Besat Se Pehle

بعثت سے پہلے

حضرت اسماعیل لکہ تمہیں

یدنا ابراہیم علیہ السلام مکہ کی طرف آئے، جو خشک اور بے آب گیاہ پہاڑیوں

میں گھرا ہوا تھا، اس کی پانی کھیتی اعلہ اور ضروریات زندگی میں سے کوئی ایسی چیز

موجود نہ تھی جو انسانی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے ان کے ساتھ ان کی

بیوی ہاجرہ اور صاحبزادے اسماعیل بھی تھے، یہ سفر دراصل دنیا میں پھیلی ہوئی

بت پرستی سے ہجرت اور ایک ایسے مرکز کی تاسیس کے لئے کیا جا رہا تھا، جہاں

اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی جائے

اور یہ مرکز ہدایت کا ایک روشن بینار انسانوں کی جائے پناہ دجائے امن اور

توحید حنیفیت اور دین خالص کی دعوت کا نقطہ آغاز بن سکے لیے

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل خالص کو قبول فرمایا اس خشک وادی میں خوب

برکت عطا فرمائی اور اس چھوٹے سے مبارک خاندان کے لئے جوصرف ماں بیٹے پر تل تھا

جن کو حضرت ابراہیم ا دور افتادہ اور بے آب گیا مصر میں دل کے بھرور چھوڑ گئے تھے۔

پانی کا ایک چشمہ جاری فرمادیا جو بر زمزم کہلایا اور الشر تعالی نے اس میں بہت برکت دی۔

ے قرآن مجید (سوره بقره و سوره ابراهیم)

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….اسماعیل جب کچھ بڑے ہوئے اور چلنے پھرنے اور دوڑنے بھاگنے لگے تو حضرت

ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی محبت پران کی محبت کو قربان کرنا چاہا اور ان کو ذبح کرنے کا

ارادہ کیا اس لئے کہ خواب میں ان کو اس کی ہدایت کی گئی تھی سعادت مند فرزند نے

ارشاد الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور خوش دلی واطمینان کے ساتھ اس پر تیار

ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ذبح عظیم (بڑی قربانی) کو اس کا فدیہ بنا دیا اور ان کو

محفوظ و مامون رکھا تا کہ دعوت الی اللہ ہیں وہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا سکیں اور

خاتم النبیین اور سید المرسلین کے بعد امجد بنتے نیز اس امت مسلمہ کے مورث اعلیٰ

بننے کا شرف ان کو حاصل ہو جس پر دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کی

ذمہ داری قیامت تک کے لئے ڈالی گئی ہے ۔

حضرت ابراہیم کہ واپس ہوئے اور باپ بیٹے دونوں نے مل کر اللہ کے گھر کی

تعمیر شروع کی ان کی دعا یہ تھی کہ اللہ تعالی اس گھر کو قبول کرے اور اس میں برکت

عطا فرمائے اور وہ دونوں اسلام پر ہیں اور مریں اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولا

کو یہ دولت اور میراث حاصل ہو، وہ اس دعوت کی صرف حفاظت اور پاسبانی ہی

نہ کریں اور پر خطر بلکہ ہر نگاہ بد اور راستے کے ہر کانٹے اور پتھر سے اس کو دور رکھیں،

بلکہ اس دنیا میں اس کے دائی اور علم بردارین کر رہیں، اس کو ہر چیز پر ترجیح د ہیں

اس کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہ کریں ، یہاں تک کہ یہ دعوت سارے عام میں

پھیل جائے اور اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں ایک ایسائی پیدا کرے جو اپنے جیدا اعلیٰ

ابراہیم علیہ اسلام کی دعوت کو از سر نو زندہ کرے اور اس کام کی تکمیل کرنے میں کو وہ شروع

لے قرآن مجید سوره صافات .

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۹۳

کر رہے ہیں :-

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِد اور جب ابراہیم اور اسمعیل بیت اللہ

مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ ربنا کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے تو دعا کئے

تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنت السميع جاتے تھے کہ ہمارے پرورد گار هم کو اپنا

الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمِينَ فرمانبردار بنائے رکھیں اور ہماری اولا

لكَ وَمِن ذريتنا أمة مسلم میں سے بھی ایک گرو کو اپنا مطیع بنانے

لكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبُ عَلَيْنَا رہو اور پروردگار ہمیں ہمارے

إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحيم طریق عبادت بتا، اور ہمارے حال

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمُ رَسُولًا مِّنْهُمْ پر دم کے ساتھ توجہ فرما ایک تو

يتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِدَةَ وَيُعَلِّمُهُم توجہ فرمانے والا مہربان ہے اسے

الكتب والحكمة ويذكرهم ہمارے پروردگار ! ان لوگوں میں

إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيز الحكيم انھیں میں سے ایک خبر معونت کیوں

