤمنین کا مقام

اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد ازواجِ مطہرات سے شادی مسلمانوں پر حرام قرار دے دی، اس لیے کہ وہ امہات المؤمنین کا درجہ رکھتی تھیں۔ اس تعلقِ زوجیت کے ساتھ اس مقدس اور نازک رشتہ کی پوری حفاظت و رعایت نہیں ہو سکتی تھی جو امت کو اپنے نبی سے دائمی طور پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا
اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو، اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے ان کے بعد کبھی نکاح کرو۔ بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
سورۃ الأحزاب، آیت ۵۳

ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ آپ کی وفات کے بعد کسی دوسرے کے لیے آپ کی ازواجِ مطہرات سے نکاح کرنا حرام ہے، اس لیے کہ دنیا و آخرت دونوں جگہ وہ آپ کی بیبیاں اور اہلِ ایمان کی مائیں ہیں۔

تعددِ ازدواج پر ایک نظر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمرِ مبارک کا ایک حصہ تجرد میں گزارا۔ پچیس سال کی وہ مدت، جو نوجوانی کا خاص زمانہ ہوتا ہے، آپ کامل فطرتِ انسانی، عربی جوانمردی اور جسمانی صحت کا بہترین و اعلیٰ پیکر تھے۔ بادیۂ عرب میں آپ کی پرورش ہوئی تھی۔ تہذیب و تمدن کے امراض و عیوب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی تھی۔ شہسواری اور مردانگی کی اعلیٰ صفات سے آپ کو حصہ وافر ملا تھا، جن کی عربوں کی نگاہ میں بڑی اہمیت تھی اور جن کو علمِ نفس اور اخلاقیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔

آپ کے بدترین دشمنوں کو بھی اس زمانہ میں، جو نبوت سے قبل آپ کا بہت اہم اور نازک دور تھا، آپ پر حرف گیری اور انگشت نمائی کا کوئی موقع نہ ملا۔ نہ آپ کی نبوت کے بعد آج تک کسی نے اس سلسلہ میں آپ پر نکتہ چینی کی۔ آپ طہارت و عفت، پاکیزگیِ قلب و نظر، معصومیت و طہارت کی اعلیٰ مثال تھے اور ہر اس کمزوری سے بہت دور تھے جو آپ کے شایانِ شان نہ تھی۔

پچیس سال کی عمر میں آپ نے سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ سے نکاح کیا، جو بیوہ تھیں اور چالیس سال کی عمر تھی۔ اس سے قبل ان کی دو شادیاں ہو چکی تھیں اور وہ صاحبِ اولاد تھیں۔ مشہور قول کے مطابق آپ کے اور ان کے درمیان پندرہ سال کا فرق تھا۔

اس کے بعد دوسری شادی آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہؓ سے اس وقت کی جبکہ آپ کی عمرِ مبارک پچاس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ ان کے شوہر کا حبشہ میں ایک مہاجر مسلمان کی حیثیت سے انتقال ہو گیا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے علاوہ آپ نے کسی دوشیزہ اور غیر شادی شدہ خاتون سے نکاح نہیں فرمایا۔

اس کے علاوہ جتنی شادیاں آپ نے فرمائیں، ان میں دین اور دعوتِ دین کی کوئی مصلحت، فراخ قلبی و عالی ظرفی، مکارمِ اخلاق، مسلمانوں کا کوئی مفادِ عام یا کسی بڑے اجتماعی خطرہ اور مفسدہ کا سدِّ باب پیشِ نظر تھا۔ رشتوں اور ازدواجی قرابتوں کی عربوں کی قبائلی اور سماجی زندگی میں جس قدر اہمیت تھی، اتنی کسی اور سوسائٹی اور سماج میں نہ تھی۔ اس لیے یہ شادیاں اور نئی قرابتیں اسلامی دعوت اور اسلام کے مثالی معاشرہ کی تاریخ میں خون بہانے سے حفاظت اور عربی قبائل کے ضرر سے بچاؤ کا ایک بڑا ذریعہ تھیں۔

مزید یہ کہ ان ازواجِ مطہرات کے ساتھ آپ کی زندگی کوئی عیش و آرام، مرفہ الحالی، لذتِ کام و دہن کی زندگی نہ تھی جو تعددِ ازدواج میں بہت سے لوگوں کے پیشِ نظر رہتی ہے۔ وہ اس درجہ زہد و تقشف، ایثار و قناعت کی زندگی تھی جس کی استطاعت قدیم و جدید دور کے بڑے سے بڑے حوصلہ مند اور اولوالعزم افراد اور نامور زہاد میں بھی نہیں ہے۔ اس کی کچھ جھلکیاں اور نمونے اخلاق و شمائل کے حصے میں پیش کیے جائیں گے۔ تاہم ایک انصاف پسند شخص کے لیے قرآنِ مجید کی یہی ایک آیت کافی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ۝ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے: اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو تو تم میں جو نیکوکار ہیں ان کے لیے اللہ نے اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔
سورۃ الأحزاب، آیات ۲۸-۲۹

