Fath Makkah

۴۲۹

فتح مکه

(رمضان ششد)

فتح مکہ کا پس منظر

جب دین حق اور مسلمانوں کی دینی تربیت کی بنیادیں خدا کے حکم سے

اچھی طرح مستحکم ہوگئیں اثر تنانے نے مسلمانوں کو آز مالیا اور ان کے دلوں

نیتوں کا پورا امتحان کر لیا قریش کے ظلم و سرکشی، قبول حق سے انکار راہ حق

میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور مسلمانوں کو مسلسل ایذا پہونچانے اور طرح طرح کے

الزامات لگانے اور بتانے کا جام لبریز ہو گیا بلکہ چھلکنے لگا توشیت الہی کا فیصلہ

ہوا کہ اب اس کے بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور سلمان کریم فاریخ بن کر داخل ہوں

کہ یہ کوئیوں کی آلائش جھوٹ اور فحش کلامی کی گندگی و ناپاکی سے پاک صاف کریں ملک کو

اس کی پرانی حیثیت اور مرتبہ پر واپس لائین بیت اللہ کو پوری انسانیت عامہ کے لئے

چشمہ ہدایت برکت بنائیں اور اس کے فیضان رحمت کو دنیا کے تمام انسانوں کے لئے

عام کر دیں۔

ه مطابق جنوری سنہ ہ

………………………………………………………………………………………………………………

۴۳۰

بنی بکر اور قریش کی عہد شکنی

اللہ تعالیٰ نے اس فتح مبین کے لئے عخاص اسباب پیدا فرمائے اور خود قریش

کو نا دانستہ طور پر اس کا باعث اور محرک بنا دیا، اور ایکا یا واقعہ ظہور پذیر ہوا

جس نے فتح مکہ کو نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر اور ضروری کردیا والله جنود السموات

والارض اور اللہ تعالی کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کے شکر ہیں۔)

صلح حدیبیہ کے معاہدہ کی ایک دفعہ تھی کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے عہد پناہ میں آنا چاہئے وہ ایسا کر سکتا ہے اور جو شخص قریش کی پناہ او

عہد قبول کرنا چاہے وہ اس میں آزاد ہوگا چنانچہ بنو بکر نے قریش کو ترجیح

دی اور ان کی حمایت اور پشت پناہی قبول کی اور خزاعہ نے رسول الله

صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور پشت پنا ہی پسند کی ہے

بنو بکر اور خزاعیہ میںبہت پرانی دشمنی تھی، اور انتقامی کارروائیوں کا

ایک سلسلہ جاری تھا، اور بعثت کے پہلے سے تھا، اسلام نے آکر ان دونوں کے

درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور اس معالمہ کے سوا کس اور چیز پر غور کرنے کی

فرصت لوگوں کے پاس نہ ہوئی ، جب یہ صلح ہوئی اور یہ دونوں قبیلے دو مخالف

کیمپوں میں تقسیم ہو گئے تو بنوبکر نے اس موقع کو غنیمت جان کر خزانہ سے اپنا

حساب بے باق کرنا چاہا، بنو بکر کے کچھ لوگوں سے ساز باز کر کے خزاعہ پر اس وقت

شیخوں مارا جب وہ پانی کے ایک چشمہ کے پاس مقیم تھے لڑائی ہوئی اور خزاعہ کے

له سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۹

………………………………………………………………………………………………………………

متعدد آدمی مارے گئے۔

قریش نے بنی بکر کی ہتھیاروں سے مدد کی اور رات کے اندھیرے سے فائدہ

اٹھاتے ہوئے، قریش کے بڑے سردار اس جنگ میں شریک ہوئے، یہ لوگ خزاعہ کو دھکیلتے

ہوئے حرم تک پہونچ گئے، حرم پہونچ کر قریش کے بعض لوگوں نے کہا، اب ہم حرم

میں داخل ہو گئے ہیں، اپنے معبود کا خیال کرو، اپنے معبود کا خیال کرو، جواب ملا کہ

آج کے دن کوئی معبود نہیں، بنی بکر آج بدلہ چکا لو اس کے بعد تمھیں موقع نہیں ملے گا۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے فریاد

اس موقع پر عمرو بن سالم الخزاعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ملے۔

اور آپ کے سامنے کھڑے ہوکر کچھ اشعار پڑھے، اور اس میں آپ کے اور خزاعہ کے

درمیان جو عہد و پیمان تھا، اس کا واسطہ دے کر آپ کی حمایت و اعانت کے طالب

ہوئے اور نیز آپ کو اس کی اطلاع کی کہ قریش نے عہد شکنی کی ہے، اور آپ کے عہد

اور پیمان کو ختم کر دیا ہے، اور اس حالت میں جب وہ پانی پر تھے، انھوں نے

ان پر تیر چھوڑے مارا، اور رکوع و سجود کی حالت میں ہم لوگ قتل کئے گئے، رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : عمرو بن سالم ! تمھاری ضرور مدد ہو گی۔

آخری طور پر اتمام حجت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ اس خبر کی مزید تصدیق کردی جا

له زاد المعارج الله و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۹

………………………………………………………………………………………………………………

تا کہ قریش کے پاس کہنے کے لئے کوئی بات باقی نہ رہے آپ نے ان کے پاس ایک

آدمی کو بھیجا اور اس کی ہدایت کی کہ ان کے سامنے تین تجویز میں رکھے ایک یہ کہ وہ

خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیں یا جس نے اس معاہدہ کو توڑا ہے اور خزاعہ پر

حملہ کیا ہے، اس سے بے تعلقی کا اعلان کریں یہ لوگ بنی بکر کی شاخ بنو نفاسہ سے تعلق

رکھتے تھے یا پھر جیسا انھوں نے کیا ہے وہی ان کے ساتھ کیا جائے گا، ان کے بعض

سرداروں نے کہا کہاں ہم برابر کا خوب پسند کریں گے اس طرح قریش کی ذمہ داری ہے

مسلمان بری الذمہ ہو گئے، اور ان پر حجت قائم ہوگئی ہے۔

معاہدہ کی تجدید کے لئے قریش کی کوشش

جب رسول الله صل اللہ علیہ وسلم کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ گواہی دیکھ رہا

ہوں کہ ابوسفیان معاہدہ کی تزئین اور اس کی مدت میں توسیع کے لئے تمھارے پاس آئے

ہیں اور ایسا ہی ہوا قریش نے جو کچھ کیا تھا، اس سے ان کو ایک قسم کا اندیشہ لاحق ہوا،

اور اس بعض سخت جواب کو نا پسند کیا جو بعض کم عقل لوگوں نے دیا تھا، اور ان کو اس پر کھتاوا ہوا،

انھوں ابوسفیان ہی کو اس معاہدہ کی توثیق اور اس کی مدت میں توسیع کے لئے روانہ کیا۔

ماں باپ اور اولاد پر حضور کو ترجیح

ابوسفیان رسول الله صل اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے مدینہ آئے تو اپنی لڑکی

لے زرقانی نے مواہب میں ابن عائد سے ابن عمر کے حوالہ سے یہ بیان کیا ہے کہ جن صاحب کو رسول الله صلی اللہ

علیہ وسلم نے اس کام کے لئے بھیجا تھا، ان کا نام ضمرہ تھا، اور قریش کے جس شخص نے اس کا جواب

دیا تھا اس کا نام قرط بن عمر و تھا، دیکھئے شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی ج ۲ ص ۳۴۹)

ه زاد المعارج ۲ ص۷۵ و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۹۵-۲۹۶

………………………………………………………………………………………………………………

ام حبیبہ رسول الله صلی الہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کے گھر گئے، اور آپ کے بستر

مبارک پر بیٹھنا چاہا لیکن ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے ان کو روک دیا، انھوں نے کہا کہ بٹیا !

