………………………………………………………………………………………………………………
اللہ کا انعام
غزوہ خیبر
(۵)
(سنه)
اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں بیعت رضوان کے شرکاء کو جنھوں نے اللہ اور اس کے
رسول کی اطاعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارشاد کو اپنی خواہش نفس اپنی رائے
اور وہم پر مقدم رکھا تھا، فتح قریب اور مال کثیر کی بشارت دی اور ارشاد ہوا :-
لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عن المؤمنين (اے پیغمبر ) جب مومن تم سے درخت کے
اذا بعونك تحت الشجرة نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے
فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِہ ہم فَانزَلُ خوش ہوا اور جو صدق و خلوص )
(صدق و
السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَنا بَهُمُ ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے
فتحا قريبا و مفا معلوم کر لیا، ان پرستی نازل فرمائی
يَا خُذُ وَنَهَا ، وكان الله انھیں جلد فتح عنایت کی، اور
عزيز الحكيمان (سورۂ الفتح ۱۹) بہت سی نعمتیں جو انھوں نے
حاصل کیں اور خدا غالب حکمت
والا ہے۔
لذه
………………………………………………………………………………………………………………
ان فتوحات کا مقدمہ اور پیش خیمہ غزوہ خیبر تھا، مخیر ایک یہودی نو آبادی
تھی جس میں بڑے تحکم ملے تھے یہ ہوا کا جنگی مستقر او جزیرۃ العرب میں ان کا آخری
قلعہ تھا، یہ یہودی مسلمانوں کے خلاف برابر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے، اور
اس بات کو کسی وقت نہ کھولتے کہ ان کے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے
وہی سب کچھ ان کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے وہ قبیلہ غطفان کے ساتھ مل کر بدین علیہ
ر حلہ کی سازش کر رہے تھے رسول ا صل اللہ علیہ سل نے بھی ارادہ فرمایا کیا
ان سے اور ان کی سازشوں سے نجات حاصل کر لی جائے اور اس محاذ کی طر سے
لے ان قلعوں میں نائم ، قموص ، اور من الشق حصن نطاق، حسن السلالم حسن الوليع حصر الكتيبة
زیادہ مشہور تھے، یعقوبی نے لکھا ہے کہ خیر میں پچیس ہزار جنگی موجود تھے ج ۲ مه منقول
۲۵۰۰۰
از کتاب ” صحابہ و تابعین از موادی مجیب اللہ ندوی ناشر دار المصنفین اعظم گڑھ)
WATT
“MOHAMMAD PROPHET AND
محمد صل اللہ علی وسلم بحیثیت پیغمبر اور سیاستداں) میں کھتا ہے کہ خیبر کے یہود اور خاص طور قبل اپنی نصیری
کے وہ سرا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے جلاوطن کر دیا تھا محمد صل اللہ علیہ وسلم کے
خلاف اپنے دل میں سخت کینہ رکھتے تھے یہی لوگ تھے جنونی عرب کے دوسرے قبائل کو اپنی دوا کے
ذریعہ اکسا کو سلمانوں کے خلاف جنگ پر آماد کیا اور یہی وہ بنیادی سبب تھا جس کی دوسرے محمد صلے اللہ
علیہ سلم نے خیر پر شکر کشی کی مدد الندن ) اس غزوہ کا مقصد صرف یہودیوں کی اس قوت
کا توڑنا ہی نہیں تھا جو خبریں مجتمع ہوگئی تھی بلکہ حجاز ونجد کے درمیان شمال اور جزیرۃ العرب کے
وسط کے ایک بڑے طاقتور قبیلہ عطفان کی طرف سے بھی اطمینان حاصل کرنا تھا جو عربی قبائل کا
ایک نہایت جنگو اور طاق مجموعہ تھا اس کی طرف سے اطمینان کے بغیر کہ کیطرف اطمینان فوج کشی
………………………………………………………………………………………………………………
اطمینان اور کیوئی حال ہوا یہ علاقہ دینہ کے شمال مشرق میں تکمیل کی مسافت پر
واقع تھا۔
لشکر اسلام نبی کی قیادت میں
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے نکل کر مدینہ میں ذی الحجہ کا پورا
ہینہ اور محرم کا کچھ حصہ قیام فرمایا اور اس کے بعد خیبر کی طرف رخ کیا۔