اس عالی مقصد، پاکیزہ جذبہ، پاک و صاف ذہن اور عمیق و حکیمانہ تربیت کا اثر یہ تھا کہ ان سب ازواجِ مطہرات نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور ادنیٰ درجہ کے تردد کے اللہ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کو ترجیح دی۔

مثال کے طور پر حضرت عائشہؓ کا وہ جواب کافی ہے جو اس سلسلہ میں انہوں نے دیا۔ آپ نے یہ آیت ان کے سامنے تلاوت کرنے کے بعد فرمایا کہ جلدی نہ کرنا، اپنے والدین سے مشورہ ضرور کر لینا۔ انہوں نے جواب دیا: بھلا اس معاملہ میں بھی والدین سے مشورہ کی ضرورت ہے؟ مجھے تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر مطلوب ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیویوں نے ایسا ہی کیا۔

تعددِ ازدواج اور اس کے نفسیاتی، اقتصادی اور اجتماعی اثرات و تقاضوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کی عظیم ذمہ داری، جہد و مجاہدہ کی زندگی اور مسلمانوں کے اہم ترین امور سے ایک لمحہ کے لیے غافل نہیں کیا، بلکہ اس سے آپ کی سرگرمی و اولوالعزمی اور قوت و نشاط میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔

ازواجِ مطہرات تبلیغِ اسلام اور تعلیمِ دین کے مقصدِ عظیم میں آپ کی معاون و مددگار تھیں۔ وہ غزوات میں آپ کے ہمراہ رہتی تھیں، زخمیوں کا علاج معالجہ اور مریضوں کی تیمار داری کرتی تھیں۔ آپ کی گھریلو اور معاشرتی زندگی کا ایک تہائی حصہ اور اس کے علاوہ بہت سے احکام و تعلیمات ازواجِ مطہرات ہی کی رہینِ منت ہیں، اور مسلمانوں نے ان کو باقاعدہ ان سے سیکھا، یاد کیا، اور دوسروں کو بتایا اور سکھایا ہے۔

حضرت عائشہؓ: علم، فقہ اور سخاوت

اس سلسلہ میں صرف حضرت عائشہؓ کا نام لے لینا کافی ہے۔ فنِ علم الرجال اور طبقات کے امام ذہبیؒ نے اپنی مشہور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ وہ فقہائے صحابہ میں بھی سب سے ممتاز تھیں اور فقہائے صحابہ مسائل میں ان سے رجوع کرتے تھے۔

قبیصہ بن ذؤیب سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ مسائل سے سب سے زیادہ واقف تھیں اور اکابر صحابہ ان سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں: ہم اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی حدیث کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تو حضرت عائشہؓ سے دریافت کرتے اور ان کے پاس اس کا علم ضرور ہوتا۔

حضرت حسانؓ کہتے ہیں کہ میں نے قرآنِ مجید، حلال و حرام، فرائض و احکام، اشعار، تاریخِ عرب اور انساب میں ان سے زیادہ کسی کو واقف نہیں پایا۔

جہاں تک مکارمِ اخلاق، عالی ہمتی، جود و سخا، ہمدردی و غم خواری اور شفقت و دل داری کا تعلق ہے، اس کے متعلق جتنا بھی کہا جائے کم ہے۔ ہشام نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ نے حضرت عائشہؓ کو ایک لاکھ درہم بھیجے۔ بخدا، ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ حضرت عائشہؓ اہلِ حاجت میں اس کو تقسیم کر کے فارغ ہو گئیں۔ ان کی باندی نے کہا: اگر آپ اس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اچھا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم نے اس وقت یاد نہ دلایا؟ اس وقت حضرت عائشہؓ روزہ سے تھیں۔

تذکرۃ الحفاظ؛ صحیح بخاری؛ ابن ابی حاتم؛ مسند احمد۔

مغربی نقطۂ نظر پر مصنف کا تبصرہ

مصنف لکھتے ہیں کہ تعددِ ازدواج کے مسئلہ نے مغرب کے بہت سے اہلِ فکر اور مستشرقین کے ذہن و دماغ کو الجھا رکھا ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے ممالکِ عرب اور اسلامی شریعت میں ازدواجی زندگی کے مخصوص نظام کو مغربی تصورات، حالات، عادات اور رسم و رواج کا پابند بنانا چاہا ہے۔ انہوں نے مغرب کے پیمانوں کو، جو ایک خاص تہذیب اور سوسائٹی کی پیداوار ہیں، اس صورتِ حال پر مسلط کرنے کی کوشش کی جو فطرتِ سلیم اور عربی ماحول کے عین مطابق تھی اور جس کے پیچھے مختلف اخلاقی اور سماجی مصالح کارفرما تھے اور جس کی خدا کی طرف سے اجازت بھی تھی۔

