بعثت سے پہلے
حضرت اسماعیلؑ مکہ میں
سیدنا ابراہیم علیہ السلام مکہ کی طرف آئے، جو خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑیوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس میں پانی، کھیتی، غلّہ اور ضروریاتِ زندگی میں سے کسی چیز کا وجود نہ تھا جو انسانی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی ہاجرہ اور صاحبزادے اسماعیلؑ بھی تھے۔ یہ سفر دراصل دنیا میں پھیلی ہوئی بت پرستی سے ہجرت، اور ایک ایسے مرکز کی تاسیس کے لیے کیا جا رہا تھا جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی جائے، اور یہ مرکز قیامت تک ایک روشن مینار، انسانوں کی جائے پناہ و جائے امن، اور توحید و حنیفیت اور دینِ خالص کی دعوت کا نقطۂ آغاز بن سکے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عملِ خالص کو قبول فرمایا، اور اس خشک وادی میں خوب برکت عطا فرمائی، اور اس چھوٹے سے مبارک خاندان کے لیے، جو صرف ماں بیٹے پر مشتمل تھا، جن کو حضرت ابراہیمؑ اس دور دراز اور بے آب و گیاہ صحرا میں خدا کے بھروسے پر چھوڑ گئے تھے، پانی کا ایک چشمہ جاری فرمایا، جو بعد میں زمزم کہلایا، اور اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت برکت دی۔
ملخص از قرآنِ مجید، سورۃ البقرہ و سورۃ ابراہیم۔
اسماعیلؑ جب کچھ بڑے ہوئے اور چلنے پھرنے اور دوڑنے بھاگنے لگے تو حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کی محبت پر ان کی محبت کو قربان کرنا چاہا، اور ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، اس لیے کہ خواب میں ان کو اس کی ہدایت کی گئی تھی۔ سعادت مند فرزند نے ارشادِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، اور خوش دلی و اطمینان کے ساتھ اس پر تیار ہو گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ذبحِ عظیم، یعنی بڑی قربانی، کو اس کا فدیہ بنا دیا، اور ان کو محفوظ و مامون رکھا، تاکہ دعوتِ الی اللہ میں وہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا سکیں، اور خاتم النبیین و سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِّ امجد بننے، نیز اس امتِ مسلمہ کے مورثِ اعلیٰ بننے کا شرف ان کو حاصل ہو، جس کو دعوتِ الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کی ذمہ داری قیامت تک کے لیے ڈالی گئی ہے۔
ملخص از قرآنِ مجید، سورۃ الصافات۔
حضرت ابراہیمؑ مکہ واپس ہوئے، اور باپ بیٹے دونوں نے مل کر اللہ کے گھر کی تعمیر شروع کی۔ ان کی دعا یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کو قبول کرے اور اس میں برکت عطا فرمائے، اور دونوں اسلام پر جئیں اور مریں، اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو بھی یہ دولت و برکت حاصل ہو۔ وہ اس دعوت کی صرف حفاظت و پاسبانی ہی نہ کریں، بلکہ دنیا میں اس کے داعی اور علمبردار بنیں، اس کو ہر چیز پر ترجیح دیں، اس کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہ کریں، یہاں تک کہ یہ دعوت سارے عالم میں پھیل جائے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں ایک ایسا انسانی رہبر پیدا کرے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو ازسرِ نو زندہ کرے، اور اس کام کو تکمیل تک پہنچائے جسے وہ شروع کر رہے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بھی دعا فرمائی تھی کہ یہ گھر ہمیشہ امن و سکون کا گہوارہ رہے، اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو بتوں کی پرستش سے محفوظ رکھے، جس سے زیادہ نفرت و کراہیت ان کو کسی چیز سے نہ تھی، اور جس سے بڑا خطرہ وہ اپنی آئندہ نسل کے لیے کسی چیز کو نہیں سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء کرام کے بعد ان کی قوموں کا انجام ان کی نظر کے سامنے تھا، اور انہوں نے دیکھا تھا کہ ان کی مسلسل کوششوں اور عظیم قربانیوں کے باوجود ان قوموں میں سے اکثر شیطانوں کے پیروکار، اپنے وقت کے دجالوں، بتوں اور بت پرستوں اور جاہلیت کے علمبرداروں کے ہاتھوں گمراہ ہو گئیں۔
انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس تمنا کا اظہار کیا کہ ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کا دعوت اور جہاد سے برابر رشتہ قائم رہے، اور وہ ان کی بت شکنی، شرک و بت پرستی سے نفرت و بیزاری، راہِ حق میں مسلسل محنت اور جہد و جہد، اپنے بت تراش و بت فروش والد کے مقابلے میں ان کی صف آرائی، حق گوئی، دل سوزی، ہجرت اور ترکِ وطن کو ہمیشہ یاد رکھے۔ اور محسوس کرے کہ اتنے نازک اور اہم کام کے لیے اس ویرانے اور سنگلاخ زمین کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے، جو نہ لائقِ کھیتی تھی، نہ تہذیب و تمدن کی پرورش اور ترقی کا اس میں کوئی سامان تھا، اور دنیا کے بڑے آباد و گلزار شہروں، تجارت و زراعت، صنعت و حرفت کے مرکزوں کو، جہاں ہر طرح کے اسبابِ عیش اور سامانِ راحت موجود تھے، چھوڑ کر اس دور افتادہ و گمنام خطے کو کیوں ترجیح دی گئی ہے؟
انہوں نے اپنے اللہ سے یہی دعا کی کہ ان کی اولاد کو دل نوازی و قبولیت، شہرت، رجحانِ خلائق اور مرکزِ آفاق بننے کا شرف حاصل ہو، لوگوں کے دل خود بخود ان کی طرف کھینچے چلے آئیں، دنیا کے ہر کونے سے ان کی محبت و عقیدت کا خراج ان کو پیش کریں، ان کا رزق خود بخود ہر طرف سے ان کو پہنچایا جائے، اور ثمرات اور کوششوں کے بہترین نتائج اور فوائد و منافع ان کو حاصل ہوں۔
قبیلۂ قریش
یہ ساری دعائیں اور تمنائیں ایک ایک کر کے پوری ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی اولاد میں کثرت عطا فرمائی۔ یہ ابراہیمی عربی خاندان خوب پھلا پھولا اور پھیلا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قبیلہ جرہم میں شادی کی اور نسلِ عربِ عاربہ میں شمار کیے گئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں بہت کثرت ہوئی، یہاں تک کہ ان میں عدنان پیدا ہوئے، جن کا سلسلۂ نسب حفظ و احتیاط اور تواتر و اجماع کے لحاظ سے انسابِ عرب میں سب سے زیادہ روشن اور مستند ہے۔
عدنان کی بھی کثیر اولاد ہوئی۔ ان میں معد بن عدنان زیادہ مشہور ہوئے، پھر ان کی نسل میں مضر نامور ہوئے، اور ان کی اولاد میں فہر بن مالک بن النضر ہوئے۔ فہر بن مالک بن النضر کی اولاد کا نام ’’قریش‘‘ پڑ گیا، اور یہ نام ان کے سب ناموں پر اس طرح غالب آ گیا کہ وہ قبیلۂ قریش کہلانے لگے۔ عرب میں قریش کی عالی نسبی، سیادت و امارت، فصاحت و بلاغت، قوتِ بیانیہ، اخلاقِ عالیہ، شجاعت اور اصل مندی ایک ایسی مسلم حقیقت بن گئی تھی جو ضرب المثل کی طرح مشہور تھی، اور اس میں دو رائیں نہ تھیں۔
