جزیرۃ العرب

جزیرۃ العرب کے حدود

جزیرۃ العرب اپنے طول و عرض میں دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے۔ علماءِ عرب مجازاً اس پر ’’جزیرۃ العرب‘‘ کا اطلاق کرتے ہیں۔ اس کے تین طرف پانی ہے۔ ملکِ ایشیا کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں خلیجِ عرب ہے، جسے یونانی خلیجِ فارس کے نام سے جانتے ہیں، اس کے جنوب میں بحرِ ہند ہے اور اس کے مغرب میں بحرِ احمر ہے، جسے جدید نقشوں میں اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور یونانی و لاطینی اصطلاح میں اس کو خلیجِ عرب (SINUS ARABICUS) کے نام سے جانا جاتا ہے، اور قدیم عربی کتابوں میں بحرِ قلزم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس کی شمالی حد صحرائے شام ہے، جو علماءِ عرب کی اصطلاح میں خلیجِ عقبہ سے خلیجِ عرب میں شط العرب کے دہانے تک گزرتا ہے۔

حاشیہ ۱: ہم نے اس حصے میں تاریخِ عرب و سیرت کے لیے اپنی بنیادی معلومات کا انتخاب کیا ہے جن کا جاننا ضروری ہے، جیسے اس خطے کی طبعی حالت و جغرافیہ، اقوام و مذاہب کی تاریخ میں اس کا مقام، اس کے باشندوں کے رجحانات وغیرہ۔ اس طرح سیرت کا مطالعہ کرنے والا اس ماحول سے بالکل ناواقف نہیں رہے گا جس میں کارِ نبوت کی عظیم مہم انجام دی گئی۔ یہ مضمون ان قدیم و جدید کتابوں سے ماخوذ ہے جو جزیرۃ العرب کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ ہم نے خاص طور پر ڈاکٹر جواد علی کی کتاب ’’المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام‘‘ (۱۔۹) سے زیادہ استفادہ کیا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل کا محل وہ کتابیں ہیں جو جزیرۃ العرب کے جغرافیہ، تمدنِ عرب اور تاریخِ ادبِ عربی سے متعلق ہیں، ان کا شمار یہاں ممکن نہیں۔
حاشیہ ۲: ملکِ عرب کے لیے ’’جزیرۃ العرب‘‘ کا اطلاق قدیم زمانے سے عام رہا ہے۔ حقیقتاً یہ جزیرہ نما ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس کو جدید جغرافیائی اصطلاح میں جزیرہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا ایک نمونہ علامہ خضری کی کتاب ’’تاريخ الأمم الإسلامية‘‘، حصۂ اول میں دیکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ کوشش تکلف سے خالی نہیں، اور جزیرۃ العرب کے حدود کو جاننے کے لیے اس تکلف کی ضرورت نہیں۔
جزیرہ نمائے عرب - سیاسی نقشہ
جزیرہ نمائے عرب — اصل کتاب کا سیاسی نقشہ

مسلمانوں نے جزیرۃ العرب کو پانچ قسموں پر تقسیم کیا ہے: (۱) حجاز، جو ایلہ سے یمن تک ہے، اور ان کی رائے میں اس کو حجاز اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اس پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے جو تہامہ، یعنی بحرِ احمر کے ساحل کی نشیبی زمین، کو نجد سے الگ کرتا ہے۔ (۲) تہامہ، جس کا الگ بیان ہوگا۔ (۳) یمن۔ (۴) نجد، یہ وہ مرتفع حصہ ہے جو حجاز کے پہاڑوں سے شروع ہو کر مشرق میں صحرائے بحرین تک چلا جاتا ہے۔ یہ وسیع و مرتفع علاقہ ہے جس میں بہت سے ریگستان اور پہاڑ واقع ہیں۔ (۵) عروض؛ اس کے مشرق میں بحرین اور مغرب میں حجاز ہے۔ اسے عروض، یمن اور نجد کے درمیان ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں، اسے یمامہ بھی کہا جاتا ہے۔

راویانِ جغرافیہ اس تقسیم کی سب سے پرانی روایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ تک پہنچاتے ہیں۔

