۱۴۳
بعثت کے بعد
انسانیت کی صبح صادق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت اپنی عمر کے چالیس سال پولے کئے
اس وقت دنیا آگ کی ایک خندق کے بالکل کنا ہے بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ لب بام
کھڑی تھی پوری نسل انسانی تیزی کے ساتھ خود کشی کے راستہ پر گامزن تھی، یہ وہ
نازک وقت تھا جب انسانیت کی صبح صادق طلوع ہوئی محروم و بد نصیب بے نیا کی
قسمت جاگی اور بعثت محمدی کا مبارک وقت قریب ہوا، اللہ تعالے کی سنت بھی
یہی ہے کہ جب تاریکی بہت بڑھ جاتی ہے اور قلوب سخت اور مردہ ہونے لگتے ہیں تو
اس کی رحمت کا کوئی جاں نواز جھون کا چلتا ہے اور انسانیت کے خزاں رسیدہ چین
میں پھر بہار آجاتی ہے۔
دنیا میں اس وقت جس جہالت اور جاہلیت کی حکمرانی تھی اوراق و او بام
اور شرک و بت پرستی کی وبا عام تھی، اس کو دیکھ کر آپ کی لیے چینی خالق کائنات اور
خالق ارض و سماوات کی ہدایات اور اس کے احکام کا انتظار انتہا تک پہونچ چکا تھا
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی غیبی طاقت اور غیبی آواز آپ کو چلا رہی ہے، اور آپ کی
رہنمائی کر رہی ہے، اور اس بڑے منصب کے لئے آپ کو تیار کر رہی ہے۔
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
اس زمانہ میں تنہائی اور خلوت پسندی آپ کا شیوہ اور معمول بن گئی تھی
اور آپ کو سبسے علیحدہ ہو کر تنہا بیٹھنے سے بڑا سکون ملتا تھا، آپ مکہ سے بہت دور
نکل جاتے یہاں تک کہ شہر کے مکانات بھی آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے آپ
کہ کی گھاٹیوں اور اندر کی وادیوں سے گزارتے تو شجر و حجر سے آواز آئی کہ السلام
عليك يا رسول الله آپ اپنے داہنے بائیں اور پیچھے مڑ کر دیکھتے تو درختوں یا
پتھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا ہے
غار حراء میں
آپ زیادہ تر غار حراء میں قیام فرماتے اور متواتر کئی کئی راتیں وہاں گذر ہیں،
اس کا انتظام پہلے سے آپ کر لیتے تھے یہاں آپ ابراہیمی طریقہ پر اور فطرت سلیم کی
رہنمائی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں
بعثت مبارک
اسی طرح آپ ایک بار غار حراء میں تشریف فرما تھے کہ منصب نبوت سے
آپ کو سرفراز کرنے کی مبارک ساعت آپہونچی۔
یہ ، ار میں رمضان آپ کی ولادت کے اکتالیسویں سال کا واقعہ ہے
ے سیرت ابن ہشام ج ۱ ۳۴- ۱۳۵ حمل میں آپ کا یہ تو بھی مروی ہے کہ میں مکہ کے ایک پتھر جا ۲۳۳۰-۲۳۵ صحیح
سے اب بھی واقف ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کرتا تھا کتاب الفضائل یا مل باب فضل نسب النبی صلی الله
علیہ وسلم کے دیکھئے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا۔ صحیح بخاری باب کیف کان بڑا لوحی
الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے ابن کثیر ج ۱ ص ۳۹ روایت ابوجعفر محمدالباقر
….….….….….….
۱۴۵
مطابق و راست نشاستہ جو حالت بیداری اور شعور کی حالت میں پیش آیا۔ آپ کے
سامنے غار حراء میں فرشتہ آیا اور کہا کہ پڑھئے، آپ نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں
ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اس نے مجھے پکڑا کر دیا یا
یہاں تک کہ میں نے اس کی تکلیف محسوس کی پھر مجھے چھوڑ دیا، اور کہا پڑھئے میں نے
جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے پھر مجھے پکڑا اور اتنی زور سے لپیٹا یا کہ
مجھ پر اس کا سخت دباؤ پڑا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھئے میں نے کہا میں پڑھا ہوا
نہیں ہوں، اس نے پھر مجھے پکڑ کر دوبارہ اسی طرح دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا :-
اقرأ باسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَى ال محمد اپنے پروردگار کا نام لے کر
خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَن پڑھو جس نے عالم کو پیدا کیا جس نے
اثرَ أَوَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِی انسان کو خون کی پکی سے بنایا
پھٹی سے بنایا
عَلَّمَ بِالْقَلَمِہ علم الإنسان پڑھ اور تمھارا پرورہ کا بڑا کریم ہے
مَا لَمْ يَعْلَمُه
جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا
(سوره علق -۱-۵) اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا
اس کو علم نہ تھا۔
یہ نبوت کا پہلا دن تھا، اور پہلی وحی اور قرآن کا حصہ ہے
ہ ابن کثیر ه اص ۲۹ روایت ابو جعفر محمد الباقر سے ایک عجیب بات جو دنیا کے فلاسفہ
دین گرین اور مذاہب و ثقافت کے مورخین کی توجہ چاہتی ہے وہ اس پہلی جہاں علم کا ذکر
ہے ہو ایک امتی پر ایک اتمی قوم میں اور ایک ایسے ملک میں نازل ہوئی جہاں عقل کا وجود بھی کم یا
جہاں پڑھے لکھے افراد انگلیوں پر گنے جاتے تھے، اس نے اس مذہب ( باقی ۱۳۶۰ پر)
تھا، اور جہاں
……..……..……..……..……..……..……..……..……..……..……..……..……..
حضرت خدیجہ کے گھر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عجیب واقعہ سے خوف زدہ ہو گئے اس لئے کہ
ایسا نہ کبھی آپ کے ساتھ پیش آیا تھا، اور نہ آپ نے اس طرح کی بات کبھی سنی تھی،
بنوت اور انبیاء علیہم السلام کے عہد پر ایک طویل عرصہ گذر چکا تھا چنانچہ آپ کو
اپنے لئے خطرہ محسوس ہوا اور آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اشتدت خون سے آپ
کے شانہ مبارک پر کپکپی طاری تھی، آپ نے پہونچتے ہی حضرت خدیجہ سے کہاکہ مجھے
مجلد اڑھا دو مجھے جلد اڑھا دو، مجھے کچھ خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
حضرت خدیجہ نے آپ سے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے سارا ماجرا بیان کیا
وہ ایک عقل مند اور ذی شعور خاتون تھیں، نبوت، انبیاء اور فرشتوں کے بارے میں
انھوں نے بہت کچھ سن رکھا تھا وہ اپنے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس پوتنی
عیسائیت قبول کر لی تھی، صحف سماویہ کا مطالعہ کیا تھا اور اہل توریت اور امطالعہ اورا
اہل انجیل سے ان کی نشست و برخاست تھی کبھی کبھی جھایا کرتی تھیں اور اہل کہ
(باقی ما کا) اور اس کی حامل امت کی قراءت و کتابت اور علم سے کام لینے کی صلاحیت اور
اس سے اس کے دائی اور مضبوط ربطا تعلق کی (دوسرے سابقہ مذاہب کے برخلاف ، نشان دہی کر دی اور
جو اس کی عالمی علی تصنیفی تحریک کا ایک ریز تھا جس کی اقوام و مل کی تاریخ میں کوئی نظر نہیں ملتی۔
وه رمز آیت علم الإِنسَانَ مَا لَم تعلم کا اس وحی میں شامل ہونا تھا جو طلب علم
ذوق جستجو اور نئی معلومات کی تلاش اور پچھلے زمانوں میں دریافت نہ ہو سکنے والے گر ثابت شدہ
علمی حقائق کے عدم انکار کا محرک ثابت ہوا۔
……………………………
کی نا مناسب باتوں اور عادتوں کو پسند نہ کرتی تھیں جن کو فطرت سلیم اور ذہن نعیم
رکھنے والا کوئی شخص طبعا پسند نہ کرے۔
وہ آپ کے رشتہ زوجیت، شب و روز کی رفاقت اور آپ کی ہر ظاہر و پوشید
چیز سے واقفیت نیز اس خصوصی اعتماد و تعلق کی وجہ سے جو ان کو حاصل تھا، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ سے سب سے زیادہ واقف تھیں، آپ کے شمائل الفصائل
کو دیکھ کر ان کو اس کا پورا یقین ہو گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق ہر لمحہ آپ کے
شامل حال ہے آپ اللہ تعالے کے منتخب و مقبول بندے ہیں اور آپ کی سیرت بھی
محبوب و پسندیدہ سیرت ہے، اور جو شخص ایسے اخلاق اور ایسی سیرت اور ایسے اعلیٰ
و پاکیزہ خصائل کا حامل ہوگا اس پر کسی شیطان یا جن اور آسیب کا اثر ہر گز نہیں
ہو سکتا، یہ بات اللہ تعالی کی حکمت اور رحمت و شفقت سے بعید اور اس کی سنت
جاریہ کے منافی ہے انھوں نے بڑے یقین و اعتماد کے لہجہ میں اور پوری قوت کے ساتھ کہا۔
ہرگز نہیں ۔ خدا کی قس اللہ تعالی آپ کو کبھی ذلیل و رسوا نہ کرے گا۔
آپ صلہ رحمی اور رشتہ داری کا پاس و لحاظ کرتے ہیں۔ دوسروں کا بوجھ ہلکا
کرتے ہیں محتاجوں کے کام آتے ہیں مہمان کی ضیافت و خاطر مدارات
کرتے ہیں، راہ حق کی تکلیفوں اور مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں ؟
ورقہ بن نوفل کی مجلس میں
حضرت خدیجہ نے یہ بات عقل سلیم اور فطرت صحیحہ نیز اپنی زندگی کے تجربوں کے
لے صحیح بخاری ( باب کیف کان بابر الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)
………….………….………….………….………….………….………….………….………….…………
۱۴۸
اور لوگوں سے واقفیت کی بنیاد پر کی تھی لیکن یہ معاملہ بہت بڑا تھا، اور اس میں
کسی ایسے شخص کے مشورہ کی ضرورت تھی جو مذاہب اور ان کی تاریخ نبوت اور اس کے
مزاج نیز اہل کتا ہے اچھی طرح واقف ہو، جن کے پاس انبیاء کے واقعات اور
ان کے علم کا کچھ اندوختہ موجود ہے ۔
انھوں نے سوچا کہ اپنے علم و فاضل چازاد بھائی ور زین توفل سے مدینی
چاہیے چنا نچہ وہ سول اللہ صل اله علی ولی کوساتھ لے کران کے پاس گئیں رسول اللہ
صل اللہ علیہ سلم نے رقہ کو پورا اتو نیا ورقہ نے سنتے ہی کہا تم ہے اس کی جس کے
ہاتھ میں میری جان ہے آپ اس امت کے نبی ہیں اور آپ کے پاس وہی ناموسی اکبر
آیا تھا جو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا، اور ایک زمانہ آئیگا کہ آپ کی
قوم آپ کو جھٹلائے گی اور ایذا پہونچائے گی، آپ کو نکالے گی، اور آپ سے جنگ
کرے گی، جب سول اثر صل الش علیہ سلم نے یہ جا ن کر تو آپ کو نکال دے گی
تو آپ کو کچھ تعجب ہوا، اس لئے کہ آپ قریش میں اپنی حیثیت و مرتبہ سے واقف تھے
اور جانتے تھے کہ صادق و امین کہتے ان کی زبان نہ تھکتی تھی، آپ نے تعجب کے ساتھ
پوچھا کہ یا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ اورت نے جواب یا کہاں جب بھی کوئی وہ پیام لے کر
آیا جو آپ لائے ہیں تو لوگوں نےاس کی دشمن پر کمر باندھ لی اور اس سے جنگ کی ہی باہر ہونا
آیا ہے، اگر مجھے وہ دن نصیب ہوگا، اور میری زندگی وفا کرے گی تو میں آپ کی پوری
قویت کے ساتھ مدد کروں گا؟
له ماخوذ از حدیث عائشہ صحیح بخاری، باب (کیفت کان بڈا اوحی الی رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم)
وسیرت ابن ہشام ۲۳۵۰
……………………………..……………………………..……………………………..……………………………..
اس کے بعد ایک کھرک رنگ دتی کا مسلہ بند بانچر جاری ہوا اور ان جید کا
نزول شروع ہوا۔
حضرت خدیجہ کا قبول اسلام اور ان کا کردار
سے پہلے حضرت خدیجہ نے اسلام قبول کیا ، رشتہ زوجیت کی وجہ سے ان کو
آپ کی خدمت ور رفاقت ! اور نصرت و اعانت کا خوب موقع تھا، اور انھوں نے
موقع پر آپ کی پشت پناہی اور حمایت کی لوگوں سے آپ کو جو تکلیفیں پہونچتی
تھیں ، وہ ان کو ہمیشہ ہلکا کرنے کی کوشش کرتیں اور آپ کی ہمت بندھائیں۔
حضرت علی اور زید بن حارثہ کا قبول اسلام
اس کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب اسلام لائے اس وقت ان کی عروسی سال
تھی ، اسلام سے پہلے وہ رسول اللہ صل اللہعلیہ وسلم کی گود میں کھیلے تھے آپ نے
پریشانی و قحط سالی کے زمانہ میں ان کو ابو طالب سے مانگ لیا تھا، اور اپنے گھرانہ میں
شامل کر لیا تھا، اس کے بعد زید بن حارثہ (جو آپ کے غلام تھے اور آپ نے ان کو
متبنی کیا تھا، اسلام لائے ہے۔
ان حضرات کا قبول اسلام دراصل ایسے لوگوں کی شہادت اور گواہی تھی
جو آپ سے سب سے زیادہ قریب تھے اور آپ کے صدق و اخلاص اور حسین کردار سے
سے زیادہ واقف اور گھر والوں کی طرح ہر بھی ڈھکی چیز سے باخبر تھے۔
اے سیرت ابن ہشام ۲۴۵۰ ۵۲ ایضاً ص ۲۴۴
……………………………..……………………………..……………………………..
حضرت ابوبکر کا قبول اسلام اور دعوت الی اللہ یا یک اچھا حصہ
حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ کا قبول اسلام بھی کچھ کم اہم نہ تھا اس لئے کہ ان کی
دانش مندی، فہم و فراست، عالی ہمتی اور اعتدال و میانہ روی کی وجہ سے قریش
میں ان کو ایک خاص درجہ حاصل تھا، انھوں نے اسلام کا اعلان و اظہار بھی کیا، وہ
بڑی محبوب و دل کش شخصیت اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ قریش کے انساب تاریخ
سے واقف تھے اور ایک با اخلاق و کامیاب تاجر بھی چنانچہ اپنے اعتماد کے لوگوں،
جانتے پہچاننے والوں اور اپنے پاس اٹھنے بیٹھنے والوں میں انھوں نے اسلام کی
تبلیغ شروع کی حسن رسیدہ و بالغ مردوں میں وہ پہلے مسلمان تھے۔
شرفائے قریش کا قبول اسلام
ان کی تبلیغ و دعوت سے قریش کے بہت سے نامی گرامی سردار اسلام لائے
جن میں عثمان بن عفان، زبیر بن العوام عبد الرحمن بن عوف سعد بن ابی وقاصی
طلحہ بن عبید اللہ قابل ذکر میں حضرت ابو بکر ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس لائے اور انھوں نے اسلام قبول کیا۔
ان کے بعد یہی قریش کے اور بہت سے لوگ جن میں سے متعدد بڑی عزت
و مرتبے کے مالک تھے اسلام لائے ان میں چند کے نام یہ ہیں، ابوعبیدہ بن الجراح
ارقم بن ابی الارقم : عثمان بن مظعون عبيدة بن الحارث بن عبد المطلب ،
لے سیرت ابن ہشام ۲۴۹۰- ۲۵۰ ۵۲ ایضا من ۵ ۲-۲۵۱
……………………………..……………………………..……………………………..…………………
سعید بن زید خباب بن الارت، عبد اللہ بن مسعود، عماربن یا سر مهیب و غیره
رضی اللہ عنہم اجمعین ۔
اس کے بعد لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنا شروع کیا پوری پوری بعد نے
جماعتیں اور وفود اسلام لائے اور ان میں عورت و مرد دونوں ہوتے یہاں تک کہ
اسلام کا آوازہ مکہ کی فضائے آسمان میں بلند ہوا اور جگہ جگہ اس کا چرچا ہونے لگا۔
کوہ صفا پر پہلا اعلان حق
ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت و تبلیغ کے اس کام کو چھپا کر
کرتے رہے اور تین سال اس حال میں گزر گئے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو
اس کے برملا اظہار و اعلان کا حکم ہوا، اور ارشاد ہوا۔
فَاصدَاعُ بِمَا تُو مر و عرض میں جو کم ک کو خدا کی طرف سے ملا ہے
عن المشركين . وہ (لوگوں) کو نا دو اور مشرکوں کا
(سوره حجر (۹۴) ذرا خیال نہ کرو.
وَأَنْذِرُ عَشِيرَتَكَ الأقربين اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر
وَاخْفِضْ جَنَامَكَ مَنِ اتَّبَعَكَ ناد و اور جو مومن تھالے پرو ہو گئے
من المؤمنين ، (سورہ شواء ۲۱۵ ۲۱۲) ہیں ان سے تواضع پیش آؤ۔
وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ المبين اور کہا کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے
(سوره حجر – (۸۹)
والا ہوں۔
ہ مسیرت ابن ہشام ص۲۶۲
…………..……………………………..……………………………..……………………………..………
اس حکم کے بعد رسول الله صل الله علیه وسلم کوہ صفا کی چوٹی پر چڑھے اور ان آواز
میں یہ صدا لگائی یا صبا حان یہ نعرہ عربوں کے لئے جانا پہچانا تھا، اور اس وقت
گا یا جا تا تھا جب کسی دشمن یا غنیم کے حملہ کا فوری خطرہ ہوتا یا مباحات کا نعرہ
سنا تھا کہ قریش کا سارا قبیلہ وہاں جمع ہو گیا جو کسی وجہ سے نہیں آسکا اس نے
اپنا نمایندہ بھیجا، اس وقت آپ ان سے مخاطب ہوئے اور ارشاد فرمایا :-
ے بنی عبد المطلب ! اے بنی فہرا اے بنی کعب ! اگر میں تم کو یہ اطلاع
دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک شکر کھڑا ہے اورتم پر چلہ کرنا چاہتا
ہے تو کیا تم اس بات پر یقین کرو گے؟
عرب حقیقت پسند اور عملی لوگ تھے انھوں نے ایک شخص میں سچائی، امانت و ریاست
اور خیرخواہی کا بارہا تجربہ کیا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ شخص (جس کے متعلق اب تک
ان کی یہ رائے رہی ہے، پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے اور پہاڑ کی دوسری طرف بھی اس کی
نظر ہے، وہ صرف اپنے سامنے کی چیز دیکھ رہے ہیں تو ان کی ذہانت انصاف پسندی اور
اس امین و صادق مخبر کی اطلاع و خیر نے ان کی رہنمائی کی اور ان رہنے کہا کہ ہاں
ہم یقین کریں گے۔
دعوت و تربیت کا حکیمانہ انداز
جب یہ فطری اور ابتدائی مرحلہ طے ہوا اور سننے والوں کے اعتماد و یقین کا الم
ہو گیا تو رسول الله صل الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا فاني مدير الم بين يدى
عذاب شدید تو یہ مجھو کہ مں تم کو ایک سخت عذاب سے ڈرانے اور آگاہ کرنے
……………………..……………………………..……………………………..…………………………
آیا ہوں جو بالکل تمھارے ہاتھوں کے سامنے ہے۔
یہ در اصل منصب نبوت کی صحیح تعریف اور نشان دہی تھی اور علمی حقائق اور
و یہی علوم میں نبوت کو جو خصوصیت و انفرادیت حاصل ہے اس کی بڑی حکمت
و بلاغت کے ساتھ تو جانی جس کی نظر ہم کو مذاہب اور نبوت کی تاریخ میں نہیں ملتی
واقعہ یہ ہے کہ اس سے مختصر و آسان راستہ SHORT CUT اور اس سے زیادہ قابل اہم
اور واضح پیرایہ بیان کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ سنتے ہی مجمع پر ایک خاموشی چھا گئی، لیکن ابو لہ نے کہا سارے دن تمھارے
لئے خرابی ہو کیا صرف یہی کہنے کے لئے تم نے ہمیں بلایا تھا۔
اس طریقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بے نظر نمییرانہ حکمت کے
ساتھ ان کو اس حقیقت پر متنبہ کیا کہ اسے خطرناک دشمن خود ان کے اندر چھپا ہوا
اور ان کے گھروں میں بیٹھا ہوا ہے، حقیقتاً اس سے ڈرنے، اور اس کے گزند سے
بچنے کی ضرورت ہے کسی پہاڑ کی کمین گاہ یا کسی دیوار کی اوٹ میں بیٹھنے والے
اور مناسب وقت پر چھا پہ مارنے والے دشمن کی جانی والی تاخت اور جو نقصان وہ
پہونچا سکتا ہے اس کی اس تباہ کن و خونخوار دشمن کے سامنے کیا حقیقت ہے۔
جوان کے اندرون میں موجود ہے ؟ اس کائنات کے خالق و حاکم اور اپنے محسن منعم
کی ذات وصفات حقوق و فرائض اور اس کے اسمائے حسنیٰ سے غفلت، کھلی
لے یہ واقعہ ابن کثیر ج ۱ ص ۲۵۵ ۴۵۶ میں امام احمد بن عقیل کی روایت سے نقل کیا گیا ہے جنھوں نے
ابن عباس سے اس کی روایت کی ہے ابن کثیر کہتے ہیںکہ شیخین امام بخاری، امام مسلم نے بھی
اسی مفہوم کی روایت اعمش سے کی ہے ۔
…..……………………………..……………………………..……………………………..………………
شرک و بت پرستی اندھا دھند نفس اور خواہشات کی غلامی ، اوہام و خرافات
کی پیروی، حدود الہیہ سے تجاوز اور منوعات و محرمات ظلم و سفاکی قطع رحمی
نا انصافی میں سر سے پاؤں تک ڈوبے رہنا کسی گھات لگانے والے لشکر اور
چھاپہ مار دستہ سے زیادہ نقصان رساں اور خطر ناک ہے، جس کے اندیشہ سے
ان کی نیند اڑ جاتی ہے، اور اس کی اطلاع کی ایک آواز پر وہ دیوانہ وار دوڑ
پڑتے ہیں۔
دشمنی و ایذارسانی کا آغاز اور ابو طالب کی مدافعت و شفقت
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا بر ملا اور بلاخوف و خطر اعلان
کرنا شروع کیا تو اس وقت تک آپ کی قوم نے اس کی زیادہ پروا نہیں کی اور ان کے
زیادہ خطرہ محسوس نہیں ہوا، اور انھوں نے اس کے رد اور جواب کی کوئی ضرورت
نہیں تجھی لیکن جب آپ نے ان کے معبودوں کی خدمت کرنی شروع کی تو یہ بات
ان کو بہت بری لگی اور وہ سب آپ کی مخالفت پر کمر بستہ اور متحد ہو گئے۔
اس موقع پر آپ کے چچا ابو طالب آپ کی مدافعت کے لئے سینہ پر ہو گئے
اور آپ کے ساتھ بہت شفقت و نرمی کا معاملہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے اس اعلان حقی اور تبلیغ و دعوت میں جان و دل سے مشغول ہو گئے، اور
آپ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائے دوسری طرف ابو طالب آپ کے لئے
سینہ سپر ہو گئے اور آپ کی ہر طرح حفاظت کرتے رہے۔
……………..……………………………..……………………………..……………………………..……
۱۵۵
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطالب کا مکالمہ
اب قریش میں ہر طرف اور ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو چاہے گا
لوگ ایک دوسرے کو آپکی مخالفت اور دشمنی پر آمادہ کرتے اور اسکے لئے فضا تیار
کرتے چنانچہ ایک مریسہ یہ سب لوگ ایک پورا نہ بنا کر ابو طالب کے پاس گئے
اور ان سے کہا کہ :۔
اے ابو طالب آپ سن رسیدہ بزرگ ہیں اور بہاری نگاہ میں آپ کی خاص
قدر و منزلت ہے ہم نے آپ سے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ آپ اپنے بھتیجے کو منع
کر دیں لیکن آپ نے اس سال میں کچھ نہ کیا اب خدا کی هم ہم اس سے
زیادہ صبر نہ کریں گے جتنا صبر کا ثبوت ہم نے اب تک دیا ہے۔ اب ہم اپنے
آباء و اجداد کی نیت اور ہمیں نا سمجھ و بے وقوف ٹھہرانے اور ہمارے
معبودوں کو عیب لگانے کی کوشیش زیادہ برداشت نہیں کر سکتے،
یا تو آپ ان کو اس حرکت سے باز رکھیں یا پھر ہم ان سے اور آپ سے
