۵۰۹
حجۃ الودان
ذی الحجہ سته – فروری تہ)
حجة الوداع اور اس کے وقت کا انتخاب
جب مشیت الہی کی تکمیل ہوگئی، امت کے نفوس ثبت پرستی کی آلودگیوں اور
جاہلیت کی کی عادتوں عادتوں بادتوں سے سے سے پاک پاک اور اور ایا ایمان ان کی کی رہنی روشنی سے سے نور منور ہوگئے ہو گئے اور اوران ان کے کے دل دل کی کی سرد سرد
انگیٹھیوں میں شوق و محبت کی چنگاریاں پیدا ہوگئیں بیت اللہ بھی تو ہے اور یوں کی
گندگی سے پاک ھنا ہو گیا مسلمانوں کے اندر (جن کو حج بیت اللہ کئے ہوئے بہت عرصہ
ہو گیا تھا ج کا نیا شوق پیدا ہو گیا، اور محبت اور عشق کا جام نہ صرت برتنے ہوا بلکہ
چھلکنے لگا۔ جدائی کی گھڑی بھی بہت قریب آگئی، اور حالات کا تقاضہ ہوا کہ امت کو
وداع کہا جائے تو اللہ تعالی نے اپنے نبی کو اسلامیہ میں حج کی اجازت عطا فرمائی
اسلام میں یہ آپ کا پہلا حج تھا۔
حمة الوداع کی دعوتی تبلیغی اور تربیتی اہمیت
آپ مدینہ سے اس غرض سے روانہ ہوئے کہ حج بیت اللہ کریں گے مسلمانوں سے
ملیں گے، ان کو دین کی تعلیم دیں گے اور مناسک حج سکھائیں گے حق کی شہاد دی ہے
………………………………………………………………………………………………………………
اپنا فرض ادا کریں گے مسلمانوں کو آخری نصیحتیں اور صیتیں کریں گئے، ان سے
عہد و پیمان لیں گے جاہلیت کے آخری آثار و نشانات کو مٹائیں گے اور قدموں سے
پامال کریں گے، یہ حج ہزار وعظ اور ہزار درس تعلیم کا قائم مقام تھا، یہ دراصل
ایک چلتا پھرتا مدرسہ ایک متحرک مسجد اور ایک گشتی چھاؤنی تھی، جہاں ایک جاہل
علم سے آراستہ ہوتا، تناقل اپنی غفلت سے بیدار ہوتا شست و کابل چیست و
چالاک اور کمزور طاقتور بنتا، ایک ابر رحمت سفر و قیام ہر حالت میں اور ہر وقت
ان پر سایہ فگن رہتا، یہ رسول اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کی محبت و شفقت
اور آپ کی تربیت اور نگرانی و رہنمائی کا ابر رحمت تھا۔
حجة الوداع کا تاریخی ریکارڈ
صحابہ کرام جیسے نفقہ اور عادل راویوں نے اس سفر کے نازک سے نازک گوشوں
اور پہلوؤں اور اس کے چھوٹے چھوٹے واقعہ کا ایک ایسا ریکار ڈ ہمارے لئے محفوظ کر دیا
ہے جس کی مثال نہ سلاطین و امراء کے سفرناموں میں ملتی ہے نہ علما و مشائخ کی
سرگزشتوں میں ہے
لہ مثلاً ان روایات میں یہاں تک موجود ہے کہ آپ نے احترام کے وقت کی قسم کی خوشبو استعمال کی
باری کا اشعار کیا ارزخم لگایا، تواس کا نشان کی جانب تھا؟ کسی مقام رکھتا لگا یا کس مقام پر
آپ کو ایک شکار کئے ہوئے گور خر کا ہدیہ پیش کیا گیا، یہاں تک کہ منی کی شب میرا اس جم غفیر میں
سانپ کے نکلنے اور اس کے بیچ کر نکل جانے کا واقعہ بھی مذکور ہے آپ نے جن لوگوں کو اس سفر
اس
میں اپنے ساتھ سواری پر سوار کیا با وجود کہ ان کی تعداد ار میں ہی پہونچتی ہے ان کے بانی امی)
………………………………………………………………………………………………………………
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت و سفر حجتہ الوداع کے راستے اور ان کے مقامات
سفر ہجرت
مقامات
بواط
به عمد ترین
۲۴
عریفه مدوره
بطن رقم
ه معدن الحجاز (مهد الذهب)
ذوالحلیفہ
العبابي
حاج
وی العصر
المحاح
لف
افراد
(ابرار علی)
الوج و
الفاجة
دوسم
والاجو
الروحاء
سفر حجة الوداع
قدیم مقام کا جدید نام
الوا
م نبوع ۲۴
استیا (ام البرک)
قدیره
الج
ستوره
کار اپنے
رق
شمال
مغرب
-۲۲
۲۲-
المخلة و الظهران
عفان ؟
حلم ذهبان
جنوب
بده
پیمانه مسافت
۲۵
۳۸
………………………………………………………………………………………………………………
۵۱۱
حجة الوداع کا اجمالی جائزہ
ہم اس مخرج کا خلاصہ یہاں پیش کرتے ہیں جس کو حجۃ الوداع ” ” حجة
البلاغ اور حجۃ التمام ” کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ وہ
ان سب کا جامع ہے، بلکہ اس سے بھی سوا ہے آپ کے ساتھ اس سفر میلا کی لاکھ
سے زیادہ صحابی شریک تھے کہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیسے کیا ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا اور ذی قورہ سناید
