غزوۃ خندق یا غزوۃ احزاب

(شوال سنہ ۵ھ)

غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب ماہِ شوال سنہ ۵ھ میں پیش آیا۔ یہ ان اہم واقعات اور غزوات میں سے ہے جن کے اثرات اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ پر بہت دور رس ثابت ہوئے۔ دینِ حق کے فروغ اور اسلام کی پیش قدمی میں یہ بہت دور رس نتائج رکھنے والی ایک فیصلہ کن لڑائی تھی، اور اس کی سختی و شدت کا تجربہ مسلمانوں کو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا ۝ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
جب وہ تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے، اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل دہشت کے مارے گلوں تک پہنچ گئے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ وہاں مومنوں کو آزمایا گیا اور وہ سخت طور پر ہلا دیے گئے۔
سورۃ الأحزاب، آیات ۱۰-۱۱

اس غزوہ کا اصل سبب یہ ہوا کہ بنی نضیر کے کچھ لوگ مدینہ سے نکلنے کے بعد قریش سے جا ملے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ پر اکسانا شروع کیا۔ قریش کو ان جنگوں کا تجربہ تھا اور وہ اس سے پہلے بہت کچھ بھگت چکے تھے، اس لیے ابتدا میں ان کا جوش زیادہ نہ تھا۔ لیکن یہودی وفد نے صورتِ حال کو بہت سازگار اور خوش نما بنا کر ان کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہوں گے اور جب تک اس معاملہ کو انجام تک نہ پہنچا دیں گے دم نہ لیں گے۔

قریش اس بات پر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے جوش و سرگرمی کے ساتھ دعوت قبول کی، سب متحد ہو گئے اور تیاریاں شروع کر دیں۔ یہ وفد وہاں سے قبیلۂ غطفان کے پاس گیا اور ان کو بھی اس جنگ میں شرکت کی دعوت دی۔ ان کے مختلف قبائل میں گھوم پھر کر اپنا منصوبہ تفصیل سے پیش کیا اور قریش کی آمادگی سے بھی انہیں باخبر کیا۔

ان کوششوں کے نتیجہ میں ایک فوجی معاہدہ وجود میں آیا جس کے اہم شرکاء قریش، یہود اور غطفان تھے۔ بعض شرائط بھی طے ہوئیں۔ نتیجتاً قریش نے تقریباً چار ہزار جنگجو جمع کیے اور غطفان و ان کے حلیفوں کے ساتھ متحدہ لشکر کی مجموعی تعداد قریب دس ہزار تک پہنچ گئی۔ اس لشکر کا سپہ سالار ابو سفیان مقرر کیا گیا۔

سیرت ابن ہشام، ج ۲، غزوۃ الاحزاب کے متعلق ابواب۔

حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ یہ لوگ اس طرح متحد ہو کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے وجود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عزم کر چکے ہیں، تو مسلمانوں نے بہت سنجیدگی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا اور جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے مدینہ میں قلعہ بند ہو کر مدافعانہ جنگ کو ترجیح دی۔ لشکرِ اسلام اس وقت تین ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔

اس موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ نے مدینہ کے سامنے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ یہ ایرانیوں کی معروف جنگی حکمتِ عملی تھی۔ حضرت سلمانؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایران میں جب ہمیں گھوڑ سوار لشکر کے حملہ کا خطرہ ہوتا تھا تو ہم لوگ اس کے مقابلہ کے لیے خندق کھودتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے پسند فرمائی اور مدینہ کے اس کھلے حصہ میں خندق کھودنے کا حکم فرمایا جہاں سے دشمن کو دراندازی کا موقع مل سکتا تھا۔ خندق کھودنے کا کام اصحابِ کرام میں اس طرح تقسیم کیا گیا کہ ہر دس آدمیوں کے ذمہ چالیس ہاتھ تھے۔ خندق کا طول تقریباً پانچ ہزار ہاتھ، گہرائی سات سے دس ہاتھ اور چوڑائی عموماً نو ہاتھ سے کچھ زیادہ تھی۔