عامر بن الاکوع رضی اللہ عنہ لشکر کے ساتھ تھے اور یہ جزیہ اشعار پڑھے جاتے۔
والله لولا الله ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا
خدایا اگر تو ہدایت نہ کرتا تو نہ ہم ہدایت پاتے نہ خیرات دیتے نہ روزہ رکھتے۔
انا اذا قوم بغوا علينا وإن أرادوا فتنة أبينا
ہم وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی قوم ہم پر پوی کرتی ہے اور آمادہ فساد ہوتی ہے
تو ہم اس سے صاف انکار کر دیتے ہیں ۔
فأنزلن سكينة علينا وثبت الاقدام إن لاقينا
تو سہارے اوپر سکینت کا نزول فرما اور مقابلہ کے وقت ہمارے قدموں کو بنائے رکھ۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پنے اس ایمانی شکر کولے کر یہاں تشریف لائے، ان کا
تعداد ایک ہزار چار سو تھی، اور ان کے ساتھ دو سو گھوڑے تھے، آپ نے اس کو اس میں
شرکت کی اجازت نہ دی جو حدیبیہ کے موقع پر پیچھے رہا تھا، ان صحابیات کی
تعداد جو مریضوں کے علاج و معالجہ زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی و غذا کے انتظام
کے انتقلات
سیرت ابن کثیر ج ۳۲۰۰۳-۳۲۵ و صحیح سلم باب غزوہ خیبر لبعض الفاظ اور اشعار کے
………………………………………………………………………………………………………………
کی ذمہ دار تھیں، ہمیں تھی۔
آپ نے رجیع کے مقام پر تو یہود اور قلعہ ہائے غطفان کے درمیان واقع تھا لشکر
کو پڑاؤ کا حکم دیا نقیہ یہ تھا کہ ان کے اور اہل خیر کے درمیان سلسلۂ رسد مواصلات
ختم ہو جائے اس لئے کہ وہ ان سے ملے ہوئے اور ان کے حمایتی تھے نتیجہ خاطر خواہ نکلا
اور یہ لوگ ان کی حمایت اور امدا د نہ کر سکے اپنے گھربار اور کاروبار میں لگے رہے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل خیبر کے لئے انھوں نے راستہ صاف کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نظم کے نا فراہم کرنے کا حکم دیا تا وقت
ستو حاصل کئے جا سکے چنانچہ اس پر اکتفاء کیا گیا جب آپ خیبر کے سامنے ا کے سامنے تشریف لائے تو
آپ نے اللہ تعالی سے دعا فرمائی فتح خیبر کا سوال کیا، اور اس جگہ کے شر سے اور یہاں کے
لوگوں کے شر سے پناہ مانگی، آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ کسی غزوہ کا ارادہ
فرماتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح تک انتظار کرتے اگر اذان کی آواز آپ کے
کانوں میں آتی تو آپ توقفت فرماتے اور حلہ نہ کرتے اسی طرح آپ نے یہاں بھی رات
گذاری صحیح ہوئی تو اذان کی آواز نہ سنائی دیا یہ دیکھ کر آپ نے حملہ کی نیت سے
پیش قدمی کی راستہ میں خیبر کے کسان مزدور اپنے پھاوڑے اور چھالے لئے نظر آئے جب
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شکر کو دیکھا تو انھوں نے نعرہ لگایا کہ محمد
(صلی اللہ علیہ وسلم اور شکر آگیا، اور راہ فرار اختیار کی آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا اللہ
اکبر، خربت خیبر، اللہ کی نشان خیبر برباد ہوا ” انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء
صباح المنذرين، ہم جب کسی قوم پر حلہ آور ہوتے ہیں تو ان کی صبح بڑی ہوتی ہے
اه ابن کثیر ج ۲ ۳۴۵۰ – ۳۴۶ نیز صحیح بخاری باب غزوہ خیبر باختصار
………………………………………………………………………………………………………………
( ان کی شامت آجاتی ہے ) جنھیں پہلے ہی ڈرایا اور آگاہ کیا جا چکا ہے۔
مظفر و منصور قائد
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے سے پہلے خیبر کے قلعوں کی طرف توجہ کی اور
ایک ایک کر کے ان قلعوں کو فتح کرنا شروع کیا، ان قلعوں میں ایک قلعہ ایسا تھا، جو
