The first page is missing. Need to be added, In Sha Allah.
………………………………………………………………………………………………………………
کے کچھ لوگ کر گئے اور قریش سے مل کر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلافت
اکسانا چاہا، قریش کو ان قسم کی جنگوں کا تجربہ تھا اور وہ بہت پہلے سے اسے بھگتے ہوئے
تھے، اس لئے ان کی بہت نہ پڑتی تھی لیکن یہودیوں کے وفد نے صورت حال کو بہت
سازگار اور خوشنما بن کر ان کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ ہم لوگ سب آپ کے ساتھ ہوں گے
اور جب تک اس میں کو بر بیاد سخت نہ کریں گے دم نہ لیں گے اس بات پر قریشی بہت
خوش ہوئے اور اس کے بعد انھوں نے جوش وسترت کے ساتھ ان کی دعوت قبول کی
سب اس پر متحد ہو گے اور تیاریاں شروع کر دیں و قد وہاں سے چل کر قبیلہ غطفان پر آیا
اور ان کو بھی اس جنگ میں شرکت کی دعوت دی ان کے مختلف قائل میں گھوم پھر کر دین
پہلے کا یہ نیا تصور فصیل کے ساتھ ان کے سامے رکھا اور قریش کی آمدگی سے بھی ان سے باخبر کیا۔
ان کوششوں کے نتیجہ میں ان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہوگیا جس کے اہم شرکا
میں قریش یہود اور غطفان تھے انھوں کچھ اور شرائط پر بھی اتفاق کیا جس میں ایک
اہم شرط یہ بھی تھی کہ عطفان اس متحدہ لشکرمیں چھ ہزار سپاہیوں کے ساتھ حصہ لیں گے
اس کے معاوضہ میں یہود قبائل غطفان کو خیر کے باغات کی پورے سال کی فصل دیا
کریں گے الغرض قریش نے چار ہزار جنگ جو اس کے لئے اکٹھا ئے ، غطفان نے
چھ ہزار کل تعداد دس ہزار ہوئی شکر کا سپہ سالار ابوسفیان کو مقر کیا گیا ہے
حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی کہ یہ لوگ اس طرح
سے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۱۵:۲۱ ۵۲ ایضا ص ۲۱۹ – ۲۲۰
nunununununununununun
………………………………………………………………………………………………………………
متحد ہوکر مدینہ پرحملہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کا عزم کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے وجود کو
ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں گے تو مسلمانوں نے بہت سنجیدگی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا اور
جنگ کے لئے تیار ہو گئے، انھوں نے مدینہ میں قلعہ بند ہو کر مدافعانہ جنگ کو ترجیح دی
شکر اسلام اس وقت تین ہزار مجاہدین پرشتمل تھا۔
اس موقعہ پر سلمان فارسی رضی اللہعنہ نے مدینہ کے سامنے خندقیں کھودنے کا
مشورہ دیا یہ ایرانیوں کی معروف جنگی حکمت علی تھی ا حضرت سلمان نے عرض کیا،
یا رسول الٹرا ایران میں جب ہم کو گھوڑ سوار شکرکے حملہ کاخطرہ ہوتا تھاتو ہم لوگ اس کے
مقابلہ کے لئے خندقیں کھودتے تھے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ان کی رائے پند فرمائی
اور مدینہ کے شمال مغرب میں واقع میدان میں خندقیں کھودنے کا حکم فرمایا یہی وہ کھلا
حصہ تھا جہاں سے دشمن کو دراندازی کا موقع مل سکتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علہ سلم نے حدق کھودنے کا کام اپنے اصحاب کرام میں اس طرح
تقیم فرمایا کہ پروش آدمیوں کے ذرہ چالیس ہاتھ وہ خندق کا طول تقریبا پانچ ہزار
ہاتھ تھا، گہرائی سات ہاتھ سے دس تک چوڑائی بالعمو نو سے کچھ اوپر ہوئی تھی ہے
مسلمانوں میں ہمدردی و مساوات کی ایک نئی لہر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کھودنے میں مسلمانوں کے ساتھ بنفس نفیس
اه سیرت این شام ج ۲۳۲، که خندق در اصل لفظ کندہ کا معرب ، فارسی میں خندک در کندک
اسی اسی میں استعمال ہوتے ہیں (دیکھئے فرهنگ عمید) سے کھدائی کا کام دینہ کے شمال مشرق سے شروع ہو کر شمال غرب
تک تمام ہوا، اس کا مشرقی کنارا حرة واقم سے سنا تھا، اور غربی کنارہ وادی بطحان کے مغرب سے جہاں مغربی
(حمرة الوبرة) واقع ہے ملاحظہ ہو مدینہ طیبہ کے شہر کا نقشہ مستفاد از آثار المدينة المنورة تاليف الاستا
عبد القدوس الانصاری ۳ سیرت این کثیر جلد ۱۹۷۳، ۵۵ غزوة الاحزاب استاذ احمد با شمیل .