سیرت ابن ہشام، ج ۲۔ اصل کتاب کے حاشیہ میں خندق کے محلِ وقوع کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کھدائی مدینہ کے کھلے شمالی حصے میں حرّات اور وادی کے درمیان کی گئی، تاکہ دشمن کے گھوڑ سواروں کی پیش قدمی روکی جا سکے۔

مسلمانوں میں ہمدردی و مساوات کی ایک نئی لہر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کھودنے میں مسلمانوں کے ساتھ بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور سینے کی پوری ہمت اور استقامت کے ساتھ یہ کام انجام دیا۔ سردی بہت سخت تھی اور خوراک اتنی کم کہ صرف جسم و جان کا رشتہ قائم رہے۔

صحابہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور اپنا پیٹ کھول کر دکھایا؛ ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شکمِ مبارک سے کپڑا ہٹایا تو وہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود سب خوش و خرم تھے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، اس کی حمد کے ترانے گاتے اور شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہ لاتے۔

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے قریب تشریف لائے۔ آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار صبح سویرے سخت ٹھنڈ میں خندق کھودنے میں مصروف ہیں اور ان کے پاس غلام اور ملازم بھی نہیں جو ان کے بجائے یہ کام کریں۔ آپ نے ان کی سخت محنت اور بھوک کو دیکھا تو زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلے:

اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ
فَاغْفِرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ

اے اللہ! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔

اس کے جواب میں صحابۂ کرام کہتے تھے:

نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا
عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا

ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر اس وقت تک کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔

کبھی ایک مٹھی جو کہیں سے مل جاتے تو اس کا دلیہ بنا لیا جاتا اور اس میں تھوڑی سی چربی شامل کر لی جاتی، حالاں کہ اس کے ذائقہ اور بو میں فرق آ چکا ہوتا۔

صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق؛ سیرت ابن ہشام، ج ۲۔

تنگی و محاصرہ کی تاریکی میں اسلامی فتوحات کا نور

خندق کی کھدائی میں ایک جگہ ایک بڑی چٹان سامنے آ گئی جس پر کدال کام نہیں کر رہی تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اطلاع دی۔ آپ تشریف لائے، کدال اٹھائی اور بسم اللہ کہہ کر اس پر ایک ضرب لگائی۔ اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔

آپ نے فرمایا: اللَّهُ أَكْبَرُ، مجھے شام کی کنجیاں دی گئیں۔ پھر دوسری ضرب سے دوسرا تہائی حصہ ٹوٹا تو فرمایا: اللَّهُ أَكْبَرُ، مجھے فارس کی کنجیاں دی گئیں؛ خدا کی قسم! میں مدائن کے سفید محل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

پھر تیسری مرتبہ آپ نے بسم اللہ کہہ کر ضرب لگائی اور باقی پتھر بھی پاش پاش ہو گیا۔ آپ نے یمن کی فتح کی بشارت دی اور فرمایا کہ میں اسی جگہ صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔ یہ بشارت اس وقت دی گئی جب مسلمانوں کو اپنے زندہ سلامت رہنے کا بھی یقین نہ تھا: ایک طرف بھوک کمزور کیے ڈال رہی تھی، دوسری طرف سردی جان لیوا تھی اور تیسری طرف دشمن کا عظیم لشکر سر پر تھا۔

غزوۂ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معجزات

اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معجزات بھی ظاہر ہوئے۔ جب خندق کی کھدائی میں کوئی سخت چیز رکاوٹ بنتی تو آپ کسی برتن میں پانی طلب فرماتے، اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے۔ وہ پانی پتھر پر چھڑکا جاتا تو وہ ریت کے تودے کی طرح نرم ہو جاتا۔

کھانے میں ایسی کھلی برکت ہوتی کہ تھوڑا سا کھانا بہت بڑی تعداد کے لیے کافی ہو جاتا، اور نہ صرف کافی ہوتا بلکہ لوگ پورے شکم سیر ہو جاتے۔

حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں: ہم خندق کے روز کھدائی کر رہے تھے کہ ایک بڑا اور سخت پتھر سامنے آ گیا۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ سخت پتھر خندق کی کھدائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں اترتا ہوں۔

آپ ایسی حالت میں کھڑے ہوئے کہ آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ تین روز سے ہمارے منہ میں کوئی چیز نہ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اٹھائی اور پتھر پر ماری تو وہ ریت کی طرح بھربھرا کر گر گیا۔

حضرت جابرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تھوڑی دیر کے لیے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا ہے جسے دیکھنے کی مجھ میں تاب نہیں؛ کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کا سامان ہے؟

انہوں نے بتایا کہ کچھ جو اور ایک بکری کا بچہ موجود ہے۔ حضرت جابرؓ نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور جو پیسا گیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آہستہ سے عرض کیا کہ تھوڑا سا کھانا تیار ہے، آپ اور ایک دو آدمی تشریف لے چلیں۔

آپ نے دریافت فرمایا: کتنا کھانا ہے؟ جب تفصیل بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ تو بہت ہے اور اچھا ہے؛ گھر والوں سے کہہ دو کہ دیگچی چولہے سے نہ اتاریں اور تنور سے روٹیاں نہ نکالیں جب تک میں نہ آ جاؤں۔ پھر آپ نے بلند آواز سے فرمایا: خندق والو! جابر نے دعوت کا انتظام کیا ہے۔

تمام مہاجرین و انصار کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کے ٹکڑے کرتے، ان پر گوشت رکھتے اور صحابہ کو کھلاتے جاتے، یہاں تک کہ سب خوب شکم سیر ہو گئے اور اس کے بعد بھی کھانا باقی رہا۔ آپ نے حضرت جابرؓ کی اہلیہ سے فرمایا: اب تم خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی دو، اس لیے کہ لوگ اس وقت بھوک اور فاقہ میں ہیں۔

صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق؛ سیرت ابن ہشام، ج ۲۔

کڑی آزمائش

قریش نے آگے بڑھ کر مدینہ کے مقابل پڑاؤ ڈالا۔ ان کے لشکر کی تعداد دس ہزار تھی۔ غطفان بھی اپنے زیرِ اثر قبائل کے ساتھ اسی جگہ مقیم ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ خندق دونوں لشکروں کے درمیان حائل تھی۔

مسلمانوں اور بنی قریظہ کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ حیی بن اخطب، جو بنی نضیر کا سردار تھا، بنی قریظہ کے پاس گیا اور ان کو عہد شکنی پر آمادہ کر لیا۔ بنی قریظہ نے ابتدا میں انکار اور تردد کیا، لیکن آخرکار عہد شکنی کی راہ اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں خوف و دہشت کی فضا سارے شہر میں چھا گئی اور منافقین نے بھی پاؤں نکالنے شروع کیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ اس وقت غطفان سے اس شرط پر صلح کر لی جائے کہ مدینہ کے پھلوں کی ایک تہائی پیداوار انہیں دے دی جائے۔ یہ خیال انصار کی وجہ سے آیا، جن پر جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ پڑتا تھا اور جنہیں آپ مزید آزمائش میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔

لیکن اوس و خزرج کے دونوں سردار سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ نے عزم، ہمت اور استقامت کا اظہار کیا۔ انہوں نے عرض کیا: جب ہم شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے، نہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور نہ اسے پہچانتے تھے، اس وقت بھی یہ لوگ ہماری کھجوریں مہمان بن کر یا خرید کر ہی کھاتے تھے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام سے سرفراز کیا، ہدایت نصیب فرمائی اور آپ کی ذات و اسلام سے عزت بخشی، کیا ہم اپنا مال ان کو دے دیں؟

خدا کی قسم! ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ان کے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسی تمہاری رائے ہو۔