نامور یہودی شہسوار مرحب کا تخت گاہ تھا، اس کو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے سر کیا
اس کا واقعہ یہ ہے کہ یہ قلعہ سلمانوں کے لئے بہت سخت و دشوار گزار ثابت ہو رہا
تھا، اور ان کا قابو اس نہیں مل پا رہا تھا حضرت علی کی آنکھیں اس وقت آشوب
کر آئی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ پرچم وہ شخص لے گا
جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے، اس کے ذریعہ یہ قلعہ فتح ہوگا، امین عظیم
کے بڑے بڑے صحابہ امیدوار تھے اور ہر شخص یہ خیال کرتا کہ شاید اس کو یہ سعادت
حاصل ہو آپ نے حضرت علی کو طلب فرمایا، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی وہ آئے تو
آپ نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا، اور ان کے حق میں دعا کی
وہ اسی وقت ایسے اچھے ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ انکو درد ہی نہ تھا، آپ نے پرچم
ان کے حوالے کیا، انھوں نے کہا کہ کیا یہود سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ
وہ مسلمان نہ ہو جائیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے روانہ ہوا یہاں صل
یہاں تک کہ ان کے سامنے پڑاؤ ڈالو پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور اللہ تعالیٰ
لہ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۲۹ – ۳۳۰ سے روایات کے تلبیع سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا
نام قلو قوص تھا۔ ملے صحیح بخاری وصحیح مسلم باب غزوہ خیبر
………………………………………………………………………………………………………………
کا اس سلسلہ میں ان پر جو حق ہے اس سے ان کو آگاہ کر دا خدا کی قسم اگر تمہارے ذریعہ
اللہ تعالے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے ھی زیادہ
شیر خدا اور ایک نامور یہودی شہسوار کا مقابلہ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ پرچم اسلام اور شکر اسلام کے ساتھ خیبر پہنچے تو
نامور یهودی شهسوار مرحب رجز پڑھتا ہوا مقابلہ پر آیا ، اس سے آپ کے دور و اس
ہاتھ ہوئے ۔
حضرت علی نے پہلے اس پر ایک ہی سخت ضرب لگائی جو اس کے خود اور سرکو
پھاڑتی چلی گئی، اور داڑھ تک اتر گئی، اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی
محمد بن مسلمہ نے بھی اس معرکہ میں اپنی ہمت اور بہادری کے جوہر دکھائے
اور متعدد شہسواروں اور پہلوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
محنت کم، اجرت زیادہ
خیبر کے ایک حبشی غلام نے جواپنے مالک کی بکریاں چرانے پر مامورتھا یہ دیکھاکہ اہلی خیبر
تھیار اٹھالئے ہیں اور جنگ کے لئے تیار ہیں تو اس نے لے تیار ہیں تو اسنے پوچھا کہ آپ لوگوں کاکیا ارادہ ہے؟
لے صحیح بخاری باب غزوہ خیر نیز صحیح مسلم ونسائی سرخ اونٹ عرب میں بڑی دولت اور ایک
نایاب چیز بھی جاتی تھی۔ ہے بعض اہل سیر نے یہ اقع قلعہ نام کی فتح کے سلسہ میں نقل کیا ہے اور بعض نے
لوہ قوص کے سلسہ میں بخاری میں اس کے مختلف ٹکڑے آئے ہیں مگر فلہ کے نام کا تعین نہیں ہے۔
ابن ہشام وغیر میں بحرین ملامیہ کو مرح کا قاتل بتایا گیا ہے لیکن صحیح علم کی روایت میں حضرت علی
کے نام کی تصریح اوران کے رجزیہ اشعار بھی مذکور میں مسلم حدیث نمبر ۸۰ کتاب الجہاد و السیر
………………………………………………………………………………………………………………
انھوں نے کہا کہ ہم اس شخص سے جنگ کرنے جارہے ہیں جو نبوت کا مدعی ہے نبوت کے
ذکر نے اس کے دل پر خاص اثرکیا وہ اپنی بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں؟ اور کس چیز
