۲۷۹
بدر کی فیصلہ کن جنگ
(سنه)
جنگ بدر کی اہمیت
ہجرت کے دوسرے سال رمضان ہی میں بدر کی وہ فیصلہ کن اور تاریخ ساز جنگ
ہوئی جس میں امت اسلامیہ کی تقدیر اور دعوت حق کے مستقبل کا فیصلہ ہوا جس پر پوری
نسل انسانی کی قسمت کا انحصار تھا۔
اس کے بعد سے آج تک مسلمانوں کو یقینی فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں
اور ان کی جتنی حکومتیں اور سلطنتیں قائم ہوئیں وہ سب اس فتح مبین کی رہین منت
ہیں جو بدر کے میدان بی اس مٹھی بھر جاعت کو حاصل ہوئی، اسی لئے اللہ تعالے نے
اس جنگ کو یوم الفرقان (فیصلہ کن دن) قرار دیا ہے۔
إن كُنتُم امنتم بالله وما اگر تم خدا پر اور اس کی نصرت)
أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِ نَا يَوْمَ الفرقان پر ایمان رکھتے ہو جو د حق و باطل
يَوْمَ التقي الجمعي میں فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ
(سوره انفال – ۴۱) بدر میں جس دن دونوں فوجوں میں
مٹھ بھیڑ ہوگئی اپنے بندے محمد پر نازل فرائی
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۰
اس جنگ کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع مل کر ابوسفیان
شام سے قریش کے ایک بڑے تجارتی کارواں کو لے کر مکہ جا رہا ہے جس میں بڑا مال و اسباب ہے
یہ وہ وقت ہے، جب مسلمانوں اور مشرکوں میں معرکہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا، اور قریش نے
اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلہ راہ حق میں رکاوٹیں ڈالنے، اور مسلمانوں کے لئے
مختلف قسم کی مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی انھوں نے اپنے سارے مالی وسائل
سامان جنگ اور ضروری اسباب اس کے لئے وقف کر رکھے تھے اور ان کے جنگی دستے
مدینہ کے حدود اور چراگاہوں تک پہونچ جاتے تھے۔
جب رسول اللہ صل الله علیه وسلم کو یہ اطلاع کی کہ ابوسفیان جو اسلام کا بد ترین
دشمن تھا، اتنے بڑے قافلے کے ساتھ آ رہا ہے تو آپ نے لوگوں کو آگے بڑھ کر اس کا سامنا
کرنے کا حکم دیا لیکن اس کا بہت زیادہ اہتمام اور فکر نہیں کی گئی اس لئے کہ وہ
بہر حال ایک تجارتی قافلہ تھا نہ کی لشکر کی فوج کشی نہ تھی۔ ہرحال
ادھر ابوسفیان کو یہ خبر پہونچی کہ رسول اللہ صل الله علیہ وسلم اس قافلہ کے
مقابلہ کے لئے مدینے سے روانہ ہو چکے ہیں تو اس نے فورا اپنا قاصد یکہ بھیجا اور قریش سے
فریاد کی کہ وہ اس کی مدد کریں ، اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکیں، جب یہ فریاد و اور
چکار کہ پہونچی تو قریش نے جنگ کی پوری تیاری شروع کر دی اور بہت تیزی کے
ساتھ ایک لشکر جرارے کو مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے ان کے سرداروں میں سے کوئی
سردار باقی نہیں بچا جو اس میں شریک نہ ہوا ہو، انھوں نے اطراف کے تمام قبائل کو
اس میں شریک کر لیا قریش کی مختلف نشانوں کے آدمی اس میں شامل تھے اور شکل کوئی باقی
تھا، یہ شکر بڑی حمیت و نخوت ، غیظ و نصب اور انتقامی جذبہ کے ساتھ روانہ ہوا۔
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۱
انصار کی پیش کش اور ان کی اطاعت شعاری و جاں نثاری
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ہوئی کہ قریش کا یہ زبردست شکر
روانہ ہوچکا ہے تو آپ نے اپنے اصحاب کرام نے مشورہ فرمایا لیکن اس وقت آپ کا
روئے سخن انصار کی طرف تھا اس لئے کہ انھوں نے آپ سے اسی بات پر بیعت کی تھی کہ
وہ مدینہ میں آپ کی پوری حفاظت اور مدد کریں گے جب آپ نے مدینہ سے روانگی کا
قصد فرمایا تو آ نے یہ علوم کرنا چاہا کہ اس وقت انصار کیا سوچ رہے ہیں پر سے پہلے
مہاجرین نے اپنی بات کہی اور بہت اچھی طرح آپ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا آپ نے
دوبارہ مشورہ کیا، مہاجرین نے پھر آپ کی تائید کی پھر جب تیسری بار آپ نے دریافت فرمایا
تو انصار کو احساس ہوا کہ آپ کا روئے سخن انصار کی طرف ہے چنانچہ سعد بن معاذ نے
فورا اس کا جواب کیا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ شاید آپ کا روئے سخن ہم لوگوں کی طرف
ہے اور آپ ہماری بات سننا چاہتے ہیں یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم شاید آپ کو
یہ خیال ہو رہا ہے کہ انصار نے صرف اپنے وطن اور اپنی سرزمین میں آپ کی نصرت کا
ذمہ لیا ہے میں انصار کی طرف سے عرض کرتا ہوں اور ان کی جانب سے یہ بات کہہ رہاہوں