مصنف کے نزدیک مغربی مفکرین اور مغربی مصنفین کی کتابوں کا ایک کمزور پہلو یہ ہے کہ وہ پہلے مغرب کو میزان قرار دیتے ہیں اور پھر جو چیز اس کے خلاف ہو اس کے بارے میں فیصلے صادر کرتے ہیں۔ انگریز مصنف مسٹر R. V. C. Bodley نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے سلسلہ میں اس مغربی احساس اور طرزِ فکر پر صراحت و انصاف کے ساتھ تنقید کی ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کو نہ تو مغرب کے پیمانہ سے جانچنے کی ضرورت ہے اور نہ ان تمام قواعد کے نقطۂ نظر سے جنہیں عیسائیت نے جنم دیا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ عیسائی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسے ملک میں اور ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کے اپنے ضابطۂ اخلاق کا ہی چلن تھا۔ اس کے باوجود یورپ کے ضابطۂ اخلاق کو عربوں کے ضابطۂ اخلاق سے بہتر سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مغرب کے پاس مشرق کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن اپنے طریقۂ کار کو بہتر اور اپنے ضابطۂ اخلاق کو اعلیٰ ثابت کرنے کے لیے تو انہیں بھی بہت چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا انہیں دوسروں کے مذہب و تمدن پر تنقید کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

R. V. C. Bodley, The Messenger: The Life of Mohammad, London, 1946, pp. 202-203.

اس کے علاوہ مصنف یہ بھی لکھتے ہیں کہ تعددِ ازدواج کی وہ قباحت جو آج مغرب میں ایک بدیہی حقیقت بن گئی ہے اور اہلِ مغرب نے اسے آنکھ بند کر کے تسلیم کر لیا ہے، کوئی ایسی قباحت نہیں جو صدیوں اور نسلوں تک قائم رہے۔ مصنف کے نزدیک یہ نہ کسی طے شدہ علمی اصول پر قائم ہے اور نہ فطرتِ انسانی کے مطابق، بلکہ ایک خیالی اور جذباتی تصور ہے جسے طاقتور پروپیگنڈا نے تقویت دی ہے۔

مصنف مزید لکھتے ہیں کہ زمانہ کی رفتار اور اقتصادی، سماجی اور تربیتی رجحانات و حالات کی تبدیلی کے ساتھ اس تصور میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اسی ضمن میں وہ Alvin Toffler کی کتاب Future Shock کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں مستقبل قریب کی ذہنی و سماجی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Alvin Toffler, Future Shock, Bantam Books Inc., New York, 1970.

آپ کی اولاد و احفاد

حضرت خدیجہؓ سے آپ کے ایک صاحبزادے القاسم پیدا ہوئے۔ انہی کے نام پر آپ کی کنیت تھی۔ ان کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا۔ اس کے بعد بالترتیب حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔

صاحبزادوں میں حضرت عبداللہؓ، طیب اور طاہر کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے ان کو تین شمار کیا ہے، لیکن علامہ ابن القیمؒ کی تحقیق یہ ہے کہ طیب و طاہر حضرت عبداللہؓ کے لقب تھے۔ یہ سب اولاد حضرت خدیجہؓ سے تھیں۔

حضرت فاطمہؓ آپ کی سب سے زیادہ محبوب صاحبزادی تھیں۔ آپ نے انہی کے لیے فرمایا تھا کہ وہ جنت میں عورتوں کی سردار ہوں گی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے؛ جس بات سے اسے تکلیف ہوتی ہے، اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اہلِ بیت میں سب سے پہلے آپ ہی اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور آپ سے جا ملیں۔

ماریہ قبطیہؓ سے آپ کے ایک صاحبزادے ابراہیمؓ ہوئے۔ ان کی وفات بھی بچپن میں، اس وقت ہوئی جب وہ اپنے پالنے میں تھے۔ ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَإِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ

آنکھیں اشک بار ہیں اور دل غمگین ہے، لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو رب کو ناراض کرنے والی ہو۔ ابراہیم! ہم تم پر غمزدہ ہیں۔

ان کے انتقال کے وقت سورج گرہن ہو گیا۔ صحابہؓ نے خیال کیا کہ ابراہیمؓ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کر کے خطاب فرمایا اور واضح کیا کہ سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور ان کو کسی کی موت سے گرہن نہیں ہوتا۔