کی دعوت دے رہے ہیں آپ نے جواب دیا کہ میں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اور یہ کہ
تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں خدا کا رسول ہوں، اور اللہ کے سوا
کسی کی عبادت نہ کرو، غلام نےکہا کہ اگرمیں یہ گواہی دوں اور اللہ عز و جل پر ایمان
لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تمھاری اس عقیدہ پر موت آئی تو تمھارے لئے
جنت ہے وہ بین کر اسلام آیا اور کہے گا اے اللہ کے نبی میرے پاس یہ بکریاں
امانت ہیں (ان کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا تم ان کو حصباء کے میدان میں لے جا کر چھوڑ دو
اللہ تمھاری یہ امانت ادا کردے گا، اس نے یہی کیا خدا کا کرناکہ یہ بکریاں اپنے مالک کے
پاس خود واپس چلی گئیں اور بدوی کو علم ہوگیا اس کا غلام مسلمان ہو چکا ہے اس موقع
ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب فرمایا، ان کو نصیحت
فرمائی اور جہاد کا شوق دلایا، جب دونوں فریق بر سر پیکا رہوئے تو شہداء اسلام
میں سیاہ فام غلام بھی تھا مسلمان اسے اٹھا کر اپنے خیر میں لائے نہیں روایتوں میں
آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامیانہ پر نظر ڈالی پھر اپنے اصحاب کرام کی
طرف رخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس غلام کے ساتھ بہت اکرام
کا معاملہ فرمایا، اور اس کو خیبر پر پہنچایا، میں نے دیکھا کہ اس کے سرہانے جنت کی
دو حوریں موجود ہیں، حالانکہ اس نے اللہ تعالے کے لئے ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا ؟
له زاد المعاد ج اص ۳۹
………………………………………………………………………………………………………………
۴۱۲
آپ کی رفاقت میں نے اس لئے نہیں کی تھی
ایک اعرابی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایمان لایا
اور آپ کی اتباع و پیروی قبول کی اور کہاکہ ای بھی آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا۔
آپ نے اس کو بعض صحابہ کرام کےحوال کیا اورفرمایاکہ اس کا خیال رکھیں غزوہ خیبر
کے پر کے موقع پر کچھ مال غنیمت آپ نے تھے نے تقیم فرمایا یہ اعرابی اس حقت چراگاہ میں گیا ہوا ا ا ا یم فرایا یہ اعرابی است چراگاہ میں ہوا
تھا، جب وہ واپس آیا تو اس کو حصہ رسیدی دیا گیا، اس نےکہا کہ یہ کیا ہے لوگونی
اس کو بتایا کہ یہ تھا حصہ ہے جو سول اله صل اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا ہے وہ اسے
ے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ یا رسول الشراء
یہ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارا حصہ ہے اس نے کہا کہ میںاس کی خاطر آپ کے ساتھ
نہیں ہوا تھا میں نے تو اس لئے آپ کی اتباع کی تھی کہ مجھے اس جگہ اپنے حلق
کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔ دشمن کا کوئی تیر لگے میری موت ہوئی ہے
اور میں جنت میں پہونچ جاؤں، آپ نے فرمایا اگر تمھاری نیت صحیح ہے تو اللہ لیا ہی
کرے گا۔
خیبر کے موقع پر جب شمن سے جنگ ہوئی اور شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس لائے گئے تو اس میں یہ خوش نصیب بھی تھا، آپ نے دریافت فرمایا
کیا یہ وہی شخص ہے ؟ صحابہ کرام نے جواب یا کہ جی ہاں آپ نے فرمایا کہ ال تعالے
کے ساتھ اس نے سچائی کا عالم کیا تو ا ر تالے نے بھی اس کی خواہش کو سچ کر دکھایا
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے اپنے جب مبارک میں اس کو کفن دیا، پھر اس کی نماز جنازہ
………………………………………………………………………………………………………………