میں) لوگوں کو اس کی اطلاع کر دی کہ آپ بچ کے لئے جانے والے ہیں یہ سن کر
لوگوں نے آپ کے ساتھ حج میں بھانے کی تیاریاں شروع کر دیں ۔
اس کی خبر مدینہ کے اطراف میں بھی پہونچی اور وہاں سے لوگ جوق جوق
مدینہ حاضر ہوئے راستہ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس قافلہ میشان ہوتے گئے کہ
باتی من کا نام حتی کہ اس حجام کا نام بھی مذکور ہے جس نے بال بنانے کی سعادت حاصل کی
موٹے مبارک تقسیم کئے تو اس کی بھی تفصیل موجود ہے کہ دائیں طرف کے بال کن لوگوں کو عطا ہوئے
ور بائیں جھانک کے کن لوگوں کو تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں حجتہ الوداع بینہ و مرت النبی صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم، مؤلفہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمہ الله نیز مقدر در کتاب
از راقم سطور ( طبع بیروت) اے ہم نے اس تلخیص میں علامہ ابن القیم کی نفیس کتاب
زاد المعاد” سے استفادہ کیا ہے جنہوں نے اس موضوع کا روایات تاریخ اور فقہ کی روشنی
میں پورا استیعاب کیا ہے کہ ان کی تعداد ایک لاکھ چودہ ہزار سے ایک لاکھ میں ہزار تک بتائی گئ ہے۔
الحجة
………………………………………………………………………………………………………………
ان کا شمار مشکل ہے، خلقت کا ایک ہجوم تھا جو آگے پیچھے دائیں بائیں حد نگاہ تک
آپ کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھا، آپ مدینہ سے دن میں ظہر کے بعد
۲۵ رذی قعدہ کو سنیچر کے دن روانہ ہوئے پہلے ظہر کی چار رکعتیں آپ نے
ادا فرمائیں اس سے پہلے خطبہ دیا اور اس میں احرام کے واجبات و منت بیان فرمائے۔
پھر تلبیہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك
لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك لمجمع ان الفاظ
میں کبھی اختصار ا ر کبھی زاد اور کبھی فرط شوق سے حذف واضافہ کرنا، آپ اس پر کوئی تنگیر
نہ فرماتے تلبیہ کا سلسلہ آپ نے برابر جاری رکھا اور معرج میں پہونچ کر پڑاؤ کا مسلہ آپ
کیا، آپ کی سواری اور حضرت ابوبکرنیہ کی سواری ایک تھی۔
پھر آگے روانہ ہوئے اور الابواء ” پہونچے، وہاں سے چل کر وادی عفان
اور شریف میں پہونچے پھر وہاں سے روانہ ہو کر ذی طوی میں منزل کی اور بیچے کی
رات وہاں گزاری یہ ذی الحجہ کی چار تاریخ تھی، فجرکی نماز آپ نے میں ادا زمانی
اسی روز غسل بھی فرمایا، اور مکہ کی طرف روانہ ہوئے، مکہ میں آپ کا داخلہ دن میں
بلندی کی طرف سے ہوا، وہاں سے چلتے ہوئے آپ حرم شریف میں داخل ہوئے
یہ چاشت کا وقت تھا، بیت اللہ پر نظر پڑتے ہی آپ نے فرمایا اللهم زدبتك
هذا تشريفا وتعظيما وتكريما ومهابة (اے اللہ اپنے اس گھر کی عزت و شرف
تنظیم و تکریم اور رعب واہلیت میں اور اضافہ فرما) دست مبارک بلند کرتے
تکبیر کہتے اور ارشاد فرماتے، اللهم أنت السلام ومنك السلام حينا ربنا السلام )
(اے اللہ آپ سلامتی ہیں، آپ ہی سے سلامتی کا وجود ہے اسے ہمارے رب ہم کو سلامتی کے
……………………………………………………………………………………………………………
کے ساتھ زندہ رکھ)
۵۱۳
جب حرم شریف میں آپ داخل ہوئے تو رہے پہلے آپ کے کو کائی کیا
حجر اسود کا سامنا ہوا تو آپ نے بغیر کسی مزاحمت کے اس کا بوسہ لیا پھر طواف کے
لئے داہنی طرف رخ کیا، بہت اللہ آپ کی بائیں طرف تھا، اس طواف کے پہلے
تین گشوط میں آپ نے ریل کی ہے۔
آپ تیز پھل رہے تھے، قدموں کا فاصلہ مختصر ہوتا تھا، اپنی چادر آپ نے
اپنے ایک شانہ پرڈال لی تھی دوسرا شانہ مبارک کھلا ہوا تھا، جب آپ حجر اسود کھلاہوا
کے سامنے گزارتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے اپنی چھڑی سے اسلام کرتے جب
طواف سے فراغت ہوئی تو مقام ابراہیم کے مجھے تشریف لائے اور یہ آیت تلاوت
فرمائی وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ ابرا هم ملی، اس کے بعد یہاں دوستیں پڑھیں
