Ghazwah Tabuk

۴۷۷

غزوہ تبوک

رجب شده)

غزوہ تینوں کا نفسیاتی اثر اور اس کے اسباب

دشمن کے دل میں رعب ہیت قائم کرنے اوران لوگوں کی آنکھیں کھول دیتے

میں جو یہ سمجھنے لگے تھے کہ اسلام کا شعلہ بھڑکی کو عنقریب بجھ جائے گا، یا وہ بادل کے

ایک ٹکڑے کی طرح ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے چھٹ جائے گا زر وہ بتوں کا وہی اثر پڑا

وقت کہ کا پڑا تھا، یہ غزوہ دراصل اس زمانے کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی

سلطنت سے ٹکراؤ کے مترادف تھا جو ولوں کی نگاہ میں بڑی پر ہیبت او ظلم سلطنت

تھی چنانچہ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ رومی شہنشاہ ہر قل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے مکتوب گرامی کو کیا اہمیت دی اور اس سے وہ کتنا متاثر ہو تو ان کی زبانی

لے تبوک مدینہ منورہ اور دمشق کے درمیان نصف فاصلہ پر ہے اور ایلہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے

با قوت نے معجم البلدان میں ابوزید کے حوالے سے لکھا ہے کہ تو حجر اور شام کی سرحد کے درمیان چھجڑ سے

جار منزل پرواقع ہے کہا جاتاہے کہ اب ایک جی بی حضرت حبیب علی السلام کی بحث ہوئی تھی ہیں

آباد تھے، انتہی تینوں بحر قلزم سے چھ منزل کے فاصلہ پر حتمی اور شروی در پہاڑوں کے درمیان

واقع ہے (از دائرۃ المعارف للبستانی باختصار) اس وقت یہ ایک اہم سعودی چھاؤنی ہے جب دینہ کے

انتظامیہ (امارت) کے ماتحت ہے جس کا فاصلہ مدینہ سے سات سو کلومیٹر ہے

………………………………………………………………………………………………………………

یہ فقرہ نکلا اور جس کو پڑھ کر ہرقل نے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ جزیرۃ العرب میں نبی صلی اللہ علیہ

وسلم کا ظہور ہونے والا ہے ( محمدبن عبداللہ صلی الہ علیہ وسلم کا معاملہ تو زور پر کیا

ان سے یہ رومیوں کا بادشاہ بھی ڈرنے لگا وہ کہتے ہیں جس سے مجھے برابر یقین رہا کہ وہ

غالب آئیں گے یہاں تک کہ اللہ نے میرے دل میں اسلام ڈالا ؟

عرب اس زمانہ میں روسیوں سے جنگ اور ان پر حملہ آور ہونے کا خواب بھی نہیں

دیکھ سکتے تھے بلکہ ان کو خود اندیشہ تھا کہ کہیں انہیں کی طرف سے ان پر حملہ نہ ہوجائے

اور صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنے کو اس قابل بھی نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی ان کی طرف توجہ

کرے اور ان کو اپنا نشانہ بنائے، مدینہ کے مسلمانوں پر جب کوئی ناگہانی آفت آتی

اور کوئی بڑا خطرہ درپیش ہوتا تو ان کا ذہن زیادہ سے زیادہ قستان کی عیسائی عرب

ریاست کی طرف منتقل ہوتا تھا جو روی شہنشاہ قیصر کے ماتحت تھی۔

واقعہ ایلاء میں جوش میں پیش آیا تھا، حضرت عمر کے الفاظ سے بھی اس پر

روشتی پڑتی ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے ایک انصاری دوست تھے جب میں غیر حاضر ہوتا تو

وہ مجھے روداد سناتے جب وہ غیر حاضر ہوتے تو میں ان کو خبریں پہنچاتا، اس زمانے ہیں

ہم لوگ غستان کے ایک بادشاہ سے بہت خون زدہ تھے، جس کے متعلق یہ چہ چاتھا کہ

اس کا ارادہ ہم پر حملہ کرنے کا ہے، ہمارے دل میں ہر وقت اسی کا خیال رہتا تھا، اسی

اثناء میں میرے انصاری دوست آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا اور

اے ابو سفیان نے آپ کے لئے ابن ابی کبشہ کا لفظ طرز استعمال کیا تھا، ابو کبشہ کے متعلق دو قول

ہیں۔ ایک یہ کہ خزانہ کا کوئی شخص تھا جس نے اپنے زمان میں بت پرستی چھوڑ دی تھی، دوسرے

یہ کہ آپ کے اجداد مادری میں کوئی اس نام کا گذرا ہے (مجمع بحار الانوار)

………………………………………………………………………………………………………………

کہنے لگے لکھ لو کھولو! میں نے کہا کیا غسانی نے حملہ کر دیا؟

اس وقت روی سلطنت کا اقبال بام عروج پر تھا، اس کی فوجوں نے ہرقل

کی قیادت میں ایرانی فوجوں کو نہیں نہی کر دیا تھا، اور ایرانی مملکت میں اندر تک داخل

ہو گئیں تھیں، چنانچہ اس زبر دست اور غیرمعمولی فتح کی خوشی میں اور اس کے شکرانہ

کے طور پر ہر قل نے حمص سے ایلیاء تک ایک زبردست فاتح کی حیثیت سے شاہانہ جلوس

میں سفر کیا۔ یہ یہ ہجرت کے ساتویں سال کا واقعہ ہے، ہر فل اس وقت اس صلیب کو

اٹھائے ہوئے تھا، جو اس نے ایرانیوں کھاصل کی تھی سارا راستہ قالین خالیچوں اور

فرش و فروش سے آراستہ تھا ہر طرف گل پاشی ہو رہی تھی، اور وہ اس فرش پر چل رہا

تھا، اس شاندار فتح پر دو سال بھی نہ گزارنے پائے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

مدینہ سے رومیوں کے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے اس غزوہ کے ذریعہ جس کا عربوں کے

دل و دماغ پر گہرا نقش تھا اللہ تعالی نے شام پر حملہ کا راستہ ہموار کر دیا، جوجو حضرت ابوبکر