پڑھی اور اس کے لئے یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ تیرا یہ بندہ تیرے راستہ میں ہجرت
کے لئے نکلا تھا، یہ تیری راہ میں شہید ہوا ہے اور میں اس کا گواہ ہوں ۔
خیبر میں قیام کی شرط
غرض اس طرح یکے بعد دیگرے قلعہ پر قلعہ فتح ہوتا گیا، اور کئی کئی دس سال جنگ
اور محاصرہ میں گزارنے لگے یہاں تک کہ اس صورت حال سے عاجزہ ہو کہ یہودیوں نے
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے سامنے صلح کی پیش کش کی لیکن آپ کا ارادہ ان کو وہاں سے
بے دخل اور جلا وطن کرنے کا تھا، انہوںنے کہاکہ اے محمدصلی اللہ علیہ سلم ہے کہ آپ
اسی جگہ قیام کی اجازت دے دیجئے زمین کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی میں مشغول
رہیں گے اس لئے کہ آپ لوگوں سے زیادہ ہم اس فن سے واقف ہیں رسول اشر صلی اللہ
علیہ وسلم نے آپ کے اصحاب کرام کو کاشتکاری کا تجرہ نہ تھا، اگر یہ کام اپنے ہاتھ
میں لے لیتے تو سارا وقت اس کی نذر کرنا پڑتا چنانچہ آپ نے خیر میں قیام کی اجازت
ان کو اس شرط پر دے دی کہ تمام پیدا وار غلہ اور پھلوں کا آدھا سلمانوں کو ملے گا، اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک چاہیں گے معاہدہ کو برقرار رکھیں گے لئے
رسول اللہ صل اللہ وسلم پیدا وار کی تقسیم کے لیےان کے پاس عبدالراب واحد
نبی اللہ کو پیجا کرتے تھے اندازہ کرکے اس کو دونوں ہی کر دیتے پر آپ کیسے کان ہیں
جو حصہ چاہیں لے لیں وہ لوگ یہ یکھ کر کہے کہ اس ادا انصاف پر آسمان اور زمین ھے کہ رہا ہے
له زاد المعادج اص ۳۹ ۵۲ زاد المعارج ۱ص۳۹-۳۹۵ تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں
سنن ابی داؤد باب المساقاة” ۳ فتوح البدان از بلاذری ۳۲۰
………………………………………………………………………………………………………………
۴۱۴
مذہبی رواداری اور کشاد قلبی
غزوہ خیبر میں جو مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا، اس میں توریت کے متعد
نسخے تھے یہود یوان درخواست کی کہ وہ ان کو عطا کر دیئے جائیں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلمنے حکم دیا کہ یہ سب مجھے انکے حوالے کر دیے جائیں ہے
یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل ولفنسون اس واقعہ پر تیرے کرتے ہوئے لکھا ہے۔
اس واقعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان ذہنی صحیفوں کا رسولا شو ر صلے الہ
علیہ وسلم کے دل ای کس درجہ احترام تھا آپ کی اس رواداری اور فراصلی
کا یہودیوں پر بڑا اثر پڑا وہ آپ کے اس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتے کہ
آپ نے ان کے مقدس صحیفوں کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن سے
ان کی بے حرمتی لازم آتی ہو، اس کے مقابلہ میں ان کویہ واقع بھی خوب یاد یہ اقه خوب
ہے کہ رویوں پر تم کو وہ قبل ہی میں فتح کیا توانہوں نے ان
مقدس صحیفوں کو آگ لگادی اور ان کو اپنے پاؤں سے روندا، اسی طرح
متعصب نصرانیوں نے اندلس میں یہود پر مظالم کے دوران توریت
کے صحیفے نذر آتش کئے، یہ و عظیم فرق ہے جو ان فاتحین (جن کا ابھی
اوپر ذکر گذرا ہے) اور اسلام کے نبی کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے ۔
جعفر بن ابی طالب کی آمد
اسی غزوہ میں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی جعفربن ابی طالب
لے تاریخ الخميس ج ۲ مت له تاريخ اليهود في بلاد العرب منا
unuununununununun
………………………………………………………………………………………………………………
۴۱۵
اور ان کے رفقاء آپ سے آکر ملے آپ کو اس سے بے حد مسرت ہوئی بہت بنایا