نماز سے فارغ ہو کر پھر حجر اسود کے قریب تشریف لے گئے اور اس کا بوسہ لیا پھر
صفا کی طرف اس دروانے سے چلے جو آپ کے مقابل تھا جب اسے مرتب کئے تو روایات
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ الله ليد أيما بدأ الله به اصفا اور مروه
اللہ تعالی کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں میں شروع کرتا ہوں اس سے جس سے اللہ
نے شروع کیا۔
پھر آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو نظر آنے لگا پھر قبلہ کی
طرف متوجہ ہو کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و کبریائی کا اعلان کیا ۔
لے ریل کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو منا سک مسائل جی کی کتابیں ۔ کہ جس کو اصطلاح میں
اضطباع کہتے ہیں تفصیل کے لئے مسائل کی کی کتابیں دیکھی جائیں ۔ ۵۳ سوره بقره ۱۲۵
………………………………………………………………………………………………………………
۵۱۳
لا إله الا الله وحده لا شریک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا
لالة الملك وله الحمد وهو ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا
على كل شئ قدير لا اله الا الله سب ملک اور بادشاہی ہے اور اہی
وحده انجز وعده ونصر کے لئے ساری حمد و تعریف ہے اور
عبده وهزم الأحزاب وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی
وحدها. مجود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی
شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ پورا
کیا اپنے بندہ کی درفرمائی اور نام
جماعتوں اور گرم ہوں کو تنہا شکت دی۔
کہ میں آپ نے چار روز سنیچر دو شنبہ نگل بدھ قیام فرمایا جمعرات کے روز روز بدھ یہ
دن نکلتے ہی آپ تمام مسلمانوں کے ساتھ منی تشریف لے آئے، ظہر وعصر کی نمازیں
یہیں ادا فرمائیں اور رات بھی نہیں اسیر کی یہ جمہ کی رات تھی، جب آفتاب نکل آیا تو ادان
آپ عرفہ کی طرف روانہ ہوئے آپ نے دیکھا کہ منہ میں آپ کے لئے خیمہ لگایا جا چکا
ہے چنانچہ آپ اسی میں اترے، جب زوال کا وقت ہو گیا تو اپنی اونٹنی قصواء
کو تیار کرنے کا حکم دیا، پھر وہاں سے روانہ ہوکر عرفہ کے میدان کے وسط میں آپ
نے منزل کی، اور اپنی سواری ہی پر تشریف رکھتے ہوئے ایک مہتم بالشان خطبہ یا
جس میں آپ نے اسلام کی بنیادوں کو واضح کیا اور شرک و جہالت کی بنیادیں
منہدم کر دیں اس میں ان تمام حرام چیزوں کی آپ نے تحریم فرمائی جن کے حرام
ہونے پر تمام مذاہب اقوام متفق ہیں اور وہ ہیں ناحق خون کرنا، مال غصب کرنا۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۱۵
اور آبروریزی کرنا، جاہلیت کی تمام باتوں اور مروجہ کاموں کو اپنے قدموں کے
نیچے ک پامال کردیا، جاہلیت کا شوشو کل کا حل آپ نے ختم فرمادیا اور اس کو بالکل باطل
قرار دیا۔ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی اور ان کے جو حقوق ہیں نیز ان کے
ذمہ جو حقوق ہیں، ان کی توضیح کی اور یہ بتایا کہ دستور کے مطابق خوراک اور لباس
نان نفقہ ان کا حق ہے۔
امت کو آپ نے کتاب اللہ کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی وصیت
کی اور ارشاد فرمایا کہ جب تک وہ اس کے ساتھ اپنے کو اچھی طرح وابستہ رکھیں گے
گمراہ نہ ہوں گے۔ آپ نے ان کو آگاہ کیا کہ ان سے کل قیامت کے دن آپ کے
بارے میں سوال ہوگا اور وہ اس کے جواب دہ ہوں گے، اس موقع پر آپ نے
تمام حاضرین سے دریافت فرمایا کہ وہ آپ کے متعلق کیا کہیں گے اور کیا گواہی اور کیا دیں گے
دیں گے ایک زبان ہوکر کہا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغام حق یکم
پہونچادیا، اپنا فرض پورا کیا، اور خیر خواہی کاحق ادا کر دیا، بیسن کو آپ نے آسمان
کی طرف انگلی اٹھائی اد مین باراللہ تعالی کو ان پرگواہ بنایا اور انکو حکم دیا کہ
جو یہاں موجود ہے وہ غیر ما مر تک یہ بات پہونچا دے۔