کہ آپ یہاں چاہیں روانہ ہوں جس سے چاہیں تعلق فرمائیں اور جس سے چاہیں ختم کریں
ہمارے مال و دولت بین سے جتنا چاہیں لیں اور ہم کو جتنا پید ہو عطا فرمائیں اس لئے کہ
آپ کو کچھ لیں گے ہمیں اسے کہیں زیادہ محبوبے گا جو آپ چھوڑیں گے آپ کوئی حکم دیں گے تو
ہماری رائے آپ کے تابع فرمان ہوگی خدا کی قسم اگرآپ چلنا شروع کریں بیانک برای عمران
له زاد المعارج اصل ۳۷ سیرت ابن ہشام میں برک عمران کے بجائے برک العماد کا لفظ (باقی ملتے ہیں کہ
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۲
تک پہونچ جائیں تب بھی ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں گئے اور خدا کی قسم اگرآپ اس سمند
میں داخل ہو جائیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں کو دجائیں گے۔
مقداد نے کہا ہم آپ سے ایسا نہ کہیں گے جیسا موسی کی قوم نےموسی علیہ سلام
سے کہا تھا فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هُنَا فَاعِدُ، جاؤ تم اور تمہارا
رب دونوں مل کر جنگ کرو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے ہم تو آپ کے دائیں لڑیں گے
اور بائیں لڑیں گے آپ کے سامنے آکر رہیں گے اور آپ کے پچھے رہیں گے۔
جب رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم نے گفتگوسنی تو روے اور خوشی سے دیکھنے لگا
اور آپ کو اپنے صحابہ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر بڑی مسرت ہوئی، آپ نے فرمایا
سيروا وا بشر ہوا چلو اور بشارت حاصل کرو)۔
لڑکوں میں جہا دو شہادت کا شوق
جب مجاہدین میدان بدر کی طرف روانہ ہو ہے تو ایک صاحبزادہ جن کا نام
تعمیر بن ابی وقاص تھا، اور جن کی عمر سولہ سال تھی مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے
باقی ماه کا آیا ہے یہ ان کے علاقہ میں یک نام کانام ہے ایک قول یہی ہے کہ وہ چیز دیار شور کا ایک
دور دراز حصہ ہے پہلی (سیرت ابن ہشام کے شارح کہتے ہیں کہیں تغیر کی بعض کتابوں کی دیکھا ہے کہ
و ہمیشہ کا شہر ہے بہر حال وہ کوئی ایسا مقام تھا جو یہ طلبہ سے بہت دور پڑتا تھا، اور بعد مسافت کے لئے
ضرب المثل کی حیثیت رکھتا تھا، جیسے ہماری زبان میں کالے کوسوں کا پانی مکوہ قات وغیرہ کے الفاظ لے جاتے
ہیں لے سورة المائده – ۲۴ ۵۲ زاد المعارج ۱ ۳۴۳۳۴۵ بیشتر ابن ہشام جا اما با اختلاف بعض
الفانا بخاری کالاء تغير اذ تنتون ان اول نے وہ ان کے باب میں اختصاری ایر تقتل کا؟؟
………………………………………………………………………………………………………………
ان کو ڈر تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چھوٹا سمجھ کو واپس نہ فرما دیں
چنانچہ وہ آپ کی نگاہ سے بچے رہے تھے ان کے بڑے بھائی سعد بن ابی وقاص نے ان سے
چھنے کی وجہ دریافت کی تو عمیر نے کہاکہ مجھے ڈر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مجھے کمسن سمجھ کر واپس نہ پلٹا دیں میں اس جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں شاید
اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، ان کو جس کا ڈر تھا یہی ہوا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ وہ ابھی جنگ کی شر کو نہیں پہونچے ہیں ان کو
واپس کرنا چاہا تو وہ رونےلگے یہ دیکھ کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات پڑا اور
آپ نے انھیں شرکت کی اجازت دے دی چنانچہ انھوں نے اسی معرکہ میں جازم
شہادت نوش کیا اور اپنی مراد کو پہونچے لیے
مسلمانوں اور کافروں کی جنگی طاقت کا زبردست فرق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے
آپ کی ہمرکابی میں صرف تین سوئیز مسلمان تھے سامان جنگ کی قلت کا اندازہ اس
کیا جا سکتا ہے کہ مجاہدین اسلام کے پاس صرف دو گھوڑے اور شہر اونٹ تھے
ایک ایک اونٹ پر دو دو تین تین آدمی باری باری سے بیٹھتے تھے کہ اس میں پالا راؤ
عام سپاہی اور افسر و ماتحت کی کوئی تفریق نہ تھی، اس نظام میں خود رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نفس انہیں حضرت ابوبکر و عم رضی اللہ عنہا اور اجزا صحاسب
شریک تھے۔
ے دیکھئے اسد الغابہ ۴ ۱۳۵۰ ۵۲ زاد المعارج ۱ ص ۳۲
………………………………………………………………………………………………………………
عمومی پرچم جہاد ( الوا) مصعب بن عمیر کو مہاجرین کا پرچم (رایة)
حضرت علی کم اللہ وجہ اور انصار کا پرچم سعد بن معاذ کو عطا ہوا۔
جب لوسفیان کو یہ اطلاع ملی کہ نظر اسلام روانہ ہوچکاہے وہ بچے