جزیرۃ العرب کے طبعی حالات اور اس کے باشندے

اس پورے جزیرہ پر صحرائیت کا غلبہ ہے، اور طبعی عوامل اور ارضیاتی حوادث اور اپنے جغرافیائی وقوع کے سبب یہاں خشکی غالب ہے۔ اسی وجہ سے ماضی اور زمانۂ حال میں اس کے باشندوں کی تعداد بہت کم رہی ہے، اور متمدن معاشرے اور شہری حکومتیں وجود میں نہ آ سکیں۔ بدویت اور اس کے دیہاتی رنگ، افرادیت کے شدید رجحان اور قبائلی جنگ و جدال کے سبب تمدن سرسبز علاقوں اور ان جگہوں میں سمٹ کر رہ گیا جہاں اچھی بارش ہوتی، یا سوتے اور چشمے پھوٹتے تھے، یا جہاں پانی سطحِ زمین سے قریب ہوتا اور اس میں کنویں کھودے جا سکتے تھے۔

جزیرہ نمائے عرب - طبعی نقشہ
جزیرہ نمائے عرب — اصل کتاب کا طبعی نقشہ

اس لیے کہنا چاہیے کہ جزیرۃ العرب میں زندگی کی سرگرمی پانی کی بدولت باقی رہتی تھی، اور پانی ہی کا تعاقب کرنے اور اسی کی تلاش میں رہنے نے فطرتِ عرب کو ہر چیز سے آزاد اور غیر متعلق کر دیا تھا۔ وہ کسانوں کی طرح زمین سے ایک جگہ چپکے نہیں رہتے تھے، بلکہ کسی سرزمین پر وہ اسی وقت تک قیام پذیر رہتے تھے جب تک وہاں جانوروں کے لیے گھاس چارہ اور ان کے لیے پانی رہتا تھا، اور جب یہ سہولت ختم ہو جاتی تو وہ نئی جگہوں کی تلاش میں چل پڑتے تھے۔

اس وجہ سے ان کی زندگی جفاکشی اور سختی کا نمونہ تھی، اور ان کی سوسائٹی قبیلے کی شکل اختیار کر لیتی۔ قبیلہ ایک بدوی حکومت و قومیت کے مترادف ہوتا تھا۔ بدوی زندگی راحت طلبی اور استقرار و استحکام سے ناآشنا اور قوت کی زبان سمجھتی تھی۔ یہ ایسی زندگی تھی جو انسانوں کے لیے مشقت و مصیبت ہی لاتی تھی، اور پھر متمدن آبادیوں کے لیے بھی خطرہ بنی رہتی تھی؛ چنانچہ وہ آپس میں بھی لڑتے تھے اور فرصت پا کر متمدن آبادیوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتے تھے۔

لیکن دوسرے لحاظ سے ایک عرب اپنے قبیلے کے آداب و روایات کے سلسلے میں بڑا وفادار و مخلص ہوتا تھا۔ وہ شریف النفس میزبان ہوتا، مہمانی کے تمام فرائض بخوبی انجام دیتا، پناہ دینے کا حق ادا کرتا، دوستی کا حق ادا کرتا اور رسم و رواج کا آخری درجہ تک احترام کرتا تھا۔ ان تمام خصوصیات کی گواہی ان کے شعر و ادب، حکم و امثال اور کردار و اطوار سے کثرت سے ملتی ہے۔

ایک عرب بداوت کا دلدادہ، حریت کا عاشق، حقیقت پسند، فعال و عملی انسان ہوتا تھا۔ وہ رکیک اور پست حرکتوں سے پرہیز کرتا تھا۔ وہ اپنی محدود زندگی اور پسماندگی پر نہ صرف راضی بلکہ نازاں اور اپنے مقدر پر خوش و مطمئن تھا۔ مذہب سے اس کا علاقہ اکثر کمزور و متزلزل ہوتا، لیکن اپنے قبائلی رسوم اور آبائی روایات پر اس کا ایمان اس سے کہیں زیادہ پختہ ہوتا تھا۔ ان کا اخلاقی نصب العین ان شرفانہ و مردانہ صفات کا مجموعہ تھا جسے وہ لفظ ’’مروّت‘‘ سے تعبیر کرتے اور اپنے شعر و ادب میں جس کے گیت گاتے اور ذکر کرتے تھے۔

تمدنی و ثقافتی مراکز

ان جگہوں میں جہاں بارش، چشمے یا کنوؤں کا پانی وافر طور پر بہتا، قریوں اور دیہاتوں اور موسمی بازاروں اور میلوں کی شکل میں ایک تمدن وجود میں آ جاتا تھا۔ ان چیزوں کا عربوں کی زندگی پر گہرا اثر پڑتا تھا۔ زندگی کے ان مرکزوں میں وہ معاشرے اور احوال پیدا ہوتے جن کا خاص رنگ اور مستقل طرزِ زندگی ہوتا، اور آب و ہوا، صنعت و حرفت، پیشوں اور معاشرے کے اقتصادی حالات کا الگ رنگ نمایاں ہوتا تھا۔