………………………………………………………………………………………………………………
شریک ہوئے اور سینے کی پوری ہمت اور استقامت کے ساتھ یہ کام انجام کیا
سردی بہت سخت تھی ان کو اتنی ملی تھی کہ جسم و جان کا رشتہ قائم رہے تھی وہ بھی
ملتی تھی حضرت اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی
شکایت کی اور اپنا پیٹ کھول کر دکھایا ی پر ایک پھر بندھاہوا تھا یہ دیکھ کر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے کم مبارک سے کپڑا ہٹایا اوہم نے دیکھا کہ اس میں دو پھرین سے کہی ہے
اس کے باوجود سب خوش و خرم تھے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے تھے جو پڑھتے
تھے اور اسکی حمد کے ترانے گاتے تھے اور ایک حرف شکایت ان کی زبان پر آتا تھا۔
حضرت انس آزادی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم خندق کے قریب
تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار صبح سویر سے سخت ٹھنڈی میں خندق
کھودنے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس غلام اور ملازم نہ تھے جوان کے بجائے یہ کام انجام
دیتے، آپ نے ان کی اس سخت محنت اور بھوک کو ملاحظہ فرمایا تو آپ کی زبان مبارک
سے یہ الفاظ نکلے۔
اللهم لا عيش الاعيش الآخرة فاغفر الانصار والمهاجرة
اے اللہ زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے پس معاف فرما انصار کو
اور مہاجرین کو)
به سن کر اس کے جواب میں انھوں نے کہا :۔
لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سیرت ابن ہشام ۲۰ ۲۱ ۲ ترمذی علامہ طیبی شرح مشکور ہیں
کھتے ہیں کہ عرب میں اس عہد میں رواج تھا جس کو بھوک تاتی تھی اور پیٹ بالکل چپ جاتا تھا، وہ ان کو
سیدھا رکھنے کے لئے پیٹ پر اک پتھر باندھ لیتا تھا شکوۃ المصابیح من حواشی ج ۲ ۴۴۵
………………………………………………………………………………………………………………
نحن الذين بايعوا محمدا على الجها دما بقينا البدا
ہم وہ ہیں جنھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر اس وقت تک
کے لئے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔
وہ بیان کرتے ہیں ایک مٹھی جو کہیں سے مل جاتے تو اس کا ملہ بنا لیا جاتا اور اس میں
تھوڑی سی چربی شامل کرلی جاتی، حالانکہ اس کا ذائقہ اور بوسب میں فرق آچکا ہوتا۔
تنگی و محاصرہ کی تاریکی میں اسلامی فتوحات کانور
خندق کی کھدائی میں ایک جگہ ایک بڑی چٹان سامنے آگئی جس پر گدال کام
نہیں کر رہی تھی لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کو اس کی
اطلاع کی، آپ نے اس کو دیکھا تو خود کال اٹھائی اورہم اللہ کہ کراس پر ایک ای غرب
لگائی کہ اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا، اس وقت آپ نے فرمایا اللہ اکبر مجھے شام کی
کنجیاں دی گئیں، اس کے بعد دوسرا تہائی حصہ بھی آپ نے توڑ ڈالا اور ارشاد فرمایا
الہ اکبر مجھے فارس کی کنجیاں دی گئیں خدا کی قسم میں رائن کا سفید کل اپنی آکھوں سے
دیکھ رہا ہوں، پھر تیسری بار آپ نے بسم اللہ کہ کر اس پر ضرب لگائی اور باقی ماندہ پتھر
بھی پاش پاش ہو گیا، آپ نے فرمایا اللہ کی مجھے جن کی کنجیاں دی گئیں خدا کی قسم
میں اس وقت اسی جگہ صنعاء شہر کے دروازے دیکھ رہا ہوں کہ یہ ارشاد اس وقت
ہوا جب مسلمانوں کو اپنے زندہ سلامت رہنے کا بھی یقین نہ تھا ایک طری جو ان کو ارکان کئے