اور حضرت عمر کے عہد خلافت میں فتح ہوا، لیکن اس کی بنیاد اسی غزوہ میں پڑچکی تھی۔

یہ غزوہ کیسے پیش آیا، اس کے بارے میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ رومی عرب کی شمالی سرحدوں پر حملے کی تیاری کر ر ہے

ہیں، ابن سعد اور ان کے شیخ واقدی راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو نبیوں

سے یہ خبر لی کہ ہر قل نے اپنے سپاہیوں کی ایک سال کی خوراک کا انتظام کر لیا ہے)

اور ان کے ساتھ تم بہذام، عالمہ اور غسان اور نیز عرب کے اور فاتح قبائل کو

اے بخاری نے اس واقعہ کو سورہ تحریم کی تفسیریں اور ہم نے کتاب اطلاق باب (بیان ان تخیر امرأة

لا یکون طلاقا نقل کیا ہے کہ میں علم کتاب ایجاد ایران ان لا اله علی و مالی ہر قل د دوه الی الاسلام)

………………………………………………………………………………………………………………

۴۸۰

شامل کر لیا ہے اور ان کے دیتے بلقاء تک پہونچ بھی چکے تھے لیے

اس روایت سے قطع نظر کرکے بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس غزوہ کا اصل مقصد )

پڑوسی حکومت کو خوف زدہ کرنا تھا جس سے مرکز اسلام اور اسلام کی بڑھتی ہوئی اور

اُبھرتی ہوئی دعوت اور اس کی روز افزوں قوت و طاقت کو نقصان پہونچ جانے کا

اندیشہ تھا، اس غزوہ کے ذریعہ اس حکومت کو یہ آگاہی دینی تھی کہ وہ مسلمانوں پر

ان کی سر زمین کے اندر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے اور ان کو تقریر تر یا مالی مفت

نہ سمجھے ہیں شخص کا یہ حال ہو وہ اتنی عظیم شہنشاہی پر حمہ نہیں کر سکتا، اورنہ اس کی

سرھوں میں داخل ہو کر اس کے لئے کوئی چیلنج یا خطرہ بن سکتا ہے اس کی پشت پر وہی

ہی حکمت کارفرما تھی جس کا ذکر قرآن مجید نے غزوہ تبوک کے سلسلہ یں کیا ہے :- یدے

لايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا مسلمانو ان کافروں سے جنگ کرو

الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الكُفَّارِ جو تمھارے آس پاس پھیلے ہوئے

وَيُجِدُوا فِيكُم غلط ہیں اور چاہئے کہ وہ جن میں تمھاری

وَاعْلَمُوا أَنَّ الله مع المتقين سختی محسوس کریں اور جان رکھو کہ

(سوره تو یه – ۱۲۳) خدا پر یہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

ی قصد اس غزوہ سے پورا ہو گیا، رومیوں نے اس کا جواب کسی جوابی حملہ اور

پیش قدمی فوجی نقل و حرکت اور سرگرمی سے نہیں دیا، بلکہ انھوں نے اس کھلے ہوہے

چلینج کے مقابلہ میں ایک طرح کی پسپائی اور خاموشی اختیار کرلی اور اس نوزائیدہ

طاقت کا جتنا اندازہ انھیں اس وقت ہوا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

الزرقانی علی المواہب ج ٣ صالات 4

………………………………………………………………………………………………………………

دوسرا فائدہ جو اس جراتمندانہ غز وہ (جس میں پورا خطرہ مول لیا گیا تھا)

سے حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ وہ جزیرۃ العرب کے ان قبائل نیزان فاتح اور یا اقتدار

قبائل (جو روی شہنشاہ سے متعلق اور اس کے ماتحت تھے) کے دلوں پرسلمانوں کا رجب

و داب قائم ہوگیا، اوراس کے ذریعہ ان کویہ موقع ملک وہ دین اسلام کے لئے پیچیدگی

سے غور کریں اور یہ محسوس کریں کہ وہ کئی پائی کا شبہ نہیں ہے جو تھوڑی دیر کے لئے

سطح آب پر ابھرتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو جاتا ہے اس کا مستقبل پورے

طور پر روشن ہے اور شاید ان قوموں کو اس کے ذریعہ اسلام میں داخلہ کا کوئی موقعہ

مل سکے جو خود ان کی سر زمین اور ان کے وطن میں ظاہر ہوا ہے ان لوگوں کے ذکر میں

جو اس غزوہ میں نکلے تھے، قرآن مجید نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے :- ن اس کیا۔

وَلَا يَكُونَ مَوْطِنا بغيظ جو قدم بھی وہ دشمن کے خلاف راہ خدا

الكُفَّاتَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ علم میں اٹھاتے ہیں وہ کافروں کے لئے

نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِه عسل غیظ و غضب کا باعث اور جو نقصان

مال (سورہ توبہ ۔ (۱۲) بھی وہ کفار کو پہنچاتے ہیں وہ ان کے

لئے عمل نیک ثابت ہوتا ہے۔

رومیوں کو غزوہ موتہ ابھی تک اچھی طرح یاد تھا جس میں ان کی پوری انستی توشقی

نہیں ہوسکی تھی اور جس میں ہر فریق نے بسلامت واپسی ہی کو غنیمت سمجھا تھا، اور اس کی

وجہ سے باز نطینی سلطنت اور اس کی زبر دست افواج کا جو رعب عربوں کے دل پر

تھا وہ بہت کمزور ہو گیا۔

۔

مختصر یہ کہ اس غزوہ کی سیرت نبوی اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں خصوصی

………………………………………………………………………………………………………………

اہمیت ہے، اور اس سے ان مقاصد کی تکمیل ہوئی جو مسلمانوں اور عربوں کے حق میں

بہت دور ہی تھے، اور جن کا تاریخ اسلام کے تسلسل اور آئندہ پیش آنے والے واقعات

پر گہرا اثر پڑا۔

غزوہ کا زمانہ اور وقت

یہ غزوہ رجب سنہ میں پیش آیا سخت گرمی کے موسم مں جب کچھ مز یدار ہوگئے

تھے اور سایہ خوشگوار معلوم ہونے لگا تھا، آپ نے اس کے لئے بہت طویل سفر کا ارادہ فرمایا

چونکہ بے آب و گیاہ میدانوں کو صبر کرنا تھا، اور سخت دشمن کا مقابلہ درپیش تھا، اس لئے