میں نہیں سمجھ پایا کہ تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں بچھایا مجھ کو اس بت کے لائق نہیں بجھا؟

انھوں نے جواب دیا کہ اصلی بات یہ ہے کہ یہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر

ہے اور آپ مشرک نا پاک ہیں میں پسند نہیں کرتی کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

بستر پر بیٹھیں انھوں نے جواب دیا بخدا کی قسم ہم سے جدا ہونے کے بعد تم تو بہت بدل گئیں

ابو سفیان کی پریشانی اور ناکامی

اس کے بعد ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے

گفتگو کی لیکن آپ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، پھر وہ حضرت ابو بکرکے کے پاس گئے اور

ان سے خواہش کی کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی طرف سے بات کرلیں

انھوں نے جواب دیا کہ یہ کام میں نہیں کر سکتا حضرت عمر حضرت علی حضرت فاطمہ رضی الله ہم

ان سب کو بہلانے پھسلانے کی انھوں نے کوشش کی لیکن ان حضرات میں سے

کسی نے بھی اس کی ہامی نہ بھری، اور کہا کہ مسئلہ اتنا اہم اور سنگین ہے کہ ہم لوگ بول

نہیں سکتے ان کی جبرانی اور پریشانی اس قدر بڑھی کہ انھوں نے حضرت فاطمہ

سے کہا کہ اے بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کیا تم اپنے اس بچے کو یہ کہتے ہوئے

سے لے زاد المعارج اس ۲۵۴ سیرت ابن ہشام ج ۲ ۳۹ اصل عربی کے الفاظ ہیں والله

لقد اصابک بعدی شر یعنی نیا دین قبول کرنے کے بعد تو اب پہچان ہی نہیں پڑتیں، اور

اپنے دین و ایمان کے سامنے اپنے باپ کا بھی کچھ خیال نہیں۔

………………………………………………………………………………………………………………

۳۳۲

انھوں نے حضرت حسن بن علی کی طرف اشارہ کیا جو پانچ سال کے خورد سال بچے تھے۔ اشارہ کر سکتی ہو کہ یہ اشارہ ان سے کہہ کر فریقین میں ہو ا کیا گیا یا یہ کہ وہ قیامت تک کے لشکروں کا سردار بن جائے گا۔ انھوں نے جواب کیا کہ یہ امر ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ ایسے اہم معاملات میں دخل دے اور فریقین میں صلح ہو جا دے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مرضی کے خلاف کوئی بھی صلح صفائی پرا آمادہ نہیں کرسکتا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی پریشانی دیکھی اور ان کو اندازہ ہوا کہ وہ کس کرب اور مصیبت میں ہیں تو انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت کوئی بھی چیز بھی تھالے کام آسکتی ہے تم ہی کنا نہ کے سردار ہو کھڑے ہو اور خود لوگوں میں صلح صفائی کراؤ پھر ان کے راہ والوں نے جواب دیا کہ کیا تھا لے خیال میں اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا بخدا میں تو ایسا نہیں سمجھتا لیکن میں تھالے لیکن میں تھالے اس لئے اس کا ر بھی نہیں دیکھتا بین کر اوصیفان مسجد میں کھڑے ہو گئے اور اعلان کیا لوگوں میں صلح کرا دی اس کے بعد روشتہ رسوار ہوئے اور اپنا راستہ لیا۔ جب قریش نے یہ قصہ سنا تو کہنے لگے تم کو کوئی بات کرنے نہیں آتے یہ کاروائی نہ تھالے نے مفید ہے نہ تھالے ہے۔

لکھ کی تیاری اور حاطب ابن ابی بلنعہ کا خط

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جہاد کی تیاری کا حکم فر مایا اور اس کا

له سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۹۵-۳۹۵

………………………………………………………………………………………………………………

اہتمام کیا کہ ساری باتوں کو خفیہ رکھا جائے اس کے بعد آپ نے اپنی مکہ روانگی

کا اعلان کیا ، اور لوگوں کو تیار رہنے اور سامان تیار رکھنے کی ہدایت کی آپ نے

بھی فرمایا کہ اے اللہ کا انتظام فرما دے کہ قریش کا کوئی جاسوس اور مخبر اپنا

کام نہ کر سکے اور ہم اچانک قریش کے سر پر پہونچ جائیں ۔

مدینہ کا اسلامی معاشرہ بہر حال ایک انسانی اور بشری معاشرہ تھا، اور

اس میں انسانی جذبات و احساسات اور خواہشات کی زندہ حقیقت اور

واقعات کی وہ جھلکیاں موجود تھیں، جو کسی زندہ، فطری اور غیر مصنوعی معاشرہ

میں ہوتی ہیں، اس لئے وہ صحیح کام بھی کرتے تھے، اور ان سے غلطیاں بھی ہوتی

تھیں ہو سکتا ہے وہ اپنے فیصلوں اور اقدامات میں بعض اوقات کسی تاویل سے

بھی کام لیتے ہوں، اور اس تاویل میں وہ مبنی پر بھی ہوں در اصل یہ ان تمام

انسانی معاشروں کا خاصہ ہے جن میں آزادی اور باہمی اعتماد کی فضا پائی جاتی

ہوا رسول اللہ علی علیہ وسلم گران کے کسی اقدام کو غلط مجھے تو ان کے لئے

عذر تلاش کرتے، اور ان کے ساتھ رعایت و تسامح کا معاملہ فرمائے ان غلطی کرنے

والوں کے لئے آپ کا سینہ مبارک بہت کشادہ تھا، اور ان کی فضیلت اور دیکھو

و جہاد میں ان کے کارناموں اور اسلام کے لئے ان کی سابقہ خدمات کا آپ کو

ہمہ وقت احساس رہتا تھا، حدیث سیرت اور تاریخ اسلام نے ایسے کمتر بلکہ نادر

واقعات بھی محفوظ کر دیئے ہیں، جو بجائے خود ان کتابوں کی امانت و دیانت

اور حق گوئی اور انصاف پسندی کی شہادت اور سند ہیں۔

له زاد المعارج اصل ۳۲ و سیرت ابن ہشام ج ۳۹۶۵۲

………………………………………………………………………………………………………………

ان واقعات میں خاطب ابن ابی بلتعہ کا واقعہ بھی ہے یہ ان لوگوں میں ہیں،

جنھوں نے مکہ سے ہجرت کی اور جنگ بدر میں شریک ہوئے روایت ہے کہ جب سولا اللہ

صل اللہ علیہ وسلم نے کہ روانگی کے ارادے سے صحابہ کرام کو باخبر کیا، اور خاموشی کے ساتھ