ڈال رہی تھی دوسری طرف ٹھنڈک جان لیوا ثابت ہو رہی تھی، تیسری طرف مشین پر تھا۔
لے صحیح بخاری بروایت انس (کتاب المغازی باب غزوة الخندق) سے بہتی بروایت براء بن عازب الانصاری
………………………………………………………………………………………………………………
۳۲۸
غزوہ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض مجربات
اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی مجربات ظاہر ہوئے جب مسلمانوں
کو خندق کھودنے میں دشواری ہوتی اور اس طرح کی کوئی چیز رکاوٹ بنتی تو آپ کسی برتن میں
پانی طلب فرماتے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال دیتے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ سے کہلانا آپ
دعا فرماتے جب یہ پانی اس پتھر پر چھڑ کا جاتا تو وہ ریت کے تودہ کی طرح نرم ہو جاتا۔
کھانے میں ایسی کھلی برکت ہوتی کہ تھوڑا سا کھانا بہت بڑی تعداد کے لئے
کافی ہو جاتا، اور نہ صرف کافی ہوتا بلکہ پورا شکریہ ہو جاتا۔
جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ہم خندق کے روز کھدائی کر رہے تھے کہ ایک بڑا
اور سخت پتھر سامنے آگیا، سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور کہا کہ یہ بہت سخت پتھر سامنے آگیا ہے جو خندق کھودنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ میں اترتا ہوں پھر آپ ایسی حالت میں کھڑے ہوئے کہ آپ کے
پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا، اس وقت حالت یہ تھی کہ تین روز سے ہمارے منہ میں
کوئی چیز نہ گئی تھی، رسول الله صل اللہ علیہ سلم نے کالاٹھائی اور اس پتھر پر ماری
پتھر ریت کی طرح بھربھرا کر گر گیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
تھوڑی دیر کے لئے مجھے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمادیں گھر پہونچ کر میں نے
اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ
جس کے دیکھنے کی مجھ میں تار نہیں کیا تمھارے پاس کچھ کھانے پینے کا سامان ہے؟
سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۱۸-۲۱۷
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۹ انھوں نے کہا ہاں کچھ تو ہے اور ایک بکری کا بچہ ہے میں نے بری کے بچے کو ذبح کیا جو کو پیا اور ایک دیگچی میں گوشت چڑھا دیا جب میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے لگا تو اس وقت آٹا گوندھ چکا تھا، دبی والے پر بھی اور تیار ہونے کے قریب تھی میں نے واپس آکر عرض کیا کہ میں نے تھوڑے بہت کھانے کا انتظام کیا ہے آپ اور دو ایک آدمی تشریف لے چلیں، آپ نے دریافت فرمایا کتنا کھانا ہو گا میں نے تفصیل بتائی آپ نے یہی کرفرمایا یہ تو بہت ہے اور اچھا ہے اپنے گھر کہا کہ دیگچی چولہے سے اس وقت تک نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹیاں نکالیں جب تک میں نہ آجاؤں، پھر آپ نے فرمایا لوگو اسم اللہ چنا نچہ تمام مہاجرین اور انصار کھڑے ہو گئے اور میں اپنی بیوی کے پاس پہونچا اور کہا کہ کچھ خبر بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ لیہ وسلم سارے مہاجرین و انصا اور جتنے بھی آدمی کے ساتھ ہی سب کولے کر شاہ سب تشریفت لال ہے میں کہنے لگیں کیا کھانے کے بارے میں آپ نے کچھ پوچھا؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا لوگو اندر داخل ہو اور بھیڑ نہ لگاؤ، آپ روٹی کے ٹکڑے کر کے اس