( سوره بقره – ۱۲۰ ۱۳۹) جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا

کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا

کرے اور (ان کے دلوں ) کو پاک نیا

کیا کرے بے شک تو غالب اور

صاحب حکمت ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی دعافرمائی تھی کہ یہ شہر ہمیشہ ہمیشہ امن وسکون

کا گہوارہ ہے اللہ تعالے ان کی اولاد کو بتوں کی پرستش سے محفوظ رکھے جس سے زیادہ

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۹۲

نفرت و کراہیت ان کو کسی چیز سے نہ تھی اور جس سے بڑا خطرہ وہ اپنی آئندہ نسل کے

لئے کس چیز کونہ سمجھتے تھے اس لئے کہ انبیاء کرام کے بعد ان کی قوموں کا انجام ان کی نظر

کے سامنے تھا اور انھوں نے دیکھا تھا کہ ان کی مسلسل کوششوں اور عظیم قربانیوں کے

باوجود یہ قومیں کس طرح ان کے راستہ سے ہٹ گئیں اور ان کے دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں

شیطانوں ہنوں اپنے اپنے وقت کے دجالوں بتوں کے پجاریوں اور جاہلیت کے

علم برداروں نے ان کو شکار کیا اور نیست و نابود کر دیا۔

انھوں نے اللہ تعالی کے حضور اس تمنا کا بھی اظہار کیا کہ ان کی اولاد اور اولاد

کی اولاد اس دعوت اور جہاد سے را بر رشتہ قائم رکھے اوران کی بہت شکنی شرک و بت پرستی

سے نفرت و بیزاری راہ حق میں مسلسل محنت اور جدو جہد اپنے بہت تراش دیت فروش

والد کے مقابلہ میں ان کی صف آرائی ، حق گوئی و دل سوزی اور ان کی ہجرت اور ترک وطن کی

ہمیشہ یاد رکھئے اور بے حسوس کرے کہ اتنے نازک اور اہم کام کے لئے اس ویرانے اور ریتیلی

و سنگلاخ زمین (جو نہ کھیتی کے لائق تھی نہ تہذیب تمدن کی پرورش اور ترقی کا اس میں

کوئی سامان تھا) کے انتخاب کا راز کیا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے آباد و گلزار شہروں او

تجارت و زراعت، صنعت و حرفت کے مرکزوں پر جہاں ہر طرح کے اباب عیش اور

سامان راحت موجود تھے اس دور افتادہ گمنام خطہ کو کیوں ترجیح دی گئی ہے؟

انھوں نے اپنے اللہ سے بھی دعا کی کہ ان کی اولاد کو محبوبیت دل نوازی تقربوبیت

و شہرت اور مرجع خلائق اور مرکز آفاق بننے کا شرف حاصل ہو، لوگوں کے دل بے ساختہ

ان کی طرف کھینچیں اور وہ دنیا کے کونے کونے سے اگر اپنی محبت و عقیدت کا خراج

ان کو پیش کریں رزق خود بخود ہر طرف سے ان کو پہونچتا ہے اور میوے اور پھل نیز ہر طرح کے

..

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۹۵

ثمرات اور کوششوں کے بہترین نتائج اور فوائد و منافع ان کو حاصل ہوں :-

وَاذْ قَالَ إِبْرْهِية رب اجعل اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے

هُذَا الْبَلَدَاءِنَا وَ اجنبني وبني پروردگار اس شہر کو رلوگوں کے لئے)

أَنْ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ رَبِّ انهن امن کی جگہ بنادے اور مجھے اور میری

اضلان كثيرا من النَّاسِ فَمَن اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش

تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مینی وَمَنْ عَصَانِی کرنے لگیں بچائے رکھ اے پروردگار

فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمُرہ ربنا اني انھوں بہت لوگوں کو گرانہ کیا

أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتي بواد غير موجس شخص نے میرا کہا ماناوہ میرا ہے

ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ المحرم اور جس نے میری نافرانی کی تو تو نے

بنا ليقيمو الصلوة فاجعل والا مہربان ہے اے پروردگار !

أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تهوئی میں نے اپنی اولاد کو میدان (مگر)

الهم وَارْزُقُهُم مِنَ الثَّرات میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت

لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ.

وادب والے گھر کے پاس لا بسایا ہے

سوره ابراہیم ۳-۳) اے پروردگارتا کہ ی نماز پڑھیں تو

لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ

ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو

قبیله قریش

میبود است روزی دے تاکہ تیرا شکر کریں

یہ ساری دعائیں اور تمنائیں ایک ایک کرکے پوری ہوئیں اللہ تعالیٰ نے

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

१५

ان دونوں کی اولاد میں برکت عطا فرمائی، یہ ابراهیمی عربی خاندان خوب برگ بار لایا

اور پھیلا، اسماعیل علیہ السلام نے قبیلہ جو ہم میں رشتہ کیا جو عرب عاریہ میں شمار کیا جاتا

تھا، اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں بہت برکت ہوئی یہاں تک کہ انھیں میں عدنان