زاد المعاد؛ جامع الترمذی؛ متفق علیہ؛ صحیح مسلم، کتاب الکسوف۔

غالیانہ خوش عقیدگی اور شخصیت پرستی کا استیصال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہتمام صحابۂ کرامؓ کو جمع کر کے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ سورج اور چاند کے گرہن اور کائنات کی کسی تبدیلی کو کسی کی موت و حیات سے کوئی تعلق نہیں، خواہ اس کا کچھ بھی رتبہ ہو اور اس کو کسی بڑی سے بڑی محبوب شخصیت سے نسبت ہو۔

مصنف لکھتے ہیں کہ یہ وہم پرستی، غالیانہ خوش عقیدگی اور شخصیت پرستی کی جڑ کاٹتا ہے۔ دنیا کا کوئی داعی، کوئی پیشوا، کسی تحریک کا علمبردار یا کسی انسانی جماعت کا قائد ہوتا تو کم سے کم درجہ یہ تھا کہ اگر اس خیال کی تردید نہ کرتا تو خاموش رہتا، کیونکہ یہ بات اس کی تحریک کے مفاد میں جاتی۔ یہاں کسی نے یہ بات کہلوائی بھی نہ تھی؛ لوگوں کے دل میں خود بخود یہ خیال آیا تھا کہ سورج گرہن پیغمبرِ خدا کے فرزندِ عزیز کے انتقال پر ہوا ہے۔

یہی فرق ہے پیغمبر اور غیر پیغمبر میں۔ سیاسی ذہن رکھنے والے جن واقعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خواہ وہ واقعات غیر اختیاری طور پر پیش آئے ہوں، پیغمبر عقیدہ کا فساد اور دین کا نقصان گوارا نہیں کرتا۔ وہ ایسے فائدہ کو حرام اور منصبِ نبوت کے منافی سمجھتا ہے۔ اگر یہاں خاموشی اختیار کی جاتی تو اس سے عقیدۂ توحید پر اثر پڑتا اور شخصیت پرستی اور تصرفِ کائنات کے امکان کا دروازہ کھل جاتا۔ یہ ذہنِ انسانی کا ایک خطرناک انحراف تھا اور ایک نبیِ برحق کے لیے اس کا علاج اور سدِّ باب ضروری تھا۔

صاحبزادیوں کی اولاد

حضرت زینبؓ، جو حضرت خدیجہؓ کے بھانجے ابو العاص بن ربیع کی زوجیت میں تھیں، ان کے ایک صاحبزادے ہوئے جن کا نام علی تھا، اور ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام امامہ تھا۔

حضرت رقیہؓ کی شادی حضرت عثمانؓ سے ہوئی اور ان سے ایک لڑکے عبداللہ ہوئے۔ حضرت رقیہؓ کا انتقال اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے اور حضرت عثمانؓ ان کی تیمار داری میں مشغول تھے۔ ان کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان کی بہن حضرت ام کلثومؓ سے شادی کی، اسی لیے ان کا لقب ذوالنورین پڑ گیا۔ حضرت ام کلثومؓ کی وفات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ہی میں ہوئی۔

حضرت فاطمہؓ کی شادی ابو طالب کے صاحبزادے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ابنِ عم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوئی۔ ان کے ایک صاحبزادے حضرت حسنؓ تھے جن کے نام پر حضرت علیؓ کی کنیت تھی، اور دوسرے صاحبزادے حضرت حسینؓ تھے۔ ان دونوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ یہ دونوں اہلِ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی اولاد میں خوب برکت عطا فرمائی اور اسلام اور مسلمانوں کو ان سے عظیم الشان فائدہ پہنچا۔ ان میں بڑے بڑے سردار و قائد، علم و دین، جہاد، زہد و تقویٰ کے امام پیدا ہوئے اور انہوں نے تاریخِ اسلام کے مختلف ادوار میں بڑے نازک وقتوں میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دیا اور علمِ جہاد بلند کیا۔

حضرت فاطمہؓ کی حضرت علیؓ سے دو صاحبزادیاں بھی تھیں: زینبؓ اور ام کلثومؓ۔ زینبؓ کی شادی ان کے ابنِ عم عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؓ سے ہوئی، جن کا عرب کے چند سخی ترین افراد میں شمار تھا۔ ان سے علی اور عون دو صاحبزادے پیدا ہوئے۔ ام کلثومؓ کی شادی حضرت عمر بن الخطابؓ سے ہوئی اور ان سے ایک صاحبزادے زید ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اولاد کا آپ کی حیات ہی میں انتقال ہو گیا، سوائے حضرت فاطمہؓ کے، جن کا انتقال آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا۔

ماخوذ از سیرت ابن کثیر اور دیگر مراجع؛ زاد المعاد از علامہ ابن القیمؒ۔