له سمجھ لیں گے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک فریق ختم ہو جائے
ابو طالب پر اپنی قوم کی جدائی اور دشمن بھی شاق تھی، اور وہ اس پر بھی راضی
نہ تھے کہ وہ رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم کی مد سے ہاتھ اٹھائیں اور ان کو قوم کے
حوالہ کر دیں، انھوں نے آپ کو بلا بھیجا اور کہا کہ :
میرے بھتیجے اتمھاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے، اور ایسا ایسا
۲۶۶-۲۶۵۰
له سیرت ابن ہشام ص ۱۶۵ – ۲۶۶
………………………..……………………………..……………………………..………………………
کہہ رہے تھے، ذرا میری جان کا بھی خیال کرو اور اپنی جان کا بھی، مجھ پر
اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کو میں اٹھا نہ سکوں
ا ا
اگر میرے داہنے ہاتھ میں وہ سورج رکھ دیں اور بائیں ہاتھ میں چاند
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سن کر خیال ہوا کہ شاید ابو طالب اب ان کے
معاملہ میں مترود ہیں اور اب آپ کی زیادہ حمایت و پشت پناہی نہ کر سکیں گے،
آپ نے فرمایا کہ :
چا بخدا کی قسم اگر وہ میرے داہنے ہاتھ میں سولی اور بائیں ہاتھمیں
چاند لکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں یہاں تک کہ انشر تعالے
اس کو غالب کرے یا میں اس راستہ میں بلاک ہو جاؤں ، تب بھی میں اس سے
باز نہ آؤں گا
یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ رو دیئے،
اس کے بعد آپ اُٹھے اور تشریف لے جانے لگے، آپ کو اس طرح جانا دیکھ کر ابو طالب نے
آپ کو آواز دی اور کہا کہ میرے بھتیجے! آؤ، آپ سامنے تشریف لائے انھوں نے کہا
جاؤ اور جو تمھارا دل چاہے کہو اور جس طرح چھا ہو تبلیغ کرو خدا کی قسم میں تم کو کبھی کسی
کے حوالہ نہ کروں گا
قریش کے ہاتھوں مسلمانوں پر مظالم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کا کام پورے زور شور سے
لے سیرت ابن ہشام ۲۶۵۰-۲۱۶
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۵۶
شروع کر دیا، جب قریش آپ سے اور آپ کے چچا ابو طالہ سے مایوس ہو گئے تو ان کا
سارا غصہ ان کے قبیلہ کے ان افراد پر اترنے لگا جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا اور
ان کا کوئی حمائتی نہ تھا۔
ہر قبیلہ اپنے قبیلہ کے ان اشخاص پر ٹوٹ پڑا جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا؟
ان کو فیروز دو کوب ، بھوک پیاس اور مکہ کی سخت گرمی اور جھلسا دینے والی پیش
کی اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا۔
حضرت بلال بھی کو جو اسلام لا چکے تھے ان کے آقا امیہ ٹھیک نہتی ہوئی
دو پہر میں باہر لاتے پیٹھ کے بل لٹاتے پھر حکم دیتے کہ ایک بہت بڑا پتھر لا کر ان کے
سینہ پر رکھا جائے اور کہتے کہ ہیں ادا کی قسم نہیں تم کو اس وقت تک اسی حال
میں رکھا جائے گا جب تک تھارام محمد صل للہ علیہ سلم کا انکا
کر دو اور لات و عزمی کی پرستش کرنے لگو لیکن وہ اس سخت ابتلاء و آزمائش میں بھی
اعلان توحید سے باز نہ آتے اور کہتے” احد احد” وہ ایک ہے وہ ایک ہے۔
اس حالت میں ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس گذرے
اورامیہ کو ایک زیادہ مضبوط وتوانا اور یہ نام غلام دے کر حضرت بلال کو آزاد کرا دیا
یعنی مردم عماربن یا سیر اور ان کے والد اور والدہ (اس لئے کہ یہ اسلام کی نعمت سے
سرفراز ہو چکے تھے کو باہر لاتے اور ان کو کہ کی سخت گرمی او پیش میں مختلف قسم کی
تکلیفیں پہونچاتے اگر رسول اللہصلی الہ علیہ وسلم کا ادھر گذر ہوتا تو فرمانے
آل یا سر ذرا صبر اتمھاری منزل جنت ہے ان کی والدہ کو مشرکین نے اس وقت
له سیرت ابن ہشام ۶۰ ۳۱ – ۳۱۸
………………..……………………………..……………………………..……………………………..…
…………………………..……………………………..……………………………..……………………
۱۵۸
شہید بھی کر دیا، اس حالت میں کہ وہ اسلام کے سوا ہر چیز کا انکار کر رہی تھیں۔
مصعب بن عمیر مکہ کے بہت خوش پوشاک نوجوان تھے اور نماز ونعم میں پلے
تھے، وہ اپنے والدین کے بڑے لاڈلے تھے ان کی والدہ صاحب ثروت تھیں اور ان کو
اچھے سے اچھا لباس پہناتی تھیں ، خوشبوؤں کے استعمال میں بھی اہل مکہ میں ان سے
بڑھ کرکوئی نہ تھا حضری ہوتے جو بہت قیمتی ہوتے ہیں ان کے استعمال میں رہتے رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے تھے میں نے مکہ میں مصعب بن امیر سے
زیادہ خوش و ضع و خوبر و احجامہ زیب اور ان سے زیادہ ناز پروردہ کسی اور کو نہیں کیا
مصعب بن عمیر کو جب ی اطلاع ملی کہ سول اله صل للہ علیہ وسلم دارارقم میں عورت
اسلام دیتے ہیں تو وہ بھی وہاں پہونچے، اسلام قبول کیا، اور آپ کی تصدیق کی اوہاں
سے نکل کر یہ بات اپنی والدہ اور اپنی قوم کے ڈر سے ظاہر نہیں کی اور چھپ چھپ کر
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے ملتے رہے عثمان بن طلحہ نے ایک باران کو نماز پڑھتے
دیکھ لیا، اور ان کی والدہ اور ان کے قبیلہ والوں کو خبر کردی، وہ ان کو پکڑے گئے اور
قید کر دیا، اور جب تک ہمیشہ کی طرف پہلی ہجرت نہ ہوئی وہ جیل ہی میں رہے اس پہلے
قافلہ کے ساتھ انھوں نے ہجرت کی اپھر مسلمانوں کے ساتھ اس شان سے واپس ہوئے کہ
ان کی حالت یکسر تبدیل ہو چکی تھی، اور ری اور مرقد الحالی کی جگہ گر در این پیدا ہوگیا تھا
ان کی والدہ بھی اس تغیر حال کو دیکھ کر ان کو لعنت و ملامت کرنے سے باز رہیں ہے۔
بعض مسلمانوں نے مشرکین کی پنا بھی لی تھی یہ شرکین قریش کے با اثر وزی و انجاست
سردار تھے، اور ان کی پوری حفاظت کرتے تھے عثمان بن مظعون نے ولید بن المغیرہ کی
کے سیرت ابن ہشام ۳۱۹-۳۲ ۵۲ طبقات ابن سعد ج ۳ صلہ استیعاب ج امها
………..……………………………..……………………………..……………………………..…………
پناہ لی تھی لیکن ان کی غیرت نے اس کو گوارا نہ کیا، اور انھوں نے ان کی حمایت کی
ذمہ داری ان کو واپس کر دی، انھوں نے کہا کہ مجھے اس کی خواہش اور تمنا ہوتی کہ میں
غیر اللہ کی پناہ نہ ہوں ، ان سے او کسی مشرک سے کچھ بات ہوئی اس پر اس مشرک کو غصہ
آگیا اور اس نے اٹھ کر ان کی آنکھ پر ایک ایسا طمانچہ ماراکہ آنکھ جاتی رہی، ولید بن
المغیرہ قریب ہی یہ منظر دیکھ رہا تھا، اس نے کہا کہ خدا کی قسم میرے بھتیجے تھاری
آنکھ اس صدمہ سے محفوظ تھی، اور تم ایک مضبوط پناہ میں تھے تم نے خواہ مخواہ
اس مصیبت کو دعوت دی) حضرت عثمان بن مظعون نے جواب دیا کہ واللہ میری
اچھی آنکھ بھی یہ تمنا کر رہی ہے کہ اس کے ساتھ وہی حادثہ پیش آئے، اور اسے
عبد شمس میں تو اس کے جوار اور اس کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ صاحب
عزت اور با اقتدار ہے۔
جب حضرت عثمان بن عفان اسلام لائے تو ان کو ان کے چا حکم بن ابی العاص
بن امیہ نے خوب مضبوطی سے باندھ دیا، اور اس کے بعد کہا کہ کیا تم اپنے آباء واجداد کا دین
چھوڑ کر ایک نئے دین کو اختیار کر رہے ہو خدا کی قم میں تم کو اس وقت تک نہ کھولوں گا
جب تک تم اپنے اس دین کو نہ چھوڑ دو گے، حضرت عثمان نے کہا کہ واللہ میں اس کو کبھی بھی
نہ چھوڑوں گا جب حکم نے اپنے دین پران کی مضبوطی اور یقین دیکھاتوان کورہا کر دیا۔
خباب بن الارت بیان کرتے ہیں کہ ایک دن قریش کے لوگ مجھے پکڑ کر لے گئے،
آگ جلائی اور اس میں مجھے گھسیٹ کر ڈال دیا، پھر ایک شخص نے میرے سینہ پر اپنا
پیر اس طرح رکھ دیا کہ میری پیٹھ زمین سے بالکل لگ گئی۔
اے سیرت ابن ہشام ج امت ۳۷-۳۷۱ ۱۲ طبقات ابن سعد ج ۳۶۵۳
………..……………………………..……………………………..……………………………..…………
۱۶۰
پھر انھوں نے اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی تو معلوم ہوا کہ ساری پیٹھ پر برص کے داغ
پڑ گئے تھے کے لئے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کی دشمنی اور ایذارسانی کی مختلف کوششیں
جب ان نوجوانوں اور سرفروشانِ اسلام کو اسلام سے پھیرنے کی یہ کوششیں جو
قریش کی طرف سے ہورہی تھیں، ناکام ہوتی نظر آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں
بھی کوئی نرمی پیدا نہ ہوئی تو یہ بات اسلام کے دشمنوں پر بہت گراں گزری، انھوں نے
کچھ بے وقوفوں اور اوباش لوگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا، انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور
طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کیں آپ پر جادو گری اور شاعری کہانت اور جنوں کے
الزامات لگائے اور آپ کی ایذارسانی کے لئے نئے نئے طریقے استعمال کئے اور ہر قسم
کے حربے آزمائے۔
ایک دن سردارانِ کہ قریش میں جمع تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
تشریف لائے اور طواف کرتے ہوئے ان کے قریب سے گذرے انھوں نے کچھ فقرہ بازی کی
اور آپ پر طنز کیا تین مرتبہ جب آپ ان کے قریب سے گذرے، انھوں نے اسی طرح آپ کے
مذاق اڑایا، آخر میں آپ رک گئے اور فرمایا کہ قریش کے لوگو کا تم سنتے ہو قسم اس کی
له طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۲ مکلا له جو حطیم اور دیوار کعبہ کی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں اس کا نام
اجماعیل بھی ہے عظیم اس حصہ کا نام ہے جوکمان نا دیوار اور کعبہ اللہ کے درمیان ہے اس کے دونوں
کنارے بیت اللہ کی شمالی و غربی بہت سے لگتے ہیں اجر پہلے کعبہ میں شامل تھا جب بعثت سے قبل ایک سیلاب
میں کعبہ کی دیواریں منہدم ہوگئیں اور قریش نے نئے سرے سے اس کی تعمیر کی تو مالی دشواریوں کی وجہ سے
انھوں نے اس کو اتنا ہی رہنے دیا اور بقیہ حصہ کو ایک منڈیر یا تحضر دیوار سے گھر دیا جو مان کی شکل کی ہے۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمھارے لئے ہلاکت لے کر آیا ہوں ؟ آپ کے
ان الفاظ سے سب اس طرح خاموش ہوئے کہ معلوم ہو رہا تھا کہ کسی میں جان ہی نہیں ہے
اس کے بعد انھوں نے آپ سے ملاطفت اور تعلق کی باتیں کرنی شروع کر دیں۔
دوسرے روز بھی یہی قصہ پیش آیا ، وہ لوگ اس جگہ جمع تھے کہ رسول الشر صلی اللہ
علیہ وسلم تشریف لائے وہ سب ایک ساتھ آپ پر ٹوٹ پڑے اور آپ کو گھر لیا ان ای سے
ایک شخص نے آپ کی چادرپکڑ کر اس طرح گھٹنی شروع کی کہ گلوئے مبارک کو اذیت پہونچی
یہ دیکھتے ہیں حضرت ابو بکر صدائی آپ کے اور اس شخص کے بیچ میں گئے اور رورو کر
یہ کہنے لگے اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ کیا تم ایک شخص کو محض اتنی بات پر
جان سے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اس پر انھوں نے آپ کو تو
چھوڑ دیا لیکن حضرت ابوبکر اس حالت میں گھر واپس ہوئے کہ ان کا سر کھل گیا تھا
ان کی داڑھی پکڑ کر کھینچتے ہوئے اُن کو باہرلے جایا گیا۔
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئے تو آپ کو دن بھر سخت اذیتوں کا
سامنا کرنا پڑا کوئی ایسا شخص ( آزاد یا غلام) نہ ملا جس نے آپ کی تکذیب نہ کی ہو
اور آپ کو کسی نہ کسی قسم کی تکلیف نہ پہونچائی ہوا جب آپ اپنے گھر تشریف لائے تو
تکلیف کے اثر سے آپ چادر اوڑھ کر لیٹ گئے، اس وقت سورہ مری کی ابتدائی آیات
نازل ہوئیں، اور آپ کو یا ایها المد ید کہہ کر خطاب کیا گیا ہے
اے تفصیل کے لئے ملاحظہ موسیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۸۹-۲۹۱ امام بخاری نے بھی یہ واقعہ
مختصر بیان کیا ہے۔ باب ما لقی رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه من
المشركين بمكة.
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۶۲
حضرت ابوبکری کے ساتھ کفار قریش کا معاملہ
ایک دن حضرت ابو بکر ایک مجمع میں تبلیغ کی نیت سے کھڑے ہوئے اور اللہ اور
اس کے رسول کی دعوت دینی شروع کی تو شرکین غلیظ و غصہ کے عالم میں ان پر ٹوٹ
پڑے اور ان کو بہت زیادہ زد و کوب کیا، عتبہ بن ربیعہ دو پھٹے پرانے جوتوں سے ان کے
چہرہ کو اس طرح اُتا رہا کہ بعد میں ان کے چہرہ کے خدو خال پہچانے نہ جاتے تھے۔
بنو تمیم حضرت ابوبکر کو اس حالت میں اُٹھا کر لے گئے کہ ان کو ان کی موت میں
کوئی شیشہ نہ تھا، دن ڈھلے آپ کو ہوش آیا اور پہلا لفظ جو آپ کی زبان سے نکلا وہ
ی تھا کہ بتاؤ رسول اثر صلی اللہ علیہ سلم خیریت سے ہیں ؟ انھوں نے اس پر ان کو برا بھلا
کہا کہ اس حال میں بھی ان کو اپنے سے زیادہ ان کی فکر ہے جن کی وجہ سے یہ ساری پریشانی
اٹھانی پڑی) اسی وقت ام جمیل جو اسلام لا چکی تھیں ان سے قریب ہوئیں تو انھوں نے میں سے تو
ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے بارہ میں دریافت کیا، انھوں نے کہا آپ کی
والدہ قریب کھڑی نہیں سن لیں گی، انھوں نے کہا کہ اُن کے سامنے کوئی حرج نہیں
ام جمیل نے بتایا کہ آپ بخیر اور صحیح سالم ہیں انھوں نے کہا میری اللہ سے نذر ہے کہ
میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا نہ ہوں گا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت با برکت میں حاضر نہ ہو جاؤں لیکن وہ دونوں رک گئیں ، جب لوگوں کی
آمد و رفت بند ہوئی اور سناٹا ہوا تو وہ دونوں حضرت ابو بکری کو سہارا دے کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں ، ان کی یہ حالت دیکھ کر حضور
پر بہت اثر پڑا، آپ نے اُن کی والدہ کے لئے بہت دعاء کی اور ان کو اسلام لانے پر
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
آمادہ کیا اور وہ اُسی وقت مسلمان ہو گئیں ہے۔ ۱۹۳
لوگوں کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے میں قریش کا ترو د و پریشانی
قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں بہت پریشان تھے اور ان کی سمجھ میں
نہ آتا تھا کہ آپ کی کیا ایسی بات بیان کریں جس سے لوگ آپ سے بدگمان ہو جائیں اور آپ
کے پاس آنے سے باز آئیں وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح ان قافلوں کو جو دور دراز قری سے آتے تھے اور
آپ کا پیغام سنتے تھے آپ سے دور رکھا جائے وہ سب مل کر ولید بن المغیرہ کے پاس
جو ان سب میں زیادہ کمر تھا اور سچ کا کام بھی آچکا تھا پہونچے اور ان سے مشورہ چاہا
انہوں کہا کہ اے جماعت قریش کا زمانہ آچکا ہے اس موسم میں عرب کے مختلف وفود
آئیں گے اور ان سے کے کان میں یہ بات پڑچکی ہے اس لئے ان صاحب (رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کوئی ایسی متفقہ بات اور کوئی ایسا صیغہ صیغہ کے طے کر لو جس سے
ایک دوسرے کی تکذیب نہ ہوا اور سب ایک ہی بات کہیں بہت دیر تک اس مسلہ میں
غور و خوص ہوتا رہا، اور مختلف تجویزیں سامنے آئیں لیکن ولید کو کسی بات پر اطمینان
نہ ہوا، اور اس نے ان کی ساری تجویزوں کو ناقص ٹھہرایا، اب انھوں نے خود اس کی رائے
پوچھی اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو سب سے زیادہ دل لگنے والی بات یہ ہوگی کہ
سب مل کر یہ کہوا وہ جادو گر ہے، جادو کرنے آیا ہے وہ اپنے جادو سے باپ بیٹے
بھائی بھائی ، میاں بیوی اور خاندان والوں میں جھدائی پیدا کر دیتا ہے۔
یہ پیغام لے کر وہ وہاں سے واپس ہوئے جب موسم حج کا آغاز ہوا، اور قافلوں کی
ے سیرت ابن کثیر ج اص ۲۲۳۹-۴۴۱
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………آمد شروع ہوئی تو یہ سب مختلف گزرگاہوں اور عام شاہراہوں پیٹھ گئے جو بھی گذرتا
وہ اسے آپ کے پاس جانے سے روکتے اور یہ سب باتیں جو طے کی گئی تھیں دہراتے لیے
رسول اللہ صل اللہ عیہ علم کی ایذا رسانی میں قریش کی سنگدلی بے رحمی
قریش نے رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم کی ایذا رسانی میں سنگدلی بے رحمی کی انتہا کردی
مختلف طریقوں سے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچائیں نہ قرابت اور رشتہ کا پاس کیا،
نہ انسانیت کا لحاظ
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمسجد حرام میں سربسجود تھے
قریش کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط کہیں سے اونٹ کی ایک زنی او کھڑی
لایا اور آپ کی پیٹھ پر پھینک یا آپ اسی طرح سجدہ میں پڑے رہے یہاں تک کہ صاحبزادی
فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور اس کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا، اورمیں نے پہ رکت
کی تھی اس کے لئے بددعا کی، آپ نے بھی ان لوگوں کے لئے بد دعا کی ہے
حضرت حمزہ کا قبول اسلام
ایک دن ابو جہل صفا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کے قری سے گزرا اور
آپ کو بہت برا بھلا کہا اوراذیت پہونچائی آپ نے اس کوئی جواب نہیں یا و پا یا خوشی میں
میں حضرت حمزہ تیر کمان لگائے ہوئے ایک شکار سے واپس آئے ، یہ قریش کے سے بہادر
اور حوصلہ مند نوجوان سمجھے جاتے تھے ان کو عبد اللہ بن جدعان کی باندی نے سب ماجرا
له سیرت ابن ہشام ج اصف باختصار له بخاری باب ذكر ما لقي النبي صلى الله علیه مسلم .
واصحابه من المشركين بمكة ؟
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
بتایا ، وہ غصہ میں اسی وقت مسجد حرام میں داخل ہوئے دیکھا کہ ابو جہل اپنے آدمیوں کے
حلقہ میں بیٹھا ہوا ہے، وہ اس کے قریب گئے اور بالکل سر کے اوپر کھڑے ہوکر یہی کمان
اس کے سر کے اوپر ماری اور اس کو سخت زخمی کردیا اور کہا کہ تمہاری یہ جرات کہ تم ان کو
برا بھلا کہو اور گالی دو حالانکہ میں ان ہی کے دین پر ہوں اور جو وہ کہتے ہیں وہی میں کہتا
ہوں، ابو جہل خاموش رہا حضرت حمزہ اسلام لے آئے اور قریش کو ان کی شجاعت
رسوخ اور وجاہت کی وجہ سے اس بات سے سخت ضرب پہونچی ہے۔
عتبہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت
جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حامیوں اور ایمان
لانے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے تو عقبہ بن ربیعہ نے یہ تجویز پیش کی کہ
رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کے ذریعہ مفاہمت کی کوئی شکل پیدا کی جائے
اس نے قریش سے اجازت چاہی کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر کچھ
پیش کش اور تجویزیں ان کے سامنے رکھنا چاہتا ہے ممکن ہے وہ اس کو قبول کر کے
اپنی دعوت تبلیغ سے باز آجائیں، قریش نے اس کو اجازت دیدی اور اپنا نمائیندہ
بھی قرار دیا۔
عقبہ رسول الله صلى الله علی الله صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ
میرے بھتیجے تم ہمارے درمیان میں حیثیت کے مالک ہو اس کا تھیں علم ہے تم نے
ایک بڑے جھگڑے کی بات اپنی قوم میں کھڑی کر دی ہے تم نے ان کے شیرازہ کو
کے سیرت ابن ہشام ، ج اصل ۲۹۲۹۱۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
194
منتشر کیا، ان کو بے وقوت و جاہل ٹھہرایا، ان کے معبودوں اور ان کے مذہب کو عیب
لگایا، ان کے اسلاف اور آباء و اجداد کے طریقہ کا انکار کیا، اب میں کچھ باتیں تمھارے
سامنے رکھتا ہوں ممکن ہے اس میں سے کوئی بات تمھارے لئے قابل قبول ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابو الولید کہوں میں سن رہا ہوں !
اس نے کہا کہ میرے بھتیجے جو طریقہ و دین تم لائے ہو اگر اس سے تمھارا مطلب
و قصور مال و دولت ہے تو ہم یہ مال و دولت تمھارے لئے اتنا اکٹھا کردیں گے کرتم ہمیں
سے زیادہ مال دار ہو جاؤ گے اگر عزت اور ناموری چاہتے ہو تو ہم تھیں اپنا سردار
تسلیم کر لیں گے اور کوئی فیصلہ تمہاری مرضی کے بغیر نہیں کریں گے اگر بادشاہت چاہتے
ہو تو ہم تم کو بادشاہ بنائیں گے، اگر آسیب اور جن وغیرہ کے اثر سے یہ بات ہے
جس کا دفعہ تمھارے پاس نہیں ہے تو اس کے لئے ہم معالجین فراہم کر سکتے ہیں اور
اس پر پوری فیاضی سے اپنا مال خوب کر سکتے ہیں یہاں تک کہ تم کو اس سے شفاء
کامل حاصل ہو جائے۔
جب
جب علیہ سب کہہ چکا تو سول للہ صل للہ علیہ وسلمنے فرمایاکہ کیا کچھ کہنا
تھا تم کہ چکے؟ اس نے کہا۔ ہاں !
آپ نے فرمایا، اب مجھ سے سنو !!
اس کے بعد آپ نے سورہ فصلت کی کچھ آیتیں سجدہ تک اس کے سامنے تلاوت
کیں ملکیہ کے کان میں جب یہ کلام پڑا تو اس نے خاموشی کے ساتھ اس کو سننا شروع
کیا، اس نے دونوں ہاتھ پشت کی طرف ٹیک لئے تھے اور کان کلام ربانی سنتے ہیں تو
تھے ، جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ تک پہونچے تو آپ نے سجدہ فرمایا
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
196
اور ارشاد ہوا، ابو الولی تھیں جو کچھ سنا تھا ٹن نیا، اب جیسا تم سمجھو!