اور شوق کے ساتھ آپ نے ان کا استقبال کیا، ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا
بخدا میں نہیں جانتا کہ کسی چیز سے میں زیادہ خوش ہوں خیبر کی فتح سے یا جعفر
کی آمد سے
یہود کی ایک مجرمانہ سازش
اسی غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا سلام نام کی یہودی
بیوی زینب بنت حارث نے آپ کو زہر ملا کر ایک بھنی ہوئی بکری کا تحفہ دیا پہلے
اس نے دریافت کیا کہ اس کا کون سا حصہ آپ کو زیادہ مرغوب ہے آپ نے فرمایا
دست کہ سن کر اس نے دست میں خاص طور سے زہر ملایا، آپ نے جب دست سے
کچھ حصہ توڑ کر نوش فرمایا تو خود اس گوشت نے آپ کو اطلاع دی کہ اس میں
زہر ملا ہے، چنانچہ آپ نے اُسی وقت اس لقمہ کو اگل دیا۔
اس کے بعد آپ نے یہودیوں کو بھی کیا اورفرمایا کہ اگر میں تم سے پوچھوں تو کیام
صحیح صحیح جواب دو گے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں ! آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس بکری میں
زہر ملایا ہے؟ انھوں نے جواب یا کہ ملایا ہے آپ نے فرمایاکہ تم کو اس پر کس چیز
نے آمادہ کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے سوچا کہ اگر آپ (نعوذ باللہ) چھوٹے ہیں
تو آپ سے چھٹی مل جائے گی، اور اگر واقعی نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر نہ کرے گا اس کے
بعد اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر کیا گیا، اس نے بھی
له زاد المعادج اص ۳۹
………………………………………………………………………………………………………………
………………………………………………………………………………………………………………
۲۱۶
اعتراف جرم کر لیا اور کہا میں نے آپ کی جان لینے کا ارادہ کیا تھا، آپ نے فرمایاکہ
اللہ تعالے مجھ پر تھیں قابو نہیں دے سکتا صحابہ کرام رہ نے اجازت چاہی کہ اس
عورت کو قتل کر دیں ، آپ نے فرمایا: نہیں اس وقت آپ نے اس سے کوئی تعریض
نہیں کیا، اور اس کو کوئی سزانہ دی اور نہ قتل کرنے کی اجازت دی، بعد میں
جب اس زہر خورانی کے نتیجہ میں بشرین البراء بن معرور کا انتقال ہو گیا جو اس
کھانے میں شریک تھے، تو اس کو قتل کر دیا گیا ہے
غزوہ خیبر کے اثرات
غزوہ خیبر اور اس میں سلمانوں کی شاندار فتح کا عرب کے ان قبائل پر جو بھی
تک اسلام نہیں لائے تھے، بہت خوشگوار اثر پڑا، ان کو خیر ی یہودیوں کی جنگی طاقت
ان کی دولت مندی و فارغ البالی، غذائی اشیاء کی فراوانی سامان جنگ کی کثرت فارغ البالی غذائی اشیاء کی
قلعوں کے استحکام اور حملہ آور فوجوں اور تجربہ کار جرنیلوں کے لئے اس کے سخت او
دشوار گزار اور نا قابل تسخیر ہونے کا بخوبی اندازہ تھا اور معلوم تھا کان میں مرحب
اور بھارت ابی زینب جیسے تجربہ کار شہوار اور تربیت یافتہ ماہرین جنگ موجود ہیں،
چنانچہ اس فتح نے ان کے تمام اندازے غلط ثابت کئے، اور ان کے عزائم اور بعد کے
واقعات پر اس کا گہرا اثر پڑا۔
ڈاکٹر اسرائیل لفنون غزوہ خیر او تاریخ اسلام پاسکار اور کرتے ہو کتنا
لے بخاری نے حضرت ابو ہریرہ سے مختصرا اس روایت کو نقل کیا ہے ( باب الشاۃ التی
سمت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بخیبر)
………………………………………………………………………………………………………………
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ میں غزو خیبر کی بہت بڑی
اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کے تمام قبیلے بہت فکرمندی کے ساتھ اس کے نتیجے کا
انتظار کر رہے تھے اور اس کا فیصلہ انصار و یہود کی تلوار کی جھنکار پر ہوتا
تھا، رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے بہت سے دشمن جو عرب کے مختلف
