Ghazwah Taif

۲۶۵

غزوہ طائف

(شوال شده)

ثقیف کے باقی ماندہ دستے

ثقیمت کے باقی ماندہ دستے طائف چلے آئے اور یہاں اگر شہر کے دروازے

بند کر لئے قلعہ کے اندر انھوں نے ایک سال کے غلہ کا انتظام کر لیا اور جنگ کے لئے

تیار ہو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سرکوبی کے ارادہ سے طائف کی طرف

تشریف لے چلے اور اس کے قریب پہونچ کر پڑاؤ ڈالا لیکن مسلمان اس میں داخل

نہ ہو سکے اس لئے کہ تمام دروازے پہلے ہی سے بند کر لئے گئے تھے، ثقیف نے

مسلمانوں پر سخت تیر اندازی شروع کی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تیر نہیں ٹڈیوں کا

شکر ان پر ٹوٹ پڑا ہے ثقیف کے لوگ اچھے تیر انداز سمجھے جاتے تھے۔

طائف کا محاصرہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے یہ دیکھ کر شکر کو دوسری طرف منتقل کر دیا

اور کوئی پچھلیں نہیں دن تک ان کا محاصرہ رکھا، اس درمیان میں ان سے سخت

لڑائی ہوتی رہی اور دونوں طرف سے خوب تیر اندازی ہوئی، اس محاصرہ میں

………………………………………………………………………………………………………………

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے پہلی بار منجنیق (ایک قسم کی توپ) استعمال کی،

محاصرہ بہت سخت تھا۔ مسلمانوں کے کئی آدمی کفار کے تیروں سے شہید ہوئے ۔

میدان جنگ میں رحم دلی

جب محاصرہ اور جنگ نے طول کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقین کے

انگور کے باغات کاٹ ڈالنے کا حکم دیا۔ انہی باغات پر ان کی معیشت کا سارا دارو مدار

تھا، لوگوں نے ان کو کاٹنا شروع کیا تو انھوں نے آپ سے درخواست کی اللہ کے لئے

اور رشتہ کا خیال کرکے ان باغات کو چھوڑ دیں، آپ نے فرمایا بے شک میں اس کو

اللہ کے لئے اور رشتہ کی بنیاد پر چھوڑتا ہوں ۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے یہ شادی کروادی کہ جو غلام قلعے سے اترکر

ہمارے پاس آجائے گا وہ آزاد ہے چنانچہ یہ پکار سن کرون سے کچھ اوپر آدی نکلے جن میں

ابو بکرہ بھی تھے جو حدیث کے ایک بڑے راوی اور عالم صحابی ہیں۔ آپ نے ان سب کے

آزاد فرمایا اور ہر آدمی کو ایک مسلمان کے حوالے کیا اور اس کے کھانے پینے کی ذمہ داری

اس پر ڈال دیا یہ بات طائف والوں کو بہت گراں گذری ہے۔

محاصرہ کا خاتمہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو طائف فتح کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے

ہوا ۔ سیرت ابن ہشام ج ۲۲۵۳-۲۷۸ باختصار ۔ کہ شاید قبیلہ بنی سعد کی طرف اشارہ ہو جس میں

آپ نے اپنی رضاعت کے دن گزارے تھے سے زاد المعارج (۱۳۵۶) به روایت ابن اسحاق ۔

………………………………………………………………………………………………………………

نہیں ہوا، اس لئے آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ واپسی کا اعلان کر دیں انھوں نے

واپسی کا اعلان کیا تولوگوں میں بہت شور ہوا اور کہنے لگے کہ ہم غیر الف فتح کئے

کیسے چلے جائیں ؟ رسول اللہصل اللہ علیہ سلم نےفرمایا اچھا قتال کے لئے چلو انھوں نے

قتال کا آغاز کیا اور اس کے نتیجے میں ان کو سخت چوٹیں پہونچیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ہم کل صبح انشاء اللہ واپس چلیں گے مسلمان یہ بہین کر

بہت خوش ہوئے اور سفر کی تیاری کر کے روانہ ہونے لگے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم

یہ نظر دیکھ کر ہنسنے لگے لیے

حنین کے باندی غلام اور مال غنیمت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ بحران میں قیام کیا اور ساتھ جوانہ

