۴۲۱
غزوه موته
(جمادی الاولی شده)
مسلمانوں کے سفیر کا قتل اور اس کا شاخسانہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے حارث بن عمیر الازدی کو اپنے مکتوب عالی
کے ساتھ بھری کے عالم تر جلیل بن عمر و الغسانی کے پاس بھیجا جو رومی سلطنت
کے تابع تھا ہر جھیل نے حکم دیا کہ ان کو باندھ دیا جائے، اس کے بعد ان کو سامنے
بلوا کر شہید کر دیا اسفراء اور قاصدوں کے قتل کرنے کا کبھی بھی دستو نہ تھا خواہ
کتنا ہی شدید اختلاف ہو یا خط کا مضمون کتنا ہی ناگوار ہو یہ ایسا واقعہ تھا کہ
جس سے چشم پوشی کسی طرح جائز نہ تھی، یہ عام قاصدوں اور سفیروں کے لئے خطرہ
کی بات اور مکتوب اور صاحب مکتوب دونوں کی اہانت تھی، اس لئے اس طرح کی
گستاخی کرنے والے کی سرکوبی اور مظلوم کا بدلہ ضروری تھا تا کہ ی آئندہ اس کی
اے موته شرق اردن کے شہر کرک کے جنوب میں بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ، دینہ اور
مونہ کا اصل تقریب گیارہ سوکلومیٹرکا ہے اس فصل کو سلمان نے اونٹوں اورگھوڑوں پر
اس طرح طے کیا کہ اس کا سلسلہ بالکل منقطع ہو چکا تھا مرکز سے خبر رسانی کا بھی کوئی انتظام تھا۔
اور پورا سفر گویا دشمنوں کے بھیڑوں کے درمیان تھا۔ کے زاد المعارج ۱ص۴۱۲
………………………………………………………………………………………………………………
جرات نہ ہو سکے سفراء کا خون اس طرح ارزاں نہ ہو اور راقم کا المناک واقعہ دوبارہ
پیش نہ آئے۔
رومی قلمرو میں پہلی اسلامی فوج
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ نے ایک شکر بڑی
بھیجنے کا ارادہ فرمایا یہ واقعہ جمادی الاولیٰ شدہ کا ہے۔
تین ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک فوج اس کے لئے تیار ہوئی آپ نے باوجود اس کے
کہ اس لشکر میں بڑے بڑے جلیل القدر اور عالی مرتبہ انصار و مہاجرین موجود تھے زیدین
حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا جو آزاد کردہ غلام تھے اس کے ساتھ آپ نے شرط
فرائی کہ اگر وہ شہید یا زخمی ہو جائیں تو جعفرا بن ابی طالب کو امیر مقرر کیا جائے ان کے
ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آے تو عبد اللہبن رواحہ کو امیر مقر کیا جائے ، جب روانگی
کا وقت قریب ہوا تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعین کردہ امراء کو الوداع
کیا اور ان کو اپنا سلام پیش کیا ان کے سامنے ایک طویل اور پر شفقت سفر تھا، اور
ایسے دشمن سے واسطہ تھا جس و اس زمانہ کی سب سے بڑی سلطنت کی پشت پناہی حاصل تھی۔
یہ اسلامی فوج روانہ ہوئی اور آگے بڑھ کر اس نے مقام ” معان ” پر پڑاؤ ڈالا
یہاں مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ ہر قل بلقاء ” میں ایک لاکھ رومی فوج کے ہمر اقیم
ہے اور اس کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں عرب قبائل نجم ، جذام بلقین بہرا اور
بلی آملے ہیں مسلمانوں نے دو راتیں اس مقام ” معان ” پر گزاریں اور صورت حال
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۷۳
………………………………………………………………………………………………………………
پر غور کرتے رہے رائے ٹھہری کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خط روانہ
کیا جائے اور دشمن کی تعداد سے آپ کو مطلع کر دیا جائے پھر یا تو آپ ہمارے لئے