جاہلیت کے شہسوار اور اسلام کے شہسوار کا مقابلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان وہاں مقیم رہے۔ دشمن نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا، لیکن عام جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ البتہ دشمن کے چند گھوڑ سوار تیزی کے ساتھ خندق کے کنارے تک پہنچے۔ خندق کو دیکھ کر کہنے لگے: یہ ایک نئی تدبیر ہے جس سے عرب واقف نہیں۔

انہوں نے تلاش کر کے ایک ایسی جگہ پا لی جہاں خندق کی چوڑائی کم تھی۔ گھوڑوں کو ایڑ لگا کر وہ اسے پار کر گئے اور مدینہ کی طرف نکل آئے۔ اس دستہ میں عرب کا نامی گرامی شہسوار عمرو بن عبد وُد بھی تھا، جس کا مقابلہ ایک ہزار گھوڑ سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔

اس نے مقابلہ کے لیے آواز دی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سامنے آئے اور کہا: عمرو! تم نے عہد کیا تھا کہ قریش کا کوئی شخص تمہیں دو باتوں کی دعوت دے گا تو ان میں سے ایک ضرور قبول کرو گے۔ اس نے کہا: ہاں۔

حضرت علیؓ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: پھر میں تمہیں مقابلہ کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: میرے بھتیجے! میں تمہیں قتل کرنا پسند نہیں کرتا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: لیکن خدا کی قسم! میں تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں۔

عمرو غصہ میں گھوڑے سے اتر پڑا، اس کی کونچیں کاٹ دیں اور حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوا۔ دونوں میں سخت مقابلہ ہوا اور کچھ دیر دونوں نے اپنے جوہر دکھائے، پھر حضرت علیؓ نے اسے ٹھکانے لگا دیا۔ اس کے دوسرے ساتھی یہ دیکھ کر بھاگ نکلے اور خندق پھاند کر راہِ فرار اختیار کی۔

ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو جہاد اور شہادت پر آمادہ کرتی ہے

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بنی حارثہ کے قلعہ میں مسلمان عورتوں کے ہمراہ تھیں۔ اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ سعد بن معاذؓ ادھر سے گزرے۔ وہ اتنی چھوٹی زرہ پہنے ہوئے تھے کہ ان کا پورا ہاتھ اس سے باہر تھا اور وہ رجز پڑھتے جا رہے تھے۔

ان کی والدہ نے دیکھ کر کہا: بیٹے! تم نے بہت دیر کر دی، جلدی جاؤ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے ان سے کہا: ام سعد! خدا کی قسم، میری خواہش ہے کہ سعد کی زرہ اس سے بڑی ہوتی۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا حضرت عائشہؓ نے خطرہ ظاہر کیا تھا۔ ان کے کھلے ہوئے ہاتھ پر ایک تیر آ کر لگا اور وہاں کی خاص رگ، اکحل، کٹ گئی۔ بعد میں بنی قریظہ کے غزوہ کے موقع پر اسی زخم کے سبب ان کی شہادت ہوئی۔

ابن کثیر، ج ۳، غزوۃ الاحزاب کے واقعات۔

غیبی نصرت

مشرکوں نے مسلمانوں کو اس طرح گھیر لیا تھا جیسے وہ کسی قلعے میں محصور ہوں۔ یہ محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران انہیں طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور منافقوں کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا۔ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ واپس جانے کی اجازت چاہی اور یہ بہانہ کیا کہ ان کے گھر کھلے رہ گئے ہیں، حالاں کہ ایسی کوئی بات نہ تھی اور گھر محفوظ تھے۔ یہ محض راہِ فرار اختیار کرنے کی ترکیب تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اس خوف و پریشانی میں تھے کہ اچانک نعیم بن مسعود غطفانیؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسلام لا چکا ہوں لیکن میری قوم کو میرے اسلام لانے کا علم نہیں۔ اب جیسا انتظام و حکم فرمائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اکیلے آدمی ہو؛ تم وہیں رہ کر ہماری مدد کرو، اس لیے کہ جنگ حیلہ و تدبیر کا نام ہے۔ نعیم بن مسعودؓ بنی قریظہ کے پاس گئے اور ایسی باتیں کیں کہ ان کو خود اپنے موقف کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی۔