جب آپ خطبہ پورا فرما چکے تو آپ نے بلال کو اذان کا حکم دیا، انھوں نے
اذان دی پھر آپ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اسی طرح عصر کی بھی دو ہی
رکعت پڑھی، یہ جمعہ کا روز تھا۔
نماز سے فارغ ہو کر آپ اپنی سواری پر تشریف لے گئے اور موقع پر آئے یہاں
ے وقوت کی جگہ جہاں آپ نے دیر تک دعا فرمائی تھی وہ جگہ اب بھی عرفات میں حروف میں ہے۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۱۶
آپ اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے، اور غروب آفتاب تک دعاء و مناجات اور مالک الملک
کے حضور تضرع و ابتہال اور اپنی عاجزی و بے چارگی کے اظہار میں مشغول رہے،
دعا میں آپ اپنا دست مبارک سینے تک اٹھاتے تھے، جیسا کہ کوئی سائل اور مکین
نان شبینہ کا سوال کر رہا ہو، دعایہ تھی :۔
اللهم انك تسمع كلامي وندی اے اللہ تو میری بات سنتا ہے اور میری
مکانی وتعلم متری و علانیتی جگہ کو دیکھتا ہے اور میرے پوشیدہ اور
لا يخفى عليك شئ من أمري ظاہر کو جانتا ہے تجھ سے میری کوئی
أنا البائس الفقير المستغيث بات بھی نہیں رہ سکتی جو مجھیت ایده
المستجير والوجل المشفق ہوں محتاج ہوں فریادی ہوں
المقر المعترف بذنوبي پناہ جو ہوں پریشان ہوں ہر انساں
أسألك مسألة المسكين ہوں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے والا
وابتهل البیک ابتهال ہوں اعتراف کرنے والا ہوں،
المذنب الذلیل وأد عو تیرے آگے سوال کرتا ہوں جیسے
دعاء الخالفت الضرير من بیکر سوال کرتے ہیں تیرے آگے
خضعت لك رقبتہ گڑ گڑاتا ہوں جیسے گنہ گار ذلیل و خوار
وفاضت لك عيناه وذل گڑ گڑاتا ہے اور تجھ سے طلب کرتا
جسده ورغم أنفه لك ہوں جیسے خوف زدہ آفت رسیده
اللهم لا تجعلني بدعائك طلب کرتا ہوا اور جیسے شخص طلب
رب شقيا و كن بي رو و فار دیا کرتا ہے جس کی گردن تیرے سامنے
………………………………………………………………………………………………………………
يا خير المسئولین جھکی ہوا اور اس کے آنسو بہہ رہے
ويا خير المعطين.
ہوں اور تن بدن وہ تیرے آگے
فروتنی کئے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے
سامتے رگڑ رہا ہوں اے رب تو مجھے اپنے
سے دعا مانگنے میں ناکام نہ رکھ اور تیرے
میں بڑا ہران اور دم کرنے والے
ہو بھا کے سپانگے جانے والوں سے
بہتر اور سب دینے والوں سے اچھے۔
اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : – الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ
عرفہ سے
عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلام دينا جب آفتاب غروب ہو گیا تو آپ
روانہ ہوگئے اور اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھایا، آپ متانت سکون
و وقار کے ساتھ آگے چلے اوٹنی کی بہار آپ نے اس طرح سمیٹ لی تھی کہ قریب تھا کہ
سر آپ کے کجاوہ سے لگ جائے، آپ کہتے جاتے تھے کہ لوگو اسکون اور اطمینان کے
ساتھ چلو راستہ پھر آپ تنبیہ کرتے جاتے، اور جب تک مزدلفہ نہ پہونچے یہ سلسلہ
جاری رہا، وہاں پہونچتے ہی آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم فرمایا، اذان اذا
دی گئی، آپ کھڑے ہو گئے اور اونٹوں کو بٹھائے اور سامان اتارنے سے پہلے مغرب
کی نماز ادا فرمائی جب لوگوں نے سامان اتار لیا تو آپ نے عشا کی نماز بھی ادا فرمائی
پھر آپ آرام فرمانے کے لئے لیٹ گئے اور فجر تک سوئے۔
ل سوره مائده – ۳
………………………………………………………………………………………………………………
نماز فجر اول وقت ادا فرمائی پھر سواری پربیٹے اور شعرالحرام آئے اور قبلہ رو
ہو کر دعاء و تصریح تکبیر و تہلیل اور ذکر میں مشغول ہو گئے، یہاں تک کہ خوب روشنی
پھیل گئی، یہ طلوع آفتاب سے پہلے کی بات ہے پھر آپ مزدلفہ سے روانہ ہوئے
فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سواری پر آپ کے پیچھے تھے آپ برابر تلبیہ میں شغول رہے