ساحل سمندر کی طرف آگیا، اور یہ اطمینان کر کے کہ اب اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے
اور قافلہ بھی محفوظ ہے قریش کو یہ پیغام بھیجا کہ تم لوگ واپس لوٹ جاؤ اس لئے
کہ تم قافلہ کی حفاظت کے لئے آئے تھے اور یہ مقصد حاصل ہو چکا ہے یہ سن کر
ان لوگوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا لیکن ابوجہل کی ضد نے ان کو واپس جانے سے
روک دیا، وہ اس پر کسی طرح تیار نہ ہوا کہ غیر جنگ کئے واپس چلا جائے، قریش
کے شکر کی تعداد ایک ہزار سے اوپر تھی، اور اس میں گن گن کے تمام بڑے سردار
جنگ جو نوجوان مانے ہوئے شہوار اور آزمودہ کا رسیا ہی شامل تھے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھکرایا کہ کرے آج اپنے سب جگر کے ٹکڑوں کو
تمھارے سامنے ڈال دیا ہے۔
مشورہ کی اہمیت
قریش کے لشکر نے بدر پہونچ کر وادی کے ایک طرف پڑاؤ ڈالا مسلمانوں نے
دوسری طرف اسی درمیان میں مخباب بن المنذر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بارسول اللہ ! کیا اس منزل پر ہمارا پڑاؤ
اللہ تعالی کے حکم سے ہے جس میں کوئی رد و بدل ہمارے لئے جائز نہیں یا اسکا تعلق
له زاد المعادج امر ۳ ، سیرت ابن ہشام ج امر ۲- ۶۱۹
19
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۵
جنگی حکمت عملی اور تدبیر و انتظام سے ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں یہ تدبیر حکمت کی
بات ہے اور اس میں دشمن کو دھو کہ میں ڈالنے کی تمام چیزیں اختیار کی جا سکتی ہیں
انھوں نے کہا یا رسول اللہ پھر میں عرض کروں گا کہ یہاں پڑاؤ اس نقطہ نظر سے
مناسب نہیں ہے انھوں نے ایک دوسرے مقام کی نشان دہی کی جو جنگ کے لئے
زیادہ موزوں اور ساز گار تھا، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے معقول
بات کہی، اس کے بعد آپ اپنے تمام آدمیوں کے ساتھ اس مقام کی طرف چلے اور
اس جگہ قیام کیا جو پانی سے قریب ترین تھی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رات تک سب سے پہلے پانی کے پاس
پہونچ گئے اور اس کے حوض تیار کر لئے، آپ نے کفار کو بھی اس سے پانی پینے کی اجازت دی۔
اس رات کو اللہ تعالیٰ نے بارش کا انتظام بھی کر دیا جو کفار و مشرکین کے لئے
تو بہت مہنگی پڑی اور ان کی پیش قدمی رک گئی مسلمانوں کے لئے یہ رحمت کی بارش
ثابت ہوئی جس نے ریت کو اور جما دیا اور فضا ان کے حق میں خوش گوار اور سازگار
کر دی اور ان کے دلوں کو سکون و اطمینان نصیب فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :-
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تا کہ
مَاءً لَيْطَهَرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ تم کو اس سے نہلا کی پاک کردے، اور
عَنكُمُ رِجْزَ الشَّيْطَنِ وَلِيَرْبِطَ شیطانی نجات کو تم سے دور کر دے
عَلَى قُلُوبِكُم وَيُثَبِّتَ بِهِ اور اس لئے بھی کہ تھانے دلوں کو
الْأَقْدَامَ (سوره انفال (۱۱) مضبوط کر دے اور اس سے تمھارے
ے سیرت ابن ہشام ج ا صت له ايضا صا باختصار
—
……………………………………………………………………………………………………………۔
۲۸۶
پاؤں جمائے رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار
اس موقع پر آپ کی غیر معمولی اور بے مثال قائدانہ قابلیت (آپ کی ابادی
و عالمگیر رسالت کے ساتھ جو اس سب کی بنیاد اور رحیمیہ الہام و ہدایت ہے)
پوری آب تاب کے ساتھ جلوہ ریز تھی، آپ کی حکیمانہ صف بندی اور عظیم خطرات
اور اچانک حملوں کے سدباب کی تدبیر، دشمن کی جنگی طاقت اس کی نفری اس کے
پڑاؤ اور مختلف دستوں کی تعبینانی کا صحیح اندازہ، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آپ کی
غیر معمول جنگی عبقریت کا اندازہ ہوتا ہے، اور اس کی ضروری تفصیلات سیرت کی
کتابوں میں بیان کی گئی ہیں ہے
جنگ کی تیاری
آپ کے لئے ایک جگہ جو میدان جنگ کے سامنے ایک ٹیلہ پرتھی چھپر ڈال دیا گیا،
اس کے بعد آپ میدان میں تشریف لے گئے اور جگہ جگہ اپنے دست مبارک کے اشارے
سے فرماتے رہے کہ انشاء اللہ یہاں فلاں آدمی مارا جائے گا، یہاں فلاں آدمی ہلاک
ہو گا، اس جگہ فلاں شخص قتل کیا جائے گا، چنانچہ ایک جگہ بھی اس کے خلاف
لہ جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فاعی و سفاظتی اقدامات اور جو د ترانہ عسکری
انتظامات فرمائے ان کی تفصیل و وضاحت پاکستانی میجر جنرل محمد اکبر خان کی کتاب حدیث دفاع
اردو میں نیز عراقی جنرل محمود شیت خطاب کمانڈر انچیف کی کتاب الرسول القائم عرب میں لکھی جاتی ہے۔