انہوں نے بنی قریظہ کو مشورہ دیا کہ قریش و غطفان کی حمایت میں لڑنے سے پہلے ان کے کچھ خواص اور سرداروں کو بطورِ رہن اپنے پاس رکھ لیں، تاکہ انہیں اطمینان رہے کہ بیرونی قبائل انہیں چھوڑ کر واپس نہ چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تم نے بہت اچھی بات سمجھائی۔

پھر نعیمؓ سردارانِ قریش کے پاس گئے اور خیر خواہی و اخلاص ظاہر کرنے کے بعد کہا کہ یہود اپنے فعل پر پچھتا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ قریش کے کچھ سرکردہ آدمیوں کو بطورِ رہن لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں۔ غطفان کے پاس جا کر بھی یہی بات کہی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ تمام فریق ایک دوسرے سے چوکنّے اور محتاط ہو گئے۔ قریش و غطفان کے دلوں میں یہود کی طرف سے شک پیدا ہوا، اور یہود کو بھی بیرونی قبائل کے بارے میں اندیشہ ہوا۔ جب قریش و غطفان نے فیصلہ کن جنگ کا آغاز چاہا تو بنی قریظہ نے ٹال مٹول کی اور کچھ آدمی بطورِ رہن طلب کیے۔ اس سے باہمی بدگمانی اور بڑھ گئی، ان کے ارادوں میں اضمحلال پیدا ہوا اور ان کا شیرازہ منتشر ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ کفر و شرک کے ان لشکروں پر سرد اور یخ بستہ راتوں میں ایسی تیز ہوا چلی کہ ان کی قیام گاہیں اکھڑ گئیں، دیگیں الٹ گئیں اور آگ جلانا مشکل ہو گیا۔ ابو سفیان نے حالات دیکھ کر کہا: قریش کے لوگو! اب یہاں ٹھہرنے کی جگہ نہیں رہی۔ جانور ہلاک ہو رہے ہیں، بنی قریظہ نے بدعہدی کی ہے، اور یہ آندھی جو تباہی مچا رہی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔ اب یہاں سے کوچ کرو؛ میں بھی واپس جا رہا ہوں۔

ابو سفیان اپنے اونٹ کے پاس گیا، اس پر سوار ہوا، اور جب اونٹ کھڑا ہو گیا تب اس کی رسی کھولی۔ غطفان کو قریش کے کوچ کی خبر ہوئی تو انہوں نے بھی واپسی کی راہ لی۔

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتحادی لشکروں میں حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا، واپس آئے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کی اطلاع دی۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے مدینہ واپس تشریف لے گئے، اور مسلمانوں نے بھی اپنے ہتھیار رکھ دیے۔

قرآنِ کریم اس واقعہ کے بارے میں فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا
اے ایمان والو! اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب فوجیں تم پر حملہ آور ہوئیں، تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہ سکتے تھے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
سورۃ الأحزاب، آیت ۹
وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا
اور جو کافر تھے اللہ نے ان کو ان کے غصے سمیت واپس کر دیا، وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اللہ مومنوں کے لیے جنگ میں کافی ہوا، اور اللہ بڑی قوت والا، زبردست ہے۔
سورۃ الأحزاب، آیت ۲۵

اس طرح جو بادل بڑے زور و شور سے اٹھا تھا وہ گرج چمک کر بغیر برسے نکل گیا اور مدینہ کا مطلع صاف ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد اب قریش تم پر چڑھ کر نہ آئیں گے، بلکہ تم ہی ان پر حملہ آور ہو گے۔

غزوۂ خندق میں مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ سات آدمی شہید ہوئے اور مشرکین کے چار آدمی قتل کیے گئے۔

تفصیل کے لیے صحیح مسلم، باب غزوۃ الاحزاب؛ سیرت ابن کثیر، ج ۳؛ سیرت ابن ہشام، ج ۲، ملاحظہ ہوں۔