آپ نے ابن عباس کو حکم دیا کہ دی جا کے لے سات کنکریاں چین میں جب آپ وادی
محشر کے وسط میں پہونچے تو آپ نے اونٹنی کو تیز کردیا اور بہت عجلت فرمائی اس لئے کہ
یہی وہ جگہ ہے جہاں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا یہاں تک کہ منی پہونچے
اور وہاں سے جمرۃ العقبہ تشریف لائے اور سواری پر طلوع آفتاب کے بعد رمی
کی اور تلبیہ موقوت کیا۔
پھر منی واپسی ہوئی یہاں پہونچ کر آپ نے ایک بلیغ خطبہ دیا جس میں
آپ نے یوم النحر کی حرمت سے آگاہ کیا اور اللہ تعالی کے نزدیک اس دن کی جو فضیلت
ہے اس کو بیان کیا، دوسرے تمام شہروں پرکہ کی افضلیت و برتری کا ذکر کیا اور
جو کتاب اللہ کی روشنی میں ان کی قیادت کرے اس کی اطاعت و فرمانبرداری
ان پر واجب قرار دی ، پھر آپ نے حاضرین سے کہا کہ وہ اپنے مناسک و اعمال
جو آپ سے معلوم کر لیں، آپ نے لوگوں کو یہ بھی تلقین فرمائی کہ دیکھو میرے بعد
کا روں کی طرح نہ ہوجانا، جو ایک دوسرے کی گردن مارتے رہتے ہیں آپ نے بھی حکم
دیا کہ یہ سب باتیں دوسروں تک پہونچا دی جائیں اس خطہ میں آپ نے بھی ارشاد فرایا ۔
اعيد، واربکھ و بلوا کر اپنے رب کی عبادت کروا پانچ دقت
وصوموا شهر كم و اطیعو انا کی نماز پڑھو ایک مہینہ (رمضان)
………………………………………………………………………………………………………………
۵/۹
أمركم تدخلوا جنة کا روزہ رکھو اور اپنے اولی الامر
ريكم.
کی اطاعت کرو اپنے رب کی
جنت میں داخل ہو جاؤگے۔
اس وقت آپ نے لوگوں کے سامنے الوداعیہ کلمات کبھی کہے اور اسی وجہ
سے اس حج کا نام ” حجۃ الوداع پڑا.
پھر آپ منی میں مسخر تشریف لے گئے، اور ترسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے
ذبیح فرمائے جتنے اونٹ آپ نے ذبح کئے وہی تعداد آپ کی عمر شریعت کے برسوں کی بھی ہے اتنی
تعداد کے بعد آپ نے توقف کیا، اور حضرت علی کرم اللہ وجہ سے کہا کہ تومیں جتے
باقی ہیں، وہ پورے کریں، غرض جب آپ نے قربانی مکمل کر لی تو آپ نے حجام کوطلب
فرمایا، اور حق کروایا، اور اپنے موئے مبارک قریب کے لوگوں میںتقسیم فرما دیئے پھر سواری
پر مکہ روانہ ہوئے، طواف افاضہ کیا جس کو طواف زیارت بھی کہتے ہیں پھر بئر زمزم
کے پاس تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پانی نوش فرمایا، پھر اسی روز منی واپسی ہوئی
اور شب وہیں گزاری، دوسرے دن آپ زوال آفتاب کا انتظار کرتے رہے،
جب زوال کا وقت ہو گیا تو آپ اپنی سواری سے اتر کر رمی جمار کے لئے تشریف
لے گئے جمرہ اولی سے آغاز فرمایا، اس کے بعد مجمرہ وسطی اور جمرہ عقبہ کے قریب جاکر
رمی کی منی میں آپ نے دو خطبے دیئے، ایک قربانی کے دن جس کا ذکر بھی اوپر گذرا،
دوسرا قربانی کے دوسرے روز
یہاں آپ نے تو قفت فرمایا، اور ایام تشریق کے تینوں دن کی رمی کمل کی
پھرکہ کی طرف روانہ ہوئے اور سحر کے وقت طواف وداع کیا، اور لوگوں کو تیاری
34
………………………………………………………………………………………………………………
حکم فرمایا، اور مدینہ روانہ ہوگئے ایه
جب آپ غدیر خم پہونچے تو آپ نے ایک خطبہ یا اور حضرت علی کی فضیلت
بیان فرمائی، اس موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ :
من كنت مولاہ فعلی مولانا جس کو میں محبوب ہوں علی بھی اس کو
الله وال من والاوعاد محبوب ہونا چاہئے اسے اللہ ابوعلی
من عاد الله
سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت
رکھ اور جو ان سے عداوت رکھنے
اس سے تو بھی عداوت رکھ ۔
جب آپ ذو الحلیفہ آئے تو رات یہیں بسر کی اسواد مدینہ پر آپ کی نظر پڑی
تو آپ نے تین بار تکبیر کی اور انشاد فرمایا:
لا إله الا الله وحده
خدا بزرگ و برتر ہے اس کے سوا
لا شريك له له الملك وله کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک
الحمد وهو على كل شئ قدیر نہیں ایس اسی کی سلطنت ہے
لے یہ حصہ زاد المعاد سے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے ،ج ۱ (۱۸۰-۲۳۹) ان مباحث کو چھوڑ دیا گیا ہے