………………………………………………………………………………………………………………
نہیں ہوا، اور آپ کا فرمانا حرف بحرف صحیح ثابت ہوا، اور اس جگہ میں فرق نہیں پڑا
جو جگہ آپ نے متعین فرمائی تھی۔
جب دونوں شکر آمنے سامنے اگر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا اے اللہ یہ قریش کے لوگ آج اپنے پولے غرور و تکبر کے ساتھ آئے ہیں، یہ
تجھ سے جنگ پر آمادہ ہیں اور تیرے رسول کو جھوٹا ٹھہرا رہے ہیں؟
یہ جمعہ کی رات تھی اور رمضان کی سترہ تاریخ صبح نمودار ہوئی تو قریش اپنے
تمام جنگی دستوں کے ساتھ سامنے آچکے تھے، اور دونوں فریق صف آرا تھے لیے
بارگاہ الہی میں آہ وزاری اور دعا و مناجات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیں درست فرمائیں پھر عربیش” میں واپس
تشریف لے آئے آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر یہ بھی تھے، اس کے بعد آپ نے اللہ کے
حضور میں گریہ وزاری اور دعاء و مناجات کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا، آپ
خوب جانتے تھے کہ اگر آج مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ تعداد و قوت کے اصول پر
ہے تو نتیجہ معلوم ہے، یہ وہی نتیجہ ہے جو ایک طاقت ور اور بڑی جماعت کے مقابلہ میں
کمزورا و تقلیل التعداد جماعت کے ساتھ ہمیشہ پیش آتا ہے، آپ نے جب ترازو کے
دونوں
پیروں پر نظر کی تو آپ کو مشرکین کا بارہ کھلے طور پر بھاری نظر آیا، دونوں میں
کوئی تناسب نہ وہ جی
کوئی تناسب وہ ا سب ہی نہ تھا، آپ نے مسلمانوں کے پیرہ پر وہ پاسنگ رکھدیا جس سے وہ
اچانک بھاری ہو گیا، آپ نے اس مالک الملک اور شہنشاہ برحق کے سامنے اپنی فرمائی
له زاد المعارج ۱ص۳۴-۳۴۴
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۸
رکھی اور اس سے نصرت و حمایت کے طالب ہوئے ہیں کے فیصلہ اور حکم کو ٹال نہیں سکتا، آپ نے اس چھوٹے سے اسلامی لشکر جو ہر قسم کے ساز و سامان سے محروم تھا) کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش فرمائی، آپ نے فرمایا” اللهم ان
تهلك هذه العصابة لا تعبد بعدها في الارض (اے اللہا اگر آج تو نے اس مٹھی بھر جماعت کو فن کر دیا تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی
نہ ہوگا آپ کے خود وارفتہ ہوکر اللہ تعالی سے دعاکر رہے تھے اور یہ فرمارہے تھے کہ
اللهم انجزني ما وعدتنی ، اللهم نصرک (اے اللہ تو نے مجھ سے جس چیز کا وعدہ کیسا ہے، وہ پورا فرما اے اللہ تری مدد کی ضرورت ہے ، آپ اپنے
دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرما رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کی چادر شانہ مبارک سے
گر پڑی حضرت ابو بکر آپ کو تسلی دے رہے تھے اور اطمینان دلا رہے تھے ان سے
آپ کی اتنی زیادہ گریہ وزاری اور بے تابی و بے قراری دیکھی نہیں جاتی تھی۔
امت کا صحیح تعارف اور اس کے اصل مقام و پیغام کا تعین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چند پاکیزہ نفوس کے لئے اس نازک لمحہ
لئے دیکھئے زاد المعاد اور سیرت کی دوسری کتب امام سل نے کتاب بہار والیر میں روایت حضرت عمربن الہ
ب من الله ان ان کی زبان سے بیان کی ہے اوراس کے الفاظ ہیں جو بدر کے دن رسول لر ل اللہ علیہ ہم نے اپنے تین کا اسمیں اصحاب کرام اور سرفروشان اسلام کے ساتھ وہاں منزل کی توآپ تیار ہوگئے اور اپنے
ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا شروع کی کراسے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھاوہ پورا فراه موت نے وعدہ کیا تھا وہ مجھے عطا فرا اے اللہ اگر یہ اسلام کی بی نمی جماعت آج ختم ہو جاتی ہے اوروئے زمین پر پھر تیری کوئی عبادت کرنے والانہ ہوگا: رباب الإمداد بالملائكة في غزوة بدر)
………………………………………………………………………………………………………………
۲۸۹
میں جن مختصر الفاظ کے ساتھ دعا کی اس میں آپ کا ناز واعتماد اضطراب و بے قراری کی
اطمینان قلب اور سکینت اور عجز و احتیاج کے تمام پہلو یک قت جلوہ گر تھے۔ اس
است کا بہترین و صحیح تعارف اقوام عالم میں اس کے اصل مقام و پیغام اور دنیا
کے بازار میں اس کی قیمت افادیت اور ضرورت کی پوری وضاحت تو عین کے
ساتھ نشان دہی تھی اور اس بات کا اظہار و اعلان تھا کہ یہ امت میں سر حد یا
محاذ کی حفاظت پر مامور ہے، وہ دعوت الی اللہ اور اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت
اور کامل اطاعت کا محاذ ہے۔