قبیلۂ جرہم مکہ میں حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے آباد تھا؛ حضرت اسماعیلؑ نے اسی قبیلے میں شادی کی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج ۱، اولادِ عدنان، اور کتبِ سیر و انساب۔
قصیّ بن کلاب اور ان کی اولاد
فہر کی اولاد میں قصیّ بن کلاب پیدا ہوئے۔ ان کے وقت تک بیت اللہ کی تولیت و نگرانی پہلے جرہم، پھر خزاعہ کے ہاتھوں میں رہی۔ قصیّ بن کلاب کا ستارۂ اقبال بلند ہوا، ان کی صلاحیتیں اور خردمندی نمایاں ہوئیں، قریش کے سب افراد ان کے ساتھ مل گئے، اور انہوں نے خزاعہ کو بے دخل کر کے مکہ کا نظم و انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
قصیّ بن کلاب بہت عزیز و مقبول سردار تھے۔ بیت اللہ کی دربانی و پاسبانی ان کے ذمہ تھی، اس کی کلید انہی کے قبضے میں تھی، اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی اس میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ سقایہ، رفادہ، دارالندوہ، لواء اور قیادہ بھی ان کے دائرۂ اختیار میں تھیں۔ یوں مکہ کے تمام اعزازات اور قریش کی سیادت ان کو حاصل ہو گئی تھی۔
ان کی اولاد میں عبد مناف نے زیادہ عزت و وجاہت حاصل کی، اور ان کے بڑے صاحبزادے ہاشم تھے۔ سقایہ و رفادہ کا کام ان کے ذمہ رہا۔ ہاشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا تھے۔ عبدالمطلب کو سقایہ و رفادہ کا منصب اپنے چچا المطلب بن عبد مناف سے حاصل ہوا۔ ان کے بعد انہوں نے اپنی قوم میں جو عزت، نیک نامی، وجاہت اور ہر دل عزیزی پائی، وہ اب تک ان کے آباء و اجداد میں کسی کے حصے میں نہ آئی تھی۔
رفادہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو ایامِ حج میں محتاج حاجیوں کے لیے اس خیال سے کیا جاتا تھا کہ وہ رحمان کے مہمان ہیں۔ دیکھیے: السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج ۱۔
بنی ہاشم
بنی ہاشم قبیلۂ قریش کی سنہری اور اہم کڑی تھے۔ تاریخ و سیر کی کتابوں میں جو واقعات و حالات ہمارے لیے محفوظ کیے گئے ہیں، اگرچہ وہ اصل حقیقت سے بہت کم ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو ان میں شریفانہ انسانی احساسات کی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ ہر چیز میں اعتدال، عقلِ سلیم، بیت اللہ کے مقام و حرمت کا پورا احساس، ظلم سے گریز، عالی ہمتی، مکر و ظلم و زیادتی سے ناچاقی، ہمدردی، سخاوت و شجاعت، کمزوروں اور محروموں کی حمایت، الفروسیۃ یعنی شہسواری کا جذبہ، اور دوسری صفاتِ عالیہ و حمیدہ ان کی سیرت میں نمایاں نظر آتی ہیں۔
یہ وہ سیرت و کردار تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباءِ کرام کے شایانِ شان تھا۔ آپ نے اعلیٰ و بلند اخلاق کی اپنے قول و عمل سے دعوت دی، اور وہ ان اخلاق سے ہم آہنگ تھے؛ اگرچہ دورِ انقطاعِ وحی میں عقائد و عبادات کے باب میں اپنی قوم کے ساتھ بہرحال شریک تھے۔