ملک روانہ فرادیں یا مقابلہ کا حکم فرمائیں تو اس کی تعمیل کی جائے ہے
ہم دشمن سے تعداد اور قوت کی بنیاد پر نہیں لڑتے
اسی موقع پر عبد اللہ بن رواحہ نے مجاہدین اسلام کو بہت دلائی اور کہا کہ
خدا کی قسم آج تم اس چیز کو نا گوار اور تلخ محسوس کر رہے ہو جس کے لئے تم نکلے تھے اور
جو تمھاری دلی مراد تھی یعنی شہادت انھوں نے کہا کہ ہم دشمن کا مقابلہ تعداد اور قوت کی
بنیاد پر نہیں کرتے ہم تو اسکا مقابلہ اس دین کی طاقت سے کرتے ہیں جس سے اللہ تعالی نے
ہم کو سرفراز کیا ہے اس لئے چل کھڑے ہو اور یاد کروا دونوں صورتوں میں ہمارا خانہ ہے
جیت ہو تب بھی اور شہادت ہو تب بھی میں کو سب لوگ اسی وقت اٹھ کھڑے ہونے
اور روانہ ہو گئے۔
مجاہدین سر بکف
جب اسلامی لشکر بلقاء کے قریب پہونچا تو رومیوں اور عربوں کا ایک شکر جرار
ان کے ساے تھا پیچ کر مشارکت کے مقام پر تعینا تھا۔ مسلمانوں کو دیکھ کر
یہ قریب ہو اہل مسلمانوں نے ایک گاؤں میں جس کا نام مونہ تھا اور یہ پسنبھال لیا اور
جنگ کا آغاز ہو گیا۔
زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
۳۱۵ له زاد المعاد ج ۲۳۷۸۰-۳۷۶ سیرت ابن ہشام ج ۲
………………………………………………………………………………………………………………
پرچم ہاتھ میں لئے تھے جنگ کا آغاز کیا اور آخر کار شہید ہوئے نیزوں نے ان کے
مارے جس کو چھلنی کر دیا، ان سے رجم جعفر نے لے لیا، اور لڑتے رہے جب لڑائی کے
کا دباؤ بڑھا تو گھوڑے سے اتر گئے اور اس کی اگلی ٹانگیں کاٹ ڈے دیں، اور
پیادہ پالڑنا شروع کیا، اتنے میں ان کا داہنا بازو کٹ گیا، انھوں نے پرچم
اپنے بائیں ہاتھ میں لے لیا، بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو پرچم کو انھوں نے اپنے دونوں
زخمی اور کئے ہوئے بازوں سے جکڑ لیا، یہاں تک کہ شہادت سے سرخرو ہو ئے
اس وقت ان کی عمر ۳ سال تھی ان کے سینے اور بازوؤں کے درمیان اور کے
سامنے کے حصہ میں نوشتے زخم تھے جو تلوار اور نیز کے تھے کوئی زخم پشت کی نظر
نہ تھا، غرض اس طرح یہ با ہمت نوجوان جنت کی نعمتوں کے ترانے گانا ہوا اور نہ
دشمن کی کثرت تعداد اور قوت و شوکت اور سامان اور دنیا کی ظاہری زیب زینت
کو پیروں سے روندتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوا۔
جعفر کی شہادت کے بعد عبد اللہ بن رواحہ نے پرچم اپنے ہاتھ میں لیا اور
آگے بڑھے انھوں نے بھی اپنا گھوڑا چھوڑ دیا، اسی درمیان میں ان کے ایک چا زاد
بھائی ایک بڑی جس میں ذرا سا گوشت لگا ہوا تھا لے کر آئے اور کہا کہ اس کو
پریٹ میں ڈال لو تاکہ کچھ توانائی آجائے تم نے کئی روز سے کچھ کھایا نہیں ہے
عبد اللہ بن رواحہ نے ان ہی کے ہاتھ سے سے ذرا گوشت اپنے منہ میں میں لیا لیا، ہے پھر اس کو
پھینک یا تلوار اپنے ہاتھ میں لی ، آگے بڑھ کر دشمن سے دو دو ہاتھ گئے، اور
زاد المعادج اصل ا باختصار ۵۲ ابن کثیر ج ۳ ۴۷۰ و زاد المعادج ام ۳۱۵
صحیح بخاری میں ہے کہ ہم نے ان کو مقتولین میں دیکھا تو ان کے جسم پر نوشتے سے اوپر زخم کے
نشان نظر آئے ، جو نیزہ اور تیر کے تھے ( باب غزوہ موتہ)
………………………………………………………………………………………………………………
جام شہادت نوش کیا۔
حضرت خالدہ کی ماہرانہ قیادت