ہوازن کو اس کا موقع دیا کہ دس میں دن کے اندر اسلام قبول کر لیں اور آپ کی خدمت

میں حاضر ہوں، پھر آپ نے مال غنیمت کو تقسیم فرمانا شروع کیا، اور مولفت القلوب

ریعنی وہ لوگ جن کو دلداری اور تالیف قا کے لئے حصہ یا جاتا تھام کا حق رہے پہلے

آپ نے عنایت فرمایا، ابوسفیان اور ان کے دونوں بیٹوں یزید و معاویہ کو آپ نے

دل کھول کر عنایت فرما با حکیم بن الحرام بضربن الحارث اعلاء بن الحارثہ اور ان کے

علاوہ سرداران قریش کو بھی بہت قیاضی کے ساتھ اور کثیر مقدار میں عطا فرما یا پھر آپ نے

لے حوار سابی۔ صحیح بخاری اور مسیح مسلم میں بھی یہ واقعہ تھوڑے حذف و اضافہ کے ساتھ آیا ہے۔

ہنے کی وجہ غالبا یہ تھی کہ کل جب اپسی کے لئے کہا گیا تھا تو لوگوں کو مردود ہوا اب جو چشم زخم پہونچے

تو خوشی خوشی تیار ہو گئے ، آپ کو فطرت انسانی کی اس نیز نگی پر ہنسی آگئی۔

………………………………………………………………………………………………………………

عام مال غنیمت منگوایا اور تم لوگوں کوطلب فرماکران میں اسکو تقسیم کر دیا۔

انصار کی محبت اور ان کا ایثار

اس تقسیم پر جس میں قریش کے سرداروں اور مؤلفہ القلوب کا بہت بڑا حصہ

تھا، اور انصار کا بہت معمولی کچھ انصاری نوجوانوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر انصار کو ایک احاطہ میں جمع کیا اور ان کے

سامنے ایک ایسا موثر اور طاقتور خطبہ دیا کہ ان کے دل کے تار جھنجھنا اٹھے آنکھیں

اشکبار ہوگئیں، اور محبت و شوق کا ایک چشمہ ان کے دلوں میں اُبل پڑا۔

آپ نے فرمایا کیا میں تمھارے پاس اس حالت میں نہیں آیا تھا کہ تم سب گراہ

تھے، پھر میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی، تم غریب اور

مفلس تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تھیں دولتمند کیا، تم سب ایک دوسرے

کے دشمن تھے، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا ہے

ان سب نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کا فضل و احسان سے ہے

زیادہ ہے، جب وہ خاموش ہوئے، آپ نے فرمایا :-

اے انصار کیا تم مجھے اس سوال کا جواب دو گے؟

انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم اس بات کا آپ کو کیا جواب دے سکتے ہیں۔

سارا فضل و احسان اللہ اور اس کے رسول کا ہے

آپ نے فرمایا نہیں خدا کی قسم اگرتم چاہو تو کہ سکتے ہو تم جو کہو ے سے ہوگا۔

له زاد المعارج امت ۲ اختصار کے ساتھ۔

………………………………………………………………………………………………………………

اور میں اس کی تائید کروں گا کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا

جا چکا تھا، اس وقت ہم نے آپ کی تصدیق کی اور آپ کو سچ تسلیم کیا اور جو نے آپ کا

ساتھ چھوڑ دیا تھا ہم نے آپ کی مدد کی آپ کو لوگوں نے بے خانماں کر دیا تھا ہم نے

آپ کو پناہ دی آپ کا ہاتھ خالی تھا ہم نے آپ کے ساتھ ہمدردی اور آپ کی تسلی

و غمخواری کی”

پھر آپ نے ان کی طرف رخ کر کے ایک ایسی بات فرمائی جس میں ناز و اعتماد

بھی تھا، اور اس تقسیم و عطا کے فرق کی حکمت بھی بیان کر دی گئی تھی ۔

آپ نے فرمایا ” اے جماعت انصار کیا دنیا کی چند روزہ سرسبزی و شادابی

کے لئے جو میں نے ان کی تالیف قلب کے لئے انھیں دی ہے تاکہ وہ اس کی وجہ سے

اسلام پر ثابت قدم رہیں اور میں تمھارے اسلام کے اعتماد پر چھوڑ دیا تھا ،

تمھارے دل کے اندر میرے بارے میں کچھ خیال آتا ہے؟

پھر اس کے بعد آپ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس کو سن کر وہ اپنے قابو میں

نہیں رہے، اور ایمانی محبت کے سوتے ان کے دلوں میں بے ساختہ پھوٹ پڑھے۔

آپ نے فرمایا :-

اے جماعت انصار کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ اپنے ساتھ بھیڑ اور

بکریاں لے کر آئیں او تم اپنے خیموں میں اللہ کے رسول کو ساتھ لے کر جاؤ (صلی اللہ علیہ وسلم)

قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے تم جس چیز کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے

بہتر ہے وہ لے کر جائیں گے۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصاری کا ایک فرد ہوتا ۔

اگر لوگ کسی ایک راستہ اور وادی میں چلتے اور انا کسی دوسری وادی میں تو یلا نصار

کہیں

………………………………………………………………………………………………………………

ہی کی وادی میں چلتا ، انصار تو شعار (استر) ہیں (وہ کپڑا جو جسم پر براہ راست ہوتا

ہے۔) دوسرے لوگ شاہین (یعنی دو کپڑے جو اوپر ہوتے ہیں اور جسم سے مس نہیں کرتے )

لیے اثر انصار پرم خر، انصاری اولا د پر حجم فراه انصاری اولاد پر جرم فراه

بین کر تمام انصاری بے ساختہ رو پڑے اور ان کی داڑھیاں آنسو گر گئیں

وہ کہنے لگے ہم اس پر راضی اور خوش ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہارے حصہ اور

نصیب میں آئیں ہے۔

قیدیوں کی واپسی

ہوازن کا ایک وفد جو قہ آدمیوں پر مشتمل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلیم

سے آکر کہ ا، اور آپ سے درخواست کی کہ از راہ احسان آپ ان قیدیوں اور مال اسباب

کو انھیں واپس فرما دیں آپ نے فرمایا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ساتھ کون کون ہیں ؟

مجھے سب سے زیادہ وہ بات پسند ہے جو سچی ہو اب یہ بتاؤ کہ تمہاری اولاد اور تمھاری

عورتیں تھیں زیادہ محبوب ہیں یا تمھارا مال و اسباب ؟”

انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کے برابر کسی چیز کو نہیں سمجھتے

آپ نے فرمایا کہ کل صبح کی نماز کے بعد تم لوگ کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ مسلمانوں کے لئے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارشی بناتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے سامنے مسلمانوں کو سفارشی بنا کر پیش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے غلام باندی

لے اصل روایت صحیحین میں ہے صاحب زاد المعاد نے اس روایت کو زیادہ جامع اور مفصل

بیان میں بیان کیا ہے اور ہم نے اسی کو نقل کر دیا ہے، دیکھئے صحیح بخاری باب غزوة الطائف.

………………………………………………………………………………………………………………

واپس فرما دیں، جب آپ نے نماز صبح سے فراغت کی تو انھوں نے کھڑے ہو کر ایسا ہی

کہا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حصہ اور بنی عبد المطلب کے حصہ میں ؟

جو کچھ ہے وہ تمھارے حوالے ہے دوسرے لوگوں سے میں تمھارے لئے سفارش کرتا ہوں

اس پر مہاجرین و انصار نے کہا ہمارے حصہ کا جو کچھ ہے وہ سب رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہے ۔

بنی تمیم بنی فزارہ اور بنی سلیم کے ہیں آدمی اپنے حصہ سے دستبردار ہونے پر تیار

نہیں ہو رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایاکہ یہ لوگ مسلمان ہو کر آئے ہیں

میں نے ان کا انتظار بھی کیا اور ان کو اختیار دیا لیکن انھوں نے اپنی اولاد اور بیویوں

کے برابر کسی اور چیز کو قرار نہیں دیا ۔ اس لئے اگر کسی کے پاس ایسے قیدی ہوں اور وہ

ان کو خوش دلی سے دینا چاہے تو اس کا راستہ کھلا ہوا ہے ، اور اگراپنے حق کو چھوڑنا

نہ چاہے تو یہ ان کو دے دے اس شخص کو ہر حصہ کے بدلے میں کچھ حصے اس پہلے مال غنیمت

سے ملیں گے جو اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا۔

لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم کی خاطر ہم خوش دلی سے حاضر کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کون اس پر راضی ہے اور کون راضی نہیں ہے

اس وقت تم لوگ واپس جاؤ تمھارے سردار اور چودھری تمھارے صحیح صحیح معاملہ سے ہمیں

آگاہ کریں غرض رہنے ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس کردیا اور ایک شخص بھی اس میدان

میں کسی سے پیچھے نہیں رہا ہر قیدی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشاک بھی عطافرمائی

لے زادالمعاد الله یہ صحیح بخاری میں یہ واقعہ قول اللہ تعالیٰ: ” ويوم حنين إذ اء الكم