پر گوشت رکھتے جاتے اور گوشت و روٹی لینے کے بعد دیکھی اور تنور کو ڈھک دیتے تھے اور اپنے اصحاب کرام کے سامنے کھانا پیش فرماتے تھے پھر کپڑا ہٹا کر اسی طرح روٹی توڑتے اور گوشت لیتے رہے اور اصحاب کرام کو عنایت فرماتے رہے یہاں تک کہ سب خوب شکم سیر ہو گئے اور اس کے بعد بھی کھانا بچ رہا پھر آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے فرمایا اب تم کھاؤ، اور دوسروں کو دو، اس لئے کہ سب لوگ اس وقت بھوک اور فاقہ میں ہیں۔ ایک دوسری روایت میں حضرت جابر کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں کہ میں ل صحیح بخاری ( باب غزوة الخندق)
………………………………………………………………………………………………………………
آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آہستہ سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم نے ایک جانور ذبح
کیا ہے اور ہمارے پاس تھوڑا سا جو تھا، اس کو پیس لیا ہے آپ اور چند حضرات تشریف
لے چلیں آپ نے بلند آواز سے کہا کہ خندق والو جابر نے ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا ہے۔
کڑی آزمائش
قریش نے آگے بڑھ کر مدینہ کے مقابل پڑاؤ ڈالا، ان کے شکر کی تعداد دس ہزار
تھی غطفان بھی اپنے زیر اثر قبائل کے ساتھ اسی جگہ مقیم ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے خندق ان دونوں
شکروں کے درمیان حائل تھی مسلمانو او بنی قریظہ کے درمیان ایک معاہدہ تھا،
حتی بن اخط بنے جو بنی النضیر کاسردار تھا، ان کو پیش کر عہد کی پر آمادہ کرلیا بنی قریظہ
نے یہ اقدام قدرے انکار اور تردد کےبعد کیا، اس کے نتیجے میں خوف و دہشت کی فضا
سالے شہریں چھا گئی منافقین نے بھی پاؤں نکالے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
خیال ہوا کہ اس وقت قبیلہ غطفان سے اس بات پر صلح کر لینا مناسب ہے کہ مدینہ کے
پھلوں کا ہمیشہ ایک تہائی حصہ ان کو دیا جائے گا، یہ خیال انصار کی وجہ سے آپ
کے دل میں آیا جن پر جنگ کا س سے زیادہ بوجھ پڑتا تھا، اور اب آپ ان کو مزید از مانی
میں ڈالنا نہ چاہتے تھے لیکن اوس و خزرج کے دونوں سردار سعد بن معاذ اور سعد بن
عبادہ رضی اللہ عنہا کے عزم و ہمت ثابت قدمی اور استقامت کو دیکھ کر آپ نے
نے حدیث میں اس موقعہ پر کھانے کے لئے لفظ اور آیا ہے اس موقع پر علام محمد طاہری نے مجمع
بحار الانوار” میں لکھا ہے کہ یہ اصلا فارسی لفظ ہے اور شادی کی بڑی دعوت کے لئے بولا جاتا ہے۔
22
………………………………………………………………………………………………………………
اپنی یہ رائے تبدیل فرمادی انھوںنے عرض کیا کہ جس وقت ہم لوگ شرک و بت پرستی کی آلودگیوں
میں پڑے ہوئے تھے نہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور نہ اسکو پہچانتے تھے اس وقت )
کھجور کا ایک ادھی بھی رضیافت اور خرید فروخت کے علاوہ ہم ان کو دینے کے روادار نہ تھے
اور اب جی ام کو اللہ تعالیٰ نے اسلام سے سرفراز کیا اور ہدایت نصیب کی آپ کی ذات
اور اسلام سے میں عزت بخشی کیا ہم ان کواپنا ما دے دیں گے خداکی قسم ہیں اس کی کوئی
ضرورت نہیں، ہمارے پاس ان کے لئے تلوار کے سواکچھ نہیں ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ
ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرمادے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بین کر ارشاد
فرمایا، جیسی تمھاری رائے ہو !