اس فتح مبین نے (جس نے تمام اندازوں اور تجربات کو غلط ثابت کر دکھایا)
پھر رسول اللہ صلی الله
آپ کے ان الفاظ پر ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق ثبت کر دی اور اس کا عملی ثبوت فراہم
کر دیا کہ یہ بات حرف بحرف درست تھی اور اس امت کی صحیح بھی اور بوتی ہوئی تصویر ہی ہے
صلی الہ علیہ وسلم شکر کے سامنے تشریف لائے اور ان کو خدا کے انسر کے ساتھ تشریف لائے اور ان کو خدا کے
راستہ میں جہا دو شہادت کا شوق دلایا، اسی درمیان میں مکتبہ بن ربیعہ اس کا بھائی
شیعیہ اور اس کا بیٹا ولید سامنے آئے اور درمیان صحت میں آکر کھڑے ہوئے اور
مبارز طلبی کی ان کے جواب میں انصار کے تین نوجوان نکلے ان کو دیکھ کر انھوں نے
پوچھا تم کون لوگ ہو؟
انھوں نے کہا، ہم انصار میں سے ہیں۔
کہنے لگے شریف لوگ ہو، لیکن ہمارے چھوڑ کے نہیں ہوا ہمارے مقابلہ کے لئے
ہمارے چچازاد بھائیوں (قریش میں سے کسی کو بھیجو، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا عبیدہ بن الحارث را حمزہ علی ا تم تینوں ان کے مقابل کے لئے جاؤ۔
37
………………………………………………………………………………………………………………
ان کو دیکھ کر انھوں نے کہا، ہاں اب برابر کی چوری ہے
سے پہلے حضرت عبیدہ نے جن کی عمر ان سے زیادہ تھی علیہ کو ملک را حضرت
حمزہ نے شیبہ کو دعوت مبارزت دی اور حضرت علی رض نے ولید بن عقبہ سے دو دو ہاتھ
کئے ، حضرت حمزہ وحضرت علی نے تو دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں کا کام تمام کر دیا؟
حضرت عبیدہ اور علیہ میں کچھ ہاتھ ہوئے لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا کہ
حضرت حمزہ اور حضرت علی اپنی تلواریں لے کر غلبہ پر حملہ آور ہوئے اور اس کا کام
تمام کر کے حضرت عبیدہ کو زخمی حالت میں واپس لائے اور وہ شہادت سے
سرخرو ہوئے ہے۔
آغاز جنگ
اسی وقت دونوں لشکر بر سر پیکار ہو گئے اور ایک دوسرے سے بالکل
قریب ہو کر جنگ ہونے لگی رسول الہ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ پوری ھو
اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
پہلا شہید
عمیر بن الحام انصاری نے یہ جملہ ساتھ کہنے لگے کہ یا رسول اللده جنت آسمانوں
اور زمین کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا، ہاں کہنے لگے واہ واہ ! آپ نے فرمایا، یہ بات کیا
کہہ رہے ہو؟ انھوںنے کہا نہیں یا رسول اللہ اور کوئی بات نہیں یہ میں اس خیال سے
نہ سیرت ابن ہشام ج ا ص ۶۳
………………………………………………………………………………………………………………
۲۹۱
کہہ رہا ہوں کہ شاید میری قسمت میں بھی یہ جنت ہو؟ آپ نے فرمایا ، ہاں ہاں تھیں
یہ جنت نصیب ہوگی، اس کے بعد انھوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں
اور کھانے لگے، پھر اچانک کہنے لگے کہ اگر میں نے ان کھجوروں کے ختم کرنے کا
انتظار کیا تو بہت دیر لگاوں گا اتنا جینے کی تاب نہیں یہ کہ کر و کھجوریں رہ گئی
تھیں، پھینک دیں اور میدان جنگ میں کود پڑے اور شہادت پائی، یہ جنگ بدر
کے پہلے شہید تھے لیے
دوسری طرف مجاہدین اسلام صف بستہ اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار
کی طرح لشکر کفار کے مقابلہ پر ڈٹے ہوئے تھے، صبر و عزیمت کے پیکر دل یاد الہی
میں مشغول اور زبانیں اس کے ذکر تسبیح میں زمزمہ سنج رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم
نے بھر پور طریقہ پرجنگ میں حصہ لیا، آپ دشمن سے رہے زیادہ قریب تھے اور آپ سے
زیادہ بہادر اور شجاع اس وقت کوئی دوسرا نظر نہ آتا تھا، اللہ تعالیٰ نے سلمانوں
کی مرد کے لئے فرشتے بھیجے اور انھوں نے مشرکین کو تہس نہیں کر دیا اللہ تعلی کا ارشاد ہے:
إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إلى الملكة جب تمھارا پروردگار فرشتوں کو
الي مَعَكُمُ فَتَبْلُوا الَّذِينَ ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمھارے
آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ ساتھ ہوں، تم مومنوں کو تسلی
الَّذِينَ كَفَرُوا الرهب دو کہ ثابت قدم رہیں ہمیں ابھی ابی
فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ کافروں کے دلوں میں رعب اور
وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُل ہیت ڈالے دیتا ہوں تم بھی
له زاد المعارج ۱ ص ۳۴۵ سیرت ابن کثیر ج ۲ ص ۳۲ ۱۲ بیشتر این کثیر ج ۲ ۴۲۵۰
………………………………………………………………………………………………………………
۲۹۲
بنائ .