الآیه ” میں الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ آیا ہے۔

………………………………………………………………………………………………………………

۴۷۲

نرم دلی اور کریم النفسی

مسلمانوں نے اس ہنگاے ہیں دوسرے غلاموں باندیوں کے ساتھ جو تعداد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بھیجی ان میں حلیمہ سعدیہ کی لڑکی شہاء بھی تھہیں ہو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن تھیں مسلمان ان سے واقف نہ تھے، اس لئے

انھوں نے لے جانے میں سختی سے کام لیا، انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ خدا کی قسم تم کو

علوم ہونا چاہتے ہیں اسے سردار کی دودھ شریک ہی ہوں انھوں نے ان کی تھا

بات پر ریقین نہیں کیا اور ان کو آپ کی خدمت میں پہونچا دیا۔

بہن

جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت میں حاضر ہوئیں تو آپ سے

کہا کہ یا رسول اللہ میں آپ کی رضاعی بہن ہوں آپ نے فرمایا اس کی پہچان کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ ہاں جس وقت میں آپ کو گود میں لئے تھی آپ نے میری پیٹھ میں دانے سے

کاٹ لیا تھا، اس کا نشان موجود ہے آپ نے نشان پہچانا، اپنی چادر مبارک ان کے لئے

پھیلا دی اور ان کو اس پر بٹھایا، اوران و اختیار دیتے ہوئے کہاکہ گوتم چاہو تو بہت

محبت اور عزت کے ساتھ میرے ساتھ رہ سکتی ہوا اور اگر چاہو تومیں تخالف و سامان کے

ساتھ تم کو رخصت کر دوںاور اپنے بل میں پہونچ جو انہوں کہا کہ مجھے کو دینا چا۔

عنایت فرما دیں اور مجھے میری قوم میں واپس فرمادیں آپ نے انھیں عطا فرمایا، اور انھوں نے فرمادیں قوم

اسلام بھی قبول کر لیا آپ نے مین اعلام ایک باندی اور کچھ بکریاں انھیں عطافرمائیں

عمره جعرانه

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے اور

له زاد المعارج ۱ ص ۴۴۹

………………………………………………………………………………………………………………

جرانہ میں غلاموں اور مالی عظیمت کی تقسیم کا کام مکمل ہو گیا تو آپ نے عمرہ کے لئے احرام

باندھ لیا، یہ اہل طائف کا میقات تھا، اور مکہ سے ایک منزل پر تھا عمرہ سے فراغت کے

بعد آپ مدینہ تشریف لائے یہ ماہ ذی قعدہ شدہ کا واقعہ ہے ۔

اپنی رضا ور غبت سے

جب مسلمان طائف سے واپس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہو

ايبون تائبون عايدون لربنا ما مدون صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ

ثقیف کے لئے بد دعا کریں، آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ثقیف کو ہدایت دے اور ان کو یہاں “

رده بن سعود الشقفی مدینہ پہونچنے سے قبل را میں رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم سے

ملے اور اسلام لائے اور وہیں سے اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنی قوم میں واپس گئے

ان کو اپنی قوم میں بہت قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور وہ بہت

ہر دلعزیز اور محبوب تھے لیکن جب انھوںنے اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اپنے قبیلہ کو

اسلام کی دعوت دی تو ان کو تیروں کا نشانہ بنایا گیا، اور انھوں نے جام شہادت

نوش کیا۔

ان کے قتل کے بعد ثقیف نے کئی ماہ توقف کیا اور آپس میں مشورہ کرنے کے بعد

اس نتیجے پر پہونچے کہ موجودہ صورت حال میں ان سب عربوں سے لڑنے کی ان میں طاقت

نہیں جنھوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلمکے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور اسلم کے حلقہ بگوش

ہو چکے ہیں چنانچہ انھون رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی خدمت میں ایک وفد بھی نالے کیا۔

اے ابن ہشام ج ۲ متره ۲ صحیح بخاری باب غزوة الحديديه

31

………………………………………………………………………………………………………………

بت پرستی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ اور رعایت نہیں

یہ لوگ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی کے ایک گوشہ

میں ان کے لئے خیمہ لگایا، انھوں نے اسلام قبول کیا، اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم

سے یہ درخواست کی کہ ان کے خاص ثبت لات کو تین سال تک آپ نہ توڑیں ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور وہ برابر ایک ایک سال نیچے اترتے رہے