لغزوہ تبوک کی اس تاریخ کا تعین شمس می حسابے بہت دشوار ہے جس میں مدینہ سے تبوک کے لئے روانگی

ہوئی بعض سیرت نگاروں نے ماہ نومبر کو جب سدود کے مطابق قرار دیا ہے، مولوی حبیب الرحمن خاں

صاحب کی تجدید مفتاح التقویم سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے ان میں علامہ شیلی مخصوصیت کے قابل ذکر ہیں

لیکن واقعہ کے داخلی شواہد اور حدیث صحیح کی تصریحات و نشخین اور دوسرے اصحاب صحاح س سے ثابت ہیں

ان سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ غزوہ گرمیوں کے زمانے میں ہوا کعب بن مالک کی حدیث میں صفات

اہم ہے ان رسول الله صلى الله علیه وسلم غزاہی مو شدید، مین طابت الثمار و الظلال اس کی

اس سلسلہ میں معیار و میزان بنانا چاہئے اور وقت کی جو تحدید اس سے مطابقت نہ رکھتی ہو اسے نا قابل

اعتبار سمجھنا چاہئے موسیٰ بن مخفیہ نے ابن شہاب زہری سے جدا دانیت کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں

خریف کی راتوں اور سخت گرمی میں جبکہ لوگ نخلستانوں میں رہنا پسند کرتے تھے یہ غزوہ پیش آیا۔ اس سے

زیادہ واضح منافقین کا وہ قولی ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے سورہ براء میں کیا ہے اور پھر اس کا

رد کیا ہے وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِی الْحَروَ طُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ مَا الْوَكَانُوا يَفْقَهُونَ (النوب

کہا کہ اس گرمی میں گھر کا آرام چھوڑ کر کو جانہ کرو اے تغیر تم کہو دوزخ کی آگ کی گرمی تو اس سے

کہیں زیادہ گرم ہوگی اگر وہ سمجھتے ہوں ۔ التو یہ – (۸)

………………………………………………………………………………………………………………

آپ نے مسلمانوں کو پہلے ہی آگاہ فرمادیا تھا کہ آپ کوکس رخ پر جانا ہے تاکہ وہ اس کے

لئے اچھی طرح تیاری کر لیں یہ زمانہ سخت عشرت اور تحط سالی کا تھا۔

منافقین اس موقع پر مختلف بہانے اور عذر کر کے گھر بیٹھے رہے ان کو طاقتور اور

خطرناک دشمن کے خوف سخت موسم بہار سے مردم و کسی اور دین حق میں شک شبہ

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و ہم رکابی سے باز رکھا، ان کےبارہ میں اللہ

کا ارشاد ہے :۔

فَرِحَ المُخْلَفُونَ بِمَقْعَدِ هم جو لوگ (غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے

خلفتَ رَسُولِ اللهِ وَكر هوا وہ پیغمبر خدا کی مرضی کے خلاف بیٹھ

أن يُجاهِدُ وايَا مُواليد رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو

قان حروف سبیل الله انان کیا کہ خداکی راہ میں اپنے ال

وَقَالُو الأَنفِرُوا في المورد مالی اور جان سے جہاد کریں اور داور دین

نَا جَهَنَّمَ أَشَدُّ عَراء کو کالو بھی کہنے لگے گ گری میں مت نکلنا

يفقهونه

(سوره توبه – ۸۱)

ان سے کہو کہ دو نخ کی اگر اس سے

کہیں زیادہ گرم ہے کاش یہ اس

بات کو سمجھتے۔

جہاد اور روانگی لشکریں صحابہ کا ذوق و شوق اور جدائی سابقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر کی بہت اہتمام سے تیاری فرمائی اور

لوگوں کو تیاری کا حکم فرمایا، آپ نے اہل ثروت کو راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب کی

اه با خود از حدیث کعب ابن مالک ( صحیحین)

………………………………………………………………………………………………………………

چنانچہ دولت مند طبقہ کے بہت سے افراد اس موقع پر سامنے آئے اور انھوں نے ایان استابی

جزیہ سے اس میں حصہ لیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پورے لشکر کو جس کو جیش العسرہ کہتے

کہا جاتا ہے سامان فراہم کرنے کی ذمہداری لی اور ایک ہزار دینا اس پر خرچ کئے ان کے لئے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی بہت سے صحابہ نے جو استطاعت نہ رکھتے تھے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی آپ نے اس کا انتظام نہ ہونے

کی وجہ سے ان سے معذرت کر دی اس محرومی کا ان کو اس درجہ قلق تھا ۔ اللہ تعالیے

نے ان سے اس فریضہ کو ساقط فرما دیا، اور ارشاد ہوا :

وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ اور نہ ان (بے سروسامان لوگوں

لمَلَهُمْ قُلْتَ لا اعدُ ما پر الزام ہے کہ تھا سے پاس آئے کہ

أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ وَولوا ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ پیر

وَاعْيُنَهُمْ تَفيضُ من الدهم پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پرچم کو

حزنا أن لا يجد واما سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اور اور اس

يُنفِقُونَ ۔ (سورۂ توبہ – ۹۲) تم سے کر ان کے پاس خوبی موجود

ن تھا ان کی آنکھوں آنسو بہ رہے تھے

کچھ مسلمان وہ تھے جن کو بغیر کسی شبہ یا تردد کے صرف عزم و ارادہ کرنے ہیں

دی لگی اور وہ اس غزوہ میں شریک نہ ہو سکے۔

لشکر اسلام کی تبوک کی طرف روانگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہزار مجاہدین کے ساتھ مدینہ سے تبوک کے لئے

………………………………………………………………………………………………………………

روانہ ہوئے اس سے پہلے کسی غزوہ میں اتنی بڑی تعداد شریک نہ تھی آپ نے

ثنیۃ الوداع میں شکر کو پڑاؤ ڈالنے کی ہدایت کی اور محمد بن مسلم الانصاری کو مدینہ کا

حاکم مقرر کیا، اہل بیت کے لئے حضرت علی کو مقر فرمایا اور جب انھوں نے منافقین

کی افتا ہوں اور چہ میگویوں کا آپے ذکر کیا آپ نے فرمایا کیا تم اس امر پر راضی نہیں کہ تم

میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے ساتھ ہارون تھے ہاں یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا

آپ اس لشکر کے ساتھ حج اور قوم مور کی سرزمین میں اترے اور صحابہ کرام

سے فرمایا کہ یہ بیان کی سرزید لی سر زمین ہے جن پر عذاب نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا کہ جب

ان لوگوں کے مکانات می جنھوں نے اپنے آپ پرظلم کیا داخل ہوتو روتے ہوئے داخل ہو

اس ڈر سے کہ کہیں تم کو بھی وہ مصیبت نہ آئے جوان پرائی تھی آپ نے کبھی فرمایا کہ

یہاں کا پانی نہ پینا اور نہ نماز کے لئے اس پانی سے وضو کرنا، اگر آٹا تم نے اس پانی سے

گوندھ لیا ہو تو اسے اونٹوں کو کھلا دو، اور خود اس میں سے ذرا سا بھی نہ کھاؤ

جب لوگوں کو پانی کی بہت تنگی ہوئی تو انھوں نے آپ سے اس کی شکایت کی

اور اپنی دشواری بیان کی آپ نے دعافرمائی، اور اس دعاکی برکت سے اللہ تعالیٰ نے بادل

بھیجا اور اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنی ضرورت کا پانی اکٹھا کر لیا

رومیوں سے عربوں کا خوف

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے جا رہے تھے تو کچھ منافقین

صحیح بخاری باب (غزوہ تبوک) کے زاد المعاد ۲ تا ۲۰ و سیرت ابن ہشام ج۲ ص۵۲

صحیحین میں بھی اس کے ہم معنی روایا آئی ہیں۔ سے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۵۲۲۰

۵۲۲۰

………………………………………………………………………………………………………………

۲۸۶

آپ کی طرف اشارہ کر کے ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ بنی الاصفر یعنی

رومیوں کی جنگ اتنی ہی آسان ہے جتنی کہ اپنے ملک کے عرب قبائل سے خدا کی قسم ہم

دیکھ رہے ہیں کہ کل یہ سب رسنیوں سے جکڑے پڑے ہوں گے اے۔

رسول الله صل اللہ علیہ وسلم اور الیہ کے حاکم میں صلح

جب رسول الله صل اللہ علیہ وسلم تبوک پہونچ گئے تو الیہ کا حاکم یوحن بن

روبه جو سر حدی علاقوں کے حکام میں سے تھا، آپ کی خدمت میں آیا اور آپ سے

صلح کرلی اور جزیہ آپ کو پیش کر دیا۔ جرباء اور اذرح کے لوگ بھی آئے اور

آپ نے ان کو امان کی تحریر لکھ دی جس میں حدود کی ذمہ داری، پانی اور تیری

ہجری راستوں کی حفاظت اور فریقین کی سلامتی کی ضمانت دی گئی تھی رسول الله

صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اکرام بھی فرمایا۔

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ واپسی

اس موقع پر رومیوں کی پسپائی اور سرحد پار کر کے فوج کشی کا خیال ترک کر دینے

کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کو پہونچی اور آپ نے بھی اس کو مناسب نہیں

سمجھا کہ ان کے ملک میں گھس کر ان کا تعاقب کیا جائے اس غزوہ سے جس مقصد کا

حصول پیش نظر تھا وہ حاصل ہو چکا تھا، البتہ اکید بن عبد الملک الکندی نصرانی

له سیرت ابن هشام ج ۲ ۵۲۲۵۲۵ ۵۲ ایضا ۵۲۶۵۲۵

………………………………………………………………………………………………………………

نے جو دومتہ الجندل کا حاکم اور رومی فوجوں کا پشت پناہ تھا، اس کی طرف سے

حملہ کی ضرور اطلاع ملی آپ نے اس کی سرکوبی کے لئے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو

پانچ سو سواروں کے ساتھ روانہ فرمایا حضرت خالد نے اس کو گرفتار کر کے آپ کی

خدمت میں بھیجا، آپ نے اس کا نون معات کیا اور جزبہ پر اس سے مصالحت کرلی

اور اس کو آزاد کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں کئی راتیں گزاریں پھر مدینہ طیبہ

واپس تشریف لائے

ایک عربی مسلمان کے جنازہ میں

عبد الله والبجادین کی وفات تبوک میں ہوئی یہ اسلام قبول کرنے کے لئے

کوشاں تھے، لیکن ان کی قوم ان کو اس سے باز رکھتی تھی اور انکو طرح طرح سے سیتایا جاتا

تھا، آخر کار انھوں نے ان کو ایک موٹی گھردری چادر میں چھوڑ دیا، اس کے سوا ان کے

له دومۃ الجندل ایک آباد گاؤں تھا، جہاں اعرابی خرید و فروخت کے لئے جایا کرتے تھے پھر و زنان

سے یہ مقام ویران اور غیر آباد ہوگیا تھا۔ اکیدر نے اگر اس کو نئی روئن دی اور زیتون کی کاشت

واں شروع کی چنانچہ اس نے اس کو آباد ایسا پر فروغ کردیا اس گاؤں کو ایک یک فصل گھرے

ہوئے ہے فصیل کے اندر ایک محکم قلعہ ہے جس کو مال کے اعرابیوں میں عالمی شہرت حاصل ہے اس کی وجہ

سے اس مقام کو فوجی اہمیت بھی حاصل رہی اس کے زیادہ تر اشد ہے تیار کار سے متعلق ہیں یا اپنے

آپ کو اس زمانہ کے دستور کے مطابق ایک بادشاہ کہلاتا تھا، اہل دوستہ اس زمانہ میں نصرانی مذہب

تھے۔ دیکھئے تاریخ العرب قبل الاسلام از ڈاکٹر جو علی سے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۵۲۷۶

له ايضا مه

………………………………………………………………………………………………………………

پاس کوئی ستر پوشی کا کپڑا نہ تھا، وہ بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچے

جب آپ کے قریب ہوئے تو یہ چادر بھی پھٹ گئی اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے انھوں نے

ایک ٹکڑے سے تنگی کا کام لیا، اور دوسرے ٹکڑے کو اوڑھ لیا، اسی حالت میں حضور

صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو ئے اور اسی دن سے ان کا لقب