شہروں اور دیہاتوں میں تھے اس غزوہ سے بڑی امیدیں لگاے بیٹھے تھے؟
مال غنیمت
جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم فتح خیبر سے فارغ ہوئے تو آپ نے فارک
جو ایک آباد قصبہ اور حجاز کے بالائی حصہ میں دوسرے قصبات اور قریوں کی طرح ایک مستقل
ریاست تھی کی طرف توجہ فرمائی یہودیوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے مصحت صفت
پر مصالحت کرنی چاہی آپ نے ان کی پیش کش کو قبول فرمایا، اس سے جو حاصل ہوتا
آپ اس کو اپنے اور سلمانوں کے مفاد میں جہاں مناسب سمجھے تقسیم فرما دیتے ہیں۔
اس کے بعد آپ ادی القری تشریف لے گئے یہ خیبر اور بنیاء کے درمیان ایک
نو آبادی تھی جس کو یہود نے اسلام سے قبل آباد کیا تھا، اور اس نے ان کے مرکز کی حیثیت
اختیار کرلی تھی ہرڑ کے کچھ لوگ بھی ان کے ساتھ اگر شامل ہو گئے تھے ان کو سول اللہ صل اللہ
علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی اور ان سے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں گے
تو ان کا مال و جان سب محفوظ رہے گا، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔
لہ تاریخ الیہود فی بلاد العرب ملا کہ اس قصبہ کی آبادی یہو دینی مزہ اور بن سعد بن بکر کے قبائل کے
افراد پر مشتمل تھی۔ (نهاية الأرب – ۲۹/۱۷) ۵۳ سیرت ابن ہشام ج ۳۲ ۵۳ وادی القری اس
وادی کو کہتے ہیں میں میں بہت سے گاؤں ہوں ، یہاں عرب اور یہودی آباد تھے، اس کا شمار جزیرۃ العرب
کے سرسبز و شاداب علاقوں میں رہے، اس میں چشمے اور کنویں بھی پائے جاتے ہیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
۲۱۸
اس غزوہ میں کئی مقابلے ہوئے جن میں زبیر بن العوام کی بہادری کے جوہر ظاہر ہوئے اور فتح و کامیابی کا سہرا ان کے سر بندا چنانچہ دوسرے ہی روز سے ہونے
جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا، وہ مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا مسلمانوں کو ان غزوات میں
بڑا مال غنیمت ہاتھ لگا اور بہت وافر سامان ملا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اس ساری دولت کو صحابہ کرام میں تقسیم فرمادیا، اراضی اور کھجور کے باغات یہود کے ہاتھ میں چھوڑے گئے اور ان پر معاملہ ہو گیا۔
جب تمیم کے یہودیوں کو علم ہوا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر اہل فدک وادی القری سے یہ معاملہ فرمایا ہے تو انھوں نے آپ سے مصالحت کر لی اور ان کا مال و جائیداد ان کے قبضے میں ہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کرایرداری قرار دے لی۔
مہاجرین کی پاک نفسی و احتیاط جب مسلمان مدینہ واپس آگئے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطیات واپس کرنا چاہے جو انہوں نے ان کی پریشان حالی اور سرکے زمانہ میں انہیں محجور کے درختوں اور باغوں کی شکل میں دیئے تھے اس لئے کہ خیبر میں وہ خود صاحب جائداد ہو گئے تھے اور ان کے پاس بھی باغات تھے ام سلیم بنت ملحان مالک کی والدہ تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو اس زمانے میں کچھ کھجور کے درخت پیش کئے تھے آپ نے اپنی آزاد شدہ باندی ام ایمن کو عنایت فرما دیے تھے، فدک کے حامل ہونے کے بعد آپ نے ام سلیم کو یہ درخت واپس فرما دیئے
ے یہ دی القری اور شام کے درمیان شام سے قریب ایک قصبہ ہے قدیم زمانہ میں شام سے آنے والے حجاج کے راستہ میں پڑتا تھا۔ یہیں سوال (یہودی شاعری کا مشہور قلعہ الابق الفرو کہتے ہیں واقع تھا کہ زاد المعاد ج امام تلخیص کے ساتھ۔