ان کے سرمار کر، اُڑا دو، اور
(سوره انفال (۱۲) ان کا پور پور مار کر توڑ دو۔
شوق جہاد اور ذوق شہادت میں بھائیوں کا مقابلہ اور سرکشی
اس شہادت اور سعادت سے بہرہ مند و سر فرانہ ہونے میں آج سگے بھائیوں
اور جگری دوستوں میں بھی مقابلہ اور رسہ کشی ہو رہی تھی ، عبد الرحمن بن عوف
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یں معرکہ بدریں اپنے دستہ میں تھا کہ اچانک میری نگاہ
اٹھی میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں دو سن نوجوان ہیں، ان دو نوجوانوں
کو اپنے دائیں بائیں دیکھ کرمجھے کچھ اطمنان نہ ہوا، ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کران می سے
ایک نے اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوئے میرے کان میں چپکے سے کہا چھا بھے ذرا ابو جہل کو
دکھا دیجئے ہمیں نے کہا کہ تمھارا اس سے کیا مطلب ہے؟ انھوں نے کہا کہ میں نے
اللہ سے عہد کیا تھا کہ جہاں کہیں بھی اس کو دیکھ لوں گا اس کو ضرور ٹھکانے
لگاؤں گا یا اپنی جان دے دوں گا، دوسرے نے بھی میرے کان میں چھلکے سے یہی بات
کہی حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو جہل کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں
عقاب کی طرح اس پچھینٹے اور اس کو وہیں ڈھیر کر دیا، یہ ونوں جانباز عفراء کے
چشم و چراغ تھے ہے
کا فرعون
جب ابو جہل بلاک ہوا تو رسول اله صل اللہ علیہ سل نے فرمایا یہ لو جہل ہے اس امت
ہے کہ اگر کوئی نازک وقت آیا تو یہ دو نوعمر نوجوان میری کیا مدد کر سکیں۔ ۲ صحیحین ، یہ الفاظ
صحیح بخاری کے ہیں اکتاب المغازی باب گروه برام ۵۳ سیرت این کثیر ج ۲ ۲۳۲
………………………………………………………………………………………………………………
۲۹۳
فتح مبین
یہ جنگ مسلمانوں کی فتح مبین اور مشرکین و کفار کی ذلت آمیز شکست پر ختم
ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الله اکبر الحمد لله الذي
صدق وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحدة ” خدا کا شکر ہے جس نے
اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تنہا ساری ٹولیوں اور گروہوں کو شکر دی)
قرآن مجید نے اس کیفیت کی ترجمانی اس آیت میں کی ہے :۔
وَلَقَدْ نَصَرَ كُمُ الله بدار اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمھاری
فَانْتُمْ أَدَلَّةٌ : فَاتَّقُوا الله مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم
لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ بے سرو سامان تھے نہیں خدا سے ڈرو
(سوره آل عمران – ۱۳۳) (اوران احسان کی یاد کرد تا شکر کرد.
آپ نے حکم دیا کہ کفار کے سارے مقتولین اسی اندھے کنویں میں ڈال دیئے جائیں
جو وہاں تھا، وہ سب اس میں پھینک دیئے گئے۔ آپ وہاں تشریف لے گئے اور اوپر کھڑے
ہوکر فرمایا اے کنویں والو کیا تم کو تمہارے رب کا کہنا ہیچ نظر آیا ؟ میں نے تو اپنے
رب کا وعدہ بالکل حق پایا ہے۔
اس جنگ میں کفار کے سر بڑے نامی گرامی سردار مارے گئے، اور نشر ہی
قیدی بنائے گئے لیے
مسلمانوں میں قریش کے چھ اور انصار کے آٹھ آدمی شہید ہوئے ہے
له صحیح بخاری روایت براء بن عازب (غزوة بدر الكتاب المغازی) ۱۲ سیرت ابن کثیر ج ۳۶۲
………………………………………………………………………………………………………………
۲۹۴
جنگ بدر کے اثرات و نتائج
رسول الله صلی اللهعلیہ وسلم مظفر منصور مدینہ واپس تشریف لائے، مدینہ
اور اس کے اطراف میں آپ کے دشمنوں پر اس فتح کے بعد آپ کا رعب و دید یہ قائم
ہو گیا اور بہت بڑی تعداد میں اہل مدینہ اسلام لے آئے۔
اس سے پہلے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے یہ نوید سرت بنانے کے لئے جن
دو خاص نمایندوں کو شہر بھیجا، ان میں عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے وہ مدینہ والوں کو
خوش خبری دیتے اور کہتے، اے گروہ انصار ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی
سلامتی اور کفار کا قتل اور گرفتاری تمھیں مبارک ہو، قریش کے جو سرا ر اورنگی قائد
اس میں مارے گئے وہ اس میں سے ایک ایک کے نام کا اعلان کرتے اور گھر گھر جا کریہ