اور آپ انکار فرماتے رہے، آخربات یہاں تک پہونچی کہ ان کے آنے کے ایک ماہ بعد تک

اس کو نقصان نہ پہونچایا جائے، آپ نے انکار فرمایا اور دو افراد ابوسفیان اور خیرین

شعبہ جو اسی قبیلہ کے تھے کو کم دیا کہ وہ دونوں جا کر اس بت کو پاش پاش

کر ڈالیں، پھر انھوں نے درخواست کی کہ نماز سے ان کو معاف کر دیا جائے، آپ نے

فرمایا جس دین میں نماز نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں؟

جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوئے اور اپنے وطن کا رخ کیا تو آپ نے ان کے

ساتھ ابوسفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہعنہا کو بھی روانہ فرمایا مغیرہ نے بت شکنی کا

فرض انجام دیا۔ اس کے بعد اسلام ثقیف میں عام ہو گیا، اور اہل طائف کا ایک ایک

آدمی اسلام کی نعمت سے سرفراز ہوا۔

کعب بن زہیر کا قبول اسلام

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالف سے واپس تشریف لائے، تو آپ کی

له زاد المعادج امت ۴۵ – ۲۵۹ تلخیوں کے ساتھ۔

………………………………………………………………………………………………………………

خدمت میں کعب بن زہیر جو شاعر بھی تھے اور شاعر زادہ بھی آپ کی خدمت میں

حاضر ہوئے انھوں نے آپ کی بہت ہجو کی تھی لیکن پھر زمین ان پر تنگ ہوئی اور وہ

خود اپنے سے بیزار ہونے لگے تو ان کے بھائی بھیر نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ رسول اللہ صلی ال

علیہ وسلم کی خدمت میں تائب اور نادم ہو کر حاضر ہوں اور اسلام لے آئیں انھوں نے

ان کو ڈرایا کہ اگر ایسا انھوں نے نہ کیا توان کا انجام بہت بڑا ہو گا، اس پر انھوں نے

آپ کی مدح و منقبت میں وہ مشہور قصیدہ کہا جو قصیدہ بانت سعاد کے نام سے مشہور ہے

غرض وہ مدینہ آئے اور صبح کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے

بعد تشریف فرما تھے، خدمت مبارک میں حاضر ہوئے، آپ کے قریب بیٹھ گئے اور اپنا ہاتھ

آپ کے دست مبارک میں دے دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے صورت

آشنا نہ تھے چنانچہ انھوں نے کہا کہ کعب بن زہیر نائب اور مسلمان ہو کر آپ کی خدمت

میں حاضر ہے اور آپ سے امان کا خواستگار ہے کیا آپ اس کی توبہ قبول کریں گے؟

بہ سن کر ایک انصاری اس کی طرف لپکے اور کہا یا رسول اللہ مجھے اللہ کے دشمن سے نمٹ

لینے دیں، میں اسی وقت اس کی گردن مار دیتا ہوں ، آپ نے فرمایا نہیں رہنے دو

وہ تو بہ کر کے اور اپنی حرکتوں سے باز ہو کر یہاں آئے ہیں، پھر کو نے اپنا مشہور

قصیدہ لامیہ پڑھا جس کا مطلع یہ ہے :۔

بانت سعاد فقلبي اليوم متبول

متيم إثرها لم يقد مكبول

سعاد جدا ہو گئی ، میرا دل آج مریض محبت ہے اور اس کے سمجھے ایسا گرفتار ہے

جس کے پروں میں بڑی ڈال دی گئی ہے اور اسکور کرانے کی خاطر نیکی نہیں کیاگیا۔

………………………………………………………………………………………………………………

پھر اس قصیدہ کا مدحیہ شعر پڑھا :-

ان الرسول النور يستضاء به

مهند من سيوف الله مسلول

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ ایک نور ہیں جن سے اجالا ہے اور وہ

اللہ کی ایک تیز بے نیام تلوار ہیں۔

یہ شعر سن کر آپ نے اپنی چادر مبارک اتار کران کو عطا فرمائی ہے۔

*

ا زاد المعادج اصل ۲۲ – ۴۶۸

قسطلانی نے مواہب میں ابو بکرین الانباری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب وہ اس شر پر پہونچے تو

رسول الہ صلی الہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کران پر ڈالدی یہ وہی چادر ہے جس کو حضرت معاوی نے دس ہزار

دنا میں خریدنا چا لیکن انفورت جواب ایک میں رسول اللہ علیہ سلم کی چادر کے لئے کسی کو بیچے

نہیں دے سکتا ہ کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو میں ہزار دے کر

حاصل کیا وہ کہتےہیں کہ یہ وہی چادر ہے جو سلاطین اسلام کے پاس رہی (الزرقانی علی لواسی موت)