—
………………………………………………………………………………………………………………
تھے اور ام ایم کو کھجور کے ہر درخت کے بدل ہیں باغ فدک سے دو درخت دین را
خیر کے بعد بھی بہت کرتے رسول اله صل للہ علیہ سل نے مختلف مقامات پر بھیجا اور
جلیل القدر صحابہ کو اسکا امیر مقر فرمایا انمیں سے کچھ سالوں میں جنگ ہوئی اور کچھ ہی جنگ
کی نوبت نہیں آئی میں
عمرة القضاء
دوسرے سال کہ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اور سلمان عمرة القضاء
کی نہر سے تشریف لے لے قریش کے کئی مزاحمت نہیں کی آپ کو کہ جانے دیا اور اپنے
گھروںمیں تالے ڈال کر بل قعیقان پر چلے گئے، آپ نے تین روز وہاں قیام فرمایا، اورمر
سے فراغت کی اللہ تعالی اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :-
لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الأحيان بے شک خدا نے اپنے پیر کو سچا اور)
بالحي التَدْخُلُنَّ المسجد الحرام صحیح خواب کھایا کہ خدانے چاہا تو
إن شاء الله امنين التين مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور
رُوسَكُمْ وَمُرين العام اپنے بال کرواکر امن امان داخل کو
فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَل اور کسی طرح کا خون نہ کروگے جوبات
مِن دُونِ ذَلِكَ فتحا قريبات تم نہیں جانتے تھے۔ اس کو معلوم تھی
( سورة الفتح – ۲۷) سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کر دیا۔
لے زاد المعادج ۲۰، مسلم نے اس قصہ کو مفصل طور پر کتاب الجہاد والسیرامی با ورد المهاجدین
إلى الأنصار منا ئحهم من الشجر والثمر حين استغنواعها بالفتوح دل کیا ہے اس امر قریہ اور غیر کی فتح کا جی
ذکر ہے ملے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوزاد المعارج اص۲۴-۴۱۰ ۱۳ صحیح بخاری (باب عمرة القضاء)
………………………………………………………………………………………………………………
۴۲۰
لڑکیوں کی پرورش و تربیت میں مقابلہ اور حقوق میں مساوا
اسلام کے اثر سے ان لوگوں کے دل و دماغ میں انقلاب عظیم واقع ہو چکا تھا
وہ لڑکی جو پہلے خاندان کے لئے اور اشراف و رؤساء قوم کی نگاہ میں باعث ننگ و عار
تھی اور محض قبیلوں میں اس کو زندہ درگور کر دینے تک کا رواج تھا، آج ایسی
عزیز و محبوب بن چکی تھی جس کی پرورش اور تربیت کے لئے آپس میں مقابلہ کی نوبت
آجاتی تھی مسلمان سب برابر تھے، اور ساویانہ حقوق رکھتے تھے کسی کو سی پر اگر
فوقیت تھی تو کسی فضیلت علم و علی اور کسی حقول بنیاد پر جب رسول اللہصلی الہ علیہ
وسلم نے مکہ سے واپسی کا قصد کیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بھی امامہ” چا چیا
پکارتی ہوئی آپ کے پیچھے مولی حضرت علی نے اسے لے لیا اور حضرت فاطریہ کے حوالے
کیا اور کہا کہ دیکھو یہ چا کی لڑکی ہے اب حضرت علی زید جعفر رضی اللہ عنہ کے
درمیان اس کی پیشکش ہونے کی حضرت علی نے کہاکہ میں لیتا ہوں یہ میری چچا زاد
بہن ہے حضرت جعفر نے کہاکہ میں بھی چازاد بہن ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں
ہے حضرت زید نے کہا اسلام کے رشتہ سے پیر بھیجی ہے رسول ا صل اللہ علیہ سلم
نے حضرت جعفریہ کے حق میں فیل دی کہ چونک بچی کی خاران کے گھری ہے اور خالہ ان کی جگہ یہ
ہوتی ہے اس لئے اس کو وہاں زیادہ آرام ملے گا حضرت علی سے آپ نے بطور دلداری
رمایا کہ تم میرے ہوائیں تمھارا ہوں حضرت جعفر نے فرمایا تم سیرت و صورت دونوں
میں مجھ سے مشابہ ہوا حضرت زید سے ارشاد ہو کہ تم میرے بھائی ہو اور کی کوئی ہوں
لے صحیح بخاری کتاب المغازی باب عمرة القضاء”