مژدہ سناتے بچے ان کے ساتھ سرور و شوق میں مختلف اشعار پڑھتے اور ترانے گائے
کچھ لوگوں میں کسی کو اس خبر کی صداقت پر یقین تھا کسی کو تردید کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم بنفس نفیس مدینہ تشریف لے آئے اس کے بعد قیدیوں کو لایا گیا ان کے
نگراں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران تھے، جب آپ ” روحا “
پہونچے تو مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا، اور آپ کو اور آپ کے
ساتھ جو مسلمان تھے، ان کو اللہ تعالی نے جو فتح نصیب فرمائی، اس کی مبارکباد پیش کی۔
مشرکین مکہ کے گھروںمیں صف ماتم بچھ گئی اور قتولین پر رونا پیٹا ترین ہوگیا
دشمنان اسلام کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا، ابوسفیان نے نذرمانی کہ جب تک رسول الله
له سیرت ابن کثیر ج ۵۲۲۷۳۰۴۴۵۲ که پرت ابن ہشام ج ا مت ۶۴ – ۶۴۸
………………………………………………………………………………………………………………
صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے اس کی دوبارہ جنگ نہیں ہوگی، اس وقت تک
وہ اپنے سر پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ڈالے گا، مکہ کے کمزور اور دبے ہوئے مسلمانوں نے
اس سے اطمینان کی سانس لی اور انھوں نے اپنے اندر طاقت اور غربت محسوس کی۔
ایمان کا رشتہ خون کے رشتہ سے بالاتر
اس جنگ میں اور ابو مین عزیز بن عمیر بن ہاشم بھی قیدی بناکر لائے گئے مصعب
بن عمیرہ کے سگے بھائی اور ایک ماں باپ کی اولاد تھے، مصعب بن عمیرہ مسلمانوں کے
پرچم بردار تھے اور ان کے بھائی لشکر کفار کے پرچم بردار۔
واقعہ یہ پیش آیا کہ جب صعب ان کے پاس سے گزرے تو اس وقت ایک انصاری
ان کے ہاتھ باندھ رہے تھے، مصعب نے انصاری سے کہا کہ ذرا اچھی طرح گستا، اس کی
ماں بڑی مالدار ہے اس سے فدیہ کی اچھی رقم ہاتھ آنے کی امید ہے ابو عزیز نے یہ سن کر
اپنے بھائی مصعب کی طرف رخ کرکے کہا کہ بھائی تم بھائی ہو کیا یہ صلاح دے رہے ہو ؟
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا تم میرے بھائی نہیں ہو بھائی وہ ہے جو تمھاری شکلیں
کس رہا ہے۔
مسلمانوں نے قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی
نصیحت فرمائی اور ارشاد ہواکہ (استوصوا بهم خیرا ان سے اچھا معام کرنا)
اه سیرت ابن کثیر ج ۲ ص ۲۷۵۰
………………………………………………………………………………………………………………
یہی ابوعیز نمیراوی ہیں کہ جب وہ مجھے بد سے قیدی بناکر لائے تو مجھے انصار کے ایک خاندان میں گرگئی
وہ دونوں قت اپنے کھانوں میں سے روئی و مجھے دیے اور خود ھور پر اکتفاکرتے یہ رسول الله صلی اللہ
علیہ وسلم کی اس نصیحت ہدایت کا از تاکی کو کہیں روئی کا ایک کڑا بھی جانا تو مجھے اگر دیتا
مجھے شرم محسوس ہوتی اور میں اسے لوٹا دیتا لیکن وہ پرستی مجھے دیا اور خود اسے ہاتھ بھی نہ گانی
انھیں قیدیوں میں رسولاله صل اللہ علیہ والہ سلم کے جا عباس بن عبدالمطلب
اور آپ کے چازاد بھائی عقیل بن ابی طالب، آپ کی صاحبزادی حضرت زینب کے
شوہر ابو العاص بن الربیع بھی تھے ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا جو معاملہ
عام قیدیوں کے ساتھ تھا، وہی ان کے ساتھ بھی تھا۔
بچوں کی تعلیم کے معاوہ علیم کے معاوضہ میں قیدیوں کی رہائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ان قیدیوںسے عفو و درگذر کا مال فرمایا اوران کا فدیہ
قبول کیا ہو بتا دولت مند ہوتا یہ فدیہ اس کے بعد اسے کیا جاتا جس کے پاس دینے کے لئے کچھ
نہ ہونا آپ اس کو اپنی طر سے رہائی کاحکم فرمان عرض قریش نے اپنے بہت سے قیدی فدیہ دیگر
آزاد کرائے۔
کچھ ایسے قیدی بھی تھے جن کا فدیہ نہیں ہو سکا، ان کا فر یہ آپ نے یہ تجویز کیا کہ
وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں ایک قیدی پر دس مسلمانوں کی تعلیم ضروری قرار
دی گئی ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسی طریقہ سے تعلیم حاصل کی تھی اس می علم کی
جتنی قدر دانی اور تعلیم کی جو ہمت افزائی مضمر ہے اس کی توضیح کی شاید ضرورت نہیں۔