عقبہ جب لوٹ کر اپنے ساتھیوں میں آ گیا تو لوگ اس کی صورت دیکھ کر کہنے لگئے
ہم قسم کھاکے کہتے ہیں کہ ابوالولید میں چہرے کے ساتھ گئے تھے۔ یہ چہرہ اس سے بدلا ہوا ہے
جب وہ بیٹھا تو لوگوں نے فورا پوچھا، ابوالولید کیا خبر ائے؟ کہنے لگا خبر یہ ہے کہیں نے
ایک ایسا کلام سنا ہےجو اسے پہلےمیں نے کبھی نہیں ساتھ خدا کی قسم اے قریشیوا
نہ وہ شور ہے نہ وہ سحر ہے نہ کہانت او علم نجوم ہے، میری بات مانو اور اس شخص کو
اس کے حال پر چھوڑ دو اس پر انھوں نے اس کو برا بھلا کہنا شروع کیا، انھوں نے کہا کہ
واللہ اس کی زبان کا جادو تم پر چل گیا۔
اس نے کہا میری رائے یہی ہے، اب جو تمھارا جی چاہے کر وہ
مسلمانوں کی جلسہ کی طرف ہجرت
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے دیکھا کہ آپ کے اصحاب رفقاء کو
سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آپ ان کی حفاظت و مدافعت پر
قادر نہیں ہیں تو آپ نے ان سے فرمایا اگر تم لوگ بیشہ کی طرف نکل جاؤ تو اچھا ہے
وہاں کا جو بادشاہ ہے اس کی وجہ سے کوئی دوسرے نظام نہیں کرتا وہ ایک چھا ملک ہے
یہاں تک کہ اثر تالے تمھارے لئے نجاست و کشادگی کا کوئی سامان پیدا کر دے۔
اس موقعہ پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف ہجرت کی یہ اسلام
میں پہلی ہجرت تھی، یہ دس آدمی تھے اور انھوں نے اپنا امیر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ
له سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۹ – ۲۹۴
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
کو مقر رکیا تھا، اس کے بعد جعفر بن ابی طالب نے ہجرت کی پھر اس کے بعد میٹہ گیری کے بعد
وہاں پہونچے ان میں سے کچھ لوگ تنہا تھے، اور کچھ اہل وعیال کے ساتھ تھے ان لوگوں
کی جنھوں نے ہمیشہ کی ہجرت کی کل تعداد تراسی بنائی گئی ہے۔
ہجرت حبشہ کا واحد محرک قریش کی ایذارسانی سے نجات ہی نہ تھی، بلکہ اسلام
کی دعوت اور نبی کریم صل للہ علیہ وآلہ سلم کی کوکم کرنا بھی تھا۔
مہاجرین کی فہرست کے جائزہ سے اس کے دائرہ کی وسعت و تنوع کا
اندازہ ہوتا ہے اور علوم ہوتا ہے کہ اس میں معاشرہ کے تمام طبقات کی نمائندگی ہے
امیر و فقیر بھی نظر آتے ہیں، بوڑھے اور جوان بھی، مرد بھی اور عورتیں بھی اور ان کی
اکثریت کا تعلق مکہ کے قدیم خاندانوں سے تھا جس سے دعوت اسلامی کی زبر دست
تاثیر اور اس کی قوت و وسعت کا پتہ چلتا ہے۔
قریش کا تعاقب
قریش نے یہ دیکھا کہ مسلمان وہاں پہونچ گئے ہیں اور آرام و سکون سے ہیں تو
انھوں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص بن وائل کو وہاں بھیجا، اور ان کے
ساتھ نجاشی اور اس کے جنگ جو سرداروں اور سپہ سالاروں کے لئے بہت سے تحائف
اور ہدایا بھی بھیجے جو مکہ کی خاص سوغات سمجھے جاتے تھے، یہ دونوں نجاشی کے دربار
میں حاضر ہوئے اس کے سپہ سالاروں اور سرداروں کو طرح طرح کے تحفے دے کر
وہ پہلے ہی ہموار کر چکے تھے بادشاہ کے دربار میں دونوں نمائیندوں نے اپنی گفتگو
لے سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۳۲ – ۳۲۱
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۶۹
اس طرح شروع کی :۔
بادشاہ معظم کے ملک میں ہمارے یہاں کے کچھ بے وقوت لڑکوں نے آکر
پناہ لی ہے، جنھوں نے اپنا دین بھی چھوڑا ہے اور آپ کا دین بھی قبول نہیں کیا
بلکہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جس کو ہم جانتے پہچانتے ہیں نہ آپ ہمیں آپکے
پاس ان کی قوم کے کچھ سربرآوردہ و ذمہ دار لوگوں نے ایوان کے باپ چا
اور قریبی عزیزہ ہوتے ہیں بھیجا ہے تاکہ آپ ان لڑکوں کو واپس کردیں
اس لئے ہے کہ یہ ان کے معاملات سے زیادہ واقف اور ان سے زیادہ قریب ہیں۔
جو سردار بادشاہ کے گرد و پیش تھے یک زبان ہو کر بولے یہ دونوں بالکل
صحیح کہ رہے ہیں آپ ان کو ان کے پرد کر دیں نجاشی کو اس بات پر بہت غصہ
آیا، اور اس نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور یہ پسند نہیں کیا کہ جو اس کی
پناہ لینے آئے اس کو اس طرح بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے، اس نے اس پر
قسم کھائی، اور سلمانوں کو بلایا اور اپنے پادریوں کو جمع کیا، اور سلمانوں کی طرف
روئے سخن کرتے ہوئے کہا، وہ دین کیا ہے جس کے لئے تم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا
ہے، اور اس کو ترک کرنے کے بعد نہ میرے دین کو قبول کیا ، اور نہ کسی اور
دین و مذہب کو اختیار کیا ہے ؟
جاہلیت کی تصویر کشی اور اسلام کا تعارف جعفر بن ابی طالب کی زبان سے
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی جعفر بن ابی طالب
کھڑے ہوئے اور انھوں نے حسب ذیل تقریر کی :-
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
اے بادشاہ، ہم ایک جاہلیت والی قوم تھے بہتوں کو پوجتے تھے مردار
کھاتے تھے یہ تم کی بے حیائیوں اور گناہوں میں آلودہ تھے ہم میں جو طاقتور
ہوتا وہ کمزور کو پھاڑ کھا تا ہم اس حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں
ایک رسول بھیجا، جس کے خاندان و نسب جس سے اور جس کی سچائی
امانت داری اور عفت و پاک بازی سے ہم پہلے سے واقف تھے،
انھوں نے ہم کو یہ دعوت دی کہ ہم صرف ایک اللہ پر ایمان لائیں اور
اسی کی عبادت کریں اور ہم اور ہمارے باپ دادا جن بتوں اور پرورد
کو پوجتے تھے، اس کو بالکل چھوڑ دیں اور ان سے قطع تعلق کر لیں،
انھوں نے ہم کو سچ بولنے، امانت ادا کرتے رشتہ داری کا خیال کرنے
پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے، ناجائز و حرام باتوں اور ناحق خون سے
پر ہیز کرنے کا حکم دیا، بے حیائی کے کاموں جھوٹ فریب یتیم کا مال کھانے
پاک امن و پاک باز عورتوں پر الزام لگانے سے منع فرمایا، انھوں نے ہم کو
حکم دیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی
نے کو شریک نہ ٹھہرائیں، انھوں نے ہمیں نماز کا زکوۃ کا روزہ کا حکم
دیا اس موقع پر انھوں نے اس طرح کے اور ارکان اسلام بیان کئے
ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے اور جو طریقہ وعلیم وہ الہ
کی طرف سے لائے ہیں اس کی پیروی کی صرف ایک اللہ کی عبادت ہے
اختیار کی اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کیا جو انھوں نے حرام کیا
اس کو حرام مانا جو انھوں نے حلال کیا، اس کو حلال تسلیم کیا، اس پر
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
161
ہماری قوم بہاری پیشی پر کریتہ ہو گئی، انھوں نے ہم کو طرح طرح کی
تکلیفیں پہونچائیں اور ہم کو اس دین سے پھرنے کے لئے مختلف آزمائشوں
میں ڈالا اور اس کی کو شش کی کہ اللہ کی عبادت کو چھو کر ہم پرستوں کی
عبادت کو اختیار کرلیں اور جن گنا ہوں اور جن جرائم کو پہلے جائز سمجھتے
تھے پھر جائز اور حلال سمجھنے لگیں۔
جب انھوں نے ہمارے ساتھ بہت زور زبردستی کی ہم پر ظلم کیا،
ہمارا جینا دو بھر کر دیا اور ہمارے دین کے راستہ میں دیوار بن کر کھڑے
ہو گئے تو ہم آپ کے ملک میں پناہ لینے کے لئے آئے اور اس کے لئے آپ سے کا
انتخاب کیا، آپ کے جوار اور پناہ کی خواہش کی راے بادشاہ ہم یہاں
یہ امید لے کر آئے ہیں کہ ہم پر کوئی ظلم نہ کیا جا سکے گا
نجاشی نے یہ پوری تقریر سکون و وقار سے سنی اور کہا کہ تمھارے نہیں اللہ کے پاس سے
جو کچھ لائے ہیں، اس کی کوئی چیز تھا سے پاس ہے؟
حضرت جعفر نے کہا کہ ہے ۔
نجاشی نے کہا کہ مجھے وہ پڑھ کر سناؤ۔
حضرت جعفر نے سورہ مری کی ابتدائی آیتیں تلاوت کیں تو نجاشی رو پیا اور
اس کے آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہوگئی اس کے دربار کے پادریوں پر بھی گریہ
طاری ہو گیا، یہاں تک کہ ان کے (مذہبی) صحیفے آنسوؤں سے بھیگ گئے۔
حضرت جعفر کی حکمت و بلاغت
شاہ حبشہ کے سامنے حضرت جعفر بن ابی طالب کی تقریر اور اسلام کی دعوت کی
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
اُن کی حکمت موقعہ و محل کی رعایت اور نفسیات انسانی کی وافقیت کا دل آویز
نمونہ ہے، اس سے لفظی بلاغت سے کہیں زیادہ عقلی بلاغت کا اظہار ہوتا ہے
جس کی ہدایت ربانی اور تائید غیبی کے سوا کوئی توجہ نہیں کی جاسکتی، اسی کے ساتھ
اس سے حضرت جعفر کی سلامتی طبع اور دور اندیشی کا بھی پتہ چلتا ہے جس میں بنو ہاشم
قریش پر اور قریش تمام عرب پر فائق تھے، اس موقعہ پر حضرت جعفر نے اپنی تقریر کو
عرب جاہلیت کی صورت حال پیش کرنے اور یہ بنانے تک محدود رکھا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا، آپ نے اللہ کی طرف بلایا
اور دین حق کی دعوت، مکارم اخلاق کی تعلیم دی، جو لوگ اس پر ایمان لائے ان کی
زندگیوں میں انقلاب عظیم رونما ہوا، بصورت حال کی ایسی وضاحت و مصوری ہے
جو ایک آپ بیتی کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے بیان کرنے والے کی صداقت میں شبہ
کی گنجائش نہیں، حکیمانہ دعوت و بیان حقیقت کا ایک ایسا اسلوب ہے، جو ہمیشہ
کرنے والے کے لئے نہ تو مشکلات و شبہات پیدا کرنے والا ہے نہ مخالفین و معترضین کو
جرح کرنے اور سامعین کو مخالفت پر آمادہ کرنے کا موقعہ دینے والا ہے، ایک امر واقعہ
اور ایک معاشرہ کی سچی سرگزشت ہے جس میں ایک نبی کی دعوت و تعلیم نے قبول کرنے
والوں کو انسانیت کی پست ترین سطح سے اٹھا کر بلند ترین سطح پر پہونچا دیا، جس کا جی چاہے
اس کو جانچے، اور اس انقلاب حال کو آنکھوں سے دیکھ لے۔
وفد قریش کی ناکامی
نجاشی نے کہا کہ بلا شبہ یہ اور جو کچھ حضرت عیسیٰ علانے تھے ایک ہی نور کی
۱۳۸
له ” روائع من ادب الدعوة في القرآن والسيرة از مؤلف صفحات
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
16٣
کر میں ہیں، پھر وہ قریش کے دونوں قاصدوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا تم یہاں سے
پہلے جاؤ، خدا کی قسم میں ان کو تمھارے حوالہ کرنے والا نہیں۔
اس موقع پر عمرو بن العاص نے اپنے ترکش کا آخری تیر چلایا، یہ ایک زہر میں
بچھا ہوا تیر تھا۔ انھوں نے کہا کہ ۔
بادشاہ سلامت ! یه لوگ حضرت مسیح کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا
زبان سے نکالنا بھی مشکل ہے۔
نجاشی نے پوچھا کہ تم لوگ حضرت مسیح کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
جعفر بن ابی طالب نے جواب دیا، ہم ان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہارے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے، وہ اللہ کے بندے ہیں اس کے رسول ہیں
اور اس کی روح اور کلمہ نہیں جو اس ماز مریم پر القا کیا ، یہ
نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور ایک تنکا اٹھ کر کہاکہ خداکی تم جو کچھ م نے بیان کیا ہے
حضرت علی اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہیں۔
اس نے مسلمانوں کو بہت اعزاز و اکرام سے رخصت کیا، ان کو امان دی
قریش کے وہ دونوں قاصد ذلیل و خوار ہو کر وہاں سے نکلے اور مسلمانوں نے بہت
اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں عزت کی جگہ پائی ہے
مسلمانوں کا جذیہ احسان شناسی
اسی زمانہ میں نجاشی کے کسی دشمن نے اس پر حملہ کیا، جہا جو مسلمانوں نے
ے سیرت ابن ہشام ج ۱ ص۳۳۲ – ۳۳۸ باختصار
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
16
اپنے بارے میں نجاشی کے قابل تعریف موقف اور اس کے احسان کے جواب میں اس کا
ساتھ دیا، جو اسلام کی اخلاقی تعلیمات کے مطابق اور مسلمانوں کے اخلاق کے
شایان شان تھا۔
جلسہ میں دین کی دعوت اور اسلام کا تعارف
حبشہ کی ہجرت شہر نبوی میں ہوئی تھی جہاں جعفر بن ابی طالب اپنے ساتھیوں
کے ساتھ مستقر رہے اور وہ غزوہ خیبر کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم
کی خدمت میں آئے اس طرح وہ تقریبا پندرہ سال حبشہ میں رہے، جو ایک طویل
مدت ہوتی ہے، جس سے حضرت جعفر رمہ نے دعوت اسلامی کے سلسلہ میں ضرور فائدہ
اٹھایا ہوگا، کہ وہ ملک دوسرے نصرانی مالک کے مقابلہ میں رواداری اور مظلوموں کی
پناہ دینے میں خاص امتیاز رکھتا تھا، اور اس کا حاکم اپنے انصاف اور انسانیت
کے لئے معروف تھا، مگر وہ زمانہ تفصیلی و تحریری وقائع نگاری کا نہیں تھا، اس لئے
اس کے ثبوت میں اگر چہ ہمارے سامنے تاریخی و دستاویزی حقائق تو نہیں ہیں لیکن یہ بات
ہر طرح قرین قیاس ہے کہ انھوں نے اس طویل قیام سے (جس سے کوئی اور فائدہ
اٹھانا مقصود نہ تھا، دین کی دعوت اور اسلام کے تعارف میں پورا فائدہ اٹھایا ہوگا۔
حضرت عمرہ کے قبول اسلام کا واقعہ
پھر اللہ تعالیٰ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے ذریعہ اسلام
له مند امام احمد بن مقبل ج اصل ۲۷
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۶۵
اور مسلمانوں کی نصرت و حمایت کا غلبی سامان کیا، حضرت عمرہ قبیلہ قریش کے
ایک معزز شخص تھے وہ بہت بار بجیب پر جلال اور طاقت ور شخصیت کے مالک
تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بڑی خواہش اور آرزو تھی کہ وہ مسلمان
ہو جائیں، آپ اس کے لئے دعا بھی فرمایا کرتے تھے۔
ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ ان کی بہن فاطمہ بنت الخطاب بہ اسلام
لاچکی تھیں اور ان کے بعد ان کے شوہر سعید بن زید بھی مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے
لیکن دونوں نے اپنے قبول اسلام کو حضرت عمر کے رعب و دید یه نیز اسلام اور
مسلمانوں کے ساتھ ان کی سخت گیری کی وجہ سے اب تک ظاہر نہیں کیا تھا،
خباب بن الارت فاطمہ کو قرآن پڑھاتے تھے۔
حضرت عمر ایک مرتبہ تلوار لٹکائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ
کے اصحاب کرام کی تلاش میں نکلے ان کو یہ اطلاع مل چکی تھی کہ یہ سب حضرات اس است
صفا کے قریب کسی گھرمیں جمع ہیں راستہ میں ان ک نعیم بن عبد اللہ نے جہان ہی کے
قبیلہ بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے اور اسلام لاچکے تھے انھوں نے پوچھا تم کہاں
کا ارادہ ہے ؟ کہنے لگے کہ (نعوذ بالله محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کرنے جارہا ہوں
جس نے بے دینی اختیار کی، قریش کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا، ان کو جاہل و بے وقوت
قرار دیا، ان کے دین کو عیب لگایا معبودوں کو گالیاں دیں، آج ان کا قصہ ہی تمام
کر دیتا ہے۔
نیم نے کہا عمر ہم اس دور میں پڑے ہواپنے گھروالوں کی خیر لو اور پہلا ٹھیک کرو
حضرت عمر نے پوچھا، میرے گھر میں کون ؟
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
164
انھوں نے جواب یا تمھارے بہنوئی اور چچازاد بھائی سعید بن زیدا تمھاری
بہن فاطمہ یہ دونوں مسلمان ہو چکے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین اختیار
کر چکے ہیں، پہلے ان کو دیکھ لو۔
حضرت عمر الٹے پاؤں اپنی بہن اور بہنوئی کی طرف چل دیئے ، اس وقت
ان کے پاس جناب بن الارت بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک صحیفہ تھا جس میں
سورۂ کہف لکھی ہوئی تھی، اور وہ ان کو یہ سورہ پڑھا رہے تھے جب ان کو حضرت عمر
کی آہٹ محسوس ہوئی تو جناب گھر کے ایک اندرونی کمرہ میں چھپ گئے، فاطمہ نے
صحیفہ جلدی سے ران کے نیچے دبالیا لیکن حضرت عمر نے جناب بن الارت کی تلاوت
و قراءت سن لی تھی جب اندر داخل ہوئے تو پوچھا کہ یہ کیا کھسر پھسر ہو رہی تھی ؟
ان دونوں نے جواب دیا کہ کیا تم نے کچھ سن لیا؟ انھوں نے کہا، ہاں سنا ہے، اور
مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ تم نے محمد کا دین قبول کر لیا ہے پھر وہ اپنے بہنوئی سعید بن
زیاد کو مار نے دوڑے ان کی بہن فاطمہ ان کو بچانے کے لئے لپکیں تو انھوں نے
ان کی بھی خبر لی اور زخمی کر دیا۔
جب یہ سب کچھ کر چکے تو ان کی بہن اور بہنوئی نے کہا کہ ہاں بے شک
ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں اب تم ہمارا
جو چاہے کر لو۔
جب عمر نے اپنی بہن کے جسم پر خون کے دھتے دیکھے تو ان کا جوش ٹھنڈا
ہوا اوران کواپنے اس فعل پر ندامت سی ہوئی وہ رک گئے، اور کہنے لگے، مجھے
وہ صحیفہ دو جو ابھی میں نے پڑھتے ہوئے تم دونوں کو سنا تھا، میں دیکھوں کہ محمد کی
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
166
تعلیم کیا ہے؟ حضرت عمر نہ پڑھے لکھے تھے، جب انھوں نے یہ کہا تو ان کی بہن بولیں کہ
ہمیں ڈر ہے کہ معلوم نہیں تم اس کے ساتھ کیا کرو، انھوں نے کہا تم ڈرو نہیں اطمینان )
رکھو، انھوں نے اپنے معبودوں کی قسم کھا کر ان کو اس کا یقین دلایا، جب انھوں نے
ایسی باتیں کہیں تو ان کی بہن کو یہ لالچ ہوئی کہ شاید عمر اسلام لے آئیں، انھوں نے
نرمی سے کہا بھائی جان آپ شرک کی وجہ سے نجس و ناپاک ہیں، اور اس صحیفہ کو
صرف پاک آدمی چھو سکتا ہے۔
حضرت عمر کھڑے ہوئے، جا کر غسل کیا تب ان کی بہن نے یہ صحیفہ ان کے
ہاتھ میں دیا، اس میں سورہ طہ درج تھی، تھوڑا ہی ساپڑھا تھا کہ حضرت عمر
بول اٹھے کیا پاکیزہ اور لائق احترام کلام ہے ؟
جب اپنے کرسامنے جب جناب نے یہ سنانو اپنے حجرہ سے نکل کر سامنے آگئے اور کہنے لگے اسے عمرا
خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبی کی دعوت سے آپ کو ضرور سر فراز کرے گا۔
اس لئے کہ میں نے کل ہی حضور کو یہ دعا کرتے سنا تھا، اے اللہ اسلام کی ابوالحکم بن
ہشام (ابو جہل) یا عمربن الخطاب کے ذریعہ مدد فرما، اے عمر اب تو تم کو کچھ اللہ کا
خون اور شرم و لحاظ آنا چاہیئے۔
اس وقت عمر نے کہا، جناب! مجھے محمد کے پاس لے چلو میں ان کے ہاتھ پر
اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں، جناب نے کہا کہ وہ صفا کے پاس ایک گھر میں ہیں
آپ کے ساتھ اور کئی ہمراہی ہیں، حضرت عمر نے تلوار حمائل کی، اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور دروازہ پر دستک دی، جب انھوں نے ان کی آواز
سن تو ایک صحابی نے کھڑے ہو کر اور پہلے دروازہ کی دراز سے جھانک کر اطمینان
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
کرنا چاہا، دیکھا کہ وہ تلوار لگا کرآئے ہیں۔ وہ گھبرائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم
کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ا عمربن الخطاب ہیں اور تلوار لگ کر آئے ہیں
حضرت حمزہ بولے آنے دو، اگر وہ نیک ارادے سے آرہے ہیں تو بسم اللہ اور نہیں تو
ہم ان یہی کی تلوار سے ان کا کام تمام کر دیں گے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ الہ وسلم نے
فرمایا کہ اجازت دے دو چنانچہ اپنی صحابی رض نے حضرت عمر کو آنے کی اجازت دے دی۔
حضرت عمر آنے لگے تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر مجھ میں ہے علیہ
لے اور ان کا دامن باگریان مضبوطی سے پکڑا رکھنا اور فرمایا این خطاب ایہاں
کس ارادہ سے آئے ہو خدا کی قسم مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ خاتمہ سے پہلے تمہیں کوئی
سخت آفت یا مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حضرت عمر نے کہا، یا رسول اللہ میں آپ کے پاس اللہ اور اس کے رسول پر
ایمان لاتے اور الشرتعالی نے جو ہدایت اور تعلیم ان کے ذریعہ بھیجی ہے اس کو قبول
کرنے حاضر ہوا ہوں ۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ سن کر رسل اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے توہ تکبیر بید
کیا، اس تکبیر سے اس گھر میں جتنے صحابہ کرام تشریف رکھتے تھے سب سمجھ گئے
کہ عمر مسلمان ہو گئے
حضرت عمر کے اسلام لانے سے مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی اور عرب تنفس کا
احساس پیدا ہوا حضرت حمزہ پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے، وہ جانتے تھے کہ
کفار قریش پر اس واقعہ کا کتنا سخت رد عمل ہوگا، اور مکہ کی زندگی میں اس کا
لے سیرت ابن ہشام ۳۴۶۰- ۳۴۲
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
169
کیا اثر محسوس کیا جائے گا، اوران کا یہ خیال کچھ خوش فہمی پر مبنی نہ تھا ، اس لئے کہ
مشرکین پر کسی شخص کا اسلام لانا اتنا شاق نہیں گزرا تھا، اور اس کو وہ اہمیت .
نہیں دی گئی تھی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کو دی گئی۔
حضرت عمر نے اپنے مسلمان ہونے کا کھل کر اعلان کیا ، یہ بات قریش میں
فوراً پھیل گئی ، حضرت عمر سے بھی لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے، اور حضرت عمرم
بھی پوری طرح مقابلہ پر آگئے اور آخر کا مخالفین اور دشمنان اسلام شکستہ و نامر
ہو کر اور بہت ہار کر بیٹھ رہے۔
قریش کی طرف سے بنی ہاشم کا مقاطعہ اور محاصرہ
اسلام قبائل عرب میں تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا تو قریش کو بڑی فکر ہوئی انہوں نے
ایک مشاورتی اجتماع کیا اور اس میں یہ بات طے کی گئی کہ ایسا معاہدہ تحریر کیا جائے
جس کے ذریعہ بنی ہاشم اوربنی عبد المطلب کو اس کا پابند کر دیا جائے کہ وہ کسی اور جگہ
شادی نہیں کر سکتے نہ دوسرے ان سے شادی کرنے کے مجاز ہوں گے نہ کوئی چیز ان کے
ہاتھ فروخت کریں گے نہ ان سے خریدیں گے اجتماع کے بعد انھوں نے ان دفعات
کو ایک تحریر کی شکل میں قلم بند کیا پھر سب نے ایک عہد نامہ اور میثاق کی حیثیت سے
اس کو با ضابطہ طور پر منظور اور واجب العمل قرار دیا، اور مزید توثیق کے لئے۔
یہ معاہدہ کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا گیا۔
له سیرت ابن ہشام جرا ۳۴۹۰
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۰
شعب ابی طالب ہیں
جب قریش نے ایسا معلمہ کیا تو نو ہاشم اور بنو مطلب ابو طالب کے ساتھ ہو گئے
اور اس گھائی یا وادی میں ان کے ساتھ محصور ہو گئے، یہ کہ بعد بعثت کا واقعہ ہے،
بنو ہاشم میں سے ابو لہب بن عبد المطلب اس میں شامل نہ تھا وہ قریش کا ہم نوا تھا،
بنو باشیم ایک عرصہ تک اسی طرح محصور رہے اس محاصرہ نے اتنا طول کھینچا کہ بول کے
پتے کھا گ گزارا کرنے کی نوبت آئی ان کے بچے بھوک سے رواتے اور بلبلاتے تھے اور ان کے
رونے کی آواز دو ایک جاتی تھی، قریش تاجروں کو بھی ان کے خلاف بھڑکاتے تھے چنانچہ
ان تاجروں نے چیزوں کی قیمت اتنی زیادہ کردی کہ وہ یہ سامان خرید ہی نہ سکیں ۔ سے چیزوں کی قیمت انی زیادہ کردی وہ یہ سامان خریر کی ہیں۔
تمین سال اس سخت حال میں گزارے، اس زمانہ میں خفیہ طریقہ سے کچھ ضرور یا
زندگی ان کے پاس پہونچ پاتی تھیں، قریش کے وہ لوگ جوان کے ساتھ سلوک
وصلہ رحمی کا معاملہ کرنا بند کرتے تھے، وہ ان کی اس طرح در پردہ درد کرتے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں بھی اپنی قوم میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ دن رات ،
خفیہ و علانیہ ہر طریقہ سے انجام دیتے اور بنو ہاشم صبر اور امید اجیر کے ساتھ
ان تمام تکلیفات کو برداشت کرتے۔
عہد نامہ کی تنسیخ اور مقاطعہ کا خاتمہ
اسی دوران میں قریش کے کچھ با ضمیر عالی حوصلہ اشخاص کے درائی
ہشام بن عمرو بن ربیعہ پیش پیش تھے اس ظالمانہ معاہدہ کے خلاف نا پسندیدی یا دیگر
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۱
جذبہ پیدا ہوا، اور اس کو انھوں نے ایک خلافت انسانیت فعل قرار دیا ہشام حسن سلوک
اور صلہ رحمی کرنے والے شخص تھے اپنی قوم میں انکو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا انہونی
اس سلسلہ میں قریش کے ان اشخاص سے جن کے اندر کچھ نرم خوئی، حوصلہ مندی اور عالی ظرفی
محسوس ہوئی، رابطہ قائم کیا اور ان کی شرافت و انسانیت کو غیرت دلائی، اور اس پر
آمادہ کیا کہ اس ظالمانہ معاہدہ کوختم کی جائے یہ پانچے اشخاص تھے اور ان رہنے اس کو
کالعدم قرار دینے پر اتفاق کر لیا، دوسرے دن جب قریش کی محفلیں آراستہ تھیں عین
اس محفل میں زہیر بن ابی امیہ جن کی ماں عاتکہ بنت عبد المطلب تھیں لوگوں کے
سامنے آئے اور کہنے لگے۔
اے مکہ والو اہم مزے سے کھائیں پئیں اور بنو ہاشم دانہ دانہ کو ترسیں اور
جاں بلب ہوں ان کے ساتھ خرید فروخت تک بند ہو، خدا کی قسم میں اس وقت تک چین سے
نہیں بیٹھوں گا، جب تک کہ اس ظالمانہ معاہدہ کوئی یہ پردہ نہ کر دیا رہا ہے
اس موقع پر ابو جہل نے مداخلت کرنا چاہی لیکن اس کی کچھ پھل نہ سکی
مطعم بن عدی اس معاہدہ کو پھاڑنے کی غرض سے اس کی طرف بڑھے تو دیکھا کہ
دیمک پورے کا غذ کو چاٹ کر ختم کر چکی ہے، صرف باسمك اللھم کے
الفاظ باقی ہیں۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اس بات کی ابو طالب کو اطلاع
پہلے سے فرما چکے تھے )
بہر حال اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیاگیا اور کچھ اس میں تحریر تھاوہ
سب کالعدم ہو گیا ہے
ے سیرت ابن ہشام ۱/۵ ص ۳۵-۳۵۱
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۲
ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات
نبوت کے دسویں سال، ایک ہی سال کے اندر ابو طالب اور حضرت خدیجہ
دونوں کا انتقال ہو گیا، ان دونوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں محبت
حسن سلوک وفاداری اور نصرت و حمایت کا جو معاملہ تھا وہ روز روشن کی طرح عیاں
ہے، ابو طالب نے اسلام قبول نہ کیا، اس حادثہ کے بعد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو
پپے کئی مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
قرآن مجید کی انقلاب آفرینی و مسیحائی اور قلب سلیم پر اس کے اثرات
طفیل بن عمرو دوسی جو عرب کے ایک سر بر آوردہ و معزز شخص اور ممتاز شاعر
تھے کہ آئے تو قریش نے سب کو ان کو رسول للہ اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں حاضر ہونے سے روکنا چاہا اور ان کو آپ سے قریب ہونے اور آپ کی بات سننے
سے بہت ڈرایا اور کہا کہ ہمیں ڈرہے کہ کہیں تمھارے ساتھ اور تمھاری قوم کے ساتھ
وہی پیش نہ آئے جو یہاں ہم کو پیش آرہا ہے، اس لئے نہ تم ان سے کچھ بات کرنانہ ان کی سنا۔