پیدا ہوئے جن کا سلسلہ نسب حفظ و احتیاط اور تو اتر اجماع کے لحاظ سے انساب

عرب میں سب سے زیادہ روشن اور ممتاز ہے۔

عدنان کی بھی کثیر اولاد ہوئی جن میں معد بن عدنان زیادہ مشہور ہیں بعد کی اولاد

میں مصر نامور ہوئے اور ان کی اولاد میں فہر بن مالک نے خاندان کا نام روشن کیا مہرین

مالک بن النصر کی اولاد کا نام ترکیش پڑ گیا، اور یہ نام ان کے ساے نام ناموں پر اس طرح

غالب آیا کہ قبیلہ قریش کہلانے لگا اہل عربی تریش کی عالی نسبی سیادت و امارت فضا

و بلاغت قوت بیانیه اخلاق عالیہ شجاعت و حوصلہ مندی پر پورا اتفاق کرلیا اور

اب یہ ایک ایسی حقیقت بن گئی جو ضرب المثل کی طرح مشہور اور اختلاف سے بالاتر

سمجھی گئی ہے اور اس میں دو رائیں نہیں ہیں۔

قصی بن کلاب اور ان کی اولاد

قبر کی اولاد میں قنتی بن کلاب پیدا ہوئے اور مکہ کی سرداری قبیلہ جو ہم کے ہاتھ

میں ہی یہاں تک خزاعہ جو بیت اللہ کے نگراں اور محافظ تھے ان پر غالب آئے،

ے کہا جاتا ہے کہ قبیلہ جو ہم وہ سب سے پہلا قبیلہ ہے جس نے مکہ میں اقامت کی اور اس کا سبب پانی کے

اس نہ ختم ہونے والے سرچشمہ کا وجود تھا بعض روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ

اور اپنے لڑ کے اسماعیل کو اس وادی میں چھوڑ کر ہجرت فرمائی اس وقت یہ قبیلہ یہاں موجود تھا۔

ے تفصیل کے لئے دیکھئے سیرت ابن ہشام ج 1- اور سیر انساب کی دیگر کتا نہیں۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

१८

اس کے بعد قصی بن کلاب کا تارہ اقبا بلند ہوا، اوران کی صلاحیتیں اور خدت سامنے آئیں کی

اور بیت الشر کی خدمت کا یہ نصب ان کے وار کیا گیا فریق کے سارے افراد ان کے ساتھ کا نہ کے ایک یا قرین کے ارادان کے ساتھ

یل گئے اورانھوں قبلہ خوار کرکہ سے بےدخل کرکے اس کا نظم و نظام اپنے ہاتھہیں لیا گئے انھو بازار کو

قصی بن کلاب بہت ہردل عزیز و قبول سوار تھے بیت الشرکی دربانی و پایانی ان کے

تہ تھی اس کی کلید ان ہی کے قبضہ میں تھی اور ان کی اجازت کے بغیرکوئی اس میں داخل

نہ ہو سکتا تھا، اس کے ساتھ زمزم کا تقابہ اور زیادہ یعنی حجاج کی سالانہ صیانت اندوه

یعنی ان من ا کی وہ مجلس و مختلف شہروں اور لڑائیوں پرچ کے علم بردار و شکر کے الگ

کے انتخاب غیرہ کے لئے حسب ضرورت ہوتی تھی اسب چیزیں ان کے دائرہ اختیار میں

تھیں اور اس طرح کہ کا سارا شرن اور ہرقسم کی فضیلت ان کو حاصل ہوگئی تھی۔

ان کی اولاد میں عبد مناف نے زیادہ عزت و وجاہت حاصل کی ان کے سب سے

بڑے صاحبزادے ہاشم تھے اور یا یہ ور فادہ کایہ کام ان کے ذمہ رہا یہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کے داد عبد المطلب کے والد تھے، عبد المطلب کو سقایہ ورقادہ

کا یہ نصب بند اپنے چا المطلب بن عبد منان سے حاصل ہوا، انھوں نے اپنی توم

میں جو عزت و نیک نامی اور وجاہت و ہر دل عزیزی پائی وہ اب تک ان کے

آباء و اجداد میں کسی اور کے حصہ میں نہ آئی تھی کہے

بنی باشم

بنی ہاشم قبیلہ قریش کی شہری اور اہم کڑی تھے۔ تاریخ پیر کی کتابونی انکی

لے رفادہ اس کھانے اور دعوت کو کہتے ہیں جو حجاج کے لئے اس بنیاد پر ہر سال کی جاتی تھی کہ وہ

رحمان کے مہمان ہیں۔ ۲ السيرة النبوية لابن ہشام – ج : (اولاد عدنان)

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….