اس کی تیاریاں شروع ہو گئیں تو حاطب بن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھا جس ایران

لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی روانگی کی اطلاع تھی، انھوں نے یہ خط

ایک عورت کے حوالہ کیا، اور اگر وہ اس کو بحفاظت قریشن تک پہونچا دے تو اس کے

لئے کچھ معاوضہ کا بھی وعدہ کیا، اس نے اس خط کو اپنے بالوں کے جوڑے میں چھپا لیا

اور روانہ ہوگئی، رسول اللہصلی الہ علیہ وسلم کوجب نبی طریقہ سے اطلاع ملی تو آپ وم ! سے توآپ

نے حضرت علی و حضرت زبیر رضی اللہ عنہا کو اس کے تعاقب میں روانہ فرمایا! اور ارشاد

ہو کہ تم لوگ جاؤ جب ہم روضت الخاخ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے)

کے قریب پہونچو گے تو تم کو وہاں ایک مسافر عورت ملے گی جس کے پاس قریش کے

نام یہ خط ہوگا، یہ دونوں گھوڑے دوڑاتے ہوئے وہاں پہونچے اسی جگہ یہ عورت

ان کو ئی انھوں نے اس کو سواری پر سے اترنے پرمجبور کیا اور کہا کہ تمہارے پاس

کوئی خط ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے انھوں نے اس کے

سامان و اسباب کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا حضرت علی نے اس سے کہا کہ میں خدا

کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سول اللہ صل اللہ عیہ وسلم کی بات غلط نہیں ہوسکتی ہیں

غلط کہتے کہتے ہیں بخدا تجھے یہ یہ خط کا کالنا نا پڑے گا، ورنہ ہم تیری جامہ تلاشی لیں گے

جب اس نے دیکھا کہ یہ لوگ اس پر اڑے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ مینہ ادھر کر لئے

انھوں نے منہ ادھر کر لیا، اس نے اپنے جوڑے کو کھول کر یہ خط نکالا اور انکے حوالے کیا ۔

smununununununununununung

………………………………………………………………………………………………………………

یہ دونوں حضرات خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے،

یہ حاطب بن ابی بلیغہ کا خط تھا، جس میں قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

روانگی کی اطلاع تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو طلب فرمایا انہوئی

حاضر ہو کر کہا کہ یارسول اللہ آپ مجلت نہ فرمائیں خدا کی قسم میں اللہ اور رسول

پر ایمان رکھتا ہوں، نہ میں نے اپنا دین تبدیل کیا ہے نہ اپنی وفاداری لیکن میرا

قریش سے ویسا تعلق نہیں، جیسا ان مہاجرین کا ہے، جن کی ان میں قراتیں اور

خاندانی تعلقات ہیں، جو ان کے عزیزوں کے پشت پناہ بن سکتے ہیں میرا معاملہ

بیہ ہے کہ میں صرف ان کا حلیف ہوں میرے گھر کے لوگ اور بچے تو وہاں ہیں اسکین

ان کو خاندانی طور پر کوئی حمایت و پشت پناہی حاصل نہیں ہیں نے سوچا کہ

جب مجھے یہ چیز حاصل نہیں ہے تو میں ان پر کوئی ایسا احسان کردوں جس سے

میرے خاندان کے لوگ محفوظ رہیں حضرت عمر نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ مجھے

اجازت دے دیجئے ہیں اسی وقت اس کی گردن اڑا دوں اس لئے کہ اس نے

لے حاطب ابن ابی طبقہ کا تعلق قبیلہ کم سے تھا جو شمالی حجاز اور شام کے عربی قبائل میں سے ہے

وہ قریش میں کس کے حلیف تھے اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں ایک یہ کہ وہ بنی اسد بن عبد العربی

کے حلیف تھے کوئی ان کو حضرت زبیر کا حلیف بتاتا ہے کسی کا بیان ہے کہ عبداللهین می داری

کے آزاد کردہ غلام تھے۔ (ملاحظہ والاصابة في تميز الصحابة للعام احد این حج العقلانی اسم

مشہور روایت کے مطابق مقوقس شاہ عصر کے نام حضور صلی اللہ علیہ سلم کا خط لے کر

وہی گئے تھے مرزبانی نے معجم الشعراء میں ان کو جاہلیت میں قریش کے شہواروں اور شعراء میں شمالی

کیا ہے، دائنی کے بیان کے مطابق سندھ میں زمانہ خلافت حضرت عثمان میں ان کا انتقال ہوا۔

………………………………………………………………………………………………………………

الله اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور منافق لوگوں میں ہے ، رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بدیر میں شریک تھے اور تمھیں کیا معلوم کہیں اللہ تالی

نے اہل بدر کو مخاطب کر کے فرمادیا ہو کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمھارے سب قصور معات

کر دیئے ہیں یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے

انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔

عرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مدینہ سے روانہ ہوئے

شکر اسلام دس ہزار صحابیوں پر تمل تھا امر الظہران میں اگر اس نے منزل کی،

اس نقل و حرکت سے اللہ تعالی نے قریش کو بالکل بے خبر رکھا، اور وہ خوف

و بے یقینی اور انتظار کی ملی جلی کیفیت کا شکار ہو گئے ۔

پروانہ معافی

راستہ میں آپ کو آپ کے چچا زاد بھائی ابوسفیان ( ابن الحارث بن عبدالمطلب)

ملے آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، اس لئے کہ انھوں نے آپ کو بڑی ایذا پہونچائی تھی، اور

آپ کی ہجو کی تھی انھوں نے حضرت علیؓ سے اس بات کا شکوہ کیا انھوں نے کہا کہ تم ہو اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کے سامنے کی طرف آؤ اور وہ کو جو برادران کو

نے یوسف علیہ السلام سے کہا تھا تاللَّهِ لَقَدْ أَتَرَكَ اللهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا

لخطيين، خدا کی قسم خدائے تمکو ہم پر فضیلت بخشی ہے، اور بے شک ہم خطا کار

تھے اس لئے کہ آپ یہ پسند نہیں فرماتے کہ اچھی اور نرم بات کہنے میں آپ سے

له زاد المعارج ! صحاح میں بھی یہ قصہ مروی ہے، ترجمہ کے وقت صحیح بخاری کے

الفاظ پیش نظر رکھے گئے ہیں۔ کہ باب غزوة الفتح في رمضان صحیح بخاری – ۵۳ سوره یوسف – ۹۱