ذوالبجادین پڑگیا۔

جب تبوک میں ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر

حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے رات کی تاریکی میں ان کے جنازہ کی مشایعت کی ان ہی سے

کسی کے ہاتھ میں مشعل تھی جس کی روشنی میں یہ لوگ چل رہے تھے، قبر یار تھی رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم خود بدولت قریب اترے حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے نعش کو

قبرمیں آتا رہا آپ فرماتے اپنے بھائی کو اور نیچے میرے قریب کرو، دونوں نے ان کو نیچے

کی طرف لٹکایا، جب آپ نے ان کو لحد میں لٹا دیا تو فرمایا اللهم انی امسیت

راضيا عنه فارض عنه (اے اللہ میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی

ہو جا) عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میںنے تمنا کی کہ کاش کہ اس تیر میں ہوتا۔

کعب بن مالک کا ابتلاء اور ان کی کامیابی و سرخروئی

جن لوگوں کی اس غزوہ میں شرکت نہ کر کہ وجہ کوئی شبہ یا وسوسہ نہیں تھا،

شریک نہ ہو سکے، ان میں کعب بن مالک نہ مرارة بن الربیع اور ہلال ابن امیہ بھی تھے

یہ لوگ سابقین اولین میں سے ہیں، اسلام کے لئے انھوں نے پیش قیمت خدمات

لے پیرت ابن ہشام ج ۲ ص۵۲۴-۵۲۸

………………………………………………………………………………………………………………

انجام دیں تھیں اور راہ حق میں سخت تکلیفیں اٹھائیں تھیں۔ مرارة بن الربیع اور بلال بن

امیہ جنگ بدر میں بھی شریک تھے عز، و ان سے فرار یا مجھے رہنا ان کی فطرت اور

عادت سے دور تھا، اس کو حکمت انہی کے سواکسی چیز سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا یا اسے

مقصود ان کا امتحان، ان کے نفوس کا تزکیہ اور مسلمانوں کی تربیت تھا، یہ صرف

سہل انگاری ارادہ کی کمزوری اور اسباب وسائل پر ضر در سے زیادہ اعتماد اور

پوری سنجیدگی اور نشاط و سرگرمی کے ساتھ اس معاملہ پر غورنہ کرنے کا نتیجہ تھا، اور

یہ وہ چیز ہے جس نے بہت سے مردان خدا کو جو ایمان اور خدا اور سول کی محبت میں

دوسرے مسلمانوں سے کسی طرح کم ترنہ تھے بارہا نقصان پہونچایا ہے، اور یہی وہ نکتہ

ہے جس کی طرف اس جماعت کے تیر شخص کعب بن مالک نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے۔

میں روزانہ اس ارادہ سے نکلتا کہ میں سفر کا ضروری سامان لے لوں اور ان کے

ساتھ روانہ ہو جاؤں لیکن بیر کچھ نئے واپس آجاتا پھریں اپنے دل میں کہتا کہ مجھے

وقت کیا ہے، جب چاہوں گا لے لوں گا ایسے میرے پاس میں سامان بازارمیں موجود )

میں اسی لیست پول میں رہا کہ کوچ کی گھڑی آگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اور

مسلمان روانہ ہو گئے اور میں نے ابھی تک کچھ سامان ہی نہیں کیا تھا میں نے کہا چلو

میں آپ کی روانگی کے ایک دو دن بعد ہی روانہ ہو جاؤں گا اور راستہ میں قافلہ میں

شامل ہو جاؤں گا، ان سب کی روانگی کے بعد بھی میں سامان تیار کرنے کے لئے نکلا

لیکن پھر بھی چھ کے بغیر واپس آگیا، دوسرے دن بھی بھی ہوا مجھ پرانی ایسی طاری رہی

اور انھوں نے اپنے قدم تیز کر دیے اور لڑائی کا معامہ بہت آگے نکل گیا، میں نے اس کے

بود ہوکران بعد بھی ارادہ کیا کہ اب بھی مدینہ سے روانہ ہو کر ان کو پالوں کاش کہ میں نے ایسا ہی

amnununununununun

32

………………………………………………………………………………………………………………

کیا ہوتا لیکن اس کی بھی توفیق نہ ہوئی ہے

اللہ تعالی نے ان تینوں کے ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ،

اسلام سے وفاداری اور مصیبت و راحت ہر حالت میں ثابت قدمی کا نازک امتحان

لیا، وہ لوگوں کی عزت و تعظیم اور بناو بے نیازی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ

والتفات اور اعراض و لیے توجہی دونوں حالتوں میں ایسے مخلص وجاں نثار ثابت

ہوئے ہیں جس کی نظیر مذہبی معاشروں اور جماعتوں کی تاریخ میں ( جو ایمان و عقیدہ اور

محبت و جذبات پر قائم ہوتی ہیں ) ملنی مشکل ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت پہنچے بولے

اور جو کچھ حقیقت تھی بے کم و کاست بیان کردی جب لوگ باتیں بنا کر معافی اصل

کر رہے تھے انھوں نے اس وقت خود اپنے خلاف گواہی دیا، جب منافقین اپنے

آپ کو اس سے ہر طرح بری قرار دے رہے تھے۔

وہ اپنی طویل اور بلیغ و مؤثر روایت میں اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جب سب پیچھے رہنے والے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور میں کھا کھا کر آپ سے

اپنے لئے عذر بیان کرنے لگے یہ کوئی اسی سے اوپر افراد تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

نے ان کی ظاہری باتوں کو قبول فرمالیا ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت

طلب فرمائی ان کے بھیڑوں اور دلی رازوں کو اللہ تعالی کے سپرد کیا میں بھی

آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اسلام عرض کیا، جب میں نے آپ کو سلام کیا تو

آپ نے خفگی کی مسکراہٹ کے ساتھ بر استقبال کیا پھر فرایا آر میں اک بڑھا

له صحیح بخاری کتاب المغازی .