۹۸

ش جو واقعات و حالات ہمارے لئے محفوظ کر دیئے ہیں اور وہ اصل حقیقت سے بہت کم ہیں، اگر

ہم ان کا جائزہ نہیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ان میں شریفانہ انسانی احساسات کی کتنی نمود

تھی اور ہر چیز میں اعتدال عقل سلیم بیت اللہ کی انہ کی نگاہ میں جو وقعت و حرمت

ہے۔ اس کا پورا احساس ظلم وحق تلفی سے گریز عالی ہمیں کمزوریوں مظلوموں کے ساتھ

شفقت و ہمدردی سخاوت و شجاعت مختصر یہ کہ عربوں کے نزدیک الفرو سیستہ (شہسواری)

کے جتنے اورضا عالیہ اور صفات حمیدہ ہیں، اور اس میں جتنے بلند و لطیف معانی پوشیدہ

ہیں ان کا جلوہ ان کی سیرت میں ہمیں نظر آتا ہے یہ وہ سیرت و کردار ہے جو رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کرام کے ہرطرح شایان شان ہے اور آپنے جوا علی و بلند اخلاق

کی اپنے قول وعمل سے دعوت دی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوئے اس کہ وہ انقطاع وحی

کے دوڑیں تھے اور جاہلیت کے عقائد وعباد میں اپنی قوم کے ساتھ بہر حال شریک مہم تھے۔

لکہ میں ثبت پرستی اور اس کا اصل سرچشمہ اور تاریخ

قریش کا قبیلہ ابراہیم خلیل اللہ اور اپنے جدا علی اسماعیل کے دین پر

برابر قائم اور توجد اور خدائے واحد کی عبادت پر ثابت قدم رہا یہاں تک کہ

عمروبن بھی الخزاعی کا دور آیا یہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت اسماعیل کے دین

میں تغیر کیا بہتوں کو نصب کیا ، جانوروں کی تعظیم اور ان کو مسائیہ بنانے کا

اے سیرت ابن ہشام کی اصلاحات کے حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ مرنے

عمرو بن عامر الحرائی کو دیکھا کہ وہ ہم میں اپنی آنہیں گھسیٹتا ہوا چل رہا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے

جانوروں کو بتوں کے نام سانڈ بنا کر چھوڑنے کی بنیاد ڈالی (بخاری وسیم احمد محمد بن اسحاق سے

دوسری جگہ مردی ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے دین اسماعیل کو بدلا یت نصر کے باقی مو پر)

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….

روارج ڈال اور حلال و حرام کے نئے قاعدے وضع کئے جن کا احکام الہی سے کوئی

تعلق نہ تھا، اور جو شریعیت ابراہیمی سے بالکل جدا تھے یہ قصہ یوں کھڑا ہوا کہ تشخیص

کربے شام گیا اور یہ دیکھا کہ وہاں کے لوگ بتوں کو پوچھتے ہیں، یہ بات اس کو بہت پسند

آئی اور اس نے کچھ بت وہاں سے حاصل کر کے مکہ میں نصب کئے اور لوگوں کو ان کی

تعظیم اور پرستش کا حکم دیا۔

یہ بات بھی ممکن اور قرین قیاس ہے کہ وہ شام جاتے ہوئے پتر او سے گزرا ہو

جس کو قدیم مورخ اور جغرافیہ ان بطرا” اور بطرہ (۳۸) کتے آئے ہیں ان شرق ارادی

کے جنوب میں واقع مشہور پہاڑی قصبہ ہے جس کا ذکر رومیوں اور یونانیوں کے یہاں

لتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس نبیوں جو اصلا عرب تھے، ہزاروں سال پہلے تعمیر کیا تھا،

یہ لوگ مصر الشام ، وادی فرات اور رومہ کے سفر برابر کرتے رہتے تھے اور ہو سکتا

ہے کہ وادی فرات جاتے ہوئے وہ حجاز سے ضرور گزارتے ہوں یہ لوگ کھلی ہوئی

بت پرستی میں مبتلا تھے پتھروں سے بت تراشتے اور اس کی پوجا کرتے تھے اور چین

کا خیال ہے کہ شمالی حجاز کا مشہوریت لات جو سب سے اہم سمجھا جاتا تھا در اصل

بتراء ہی سے بر آمد کیا گیا تھا، اور اہم اور خاص بتوں میں شامل کر لیا گیا تھا۔

اس کی تصدیق فلپ ہٹی HIT ) کی کتاب HISTORY OF SYRIA

سے بھی ہوتی ہے، جس میں ان نبطی علاقوں (موجودہ شرق اردن) پر روشنی ڈالی

ریاقی مشوقا) اور جانوروں کو سائپر کرنے کا رواج ڈالا چھٹا یا سانڈ جو استعمال میں نہ آئے اور

بتوں کے لئے وقف سمجھا جائے اے مصنف نے دار است سالن والے کو رابطہ عالم اسلامی کے وفد کے

رکن کی حیثیت کی جگہ خود دیکھی ہے اور پہاڑوں میں تراشے گئے بت پرستی کے معاملہ کی کثرت خاص

طور پر نوٹ کی ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مصنف کا سفر نامہ دریائے کابل سے دریائے بر موکت تک

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….