………………………………………………………………………………………………………………

کوئی بڑھ جائے، انھوں نے یہی کیا اور سامنے آکر یہ آیت پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لا تَقْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ ارْحَمُ الرَّحِيمِينَ [آح تم پر کوئی الزام نہیں اللہ تعالی تھیں رمان فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہے اس کے بعد بہت اچھے اور راسخ مسلمانوں میں ان کا شمار ہوا لیکن اسلام لانے کے بعد پھر بھی انھوں نے شرم کے مارے آپ سے آنکھیں چار نہیں کہیں ہیں۔

ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ آگ کے الاؤ روشن کئے جائیں، چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اسی وقت ابوسفیان بن حرب جاسوسی کی غرض سے اور حالات کا اندازہ کرنے کے لئے اُدھر سے گزرے اور ان کے منہ سے نکلا کہ اس شان کا شکر اور اس طرح کی روشنی تو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی احضرت عباس (بن عبد المطلب) اس سے پہلے ہجرت کر چکے تھے اور اس شکر میں موجود تھے انھوں نے ابوسفیان کی آواز پہچان لی اور کہا دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما ہیں کل قریش کا انجام کتنا ہولناک ہوگا پھر یہ سوچ کر کوئی مسلمان ان کو دیکھ لے گا تو فورا ان کا کام تمام کردے گا، اپنے خچر کے مجھے انھیں بٹھا لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک ان پر پڑی تو آپ نے فرمایا ابوسفیان اتھارا بھلا ہوا کیا ابھی تک اس کا لے سوره یوسف ۹۲ ۵۲ زاد المعادج ام ۱

………………………………………………………………………………………………………………

وقت نہیں آیا کہ تم اس پر ایمان لاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟

انھوں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کتنے علیم اور کتنے کریم ہیں ؟

اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں خدا کی قسمیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی

اورجہود کا وجود ہوتا تو آج میرے کچھ کام آتا، آپ نے فرمایا ابوسفیان! بخدا میں

سمجھ دے کیا اب بھی اس کا وقت نہیں آیا کہ تم اس بات کا اقرار کرو کہ میں اللہ کا

رسول ہوں ؟!

ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کتنے تعلیم

صلہ رحمی کاتا کتنے صلہ رحمی کرنے والے ہیں لیکن جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے اس

مجھے ابھی کچھ شبہ ہے۔

حضرت عباس نے فرمایا ” بنده خدا قبل اس کے کہ تمھاری گردن تلوار

سے اڑا دی جائے اسلام قبول کرلو، اور گواہی دوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر ابو سفیان اسلام لائے اور

شہادت دے کر اس فریضہ سے عہدہ بر آہوئے۔

معافی کی صدائے عام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی اور امن و حفاظت کا دائرہ اس

روز وسیع فرما دیا کہ اہل کرمیں سے صرف وہی شخص ہلاک ہو سکتا تھا جو خود معافی

و سلامتی کا خواہشمند نہ ہو اور اپنی زندگی سے بیزار ہو آپ نے فرمایا کہ جابو سفیان

لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۷ زاد المعاد ج اول ۵۴۲

………………………………………………………………………………………………………………

کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ اس کو پناہ ملے گی۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا،

وہ محفوظ ہے جو مسجد (حرام) میں داخل ہوگا اس کو امن ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشکر کو ہدایت فرمائی کہ داخل ہوتے وقت

صرف اس شخص پر ہاتھ اٹھائیں جو ان کی راہ میں حائل ہو اور ان کی مزاحمت کرنے

آپ نے اس کا بھی حکم فرمایا کہ اہلکار کی نقول و غیرمنقولہ جائیداد کے مال میں مکمل

احتیاط برتی جائے، اور اس میں مطلق دست درازی نہ کی جائے ۔

ابوسفیان فتح کے جلوس کا نظارہ کرتے ہوئے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی کہ

ابوسفیان کو ایسی جگہ لے جائیں جہاں سے اسلامی دوستوں کی پیش قدمی کا نظارہ ہو سکے۔

یہ فاتحانہ دستے سمندر کی موجوں کی طرح متلاطم نظر آتے تھے مختلف قبائل

اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ گذر رہے تھے، جب کوئی قبیلہ گزرتا تو ابوسفیان عباس

رضی اللہ عنہ سے اس کا نام دریافت کرتے اور کہتے کہ مجھے اس قبیلہ سے کیا سروکار ؟

یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ایک مسلح دستے میں تشریف لائے

جو سیز معلوم ہورہا تھا یہ مہاجرین و انصار کا ایسا آہن پوش دستہ تھا کہ ان کی

صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔

ابو سفیان نے منظر دیکھ کر کہا کہ خدا کی شان اختباث یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں

لے سیرت ابن ہشام ج ۲ صفحہ ہے یہ روایت صحیح بخاری میں مختصر طور پر آئی ہے باب این

ركز النبي الرأية يوم الفتح : ص ايضا –

29

………………………………………………………………………………………………………………

جواب یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیںجو مہاجرین و انصار کے جلومیں تشریف

لے جارہے ہیں انھوں نے کہا ان میں سے کسی کو اس سے پہلے یہ طاقت اور شان شوکت

حاصل نہ تھی خدا کی قسم اے ابو الفضل اتھالے بھتیجے کا اقتدار آج کی صبح کتنا عظیم

ہے انھوں نے کہا کہ ابو سفیان یہ نبوت کا معجزہ ہے۔

اس کے بعد ابو سفیان نے بلند آواز سے اعلان کیا کہ اے قریش کے لوگو ایہ

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طاقت کے ساتھ تمھارے پاس آئے ہیں جس کا تم کو

کبھی تجربہ نہ ہوا ہوگا، اب جو ابو سفیان کے گھرمیں آجائے گا اس کو امان دی جائے گی

لوگ بین تم کر کہنے لگے الہ ت سے مجھے تمھارے گھر کی حقیقت ہی کیا ہے کہ ہم سب کو

اس میں پناہ مل سکے؟ پھر انھوں نے کہا جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا اس کو

امان ملے گی جو مسجد (مسجد حرام) میں چلا جائے گا، اس کو امان ملے گی، چنانچہ

لوگ منتشر ہوگئے، اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام میں پناہ گیر ہوئے لیے

نیاز مندانہ نہ که فاستخانه داخله

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اس شان سے داخل ہوئے کہ سرمبارک

عبدیت و تواضع کے غلبہ سے بالکل جھک گیا تھا قریب تھا کہ آپ کی ٹھوڑی اوٹنی کے

کجاوہ سے لگ جائے آپ داخل ہوتے وقت سورہ فتح پڑھ رہے تھے

له ايضا من وزاد المعارج ۳۰۱ ۵۳ ۳۲ ابن کثیر ج ۵۵۳ صحیح بخاری میں معار به بین

قرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم کو فتح کر کے دن اس حالت میں دیکھا کہ