جاہلیت کے شہسوار اور اسلام کے شہسوار کا مقابلہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ تمام مسلمانوں نے وہاں قیام کیا
دشمن نے ان کا محاصرہ کرلیا تھا لیکن جنگ کی نوبت آئی تھی البتہ یہ ہوا کہ جن کے کچھ
گھوڑ سوار تیزی کے ساتھ آگے بڑھے اور خندق کے کنارے تک پہونچ گئے اور اسے دیکھ کر
کہنے لگے یہ ایک نئی تدبیر اور نیا حال ہے جس سے عرب اقف نہیں ہیں پھر تلاش کر کے وہ ایک
ایسی جگہ پہونچے جہاں خندق کی چوڑائی بہت کم تھی یہاں پہنچ کر ھونے اپنے گھوڑوتی
کو ایڑ لگائی تو وہ گھوڑے اس کو پار کر گئے اور مدینہ کی سرزمین پر دوڑنے لگے اس دستے
میں عرب کا نامی گرامی شهردار عمرو بن عبد ود بھی تھا جس کا مقابلہ ایک ہزار گھوڑ سوار ہیں
کیا جاتا تھا، ایک جگہ ٹھیر کر اس نے آواز لگائی کہ کوئی مقابلہ کرنے والا پین کر نت
علی کرم اللہ وجہ سامنے آئے اور کہا عمران نے ان سے عہد کیا تا کہ قری کا کوئی شخصی
………………………………………………………………………………………………………………
اگر تمھیں دو باتوں کی دعوت دے گا تو ایک تم ضرور قبول کرو گے، اس نے جواب دیا کہ ہاں،
حضرت علی نے کہا ٹھیک ہے ہی تمھیں اللہ کی اس کے رسول کی اور اسلام کی دعوت دیتا
ہوں، اس نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں حضرت علی نے کہا تو پھر میں تمھیں
مقابلہ کی دعوت دیتا ہوں کہنے لگا کیوں آخر میرے بھتیجے ابجد میں تمھیں قتل کرنا نہیں
چاہتا ہے حضرت علی نے کہا لیکن خدا کی قسم میں تھیں ضرور قتل کرنا چاہتا ہوں ۔
بین کر عمرو کا خون گم ہو گیا وہ اپنے گھڑے سے اتر پڑا اس کی کونچیں کاٹ دیں
اس کے چہرے پر غصہ میں ایک طمانچہ مارا پھر اسی حالت میں حضرت علی کی طرف
متوجہ ہوا، مقابلہ شروع ہوا تھوڑی دیر دونوں نے اپنے جوہر دکھائے پھر حضرت علی
نے اس کو ٹھکانے لگا دیا، ان کے دوسرے شہسواروں میں نوفل بن مخیر بھی تھا،
یہ دیکھ کر یہ سہوار بھاگ نکلے اور خندق پھاند کر راہ فرار اختیار کی۔
ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو جہاد اور شہادت پر آمادہ کرتی ہے
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جوائی حارثہ کے قلعہ میں سلمان عورتوں
کے ہمراہ تھیں، اور اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا، بیان فرماتی ہیں کہ عمران
معاذ ادھر سے گزرے وہ ایک اتنی چھوٹی زرہ پہنے ہوئے تھے کہ ان کا پورا ہا تھ اس سے
باہر تھا، وہ ایجز پڑھتے جاتے تھے ان کی والدہ نے دیکھ کر کہا کہ بیٹے سے نے بہت دیر
کردی جلدی جاؤ حضرت عائشہ رض بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ ام سعد بخدا
میری خواہش ہے کہ سعد کی زرہ اس سے بڑی ہوتی چنانچہ وہی ہوا جس کا خطرہ
له ابن کثیر ج ۳ ص ۲۰۲-۲۰۳
………………………………………………………………………………………………………………
حضرت عائشہ نے ظاہر کیا تھا، اس کھلے ہوئے ہاتھ پر ایک تیر یا کرا کر اس نے
وہاں کی خاص رگ (اکحل ) کاٹ دی اور بنی قریظہ کے غزوہ کے موقع پر وہ شہید ہوئے ۔
غیبی نصرت
مشرکوں نے مسلمانوں کو اس طرح گھیر لیا کہ جیسے وہ کسی قلعے میں محصور ہو گئے
ہوں ، یہ محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا اس درمیان ان کو قسم قسم کی حلیفوں اور
مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، اور منافقوں کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا چنانچہ بعض لوگوں نے
رسول الله صل الله علیہ وسلم سے مدینہ واپس جانے کی اجازت چاہی اور یہ بہانہ کیا کہ
ان کے گھر کھلے رہ گئے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی اور سب گھر محفوظ تھے، یہ صرف
راه فرار اختیار کرنے کی ترکیب تھی۔
رسول اللہ صل الله علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام خون و پریشانی کی اس
کیفیت میں تھے کہ اچانک نعیم بن مسعود غطفانی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا
یارسول الله میں اسلام لا چکا ہوں لیکن میری قوم کو میرے اسلام لانے کا علم نہیں ہے
اب جیسا انتظام و حکم فرمائیں ، رسول اللہ صلہ علیہ نے فرمایا تم کیسے آدمی ہو تم وہی
رہ کر ہماری مدد کرو اس لئے کہ جنگ حلیہ وتدبیر کا نام ہے نعیم بن مسعود وہاں سے رخصت
ہوئے بنی قریظہ کے پاس آئے اور ان سے کچھ ایسی باتیں کیں کہ ان کو خود اپنے موقف اور راجی
پریشہ پیدا ہوگیا کہ قریش اور قبائل غطفان سے ( جو باہر کے لوگ ہیں) ان کا یہ ربط و ضبط
اور مہاجرین اور انصار سے (جو مقامی باشندے اور ان کے پرانے پڑوسی ہیں) ان کی
ا ابن کثیر جلد ۳ ص ۲۰
………………………………………………………………………………………………………………
یہی سنی کہاں تک صحیح ہے، انھوں نے ان کو بھی مشورہ دیا کہ وہ قریش اور غطفان کی حمایت
میں لڑانے سے پہلے ان کے کچھ خواص اور سرداروں کو اپنے پاس بطور رہن رکھ لیں تاکہ
ان کا بھروسہ رہے، انھوں نے یہ سن کرکہا واقعی تم نے بہت اچھی بات سمجھائی پھر یہ جا کر
پھیل کر وہ سرداران قریش کے پاس گئے اور اپنی خیر خواہی اور اخلاص کا مظاہرہ کرنے
کے بعد ان سے کہا کہ یہود اپنے اس فعل پر پچھتا رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ قریش کے کچھ
شرفاء اور سر برآورده لوگ بطور رہن ان کے ہاتھ میں ہیں تاکہ کوئی عہد شکنی کا خطرہ
ن ہے ان کا ارادہ یہ ہے کہ ان سرداروں کو وہ محمد صلہ اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کردیں
اور وہ ان کے سر تلوار سے اڑا دیں گے پھر غطفان کے پاس گئے اور ان سے بھی وہی
کہا جو قریش سے کہہ چکے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے چوکتے
اور محتاط ہو گئے اور ان کے دلوں میں یہود کی طرف سے سخت کیے پیدا ہوگیا۔ تمام متعلقہ
پارٹیوں میں تفرقہ پڑ گیا اور ہرشخص ایک دوسرے سے خائف رہنے لگا چنا نے جب ابوسفیان
اور قبیلہ غطفان کے سوار ہی ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز کرنا چاہا تو یہود نے ٹال مٹول
سے کام لینا شروع کیا اور انکے کچھ آدمی بطور پر شمال کے طلب کئے جب یہ بات
انھوں نے سنی تو انکو پورا یقین ہوگیا کہ نعیم بن سعد نے جو کچھ کہا تھا حرف بحرف صحیح
تھا، انھوں نے ان کی یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا، دوسری طرف یہود کو بھی
اندازہ ہو گیا کہ ان کی بات سچی تھی، اس طرح ان سب کے قومی اور ارادوں میں اضمحلال
پیدا ہو گیا، اور ان کا شیرازہ منتشر ہو گیا۔
اللہ تعالی کا کرایہ ہو کہ کفر و شرک کے ان لشکروں اور دشمنان دین کی ان