چنانچہ ہمیں ایک خاص شہری معاشرہ نظر آتا ہے جس کا امتیاز بالکل الگ تھا۔ اسی طرح اہلِ بدو اور اہلِ عرب کے دوسرے معاشرے اپنی خصوصیات رکھتے تھے، لیکن شہری عرب معاشروں میں اپنے مخصوص حالات، قدیم تمدنی تاریخ اور نئے سیاسی وجوہ سے بعض علاقے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ وہ غلہ کی پیداوار، جانوروں کی پرورش، صنعتوں، محلوں اور قلعوں کی تعمیر میں بہت آگے تھے۔ صنعتوں اور ضروریاتِ زندگی کے لیے وہ باہر سے سامان اور آلات درآمد کرتے، اور عراق، شام اور افریقہ سے تجارتی تعلقات بھی رکھتے تھے۔

اہلِ عرب کے طبقات و قسمیں

راویوں اور مورخوں کا قدیم عربوں کی اس تقسیم پر تقریباً اتفاق ہے کہ وہ تین قسموں پر مشتمل ہیں: (۱) عربِ بائدہ، جو اسلام سے پہلے ختم ہو چکے تھے؛ (۲) عربِ عاربہ، بنو قحطان، جو عربِ بائدہ کے بعد ہوئے؛ (۳) عربِ مستعربہ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد جو حجاز میں آباد ہوئی۔

وہ نسب کے لحاظ سے اہلِ عرب کی دو قسمیں کرتے ہیں: (۱) قحطانی، جن کی آبادی کا ابتدائی مرکز یمن تھا؛ اور (۲) عدنانی، جو پہلے حجاز میں آباد تھے۔ اسی طرح ماہرینِ انساب عدنان کی دو شاخیں بتاتے ہیں: ایک ربیعہ، دوسری مضر۔ قحطانی و عدنانی قدیم زمانے سے ایک دوسرے کے رقیب و حریف تھے، اسی طرح ربیعہ و مضر کے درمیان بھی صدیوں سے عداوت و مقابلہ چلا آ رہا تھا۔

ماہرینِ انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ قحطانی اصلی اور زیادہ قدیم ہیں، اور عدنانی بعد کے عرب ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد نے حجاز میں ہجرت کے بعد عربی ماحول میں نشو و نما پائی اور عربِ مستعربہ میں شمار ہوئی۔

اہلِ عرب نسب کا خاص خیال رکھتے اور اسے بڑی اہمیت دیتے تھے، جس کا اعتراف اہلِ نظر نے بھی ہمیشہ کیا ہے۔ جیسا کہ ایرانی سپہ سالارِ اعظم رستم نے اپنے دربار میں، جب مسلمانوں کے سفیر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے پھٹے کپڑوں اور خستہ حالی کے سبب حقارت کی نظر سے دیکھا، تنبیہ کی کہ تم عجیب احمق ہو، عرب کھانے اور لباس کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے حسب و نسب کی حفاظت کرتے ہیں۔

عصرِ حاضر کے بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ اصل عرب عدنانی ہیں، اور وہی پہلے عربِ عاربہ ہیں، جبکہ اکثر مورخین کا خیال اس کے برعکس ہے۔ ان محققین کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم جاہلی نصوص پر مبنی نہیں بلکہ اسلامی دور کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ ہے، اور اس کی بنیاد ان راویوں اور روایتوں کے اقوال پر ہے جو قحطانی اور یمنی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ملاحظہ ہو: ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ لابن کثیر۔
اہم قبائل کے مقامات
اہم قبائل کے مقامات

لسانی وحدت

اس وسیع ملک کے لیے، جو ایک برِ صغیر کے ہم پلہ ہے، یہ بات ذرا بھی تعجب خیز نہ ہوتی اگر اس میں زبانوں کی کثرت اور تنوع ہوتا، کیونکہ قبیلوں کے درمیان خاصے طویل فاصلے ہیں، اور اس لیے بھی کہ جنوبی علاقے کے لوگ شمالی علاقے کے لوگوں سے، اور مشرقی علاقے کے لوگ مغربی علاقے کے لوگوں سے، بہت سے پہلوؤں میں مختلف تھے۔ قبائلی عصبیت و نسلی احساس بھی نمایاں تھا، اور روم و ایران کی سرحدوں کے قریب رہنے والے عرب قبائل ان زبانوں سے قدرتاً کم و بیش متاثر بھی تھے۔

چنانچہ انہی اسباب کی وجہ سے وسطی یورپ اور ہندوستان کے برِّ اعظم میں زبانوں کی حیرت انگیز کثرت ہے، اور بعض ایسی منفصل زبانیں بھی ہیں جن کو بولنے والوں کو ترجمان کی ضرورت پڑتی ہے یا انگریزی سے کام لینا پڑتا ہے۔