آپ اپنی اونٹنی پر تشریف رکھتے تھے، اور سورہ فتح ترجیع کے ساتھ تلاوت فرما رہے تھے۔

………………………………………………………………………………………………………………

مکہ کے اس فاتحانہ داخلہ میں (جو جزیرۃ العرب کا قلب جگر اور روحانی

و سیاسی مرکز تھا) عدل و مساوات تواضع اور اظہار عبدیت کا کوئی انداز نہ تھا

جس کو آپ نے اختیار نہ فرمایا ہوا اسامہ کو جو آپ کے مولی (آزاد کردہ غلام)

حضرت زیدہ کے صاحبزادہ تھے آپ نے اپنی سواری کے مجھے جگہ دی بنی ہاشم

اور اشراف قریش میں سے جن کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی، یہ شرف کسی کو حاصل

نہ ہوا، یہ واقعہ جمعہ کی صبح ۲۱ رمضان کا ہے۔

فتح کے روز ایک شخص نے آپ سے گفتگو کی تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی ،

آپ نے فرمایا ڈرو نہیں اطمینان رکھو میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں میں تو قریش کی

ایک ایسی عورت کا لڑکا ہوں ہو گوشت کے سوکھے ٹکڑے کھایا کرتی تھی ہے۔

معانی و رحم کا دن ہے خونریزی کا نہیں

جب سعد بن عبادہ جو انصار کے دستہ کے امیر تھے، ابوسفیان کے پاس سے

گزرے، انھونے کہا ” اليوم يوم الملحمة اليوم تستحمل الكعبة اليوم أحل الله

قریبا آج گھمسان کا رن ہے، اور خونریزی کا دن ہے آج کویہ میں سب بھائز

ہوگا، آج اللہ تعالیٰ نے قریش کو ذلیل کیا ہے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

اپنے دستہ میں ابوسفیان کے پاس سے گزارے تو انھو تے آپ سے اس کی شکایت کی

اور کہا کہ یارسول اللہ آپ نے سنا اسعد نے ابھی کیا کہا ؟ آپ نے فرمایا کیا کہا ہے ؟

انھوںنے وہ سب دہرا دیا، سعد کے جملہ کو آپ نے ناپسند فرمایا اور فرمایا الیوم یوم

له ابن کثیر ج ۳ ۵۵۰۰ ۱۲ صحیح بخاری کتاب المنازی ” باب حجة الوداع

anunununununununununa

………………………………………………………………………………………………………………

المرحمة اليوم يعز الله قريشاء ويعظم الله الكعبة (نہیں آج تو رحم

او معانی کا دن ہے آج اللہ تعالی قریش کو عزت عطافرمائے گا، اورکعبہ کی عظمت بڑھائے گا)

آپ نے حضرت سعد کو بلوا بھیج اور اسلامی پرچم ان سے لے کر ان کے صاجزاء

قیس کے حوالہ کیا، آپ نے یہ خیال فرمایاکہ ان کے صاحبزادے کو پرچم دینے کے

یہ ہوں گے کہ گویا پر چمران سے واپس نہیں لیا گیا ہے۔

اس طرح ایک حرف کی تبدیلی (المسلحہ کے بجائے المرحمہ فرما دینے) اور

ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے تبدیل کر دینے سے (جن میں سے ایک باپ کا ہاتھ

تھا، دوسرا بیٹے کا آپ نے سعد بن عبادہ (جن کے ایمانی اور مجاہدانہ کارنامے

اظہر من الشمس تھے) کی ادنی دشکنی کے بغیر ابوسفیان کی (جن کو تالیف قلب

کی ضرورت تھی، دیوئی کا سامان لیے حکیمانہ بلکہ میرانہ طریقہ پرانجام دے دیا،

جس سے بہتر طریقہ پر تصور میں آنا مشکل ہے باپ کے بجائے ان کے بیٹے کو منصب

عطا کر دیا جس سے ابوسفیان کے زخم خوردہ دل کی تسکین منظور تھی دوسری طرف

آپ سعد بن عبادہ کو بھی آزردہ خاطر نہیں دیکھنا چاہتے تھے، جنھوں نے

اسلام کے لئے بڑی خدمات انجام دی تھیں ۔

له این اموی نے مغازی میں اس روایت کا ذکر کیا ہے (دیکھئے فتح الباری اصت ) صحیح بخاری

میں یہ واقعہ الفاظ کے تھوڑے اختلاف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اس میں سعد بن عبادہ کے سوال اور

رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے جواب کا ذکر ہے اسی کا پورا نام کی ابن سعد بن ابان ہے اور ان کا

شمار معتبر رواہ میں ہے جس کے لئے ما بیت کی اصطلاح میں صدق کا لفظ آتا ہے، اصحاب صحاح نے

ان سے روایت کی ہے ان کی وفات ہو میں ہوئی ہے زاد المعاد ۱ ص۲۲۳

………………………………………………………………………………………………………………

۲۲۵

معمولی جھڑپیں

اس موقع پر صفوان بن امیہ، عکرمہ بن ابی جہل، سہیل بن عمرو اور خالد بن ولید کے ساتھیوں کے درمیان کچھ جھڑ میں ہوئیں جن میں تقریباً ایک درجن مشرکین مارے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے شکست قبول کر لی اس کی وجہ یہ تھی کہ آل ہاشم نے علیہم وسلم نے اسلامی لشکر کے سالاروں کو ہدایت فرادی تھی کہ جب وہ مکہ میں داخل ہوں تو صرف اس پرا ہاتھ اٹھائیں جو ان پر ہاتھ اٹھائے۔

حرم سے بتوں کی صفائی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اپنے قیام پر پہنچ گئے اور لوگوں کو مطمئن ہوگئے تو اس وقت آپ باب الشریف لائے بیت الشرف کی طرف روانہ ہوئے وہاں جا کر بیت اللہ کے گرد طواف کیا اس وقت آپ کے دست مبارک میں ایک کانی بھی تھی جس کو آپ سو تھا توڑ تہن تھے آپ اس کان کے ان بتوں کو کُو جتے تھے اور فرماتے تھے۔

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔

إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا او ر باطل مٹنے ہی کا چیز تھا۔

اسی کے ساتھ یہ تمام ایک ایک کر کے مٹک رہے جاتے تھے آپ کو کعبہ میں کچھ تصویر میں اور میں بھی نظر آئیں اور آپ کے