ی گئی ہے اس کا کہنا ہے کہ :۔

یہ خیال رہے

ان معبودوں کا سردار ذو الشراء تھا جو ایک مستطیل ستون

یا سیاہ مرتبے پتھر سے مشابہ تھا لات ” جس کی عرب پرستش کرتے تھے

دراصل ذی الشراء ہی سے تعلق تھا، دوسرے نبطی بت جن کا ذکر

ان تاریخی آثار اور قدیم نبطی تحریروں اور نقوش میں لمتا ہے وہ مناة”

اور عربی ہیں ان تحریروں میں سہیل کا ذکر بھی کہتا ہے؟

یہ خیال رہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں بت پرستی کی مختلف قسمیں جزیرۃ العرکے

چاروں طرفت اور کجروبر کے علاقہ میں پھیل رہی تھیں اور حضرت میسیج اور ان کے حواریوں

کی دعوت ظاہر نہ ہوئی تھی جس نے بت پرستی کی یہ پیش قدمی روکی اور اس کی تیزی

و سرگرمی کو کم کیا رہ گئی یہودیت تو وہ محدود نسلی مذہب تھا جو بنی اسرائیل کے اندر

منحصر تھا اور بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو توحید کی دعوت دینے کی اجازت اس کی

نہ تھی (DE LACY CLEARY اپنی کتاب ” عرب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے”

میں لکھتے ہیں :۔

ہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ بتوں کی عبادت دراصل شام کی دین ہے

جو جزیرۃ العرب کو شامی و یونانی مخلوط روایات سے ملا ہے جو شام میں

عام تھیں اور شاید عرب کے بقیہ حصوں میں ان کا زیادہ رواج ن ان کا زیادہ رواج

اور چین نہ تھا۔

  1. K. HITTI: HISTORY OF SYRIA, (LONDON 1951), P. 382-83

ARABIA BEFORE MUHAMMAD, (LONDON 1927) P. 196-97

له

100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 100 pages done 

….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….

١٠١

اسی طرح بت پرستی وادی فرات اور جزیرۃ العرب کے مشرق میں عام تھی اور

چونکہ اس علاقہ سے جزیرۃ العرب کے تجارتی تعلقات اور دوستانہ روابط تھے،

اس لئے کچھ بعید نہیں کہ جزیرۃ العرب میں بت پرستی پھیلنے میں اس اس علاقہ کا بھی

حصہ ہو GEORGES NOUK نے اپنی کتاب قدیم عراق میں اس کی صراحت کی

ہے کہ عراق کی قدیم تاریخی تحریریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بت پرستی وہاں میری صدی

عیسوی اور اس کے بعد تک عام تھی، یہ ملک ان بتوں اور عبودوں کا مرکز تھا،

جس میں غیر ملکی بت بھی تھے، اور مقامی بھی ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ قریش میں بہت پرستی کا آغاز تدریجی طور پر ہوا اس کی

ایک توجیہ مورخین عرب کے بیان سے بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے وہ لوگ جب مکہ سے کہیں

سفر کرتے تھے تو جو کے چھ پتھر تبرک کے طور پر تعظیماً اپنے ساتھ لے لیتے تھے۔

اس کے بعد یہ پتھر ان کو زیادہ پسند آتے اس کی عبادت کرنے لگتے ، ان کی

اولاد اور نئی نسل تفصیل سے بھی نا واقف تھی اس نے کھلی ہوئی بہت پرستی اختیام

کرلی اور جس طرح اور دوسری گاہ قومیں تھیں اسی طرح یہ بھی گمراہی میں جاپڑیں تاہم

عہد ابراہیمی کے کچھ باقی ماندہ اعمال اور روایات کو وہ اپنے سینہ سے لگائے رہے

مثلا بیت اللہ کی تعظیم اطوات، حج اور عمرہ اقوام و مذاہب کی مرحلہ وار تاریخ

ANCIENT IRAQ (1972) P. 283-84

له اس کی تفصیل، ان بتوں کے نام اور ان کے

مقامات نیز اس سلسلہ کے واقعات اور بت تراشی کے محرکات راسباب کو سمجھنے کے لئے کتاب الامام

لکی اور بلوغ الارب في معرفة اعمال العربية از علامه سید محمود شکری الآلوسی را بعنوان زذگوشی

من اخبار الامام وسبب اتخاذ الحرب لها) ملاحظہ کریں جنت ۲ – ۲۱۵

….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….