مکہ میں بت پرستی اور اس کا اصل سرچشمہ اور تاریخ
قریش کا قبیلہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور اپنے جدِّ اعلیٰ حضرت اسماعیلؑ کے دین پر برابر قائم، توحید و اطاعت اور خدائے واحد کی عبادت پر ثابت قدم رہا، یہاں تک کہ عمرو بن لحی الخزاعی کا دور آیا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت اسماعیلؑ کے دین میں تغیر کیا، بتوں کو نصب کیا، جانوروں کے متعلق نئی جاہلی رسمیں جاری کیں، اور حلال و حرام کے نئے قاعدے وضع کیے جن کا احکامِ الٰہی سے کوئی تعلق نہ تھا اور جو شریعتِ ابراہیمی سے بالکل جدا تھے۔
دیکھیے: سیرت ابن ہشام، ج ۱، ص ۹۹۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عامر الخزاعی کو جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹتے دیکھا؛ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر سائبہ وغیرہ چھوڑنے کا رواج ڈالا۔
قصہ یہ ہے کہ عمرو بن لحی مکہ سے شام گیا۔ وہاں اس نے لوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو یہ طریقہ اسے پسند آیا۔ اس نے کچھ بت وہاں سے حاصل کیے، مکہ میں نصب کیے، اور ان کی تعظیم و پرستش کا حکم دیا۔
یہ بات بھی ممکن اور قرینِ قیاس ہے کہ وہ شام جاتے ہوئے ’’بُطراء‘‘، یعنی Petra سے گزرا ہو۔ یہ شرقی اردن کے جنوب میں واقع مشہور پہاڑی قصبہ ہے، جس کا ذکر رومیوں اور یونانیوں کے یہاں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے نبطیوں نے، جو اصلاً عرب تھے، بہت قدیم زمانے میں تعمیر کیا تھا۔ یہ لوگ مصر، شام، وادیِ فرات اور روم کے سفر کرتے رہتے تھے، اور حجاز سے ان کے تجارتی روابط تھے۔ وہ کھلی ہوئی بت پرستی میں مبتلا تھے، پتھروں سے بت تراشتے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ شمالی حجاز کا مشہور بت ’’لات‘‘، جو سب سے اہم سمجھا جاتا تھا، بُطراء ہی سے حجاز میں آیا اور اہم بتوں میں شامل ہو گیا۔
اس کی تصدیق فلپ ہِٹّی (P. K. Hitti) کی کتاب History of Syria سے بھی ہوتی ہے۔ وہ ان نبطی معبودوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ وہ زمانہ تھا جس میں بت پرستی کی مختلف قسمیں جزیرۃ العرب کے چاروں طرف اور گرد و پیش کے علاقوں میں پھیل چکی تھیں۔ حضرت مسیحؑ اور ان کے حواریوں کی دعوتِ توحید کا ابھی وہ اثر ظاہر نہ ہوا تھا جو بت پرستی کی پیش قدمی روک دیتا۔ رہی یہودیت، تو وہ ایک محدود نسلی مذہب تھا جو بنی اسرائیل کے اندر منحصر تھا۔
ڈی لیسی اوّلیری (De Lacy O’Leary) اپنی کتاب Arabia Before Muhammad میں لکھتے ہیں:
اسی طرح بت پرستی وادیِ فرات اور جزیرۃ العرب کے مشرق میں عام تھی۔ چونکہ اس علاقے سے جزیرۃ العرب کے تجارتی تعلقات اور دوستانہ روابط تھے، اس لیے کچھ بعید نہیں کہ جزیرۃ العرب میں بت پرستی پھیلنے میں اس علاقے کا بھی حصہ ہو۔ جارج رو (Georges Roux) نے اپنی کتاب ’’قدیم عراق‘‘ میں صراحت کی ہے کہ عراق کی قدیم تاریخی تحریریں ظاہر کرتی ہیں کہ بت پرستی وہاں تیسری صدی عیسوی اور اس کے بعد تک عام تھی، اور یہ ملک مقامی اور غیر ملکی دونوں قسم کے بتوں اور معبودوں کا مرکز تھا۔
Georges Roux, Ancient Iraq (1972), pp. 283-84.