لله زادا المعارج: ۲۲۵۵۵/۳ مکہ میں حضرت ابن ہشام رح طلاء و زاد المعاج

………………………………………………………………………………………………………………

ان کو بھی توڑ پھوڑ دیا گیا ہے

آج حسن سلوک اور پاس وفا کا دن ہے

جب آپ نے طواف پورا فرمالیا تو عثمان بن طلحہ کو جو کعبہ کے کلید بردار

تھے بلایا کعبہ کی کلی ان سے لی دروازہ کھولا گیا، اور آپ کعبہ میں داخل ہوئے

اس سے پہلے جب آپ نے مدینہ ہجرت سے قبل ایک دن یہ کلید طلب فرمائی تھی تو

انھوں نے سخت جواب دیا تھا، اور آپ سے اہانت آمیز گفتگو کی تھی، اور

آپ نے علم اور بردباری سے کام لیتے ہوئے یہ فرمایا تھا عثمان با تم یہ کلید

کسی وقت میرے ہاتھ میں دیکھو گے، اس وقت میں جسے چاہوں گا؟ جسے چاہوں گا اسے یہوں گی

اس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا، اگر ایسا ہوا تو وہ دن تو قریش کی بڑی ذلت

و تباہی کا ہو گا آپ نے فرمایا نہیں اس دن وہ آباد اور با عزت ہوں گے

یہ الفاظ عثمان بن طلحہ کے دل نشین ہو گئے اور انھوں نے محسوس کیا کہ جیسا

آپ نے فرمایا ہے ویسا ہی ہو گا ہے

جب آپ کعبہ سے باہر تشریف لائے تو کنجی آپ کے دست مبارک میں تھی

آپ کو دیکھتے ہیں حضرت علی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا، اللہ آپ پر درودو سلام

بھیجے آپ سقایہ (پانی پلانے کا انتظام) کے ساتھ حجابہ (بیت اللہ کی دریانی)

بھی ہمیں عطا فرمائیں، آپ نے فرمایا عثمان بن طلحہ کہاں ہیں ؟ ان کو بلایا گیا،

له زاد المعارج ۱ ۲۳۰ نیز ملاحظه موسمی بخاری باب این رز النبی صلی اللهعلیه وسلم

الرأية يوم الفتح له زاد المعادج ا ص ۲۲۵ صحیح بخاری میں بھی یہ واقعہ آیا ہے۔

………………………………………………………………………………………………………………

آپ نے فرمایا عثمان ابو یہ تھار کی ہے، آج حسن سلوک اور پاس وفا کادن ہے

یکنجی لوجو تھا سے پاس ہمیشہ ہمیشہ رہے گی اور ظالم کے سواکوئی تم سے اس کو

چھین نہ سکے گا۔

توحید حق اور وحدت انسانی کا دین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کعبہ سے نکلنے کے لئے اس کا دروازہ

کھولا تو قریش پورے حرم میں صف بستہ کھڑے تھے اور منظر تھے کہ اب آپ

کیا کرنے والے ہیں، آپ نے دروازے کے دونوں بازو تھام لئے تمام لوگ آپ

کے نیچے تھے پھر آپ نے فرمایا :۔

لا إله الا الله وحده ایک خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں

لا شريك له صدق وعدہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس نے

ونصر عبده و هرم الاحزاب اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے بندہ کی مد

وحدة الأكل مأثرة ومال کی اور تمام جنھوں کو تنہا نکست

و دم فهو تحت قدامی هاتین وی ایا د رکھو کہ تمام مفاخر تمام

الاسدانة البيت وسقاية انتقامات خون بہا سب میرے

الحجاج، يا معشر قریش قدموں کے نیچے ہیں ، صرف کعبہ کی

إن الله قد ذهب عنکم تولیت اور حجاج کی آب رسانی

نخوة الجاهلية وتعظیم ها اس سے ملتی ہیں اے قوم قریش

له زاد المعارج ۱ ۴۲۵۰ طبقات ابن سعد کے حوالہ سے۔

………………………………………………………………………………………………………………

بالآباء الناس من ادم وادم اب جہالت کا غرور اور نسب کا

من تراب .

افتخار خدا نے شادیا، تمام لوگ

آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی

سے بنے تھے۔

اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :-

بايها الناس إنا خلقنكم لوگ ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت

من ذكر وانثى وجعلتكم سے پیداکیا و تماری قوم او پیلے اسے

شعوبًا وقبائل لتعارفو تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور

إن اكرمكم عند الله انكم خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا

إن الله عليم خبيرة

وہ ہے و زبان پر ہی گیا ہے بے شک خدا

( سوره حجرات (۱۳) سب کچھ جانے والا اور ریسے خبر داری

نبی رحمت

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد

فرمایا، اے قریشیو! تمھیں کیا توقع ہے کہ اس وقت میں تمھارے ساتھ کیا کروں گا؟

انھوں نے جواب دیا ہم اچھی ہی امید رکھتے ہیں۔ آپ کریم النفس و شریف بھائی

ہیں، اور کریم و شریف بھائی کے بیٹے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا میں تم سے

وہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔

له زاد المعاد ج اص ۳۲۳

………………………………………………………………………………………………………………

لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ اليَوْمَ اِذْهَبُوا آج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم

فَانْتُمُ الطَّلَقَاء

سب آزاد ہو۔

اس کے بعد آپ نے بلال رضی الہ عنہ کوحکم دیا کہ کعبہ پر چڑھ کر اذان دین قریش

کے سب سرداران اور اشراف نے یہ اعلان سنا اور وادی مکہ اذان حق سے گونج اٹھی۔

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے

عسل فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے شکرانہ میں آٹھ رکعتیں صلاۃ الفتح (فتح کی نماز کی اداز فرمائیں

حدود شرعیہ کے اجراء میں کوئی امتیاز روا نہیں

بنی مخزوم کی ایک عورت نے جس کا نام فاطمہ تھا، اس غزوہ میں چوری کی اس کی

برادری کے لوگ اسامہ بن زید کے پاس اس خیال سے کہ وہ رسول اللہ کو بہت عزیز

ہیں حاضر ہوئے اور سفارش کرانا چاہی، انھوں نے جب اس معالم میں رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم سے گفتگو کی توآپ کے روئے مبارک کانگ بدل گیا۔ آپ نے فرمایا تم مجھ سے

اللہ تعالیٰ کی تقرر کردہ حدودی کی حد کے متعلق التفات کرتے ہو اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض

کیا یا رسول اللہ آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہیں شام کے وقت رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں سے خطاب فرمایا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی

جو اس کی شان کے لائی ہے پھر فرمایا ۔

اما بعد تمھارے پہلے لوگ اس لئے بلاک ہوئے تھے کہ انمیں سے جب کوئی

شریعت اور ذی حیثیت آدمی چوری کرتا تھا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے تھے

لاه زاد المعارج ۱ص۳۲۳، صحیح بخاری باب (منزل الرسول صلى الله علیہ وسلم الفتح وزاد المعاد

………………………………………………………………………………………………………………

۴۵۰

شخص چوری کرتا تھاتو اس پر جاری کرتے تھے اور اس ذات کی قسم جس کے

قبضہ میں محمد کی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں ہاتھ کا دنیا

پھر اس کے بعد آپنے حکم دیا اس عورکے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں چنانچہ اس کے ہاتھ