اور وسائل سے مقاصد تک اور مقدمات سے نتائج تک ان کی بندید کی سے منتقلی کے بجائے

سے ان مورخین کی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ عربوں میں اور خاص طور پر قریش میں

بت پرستی کا آغاز کس طرح ہوا بعض دوسری مسلم قوموں اور فرقوں میں تصویروں تشبیہوں

اور مزارات سے وابستگی او عظیم و تقدیس میں جس طرح غلو سے کام لیا گیا، اس کی تاریخ

سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے اس لئے اسلامی شریعت نے وہ تمام راستے اور

چور دروازے پہلے ہی سے بند کر دیئے ہیں جو شرک یا اشخاص اور مقامات و آثار

کی تقدیس تعظیم میں غلو کی طرف لے جاتے ہیں۔

لے شریعت اسلامی اور احادیث صحیحہ میں اس کے دلائل اتنی بڑی تو ا دیں ہیں کہ ان کا شمار کی مشکل

ہے ان ہی میں سے ایک مشہور حدیث ہے ” لا تحمد و اقاری عیدا میری قبر و عبدا در من کی جنگ نہ بنانا

ناس پر میلہ لگانا) ایک اور حدیث ہے کہ لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد الصرف تین مسجد بین

ہیں جہاں با قاعدہ زیارت کی نیت کر کے سفر کرنا جائز ہے، دوسری حدیث ہے لا نظرونی کا اللہ

النصاری المسیح بن مریم امیری اس طرح صد سے بڑھی ہوئی طرح سرائی نہ کرو جیس طرح نصاری

نے مسیح بن مریم کی کی ہے، اس طرح کی بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں جاندار کی تصویر سازی کی حرمت

میں در اصل یہی حکمت اور روح پوشیدہ ہے۔ قدیم زمانہ میں بہت سی قومیں اپنے بزرگوں کی تصاویر کی

محبت تعلیم سے متر بازی اور بالآ خریت ناشی اور بت پرست تک پہونچی ہیں ابن کثیر است مندرجہ ذیل

کی تفسیریں لکھتے ہیں وَقَالُو الانذَرْنَ السَّكُم وَلَا تَذَرُنَّ وَمَا وَلَا مُوَاهَا وَ لَا يَقُو

وتون و ترا محمدین نہیں راوی ہیں کہ آدم اور نوح کے درمیان وہ بزرگ اور صالح الخاص تھے

جن کے متبعین اور عقیدت مندوں کی خاصی تعداد تھی جب ان کا انتقال ہوا توان مریدین تسمین نے

سوچا اگر ہم ان کی کوئی شبہ یا تصویر بنائیں تو اس سے ان کی باد تازہ ہوگی اور عبادت میں زیادہ زوتی

و سرور حاصل ہو گا، اس خیال سے انھوں ان کی تصاویر بنائیں جب یہاں بھی ختم ہوئی اور کامل آئی تو شینان

نے اس کو یہ سکھا یا ٹھا یا کہ ان کے آباء و اجداد دراصل ان تصویروں اور یہوں کی عبادت کرتے تھے اور

ان ہی کی برکت سے بارش ہوتی تھی رفتہ رفتہ یہ ان کی باقاعدہ پر پیش کرنے کے ٹوٹی ہوئی یہ پانی کا نام ہوا ہے

….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۰۳

اصحاب الفیل کا واقعہ

اسی زمانہ میں ایک اتنا بڑا واقعہ پیش آیا جس سے بڑا واقعہ عربوں کی تاریخ میں

کبھی نہ ہوا تھا، یہ اس بات کی دلیل تھی کہ کوئی بہت بڑی بات مستقبل قریب میں

ہونے والی ہے اور اللہ تعالی عربوں کے ساتھ خیر کا ارادہ رکھتا ہے، اور کعبہ کی

شان اس طرح دو بالا ہونے والی ہے کہ وہ شان اور عظمت دنیا کی کسی عبادت گا

اور کسی اور گھر کو حاصل نہ ہوگی، اور اس کے ساتھ اسے تاریخ مذاہب اور انسانیت

کے مستقبل کا وہ ابدی پیغام اور لافانی کردار وابستہ ہے جس کو اسے انجام دینا

اور تکمیل تک پہونچاتا ہے۔

اللہ تعالی کی نظر میں بیت اللہ کی عزت و حرمت پر قریش کا عقیدہ

قریش کے لوگ یہ عقیدہ اور ایمان رکھتے تھے کہ اس گھر کی اللہ تعالی کی نگاہ

میں ایک خاص قدر و منزلت ہے اور وہی اس کا حامی و ناصر اور نگہبان پارسیان

ہے، ان کا یہ عقیدہ اور ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اور قریش کے

سردار عبد المطلب اور حبشہ کے بادشاہ ابر ہ کی گفتگو سے پوری طرح عیاں ہے

اس کا قصہ یہ ہے کہ ان کے دو سو اونٹ ابرہہ نے لے لئے تھے وہ اس کے لئے ابر یہ

سے ملنے گئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ابر یہ نے ان کی بہت عزت کی اپنے تخت

سے اتر آیا، پہلومیں بٹھایا، اور ضرورت دریافت کی انھوں نے کہا کہ میرے دو سوارنٹ

جو بادشاہ نے لے لئے ہیں وہ واپس لینا چاہتا ہوں ، بادشاہ نے عبد المطلب کے اس

….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۲۰۰

حقیر و ذاتی مطالبہ پر اپنی حیرت و استعجاب ظاہر کرتے ہوئے کہا تم دوستو اونٹوں کا

کی بات کرتے ہو جو میں نے لے لئے ہیں، اور اس گھر کی فکر نہیں کرتے جس پر تمھارا اور