………………………………………………………………………………………………………………

اور آپ کے بالکل سامنے بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے پوچھا تم کس وجہ سے پیچھے

رہ گئے ؟ کیا تم نے اپنی سواری نہیں خریدی تھی میں نے کہا جی ہاں بخدا ایسا ہی

ہے خدا کی تم اگرمیں آپ کے بجائے اس وقت اہل دنیا میںسے کسی شخص کے پاس

ہوتا تو میں سمجھا کریں کچھ عذر کر کے اسکی ناراضگی سے بچ جاؤں گا میرے انداز

بات کرنے اور اپنی بات ثابت کرنے کا سلیقہ بھی ہے لیکن بخدا مجھے یقین ہے کہ

میں اگر آج جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلوں گا تو قریب ہے کہ اشر تعالیے آپ کو

مجھ سے ناراض کردے اور اگرمیں سچ بول کر آپ کوکسی قدر زرد کروں گا تو

اس میں مجھے اللہ تعالی کی رو سے ان کی ایسی ہے خداکی تم میرے پاس کوئی

عندر نہیں ہے اور خدا کی قسم جس وقت میں تجھے ہوگیا تھا، اس سے زیادہ میں

کبھی صحتمند اور فارغ البال نہ تھا

بالاخر وہ ہولناک گھڑی آگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے لوگوں کو ان سے

بات کرنے کی ممانعت فرمادی مسلمان تو سمع و طاعت کے پہلے تھے چنانچہ سب نے ایسے

کنارہ کشی اختیار کرلی اور بالکل بدل گئے بنی کہ ان کی نگاہ میں زمین آسمان بھی بدل

گئے معلوم ہوتا تھا کہ یہ وہ زمین ہی نہیں ہے جو پہلے تھی اس حال میں ان کی پچاس راتیں

گذریں، جہاں تک حرارة بن ربیع اور بلال بن امیہ کا تعلق ہے وہ دونوں تھک ہار کے

اپنے گھر کی ہے اور روتے رہے کعب بن مالک ان سب سے زیادہ جوان اور طاقتور تھے وہ

ہربے کتے تھے مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے بازاروں میں آتے جاتے تھے لیکن

کوئی شخص ان سے گفتگو کرنے کا روادار نہ تھا۔

لیکن ان تمام باتوں نے محبت اور وفاداری کے اس رابطہ اور رشتہ پر کوئی اثر

………………………………………………………………………………………………………………

نہیں ڈالا جو ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان قائم تھا، اس سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ شفقت بھی کم نہ ہوسکی جو ان کے حال تھی بلکہ اس

سرزنش اور تنبیہ نے ان کی اس محبت دل کی تپش اور درد و سوز کا اور بڑھا دیا وہ کہتے ہیں:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوتا اور آپ کو سلام کرتا

اس وقت آپ نماز سے فراغت کے بعد اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے ہیں

اپنے دل میں سوچتا کہ آپ نے اسلام کے جواب میں اپنے لب مبارک کو جنبش دی

ہے یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب نمازکے لئے کھڑا ہو جاتا اور نکھیوں سے

آپ کو دیکھتا رہتا جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو اس وقت آپ

میری طرف انتقا فرماتے جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ اعراض فرماتے

غرض دنیا ان کے لئے بدل گئی اور اب ایک ایسے شخص نے بھی ان سے منہ

پھیر لیا جس پر ان کو بڑا ناز و اعتماد تھا، وہ بیان کرتے ہیں :۔

لوگوں کی جفا سے میرے لئے یہ عرصہ بہت طویل اور شاق ہو گیا، آخریں

دیوار پھاند کر ابوقتادہ کے اعصا میں پہونچا وہ میرے چازاد بھائی بھی تھے

اور مجھے رہے زیادہ عزیز و محبوب تھے میں نے ان کو سلام کیا تو خداکی قسم

انھوں نے سلام کا جواب تک نہ دیا میں نے کہا ابو قتادہ امین ک کو الہ کا

واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول

سے محبت ہے اس پر بھی وہ خاموش رہے میں نے دوبارہ یہی بات کہی او

ان کو اللہ کا واسطہ دیا، وہ خاموش رہے پھر اتنا کہا کہ اللہ ورسوله

أعلم اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، اس پر میری آنکھوں سے

………………………………………………………………………………………………………………

بے ساختہ آن پہنے گئے ہیں اس وقت ہوا اور واریان کر واپس چلا گیا ہے

معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس گلی مقاطعہ کا اثران تینوں کی بیویوں تک پہنچا

اور ان کو حکم ملاکہ وہ اپنی بیویوں کو علیحدہ کر دیں، چنانچہ انھوں نے اس کی تعمیل کی.

عشق و وفا اور استقامت ثابت قدمی کے اس امتحان کا رہے نازک مرحلہ

اس وقت آیا جب غسان کے بادشاہ نے ان کے اس محبت و علی کو خرید نا چاہا، یہ خیال

رہے کہ یہ وہ بادشاہ ہے جس کا مصاحب ندیم بنا اور اس کی مجلس میں حاضر ہونا بڑا ثروت

سمجھا جاتا تھا، اور اس میں پوری رقابت چلتی تھی اور جس کے عرب شعراء برسوں سے

گیت گا رہے تھے ۔ بادشاہ کا قاصدان کے پاس ایسے وقت پہونچا جب وہ سخت ذہنی

و قلبی پریشانی لوگوں کی بے تعلقی اور رسول اله صل اللہ علیہ سل کی بے رخی کے شدید

ابتلاء نہیں تھے، اس نے ان کو شاہ خسارہ کا خط دیا جس کا مضمون یہ تھا :۔

مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمھارے ولی نعمت نے تمھارے ساتھ جفا کا معالمہ کیا

ہے اللہ نے تمھارے لئے ذلت اور ضائع ہونے کی جگہ مقدر نہیں کی ہے تم ہمارے

پاس آجاؤ ہم تمھارے ساتھ اچھا معاملہ کر یں گے؟

اس خط سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے دل میں غیرت و حمیت کی ایک عملی کو کئی

گئی

اور ان کی محبت اور جوش مارنے لگی، وہ ایک نور کے پاس گئے اور خط اس میں پھینک دیا۔

جب ان تینوں صاحب ایمان ہستیوں کا امتحان مکمل ہو گیا، قرآن مجید نے ان کا

لے حدیث کعب بن مالک یہ صحیح بخاری سے دیکھئے آل جفتہ کی منقبت میں حسان بن ثابتی

کا شہور قصیدہ جس کے دو شعر ہیں :