لے بیرت ابن کثیر ج ۲۷۵۲ ۲ه بیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳ مسند احمد ج ۱ ۳ ۴ طبقات ابن سعد ج ۲
………………………………………………………………………………………………………………
۲۹۷
دوسرے غزوات و سرایا
ابو سفیان نے جیسا کہ اوپر گزرا ہے تم کھائی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے برا نہیں لیا جائیگا
اس وقت تک وہ اپنے سرمہ پانی کا اک نظر نہ پڑنے دیں گے وہ اپنی قسم پوری کرنے کے لئے قریشی
کے دو سو سواروں کے ساتھ حملہ کی نیت سے نکلے بنی النضیر کے سرہ اسلام بنی تم سے اجازت
چاہی، انھوں نے نہ صرف اجازت دی بلکہ ان کی خوب ضیافت و مہمان نوازی کی اور
مدینہ کے حالات سے مطلع کیا اور کچھ لوگوں کو بھیجا جھولی انصاری دو آدمیوں کو شہید کر دیا۔
لیکن
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکلے کہ
ابوسفیان اور ان کے ہمراہ مسلمانوں کے پہونچنے سے پہلے نکل بھاگے اور اپنے مجھے بہت بڑی مقدار
میں غلہ اور اجناس جن میں زیادہ تر ستو تھے چھوڑ گئے، اسی لئے اس کو غزوہ سویق بھی کہا جاتا ہے۔
بنی قیقات کے ساتھ معاملہ
بنو قینقاع پہلے یہودی تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدہ کو
توڑا، آپ سے جنگ کی مسلمانوں کو اذیت پہونچائی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ان کا محاصرہ کر لیا اور پندرہ راتیں اسی حال میں گزار دیں یہاں تک کہ انھوں نے اپنا سر
مجھ کا کا دیا، اور آپ کے فیصلہ پر راضی ہو گئے، ان کے حلیف عبد اللہ بن ابی (راس المنافقین)
نے آپ کی خدمت میں ان کی سفارش کی چنانچہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا
لحاظ کر کے محاصرہ اٹھالیا، یہ سات کو جنگ جو تھے اور زیادہ تر ساری اور دکاندار کی باعت کرتے تھے
ل سیرت ابن ہشام ج ۲ ۴۴۰-۴۵ عربی میں سویق کو سولی کہتے ہیں سیرت ابن ہشام ج ۲ ه ۲۹
زاد المعادج امر ۳۴
………………………………………………………………………………………………………………
بی کریم صلی اللہ علیہ سل نے ان یہود کےلئے اس شرط پر عفو عام کا حکم دے دیا
کہ وہ مدینہ سے نکل کر کہیں بھی چلے جائیں چنانچہ ان میں سے بہت سے اطمینان کے
ساتھ شام چلے گئے اور منقولہ سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے بنو قینقاع اپنے تمر دو برمیں
کی وجہ سے سزائے موت کے منظر تھے گروہ بھی سلامتی کے ساتھ پیر سے چلے گئے ہے۔
کعب بن الاشرف بھی جو یہودیوں کا بڑا سردار تھا آپ کو برابر تکلیفیں پہونچانا
رہتا تھا اور سلمان شریف زادیوں کے بارے میں غزلیہ اشعار کہتا تھا جنگ بدر کے بعد
اس نے مکہ میں جا کر کفار کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور سلمانوں کے خلاف بھڑکانا
شروع کیا اسی حامیں وہ دین پہونچا رسول اله صل اله علی سلم نے اسکی آمد کی
خیر یا کر فرمایا کعب بن اشرف نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف پہونچائی ہے
اس کا کوئی انتظام کر سکتا ہے ؟ انصار کے کچھ لوگ یہ خدمت انجام دینے کے لئے
اسی وقت کھڑے ہو گئے اور اس کا خاتمہ کر دیاہے۔
له ملاحظہ ہو سیرت ابن ہشام ۲ م۳۵
اپنی کتاب
- MONTGOMERY WATT
‘MOHAMMAD PROPHET AND STATESMAN”
میں لکھتا ہے۔
بنو قینقاع کا اخراج ایک اہم عامل تھا جس نے آنحضرت کے مرکز کو مضبوط کیا، اس اخراج کا سب
رواقا میں یہود تیفاع اور حیض مسلم تاجروں کے درمیان وہ بولی ھوگیا بتایا جاتاہے مدینہ کے بازاری اقع ہوا ان
موفری واٹ کو اس سے اتفاق نہیں کہ اس اخراج کی وجہ سوق بنی اجتماع میں ایک مسلمان خواتے
پریو کی زیادتی تھی بوریت کی کتابوں میں مذکور ہے وہ کھتاہے کہ منہ کے یہود کے اخراج کے اقدام کے
ایسا بیاسی گہرے ہیں جو اس فنی واقعہ سے منور کے جاتے ہیں اصل وجہ یہود کا مسلم معاشر میں ضم نہ ہونا تھا۔
و مزید لکھا ہے محمد اور اپنے قریش مکہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کا بھی علم
ہوگا جو مسلمانوں اور یہود کے درمیان معاہدہ کی روح کے خلاف سمجھے گئے ؟
تفصیل کے ملاحظہ ہو۔ غزوہ بنی قینقاع از استاذ محمد احمد باشمیل
له زاد المعادج ۲ ۴۲۶ اختصار کے ساتھ۔