طفیل کہتے ہیں کہ واللہ وہ میرے مجھے پیچھے رہے یہاں تک کہ میں نے فیصلہ
کر لیا کہ ان کی سنوں گا نہ ان سے بات کروں گا، اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ میں نے
اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی اور حرم کی طرف گیا، اچانک میری نگاہ اٹھی تو
کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے ہیں،
میں آپ کے پاس کھڑا ہوگیا، اور الہ نے آپ کا کچھ کلام مجھے زبر دستی سنا ہی دیا،
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۳
کہتے ہیں کہ میں نے بہت اچھا کلام سنا، میں نے اپنے دل میں کہا، میری ماں مجھے روئے
خدا کی قسم میں سخن ور بھی ہوں اور سخن شناس بھی کلام کی اچھائی برائی مجھ سے پوشیدہ
نہیں رہ سکتی ، آخر یہ کلام سنتے سے مجھے کیا چیز مانع ہو رہی ہے، اگر وہ واقعی اچھی
بات ہے تو میں اسے قبول کروں گا، بری بات ہے تو چھوڑ دوں گا؟
اس کے بعد طفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے گھر میں لے اور پیارا
بیان کیا ، رسول اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام لانے کی دعوت دی اور ان کے
سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے، اور اسلام کے داعی و مبلغ
بن کر اپنی قوم و برادری میں واپس ہوئے انھوں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے
سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک وہ مسلمان نہ ہوں گے میں ان سے کوئی واسطہ
نہ رکھوں گا، اس بات پر وہ سب لوگ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے انھوں نے
اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی اور اس قبیلہ میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شروع میں اپنے گھر ہی میں نماز پڑھتے تھے پھر ان کی
طبیعت اس پر راضی نہ ہوئی اور انھوں نے اپنے گھر کے صحن میں نماز کی ایک جگہ بنالی
اور اس میں نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، جب وہ تلاوت کرتے تو
مشرکین کی عورتیں اور بچے ان پر ٹوٹے پڑتے ان کو دیکھتے رہتے اور تعجب کرتے،
حضرت ابو بکر بہت رقیق القلب تھے، تلاوت کرتے وقت ان کی آنکھیں بے ساختہ
اشکبار ہو جاتی تھیں، اس بات نے مشرکین کے سرداروں کو بہت خوفزدہ کر دیا، انھوں
نے ابن الدغنہ کو جنھوں نے حضرت ابوبکر کو پناہ دی تھی، بلوا بھیجا جب وہ ان کے
لے سیرت ابن ہشام ج ۱ ص۳۸۲۰-۳۸۴ باختصار۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
سامنے آئے تو ان سب نے ان سے کہاکہ تم نے البو بکر کو پناہ دی تھی ہم نے اس کو اس شرط میں
تسلیم کیا تھا کہ وہ اپنے گھر کے اندر اللہ کی عبادت کریں لیکن انھوں نے اپنی نماز او قرارت
سب کچھ علی الاعلان کرنا شروع کر دیا ہے نہیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے لڑکوں اور عورتوں کو
متاثر و مسحو نہ کر دیں اب اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ اپنے گھر کے اندر اللہ کی عبادت
کریں تو ٹھیک ہے، اگر اس سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ تمھاری پناہ اور حفاظت
واپس کر دیں اس لئے کہ نہ ہم تمھارے شہر کو توڑنا چاہتے ہیں نہ ابوبکر کو علانیہ
عبادت و تلاوت کی اجازت دینے پر راضی ہیں۔
جب ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرہ کو قریش کے اس مطالبہ سے آگاہ کیا،
تو انھوں نے جواب دیا کہ میں تمھاری پناہ اور ضمانت کو واپس کرتا ہوں، اور اللہ کی
ضمانت و حفاظت پر راضی ہوں ۔
طائف کا سفر اور سخت اذیتوں کا سامنا
ابو طالہ کے انتقال کے بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو وہ بہت سی تکلیفیں
اور اذیتیں ہو نہیں جن کی ہمت ابو طالب کی زندگی میں قریش والے نہیں کرتے تھے
ایک مرتبہ آپ کے سر پیٹی بھی پھینکی گئی، جب ان اذیتوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا
اور مشرکین و کفار کی اسلام سے کراہت اور اس کی ناقدری اور حقارت اور بڑھ گئی
تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے طائف کا قصد فرمایا، آپ کی نیت یہ تھی کہ
کے بخاری شریف بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا رباب ہجرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ تلخیص کے ساتھ
کے راجح قول یہ ہے کہ طائف کا یہ سفر دسویں سال شوال کی آخری تاریخوں میں ہوا خاتم النبیین۔ از شیخ محمد ابو زہرہ مرحوم جامشه
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۵
قبیلہ ثقیف کو اسلام کی دعوت دیں اور ان سے نصرت کے خواستگار ہوں آپ کو
اہل طائف سے کچھ خیر کی امید تھی اور اس میں تعجب کی بھی کوئی بات نہیں اس لئے کہ
آپ کے ایام رضاعت قبیلہ بنی سعد میں گزرے تھے، جو طائف کے قریب آباد تھا۔
طائف کی اہمیت
طالعہ کا شہر اپنی اہمیت آبادی کے پھیلاؤ اور خوش حالی و فارغ البالی
میں دوسرے میں مکہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا، قرآن مجید میں قریش کی زبان سے اسی بات کی
طرف اشارہ کیا گیا ہے :۔
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا القران اور یہ بھی کہنے لگے کہ یہ قرآن دونوں
عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ بستیوں (یعنی مکہ اور طائف میں سے
عَظِيم (سوره زخرف (۳) کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا۔
یہ شہر مشہور ثبت لات کی عبادت کا بھی مرکز تھا، جہاں با قاعدہ لوگ
تیرتھ کے لئے آتے تھے، اس بات میں وہ مکہ کا ہمسر و ہم ردیف تھا جو قریش کے
سب سے بڑے بت سہیل کی عبادت کا مرکز تھا، امراء و خوش حال طبقہ ہیں گرمیاں
گزارتا تھا، عہد اسلامی اور اس کے بعد بھی اس کو یہ اہمیت حاصل رہی۔
اموی شاعر عمر بن ربیعہ کہتا ہے۔
تشتو بمكه نعمة ومصيفها بالطائف
اہل طائف جائداد اور زمینوں کے مالک تھے، ان کے پاس بڑے بڑے
سردہ جاڑے کہ ہمیں گزارتی ہے اور گرمیاں طائف ہیں ۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
104
باغات اور مزرعے تھے، اس دولت و خوش حالی نے ان کے اندر غرور ونانہ
پیدا کر دیا تھا، اور وہ اس آیت کا مصداق اور نمونہ تھے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةِ مِن اور ہم نے کس لیتی ہیں کوئی ڈرانے
تَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتُرَ فُوهَا والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے
إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم به كفرون خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز
وَقَالُوا لَكُن أكثر اموالا دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے
واوْلَادًا وَمَا نَحنُ مُعَيِّن قائل نہیں اور یہ بھی کہنے لگے کہ
(سوره سیا ۳۴-۳۵) ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے
ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہو گا
اہل طائف کا سلوک اور آپ کی دعا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لائے تو سے پہلے
ثقیت کے سرداروں اور ذمہ دار لوگوں سے ملتے تشریف لے گئے، اور ان کے
پاس بیٹھ کر ان کو دین حق کی دعوت دی لیکن آپ کو اس کا بہت بڑا اور سخت
جواب ملا، انھوں نے آپ کا مذاق بھی اڑایا، اور شہر کے اوباش لوگوں اور
غلاموں کو آپ کے بنانے پر مامور کر دیا، یہ لوگ آپ کو گالیاں دیتے شور مچاتے
اور اور آپ پر پتھر پھینکتے، اسی لیے کسی اور کرب کے عالم میں آپ پناہ لینے کے لئے ایک
کھجور کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے، طائف میں آپ کو جتنا بتا یا گیا وہ مشرکین
مکہ کی ایذا رسانیوں سے کہیں زیادہ تھا، انھوں نے راستہ کے دونوں طرف
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۷
اپنے آدمی کھڑے کر دیئے آپ ایک قدم بھی اٹھاتے تو کسی طرف سے پتھر آپ پر پھینکا
جاتا حتی کہ آپ کے دونوں پیر زخموں سے لہولہان ہو گئے، اس وقت بے ساختہ
آپ کے قلب زبان پر یہ دعا جاری ہوئی اور آپ نے اللہ تعالے سے اپنی کمزوری
بے سرو سامانی اور لوگوں کی نگاہ میں بے وقتی کی فریاد کی اور اللہ کی نصرت و تائید
کے ان الفاظ میں خواستند گار ہوئے، آپ نے فرمایا:
اللهم إليك اشكو ضعف قونی الہی اپنی کمزوری، بے سرو سامانی اور
وقلة حيلتي، وهوالي علی لوگوں میں تحقیر کے بابت تیرے سامنے
الناس، يا ارحم الراحمین فریاد کرتا ہوں تو سب ختم کرنے والوں سے
أنت رب المستضعفين إلى زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ اور
من تكلني إلى بعيد بتجر منی عاجزوں کا مالک تو یہی ہے اور
أم إلى عدو ملكته امری؟ میرا مالک بھی تو ہی ہے مجھے کس کے
ان لم يكن بك غضب علی فلا سپرد کیا جاتا ہے کیا بہے گا نہ ترش
ابالى، غير أن عافيتك هی رو کے یا اس دشمن کے جو کام پر
اوسع لى، اعوذ بنور وجهك قابو رکھتا ہے اگر مجھ پر تیرا غضب
الذي اشرقت له الظلمات نہیں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں
وصلم عليه أمر الدنيا و الآخرة لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ
من أن ينزل لي غضبك اوجیل وسیع ہے میں تیری ذات کے نور
على مخطك لك العتبي سے پناہ چاہتا ہوں جس سے
حتى ترضى ولا حول سب تاریکیاں روشن ہو بھاتی ہیں
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
ولا قوة الا بالله.
اور دنیا و دین کے کام اس سے
ٹھیک ہو جاتے ہیں کہ تیرا غضب
مجھ پرانڈے یا تیری نارضامندی
مجھ پر وارد ہو، مجھے تیری ہی رضامندی
اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے
یا بدی سے بچنے کی طاقت مجھے
تیری ہی طرف سے ملتی ہے۔
اس موقع پر اللہ تعالے نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کے پاس بھیجا اور اس نے اترانے کے
آپ سے اس کی اجازت طلب کی کہ وہ ان دونوں پہاڑوں کو جن کے درمیان طائف واقع ہے
لاقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا کہ نہیں مجھے امید ہے کہ
ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا پیدا ہوگا جو خدائے واحد کی عبادت کرے گا اور اس کے
ساتھ کسی اور صنتی کو شریک نہ ٹھہرائے گا۔
جب علما بن ربیہ اور شبیہ بن ربیہ نے آپ کی یہ حالت دیکھی تو ان کا دل چورم
پڑا اور ان کی انسانیت کی رگ میں کچھ جنبش پیدا ہوئی ان دونوں نے اپنے ایک نصرانی علام
کو بلا یا جس کا نام عداس تھا، اور اس سے کہا کہ وہ انگور کا خوشہ ایک طلاق میں رکھ کر
شخص کے اس ے جاؤ اور کہ کر یہ ان کے لئے ہے نے اس اس پھل کیا اور
سول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی گفتگوسن کر اور آپ کے اخلاق کریمانہ دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔
له زاد المعارج ۳۰۰ ۱۲- بیشتر این شام ج ۱۷ ۴۱۹۰-۴۲۲ – وسیرت ابن کثیر ج ۱۳۹۶۲-۱۵۳
وزاد المعارج اصل ۳۰ باختصار و تلخیص
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۸۹
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ تشریف لائے تو آپ کی
مخالفت ، دشمنی اور آپ کے تمسخر اور ایذا رسانی میں اسی طرح سرگرم تھی۔
واقعہ معراج
اس کے بعد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، راتوں رات آپ کو قدرت
غیبی کے ساتھ مسجد حرام لے جایا گیا، وہاں سے مسجد اقصی پہونچایا گیا، اس کے بعد ان مقامات
ترب اختصاص ، ساتوں آسمانوں کی سیرا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے مشاہدے اور
انبیاء کرام سے ملاقات کے وہ تمام واقعات پیش آئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طغى ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی
لَقَدْ رَأَى مِنْ آيات ربہ اور نہ احمد سے آگے بڑھی انھونے
الكبرى
الله
اپنے پروردگار کی قدرت کی کتنی ہی
( سورة النجم – ۱۷-۱۸) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
یہ اللہ تعالے کی طرف سے آپ کی ایک ضیافت و عزت افزائی تھی جو آپ
کی دل داری و دل نوازی اور طائف کے ان زخموں کو مندمل کرنے اور اس و میں ناقدری
اور بے گانگی و یوفائی کی تلاقی کے لئے تھی جس کے سخت امتحان سے آپ ہاں گزرے تھے۔
جب صبح ہوئی تو آپ نے لوگوں کو اس واقعہ کی خبر دی، قریش نے اس پر
ے دیکھئے سورہ اسراء و سورہ نجم و کتب حدیث و سیرت، واقعہ معراج کی حقیقت اور اس کے
اسرار و حکم کے سمجھنے کے لئے حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البال حصہ دوم
“الإسراء إلى المسجد الاقصى ثم الى سدرۃ المنتہی کا مطالعہ کیا جائے ۔ ثمر کا
13
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۹۰
بہت تعجب کا اظہار کیا، اس کو ایک محال اور نا ممکن امر قرار دیا، اور آپ کو جھٹلایا اور
مذاق اڑا یا حضرت ابوبکر رضی اللہ نے بین کر کہاکہ اگر آپ نے ایسی بات کہی ہے تو سچ کہی ہے تم کو
اس پر تعجب کیوں ہے ؟ خدا کی قسم آپ مجھے یہ خبر دیتے ہیں وحی آپ کے پاس دن رات
کے کسی حصہ میں آسمان سے زمین تک آجاتی ہے تو میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں یہ تو
اس سے بھی مشکل اور بعید ہے جس پر تم لوگ تعجب کر رہے ہو ۔
معراج کے بلند و لطیف مطالب و معانی
واقعہ معراج محض ایک جزئی ضمنی واقعہ نہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو اشر تعالے کی بڑی بڑی نشانیوں کا شہر کرایا گیا اور آسمان و زمین کی بادشاہت
بے پردہ و بے حجاب ہو کر آپ کے سامنے آگئی نبوت کے اس غیبی و آسمانی سفر میں اس کے
علاوہ بھی بہت بلند و لطیف مطالب و معانی پوشیدہ ہیں، اور اس میں بہت دور رسی
اشارات کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں سورتیں، سورہ اسراء اور سورہ نجم جو واقعہ معراج
کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، یہ اعلان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں
قبلوں (مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے نبی اور دونوں سمتوں مشرق و مغرب کے امام
اور اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری انسانی
کے رہبر و رہنما ہیں، آپ کی شخصیت اور آپ کے سفر معراج میں کہ بیت المقدس
سے اور مسجد حرام مسجد اقصی سے ہم آغوش ہو گئی، آپ کی امامت میں تمام انبیاء نے
نماز پڑھی اور یہ دراصل آپ کے پیغام و دعوت کی عمومیت و آفاقیت آپ کی امامت کا
لے سیرت ابن کثیر ج ۲ ص ۹ و سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۳۹۹
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
191
ابدیت، اور ہر طبقہ انسانی کے لئے آپ کی تعلیمات کی ہمہ گیری و صلاحیت کی پول و عالی تھی۔
یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی شخصیت کا صحیح تعارف اور اس کی صحیح
نشان دہی آپ کی امامت و قیادت کا بیان ، آپ کی اس امت (جس میں آپ مبعوث
ہوئے) کے اصل مقام و حیثیت عرفی کا تعین اور اس پیغام و دعوت او مخصوص
کردار کی پردہ کشائی کرتا ہے، جو اس امت کو اس وسیع و عریض دنیا اور عالمی برادری
میں انجام دینا ہے۔
واقعہ معراج در اصل ایک محدود مقامی اور عارضی نوعیت اور نبوت
کی ابدی اور عالم گی شخصیت کے درمیان خط فاصل اور امتیازی بکر کی حیثیت رکھتا کی
ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی قومی یا مقامی لیڈر کوئی ملکی و وطنی رہنما،
کسی خاص نسل کے نجات دہندہ اور کسی نئی شوکت عظمت کے بانی ہوتے تو آپ کو اس
معراج آسمانی کی ضرورت نہ تھی، اس کے لئے آپ کو نہ آسمان و زمین کی وسیع بادشاہت
کے سیرو شاہدہ کی حاجت تھی انہ اس کی ضرورت تھی کہ آپ کے ذریعہ آسمان زمین کا
بہ نیا تعلق قائم ہوا اس وقت آپ کی یہ سرزمین یہ ماحول اور یہ سوسائٹی آپ کے لئے
کافی ہوتی، اس کو چھوڑ کر آپ کو کسی اور خطہ زمین کی طرف توجہ کرنے کی بھی ضرورت
نہ تھی اند که بلند آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہونچنے کی یا مسجد اقصی تشریف لے
جانے کی جو آپ کے شہر سے بہت دور اور عیسائی مذہب اور طاقتور رومن شہنشاہی
کے زیر اقتدار تھا۔
واقعہ معراج یہ اعلان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قومی اور
سیاسی رہنماؤں کی صف سے کوئی تعلق نہیں رکھتے جن کی صلاحیتوں اور
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۹۲
کوششوں کا دائرہ ان کے ملک یا ان کی قوم تک محدود رہتا ہے، اور ان سے
صرف انھیں نسلوں اور قوموں کو فائدہ پہونچتا ہے، جن سے ان کا تعلق ہوتا ہے
اور اسی ماحول تک ان کا اثر باقی رہتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتے ہیں، آپ جس گروہ
اور جماعت سے تعلق رکھتے ہیں وہ خدا کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی
صف ہے جو آسمان کا پیغام زمین والوں کو اور خالق کا پیغام مخلوق کو پہونچاتے
ہیں اور ان سے پوری نوع انسانی زمانہ و تاریخ رنگ و نسل اور ملک و قوم
سے قطع نظر، سرفراز و سر بلند ہوتی ہے اور اس کی قسمت جاگتی ہے۔
نماز کی فرضیت
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کی امت پر پچائیس وقتوں کی
نماز فرض فرمائی اور آپ برابر اس میں تخفیف کا سوال کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ
نے اس کو دن رات میں پانچ وقت تک محدود کردیا اور یہ اعلان کردیا گیا کہ جو
ایمان و احتساب کے ساتھ یہ نمازیں پڑھے گا اس کو اجر پچاس نمازوں ہی کا ملے گا۔
قبائل عرب کو دعوت اسلام
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موسم میں قبائل عرب کے سامنے
اسلام کی دعوت پیش کرنی شروع کی اور ان سے حمایت و نصرت کے خواستگار ہوئے
آپ نے ان سے مخاطب ہو کر یہ فرمایا کہ اے بنی فلاں ! میں تمھارے اللہ کا رسول )
لے صحیح بخاری کتاب الصلواة باب (كيف فرضت الصلاة)
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
بنا کر بھیجا گیا ہوں جو تم کو ان کی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے کہ تم
اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ان تمام ہستیوں سے جن کو تم نے اس کا ہمسر
بنا لیا ہے، اور ان کی عبادت کرتے ہو، قطع تعلق کرلو، اس پر ایمان لاؤڈ اور اس کی
تصدیق کرو، اور میری اس وقت تک حفاظت کرو جب تک اللہ نے جو چیز لے کر
مجھے بھیجا ہے وہ میں اچھی طرح کھول کر بیان نہ کردوں؟؟
جب آپ اپنی بات فرما چکے تو ابو لہب کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے بنی فلاں !
یم کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ تم لات و عربی کی بندگی و وفاداری کا طوق
اپنی گردن سے اتار پھینکو اور اپنے مدد گار جنوں سے بھی اترک تعلق کر کے اس بدعت
دگر اہی کو اختیار کر لوجو وہ لائے ہیں اس لئے تم نہ ان کی بات ماننا اور نہ ان کی سکتا۔
اسلام کا راستہ
یہ راستہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی طرف جاتا تھا کانٹوں
سے اور ہر قسم کے اندیشوں اور خطرات سے بھرا ہوا تھا جس پر اپنی جان کا خطرہ مول
لئے غیر جینا اور منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہ تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ
عنہ کے مکہ تک پہونچنے، رسل الله صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہونے
اور قبول اسلام کا جو واقعہ بیان کیا ہے، اس سے اس پر روشنی پڑتی ہے وہ کہتے ہیں :-
محب ابو ذرہ کو رسول للہصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے
اے سیرت ابن ہشام ج ۱ ص۴۲۳۰۴۲۲
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
اپنے بھائی سے کہا کہ تم اس وادی میں جاؤ اور ذرا ان صاحب کا کچھ پتہ
لگاؤ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے ان کی
گفتگو سنو اور پھر مجھے اگر بتاؤ وہ روانہ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے ملے، آپ کی بات سنی پھر واپس جا کر ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ کہاکہ
میں نے دیکھا کہ وہ بہت پسندیدہ و اعلی ترین اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور
ایسا کلام میں نے سنا جو شور نہیں کہا جا سکتا، انھوں نے کہا کہ میںجو کچھ
جاننا چاہتا تھا، اس میں میری تشفی نہیں ہوئی، پھر انھوں نے خود سفر
کی تیاری کی اور پانی کا مشکیزہ لے کر روانہ ہوئے مکہ پہونچے حرم شریف
میں پہونچ کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر ناشرین کیا، وہ آپ
کو پہچانتے نہ تھے اور کسی سے دریافت کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے، ایسی نہ
تلاش میں رات ہو گئی، اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہ نے ان کی
دیکھا، اور ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی نو دار اور مسافر ہے وہ ان کے
مجھے ہوئے لیکن کسی نے ایک دوسرے سے کچھ نہ پوچھا جب صبح ہوئی
تو وہ اپنا مشکیزہ اور زاد راہ لے کر پھر اسی مسجد میں پڑ گئے اور یہین بھی
اسی طرح گزر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو دیکھا،
اسی پر شام ہوئی، وہ پھر اپنے سونے کی جگہ چلے گئے، اس وقت حضرت
علی ان کے قریب سے گزرے، اور یہ کہا کہ کیا ابھی تک اس مسافر کے لئے
یہ وقت نہیں آیا کہ اس کو اپنی منزل مقصود معلوم ہو، تیسرے روز
حضرت علی یہ اسی طرح ان کے پاس پہونچے، ان کو اٹھا یا اور کہا کہ تم
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
مجھے بتاؤ گے نہیں کہ کیا چیز تھیں یہاں لائی ہے ؟ انھوں نے کہا، اگرتم
مجھ سے اس کا وعدہ اور عہد کرو کہ میری رہنمائی کرو گے تو میں بتا سکتا
ہوں ، جب انھوں نے یہ وعدہ کیا تو ان کے ساتھ چلنے پر تیار ہو گئے
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہونچے تو یہ بھی ان کے
ساتھ حاضر خدمت ہوئے، آپ کی بات سنی اور اسی جگہ مسلمان ہو گئے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے انسے فرمایا کہ اپنی قوم میں واپس جاؤ
اور یہ دعوت ان لوگوں کو پہونچاؤ یہاں تک کہ میری بات اچھی طرح
ظاہر ہو جائے، انھوں نے کہا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان
ہے، ہمیں ان کے درمیان چیخ چیخ کر یہ دعوت دوں گا، پھر نکل کر سجد حرام
میں آئے اور اعلان کیا ” اشهد ان لا الله الا الله وأن محمدا
رسول اللہ ہین کر لوگوں نے انھیں گھیر لیا، اور اتنا مارا کہ بے دم
ہو کر زمین پر لیٹ گئے، اتنے میں حضرت عباس آئے ، ان کو جھک کر
دیکھا، اور لوگوں سے کہا کہ تم جانتے نہیں کہ یہ قبیلہ غفار سے تعلق
رکھتے ہیں اور تمھارے تاجروں کا راستہ جو شام تک جاتا ہے اسی
قبیلہ سے ہوکر گزرتا ہے پھر انھوں نے ان کو بچایا، دوسرے دن بھی
انھوں نے یہی کیا، اور لوگوں نے اشتعال میں اگر ان کو زد و کوب کیا
اور حضرت عباس نے آکر ان کی مرد کی راہ
ے بخاری شریف (باب اسلام ابی ذر رضی اللہ عنہ )۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۹۶
انصار کے قبول اسلام کا آغاز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے زمانہ میں تبلیغ اسلام کی مہم پر روانہ ہوئے
عقبہ کے پاس انصار کے قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ آپ کو ملے آپ نے ان کو
اللہ کی طرف دعوت دی، اسلام ان کے سامنے پیش کیا، اور قرآن مجیدہ کی تلاوت
کی یہ لوگ مدینہ میں یہودیوں کے پڑوس میں رہتے تھے اور ان سے یہ سنتے رہتے تھے کہ
قریبی زمانہ میں کوئی نبی آنے والا ہے، وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ واللہ
یہ وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کی خبر تم کو یہود دیتے تھے، دیکھو اب کوئی اس میں
تم سے سبقت نہ لے جائے، چنانچہ انھوں نے اسی وقت آپ کی تصدیق کی اور
آپ سے یہ عرض کیا کہ ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں اور اس قوم میں جھگڑا شروف
اور تفرقہ ہے اس کی اور کسی اور قوم میں نہیں ہے، شاید آپ کے ذریعہ اللہ ان کو متحد
کردے ہم وہاں جاکر ان کو اس معاملہ سے آگاہ کریں گے اور اس کی دعوت
دیں گے، آپ بھی ان پر وہ چیز پیش کریں جس کو ہم نے قبول کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ
ان کو آپ پر متحد کر دے تو آپ سے زیادہ عزت والا پھر کوئی نہ ہوگا۔
وہ ایمان لانے کے بعد اپنے وطن واپس ہوئے، جب مدینہ پہونچے تو اپنے
دوسرے بھائیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا، اور ان کو بھی اسلام کی
ے عقبہ کے معنی گھائی کے ہیں یہ منی کے پہاڑوں کے اس کنارے پر ہے جس کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف ہے ایک پہاڑی
جوز میں ذرا آٹوکھنے والی جگہ تھی جس کا جائے وقوع حمزہ اکبری کے پاس ہی تھا غالبا اسی وجہ سے مرہ الکبری
وجیہ المیہ بھی کہتےہیں عقبہ کی یادگار کےطور پراس کی جگہ بعد ایک ابھی ہی کردی گئی تھی سے سیرت ابن ہشام
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
دعوت دی یہاں تک کہ انکی قوم اور برادری میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی اور
انصار کا کوئی گھر ایسا نہ بچا جہاں آپ کا چرچا نہ ہو
بیعت عقبہ اولی
دوسرا سال ہوا اور حج کا موقع آیا تو انصار کے بارہ آدمی آپ سے بیت خبر اولی
کے موقعہ پر ملے اور آپ کے دست مبارک پر چوری اذنا قبل اولاد سے پر ہیز کر نے انھی باتوں
میں اطاعت کرنے اور توحید پر بیعت کی جب انھوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیر کر دیا اور ان کو ہدایت کی کہ ان کو
قرآن مجید پڑھائیں، اسلام کی تعلیم دی اور دین کے مسائل سے باخبر کریں چنانچہ
ان کو مدینہ میں معلم دینیہ اور میں میری پڑھانے والا کہا جاتا تھا، وہ اسعد بن زرارہ کے ہاں جہاں
ہوئے تھے اور وہاں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے
انصار کے قبول اسلام کا اصل سبب
اللہ تعالی کا کرنا کہ ایسے نازک وقت میں اس نے اپنے رسول اور اپنے دین کی