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: کتاب الاصنام للکلبی، اور بلوغ الارب فی معرفۃ احوال العرب از علامہ سید محمود شکری الآلوسی، ج ۲، ضمنِ ذکرِ من احیا الاصنام و سبب اتخاذ العرب لہا۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ قریش میں بت پرستی کا آغاز تدریجی طور پر ہوا۔ بعض مؤرخینِ عرب کے بیان کے مطابق ابتدا میں جب وہ لوگ مکہ سے سفر کرتے تھے تو حرم کے بعض پتھر تبرک کے طور پر اپنے ساتھ لے لیتے تھے۔ پھر جو پتھر انہیں پسند آتے، ان کی تعظیم کرنے لگتے۔ بعد کی نسل اصل حقیقت سے ناواقف ہو گئی اور کھلی ہوئی بت پرستی اختیار کر لی۔ اس کے باوجود عہدِ ابراہیمی کے بعض باقی ماندہ اعمال و روایات، مثلاً بیت اللہ کی تعظیم، طواف، حج اور عمرہ، ان میں باقی رہے۔
اس تدریجی تبدیلی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عربوں میں بت پرستی کس طرح پھیلی۔ دوسری قوموں میں تصویر پسندی، شبیہوں اور مزارات سے وابستگی، اور تعظیم و تقدیس میں غلو کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ اسی لیے اسلامی شریعت نے وہ تمام راستے اور چور دروازے پہلے سے بند کر دیے ہیں جو شرک یا اشخاص اور مقامات کی تقدیس و تعظیم میں غلو کی طرف لے جاتے ہیں۔
اصحابِ فیل کا واقعہ
اسی زمانے میں ایک اہم اور عظیم واقعہ پیش آیا، جس سے بڑا واقعہ عربوں کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ مستقبلِ قریب میں کوئی بہت بڑی بات ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ نے عربوں کے ساتھ خیر کا ارادہ رکھا ہے، اور کعبہ کی شان اس طرح دوبالا ہونے والی ہے کہ وہ شان و عظمت دنیا کی کسی عبادت گاہ، کلیسا اور گھر کو حاصل نہ ہوگی۔ اسی کے ساتھ تاریخ، ذمہ داریوں اور انسانیت کے مستقبل کا وہ ابدی پیغام اور لافانی کردار وابستہ تھا جسے اس سرزمین نے انجام دینا تھا۔
اللہ تعالیٰ کی نظر میں بیت اللہ کی عزت و حرمت پر قریش کا عقیدہ
قریش کے لوگ یہ عقیدہ اور ایمان رکھتے تھے کہ اس گھر کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خاص قدر و منزلت حاصل ہے، اور وہی اس کا حامی و ناصر، نگہبان و پاسبان ہے۔ ان کا یہ عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اور قریش کے سردار عبدالمطلب اور بادشاہ ابرہہ کی گفتگو سے پوری طرح عیاں ہے۔
قصہ یہ ہے کہ عبدالمطلب کے دو سو اونٹ ابرہہ کے لشکر نے لے لیے تھے۔ وہ ان کی واپسی کے لیے ابرہہ سے ملنے گئے۔ ابرہہ نے ان کی بہت عزت کی، اپنے تخت سے اتر آیا، انہیں اپنے پہلو میں بٹھایا اور ضرورت دریافت کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے دو سو اونٹ بادشاہ نے لے لیے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے واپس کر دیے جائیں۔
ابرہہ نے اس مطالبے پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا: تم اپنے اونٹوں کی بات کرتے ہو اور اس گھر کی فکر نہیں کرتے جس پر تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا دین قائم ہے اور جسے ڈھانے کے لیے میں یہاں آیا ہوں؟
عبدالمطلب نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیا: ’’میں اونٹوں کا مالک ہوں، اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے؛ وہ آپ اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘ ابرہہ نے کہا: ’’وہ اسے مجھ سے نہیں بچا سکتا۔‘‘ عبدالمطلب نے جواب دیا: أنتَ وذاك — یہ تم جانو اور وہ گھر کا مالک جانے۔
اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ کسی حملہ آور کی مجال نہیں کہ اس گھر کو بری نظر سے دیکھے اور اس پر دست درازی کرے۔ اپنے گھر اور اپنے دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ تھی۔
اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ابرہہ اشرم، جو نجاشی شاہِ حبشہ کا صنعاء میں عامل اور حاکم تھا، نے صنعاء میں ایک بڑا گرجا تعمیر کیا اور اس کا نام القُلَّيْس رکھا۔ مقصد یہ تھا کہ عربوں کو حج کے لیے کعبہ کے بجائے اس کی طرف پھیرے، اور وہ عظمت، مرکزیت اور زیارت جو کعبہ کو حاصل تھی اپنے گرجے کے لیے حاصل کرے۔