جن ابن مصنف نے زیادہ توقع تفصیل سے کام نیا ہے اسی طرح فقہاء و محدثین کے اختلافات بھی حروف
کر دیئے گئے ہیں سے غدیریم کر اور مدینہ کے درمیان ہے، جحفہ اور اس میں ڈومیل کا فاصلہ ہے۔
سے بروایت امام احمد اور نسائی، اور خطبہ کے ارشاد فرمانے کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ لوگوں نے
حضرت علی کی آپ سے (بیجا شکایت کی تھی اور ان کو آپ سے کبیر کی ہوگئی تھی بعض ایسے
لوگوں نے ان پر اعتراضات کئے تھے، جو کین میں ان کے ساتھ تھے او حضرت علی کے اس رویہ سے ؟
انا پینا تھا ان کو غلط نہی ہوئی تھی کہ اس کی جانبداری سے کام لیاگیا ہے ابن تیر 1
………………………………………………………………………………………………………………
۵۲۱
ائبون تائبون، عابدون اسی کے لئے رح و تائش ہے وہ
ساجدون، لربنا ما مدون ہر بات پر قادر ہے لوٹے آرہے ہیں
صدق الله وعده ونمسر توبہ کرتے ہوئے فرمانبردارانہ
عبده وهزم الأحزاب زمین پر پیشانی رکھ کر اپنے پروردگار
وحدنا
کی مدح و ستائش میں مشغول ہو کر
خدا نے اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے
بندہ کی نصرت کی اور تمام قبائل
کو تنہا شکست دی۔
آپ مدینہ طیبہ میں دن کے وقت داخل ہوئے۔
حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ
یہاں پر ہم اس خطبہ کا پورا تمن دے رہے ہیں، جو آپ نے عرفہ کے روز دیا
تھا، اسی طرح ایام تشریق کے درمیان جو خطبہ آپ نے دیا تھا، اس کا بھی پورا تن
یہاں پیش کیا جا رہا ہے اس لئے کہ یہ دونوں عظیم الشان خطبے اپنے اندر درجہ
سامان کو عظت رکھتے ہیں، اور کثیر فوائد پرمشتمل ہیں۔
خطبه عرفه
ان دماء كم وأموالكم تمھارا خون اور تمھارا نالا اسی طرح
له زاد المعارج ۱ ص ۲۴۹
………………………………………………………………………………………………………………
۵۲۲
حرام عليكم كحرمة يومكم هذا حرام ہے جس طرح یہ دن اس
في شهر كم هذا، في بلد كم هذا مہینہ میں اور اس شہر میں حرام
ألا ! إن كل شئ من أمر ہے بھی یاد رکھو کہ ہر جاہلی امر
الجاهلية تحت قدمی باطل ہے اور جاہلیت کے تمام
موضوع، ودماء الجاهلية خون (یعنی انتظامی خون) باطل
موضوعة وإن أول دم کر دیئے گئے، اور سب سے پہلے میں
أضعه من دماء نادم ابن اپنے خاندان کا خون ابن
ربيعة بن الحارث كان ربیعہ بن الحارث کا خون باطل
مستر ضافی بنی سعد فقتلتہ کر دیتا ہوں، جس نے بنی سعد میں
هذيل، وربا الجاهلية پرورش پائی اور اس کو ہذیل نے
موضوع، واول ریا أضع قتل کر ڈالا جاہلیت کے تمام
من ريانا ريا العباس بن سود بھی باطل کر دیئے گئے اور
عبد المطلب، فإنه موضوع سب سے پہلے اپنے خاندان کا سود
كله، فاتقوا الله في النساء عباس بن عبد المطلب کا سود
فانكم اخذ تموهن بامانة باطل کرتا ہوں، یہ سب کا سب
الله واستحللتم فروجهن باطل ہے عورتوں کے معاملہ میں
بكلمة الله ولكم على هن خدا سے ڈرو تم نے ان کو اللہ
أن لا يوطئن فرشكم أحدا کی امانت کے طور پر حاصل کیا
تكرهونه، فإن فعلن ذلك ہے اور ان کی شرمگاہوں کو
………………………………………………………………………………………………………………
فاضربوهن ضربا غیر مبرح اللہ کی بات کے ساتھ حلال سمجھا
ولهن عليكم رزقهن وکیوهن ہے، اور تمھاری طرف سے ان پر
بالمعروف وقد تركت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمھارے
فيكم ما لم تضلوا بعده بستری کسی غیر کو جس کا آنانم کو
ان اعتصم مر به كتاب گوارا نہیں ہے، نہ آنے دیں اگر
الله وانتم تسئلون عنی وہ ایسا کریں تو تم ان کو ایسی مار
فماذا أنتم قائلون؟ قالوا: ما رو جو نمودار نہ ہوا اور ان کا حق
نشهد انك قد بلغت تمھارے اوپر یہ ہے کہ ان کو معقول
واديت و نصحت، فقال طریقہ پر ان کی خوراک اور پوشاک
باصبعه السبابة يدفعها کا انتظام کرو، میں تم میں ایک چیز
إلى السماء وینکا الی چھوڑ جاتا ہوں اگر تم نے اس کو
الناس اللهم اشهد ثلاث مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ چیز
مرات.