نصرت و حمایت کے لئے اوس و خر بیچ کو کھڑا کر دیا یہ یثرب کے دو بہت بڑے اور
اہم عرب قبیلے تھے) اور ان کو اس کا زریں موقع نصیب فرمایا کہ وہ اس نعمت کی،
لے ہراین شام ج ۱/ ۵۳۰-۲۲۹ ۱۲ ایضا ص ۲۳ باختصار سے اوس و خزراج ازد کے دو قبیلے تھے
بو قحطان کی شاخ سے تعلق رکھتے تھے ان کے مورث اعلی العلی بن عمر وستر مارب (لمین) کی تباہی و به بادی
کے بعد (منار قبل مسیح میں) حجاز منتقل ہوئے پھر مدینہ کو اپنا مرکز بنایا جیسا کہ آگے اس کی تفصیل آئے گی۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں، قدر کریں اور اسلام کے استقبال اور قبولیت
میں اپنے ہم عصروں اور اہل حجاز پر سبقت لے جائیں اور اس وقت اس دین کو اپنے
سینے سے لگائیں، بلکہ اس کے لئے سینہ سپر ہو جائیں، جب سب قبائل عرب خصوصیت
سے قریش نے اس سے بالکل آنکھیں پھیر لی تھیں وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ
مستقيم (اور اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے سیدھے راستہ کی رہنمائی فرماتا ہے۔)
مختلف اسباب و عوامل نے جو دراصل اللہ تعالی کی حکمت و مشیت پر مبنی تھے
اور ان کا مقصد اسلام کی اشاعت اور غلبہ کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا، اوس و خزرج کو
اس سعادت عظمی کے لئے تیار کردیا تھا ان میں اور قریش میں کئی باتیں بابه الامتیاز تھیں،
اوس و خزریج کے یہ قبائل قریش مکہ کے برخلاف نرم مزاج اور نرم دل اور انتہا پسندی
نشدد اکبر اور انکار جو جیسے رزائل سے پاک تھے، ان صفات کا تعلق ان نسلی و نسبی
خصوصیات سے تھا جن کی طرف اشارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے
ایک وفد سے ملنے کے بعد فرمایا تھا، ارشاد ہوا تھا کہ إنكم أهل اليمن أرق أفئدة
والين قلوبا: (تمھارے پاس اہل یمن آئے ہیں جو بہت نرم و گداز دل رکھنے والے
ہیں) یہ دونوں قبیلے اپنی اصل میں یمن ہی سے وابستہ تھے زمانہ قدیم میں ان کے
آباء واجداد وہیں سے یہاں منتقل ہوئے تھے اللہ تعالی ان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد
فرماتا ہے :۔
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُ وَالَّذَارَ وَالْآثَارَ اور ان لوگوں کے لئے بھی جو
من قبل مون من هاجر مہاجرین سے پہلے ہجرت کے گھر
اليهم ولا يجدون في میں مقیم اور امان میں
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۱۹۹
عَلِمَةً مِّمَّا أُولُو او يو دون مستقل رہے اور جو لوگ ہجرت
عَلَى أَنْفُهِمْ وَلَو كان بر هنر کر کے ان کے پاس آتے ہیں ان سے
خصَاصَةٌ ، (سورۂ محشر (9) محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا
اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور
خل نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانت
سے مقدم رکھتے خواہ ان کو خود احتیاجی
ہی ہو۔
اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ باہمی خانہ جنگوں اور منتقل لڑائیوں نے ان کو چی چی
کر دیا تھا، بات کی جنگ پر ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اس کی تلخ کامیوں سے
ابھی ان کے کام در دین پوری طرح آشنا تھے اور اب ان کے اندر اتحاد صلح و صفائی
اور جنگ سے بچنے کی یک گونہ خواہش پیدا ہو گئی تھی، ان کے یہ الفاظ اس صورت حال
کی ترجمانی اور ان کی اندرونی کیفیت کی غمازی کرتے ہیں ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے
ہیں، کسی قوم میں انتشا شر و فساد اور باہمی عداوت نہیں ملتی ان کے درمیان ہے،
شاید اللہ آپ کے ذریعہ ا کو یکجا کردے اگر الہ تعالیٰ ان کو متحد کر دے گا تو پھر آپ
سے زیادہ باعزت کوئی نہ ہوگا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بات کی
جنگ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلمکی ایک تائید غیبی اور مدینہ کی ہجرت و نصرت کی
ایک تمہید تھی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ قریش اور بقیہ تمام عربوں کا تعلق نبوت اور انبیاء سے
بہت طویل عرصہ سے منقطع تھا، اور بعد زمانہ کی وجہ سے وہ اس کے مطلب مفہوم سے
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۰۰
بالکل نا آشنا ہوگئے تھے ان کی جہالت اور ناخواندگی نقطہ عروج کو پہونچ گئی تھی ،
ثبت پرستی میں ان کو حد درجہ غلو و انہماک تھا، وہ ان اقوام و مل یہودی و عیسائی) )
سے بہت دور تھے، جو اپنا انتساب ان انبیاء کی طرف کرتے تھے اور آسمانی صحیفوں
کے دخواہ محترف ومسخ شدہ شکل ہی میں سہی) حامل اور علمبردار تھے اللہ تعالیٰ نے
آیت مندرجہ ذیل میں اسی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے :۔
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا انْذِرَابَاء هُم تا کریم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا
فَهُمْ غَفِلُونَ (سوره بین (4) کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا منتفیہ کر دو
وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
اس کے برخلاف اوس و خراج یہود کو نبوت اور انبیاء کے بارے میں آپس میں
گفتگو کرتے اور توریت کی تلاوت کرتے ہوئے برابر دیکھتے اور سنتے تھے بلکہ یہودی اکثر
ان کو خبر دیا کرتے تھے کہ آخر زمانہ میں ایک نبی مبعوث ہو گا ہم اس کے ساتھ مل کر تم کو
اس طرح قتل کریں گے جس طرح عاد اور اہم قتل کئے گئے ان ہی کی بابت الشر تعالے
:-
فرماتا ہے :۔
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَبٌ مِّن اور جب خدا کے ہاں سے ان کے
عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقُ لِمَا مَعهم پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب
وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے
عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے
جَاءَهُمُ مَا عَرَفُوا الْفَرُ وا یه تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے
ے تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۲۱
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۰۱
فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكَفِرِينَ ہ تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے
( سورة البقره -۸۹) کا فر ہو گئے ہیں کافروں پرخدا کی امنت
اوس و خزرج اور مدینہ کے قدیم باشندے جو عقیدہ مشرک ثبت پرست تھے،
دینی حقائق و اصطلاحات (نبوت و رسالت، وحی و الهام حشر و نشر و آخرت اور تر وستر و
سنت الہی سے اس قدر نابل و نا آشنا اور نامانوس اجنبی نہ تھے جتنے کہ قریش مکہ اور
ان کے ہم سایہ قبائل مرور زمانہ سے ہو گئے تھے اس لئے کہ اوس و خزرج زمانہ دراز سے
یہودیوں کے ساتھ رہنے لینے کی وجہ سے ان دینی حقائق و اصطلاحات اور انبیائے کرام
کے ناموں اور جستہ جستہ حالات مختلف زمانوں میں انبیاء کی بعثت اور ہدایت کے
آسمانی نظام سے واقف ہو گئے تھے، ان کا دن رات یہودیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا
ہوتا تھا جو اہل کتاب تھے، صلح و جنگ عہد و معاہدہ اور تجارت و زراعت کے بھی
تعلقات تھے، اس لئے جب اوس و خزرج سے تعلق رکھنے والے مدینہ کے ان باشندوں کو
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا علم ہوا اور وہ حج کے موقع پر کر آئے اور
آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے نبی نہیں ان کو اسلام کی دعوت دی تو ایسا معلوم
ہوا کہ اچانک ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور گویا وہ پہلے سے اس کے لئے تیار تھے۔
یثرب کی خصوصیات اور اس کے انتخاب کی حکمتیں
مدینہ کے دارالہجرت اور مرکز دعوت اسلامی کی حیثیت سے انتخاب بر اہل ہنیہ
کے اکرام و عزت افزائی نیز آن اسرار کی وجہ سے جنکو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ایک
حکمت بھی تھی کہ دینی و جنگ و جغرافیای نقطہ نظر سے ایک مسلمان کی حیثیت
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
حاصل تھی۔
۲۰۲
جزیرۃ العرب کا کوئی اور قریب کا شہر اس معاملہ میں اس کا ہمسر نہ تھا،
ورة الوبرة راہ مغربی جانب سے مدینہ کواپنی حفاظت میں لئے ہوئے تھا حرة واقم مشرقی
سمت سے اس کو گھیرے ہوئے تھا، مدینہ کا شمالی حصہ واحد راستہ تھا جو کسی پیش قدمی
کے لئے کھلا تھا یہ وہی علاقہ ہے جہاں شاہ ہجری میں غزوہ احزاب کے موقع پر
رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے خندق تیار کرنے کا حکم دیا تھا مدینہ کی دوسری جہتیں
کھجور کے گھنے بانات یا کھیتوں سے گھری ہوئی تھیں، اگرسی حلہ آور فوج کو اس سے
گزرنا ہوتا تو اس کے راستہ میں ایسے تنگ راستے اور پگڈنڈیاں پڑتی تھیں جن کو پوری
صف آرائی اور فوجی ڈسپلن کے ساتھ عبور کرنا آسان کام نہ تھا، اور عمومی فوجی
چوکیاں اس پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے کافی تھیں۔
ابن اسحاق کہتے ہیں مدینہ کے ایک طرف کا حصہ یا راستہ کھلا ہوا تھا،
بقیہ تمام نہیں اور جہتیں آبادی اور کھجور کے باغات کی وجہ سے ایک دوسرے سے
مل گئی تھیں اور کوئی دشمن اس میں سے ہو کر آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟
لے حرہ بالا یہ سیاہ پھیلے ہوئے اور آڑے ترچھے پتھروں کے علاقہ کو کہتے ہیں یا اس حصہ کو جو آتش نشاکی
لاوا پہنے اور کسی جگہ جمع ہونے سے وجود میں آیا ہو، اس علاقہ میں اونٹوں اور گھوڑوں کا چلنا یا
کسی لشکر کا گزرنا تو درکنار کیا ایک شخص کا پیدل چلنا بھی دشوار ہے، علامہ مجد الدین فیروز آبادی
م شدہ) نے اپنی کتاب الغانم المطابه في معالم طابه میں حرف الحاء کے ضمن میں
بہت سے حرات کا ذکر کیا ہے، جو مختلف جہتوں سے مدینہ کا احاطہ کرتے ہیں، بعض جگہ بہت قریب
کی جگہ کچھ دور یہ اس کی بیرونی حملوں سے حفاظت کرتے ہیں یا کم از کم شکر کی نقل و حرکت میں رکا میں
پیدا کر دیتے ہیں، دیکھئے کتاب مذکور (متن تا ۱۱۴)
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۰۳
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ کے انتخاب میں شاید خدا کی اسی
حکمت مصلحت کی طرف ہجرت سے قبل اشارہ فرمایا تھا اور یہ ارشاد ہوا تھاکہ
مجھے تمھارا دار الہجرت دکھایا گیا ہے۔ یہ کھجور کے باغات والا علاقہ ہے اور لاتین
وہ جلے ہوئے بے ترتیب پتھروں والے دو علاقوں (لاتین) کے درمیان واقع
ہے اس کے بعد جس کو ہجرت کرنا تھی اس نے مدینہ ہجرت کی ہے
مدینہ کے یہ دو قبیلے جو اوس و خزرج کے نام سے مشہور تھے، غیرت قومی
خودداری ، شہداری اور قوت و مردانگی میں ممتاز تھے، یہ آزادی کے خوگر اور
عادی تھے، انھوں نے نہ کسی کے سامنے کبھی اپنا سر جھکا یا تھا، نہ کی بڑے قبیلہ
یا حکومت کو ٹیکس اور تاوان ادا کیا تھا، اس کی صراحت اوس کے سردار
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے اس جملہ میں موجود ہے جو انھوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ خندق کے موقع پر عرض کیا تھا جب ہم اور یہ
شرک ویت پرستی میں مبتلا تھے نہ ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے نہ اس کو پہچانتے
تھے، اس وقت بھی یہ محال نہ تھی کہ مہمان داری با قیمت دیئے بغیر یہ مدینہ کی
ایک کھجور کھا لیں
ابن خلدون” لکھتے ہیں :۔
یہ دونوں قبیلے یا برادریاں بشرب میں یہود پر غالب تھیں اور عزت
و وقار اور شان و شوکت میں نام پیدا کئے ہوئے تھیں، ان کے قریب
جو مصر کے قبائل آباد تھے، وہ بھی ان ہی کی قلت میں تھے۔
صحیح بخاری (باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم) که بیشتر ابن ہشام جسے تاریخ ابن فلان
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
مشہور عرب مصنفت ابن عبدریۃ العقد الفرید” میں لکھتے ہیں :۔
انصار قبیلہ از دو سے ہیں، یہ اوس و خزرج کہلاتے ہیں، حارثہ بن عمر
بن عامر کے دو بیٹوں سے ان کی نسل چلی ہے یہ لوگ تمام لوگوں میں سب سے
زیادہ خود دار اور سب سے زیادہ عالی حوصلہ تھے اور کسی بادشاہ یا حکومت
کے باج گزار نہیں رہتے
اس کے علاوہ بنی ہاشم کا بنی عدی بن النجار سے نانہائی تعلق تھا بہاشم نے
ان کی ایک خاتون سلمیٰ بنت عمرو سے شادی کی تھی۔
ہاشم کے ایک فرزند عبد المطلب پیدا ہوئے، ہاشم نے ان کو ماں کے پاس
چھوڑ دیا، جب یہ کچھ بڑے ہوئے اور بالغ ہونے کے قریب ہوئے تو ان کو ان کے
چا کر لے آئے عرب کی سماجی زندگی میں رشتہ داریوں اور قرابتوں کی
بڑی اہمیت تھی، اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا، ان ہی میں ابو ایوب انصاری
رضی اللہ عنہ تھے جن کے گھر مں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہو کر قیام فرمایا۔
اوس و خزرج قحطان کی نسل سے تھے، مہاجرین اور جو لوگ مکہ اور اس کے
اطراف میں ان سے قبل اسلام لا چکے تھے وہ عدنان کی نسل سے تھے، جب رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کی اور انصار نے آپ کی حمایت و نصرت کی تو
اس ذریعہ سے عدنان اور قحطان دونوں پر چم اسلام کے نیچے جمع ہو گئے اور ایک
جان دو قالب بن گئے عہد جاہلیت میں ان کے درمیان بڑی کش مکش اور
رقابت تھی، اسلام کی برکت سے شیطان کو ان کی صفوں میں گھستے اور وسوسہ
له العقد الفريدة ٣ ٣٣٥
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۰۵
اندازی کا راستہ نہ مل سکا، اور جاہلی حمیت اور قحطانیت اور عدنانیت پر بے جا
تعصب اور فخر و مباہات کا مواقع جاتا رہا۔
ان تمام عوامل و اسباب اور ترجیحی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے شیرے رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کی ہجرت کے لئے مناسب ترین جگہ تھی
یہ شہر اس کا مستحق تھا کہ اس کو اسلامی دعوت کا مستقر و مرکز بنایا جائے یہاں تک کے
اسلام کو پوری قوت و استحکام حاصل ہو اس کے اندر پیش قدمی کرنے کی صلاحیت
و طاقت پیدا ہو جائے اور وہ جزیرۃ العرب کو فتح کر کے اور پھر اس وقت کی پوری
متمدن دنیا پر اپنا پرچم ہدایت ہرا سکے۔
مدینہ میں اسلام کا فروغ
اب انصار (یعنی اوس و خزرج) کے گھرانوں میں اسلام کی اشاعت شروع
ہوئی پہلے سعد بن معان، اسید بن حصیر جو اس کی شاخ بنی الا شہل سے تعلق رکھتے
تھے، اور اپنی قوم کے سردار تھے، اسلام لائے، اس میں بڑا دخل ان پہلے مسلمان ہونے
والوں کی حکمت ایمانی اور تلطف و مہربانی اور مصعب بن عمیر کے حسن تبلیغ و دعوت
کو تھا، اس کے بعد بنی عبدالارشہل نے بھی اسلام قبول کیا، اور بالاخر انصار کے
گھروں میں سے کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جہاں کچھ مرد اور عورتیں مسلمان نہ ہوں ۔
بیعت عقبه ثانیه
دوسرے سال مصعب بن عمیر مکہ واپس ہوئے اور انصار کے کچھ مسلمان
اے سیرت ابن ہشام ج ۱/ ۴۳۶۰ – ۴۳۸ باختصار
14
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
مشرکین کی ایک جماعت کے ساتھ جو حج کی غرض سے جا رہی تھی کہ پہونچے،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ میں بیعت کا وعدہ کیا، جب وہ حج سے
فارغ ہوئے اور ایک تہائی رات گزر گئی تو وہ عقبہ کے نزدیک ایک گھاٹی میں جمع
ہوئے ان سب کی تعداد تہتر (۷۳) تھی جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ آپ کے چچا عباس بن عبد المطلب
بھی تھے وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو فرمائی، قرآن مجید ان کو پڑھ کر
سنایا، ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور اسلام قبول کرنے کا شوق دلایا،
پھر آپ نے فرمایا کہ میں تم سے اس پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میرے ساتھ حفاظت
و خیال کا وہی معاملہ کرو گے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ کرتے ہوا انھوں نے آپ سے
بیعت کی اور آپ سے یہ عہد لیا کہ آپ انھیں بے یارومددگار نہ چھوڑیں گے اور
نہ اپنی قوم کی طرف واپس ہو جائیں گے، آپ نے ان سے وعدہ کیا اور فرمایا کہ میں
تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو جس سے تم جنگ کرو گے اس سے میں بھی جنگ کروں گا جس سے
تم صلح کرو گے اس سے میں بھی صلح کروں گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے
بارہ ذمہ داروں اور سرداروں کا انتخاب کیا، تو خزرج کے اور تین اؤس کے لیے
مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت
جب انصار کے اس قبیلہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی
لے سیرت ابن ہشام ج ۷ ص ۴۴۴ ۴۴۳۰
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۰۷
اور آپ اور آپ کے ماننے والوں کی حمایت و مرد کا عہد کیا تو بہت سے مسلمان ان کی
پناہ میں آگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام مسلمانوں کو جو آپ کے ساتھ
مکہ میں تھے، مدینہ کی طرف ہجرت کرنے اور انصار سے مل جانے کا حکم دے دیا اور فرمایاکہ
اللہ عز وجل نے تمھارے لئے کچھ بھائی اور گھربار مہیا کر دیئے ہیں جہاں تم امن کے ساتھ
رہ سکتے ہو، یہ سن کر لوگ جماعتیں بنا بنا کر ہجرت کرنے لگے، خود رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مکہ میں ٹھہر کر ہجرت کے بارہ میں حکم الہی کے منتظر رہے۔
مکہ سے مسلمانوں کی ہجرت کوئی ہنسی کھیل نہ تھا، جس کو قریش ٹھنڈے کلیجے
برداشت کر لیتے، انھوں نے اس انتقال آبادی اور نقل و حرکت کے راستہ میں طرح طرح
کی رکاؤ میں کھڑی کر دیں اور مہاجرین کو مختلف آزمائشوں اور تکلیفوں میں ڈالنا
شروع کیا لیکن مہاجرین بھی اس رائے کو بدلنے والے اوراپنا قدم مجھے بٹھانے والے
تھے وہ کسی قیمت پر بھی مکہ میں رہنا پسند کرتے تھے چنانچہ کسی کو اپنی بیوی اور بچہ
کو کہ میں چھوڑ کر نہا جانا پڑا، جیساکہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا کسی نے اپنی
زندگی بھر کی کمائی ہوئی پونجی سے ہاتھ دھوئے بھیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے کیا۔
ام سلمہ رضی الله عنها خود روایت کرتی ہیں کہ جب ابو سلمہ نے مدینہ ہجرت کا
پختہ عزم کر لیا و سفرکے لئے اپنا اونٹ تیار کیا مجھ کو اس پر سوار کرایا اور میرے لڑکے
مد بن ابی سلمہ کو میری گود میں دے دیا پھر اونٹ کی نکیل ہاتھ میں لی اور روانہ ہوتے
جب بن المغیرہ کے کچھ لوگوں کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ
تمھاری حد تک ٹھیک ہے تم ان کو پا کر جارہے ہوں ان بی بی کو ہم تمھاری ہمرکابی کے لئے
کیسے چھوڑ سکتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ یہ کہ کر انھوں نے اونٹ کی نکیل ان کے
سلم
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
ہاتھ سے چھین لی اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے، یہ دیکھ کر بند عبد الاسد میں جو ابوسلمہ کے
جانتی تھے سخت اشتغال پیدا ہوا، انھوں نے کہا خداکی قسم تم نے ان کو ہمارے بھائی
سے چھین لیا ہے لیکن ہم اپنے لڑکے کو اب ان کے پاس ہرگز نہیں چھوڑیں گے اس کے بعد
دونوں میں میرے بچہ پر کشاکش شروع ہو گئی اور دونوں اس کو اپنی طرف کھینچنے کے حتی کہ
اس کا ہاتھ اکھڑ گیا، بنو عبد الاسد اس کو چھین لینے میں کامیاب ہوگئے اور اس کو اپنے
ساتھ لے گئے بنو المغیرہ نے مجھے اپنی قیدمیں کرلیا، میرے شوہر مدینہ روانہ ہوچکے تھے
اس طرح میرے لڑکے میرے شوہر اور میں تینوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے
ہمیں ہر صبح کو باہر تی اور ابطحی میں بیٹھ جاتی اور شام تک روتی رہتی، اس پر پورا ایک
سال گزر گیا، ایک دن بنو المغیرہ ہی میں سے میرے چچازاد بھائیوں میں سے ایک بھائی
کی مجھ پر نظر پڑی اور میری اس حالت کو دیکھ کر اسے رحم آیا اور اس نے بن المغیرہ سے
کہا کہ اس غریب کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے تم نے اس کو شوہر اور بیٹی دونوں سے
محروم کر دیا ہے؟ وہ کہنے لگے اگر تمھارا دل چاہے تو اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ،
اس وقت بنو عبد الاسد نے میرا لڑکا مجھے واپس کیا، ہمیں نے اپنا اونٹ تیار کیا،
بچے کو گودمیں لیا اور مدینہ میں پنے شوہر کی تلاش کے لئے چل کھڑی ہوئی، اس حالت
میں کہ اللہ الشرک کوئی بندہ میرے ساتھ نہ تھا جب میں تنظیم تک پہونچی تو میری ملاقاتہ
عثمان بن طلحرہ سے ہوگئی جوینی عبد الدارمیں سے تھے، وہ دیکھتے ہی بولے ابی امیہ
کی لڑکی آکہاں جا رہی ہو؟ میں نے کہا مدینہ میں اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں
انھوں نے کہا تمھارے ساتھ کوئی ہے؟ میں ہے ؟ میں نے جواب دیا میرے ساتھ اللہ کے سوا
اور اس بچہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، کہنے لگے اخدا کی قسم تھیں منزل پر پہونچنا تم پر
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
آسان نہیں ہے انھوں نے اونٹ کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے لی، اور مجھے لے کر آگے
روانہ ہوئے خدا کی قسم جن لوگوں سے اب تک میرا واسطہ پڑا ہے میں نے کسی کو بھی
ان سے زیادہ شریف اور کریم النفس نہیں پایا، جب کوئی منزل آئی اور رکنا پڑتا تو
وہ اونٹ کو بٹھا کر علیحدہ ہٹ جاتے، جب میں اتر آتی تو اونٹ کے پاس آکر سامان
آتارتے پھر ایک درخت سے اس کو باندھتے پھر کسی درخت کے سایہ میں لیٹ جاتے
جب شام ہوتی اور روانگی کا وقت آتا تو اٹھتے، اونٹ کو تیار کرتے سامان وغیرہ
اس کے اوپر لادتے پھر وہاں سے کچھ دور ہٹ جاتے اور مجھ سے کہتے کہ بڑھ جاؤ جب
میں اچھی طرح بیٹھ جاتی تو آکر اسکی تکمیل تھام لیتے اور اسی طرح دوسری منزل
تک پہونچتے، اسی طرح کرتے ہوئے انھوں نے مجھے مدینہ پہونچایا، جب ان کی نظر
بنی عمرو بن عوف کے گاؤں قبا پر پڑی تو مجھ سے کہنے لگے کہ تمھارے شوہر اسی گاؤں
میں ہی ابوسلمہ مقیم تھے۔ اب تم ان کا نام لے کر وہاں چلی جاؤ یہ کہ کر انھوں نے
مجھے رخصت کر دیا، اور مکہ کے لئے روانہ ہو گئے۔
وہ کہتی تھیں کہ اسلام میں کی گھرانہ کو وہ تکلیف نہیں اٹھانی پڑیں جو
ابو سلمہ کے گھر والوں نے اٹھائی ہیں، اور میں نے کسی شخص کو عثمان بن طلحہ سے
زیادہ شریف اور با حوصلہ نہیں پایا۔
جب مہیب رومی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے
کہا کہ تم ایک حقیر سائل اور فلس کی حیثیت سے ہمارے پاس آئے تھے، ہمارے یہاں
ے عثمان بن طلحہ بھی حدیبیہ کے بعد اسلام نے آئے ہجرت کی فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے کعبہ کی کلید ان کے حوالہ کی (ابن کثیر ج ۵۲، الاصابة في تمييز الصحابة )
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
رہ کر تم اتنے دولت مند بن گئے اور یہ حیثیت تم نے حاصل کر لی اب تم چاہتے ہو کہ
اپنے سارے سامان اور مال و جان کے ساتھ یہاں سے نکل جاؤ، خدا کی قسم یہ نہیں
ہو سکتا، صہیب نے اُن سے کہا کہ اگر میں یہ مال و اسباب تمھارے حوالہ کردوں تو
کیا تم مجھے جانے دو گے؟
انھوں نے کہا، ہاں ۔
صہیب نے جواب دیا کہ میں یہ سارا مال تمھیں دیتا ہوں۔
جب رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے
فرمایا کہ ربح صہیب ریح صہیب ، صہیب نفع میں رہے، صہیب نفع میں رہے۔
اس موقع پر جن لوگوں نے مدینہ ہجرت کی ان میں حضرت مریم طلحہ حمزہ
زید بن حارثہ رضا عبد الرحمن بن عورت از برين العمامة ابو حذيفة عثمان بن عفان
اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام شامل تھے اس کے بعد ہجرت کا ایک سلسلہ قائم
ہو گیا اور رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں دو آدمیوں کو چھوڑ کر حضرت
ابوبکر و حضرت علی صرف وہی باقی بچا جو کسی معذوری سے نہیں جا سکا، یادہ
جو کسی آزمائش اور فتنہ میں پڑ گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قریش کی سازش اور ناکامی
جب قریش نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں اس قدر
حامی وہ دگار پیدا ہو گئے ہیں اور وہاں ان کا کوئی زور نہیں چل سکتا تو انھوں نے
ابن کثیر بحوالہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۳۳ ۵۲ سیرت ابن ہشام ۱۷ مت ۴۷۹۰۴۷
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے بہت خطرہ اور خوف محسوس کیا، اور
انھوں نے سوچا کہ اگر آپ تشریف لے گئے تو پھر آپ پر کوئی بس نہ چل سکے گا یہ سوچ کر
وہ سب لوگ دارالندوہ میں (جو اصل میں قصی بن کلاب کا گھر تھا اور قریش
اپنے سارے اہم معاملات یہیں طے کرتے تھے جمع ہوئے اور اس مسئلہ پر غور و خون
کیا گیا، اس موقع پر قریش کے بڑے بڑے سردار سب موجود تھے ۔
آخر میں متفقہ طور پر یہ بات طے پائی کہ ہر قبیلے سے ایک با ہمت اور عالی نسب
جوان کا انتخاب کیا جائے اور وہ سب مل کر یکبارگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر
حملہ آور ہوں، اس طرح یہ خون سالے قبائل میں تقسیم ہو جائے گا اور کسی ایک پر
اس کی ذمہ داری نہ ہوگی، اور بنی عبد مناف ساری قوم سے جنگ کا خطرہ مول
نہ لیں گے، اس کے بعد لوگ منتشر ہو گئے اور اجتماعی جرم کا یہ نصوبہ طے ہو گیا ۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سازش سے آگاہ کر دیا، آپ
نے حضرت علی کو حکم دیا کہ آپ کی چادر اوڑھ کر آپ کے بستر پر سو جائیں ،
آپنے یہ بھی فرمایا کہ تمکو کوئی گزند ہر گز نہ پہونچے گا۔
ادھر یہ پوری ٹولی آپ کے دروازہ پر تیار کھڑی تھی اور حملہ کے لئے پوری
طرح کمر بستہ تھی، رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور تھوڑی سی مٹی
اپنے ہاتھ میں لے لی، اسی وقت اللہ تعالی نے ان کی بصارت سلب کر لی ، آپ
یہ مٹی ان کے سروں پر پھینکتے ہوئے اور سورہ الیسین کی آیات فَاغْشِينهم فهم
لا يبصرون تک تلاوت کرتے ہوئے صاف ان کے سامنے سے گزر گئے اور کسی کو
پینہ بھی نہ چلا۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
اس درمیان میں کسی آنے والے نے آواز دی کہ تم لوگ کس چیز کے انتظار میں
کھڑے ہو؟ انھوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں اس نے کہا نامرادو!