فوجوں پر ان سرد یخ بستہ راتوں کی ایسی تیز ہوا چلی کہ ان کی قیام گاہیں آکھڑ گئیں اور
………………………………………………………………………………………………………………
دیگیاں الٹ گئیں نظردیکھ کر ابوسفیا نےکہا کہ قریش کے لوگو اب پھر نے کی جگہ
نہیں رہی، ہالے خچر اور گھوٹے ہلاک ہو گئے بنو قریظہ نے ہم سے بد عہدی کی ہے اور
بہت وحشت ناک اور تکلیف دہ اطلاعیں ان کی طرف سے ہم کو ہی ہیں اس آندھی نے
جو قیامت ڈھائی ہے وہ بھی تم لوگ دیکھ رہے ہو یہاں تک کر نہیں ہی ہیں آگ جلانا
مشکل ہو رہا ہے ہماری کوئی قیام گاہ اور جائے پناہ محفوظ نہیں رہی اب یہاں سے
چل میکلو میں بھی واپس جانے کا ارادہ کر چکا ہوں یہ کہ کر ابوسفیان اپنے اونٹ کے
قریب گئے جو بندھا ہوا تھا، اس پیٹھ گئے اور اس کو ایڑ لگائی ، جب اونٹ کھڑا ہو گیا
تب اس کی رسی کھولی۔
جب غطفان کو یہ خبر پہونچی کہ قریش کوچ کر گئے تو انھوںنے بھی اپنی جگہ کا رخ
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ
عنہ (جن کو آپ نے ان متحدہ پارٹیوںمیں اپنا تجر بنا کر بھیجا تھاتا کہ وہ آپ کو ان کی
نقل و حرکت سے آگاہ کر سکیں واپس آئے توجو کچھ دیکھا تھا، اسے آپ کو آگاہ کر دیا۔
صبح نمودار ہوئی تو آپ خندق چھوڑ کر دینہ تشریف لے چلے سلمان بھی واپس
آگئے اور اپنے ہتھیار رکھ دیئے، قرآن کریم اس واقعہ کے بارے میں کہتا ہے ۔
يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنوا اذكرها مونو ابتدا کی اس مہربانی کو یا کرو
نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُم ان جاء تام جو اس نے تم پر (اس وقت کی)
جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ جب فوجی تم پر حملہ کرنے کی آئیں
لے پورا واقعہ صحیح مسلم باب غزوة الاحزاب بروایت ابن اسحاق ملاحظہ کریں۔
کے تفصیل سیرت ابن کثیر ج ۳ صے میں ملاحظہ فرمائیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
رِيعًا وَجُنُودُ الم تندم و كان تو ہم نے ان پر مو بھیجی اور ایسے
اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرا شکر نازل کئے جن کوتم دیکھ
(سورہ احزاب – 9) نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے
ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے۔
وَرَدَ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیریا
بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خيرا، وہ اپنے غصہ میں بھرے ہوئے
ولى الله المُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ تھے کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے
وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے
(سوره احزاب – (۲۵) میں کافی ہوا اور خدا طاقت ور
(اور) زبر دست ہے۔
اس طرح جو بادل بڑے زور و شور سے اٹھا تھا وہ گرج چیک کر بغیریر سے نکل گیا
اور مدینہ کا مطلع صاف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سال کے بعد سے
اب قریش تم پر چڑھ کر نہ آئیں گے، بلکہ تم ہی ان پر حملہ آور ہو گے ہے
غزوہ خندق میں مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ سات آدمی شہید ہوئے اور
مشرکین کے چار آدمی قتل کئے گئے۔
اه سیرت ابن کثیر جلد ۳ ص ۲۲