ان کے بعد لوگوں نے حضرت خالد بن ولید کی قیادت پر اتفاق کر لیا
اور انھوں نے پرچم اسلام اپنے ہاتھ میں لیا، وہ بہت بہادر اور جنگ سے واقفہ
اور تجربہ کار شخص تھے، انھوں نے اسلامی لشکر کو جنوب کی طرف موڑ لیا، دشمن
شمال کی طرف چلا گیا ، دوسری طرف رات نے اپنے سیاہ پردے ڈال دیئے، اور
دونوں فریقوں نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور ان کو سلسلہ جنگ جاری
نہ رکھتے ہیں عافیت نظر آئی۔
یہ حقیقت ہے کہ پسپائی کا عمل (جیسا کہ عراقی جنرل ثبت خطاب
کہتے ہیں) پسپائی کے شکست میں بدل جانے کے استعمال کے سبب مشکل ترین فوجی
عمل ہوتا ہے اور شکست ایسی مصیبت ہوتی ہے جو شکست خوردہ کے لئے عموما
بڑے نقصانات کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے موتہ میں مسلمانوں کے معمولی
نقصانات اس فوجی فائدہ کے مقابلہ میں نا قابل لحاظ ہیں کہ اس سے رومی
فوجی طاقت، ان کی تنظیم اور اسالیب جنگ کی معلومات حاصل ہوئیں، جو
بعد کی جنگوں میں مسلمانوں کے کام آئیں ہے۔
حضرت خالد نے اپنے آدمیوں کی اچھی خاصی تعداد اپنے لشکر کے عقب میں
له زاد المعاد ج ام و سیرت ابن ہشام ج ۲ ۳۴ ۵۲ ايضا ٥٣ ثبت خطاب الرسول
القائی ۲-۲۷ موتہ کے بارے میں ملاحظہ ہو۔
ENCYCLOPAEDIA OF ISLAM: ART. MUTA
………………………………………………………………………………………………………………
۲۶۶
تعینات کر دی ان لوگوں نے صبح کے وقت اتنی بلند آواز سے نعرے لگائے اور
شور برپا کیا کہ شمن کے دل میں یہ بات بڑھ گئی کہ شاید مدینہ سے کئی مل گئی ہے۔
اس کی وجہ سے رومیوں پر سلمانوں کا بڑا رعب پڑا اور وہ آپس میں کہنے لگے کہ جب
تین ہزار کے شکر نے یہ آفت ڈھائی ہے تو جب ان کے پاس نئی ایک پہچ گئی ہے
جس کی تعداد اور قوت کا اندازہ ہی نہیں تو اس وقت یہ لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے؟
یہ سوچ کر رومیوں کی ہمت پست ہوگئی اور انھوں نے مقابلہ کا ارادہ ترک کر دیا
اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو لڑائی کی زحمت و تکلیف سے محفوظ رکھا۔
آنکھوں دیکھا حال
ادھر مسلمان میدان جنگ میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھا رہے تھے اور ادھر
رسول الله صل الله علیہ وسلم مدینہ میں صحابہ کرام سے اس معرکہ کا آنکھوں دیکھا حال
بیان فرمارہے تھے، انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید
جعفر اور عبد اللرین رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع مدینہ خبر پہنچنے
سے قبل ہی دے دی تھی آپ نے فرمایا کہ اب زید کے پرچم لیا وہ شہید ہوئے جعفر
نے لیا، وہ بھی شہید ہوئے ابن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہوئے (اس وقت آپ کی
آنکھوں سے آنسو جاری تھے، یہاں تک کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار
سیف الله خالد بن الولید نے پرچم اپنے ہاتھ میں لیا، اور اللہ تعالیٰ نے
مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی ہے
له المغازی الواقدی له صحیح بخاری باب غزوہ موتہ
—
………………………………………………………………………………………………………………
۲۲۷
جعفر طیار
جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے دونوں
بازوؤں کے بدلہ ان کو دو شہپر عطا کئے ہیں جن سے وہ جنت میں جہاں چاہیں پرواز