کالے گئے خلوص دل سے اس نے اس میلاد سے تو کیا اس کا تا دو گے اور اس شادی بھی کریں

اپنے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک

جب فتح مکمل ہو گئ اور سب لوگوں کو رسول اثر صل اللہ علیہ سلم نے امان

عطا فرمائی ہوائے تو آدمیوں جن کے قتل کا کم ہوا خواہ وہ کعب کے پر دو کے اندر میں

ان میں کوئی وہ تھا جو اسلام لانے کے بعد رانا ہوگیا اس نے غریب دے کر کسی مسلمان کو

قتل کیا تھا کسی نے آپ کی بو کو تری طبع کاسامان بنالیا تھا اور اس کو لوگوں میں

پھیلاتا تھا، ان میں عبدالدین اسعدبن یاسر بھی تھا جو تہ ہوگیا تھا بکر بن ابی کیل

تھا جو جو اسلام اسلم کے غلبہ غلبہ اورا اور اس کے دور دورہ سے سے نفرت نفرت کی کی بنا بنا پر پر اور اور جان جان کے خون سے اپنان

چھوڑ کرمیں چلا گیا تھا، اسی بیوی نے اس کے را کے بعد سول للہ صل للہ علیہ سلم سے اسکے

لئے امان طلب کی آپ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ روئے زمین پر بارترین شی کا لڑکا ہے اس کو

امان کی اور خوشی اور استقبال کی اس طرح اس کی طرف پہلے کہ اور بھی ہم اطہر سے ہٹ گئی تھی۔

مکرمہ اسلام لائے تورسول اله صل اللہ علیہ سلم کو بہت مست ہوئی اسلام یہ میںان کو جانا

نا محال ہوا ارتداد کی جنوں اور شام کے معروں کی انھوں نے بڑی خدمات انجام ہیں۔

ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا سید نا حمزہ کے قاتل

لے بخاری وسلم، دیکھئے بخاری میں (باب مقام النبی صلی اللہ علیہ سلم بمكة زمن الفقم)

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۱

(نجیر این قلم کے غلام ہستی بھی تھے جن کا خون رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے مباح

کر دیا تھا لیکن وہ اسلام لائے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ان کا سلام قبول فرمایا۔

ان میں تیارین الاسود بھی تھا جس نے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی صاحبزادی

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پل پر یہ سے حمل کیا یہاں تک کہ وہ اونٹ سے ایک

چٹان پر گر پڑیں اور اسقاط حمل کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد وہ بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے

اسلام قبول کر لیا، اور سارہ اور دو ایک دو گانے والیوں جو آپ کی ہجو میں کہے گئے اشعا

کو گاتی تھیں کے سلسلے میں بھی آپ سے امان چاہی گئی، آپ نے ان دونوں کو امان

دی اور وہ دونوں مسلمان ہو گئیں۔

ہند بنت عفیہ اور سول اللہ صل اللہ علیہ سلم کا مکالمہ

کریمیں ایک مجمع آپ سے اسلام پر پیجیت کرنے کے لئے اکٹھا ہو گیا، آپ ان کو بیعت

کرنے کے لئے کوہ صفا پر تشریف لائے اور وہاں بیٹھ کر ان سے اللہ و رسول کی سمع وطحان

پر جہاں تک ان کے اندر اس کی قوت ہو) بیعت کی۔

جب مردوں کو بیعت کر کے آپ فارغ ہو گئے تو آپ نے عورتوں سے بیعت لی ان می

ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ بھی تھیں وہ نقاب میں تھیں اور سید نا حمزہ رضی اللہ

عنہ کے ساتھ انھوں نے جو کچھ کیا تھا اس کی وجہ سے اپنے کو ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمای اس پیچھے سے بہت کرو کہ الہ کے ساتھ تم کسی کو شریک

ٹھہراؤ گی ہند نے کہا خداکی قسم آپ ہم سے وہ اقرارے یہ ہیں جو اپنے مرد سے نہیں کیا۔

له زاد المعاد ج ۲۲۵۰۱

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۲

اور چوری نہ کرو گی بند نے پر کہ کر یں نے ابو سفیان کے مال میں اگر تھوڑا

تھوڑایا ہے میں نہیں جانتی تھی کہ اس کا حلال ہے یا حرام اورسفیان نے پہن کر جو

اس وقت موجود تھے کہا کہ جہاں تک گذشتہ کا تعلق ہے تم اس سے آزاد ہو وہ تمھارے

لئے حلال ہے اس موقع پر سول اللہ صل اللہ علہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ کی بھی ہند

ہو ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں آپ کو کچھ گزشتہ قصور سر زد ہوئے ہیں ان کو مومنت

کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے پھر آپ نے فرمایا اور زنانہ کروگی اس نے

کہا یا رسول اللہ صل اللہ علہ وسلم کیا کوئی شریف عورت بھی زنا کر سکتی ہے ؟

اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا اپنی اولاد کو مت نہ کروگی این کر انھوںنے کہا

جب تک وہ بچے رہے ہم نے انھیں پالا جب بڑے ہوئے تو آپ نے انھیں قتل کیا جب

اب آپ جائیں اور وہ جانیں !

اس کے بعد ارشاد ہوا کہ کوئی کھلا ہوا بہتان نہ باندھو گی ہند نے کہا، بخدا

بہتان تراشی بہت محبوب اور بی بات ہے او را برایم پیش اور درد زیاد در

آپ نے فرمایا اور میری نافرمان نہ کرو گی اس نے کہا ہاں اچھی باتوں بیان

تمھارے ہی ساتھ جینا ہے اور تمھارے ہی ساتھ مرنا ہے

جائے

جب اللہ تعالے نے کر کے دروازے اللہ کے رسول کے لئے کھول دیئے جو آپ کی

پیدائش اور اصلی وطن تھا تو انصار نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالی نے آپ کا دلیل و وطن فتح فرما دیا ہے، اب آپ یہیں قیام

یر ابن کثیر ، له ابن کثیر من این کثیر کے سوا دیگر مصادر سے مولی اضافہ

کے ساتھ۔

………………………………………………………………………………………………………………

۲۵۳

فرمائیں گے، مدینہ واپس نہ ہوں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے انصار سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیا بات کرتے

تھے، اس بات کو ان کے سوا کوئی اورنہ جانتا تھا، یہ لوگ اس پر بہت شرمندہ ہوئے،

اور آخر میں اعتراف کر لیا، آپ نے فرمایا معاذ اللہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، جینا بھی

تمھارے ساتھ ہے اور مرنا بھی تمھارے ساتھ ہے۔

شمنوں نے آنکھیں بچھائیں اور فاسق و فاجر تقی و پرہیزگاربن گئے

فضالہ بن عمیر کی نیت خراب ہوئی اوراس نے یہ صوبہ بنایا کہ جب سول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم طواف میں مشغول ہوں تو اس وقت وہ کام کر لیا جائے ہو کسی شقی سے نہیں ہوسکا