دیکھیے: السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، واقعۂ فیل۔
یہ بات عربوں کے لیے بہت شاق تھی، اس لیے کہ کعبہ ان کی محبت کی گھٹی میں پڑا تھا۔ وہ کسی دوسرے گھر یا عبادت گاہ کو اس کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔ یہ مسئلہ ہر جگہ موضوعِ سخن بن گیا۔ اسی دوران ایک کنانی شخص نے گرجے میں جا کر قضائے حاجت کی اور اسے نجس کر دیا۔ ابرہہ کو اس بات کا علم ہوا تو اسے سخت غصہ آیا، اور اس نے قسم کھائی کہ وہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا اور اسے گرا دے گا۔
ابرہہ لشکر لے کر چلا اور ہاتھیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی۔ عربوں نے ہاتھیوں کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا؛ اس خبر سے وہ شدید خوف زدہ ہوئے۔ انہوں نے لشکر کو روکنے کی کوشش کی، مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ابرہہ اور اس کے لشکرِ جرار کا مقابلہ ان کی طاقت سے باہر ہے۔ چنانچہ انہوں نے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا، اس یقین کے ساتھ کہ اس گھر کا مالک خود اس کی پاسبانی کرے گا۔
قریش نے لشکر کی دست درازی سے بچنے کے لیے پہاڑیوں اور وادیوں میں پناہ لی، اور منتظر رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حرمت و ناموس کے لیے کیا کرتا ہے۔ عبدالمطلب اور ان کے ساتھ قریش کے کچھ لوگ بابِ کعبہ کا حلقہ پکڑ کر خدا کے حضور آہ و زاری اور دعا میں مشغول ہو گئے۔
ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ کعبہ کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھی کا نام ’’محمود‘‘ تھا۔ جب اسے مکہ کی طرف بڑھایا گیا تو وہ بیٹھ گیا اور اٹھنے سے انکار کر دیا۔ جب اس کا رخ یمن کی طرف کیا جاتا تو فوراً اٹھ کر تیزی سے چلنے لگتا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف سے پرندوں کے جھنڈ بھیجے۔ ہر پرندہ کنکریاں لیے ہوئے تھا؛ وہ جس کو لگتیں اسے ہلاک کر دیتیں۔ اہلِ حبشہ جس راستے سے آئے تھے اسی راستے تیزی سے واپس بھاگے، راستے میں گرتے اور ہلاک ہوتے گئے۔ ابرہہ کا جسم بھی چھلنی ہو گیا، اور اسے واپس صنعاء لے جایا گیا، جہاں اس نے بری حالت میں جان دی۔
واقعۂ فیل اور اس کے اثرات
جب اللہ تعالیٰ نے اہلِ حبشہ کو ناکام و نامراد واپس کیا، اور ان پر وہ عذاب نازل ہوا جس کا ذکر ابھی گزر چکا ہے، تو عربوں کے دلوں میں قدرتی طور پر قریش کی بڑی عظمت پیدا ہو گئی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ اللہ والے ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے دشمن کو شکست دی اور ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ان کے دلوں میں کعبہ کی عظمت پہلے سے دوچند ہو گئی، اور اس کی عزت و حرمت پر ان کا ایمان اور راسخ ہو گیا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ایک کھلی ہوئی نشانی اور معجزہ تھا، اور اس بات کا پیش خیمہ تھا کہ مکہ میں ایک ایسے نبی کا ظہور ہونے والا ہے جو کعبہ کو بتوں کی نجاست سے پاک کرے گا، اس کے ہاتھوں اس کی شان دوبالا ہوگی، اور اس کے دین کا اس گھر سے بہت گہرا، ابدی اور لازوال تعلق رہے گا۔ اس واقعہ سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ اس نبی کی بعثت اور ظہورِ مبارک کا دن کچھ دور نہیں۔
عربوں میں اس واقعہ کو بجا طور پر بہت اہمیت حاصل ہوئی، اور اس سے انہوں نے نئی تاریخ شروع کی۔ چنانچہ ان کی تحریروں اور روایات میں اس کا رواج ملتا ہے: یہ واقعہ عامُ الفیل میں پیش آیا، فلاں شخص عامُ الفیل میں پیدا ہوا، یا فلاں واقعہ عامُ الفیل کے اتنے سال بعد ہوا۔ عامُ الفیل ۵۷۰ء کے مطابق ہے۔
دیکھیے: واقعۂ فیل، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج ۱۔