وہ تو جا چکے اور اپنے کام کے لئے روانہ ہو گئے انھوں نے جھانک کر دیکھا کہ کوئی
شخص بستر پر لیٹا سو رہا ہے، ان کو یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہیں، صبح ہوئی تو حضرت علی بستر سے اٹھے یہ دیکھ کر ان کو بڑی شرمندگی
ہوئی اور سب ناکام و نامراد واپس گئے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے
اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے نکلتے اور ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمادی
ہے، حضرت ابوبکر نے کہا الصحبة يا رسول الله رسول اللہ رفاقت و محبت
کا طلب گار ہوں ، آپ نے فرمایا ” الصحبہ ” ہاں تم ہی رفیق ہو گے ، حضرت ابو بکران
یہ سن کر خوشی سے رو پڑے، اس کے بعد انھوں نے دو سواریاں پیش کیں جو اسی
سفر کی غرض سے انھوں نے پہلے سے تیار کر رکھی تھیں، عبد اللہ بن اریقط کو
انھوں نے بطور رہبر کے معاوضہ پر طے کر لیا۔
عجیب تضاد
قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر دشتی اور آپ کی مخالفت
لے سیرت ابن ہشام جرا /۵۷۸۴۸۴
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
پر اس درجہ اتحاد کے باوجود آپ کی امانت و دیانت، سچائی، اور آپ کی عالی ظرفی
حوصلہ مندی پر گلی اعتماد کرتے تھے پورے ملک میں اگر کسی کو اپنی چیز کے ضائع ہوئے
یا غصب کئے جانے کا اندیشہ ہوتا تھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
یہ چیز رکھتا تھا، اس طور پر آپ کے پاس مختلف امانتیں جمع ہو گئی تھیں آپ نے
حضرت علی کو اس کا ذمہ دار بنایا کہ وہ اس وقت ایک ٹھہر میں رہیں جب تک
یہ امانتیں آپ کی طرف سے ادانہ کر دی بھائیں، اللہ تعالے نے سچ ارشاد
فرمایا ہے :۔
قَدْ نَعْلَمُ إِنه ليمون الذي ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں)
يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا لن بونک کی باتیں تمھیں رنج پہونچاتی ہیں
ولكن الظَّلِمِينَ بِآیت اللہ اگر ہی انھیں چھوٹا نہیں کہتے
يجحدون در سوره انعام (۳) بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار
کرتے ہیں۔
ہجرت سے ایک سبق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہجرت سے سب سے پہلی بات یہ ثابت
ہوتی ہے کہ دعوت اور عقیدہ کی خاطر ہر عزیز ومحبوب اور ہر مانوس و مرغوب شے
اور ہر اس چیز کو جس سے محبت کرتے جس کو ترجیح دینے اور حسن سے بہر صورت وابستہ
رہنے کا جذیہ انسان کی فطرت سلیم میں داخل ہے بے دریغ قربان کیا جاسکتا ہے
لیکن ان دونوں اول الذکر چیزوں کو ان میں سے کسی چیز کے لئے ترکی نہیں کیا جا سکتا۔
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
م رسول اللہ اللہ علیہ ولم کی جائے ولادت اور آپ کے اوصحابہ کرام کے مرکز
وطن کے علاوہ دلوں کے مقناطیس کی کشش رکھتا تھا اس لئے کالای شهری بیت الشر
ہے جس کی محبت ان کی روح اور خون میں پیوست تھی لیکن ان پیسے کسی ایک چیز نے بھی آپ
کو اور صحابہ کرام کو ترک وطن اور اہل و عیال کو خیر باد کہنے سے باز نہیں رکھا، کیونکہ زمین
اس نقیب و دعوت کے لئے بالکل تنگ ہو چکی تھی اور کر والے ان دونوں چیز سے منہ پھر چکے تھے۔
بشری د انسانی تعلق و محبت اور ایمانی قوت اور ذوق و شوق کے یہ ملے جلے
جذبات آپ کے اس جملہ سے بخوبی جھلک رہے ہیں جو ہجرت کے وقت آپ نے کہ کو
مخاطب کرکے کہا تھا ، ما الطبيبك من بلد وأحبك إلى ولولا أن قومى اخرجوان
منك ما سكنت غيرك در تو کتنا اچھا شہر ہے اور مجھے کس قدر عزیز و محبوب ہے، اگر شہرہے اور
میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تومیں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت اختیار نہ کرتا) سے نکالے نے
یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل تھی :۔
يُعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنوا ان اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو
أَرْضِ وَاسِعَةٌ فَإِيَّای میری زمین فراخ ہے تو میری ہیا
فاعبدون (سوره عنکبوت (۵۶) عبادت کرو۔
غار ثور کی طرف
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم او حضرت ابو بکری کمر سے چھپتے چھپاتے روانہ ہوئے
ابور من الشرعیہ نے اپنے اجزائے عبد الل کو ہدایت کی کہ وہ ذراخبر رہی کہ لوگ ان کے
اے ترندی بروایت ابن عباس بطریق مرفوع ( باب فضل منکر) نگه )
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۱۵
ے میں کیا چہ میگوئیاں کرتے ہیں اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو حکم دیا کہ وہ دن بھر ان کی
بکریاں چرایا کریں اور شام کو ان کا دورہ پہنچادیا کریں اسماء بنت ابی بکر کھانا پہنچایا
کرتی تھیں۔
محبت کی کرشمہ سازیاں
محبت تخلیق انسانی سے لے کر آج تک ایک ایسے الہامی جذبہ کی حیثیت سے
زندہ، پائندہ اور تابندہ ہے جو نازک سے نازک باتوں کی طرف بطور خود رہنمائی کرتی
ہے اور راستہ سمجھاتی ہے، یہ عشق است و ہزار بد گمانی والا مضمون ہے وہ اپنے
محبوب سے کسی وقت غافل نہیں ہوتی اور سوہوم سے موہوم چیز کا خطرہ محسوس کرلیتی
ہے، اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا
کچھ یہی حال تھا چنانچہ روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار کی
طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابوبکرہ چلنے میں کبھی آپ سے آگے رہتے کبھی پیچھے چلنے
لگتے یہاں تک کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اسکو محسوس فرمایا اور کہا کہ
ابوبکر کیا بات ہے کبھی تم میرے پیچھے چلتے ہو اور کبھی آگے ؟ انھوں نے کہا کہ
یا رسول اللہ مجھے تعاقب کا خیال آتا ہے تو میں پیچھے چلنے لگتا ہوں ، پھر گھات کا
خطرہ ہوتا ہے تو آگے آجاتا ہوں ہے۔
جب دونوں حضرات غاز تک پہونچ گئے تو حضرت ابوبکرہ نے کہا کہ یا رسول اللہ
آپ ذرا توقفت فرمائیں میں غار کو دیکھ بھال لوں اور صاف کرلوں، اس کے بعد وہ
لے البدایہ والنہا یہ ابن کثیر ج ۳ منشا منقول از بیهقی بروایت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
……..……………………………..……………………………..……………………………..……………
۲۱۶
غار کے اندر گئے اور اس کو منا کر کے اور سوراخ وغیرہ بند کر کے باہر آئے اس وقت ان کو
یا گیا کہ ایک ہی باقی رہ گیا ہے جس کو وہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکے پھر انھوئے کہاکہ یارسول الشر
آپ ذرا اور توقف فرمائیں میں اس کو دیکھ لوں پھر اس کے اندر گئے اور جب اس کی طرف سے
اطمینان ہو گیا کہ یا رسول اللہ اب آپ اندر اتر آئیں چنانچہ آپ اندر تشریف لے آئے ۔
آسمانی کمنگ اور غیبی امداد
جب دونوں غار میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو بھیجا، اس نے غار او
غار کے منھ پر جود درخت تھا، اس کے درمیان ایک جال بن گیا، اور رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم کو
چھپا لیا، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دو جنگی کبوتروں کو بھیج یا جو اوپر پھڑ پھڑاتی ہیں
پھر آکر وہاں بیٹھ گئیں ہے
وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَوتِ وَالْأَرْض اور اللہ کے ہات میں آسمانوں و زین کے شکری) ( )
انسانی تاریخ کا سب سے نازک لمحہ
ادھر مشرکین نے رسول اللہ صل للہ علیہ سلم کا عاقب شروع کیا، یہ انسانیت کے
طول و طویل سفر کا سب سے نازک اور سب سے زیادہ فیصلہ کن لمحہ تھا، یا تو ایک ایسی با نمیبی
سامنے تھی جس کی کوئی انتہا نہیں یا ایک ایسی خوش نصیبی و اقبال مندی کا آغاز ہونا تھا،
جس کی کوئی حد ہ تھی انسانیت سے بے چینی سے اپنی سانس روک لی تھی اور بے حس حرکت
ہو کر ان جاسوسوں اور تعاقب کرنے والوں کو بھی ہوئی آنکھوں دیکھ رہی تھی جواس قت غار کے
لہ الضامن : ۵۲ این کثیر ج ۲ ۲۴۰-۲۴۱ (در مایه عن ابن عساکر)
……..……………………………..……………………………..……………………………..…………
116
منھ پر کھڑے تھے اور صرف اتنی دیر باقی تھی کہ ان میں کوئی نیچے دیکھ لے لیکن خدا کی قدرت
ان کے اور اس اقدام کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ دھو کہ کھا گئے ، انھوں نے دیکھا کہ غار کا منھ
مکڑی کے جالے سے بند ہے تو ان کا ذہن بھی ادھر نہ جا سکا کہ اندر کوئی ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے ۔۔
فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَهُ عَلَيْهِ وَائْدُ تولوگ ان پر سکین نازل فرمائی اور ان
يُجُنُودُهُ لَمْ تَرَوَهَا (سورة توبه – ۴۰) ۔ ایسے کہوں سے مودی بورت کو نظر نہیں آتے تھے
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا “
اس لمحہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ اوپر اٹھی تو انھیں مشرکین کے آثار
نظر آئے، انھوں نے کہا یا رسول اللہ اگر ان میں سے کسی نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں
دیکھ لے گا، آپ نے جواب دیا ماظنك يا ثنين الله ثالثهما” (ان دو کے بارہ میں
تمھارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہے اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی :
ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ (اس وقت) دو ہی شخص تھے جن میں
إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ (ایک ابوبکر نہ تھے) دوسرے
إِنَّ اللهَ مَعَنَا
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)
( سوره توبه – ۴۰)
جب وہ دونوں غار (نور) میں تھے
اس وقت پنیر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے
کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔
لے صحیح بخاری باب قولة تعالی ثانی اثنين إذ هما في الغارة كتاب التفسير).
…………………………………………………………………………………………………………
۲۱۸
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمکے تعاقب میں مراقہ کی روانگی
قریش نے یہ اعلان کردیا تھا کہ جو شخص رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم و گرفتارکر کے
لائے گا اس کو سو اوشنیاں انعام میں دی جائیں گی ان لوگونی غارمیں تین راتیں گذار بیا
پھر دونوں آگے کی طرف روانہ ہوئے (عامربن فہیرہ اور عبد اللہ بن اریقط جن کو
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے راستہ بتانے کے لئے اجرت پر ساتھ لیا تھا ساحل کی طرف
سے آپ کو لے کر چلے۔
شراق بن مالک بن جم کا نام کی لانے والا اللہ علیہ کے عا پر آباد کیا
اور اونٹنی کے شوق میں سے ایک گھوڑے پرسوار ہوکر آپ کے نشانات قدم کی مدرسے تعاقب
شروع کیا لیکن اس کے گھوڑے کو اچانک ٹھوکر گی اور وہ کپڑا لیکن اب بھی ہارن مانی اور آپ
کے نشانات پر آگے بڑھتا رہا، دوسری مرتبہ اس کے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی اوروہ گرا پھر
سوار ہوا اور تعاقب شروع کیا، یہاں تک کہ یہ لوگ اس کو سامنے نظر آگئے، اور اسی وقت
تیسری بار گھوڑے نے سخت ٹھو کر کھائی اور اس کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دفنس
گئے اسراقہ گر پڑا اس کے ساتھ بگولہ یا آندھی کی شکل میں وہاں سے دھواں بھی اٹھا۔
شراقہ نے جب یہ دیکھا تو سمجھ گیاکہ رسول الہ صل اللہ علیہ وسلم اللہتعالی کی حمایت
میں ہیں اوروہ ہر صورت میں غالب آئیں گے اس نے زور سے آوازدی اور کہا کہ یں مراد بن بشیم
ہوں مجھے بات کرنے کا موقع دیجئے، مجھ سے آپ لوگوں کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہونچے گا،
سول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اسے پوچھو کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے ؟
شراقہ نے کہا کہ آپ ایک تحریر مجھے دیدیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان ایک نشانی اور
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
۲۱۹
یادگار کے طور پر محفوظ رہے عامر بن فہیرہ نے بڑی یا چھلی پر ایک تحریک کو اس کے ورا کی
ایک خلاف قیاس اور ماورائے عقل پیش گوئی
عین اس حال میں جب رسول اللہ صل اللہ علہ وسلم ہجرت پر جو میں کمرمیں رہنا
ممکن نہیں روشن ہر طرف گھات میں ہیں اور ان کا تعاقب کیا جارہا ہے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی نگاہ اس دن کی طرف جاتی ہے جس دن آپ کے غلام کسری کا تاج او تر یگا
تخت اپنے پیروں روندیں گے اور زمین کے خزانوں کے مالک ہوں گئے، آپ نے اس گھٹاٹوپ
اندھیرے ہی اس درخشان روٹی کی پیشگوئی کی اور ا رات سے ارشاد فرمایا برا یا اس میں
وقت تمھارا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تم اپنے ہاتھ میں پہنو گے ؟
بے شک اللہ نے اپنے نبی سے نصرت و حمایت اور فتح مبین اور اپنے دین کے لئے
غلبہ و عروج اور فتح مکمل کا وعدہ کیا تھا :۔
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُول بالدہوہی تو ہے جس نے اپنے پیری کی روایت
وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَی اللہ اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس روین)
كله ولولية المشركون کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب
(سوره توبه (۳۳) کرے اگر چہ کا فر نا خوش ہی ہوں۔
کوتا ہیں اور کم عقل لوگوں نے اس بات کا انکار کیا، قریش نے اس کو ارمحال میں
اور انہونی بات تھی لیکن نگاہ نبوت دور کو قریب دیکھ رہی تھی :۔
إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ المُعاد بے شک خدا اخلاف وعدہ نہیں کرتا۔
اور حرف بحرف اسی طرح ہوا، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کسری کے
ے سیرت ابن ہشام مش۲۵- ۲۹۰ نیز بخاری شریف جزء اول (باب ہجرة النبي صلى اللہ علیہ وسلم الی المدينة) الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ ۔
………………………………………………………………………………………………………………
نگن اس کا پکا اور نا حاضر کیا گیا تو انھوںنے رات کو بلایا اور اسکو پہ پہنایا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اسراقہ نے رسول الله ؟
صلی اللہ علیہ سلم کے سامے زاد راہ اورضروری سامان کی ھی پیش کش کی لیکن رسول اللہ صل اللہ
لیہ سلم نے اسکو قبول فرمایا اور اتنی بات کہی کہ ان عن اباری اطلاع کی کون دیتا)
مبارک شخص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اور حضرت ابوبکر اپنے سفر کے دوران ام معبد الرائد
کے پاس سے گزارنے ان کے پاس ایک بکری تھی، جس کا چارہ پانی کی کمی سے دور خشک
ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا اللہ کانام لیا اور
دعا کی چنانچہ اسی وقت دودھ تیزی سے جاری ہو گیا، آپ نے یہ دودھ ام معد کو اور
اپنے ساتھیوں کو پلایا، یہاں تک کہ سب خوب سیراب ہو گئے، پھر آپ نے نوش فرمایا اور
دوبارہ دوہا یہاں تک کہ برتن پور لبریز ہوگیا، جب ابو سعید اپنے کام سے واپس آئے
اور واقعہ دریافت کیا، تو ام معد نے ان سے کہا کہ خدا کی قسم ! ایک مبارک شخص
ہمارے پاس سے گزرے اور ایسی ایسی انھوں نے باتیں ہیں پھر انھوںنے بہترین الفاظ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلی کی یہ سن کر ابو معبد بولے، خدا کی قسم مجھے
یہ قریش کے وہی شخص معلوم ہوتے ہیں، جن کی قریش کو تلاش ہے۔
رہیر نے ان دونوں کو ساتھ لے کر اپنا سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ یہ قبا
یک ، جو مدینہ کے مضافات میں ہے پہونچ گئے، یہ واقعہ ۱۲ ربیع الاول دو شنبہ کا
ہے، اور اسی سے اسلامی تقویم اور اسلامی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔
له الاستیعاب ج ۲ ۵۹۰ که بخاری شریف (باب هجرة النی صلى الله علیه وسلم سے زاد العادات
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۱
عہد بعثت کے شہریت پر ایک نظر
مکی اور مدنی معاشروں کا فرق
شہر شریب کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ
علیہ وسلم کا دارالہجرہ، اسلام کی عالمی دعوت کا مرکز اور ظہور اسلام کے بعد قائم
ہونے والے پہلے اسلامی معاشرہ کا گہوارہ بنایا، ہیں اس کی تمدنی، معاشرتی ،
اقتصادی صورت حال قدیم قبائل کے باہمی تعلقات اور وہاں کے یہود کی
معاشرتی اقتصادی اور جنگی اہمیت اور اس زر خیز شہر کے معیار زندگی کو سمجھنا ہوگا
جہاں متعد د مذاہب ثقافتیں اور معاشرے دوش بدوش تھے، جب کہ مکہ مکرمہ
کا ایک رنگ ایک طرز اور ایک ہی مذہب تھا، اس سلسلہ میں یہاں پر قارئین کے
سامنے کچھ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں جن کی مدد سے وہ زمانہ بعثت کے شہر شریب
کی نوعیت اور صورت حال کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔
یہود
اس تاریخی حقیقت کو ترجیح حاصل ہے کہ یہود کی اکثریت جزیرة العرب
میں عموما اور شہر شیرے میں خصوصاً پہلی صدی مسیحی میں آئی مشہور یہودی فاضل
15
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۲
ڈاکٹر اسرائیل ولفنسن لکھتا ہے :۔
منہ میں جب یہودی اور رومی جنگ کے نتیجے میں فلسطین اور بیت المقدس
برباد ہو گئے، اور یہود دنیا کے مختلف علاقوں میں کھو گئے تو یہود کی بہت سی
جماعتوں نے بلاد عرب کا رخ کیا، جیسا کہ یہودی مورخ جو زیفیس کا کہنا ہے
جو خود بھی اس جنگ میں شریک تھا، اور جن مواقع پر اس نے یہودی ٹکڑیوں
(UNITS) کی بھی قیادت کی تھی عربی ما خذ بھی اس کی تائید کرتے ہیں
مارین میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے جن میں بالغوں کی تعداد وہ ہزار سے اوپر تھی)
قینقاع تضیر، قریظہ اندازہ کیا گیا ہے کہ قینقاع کے لڑنے والوں کی تعداد سات سو
تھی، تغیر کے آدمیوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی، جب کہ قریظہ کے بالغوں کی تعداد
سات سو اور نو سو کے درمیان تھی۔
لے تاریخ الیہود في بلاد العرب في الجاہلیة وصدر الاسلام اسرائیل ولفنسن (ابو ذویب) ص (20 قاهرة (۱۹۲۹)
کے یہ اندازہ سیرت ابن ہشام کے ان اعداد و شمار سے کیا گیا ہے جو جنگوں اور واقعات کے تذکرے میں
آئے ہیں، جیسے بنی تغیر کی جلا وطنی، بنی قریظہ کا قتل و غیرہ، قینقاع نضیر اور قریظہ بڑے قبیلے تھے
جن کے ماتحت شاخیں بھی تھیں، جیسے بنی ہدل قریظہ کے تابع تھے جن میں سے بعض بڑے صحابی بھی
ہوئے اور جیسے بنی زنباع جو بنی قریظہ کی شاخ ہے بعض یہودی جماعتوں کے نام اس معاہدے
میں بھی آئے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان ہوا تھا، جیسے بنی عوف
بنی النجار بنی ساعدہ اپنی نقلیہ اپنی بیفتہ اپنی الحادث وغیرہ اس معاہدے میں ان جماعتوں کے
ذکر کے بعد آیا ہے کہ ان بطانة يهود كا نفسهم ( یہود کے خواص اور ان کے محمد سلیم کا معاملہ
بھی انھیں کی طرح ہے) اس لئے یہودی صاحب وفاء الوفاء کا کہنا ہے کہ یہود میں قبیلوں سے
زیادہ تھے۔ (وفاء الوفاء ۱۱۶)۔
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۳
ان نمینوں قبائل کے باہمی تعلقات کشیدہ رہتے تھے اور کبھی لڑائیاں بھی
ہوتی تھیں، ڈاکٹر ولفنسن کہتا ہے :۔
بنی قینقاع اور بقیہ یہود میں عداوت چلی آتی تھی جس کا سبب
بہ تھا کہ بنی قینقاع بنی خزرج کے ساتھ یوم تبعات میں شریک تھے
اور بنی نضیر اور بنی قریظہ نے بنی قینقاع کا بڑی بے دردی سے کشت و خون
کیا تھا، اور ان کا شیرازہ بری طرح سے منتشر کر دیا تھا، حالانکہ انھوں نے
گرفتار ہونے والے نام تمام یہود کا فدیہ بھی ادا کردیا تھا چنانچہ یوم بیعاثا
کے بعد یہودی قبائل میں باہمی نزاع چلی آرہی تھی، جب قینقاع
اور انصار کے درمیان جنگ ہوئی تو انصار کے مقابلہ پر ان کا کسی
یہودی نے بھی ساتھ نہیں دیا ؟
قرآن مجید نے بھی یہود کی باہمی عداوت کی طرف اشارہ کیا ہے :۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَا قَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ تم
دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُم آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور اپنوں
مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُم وَ أَنْتُم کو اپنے وطن سے نہ نکالو گے پھر
تَشْهَدُونَ ، ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤلاءِ تم نے اقرار کیا او تم مانے ہو پھر
تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ تم ہی اپنوں کو قتل کرتے ہو اور
فَرِيقًا مِنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالا ثم نکالتے ہو، ان پر چڑھائی کرتے ہو
اپنے ایک فرقے کو ان کے گھروں سے
له اليهود في بلاد العرب ص ۹ ۱
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۴
وَالْعُدْوَانِ قَرَآن یا توکر گناہ اور ظلم کے طور پر اور گردو
أسرى تُقدِّ وَهُمْ وَهُوَ تمھارے پاس قید ہو کر آئیں تو تم
مُحَرَّمُ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُم فدیہ دیتے ہو، حالانکہ ان کا
(سورة البقرة -۸۴-۸۵) نکال دینا بھی تم پر حرام ہے۔
یہود مدینہ کی مختلف بیسیوں اور محلوں میں رہتے تھے، جو انھیں کے لئے مخصوص
تھیں بنو قینقاع کو جب بنو نضیر اور بنو قریظہ نے مدینہ کے نواحی محلے سے بھگایا تو وہ
شہر کے اندر ایک خاص محلے میں رہنے لگے، بنو نضیر مدینہ سے دو تین میل کی دوری
پر وادی بطحان کی بلندی پر رہتے تھے، جو کھجوروں اور کھیتوں سے مالا مال تھی ،
بنو قریظہ مدینہ کے جنوب میں چند میلوں پر واقع مہزور کے علاقے میں رہتے تھے لیے
مدینہ میں یہود کی مخصوص بیتیاں تھیں جن میں قلعے اور تحکم عارتیں بنی ہوئی
تھیں ان میں وہ مستقل طور پر رہتے تھے، انھیں یہودی حکومت بنانے کا موقع
نہیں ملا، بلکہ وہ قبائلی سرداروں کی حمایت و حفاظت کے تحت چین سے رہتے
تھے، اور اس حمایت کے بدلے میں انھیں سالانہ محصول ادا کرتے تھے، جس کے
سبب وہ بددوں کے حملوں سے بھی محفوظ رہتے تھے، اس خطرے کے پیش نظر
یہودی معاہدوں پر مجبور تھے، چنانچہ ہر یہودی سردار اعراب اور روسائے عرب
میں سے کسی نہ کسی کو اپنا حلیف بنائے رکھتا تھا۔
21 ” بنو اسرائیل فی القرآن والسنة للدكتور محمد بيد الطنطاوي من
له تشخیص از تاریخ العرب قبل الاسلام” ج ۲۳۰۷: ڈاکٹر جواد علی (بغداد)
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۵
مذہبی امور
یہودی اپنے کو ایک مستقل مذہب اور آسمانی شریعت کا حامل سمجھتے تھے۔
چنانچہ وہ اپنے مدرسوں میں (جن کو ید راس کہتے تھے) اپنے دینی اور دنیوی امور،
شرعی احکام، تاریخ اور اپنے انبیاء اور رسولوں کے حالات پڑھتے اور پڑھاتے تھے، اسی طرح
مخصوص عبادت گاہوں میں وہ اپنی عبادات اور دینی شعائر انجام دیتے تھے، وہ
انہی جگہوں پر اپنے تمام دینی اور دنیوی امور کے سلسلے میں مشورہ اور تبادلہ خیالات
کے لئے جمع ہوتے تھے، یہودی اپنے مخصوص دینی قوانین پر عمل کرتے تھے جن میں سے
کچھ انھوں نے اپنی کتابوں سے اخذ کئے تھے اور کچھ ان کے کاہنوں اور عالموں نے
اپنی طرف سے ایجاد کر لئے تھے، اسی طرح وہ اپنی عیدیں الگ مناتے تھے کچھ خاص
دنوں جیسے یوم عاشورہ میں روزے رکھتے تھے۔
یہود کی مذہبی و اخلاقی حالت
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود مدینہ کا اپنے اصل دین اور اپنی کتابوں کی تعلیمات
سے تعلق بہت کمزور ہو گیا تھا، اور مرور ایام سے وہ بھی اپنے ہمسایہ قبیلوں کی طرح
ہو گئے تھے، مگر توحید کا کچھ اثر اور کھانے پینے میں حلال وحرام کی تمیز باقی رہ گئی تھی۔
لیکن جب اسلام خالص و قطعی عقیدہ توحید کے ساتھ آیا جو قرآن میں ہے تو ان کے
رہا سہا یہ امتیاز بھی ختم ہو گیا۔
لے بنو اسرائيل في القرآن والسنة منه ۸۱
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۶
وہ اخلاقی پستی کی انتہا کو پہونچ گئے تھے اپنی حاجت روائی کے لیے سفلی اعمال
سحر وغیرہ اپنے مخالفین سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کھانے میں زہر کی ملاوٹ،
طنز و تعریض، اور دھو کہ میں ڈالنے والے دو معنی کلمات بول کر اپنے مجروح دل کو
تسکین دیتا ان کی عادت بن گئی تھی، جوان پست ذہنیت، شکست خورده
معاشروں کی پہچان ہوتی ہے، جو مردانگی اور اخلاقی جرات سے محروم ہوتے ہیں
فنون سحر و کہانت میں یہود کی مہارت تاریخ کے مسلمات میں ہے اور ان کے
علماء و اکا بر اس کا فخریہ اظہار بھی کرتے ہیں، اور قرآن مجید نے بھی آیت :۔
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيْطين انھوں نے (اس سحر و جادو) کی
عَلَى مُلْكِ سُلَي من الخ بھی پیروی کی جن سے شیاطین سلیمانی
( سورة البقرہ – ۱۰۲) کی کی سلطنت اور جہد میں کام لیتے تھے۔
سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، یہود کا یہ شخف عہد رسالت تک باقی تھا مشہور کا تک تھامت
یہودی مستشرق مارگولیتھ (MARCOLIOUT) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ
وسلم اور اسلام کے بارے میں اپنے تعصب کے لئے بھی مشہور ہے ، لکھتا ہے :-
مدینہ کے یہود فن سحر میں بڑے ماہر تھے اور علانیہ جنگ اور مردانہ وار
صف آرائی پر کالے کرتب (جادو) کو ترجیح دیتے تھے ہے
غزوہ خیبر کے بیان میں بکری کے گوشت میں زہر ملانے کا واقعہ آئے گا جو
نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی مگر آپ محفوظ رہے اور شیرین براون
معرور جنہوں نے کھانے میں شرکت کی تھی انتقال کر گئے ہے
- S. MARGOLIOUTH: MUHAMMAD & THE RISE OF ISLAM P. 189 له
صحیح بخاری باب ” الشاة التي تمت للنبي صلى اللہ علیہ وسلم بخیر
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۷
معروف کلمات کو ایک خاص طرز سے استعمال کرنے اور ان سے بڑے معنی
مراد لینے کا ذکر قرآن شریف میں اس طرح آیا ہے :۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوا اے ایمان والوتم را عنان مت کہا
رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرُنا و اسمع کرو اور انظر نا کہہ دیا کرو اور
وَالكُفِرِينَ عَذَابَ الیم سن لیجیو کافروں کو مسز اد روناک
( سورة البقرة – ۱۰۴)
ہوگی۔
ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہود آہستہ سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے راعنا کہتے تھے جو ان کی زبان میں ایک بڑی گالی تھی ، وہ
رابعہ کہتے تھے کہ آپس میں ہنستے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور اس کے یہ کہ آپس میں نہ تھے اس پر اللہ تعالی نے آیت اور اس کے
ستر باب اور مسلمانوں کو مشابہت سے بچانے کے لئے اس سے روک دیا گیا، اور
یہودیوں کے یہاں اس کلمہ کے معنی اسمع لا سمعت (سنو خدا تم کو سننا نصیب
نہ کرے) کے ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ (نعوذ بالشر) انھوں نے آپ کی نسبت ” رعن
سے کی جو رعونت سے نکلا ہے ، جس کے معنی جہل و حماقت کے ہیں اور الف مریوت
کے لئے ہے۔
بخاری نے حضرت عائشہ سے عروہ کی روایت نقل کی ہے کہ وہ فرمانی
تھیں کہ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے وقت “السلام عليك”
کہتے تھے اور اس سے مراد موت لیتے تھے۔
له روح المعانی از علامہ آلوسی بغدادی ج ۱ ۳۳۵۰-۳۴۹
ه جامع صحیح ، کتاب الدعوات .