تھا جب وہ اس ارادے سے آپ کے قریب آیا تو آپ نے اسے متوجہ کرتے ہوے کہا

فضالہ ! اس نے کہا جی یا رسول اللہصلی الہ علی وسلم آپ نےفرمایاکہ تمہارے دل پر

کیا رہا تھا، اسنے کہا کچھ نہی، الہ کیا کر ہاتھا سو الله لا اله علیہ سلم

ہنے پھر فرمایا، اللہ سے معافی چاہو، پھر اپنا دست مبارک اس کے سینہ پر رکھا اس کا دل

اسی وقت پر سکون ہو گیا، فضالہ بیان کرتے تھے کہ آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے سے

ہٹایا بھی نہیں تھا کہ ال تعال کی ساری مخلوق میں میرے لئے آپ زیادہ جو کی اور تھے تھے۔ میرے اپنے زیادہ صوبے محبوب

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد میں اپنے گھر کی طرف چلا راستہ میں مجھے وہ عورت کہا بعد اپنے

لی جس سے میں کچھ باتیں کیا کرتا تھا، اس نے کہا کہ آن فضالہ بیٹھیں کچھ بات کریں،

فضالہ کا جواب تھا، اللہ اور اسلام اب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے

ے سیرت ابن ہشام ج ۲ ماده سیرت ابن هشا ج مت و زاد المعارج دا

………………………………………………………………………………………………………………

جاہلیت کے آثار اور بت پرستی کے نشانات کا خاتمہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے چاروں طرف جتنے بہت تھے ان کو ختم

کرنے کے لئے سرایا بھیجے اور یہ سارے کے سارے ثبت پاش پاش کر دیئے گئے، ان میں

لات و عربی اور مناب” کے بت بھی شامل تھے، اس کے بعد آپ کے منادی نے

مکہ میں اعلان کر دیا کہ ہر شخص جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، اس کو

چاہئے کہ اپنے گھر کے ہر بت کو توڑ دے آپ نے اصحاب کرام میں سے کچھ آدمیوں

مختلف قبائل میں بھیجا اور انھوں نے وہاں جا کر بت شکنی کا یہ مقدس فریضہ انجام دیا۔

جو یہ روایت کرتے ہیں کہ جاہلیت میں ایک بت خانہ تھا جس کا نام ذو الخلصہ

تھا، اسی طرح الكعبة الیمانیہ اور الکعبتہ الشامیہ کے نام سے بت خانے تھے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرایا کہ کیاتم اس ذو الخلصہ کو پاش پاش

کر کے مجھے راحت نہ پہونچائے گے جو یہ کہتے ہیں کہ میں ڈیڑھ سو شہسواروں کو لے کر

جو احمص کے تھے، اور یہ لوگ شہوار مانے جاتے تھے وہاں گیا، اس ثبت کو بھی توڑ ڈالا

اور پھیلتے لوگ اس وقت اس ثبت کے پاس حاضر تھے ان کو بھی موت کے گھاٹ

اتار دیا، اس کے بعدمیں نے واپس آکر رسول اله صل اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر

نسائی آپ نے ہمارے لئے اور احمص کے لئے دعا فرمائی ہے۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مک میں کھڑے ہو کر اس کی حرمت

و عظمت کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن

الے صحیح بخاری باب غزوة ذي الخلصة .

………………………………………………………………………………………………………………

ایمان لا چکا ہے، یہ جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے یا یہاں کے کسی درخت کو

کاٹے آپ نے بھی فرمایا کہ نہ مجھ سے پہلے کسی شخص کے لئے یہاں ایسا کرنا جائز تھا

اور نہ میرے بعد بھی کسی کےلئے جائز ہوگا اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لے آئے۔

فتح مکہ کے اثرات

فتح مکہ کا عربوں کے دلوں پر بہت گہرا اثر پڑا اللہ تعالی نے ان کے دل قبول

اسلام کے لئے کھول دیئے اور انھوں نے وفدوں اور جماعتوں کی شکل میں کثرت

اسلام قبول کرنا شروع کیا کچھ ایسے قبیلے تھے، جو قریش کے ساتھ کسی نہ کسی معاہد

سے وابستہ تھے اور اس معاہدہ کی پابندی ان کے قبول اسلام میں رکاوٹ بن رہی

تھی کچھ قبیلے قریش سے ڈرتے تھے، اور قریش کی بڑائی و عظمت ان کے دل میں

گھر کر چکی تھی، جب انھوں نے دیکھا کہ خود قریش نے اسلام کے سامنے ہتھیار ڈال

دیئے ہیں اور تسلیم خم کر دیا ہے توان کو بھی اس کا شوق پیدا ہوا اور یہ کا د دور ہوگئی۔

بعض قبیلے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ کہ کہیں کوئی ظالم و جابر داخل نہیں ہو سکتا

ہے نہ اس کو بری نیت سے فتح کر سکتا ہے ان میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کے

سامنے واقعہ فیل پیش آیا تھا، اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ پر ابیہ کا

کیا انجام ہوا، وہ کہتے تھے جانے دو ان کے اور ان کی قوم کے پیچھے پڑنے کی

ضرورت نہیں، اگر وہ ان پر غالب آئے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ نبی برحق بیان

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر مکہ کو فتح فرمایا، اور قریش خواستہ یا

لے زاد المعارج ۱ ۴۲۵ – ۴۲۶، صحیح بخاری روایت عمرو بن سلمه مرباب نظام النبی

(—)

………………………………………………………………………………………………………………

نخواستہ اسلام کے سامنے تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوئے تو عربوں کا اسلام کی برتر

ایسا رجوع عام ہوا کہ اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ان کی بڑی بڑی

جماعتیں اور قبیلے آپ کے پاس حاضر ہوتے اور اپنے نصیب خفتہ کو بیدار کرتے

اسی موقع کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :-

إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله وَالْفَتْح جب اللہ کی مدد پہونچی اور فتح

وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ (حاصل ہو گئی اور تم نے دیکھ لیا کہ

في دين الله أفواجان لوگ غول کے غول خدا کے دین میں

(سورة النصر – ١-٢)

کمین امیر

داخل ہو رہے ہیں۔

مکہ کو الوداع کہنے سے پہلے آپ نے عتاب بن اسید کو مکہ کے معاملات اور

حج کے انتظامات کی دیکھ بھال کے لئے امیر مقرر کیا، ان کی عمر اس وقت میں سال

کے لگ بھگ تھی، حالاں کہ ان سے زیادہ سن رسیدہ بزرگ اور ارباب فضل و کمال

اس وقت موجود تھے، یہ اس بات کی علامت تھی کہ عہدے اور منصب اہلیت

اور قوت و صلاحیت کی بنیاد پر ملتے ہیں، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی

اپنے دور خلافت میں ان کو اس عہدے پر بدستور باقی رکھا ہے۔

لله استفاده از رحمة للعالمين” مؤلفہ مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری۔

لله الاصابة وأسد الغابة .

ابن ہشام جو متن