تمھارے آباء واجداد کا دین قائم ہے اور جس کو ڈھانے کے لئے میں یہاں آیا ہوں

اس کے لئے تم کوئی گفتگو نہیں کرتے ؟

عبد المطلب نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیا کہ میں تو اونٹوں کا

مالک ہوں ( اس لئے اس کی فکر کرتا ہوں جو گھر کا مالک ہے وہ آپ اس کی

حفاظت کرے گا۔

اس نے کہا کہ وہ مجھ سے کہاں بچے سکتا ہے؟”

انھوں نے جواب دیا ” انت وذالك ” یہ تم جانو اور وہ گھر کا مالک اور

له

رب) جاتے

اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل آگے آئے گی اور اس سے یہ ظاہر

ہو گیا کہ اب کسی حملہ آور کی مجال نہیں ہے کہ اس کو بری نظر سے دیکھے اور اس پر

دست درازی کرے لیے شک اپنے گھر اور اپنے دین کی حفاظت اللہ تعالی ہی کے

ذمہ تھی، اور اس کام کی تکمیل اسی کو کرتی تھی ۔

اس اہم واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ابر بہتہ الا شرم و نجاشی (شاہ حبشہ کا

صفاء میں عامل (گورنر اور حاکم تھا، اس نے صنعاء میں ایک بڑا گر جا تعمیر کیا اور جا تو

اس کا نام ( التليس) رکھا، مقصد یہ تھا کہ عربوں کے حج کا رخ اس طرف پھیر دیا جا

اس کے لئے یہ بات بہت تکلیف دہ تھی کہ کعبہ بندگان خدا کی پناہ گاہ اور مرکز و مرجا

اے سیرت ابن ہشام صاله

….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

کی حیثیت سے باقی رہے اور لوگ دور دراز مقامات سے کارواں درکارواں وہاں

حاضر ہوں ، وہ چاہتا تھاکہ یہ رتبہ بلند او مرکزیت کرج کو حاصل ہونے

یہ بات عربوں کے لئے بہت شاق تھی، اس لئے کہ کعبہ کی محبت ان کی کھٹی ہیں

پڑی تھی اور وہ کسی گھر معبد اور مذہبی مرکز کو اس کے برابر نہ سمجھتے تھے، اور اس کو

چھوڑ کر کوئی بڑی سے بڑی دولت لینے پر تیارنہ تھے، اس مسلہ نے ان کے دل و دماغ کو

جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ ہر جگہ موضوع شحن بن گیا، اسی درمیان میں کسانی

اس کام کے لئے نکل کھڑا ہوا، اور اس گر جائیں جا کر قضائے حاجت کی اور اس کو

نجس کر دیا، اس سے ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا، ابر بہ کو اس بات پر بے حد غصہ آیا

اور اس نے اسی وقت قسم کھائی کہ وہ خود کعبہ پرحملہ آور ہوگا اور اس کو گرائے بغیر

اطمینان کی سانس نہ لے گا ہے ہے۔

لہ ہو سکتا ہے کہ ابرہہ کے حملہ اور فوج کشی کا سب بچے ھن ایک عبادت گاہ کی بے حرمتی و اہانت سے

زیادہ ہیں اہم ہواور وہ کہ کوفت کرنے کی نیت کا ہونا کہ شام سے ان کا ربط قائم ہو جائے اور

عیسائی حکومت کے نام جزیرۃ العرب کی مضبوطی سے جم جائیں یہ اقدام روم اور عیش کے عین مفاد

میں تھا اس لئے کہ وہ دونوں عیسائیت سے تعلق رکھتے تھے یہ صوبہ خواہ اس کے اسباب جو بھی

ہوں، اس گھر اور مرکز کو راستہ سے ہٹائے اور یکہ کو اس روحانی پیشوائی سے بے دخل کئے بغیر مکن

نہ تھا جس کے لئے تقدیر کا فیصلہ یہ تھا کہ اسے تمام انسانوں کے لئے سرمہ ہدایت جائے پناہ اور آخری

نبوت کا مرکز بنا ہے لیکن مشیت الہی کا فیصلہ کچھ اور تھا، اس کا بھی احتمال ہے کہ رومیوں پانی

ابر یہ کونتی کہ پر اکسایا ہو اور اس کے پیچھے پیجن سیاسی مقاصد کے حصول کا جزیرہ ہوشل ایرانی

اثرات کو کمزور کرنا اس لئے کہ جزیرۃ العرب میں پروبیوں کے اثر و نفوذ کا مقابر تنها ایرانی ہی کر رہے۔

….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۱۰۶

اب یہ شکر لے کر چلا اور ہاتھیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی عربوں

نے ہاتھیوں کے بارے میں پہلے سے بہت کچھ سن رکھا تھا، یہ خبران پر بجلی بن کر گری

اور وہ اس حملہ سے بے حد خالفت ہوئے اور کوشیش کی کر کسی طرح اس لشکر کو

آگے بڑھنے سے روکا جائے لیکن ان کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ اب ہے اور اس کے