………………………………………………………………………………………………………………
حدیث میں آتا ہے لكل داء دواء الا السلام (موت کے سوا ہر بیماری کی دوری)
اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ :۔
وَإِذَا جَاءُوكَ حَبَّوك بما اور وہ لوگ جب آپ کے پاس
الله لم يحيك به الله آتے ہیں، آپ کو ایسے لفظ سے
سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے
آپ کو سلام نہیں فرمایا۔
اسی طرح وہ ایسی اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے جس کی کسی مہذب صاحب کردار
اور شرعی و آسمانی تعلیمات پر مبنی معاشرہ سے توقع نہیں کی جا سکتی، اس رجحان
کا پتہ اس عرب عورت کے قصہ سے بھی ہوتا ہے جو بنو قینقاع کے بازار میں ایک کاریگر
کے پاس کسی کام سے گئی تو یہود نے اس سے چہرہ سے نقاب اتارنے کے لئے اصرار کیا اور
اس کے انکار پر کا ریگر نے اس کی نقاب پیچھے سے باندھ دی اور جب وہ کھڑی ہوئی تو
اس کی بے پردگی پر سب سہنی پڑے اور عورت نے ایک چیخ ماری جسے سن کر ایک مسلمان
نے لپک کر اس کا ریگر کا کام تمام کر دیا، اور پھر یہود نے اس مسلمان کو شہید کر دیا۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تھا اور اسواق
عرب میں اس کا امکان مشکل تھا۔
اقتصادیات
دوسری قوموں سے ان کے بیشتر مالی معاملات رہن اور سود پر قائم تھے
الم مجمع بحار الأنوار ج ۵۵۰۳ ۵۲ المجادلہ ۔ دیکھئے روح المعانی اور غیر ان کثیر سے سیرت ابن ہشام ق م
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۹
اور مدینہ جیسے زراعتی علاقے کے پیش نظر انھیں اس کا سنہرا موقع بھی حاصل تھا
کیونکہ کسانوں کو کھیتی کے موقع پر اکثر قرض کی ضرورت پیش آتی ہے۔
زمین کا نظام صرفت زریال تک ہی محدود نہ تھا، بلکہ مجبوری کی حالت میں
عور تیں اور بچے بھی رہن رکھ لئے جاتے تھے، چنانچہ کعب بن الاشرف کے قتل کے
سلسلے میں امام بخاری نے یہ روایت نقل فرمائی ہے۔
قال له محمد بن مسلمة محمد بنے ہونے کو ہے کہاکہ ہم چاہتے
قد اردنا ان تسلفنا وسفا ہیں کہ تم ایک وسق یا دو وسق غلہ
او وسقين فقال نعم ہمیں قرض دو اس نے کہا کہ بشرطیکہ
ار هنونی قانوا ای شی تم میرے پاس کچھ رہن رکھو ا نھوں نے
تريد ؟ قال ادھنونی پوچھا تم کیا چیز چاہتے ہو؟ کو نئے
ناء كم قالوا کہا ہ ہم تم میرے پاس اپنی عورتوں کو
کیفت نرھن نساونا رہن رکھوا انھوں نے کہا کہ ہم
وانت اجمل العرب اپنی عورتوں کو تمھارے پاس کیسے
قال : فارهنونی ابناء کو رہن رکھ دیں جبکہ تم عربوں میں
قالوا كيف نرهنك خوبصورت ترین انسان ہوا
ابناءنا فيسب احدهم اس نے کہا کہ تب اپنے بیٹوں کو
فيقال رهن بوست رہن رکھو، اس پر انھوں نے
او وسقين قال هذا کہا کہ ہم تمھارے پاس اپنے بیٹوں
لے بنو اسرائيل في القرآن والسنة منشتا
………………………………………………………………………………………………………………
عار علينا ولكن نرهنگ کیسے رکھ دیں کہ آگے انھیں طعنہ
اللأمة.
دیا جائے کہ وہ ایک یا دو دست
کے بدلے رہن رکھے گئے تھے اور
یہ ہمارے لئے بڑی شرم کی بات
ہوگی، البتہ ہم تمھارے پاس
ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔
اس قسم کے رہن کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ راہوں اور مرتہوں کے درمیان
نفرت و عداوت پیدا ہو جائے خصوصا اس وقت جبکہ عرب اپنی عورتوں کے فرت و عداوت پیدا ہو جائے خصوصا اس وقت جبکہ عرب اپنی عورتوں کے
سلسلے میں غیرت وحمیت کے لئے شہرت رکھتے تھے، دینہ کی اقتصادیات پر
یہوں کے اس تسلط کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کا معاشی دباؤ بہت بڑھ گیا، اور وہ
منڈیوں میں من مانی کرنے لگے، اپنی مصلحت و منفعت کے مطابق مصنوعی
قلت پیدا کر کے پور بازاری اور ذخیرہ اندوزی سے کام لینے لگے اس لئے
مدینہ کی اکثریت ان کی دھاندلی اور حد سے زیادہ سود خوری اور نفع اندوری
کی ایسی شرمناک حرکتوں کی وجہ سے ان سے نفرت کرنے لگی تھی جن سے ایک
عرب آدمی دور رہتا ہے۔
ان کی حبابی سیاست حرص و ہوس اور توسیع پسندی کے پیش نظر
DE LACY OF LEARN) نے اپنی کتاب عرب قبل محمد میں لکھا ہے کہ :
لے بخاری نے اسے کتاب المغازی میں باب قتل کعب بن الاشرف میں ذکر کیا ہے ان تمام
نے بھی تھوڑے فرق کے ساتھ یہ قصہ السیرۃ النبویہ خاص اور پر نقل کیا ہے کہ بنو اسرائیل فی القرآن السار
………………………………………………………………………………………………………………
۲۳۱
اصل بدوی باشندوں اور تو آباد یہودیوں کے تعلقات ساتویں صدی کا
مسیحی میں بہت خراب ہو گئے تھے کیونکہ ان یہودیوں نے اپنی کاشت کے
علاقے ان بدوؤں کی چراگاہوں تک وسیع کر لئے تھے؟
اوس و خزرج (مدینہ کے عرب باشندے) اور یہود کے تعلقات ذاتی نفع
اور استحصال پر مبنی تھے، یہود ان دونوں قبیلوں کو لڑانے پر بھی اپنے فائدے کی صورت
میں بہت خوب کرتے تھے جیسا کہ اوس و خزرج کی متعد د لڑائیوں میں انھوں نے
کیا تھا جن کے نتیجہ میں یہ دونوں قبیلے تباہ ہو رہے تھے، ان کے پیش نظر صرف یہی رہتا
تھا کہ مدینہ پر ان کا مالی تسلط بر قرار رہے، آنے والے نبی کے سلسلے میں یہود کی گفتگو
نے بھی اوس و خزرج کو داخل اسلام ہونے پر آمادہ کردیا تھا۔
دینی و ثقافتی حالت
بلاد عرب کے یہود کی زبان فطری طور پر عربی ہی تھی لیکن وہ خالص نہیں
رہ گئی تھی، بلکہ اس میں تھوڑی سی عبرانی کی بھی آمیزش ہو گئی تھی، کیونکہ انھوں نے
عبرانی کا استعمال پوری طرح نہیں چھوڑا تھا، وہ اپنی عبادتوں اور تعلیمی امور
میں اس کا استعمال کرتے رہتے تھے کہیے
اے ان سے عرب قبائل مراد ہیں، جیسے اوس و خزرج اور دوسرے عرب جو مدینہ کے اطراف میں
ان کے پڑوسی تھے .
ARABIA BEFORE MOHAMMAD, (LONDON 1927), P. 174
بنو اسرائیل فی القرآن والسنة اللدكتور محمد سيد الطنطاوی ص ۷۳-۱۰۱
مكة والمدينة في الجاهلية وعبد الرسول : احمد ابراہیم الشریف ۲۰۳
………………………………………………………………………………………………………………
یہود کے دینی و دعوتی پہلو کے بارے میں ڈاکٹر اسرائیل پفن لکھتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود کو عرب میں اپنا دینی انتدار وسیع
کرنے کے وسائل حاصل تھے، اور وہ اگر چاہتے تو حاصل کردہ اقتدار
سے کہیں زائد اثر و نفوذ حاصل کر سکتے تھے لیکن تاریخ یہود کا ہرجانے
والا جانتا ہے کہ یہود نے دوسری قوموں کو اپنے دین کے قبول کرنے پر
کبھی آمادہ نہیں کیا اور بعض وجوہ سے اشاعت دین یہود کے لئے
ممنوع رہی ہے یہ
یہود (اپنے قومی مزاج کے مطابق اپنے معاشرہ کو نئے حالات و تغیرات
کے مطابق ڈھالنے، نئے چیلنج کو سجھتے اور موقعہ سے فائدہ اٹھانے، اور اسلام کو
اختیار کر کے اپنی ثقافت و ذہانت اور تجربہ و صلاحیت کے لائق مقام پانے میں
ناکام رہے اور یہی افسوس ناک انجام ہر اس معاشرہ کا ہوا ہے جو اپنے ماضی، نام و
نسب پر فخر، اور خواب و خیال کی دنیا میں رہنا بہتا ہے اور کھو کھلی قیادت کا
ہارا لیتا ہے۔
یہود اپنے کو صحیح طور پر نمایاں کرنے اور ایک صاحب پیغام اور اہل کتاب
اور انبیاء سابقین کی امت و ذریت ہونے کے لحاظ سے اپنی صلاحیت و فوقیت
ثابت کرتے ہیں ناکام رہے اور عرب کی گھٹیا بت پرستی اور پست ترین جاہلیت
کو دیکھ کر انہیں کوئی بے چینی نہیں پیدا ہوئی اور انھوں نے کم سے کم اس
عقیدہ توحید کی بھی دعوت نہیں دی جس کے وہ صدیوں سے اپنے اخلاقی
له اليهود في بلاد العرب : اسرائیل و لفتن ۷۲ ۔
………………………………………………………………………………………………………………
الخطاط اور قومی کمزوریوں کے باوجود) حامل چلے آرہے تھے، جس کا بنیادی
سبب یہ تھا کہ وہ اپنے دین کی طرف کسی غیر اسرائیلی فرد کو دعوت دینے کے قائل
نہ تھے یہودیت کو نسلی دین و اعزاز سمجھنے کا عقیدہ ان کا دائی شعار تھا،
جیسا کہ اسرائیل الفتن اور سابق امریکی یہودی اور حال کی مسلم فاضلہ مریم جمیلہ
کا کہنا ہے، اس کے ساتھ ان کی آرام طلبی اور حد سے زائد تجارتی و معاشی سرگرمی
بھی ان کے لئے ایک رکاوٹ تھی۔
لیکن یقینی بات ہے کہ اوس وخزرج اور دوسرے عرب قبائل سے تعلق
رکھنے والے بہت سے افراد نے یہودیت کو اپنی مرضی سے یا رشتہ داری ، یا یہودی
ماحول میں پرورش پانے کے سبب اختیار کر لیا تھا عرب کے یہود میں سوتی ہیں پائی جاتی
تھیں یہ بھی معلوم ہے کہ نماز یہودی تاجر اور شہورشا ترکیب بن الاشرت (و نفری
کی نسبت سے بھی معروف ہے، قبیلہ طئے کا ایک فرد تھا، اس کے باپ نے بنی نصیر میں
شادی کی تھی چنا نچہ کعب ایک پر جوش بہودی کی صورت میں پروان چڑھا،
ابن ہشام لکھتے ہیں کہ :۔
” اس کا آبائی تعلق قبیلہ طے پھر بستی نیہان سے تھا ، اس کی ماں بنی تغیر
سے تھی ہے
عربیوں میں ایک رسم یہ تھی کہ جس کا لڑکا زندہ نہ رہتا تھا وہ یہ نذرمانا تھا کہ
اگر وہ زندہ رہا تو اس کو یہودیوں کے سپرد کردے گا کہ وہ اس کو اپنے میں شامل کر لیں
چنا نچہ بہت سے عرب اس طرح بھی یہودی بن گئے تھے، سنن ابو داؤ دین حسب بیل
ہے ابن ہشام ج ام ۵۱۴
………………………………………………………………………………………………………………
روایت ملتی ہے :۔
عن ابن عباس قال : كانت جس عورت کا بچہ زندہ نہ رہتا تھا
المرأة تكون مقلاه فتجعل وہ نذر مانتی تھی کہ اگر بچہ زندہ ربا تو
على نفسها أن عاش لها ولدان اسے یہودی بنا دے گی چنانچہ
تهوده، فلما الجليت بنو النضير جب بنو نضیر جلا وطن ہوئے تو
كان فيهم من ابناء الانصار ان میں سے انصار کے لڑکے بھی
فقالو الا ندع ابناءنا، تھے، اس لئے وہ کہنے لگے کہ ہم
فانزل الله تعالى : لا اکراہ اپنے بیٹوں کو نہیں چھوڑیں گے
في الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرشد اس پر یہ آیت اتری لا اكراه
مِنَ الْغَيِّ
في الدين
اوس و خزرج
اوس و خزرج (مدینہ کے عرب باشندوں) کا سلسلہ نسب بین کے قلیاء ارد ازد
سے ملتا ہے، جہاں سے یثرب کی طرف ہجرت کی لہریں مختلف وقفوں میں اٹھتی
رہیں جس کے کئی اسباب تھے ان میں بین کی غیر یقینی صورت حال مین کا حملہ
سید یا رب کے انہدام شتگی کے بعد آپپاشی کی دقت وغیرہ بھی ہیں اس طرح
اوس و خزرج مدینہ میں یہود کے بعد آئے ملے اوں کے قبائل دینہ کے جنوب مشرق
لکھتے ہیں کہ ان الوراء کتاب الجهاديان الأيضاً لكيلا يهديكم إلى الإسلام سے مشہور مشرق سیڈیو کی تحقیق ہے کہ میں اور
خزرج نے نشتر میجی میں مشرب کو اپنا وطن بنایا سیرت میں ان کا نیب پر تسلط مکمل ہو گیا تھا۔ (تاریخ العرب
العام ترجمه عربی عادل زعتر صلا
………………………………………………………………………………………………………………
میں آباد ہوئے، جو عوالی کا علاقہ کہلاتا ہے، تخریج کے قبائل وسطی اور شمالی علاقے میں آباد
ہوئے جو مدینہ کا نشیبی حصہ ہے، ان کے بعد مغرب میں حرة الوبرہ تک اور کچھ نہیں ہے۔
خریج چار قبیلے تھے، (1) مالک (۲) عدی (۳) مازن (۴) دیناریست
سب بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے جنھیں تیم اللات” کہا جاتا ہے بنو نجار کے قبائل
مدینہ کے اس سطی حصے میں آباد ہوئے جہاں اب اس وقت مسجد نبوی واقع ہے اوس
مدینہ کے زرخیز زراعتی علاقوں میںتقسیم ہوئے اور یہود کے اہم قبیلوں اور جماعتوں
کے پڑوسی بنے خوارج جہاں ٹھہر سے وہ زیادہ سرسبز علاقہ نہ تھا، ان کا صرف ایک
بڑا یہودی قبیلہ قیقات ہی پڑوسی تھا ہے۔
اب اوس و خزرج کے افراد کی یقینی تعداد معلوم کرنا بہت دشوار ہے لیکن
حالات و حوادث پر نظر رکھنے والان کی جنگی قوت کا اندازہ ان جنگوں سے کر سکتا ہے
جن میں وہ ہجرت نبوی کے بعد شریک ہوئے چنانچہ فتح مکہ کے دن ان کے لڑنے
والے افراد کی تعداد چار ہزار تھی ہے
مدینہ میں ہجرت کے وقت عربوں ہی کو بالا دستی اور اقتدار حاصل تھا یہود اپنے
ان حریفوں کے مقابلے میں متحد اور نظم نہیں تھے ان کے مختلف قبیلوں میں پھوٹ تھی
کچھ قبیلے اوس کے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے تھے اور کچھ خروج کے ساتھ تھے، لڑائی کے
وقت وہ اپنے ہم مذہبوں کے مقابلے پر عربوں سے زیادہ سخت گیر واقع ہوئے تھے
قینقاع اور بنی نضیر اور بنی قریظہ کی باہمی عداوت ہی کے نتیجے میں بنی قینقاع
لے مکہ والمدینہ ط۳ ۵۲ ايضا ۳ امتاع الاسماع بما للرسول من الابناء والاموال الحفرة
والمتاع ( علامہ تقی الدین احمد بن علی المقریزی) ۳
………………………………………………………………………………………………………………
اپنے کھیت چھوڑ کر صنعت و حرفت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے لئیے
اسی طرح اوس و خزرج کے درمیان بھی بہت سی جنگیں ہوئیں جن میں سے
پہلی جنگ سمیر تھی آخری جنگ بعاث تھی، جو ہجرت سے سال پہلے ہوئی تھی یہود
اوس و خزرج کو باہم لڑانے کے لئے سازشیں کرتے اور اختلات اور مقابلے کی آگ
بھڑکاتے رہتے تاکہ عرب ان کی طرف سے غافل رہیں، عرب بھی اس بات کو محسوس
کرتے تھے اس لئے ان کو ثعالب ( لومڑی) کے لقب سے یاد کرتے تھے۔
اس سلسلے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت سے جو واقعہ لکھا ہے
اس سے اس پر خاصی روشنی پڑتی ہے اس واقعہ میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک پیر السین
یہودی شعت بن قیس نے ایک جگہ اوس و خزرج کو اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مجلس
میں بیٹھے لطف و محبت کی باتیں کرتے ہوئے سناء اس کو منظر دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی
اور وہ برداشت نہ کر سکا، اس نے ایک یہودی نوجوان کو جس کے انصار سے تعلقات تھے
اشارہ کیا کہ وہ اس مجلس میں شریک ہو جائے پھر کسی تقریب سے جنگ بعاث اور اس سے
پہلے کی جنگوں کا ذکر چھیڑ دے اور ان موقعوں پر کہے ہوئے اشعار پڑھے تاکہ دونوں
قبیلوں کے زخمہائے کہن تازہ ہو جائیں اور حمیت جاہلیت اپنا رنگ دکھائے۔
یہ سازش بے نتیجہ نہیں رہی اور ان دونوں قبیلوں کی جو حریفوں اور دشمنوں
کی طرح لڑتے تھے رگ حمیت بھڑک اٹھی، قریب تھا کہ تلواریں میانوں سے نکل
آئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے ساتھ تشریف لے آئے اور اپنے
ے مکه والمدینه ۳۲۲ که فتح الباری ج ، منه ، جنگ بعاث کی تفصیلات اور اسباب
و محرکات کے لئے ملاحظہ ہو کامل ابن الاثیر
………………………………………………………………………………………………………………
۲۳۶
ارشادات یہ ان کے ایمان کی چنگاری کو فروزاں اور ان کے دینی جذبہ کو بیدار کر دیا،
ان کو فورا احساس ہوا کہ وہ ایک گہری سازش کا شکار ہو گئے، ان کی آنکھوں سے سیل اشک
رواں ہو گیا، اوس و خزرج باہم بغل گیر ہوئے اور ایسا معلوم ہوا کہ کچھ نہیں ہوا تھا۔
طبعی اور جغرافیائی کیفیت
یثرب ہجرت نبوی کے وقت مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا، جن میں یہودی اور
عرب قبائل رہتے تھے اور ہر علاقہ کسی کسی قبیلے کے حصہ میں تھا، ان علاقوں کی دو قسمیں
تھیں ایک قسم زراعتی زمینوں اور مکانات اور ان کے رہنے والوں پر مشتمل تھی اور دوسری قسم
میں آطام (یا آظہر یا گڑھیان اور قلعہ بند محلے تھے یہود کی ان گڑھیوں (آطام) کی
تعداد 59 تھی ڈاکٹر ولفنسن ان آطام (گڑھ میں) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
یثرب میں آطام (گڑھیوں) کی بڑی اہمیت تھی جہاں دشمن کے حملے کے
وقت قبیلے کے لوگ پناہ لیتے تھے اور خاص طور پر عورتوں بچوں اور معذور
لوگوں کو اس وقت ٹھکانا ملتا تھا جب مرد لڑنے کے لئے چلے جاتے تھے
یہ گڑھیاں گودام کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھیں جن میں غلے اور بیٹی جمع
کئے جاتے تھے کیونکہ وہ کھلی جگہوں پر ٹوٹ اور غارت گری کا نشانہ
بن سکتی تھیں، اس کے علاوہ ان میں مال اور ہتھیار بھی رکھے جاتے تھے
یہ دستور تھا کہ سامان سے لدے ہوئے تجارتی قافلے گڑھیوں کے
له ملاحظه ہو ابن هشام ج ۵۵۵۵۵۷۵۱ ماخوذ از تاریخ الیہود في بلاد العرب : اسرائیل
ولفنسن ۱۱۶ – ۵۳ وفاء الوفاء في اخبار دار المصطفى اللسمهودی – ۱۱۶/۱
…………………………………………………………………………………………………………
قریب ہی اترتے تھے اور ان ہی گڑھیوں کے دروازں پر بازار بھی لگتا
تھا خیال کیا جاتا ہے کہ ان گڑھیوں میں عبادت گا ہیں اور مدرس لا
(یہودی مدارس بھی ہوتے تھے، اس لئے کہ جو عمدہ اور وافر سامان دریا
رہتا تھا اس سے اسی کا پتہ چلتا ہے، وہاں دینی کتابیں بھی رہتی تھیں
چنانچہ وہاں بحث ومشورہ کے لئے یہودی سردار جمع ہوتے، جہاں وہ
کسی اہم معاملے کو پتہ کرنے یا عہد معاہدہ کے وقت کتب مقدسہ کی قسمیں
کھاتے تھے اے
ڈاکٹر ن کور العلم” کی تشریح کرتے ہوئے مزید لکھتا ہے:۔
عبرانی زبان میں اس کے معنی بند اور مسدود کر دینے کے ہوں گئے دیواروں
کے ساتھ جب یہ لفظ آتا ہے تو اس کے معنی ان کھڑکیوں کے ہوتے ہیں،
باہر سے بندگر اندر سے کھولی جاسکتی ہوں اس کا استعمال فصیل با مردی
حفاظتی دیوار کے لئے بھی ہوتا تھا، اس طرح ہم فرض کر سکتے ہیں کہ ہو
الم کو چھوٹے قلعہ کے معنی میں استعمال کرتے تھے، اس میں باہر سے
روشندان ہوتے تھے جو باہر سے بند اور اندر سے کھولے جاتے تھے *
یشرب ان ہی محلوں اور قلعہ بندیوں کا نام تھا جو دراصل قریب قریب کی
بستیوں کا مجموعہ تھا، جن سے شہر بن گیا تھا، قرآن نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔
مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ جو کچھ دیا اللہ نے اپنے رسول کو
من أهل القرى (سورہ حشر) بستیوں والوں سے۔
له اليهود في بلاد العرب ۱۱۶-۱۱۷ ۵۲ ايضا ۱۱۷
………………………………………………………………………………………………………………
نیز دوسری جگہ فرمایا گیا ۔
لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي وہ تم سے اکٹھے نہیں لڑتے گریہ کہ
قرى محصنة أو من وراء قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں
حجدد (سورہ حشر (۱۴) کے پیچھے ہوں ۔
مدینہ طیبہ میں حرات کی بھی بڑی اہمیت تھی حرہ لا یہ پہلے ہوئے سیاہ
پتھروں کے اس علاقہ کو کہتے ہیں جن کو آتشیں سیال مادہ نے ایک دوسرے سے
جوڑ دیا ہے اور جو بالکل بے ترتیب اور سخت نوکیلے اور آڑے ترچھے میلوں کی وسعت
میں پھیلے ہوئے ہیں ، ان پر نہ پیدل چلنا آسان ہے اور نہ اونٹوں اور گھوڑوں کا
گزرنا، مدینے کے دوسرے مشہور میں ، ایک جانب مغرب جس کو سحرة الوبرہ کہتے ہیں اور
ایک جانب مشرق جو حرہ واقم کے نام سے مشہور ہے علامہ مجد الدین فیروز آبادی
نے اپنی کتاب المغانم المطالبة في معالم طالبة میں متعدد تحرکات کا ذکر کیا ہے
مدینے کے گرد پھیلے ہوئے ہیں کہ ان دونوں حرات (حرة الوبر اور حرہ واقم) نے
مدینے کو ایک قلعہ بند شہر بنا دیا ہے جس پر صرف شمالی جانب سے فوج کشی ہو سکتی
تھی اور یہی وہ جا نب ہے جس کو غزوہ احزاب میں خندق کھود کر محفوظ کر دیا گیا
تھا، جنوبی جانب گھنے نخلستانوں اور باغات اور گنجان آبادی کے ایک دوسرے
سے ملے ہوئے مکانات سے ایسی گھری ہوئی ہے کہ ادھر سے بھی بیرونی حملہ مشکل ہے
ہجرت کے لئے مدینے کے انتخاب میں مدینے کے اس قدرتی استحکام اور فوجی خصوصیت
لہ لا یہ اور لاوا (۱۸۷۸) متقارب الصوت اور تقارب المنی لفظ میں یہ اس آتش گیر مادہ کو کہتے ہیں۔
جو کسی کوہ آتش فشاں سے یا طبقا الارض کی کسی تبدیلی سے ایل کی بہتتا ہے۔ کہے ملاحظہ ہومش – ۱۴!
