دیا چه طبع دوم
الحمد لله رب العلمين والصلاة والسلام على سيد المرسلين
وخاتم النبيين محمد واله وصحبه اجمعين
ناچیز مصنف کی زبان علم اللہ تبارک تعالی کے اس انعام کے شکر اور اس کی
حمد سے قاصر ہیں کہ سیرت نبوی کے سلسلہ کی اس کی ایک کے شش (جس کو اپنی نسبیت عالی
کی بنا پر حقیر و نا چیز لکھنے کی کسی طرح ہمت نہیں ہوتی، علمی و دینی حلقوں میں نا قابل
اعتناء نہیں ٹھہری کتاب اصل عربی زبان کی لکھی گئی تھی، جو سیرت کی مفصل مربوط
قدیم و جدید عالمانہ اور محققانہ ہرطرح کی تصنیفات سے مالا مال ہے اس کتاب کا
اختتام در ذی قعده ۱۳۹۶ (۲۹) اکتوبر کو ہوا تھا لیکن چار برس کی
مختصر مدت نہیں گزارنے پائی تھی کہ اس کے تین ایڈیشن قاہرہ اور بیروت سے شائع
ہوئے ہر ایڈیشن کئی کئی ہزار کا تھا، اور دیکھتے دیکھتے وہ عالم عربی کے ایک سرے
سے دوسرے سرے تک پھیل گیا مصنف کے لئے رہے بڑی سعادت او نیک و نخرکی
بات یہ ہے کہ یہ کتاب اس سر زمین میں قبول ہوئی، جہاں اس حیات طیبہ کا ایک ایک
لمحہ گزرا تھا، اوران تعلیم گاہوں اور تعلیمی مرکزوں میں داخل نصاب ہوئی جو مہبط وحی ؟
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
اور مولد و مرقد رسول سے قریبی نسبت رکھتے تھے۔ ع
برین مژده گرجان نشانم رو است.
عربی سے اردو میں ترجمہ کی خدمت مصنف کے لخت جگر اور قرہ عین برادر زاده
عزیزی محمد الحسنی مدیر البعث الاسلامی نے بڑے شوق اور پورے آداب کے ساتھ
انجام دیا یہ ان کے ترجمہ کے سلسلہ کی آخری کڑی تھی اس کی طباعت کے بعد وہ
زیادہ دن اس دنیا میں نہیں رہے، اور ان پر پہندوستان میں سیرت نبوی کے
مصنف عظیم علامہ شبلی نعمانی کا یہ شعر صادق آتا ہے ۔
مگراب لکھ رہا ہوں سیرت پیغمبر خاتم
خدا کا شکر ہے، یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا
کتاب کے ترجمہ پر مصنف نے اس وقت نظر ڈالی جب اس میں نزول الماء
کی شکایت کی وجہ سے، فلمی مسودات کے پڑھنے اور کتابت و طباعت کی غلطیوں
کو پکڑنے کی پوری صلاحیت نہ تھی جس کا نتیجہ یہ ہواکہ اس کی کچھ فروگزاشتیں ایسی گن میں
جن کو خود مصنف یا غور اور ہمدردی کے ساتھ ایک ایک لفظ پڑھنے والا ناق یہی
پکڑ سکتا تھا مصنف اپنی بڑھی ہوئی مصروفیات اور پلے در پے طویل سفروں کی وجہ
سے اس پر نظر ثانی کرنے کے لئے جلد وقت نہیں نکال سکا، اب الحمد للہ اس کو اس کی
توفیق اور فرصت ہوئی، اس نے اردو ترجمہ کو لفظا لفظا پڑھا، یہاں ضرورت پیش آئی
اصل کتاب اور عربی مآخذ سے مقابلہ کیا، اور کتاب کو طبع ثانی کے لئے پورے طور پر
تیار کر دیا بعض مقامات پر (خصوصا حواشی میں چند مفید اور ضروری اضافے بھی
کئے متعدد اہل علم فارمین نے بعض مقامات پر توجہ بھی دلائی جو نظر ثانی کے محتاج تھے،
……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….
مصنف ان سب دوستوں کا بھی شکر گزار ہے، اور وہ خدا کے یہاں اجر و تو ا کے بھی
مستحق ہیں جنھوں نے بعض اہم غلطیوں اور فرو گزاشتوں کی نشاندہی کی، اس سلسلہ
میں مولانا برہان الدین صاحب قبلی استناد تفسیر وحدیث دار العلوم ندوة العلماء
خاص طور پر قابل ذکر و شکر ہیں۔
اب کتاب کا یہ دوسرا ایڈیشن انسانی و امکانی سعی کے مطابق زیادہ صحیح اور
کمل شکل میں قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے اور کتاب کو لکھنے والے ترجمہ کرنے والے
پڑھنے والے اور اس کی طباعت و اشاعت میں کسی قسم کا حصہ لینے والوں کے لئے
نجات اور ترقی درجات کا ذریعہ بنائے ۔
ابو الحسن علی ندوی
۲۲ محرم الحرام له دائرہ شاہ علم اللہ رائے بریلی
یکم دسمبت شاه