کرتے ہیں، اسی لئے انکا لقب جعفر طیار (را نے والے) اور ذی النا عین (دو بازوؤں اور پر سکو
والے) پڑ گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و دلداری
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر کی اہلیہ سے فرمایا کہ جبر کے بچوں کو
ہمارے پاس لانا ، جب وہ آئے تو آپ نے ان کواپنے روئے انور سے ملایا، اور آپ کی آنکھوں سے
آنسو جاری ہو گئے پھر آپ نے اُن کی شہاد کی خبرسنائی جب محاذ جنگ سے شہاد کی اطلاع
گئی تو آپ اپنے گھر لوسی فرما کہ جبر کےگھروالوکے لئے کھانا تیار کرو اس حادثہ نے ان کو اس
تھا
انتظا ہے
قابل نہیں رکھ کہ وہ کھاناپکانےکی طرف توجہ کریں آپ کے چہرہ مبارک سے بھی غم کا ا ظاہر روانی
حملہ کرنے والے نہ کہ بھاگنے والے
جب شکر واپس ہوتے ہوئے دینہ کے قریب ہونا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اور سلمانوں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا، بچے بھی ان کے پیچھے سمجھے دوڑ رہے تھے رسول الله
صلی اللہ علیہ سلم سوار پر تھے آپ نے امام بچوں کو اپنے ساتھ بھالو اور جبر کا بچہ مجھے دید
والے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر جب حضرت جعفر کے صاحبزاے ملتے تو کہتے السلام علیک
یا ابن ذی الجناحین (دو پروں والے کے نڑ کے تم پر سلام ہو) (باب غزوہ مونه) و زاد المعادی
ه سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۸-۳۸۱
………………………………………………………………………………………………………………
آپ کے پاس ان کے بچے عبد الله کو دیا گیا، آپ نے اس کو اپنی گود میں بٹھا لیا،
(سلمان چونکہ میدان جنگ سے ہٹ آنے کے عادی نہ تھے یہ ان کے لئے پہلا واقعہ
تھا) اس لئے وہ ان غازیوں پر مٹی پھینکتے تھے اور کہتے تھے بھاگنے والو کیا اللہ
کے راستہ سے بھاگے ہو؟ آپ نے فرمایا، بھاگنے والے نہیں ہیں انشاءاللہ حل کرنے والے ہیں۔
غزوہ موتہ اور فتح مکہ کے درمیان
غزوہ موتہ اور فتح مکہ کے درمیان ایک سریہ ذات السلاسل کے نام سے
جمادی الاخری شهر میں بھیجا گیا، یہ مقام وادی القریٰ کی پشت پر تھا، اور قبیلہ
قضاعہ کے علاقہ میں واقع تھا، اسلامی لشکر نے اس موقع پر دشمن کا پوری طرح صفایا کر دیا۔
دوسرا سریہ سریته الخیط تھا، اس کے امیر ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ تھے، یہ
رجب شهر میں بھیجا گیا، اس میں مہاجرین و انصار کے تین سو آدمی شریک تھے آپ نے
ان کو جہینہ کے ایک قبیلہ کی سرکوبی کے لئے سمندر کے قریب روانہ فرمایا، راستہ میں ان
مجاہدین کو سخت بھوک اور فاقہ کا سامنا کرناپڑا حتی کہ درختوں کے پتوں پر گزرانا
ہونے لگی اس وقت سمند نے ان کے لئے عنبر نام کی ایک بہت بڑی چھلی فراہم کردی
جوانہی نصف ماہ تک ان کا کام چلایا اس کا تیل بھی انھوں نے نکالا اور خوب فائدہ
اٹھایا، اس کی وجہ سے ان کی صحت و قوت بحال ہوگئی اور جسم تروتازہ ہوگئے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ واقعہ سناتو فرمایاکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے
تمھاری مہانی تھی، آپ نے اس کا کچھ گوشت بھی نوش فرمایا۔
(بروایت امام احمد بن خلیل ہے زاد المعارج ( ص ۱۰۱ صحیح بخاری میں یہ روایت باب غزوة
بیت البحر میں بیان کی گئی ہے۔