شکر جرار کا مقابلہ ان کی طاقت سے باہر ہے، چنانچہ یہ معاملہ انھوں نے انھوں نے اللہ

کے شہر کیا، ان کو پورا یقین تھا کہ اس گھر کا جو مالک اور رب ہے وہ اس کی کے

خود پاسبانی کرے گا۔

قریش نے لشکر کی دست درازیوں اور مظالم سے بچنے کے لئے پہاڑیوں اور

وادیوں میں پناہ لی اور منظر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حرمت و ناموس کے لئے

کیا کرتا ہے، عبد المطلب اور ان کے ساتھ قریش کے کچھ لوگ باب کعبہ کا حلقہ پکڑ کر

خدا کے حضور آہ وزاری میں مشغول ہو گئے اور اب یہ اور اس کے لشکر کی ہنز یت کے

لئے نصرت خداوندی کی دعاکی ادھر ہر یہ اپنے لاؤڈ شکر کے ساتھ کعبہ کی طرف

بڑھا اپنے ہاتھی کوجس کا نام محمود تھا اس نے حملہ کے لئے تیار کیا لیکن مکر کے

راستہ ہی میں ہاتھی ایک جگہ بیٹھ گیا اور مارنے کے باوجود اس نے اٹھنے سے انکار

کر دیا جب انھوں نے اس کا رخ بین کی طرف کیا تو وہ فورا اٹھا اور بہت تیزی

سے دوڑنے لگا اس وقت اللہ تعالی نے سمندر کی طرف پھڑیوں کے جھنڈ بھیجے ہر چڑیا

اپنے بچوں میں پھر لئے ہوئے تھی یہ تھر کو گئے اس کو بلاک کردیتے ہی دیکھ کر این عینہ

جس راستے سے آئے تھے اس پر تیزی سے واپس بھاگے اور چڑیوں کے پتھروں سے

گرتے گئے اور ہلاک ہوتے گئے، اب یہ کا جس بھی چھلنی ہوگیا، وہ اس کو اٹھا کر

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

اپنے ساتھ واپس لے جانے لگے تو اس کا ایک ایک پور گرنے لگا یہاں تک کہ صنعاء

پہونچ کر اس نے بہت بڑی طرح جان دی ہے۔

یہ واقعہ قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے :۔

الَمْ تَرَكَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمھارے

بِأَصْحَابِ الْفِيلِ أَلَمْ يَجْعَل پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ

كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍ وَارْسَل کیا کیا ان کا داؤں غلط نہیں

عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبَابِيلَ تَرْمِيهِمُ خ کیا، اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ جانور

بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ بھیجے جو ان پر کھنگر کی پتھریاں

كَعَصْفِ مَا كُوله

(سوره فیل -۱-۵)

واقعہ فیل اور اس کے اثرات

پھینکتے تھے تو ان کو ایسا کر دیا

جیسے کھایا ہوا بھیس۔

جب اللہ تعالیٰ نے اہل بیشہ کو کم سے ناکام و نامراد واپس کیا اور ان پر

یہ عذاب نازل ہوا جس کا ذکر بھی گزرا ہے تو عربوں کے دلوں میں قدرتی طور پر

قریش کی بڑی عظمت پیدا ہوگئی، وہ کہنے لگے کہ بے شک یہ اللہ والے ہیں ان کی طرف سے

اللہ تعالے نے دشمن کو شکست دی اور ان کو لڑنا بھی نہ پڑا ان کے دل میں کعبہ کی عظمت

پہلے سے دو چند ہو گئی اور اس کی عند اللہ حرمت و عزت پر ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔

یہ اللہ تعالی کی ایک کھلی ہوئی نشانی اور معجزہ تھا اور اس بات کا پیش خیمہ کہ مکہ

لے دیکھئے واقعہ فیل سیرت ابن ہشام جو امام ۵۰ ۲ سیرت ابن ہشام جمده

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….

میں ایک ایسے نبی کا ظہور ہونے والا ہے جو کہ کو بتوں کی نجاست سے پاک کرے گا اس کے

ہاتھوں اس کی نشان دوبالا ہوگی، اس کے دین کا اس گھر سے بہت گہرا اور ابدی

ولا زوال تعلق رہے گا، اس واقعہ سے یہ بھی اندازہ ہوتا تھا کہ اس نبی کی بعثت اور

ظہور کا مبارک دن کچھ دور نہیں ہے۔

عربوں میں اس واقعہ کو بجا طور پر بہت اہمیت حاصل ہوئی اور اس سے

انھوں نے نئی تاریخ شروع کی اچنانچہ ان کی تحریروں میں اس کا رواج ملتا ہے کہ

يه بات عام الفیل ریعنی واقع فیل والے سال میں پیش آئی فلان شخص عام الفیل

میں پیدا ہوا یہ واقعہ عام الفیل کے اتنے سال کے بعد کا ہے، عام الفیل ھے

کے مطابق ہے۔