جو
………………………………………………………………………………………………………………
۲۴۰
کو بھی دخل تھا۔
حرة واقم جو مدینے کے مشرق میں تھا وہ حرۃ الوبرہ سے زیادہ آباد تھا جب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیب کو ہجرت فرمائی تو حرہ واقم میں یہود کے اہم قبائل
جیسے بنو نظیر و بنو قریظہ وغیرہ رہتے تھے، ان کے ساتھ اوس کی اہم شاخیں
بنو عبد الاشہل، بنو ظفر بنت حارثہ بن معاویہ بھی وہیں مقیم تھے واتم بن الاشہل
ہی کے علاقے میں تھا جس کے نام پر حره واقم تھا۔
دینی حالت اور معاشرتی حیثیت
مدینہ کی عرب آبادی بیشتر معاملات میں قریش ہی کے تابع رہتی تھی، اور اہل کر
قریش کو کعبہ کا متولی، دینی رہنما اور عقیدہ و عمل میں لائق تقلید مثال سمجھتے تھے، وہ
جزیرۃ العرب میں پھیلی ہوئی بت پرستی کے تو تابع تھے ہی لیکن خاص طور پر انہی بنوں
کو پوجتے تھے جنھیں قریش اور اہل حجاز پوجتے تھے الا یہ کہ بعض قبائل کی بعض علاقائی اہل
بتوں سے زیادہ وابستلی تھی، اس طرح مناۃ اہل مدینہ کا سب سے محبوب اور پرانا
ثبت تھا اور اوس و خزرجہ اس کو مقدس ترین سمجھتے تھے، اور اسے خدا کا شریک
ٹھہراتے تھے یہ ثبت جبل قدید کے مقابل مشکل کے مقام پر واقع تھا ہو ساحل کی
طرف مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے ” لات ” اہل خائف کا محبوب ثبت تھا، عربی
اہل مکہ کا قومی بہت تھا، اس لئے ان شہروں کے لوگ اپنے اپنے ان بتوں سے جذباتی
تعلق رکھتے تھے اہل مدینہ میں سے جو کوئی لکڑی یا کسی چیز کا بت اپنے گھریں رکھتا تو
لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب کا باب میرب کی خصویا سے منزل الوحی الدکتر محد حین بر کل شی
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۱
اسے مناہ ہی کے نام سے پکارتا جیسا کہ بنی سلمہ کے ایک سردار عمرو بن الجموح نے
اسلام لانے سے پہلے بنا رکھا تھا۔
امام احمد نے عروہ کے حوالے سے حضرت عائشہ سے ان الصفا والمروة
من شعائر الله الآیه کی تفسیریں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا انصار اسلام لانے
سے پہلے مناہ کے نام پر تلبیہ پڑھتے تھے اور جس کی و شکل کے پاس پوجا کرتے تھے اور اس کے
نام پر ہی شروع کرنے والا صفا و مروہ کی سی صحیح نہیں سمجھتا تھا جب لوگون رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ یارسول اللہ ہم زمانہ جاہلیت
میں صفا و مروہ کے طواف میں حرج سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الآيه.
ہم مدینے میں کسی اور بت کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ لات و مناتی عربی
قبیل کی طرح مشہور ہوا ہو اور لوگ اس کی عبادت کرنے اور اس کے لئے مدینہ کے باہر
سے آتے ہوں کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکہ کی طرح مدینہ میں بتوں کی کثرت تھی
اس لئے کہ کہ کے ہر گھر میں ایک خاص بیت ہوتا تھا کہ میں بتوں کو لوگ پھیری میں
لے کر نکلتے اور بیچتے تھے، بہر حال کہ بت پرستی میں مقتدی اور رہنما کی حیثیت رکھتا
تھا، اور مدینے کی حیثیت ذیلی تھی۔
اہل مدینہ سال کے دودنوں میں کھیل کود کا تیوہار مناتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ
وسلم جب مدینے تشریف لائے تو اہل مدینہ سے فرمایا ” قلابد لكم الله تعالى بهما
له ما خود از بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب از علامه محمود شکری الآلوسی ۳۴۶۷۱- ۲۸/۲
ہے اس میں صحابہ سے اور کئی روایتیں بھی منقول ہیں۔ کلہ سورۂ بقرہ – ۱۵۸
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۲
خیر اہم اللہ نهما یوم الفطر والاضح ” اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان دو دنوں سے بہتر دن
عطا کئے ہیں ۔ یوم نظر اور عید الاضح بعض شارحین حدیث نے ان دونوں کے
متعلق بتایا ہے کہ وہ نوروز اور مہرجان کے دن تھے جنھیں شاید ان لوگوں نے
اہل ایران سے لیا تھا۔
اوس و خزرج کی شرافت نسب کا اعتراف قریش کو بھی تھا جو عرب عاربہ
سے تعلق رکھنے والے بنو قحطان کی شاخ میں سے تھے، قریش ان سے شادی بیاہ
کا تعلق بھی رکھتے تھے چنانچہ عبید قریش باشم بن عبد منات نے بنی النجار میں
شادی کی تھی، ان کی شادی سلمیٰ بنت عمرو بن زید سے ہوئی تھی جو بنی عدی بن
النجار سے تھیں، جو خزرج کی ایک شاخ ہے اس کے باوجود قریش اپنے کو مدینہ
کے عرب قبائل سے برتر سمجھتے تھے، غزوہ بدر کے دن جب عقیبہ بن ربیعہ شیبہ بن ربیعہ
اور ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی اور ان کے مقابلہ پر انحصار
کے کچھ نوجوان نکلے تو انھوں نے پوچھا تم کون ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم انصار
ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہمیں تم سے مطلب نہیں، پھر ان میں سے ایک آدمی نے آواز دی
کہ اسے محمد ہمارے مقابلے پر ہمارے ہم قوم اور ہمارے ہمسر افراد بھیجئے اس پر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبیدہ بن الحارث اہم بڑھو حمزہ تم بڑھو
علی تم کھڑے ہو تو جب یہ لوگ ان کے قریب گئے اور اپنے نام بتائے تو قریش نے
کہا کہ ہاں یہ شریف ہمارے جوڑ کے ہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کاشت کاری کو رجس کے اہل مدینہ اپنے علاقائی
صحیحین کہ بلوغ الارب له ابن هشام ج ۶۲۵۰
لہ
………………………………………………………………………………………………………………
حالات کی وجہ سے عادی تھے، کس قدر حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، اس کا اظہار
ابو جہل کے اس جملے سے بھی ہوتا ہے جسے عفراء کے دو انصاری لڑکوں نے قتل کیا
تھا، حضرت عبد اللہ بن سعود سے اس نے جاں کنی کے عالم میں کہا۔ کو غیر آگار قالی
(کاش ایک کسان کے علاوہ کسی نے مجھے قتل کیا ہوتا۔ہ)
اقتصادی اور تمدنی حالت
مدینہ اپنی زمین کی نوعیت کے لحاظ سے ایک زرعی علاقہ تھا، اس لئے اس کے
باشندوں کا انحصار زراعت اور باغیانی ہی پر تھا۔ اسکی اہم پیدا واروں کی کھجوریں
اور انگور تھے، کیونکہ وہاں ان کے بہت سے باغ تھے ملے جن میں بہ سے ٹیلیوں والے اور
بہت سے بے مٹی کے تھے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت دوننے کے اور ایک تنے کے ہوتے تھے ہے
کھیتی میں مختلف علے اور سبزیاں ہوتی تھیں کھجور میں قحط اور خشک سالی کے
وقت لوگوں کی بیشتر غذائی ضرورت پوری کرتی تھیں، اور ضرورت کے وقت مکہ کی طرح
لے علامہ محمد بن طاہر بینی نے مجمع البحارہ میں اس کے معنی کسان اور کاشت کار دیئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ
وہ اہل عرب کے نزدیک کم درجہ کا پیشہ ہے، ابو جہل کا مطلب یہ تھا کہ عفرا کے لڑکے کسان ہیں اس لئے
اگر کسی اور نے قتل کیا ہوتا تو بیمار نہ لگتا ۔ ج امثلا
لے بیرحاء کے بارے میں ابو طلحہ کی حدیث ملاحظہ کریں جسے شیخین نے روایت کیا ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہےکہ مدینے میں اسے گھنے باغ بھی تھے کہ گو یا خشکی میں چھوٹی
ا ھی کی ایک نہیں بات تھی ا الا انا اے تے ہیں کہ وہ اپنے ان میں ان پڑھ رہے تھے کہ
اتے ہیں کہ گر یا باغ سے نکلنے کے لئے ادھر ادھر اڑنے لگی، چنانچہ اس عجیب منظر کو ہ کچھ دیر تک دیکھتے رہے
اسی قصے میں آگے ہے کہ اس غفلت کی وجہ سے انھوں نے اس باغ کو صدقہ کر دیا ملاحظہ ہو
(موطا امام مالک) ۵۳ ملاحظہ ہو سورۃ الانعام ۱۳۱- اور الرعد ۴ –
………………………………………………………………………………………………………………
ان سے بیع و شراء میں مدد لی جاتی تھی، اس طرح کھجور کے باغ اہل دینہ کی زندگی
میں بڑے خیر و برکت کا سرمایہ تھے، ان سے وہ غذا بھی حاصل کرتے اور صنعت و تعمیرات
اور ایندھن اور جانوروں کو کھلانے کے کام میں بھی لاتے تھے لیے
مدینے کے کھجوروں کی بہت سی قسمیں تھیں جن کا احاطہ مشکل ہے اہل مدینہ کو
طویل تجربے سے کھجوروں کی پیداوار کی افزائش اور عمدگی کے بہت سے طریقے معلوم تھے
جن میں سے نرومادہ کی تمیز اور ان کے زیروں کا استعمال بھی تھا جس کو تا بیر کے لفظ سے
تعبیر کرتے تھے کہیے
باغبانی اور زراعت کا مطلب یہ نہیں کہ مدینہ میں کوئی تجارتی سرگرمی تھی ہی
نہیں البتہ کل کی طرح اس کی گرم بازاری نہ تھی کیونکہ بے آب گیاہ وادی مکر کے لوگوں کا
انحصار قدرتی طور پر تجارت اور موسم سرما و ریا کے تجارتی سفروں پر تھا۔
مدینہ کی بعض صنعتیں یہودیوں ہی کے ساتھ مخصوص تھیں جنہیں شاید وہ بین سے
لائے تھے بنی قینقاع کے لوگ عام طور پر ساری اور زگری کا پیشہ کرتے تھے اور یہود
مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار تھے ان کے گھر مال و دولت اور سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے۔
له ملاحظه بو بخاری کتاب العلم (باب طرح الامام المسألة على الناس ليختبر ما عندهم من العلم اور
اس کی شرح این جی کی فتح الباری با عینی کی عمدۃ القاری میں ملاحظہور سے کھجور سے متعلق عربی میں
الفاظ کا جو وسیلے ذخیرہ پایا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ دلوں کی زندگی میں ھوا اور اہل بیتی کی
زندگی میں خصوصا کجور کو کسی اہمیت و مرکزیت حال تھی مثال کے طورپر ابن قتیبہ کی اور الکتاب تعالی کی
فقہ اللہ اور ابن بیا کی المخصص ملاحظہ ہوں ہوتے ہی علم کو مستقل کتابیں بھی ہیں ہے بابر کا مطلب
ادہ جوں کے خوشوں کو پر کرن کھجور کے زیرے ڈالنے کے ہیں (شرح ملم النودی) کے الیہود فی بلاد العرب ما
………………………………………………………………………………………………………………
مدینہ کی زمین آتش فشاں علاقوں (حجرات کی موجودگی کی وجہ سے بہت زیادہ
نیز واقع ہوئی ہے جس کی وادیوں سے میلا کا پانی بھی خوب بہتا ہے اور زمینوں کے ساتھ
کھیتوں اور باغوں کو بھی سیراب اور شاداب کرتا جاتا ہے ان میں سب سے مشہور وادئی
عقیق تھی جو مدینے کی تفریح گا تھی اس میں پانی با فراط رہتا تھا، اور باغوں کی کثرت
تھی مدینے کی زمین کنویں کھودنے کے لئے بھی بہتر تھی جن کا باغات میں عام رواج تھا۔
باغات کے گرد چہار دیواری بھی ہوتی تھی، ایسے باغ کو اہل مدینہ حائفہ کہتے تھے
اسی طرح مدینے کے بہت سے کنویں اپنے پانی کی فراوانی و شیرینی کے لئے مشہور تھے وہاں
نہریں اور رہاٹ کا نظام بھی تھا، جس کے ذریعہ وہ اپنے باغوں تک پانی پہنچاتے تھے
غلوں میں اولیت جو اور پھر گیہوں کو حاصل تھی اور سبزیوں اور ترکاریوں کی تو
بہتات تھی کھیتی کے معاملات کی کئی قسمیں تھیں مثلا مزابنہ مخابرہ معاوضه
ے صحیح بخاری (کتاب المغازی) میں گویہ ابن مالک کی ابتداء کا واقعہ دیکھئے جس میں آیا ہے کہ جب مجھ پر
لوگوں کی تو دور بے اعتنائی دیکھی تو میں نے اپنی کھجوروں کی دیوار اٹھا لی اور اچھا بھائی تھانی
کے ابو ہریرہ کی وہ حدیث پڑھیں جسے مسلم نے روایت کیا ہے اور جس میں ایک باغ کے سیراب
کرنے کا ذکر آیا ہے اور اس میں خراج پانی کی نالیاں اور مسمار دکھاوڑے) سے آپانی کا بھی
ذکر ہے۔ سے صحاح میں حرث و مزارعہ کے ابواب دیکھئے، مزابنہ درخت میں لگی ہوئی کھجوروں کو نقد
کھ دو نیچے کو کہتے ہیں محافظہ خوشوں میں لگے ہوئے غلے کو نہ ملے یعنی جو وجہ کے بدلے اور کہو کی
گیہوں کے بدلے تول کر لینے کو کہتے ہیں مخابرہ اور مزارعہ کچھ یکساں ہیں یہ زمین کی پیداوار کی تنہائی
یا چوتھائی پر معاملہ کرنے کو کہتے ہیں لیکن مزارعہ میں بیچ مالک کے ہوتے ہیں، اور مخابرہ میں کاشتکا
کے اہل لغت کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہی ہیں مزارعتہ ومخابرہ کی صحت میں خلافت
و ساعت کا اختلاف مشہور ہے یا خود از شرح مسلم النوی معاومہ کئی سال کی فصلوں کو بیچ
دینے کو کہا جاتا ہے، جیسے درخت کے پھل دو تین سال یا زیادہ کے لئے بیچ دیئے جائیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
ان شکلوں میں سے بعض کو اسلام نے باقی رکھا اور جن کو منع کر دیا یا اس کی اصلاح کردی۔
مکہ اور مدینہ میں جو سکے رائج تھے وہ ایک ہی تھے اور ہم ان تفصیل سے مکہ سے
سلسلہ میں ذکر کر چکے ہیں، اہل مکہ کے مقابلے میں اہل مدینہ کو ناپ تول کے پیمانوں سےزیادہ
واسطہ پڑتا تھا، کیونکہ وہاں کے باشندوں کا سرمایہ غلے اور پھل ہی تھے مدینے میں استعمال
ہونے والے پیمانے یہ تھے مد، صاع، فرق، حرق، وسی وزن کے لئے یہ چیزیں تھیں
در هم، شقاق، دائق ، قیراط ، نواة ، رطل، قنطار، اور اوقیہ کی
مدینہ اپنی زر خیزی کے با وجود غذائی طور پر خود کفیل نہ تھا، اس لئے وہاں کے
باشندے باہر سے بھی غذائی اشیاء در آمد کرتے تھے وہ میدہ کا آٹا گھی اور شہد شام سے
لاتے تھے، جیسا کہ ترندی نے قتادہ بن نعمان ہے سے روایت کیا ہے جس میں آیا ہے کہ
مدینے کے لوگوں کی غذا کھجوریں اور جو تھے اور جب آدمی خوشحال ہوتا تو جب شام سے
ضاف لا میں لے کر آتا تو اس سے اپنے لئے وہ چیزیں خریدیتا لیکن اہل وعیال
کھجوریں اور جو ہی کھاتے تھے یہ قصہ مدینہ کی غذائی صورت حال اور معیار زندگی
کے اختلاف پر کافی روشنی ڈالتا ہے، جو ہجرت کے بعد اچانک سامنے نہیں گئی تھی۔
یہود جن کی فطرت اور تاریخ ہر جگہ یکساں رہی ہے مدینہ میں بھی عربوں سے زیادہ
تین تفصیل کے لئے عمویت اور خلافت کی کتابیں لکھیں اور اوزان کے لئے دیکھیں التراتيب الاداری
اس ۴۱۵ – ۳ حافظ کے متعلق علامہ محمد طاہر یہی کہتے ہیں اضافظ اور ضغاط سے کہا جاتا تھا جو
مال و اسباب شہروں تک پہونچاتا تھا اپنی قوم کے افراد ہوتے تھے جو اپنے تک آنا تیل وغیرہ پہونچانے
تھے (صحیح البحار / ۲۱ طبع جید آباد ) کئے یہاں دورہ کے لفظ آیا ہے جو سفید دید کو کہتے ہیں اس کو اور دو کرے
ه ملاحظه ولا تَكُ خَوا تَعَنِ الَّذِينَ يَنَالُونَ أَنْفُسُهمُمَان اللَّهَ لا تُكُمَنْ كَانَ خَوَانًا ايها “
کی تفرزندی میں ۔ (سورۃ النساء – ١٠٤)
………………………………………………………………………………………………………………
مالدار واقع ہوئے تھے، عرب اپنے بدوی اور قومی مزاج کی وجہ سے تنقبل کے بارے
میں زیادہ سوچنے کے عادی نہ تھے کہ اس کے لئے مال جمع کرنے کی فکر کرتے ، اس کے
ساتھ ہی وہ مہمان نواز اور قیا م بھی تھے ، اس وجہ سے یہود سے قرض لینے پر مجبور
ہو جاتے تھے ، اور یہ قرض اکثر سودی یا رہنی ہوتا تھا۔
اہل مدینہ کے پاس اونٹ، گائیں اور بکریاں بھی تھیں، اونٹ کو زمین کی
سینچائی کے لئے بھی استعمال کرتے تھے ، اور ایسے اونٹوں کو الابل التواضح کہتے تھے،
ان کے پاس چھرا گاہیں بھی تھیں، جن میں مشہور زغالیہ اور غابہ تھیں ، جہاں سے
لوگ لکڑیاں بھی حاصل کرتے اور مویشیوں کو چراتے بھی تھے ، گھوڑوں کو وہ جنگوں میں
استعمال کرتے تھے ، اگر چہ وہ سکے کی نیت کم تعداد میں پائے جاتے تھے، بنو سلیم
گھوڑوں کے لئے مشہور تھے جنھیں وہ باہر سے درآمد کرتے تھے۔
مدینے میں کئی بازار بھی تھے جن میں سب سے اہم سوق بنی قینقاع تھا، جو
سونے اور چاندی کے زیورات و مصنوعات اور کپڑے والوں کا خاص بازار
تھا ، اس وقت مدینے میں سوتی اور ریشمی کپڑے، نگین غالیچے اور نقش پر دیتے
عام طور پر موجود تھے، عطر فروش مختلف قسم کے عطر اور شک فروخت کرتے تھے ،
اسی طرح غیر اور پارسلے کے تاجر بھی پائے جاتے تھے، خرید و فروخت کی بہت سی
لے یاقوت حموی کی معجم البلدان اور یہودی کی وفاء الوفاء ملاحظہ ہو کہ حضرت عائشہ کی حدیث
لاحظہ ہو جسے تخمین نے روایت کیا ہے اس می رام کا ذکر آیا ہے رام کے بارے میں عام پانی کہتے ہیں
وہ باریک پردہ کئی رگوں کی اون کی چادر یادہ پردہ ہوتا ہے جو جلہ عروسی میں گتا ہے کہا جاتا ہے کہ
وہ مزین دو شش بھی ہوتا ہے (مجمع بحار الانوار ۲۵۰/۴) سلة التراتيب الادارية ۹۷۱
………………………………………………………………………………………………………………
قسموں میں بعض کو اسلام نے باقی رکھا، اور بعض کو روک دیا، جیسے نبی و اختار تلقی
الركيان، بيع المراة (جانوروں کے تھن میں دودھ محفوظ کر کے بچیا) بیع نسئیہ
بيع الحاضر للبادي ابيع المجازفہ، بیع المزابنہ اور محاصرہ ، اوس و خر رج کے
کچھ لوگ بھی سودی کاروبار کرنے لگے تھے، مگروہ یہود کی نسبت بہت ہی کم تھا۔
مدینے کی تمدنی زندگی میں وہاں کے باشندوں کے مزاج و خوش مذاقی کے
سیب خاصی ترقی ہو چلی تھی، چنانچہ دو منزلہ مکان بننے لگے تھے کہے
بعض گھروں کے ساتھ پائین باغ بھی تھے وہ میٹھے پانی کے عادی تھے می وہ پانی تھے
جسے انھیں کبھی دور سے بھی لانا پڑتا تھا، بیٹھنے کے لئے کرسی کا استعمال بھی ہوتا تھا۔ بھی
شیشے اور پتھر کے پیالے اور آنیوالے استعمال میں آتے تھے اورمختلف قسم کے چراغ
استعمال ہوتے تھے ہے گھر اور کھیت کے کاموں میں چھوٹی ٹوکریاں اور زنبیلیں کام
میں لائی جاتی تھیں، مال داروں خصوصا یہود کے گھروں میں خاصا فرنیچر پایا جاتا
تھا قسم قسم کے زیورات بھی استعمال ہوتے تھے، جیسے کنگن اور بازوبند پازیب اور
کڑے کان ن کے بندے اور بالیاں، انگوٹھیاں اور سونے یا منی دانوں کے ہار
لے کتب حدیث و فقہ کے ابواب بیع اور مجمع بحارالا نوار ملاحظہ ہوں ، جہاں ان لفظوں کی
شرح اور ان کی حالت و حرمت کے احکام لیں گے ہے ملاحظہ ہو حدیث ہجرت اور
حضرت ابوایوب انصاری کے مکان میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے قیام فرمانے کا واقعہ
له التراتيب الادارية ٩۶/١ ه ايضا مت کے واقعہ افک میں حضرت عائشہ
کی حدیث ملاحظہ ہو، جسے بخاری نے کتاب المغازی میں نقل کیا ہے، اس میں جزا کا لفظ ہے۔
جو سیاہ سفید رنگ کے دانوں کو کہتے ہیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
۲۴۹
عورتوں میں پینے اور کاتنے کا عام رواج تھا ، اور سلائی ، رنگائی معماری
اور خشت سازی اور سنگ تراشی ان صنعتوں میں تھیں جو ہجرت سے بہت پہلے
تا مدیے میں معروف تھیں۔
یشرب کا پیچیدہ اور ترقی یافتہ معاشرہ
اس طرح یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم اور مہاجرین نے مکہ سے بشرب نام کے کسی گاؤں کی طرف سفر نہیں کیا تھا بلکہ
وہ حضرات ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف منتقل ہوئے تھے، اگر چہ یہ دوسرا
شہر پہلے شہر کے مقابلے میں زندگی کے بہت سے مظاہر میں مختلف تھا ، اور
نسبتاً مکہ شہر سے کچھ چھوٹا بھی تھا لیکن وہاں کی زندگی پیچیدگی میں مکہ سے بڑھی ہوئی
تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آنے والے مسائل مختلف نوعیت کے
تھے، کیونکہ وہاں کئی مذاہب اور معاشرے اور ثقافتیں موجود تھیں جن پر قابو
پانے اور مدینہ کو ایک عقیدے اور ایک دین کے رنگ میں رنگنے کا کام مؤید من السحر
رسول ہی کر سکتا تھا، جیسے اللہ نے حکمت و بصیرت اور قوت فیصلہ اور انسانیت
کے بکھرے شیرازے کو جمع کرنے اور متارب قوتوں اور نظریوں کو ہدایت اور
تعمیر انسانیت کے کام میں ایک دوسرے کا مدد گار نہانے کی غیر معمولی صلات
سے نواز ا تھا، اور جسے ایک دلکش شخصیت عطا کی تھی، اللہ تعالٰی نے کتنا صحیح
کہا ہے کہ :۔
هُوَ الَّذِي أَيَّدَك بنصر رہی ہے جس نے اپنی مداد سلانوں
………………………………………………………………………………………………………………
۲۵۰
وَبِالْمُؤْمِنِينَ ، والف کے ذریعہ آپ کی پشت پناہی
بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انفقت کی اور ان کے دل ملا دیئے کہ اگر
مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ما آپ دنیا کی ساری دولت بھی
الفتَ بَيْنَ قُلُوبهم خرچ کر دیتے تب بھی ان کے
وَالكِنَّ اللَّهَ الَّفَ بَيْنَ ھر دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے،
إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِیم لیکن اللہ ہی نے ان میں جوڑا اور
( سورة الانفال ۶۲-۱۳) اتفاق پیدا کر دیا، وہ غالب
اور حکمت والا ہے ۔
*