کیا ہے ؟ کتاب اللہ تم سے خدا
کے ہاں میری نسبت پوچھا جائے گا
تم کیا جواب دو گے ؟ صحابہ نے
عرض کی ہم کہیں گے کہ آپ نے
خدا کا پیغام پہونچا دیا اپنا فرض
لله مسلم، ابود اولد و غیره بروایت حضرت جابر ابن عبد الله به روایت حضرت جعفر صادق
حضرت محمد الباقر سے اور وہ حضرت جابر سے کرتے ہیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
۵۷۴
ادا کر دیا، آپ نے شہادت کی
انگلی آسمان کی طرف اٹھائی او
تین مرتبہ فرمایا ای خدا و گواه اینها
ایام تشریق کے وسط میں جو خطبہ آپ نے دیا تھا، اس کا متن یہ ہے :۔
نياتها الناس اهل تدرون اے لوگو کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا
في اي شهر انتم و فی ای یوم مہینہ اور گون دن ہے ؟ اونم کسی
انتم وفی ای بلد انتمر ؟ شہری ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا:
فقالوا : في يوم حرام ، و بلد یہ دن بڑا یا حرمت اور یہ مہینہ
حرام، و شهر حرام، قال: انا بڑا قابل احترام ہے، اور یہ
دماء كم وأموالكم و اهر ا فکر شہر حرمت والا ہے تو آپ نے
عليكم حرام كحرمة يومكم فرمایا تمھارا خون انتمھارا مال اور
هذا في شهر كم هذا و فی تمھاری عزتیں اسی طرح قیامت
بلدكم هذا الى يوم تلقونه تک حرام ہیں جس طرح یہ دان
ثم قال : اسمعوا منی تعیشون یہ مہینہ اور یہ شہر ہے، پھر
ألا لا تظلموا ألا لا تظلموا فرمایا، ستو مجھ سے وہ باتیں سنو
ألا لا تظلموا أنه لا يحمل جس سے تم میں زندگی گزار کروگے
مال امری مسلم الايطيب ر ر ر رام ا ر ا ن کا خیر ا عظم نہ نه کرنا، كرد
خبردار
نفس منه الا اور ان كل خبر دار ظلم کرنا کس مسلمان شخص
دم ومال ومأثرة كانت کے مال میں سے کچھ لینا جائز نہیں
………………………………………………………………………………………………………………
۵۲۵
في الجاهلية تحت قدمى ہاں اگر وہ راضی ہوں تو کوئی حرج
هذه الى يوم القيامة، نہیں ہر خون، ہر مال ہو جاہلیت
وان اول دم يوضع دم سے چلا آتا تھا تا قیامت وہ باطل
ربيعة بن الحارث بن ہے اور سب سے پہلا خون جو باطل
عبد المطلب كان مسترضعا کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن الحارث
في بني ليث فقتلته هذيل بن عبد المطلب کا خون اس نے
الا إ وان كل ربا في الجاهلية بنی بیت میں پرورش پائی تھی اور
موضوع وان الله عز وجل هذیل نے اس کو قتل کر دیا تھا،
قضى أن أول ربا بوضع جاہلیت کے تمام سود بھی باطل
ريا العباس بن کر دیئے گئے، اور اللہ تعالی نے
عبد المطلب ، لكم رؤوس فیصلہ فرما دیا کہ جو سب سے پہلا سو
امو الكم لا تظلمون ولا باطل کیا جائے، وہ عباس بن
تظلمون، ألا إ و إن الزمان عبد المطلب کا سود ہے، تمھارا
لے صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں ربیعہ کے بجائے ابن ربیعہ کے لفظ آئے ہیں، اور
وہی مراد بھی ہیں، اس لئے کہ ربیعہ بن الحارث جو آپ کے رشتہ کے بھائی تھے، وہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ماریہ کی خلافت تک بقید حیات تھے جن روایات میں دم ربیعہ
ابن الحارث کے الفاظ آئے ہیں، ان کی تاویل کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے حارث مفتول
کے ولی الدم اور شرع و قانونا اس کے مطالبہ کا استحقاق رکھتے تھے، اس لئے ان کا نام لیاگیا۔