الله در عصابة نادمتهم يوما يحلق في الزمان الأول

يسقون من ورد البريص عليهم بردَى يُصفى بالرحيق الشكل

………………………………………………………………………………………………………………

ذکر کر کے ان کو بقاء دوام عطا کی اور ان کے واقعہ نے مسلمانوں کے لئے ابدالا با تک ایک

سن اور سامان عبرت و محبت فراہم کردیا اوران کی ایمانی قوت اور من اسلام کا پورا ثبوت

مل گیا اور باوجود اس کے زمین پراپنی کشادگی کے باوصف تنگ ہو چکی تھی بلکہ خود ان کے

نفس ان کے لئے تنگ تھے ان کے پر جادہ حق سے ایک لمہ کے لئے نہ ہٹے تو اس قتالہ تعالٰے

نے آسمانوں کے اوپر سے ان کی قبولیت کا اعلان فرمایا، اور صرف ان کی توبہ کا ذکر نہیں

کیا کہ وہ کہیں اسے تنہائی اور احساس کمتری محسوس نہ کریں اور یہ یا ان کے لئے انگشت نمائی

کا باعث نہ بنے بلکہ ان کی توبہ کی تمہی میں سید الانبیاء والمرسلین اور مہاجرین و انصار کی

تو یہ کا بھی ذکر کیا جو اس غزوہ میں پیش پیش تھے اس کا مقصد ان کا اعزاز و اکرام ان کی

تسکین خاطر لوگوں کی نگاہ میں ان کی قدر بڑھانا اور ان کی شان دوبالا کرنا تھا۔

لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النبى بے شک خدا نے پیر پر مہربانی کی اور

والمهجرين والأنصار الذين مہاجرین اور انصار وہ با وجود اس کے

الَّتَبَعُوهُ فِي سَاعَةِ العرة من ان ان کا بحضور دل پھر جانے کو

بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيعُ قُلُوبُ فریق تھے مشکل کی گھڑی میں تعمیر کے ساتھ

مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهم انه بروم رہے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی

روون تهيم وعلى المالية بے شک وہ ان پر نہایت شفقت

الَّذِينَ خُلِفُوا حتى إذا مانت کرنے والا اور مہربان ہے اور

عليهمُ الْأَرْضُ بما وَهُبَتْ ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی

وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ أَنْفُهم کیا گیا تھا، یہاں تک کہ جانے میں

لے جو ایک معروف مسلم حقیقت تھی، اور جس کی بظاہر (چنداں) ضرورت نہ تھی۔

………………………………………………………………………………………………………………

وظنوا أن لا ملجا من الله با وجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی

إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ اور ان کی جانیں بھی ان پر دو بھر

ليَتُوبُوا إِنَّ الله هو التوا ہوگئیں اور انھوں نے جان لیا کہ خدا

کے ہاتھ سے خود اس کے سوا کوئی پناہ

الرحيمه

(سوره توبه – ۱۱۷-۱۱۸) نہیں پھر خدانے ان پر مہربانی کی تاکہ

توبہ کریں بے شک خدا تو قبول کرنیوالا مہربانی

غزوات پر ایک نظر

غزوہ تبوک کے ساتھ جو ہجرت کے نویں سال رجب میں پیش آیا غزوہ نبوی

(جن کی تعداد بتائیں ہے) نیز دوسرے سرایا اور چھالوں (جن کی تعداد ساٹھ بتائی

گئی ہے، اور کچھ میں قتال کی نوبت بالکل نہیں آئی) کا سلسلہ ختم ہوا۔

ان تمام غزوات و سرایا میں جورو میں اور میں یہ کم خون

جتنا خون بہایا گیا، جنگوںکی پوری تاریخ میں ہمیں اس سے کم کوئی مقدار نظر نہیں آتی

ان تمام غزوات کے مقتولین کی تعداد ایک ہزار اٹھارہ سے زیادہ نہیں

دونوں فریق شامل ہیں لیکن اس قلیل تعداد نے انسانوں کو خون کی جس ارزانی سے

اور بے عزتی ویلے آبروئی سے بچایا اس کا مکمل جائزہ اور سروے مشکل بلکہ ناممکن ہے

اس کے نتیجہ میں جزیرۃ العرب کے اطراف میں اس قدرا من واطمینان کی فضا

قائم ہو گئی کہ ایک مسافر خاتون حیرہ سے چلتی اور کعبہ کا طواف کر کے واپس جاتی

له تحقیق ابن تیم (زاد المعاد) عراقی جنرل اور مشہور مصنف محمد د مثبت خطاب کی تحقیق میں ان غزوات کا

تعداد جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیادت فرمائی اٹھائیں اہے (تاریخ جیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

له مولانا قاضی محمد سلمان نتصورپوری نے رحمۃ للعالمین ہمیں یہی تعداد لکھی ہے جو گہرے مطالو اور زمہ دارا تحقیقی

………………………………………………………………………………………………………………

اہم اسلامی غزوات کے مقامات

غزوات کے مقامات ۔ بڑے شہر

سقط امان

کوفه

فرات

دومة الجندل .

تبوک

خبر وادي القرى

ر احزاب أحمد تنقائل

قره الدرس

ذات الرقاع .

پر

صفوان البوار

حسین

خالفت

وو

پیمانه

میل

………………………………………………………………………………………………………………

اور اللہ کے سوا اس کوکسی کا ڈر نہ ہوتا ، ایک عورت قامسیہ سے اپنے اونٹ پر چلتی اور

بیت الٹر کی زیارت کرتی اور اس کو کسی کا خوف نہ ہوتا ، اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ

پورے جزیرۃ العرب میں قتل و غاز گری انتقامی کارروائیوں ، خانہ جنگیوں اور

معرکہ آرائیوں کا سلسلہ قائم تھا اور بڑی بڑی حکومتوں کے کارواں بھی بڑے

غیر معمولی پہرہ حفاظتی بند و بست اور ماہر رہبروں کی مدد سے چلتے تھے ۔

یہ غزوات قرآن مجید کے دو حکیمانہ اصولوں پرمبنی ہیں ایک الفتنه اشد

من القبلہ فتنہ انگیزی قتل سے بڑھ کر ہے) دوسرے و لكم في القصاص ميأة في القصاص حياة)