( شرح صحیح مسلم للنووی ج ۸ ۱۸)
—
۵۲۶
قد استدار كهيئته راس المال تمھارے لئے محفوظ
يوم خلق السموات ہے اس میں نہ تم کسی پرظلم کرو گے
والارض ، ثم قرأ: نہ تمھارے اوپر ظلم کیا جائے گا
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ ابتدا میں خدا نے جب آسمان
عِنْدَ اللهِ اثنا عشر شهرا و زمین کو پیدا کیا تا زمانہ پر پھر کر
في كتب اللهِ يَوْمَ خَلَقَ آج اسی نقطہ پر آگیا پھر آپ نے
السَّمَوتِ وَالْأَرمن منا یہ آیت تلاوت فرمائی کی خدا کے
أربعة حرم و ذالك الله نزدیک مہینے گنتی میں زیادہ ہیں
الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا بینی) اس روز (سے) کہ اس نے
فيهِنَّ أَنْفُسَكُم الا آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کارت
لا ترجعوا بعدی کفاراً خدائیں (بریس کے بارہ مہینے
يضرب بعضكم رقاب دیکھے ہوئے ہیں ان میں سے
بعض، ألا إن الشیطان چار مہینے ادب کے ہیں بہا دین
قد أبى أن يعبده (کا) سیدھا راستہ ہے تو ان
المصلون، ولكنه في (مہینوں) میں (قتال ناحق سے)
التحريش بينكم، اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا ہاں میرے
واتقوا الله في النساء بعد کا فراہی نہ ہو جاتا کہ خود
فانهن عند که عوان ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو
لا يملكن لأنفسهن شيئا، اور ہاں ایشیطان بھی اس سے
………………………………………………………………………………………………………………
۵۲۷
وان لهن عليكم حقا ، مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے
ولكم عليهن حقا أن والے اس کی پرستش کریں لیکن
لا يوطئن فرشكم أحدا وہ تمھارے درمیان رفته اندازی
غيركم ولا يأذن کرے گا عورتوں کے معاملہ میں
في بيوتكم الأمن تكرهونه خدا سے ڈرو، کیونکہ وہ تمھار کیا
فان خفتم نشوز من دست نگر ہیں، وہ اپنے لئے خود
فعظو هن واهجر دھن کوئی اختیار نہیں کرتیں اور
في المضاجع واضربوهن ان کا تم پرچتی ہے، اور تمھارا
ضربا غير مبرح ولمن ان پر کہ وہ تمھارے علاوہ تمھارے
رزقهن وكسوتهن بالمعزو بستر پر کسی کو آنے نہ دیں اور نہ
وانما اخذ نموهن بأمانة ایسے شخص کو تمھارے گھر آئے ہیں
الله واستحللتم فروجن سے تم اپنا کرتے ہو اور اگرتم ان کی
بكلمة الله عز وجل نافرمانی سے خوف محسوس کرو تو
ألا ومن كانت عنده انھیں نصیحت کرو اور ان کو
امانة قليودھا الی من ان کی خوابگاہوں میں چھوڑ دو
ائتمنه عليها وبسط اور ہلکی بار بار و اور انھیں کھاتے
يديه، وقال الا اهل کپڑے کا حق معلوم طریقے پر حاصل
بلغت ؟ ألا اهل بلغت ہے تم نے انھیں خدا کی امانت کے
ثم قال ليبلغ الشاهد طور پر حاصل کیا ہے اور ان ناموس کی
……………………………………………………………………………………………………………
النائب فأنه رب مسلم اللہ کے نام سے حلال کیا ہے آگاہ
اسعد من سامع.
ہو جاؤ جس کے پاس کوئی امانت
ہو وہ صاحب امانت کو واپس
کر دے اتنا فرمانے کے بعد آپ نے
اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا
کر کیا میں نے پیغام پہنچا دیا گیا
میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ پھر فرمایا
ہو حاضر ہیں وہ غیر حاضر لوگوں
تک یہ بات پہنچا دیں کیونکہ ہر سے
غیر حاضر سننے والوں سے زیادہ
خوش بخت ہوتے ہیں۔
له رواه الامام احمد عن إلى حرة الرقاشي عن عمه –