يا أولي الالباب عقل والو تمھارے لئے بدلا اور قصاص ہی میں سامان زندگی

ہے، ان کی وجہ سے نوع انسانی کا برا وقت بچا اور اصلاح حال اور خطرات کے تقریبات

کی ان طویل کو ششوں اور سلسل محنتوں کی ضرورت نہ پڑی جو اکثر بے نتیجہ رہی ہیں اس کے

علاوہ ان غزوات پر جن اخلاقی تعلیمات اور شفقانہ و ہمدردانہ ہدایات کا سایہ اور

پر تو تھا، اس نے ان کو انتقامی کاروائی اور غصہ کی آگ بجھانے کے بجائے تادیبی کاروائی

اور ہدایت و فلاح کا سامان کرنے کا ذریعہ بنا دیا تھا چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو اس کو یہ ہدایت دیتے :-

میں تمھیں اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان تمھارے ساتھ ہیں ان کے ساتھ اچھے

برتاؤ کی نصیحت کرتا ہوں اللہ کے نام پر قتل کرنا اور اللہ ہی کے راستہ میں اس سے

قتال کرنا جس نے اللہ کے ساتھ کفر اختیار کیا ، غداری نہ کرنا ، مال غنیمت کی چوری

نہ کرنا کسی بچے عورت اور ازکار رفتہ بوڑھے یا کسی معبد میں بیٹھے ہوئے گوشہ گیر کو

ے صحیح بخاری باب ( علامات النبوة) لله سیرت ابن ہشام ج ۲ ماده

له سورة البقرة – 191 ۵ سورة البقرة – ١٧٩

………………………………………………………………………………………………………………

قتل نہ کرنا کسی کھجور کو ہاتھ لگانا کسی درخت کو نہ کاٹنا کسی عمارت کو نہ گرانا

جہاں تک اس جنگی کارروائی کی کامیابی اور شرعت کا تعلق ہے اس کا اندازہ

اس سے ہو سکتا ہے کہ دس سال کی مختصر مدت میں جزیرۃ العرب کا تقریبا ۲۷۴ میل

مربع روزانہ اسلام کے زیر نگیں آنا گیا مسلمانوں کے جانی نقصان کو دیکھا جائے تو

مہینہ پر ایک آدمی کا اوسطہ پڑتا ہے، دس سال مکمل نہیں ہونے پائے تھے کہ

دس لاکھ مربع میل اسلام کے زیراقتدار آچکے تھے ہے

اس کا موازنہ دو عالی جنگوں (جس میں پہلی جنگ ۱۹۱۴ اور شاہ اور میں ہوئی

تھی دوسری ۱۹۳۹ء ۱۹۳۵ ء میں ہوئی تھی) سے کیئے تو آپ کو اس فرق کا صحیح اندازہ ہوگا۔

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے فاضل اور حق مقالہ نگار نے اس موضوع پر

جو کچھ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلی عالمگیر جنگ کے مقتولین کی تعداد

چونسٹھ لاکھ تھی ، دوسری عالمگیر جنگ کے مقتولین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ اور یہ

کچھ کروڑ کے درمیان تھی کہیے

ان دونوں جنگوں نے بھیا کہ سب جانتے ہیں انسانیت کی کوئی خدمت انجام

نہیں دی اور انسانی سوسائٹی کو ان سے تھوڑایا بہت کسی درجہ میں فائدہ نہیں پہونچا۔

قرون وسطی کی تحقیقاتی عدالتوں (Inquisition) اور کلیسا کے ظلم ستم اور پہنچی

استبداد کا جو لوگ نشانہ بنے ان کی تعداد بھی ایک کروڑ بیس لاکھ تک پہونچتی ہے ہے۔

اه واقدی بروایت زید بن ارقم بسلسلہ غزوہ موتہ ۵۲ ان معلومات میں جنرل محمد اکبر خان

کی کتاب حدیث دفاع ” سے فائدہ اٹھایا گیا ہے کہ جلد ۱۹ ۶۹۷ که ايضا ما ار ایڈیشن )

JOHN DEVENPORT, APOLOGY FOR MUHAMMAD AND QURAN

………………………………………………………………………………………………………………

۴۹۸

اسلام میں پہلا حج

ھ میں فرض کیا گیا اور سول للہ صل اللہ علیہ سلم نے حضرت ابو بکر

کو امیر چ بنایا اور سلمانوں کوچ کرانے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی مشرکین بھی اپنے

حج کے مقامات میں تھے تو حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کے ساتھ دینے سے تین سو آدمیوں کا

قافلہ حج کے لئے روانہ ہوا۔

اس وقت سورہ براہ رسول الش صل اللہ علیہ سلم پرنازل ہوئی آپ نے حضرت علی ہم

کو بلا بھیجا اوران سے فرمایا کہ سورہ براہ کی ابتدائی آیات اور ان کے احکام کو لےکر وہاں

جائیں اور قربانی کے روز جب سب لوگ نئی میں جمع ہوں یہ اعلان کر دیں کہ محنت میں کوئی

کافر نہیں داخل ہوگا، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا، اور کوئی شخص

برہنہ ہو کر طواف نہیں کر سکتا، اور اگر سول للہ صل اللہ علیہ سلم سے کسی کاکوئی معابر ہو تو

طے شدہ میعاد تک اس کی پابندی کی جائے گی۔ حضرت علی رسول اله صل اللہ علیہ سلم

کی اونٹنی پر روانہ ہوئے اور راستہ میں حضر او کرنے سے جائے انہیں پوچھا کہ پر دیا اوی

کہنے لگے مامور ہوں پھر دونوں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ

عنہ حج کے انتظامات میں مشغول ہو گئے جب قربانی کا دن آیا تو حضرت علی صی اللہ نے

کھڑے ہوکر سوال اور صل اللہ علیہ سلم کے حکم اور ہدایت کے مطابق ان سب باتوں کا علان کیا۔

لے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جو شہر میں فرض ہوا، شیخ محمد المخضری نے اپنی کتاب تاریخ

التشریع الاسلامی میں اسی قول کو اختیار کیا ہے دیکھئے مرہ کے ابن ہشام ج ۲ ۵

زاد المعاد ۲ م ه ابن ہشام ج ۲ ۵۴۳۰-۵۲۶