لیکن جزیرۃ العرب کا، اپنی وسعت اور قبائل کی کثرت کے باوجود، شروع سے طرۂ امتیاز رہا ہے کہ ظہورِ اسلام سے اس وقت تک اس کی ایک ہی مشترک زبان، عربی، ہے، جو جزیرے میں رہنے والے بدوی اور متمدن، قحطانی و عدنانی لوگوں کے قول و فعل اور باہمی تعلقات کی زبان رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لہجوں اور مقامی لغتوں کا قدرتی اختلاف موجود ہے، جو فلسفۂ زبان، جغرافیائی اور علاقائی گروہ بندی کے بنیادی رجحان سے پیدا ہوتا ہے، اور فاصلوں سے لہجوں کا فرق پیدا ہونا ناگزیر ہے، تاہم اس میں یہ لسانی وحدت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ دعوتِ اسلامی کی اشاعت میں اس نے بڑی سہولت پیدا کی، اور پھیلے ہوئے قبائل کو فصیح، قرآنی عربی زبان میں مخاطب کرنے اور اس سے متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جزیرۃ العرب اقوام و ملل کی تاریخ میں

آثارِ قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں قدیم حجری عہد (CHELLEAN) سے انسانی آبادی کا نشان ملتا ہے، اور جو پتھر کے آلات ملے ہیں وہ عہدِ حجری کے اولین زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عربوں کا ذکر تورات میں بھی آیا ہے، جس سے عبرانیوں کے عربوں سے تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ تورات کی تاریخِ کتابت تقریباً ۹۵۰ ق م بتائی جاتی ہے۔

اسی طرح قدیم تاریخی مآخذ میں عربوں کی طرف اشارے ملتے ہیں۔ جوزیفس فلاویوس کی کتاب میں، جو ۳۷ء تا ۱۰۰ء کے درمیان زندہ تھا، عربوں کے متعلق قیمتی معلومات اور بعض حالات ملتے ہیں، بعض غلطیوں اور غلط فہمیوں کے باوجود جو ان تحریروں میں پائی جاتی ہیں۔ اسلام سے پہلے لکھی جانے والی یونانی و لاطینی کتابیں تاریخی حالات و واقعات اور اہم جغرافیائی معلومات فراہم کرتی ہیں، اور ان میں بہت سے عربی قبائل کے نام بھی ملتے ہیں۔

اسکندریہ ان اہم مرکزوں میں شمار ہوتا تھا جہاں عربوں کے حالات، عادات اور ملک کی پیداوار کی کیفیت معلوم کرنے کا خاص اہتمام تھا، تاکہ وہاں کی چیزوں کو بحرِ روم کے ساحل پر واقع ممالک کے تاجروں تک پہنچایا جا سکے۔ عربوں کا ذکر کرنے والے سب سے قدیم یونانی مصنفین میں ایشیلس، ۵۲۵۔۴۵۶ ق م، اور ہیروڈوٹس، ۴۸۰۔۴۲۵ ق م، شامل ہیں۔ ان کے علاوہ عہدِ قدیم کے کچھ اور مصنفین بھی ہیں جن کے بیانات میں عربوں اور بلادِ عرب کی طرف اشارے موجود ہیں۔

ان میں بطلیموس کا نام نمایاں ہے، جو اسکندریہ میں دوسری صدی مسیحی میں رہا اور جس نے ریاضی میں ’’المجسطی‘‘ لکھی، جو عربی درسیات کی ایک معروف کتاب ہے۔ مسیحی مآخذ میں بھی عربِ جاہلیت اور عربِ اسلام سے متعلق خاص مواد ہے، اگرچہ وہ زیادہ تر مسیحیت، اس کی اشاعت، اس کے مراکز اور اس کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔

توریت میں جن عربوں کا ذکر آیا ہے وہ اعراب، یعنی عربِ بدوی، ہیں۔ اسی طرح یونانیوں، رومیوں کی کتابوں اور اناجیل میں جہاں ایسی صفات کا ذکر ہے، ان سے مراد بدوی عرب ہی ہیں جو روم و ایران کی سرحدوں پر رہتے، قافلوں کو لوٹتے اور راہگیروں سے محصول وصول کرتے رہتے تھے۔ دیودورس نے عربوں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ آزادی کے عاشق، کھلی فضاؤں میں زندگی گزارنے والے، آزاد ارادے اور آزادیِ مطلق کے قائل ہیں۔ اسی لیے ہیروڈوٹس نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ہر اس قوت کا مقابلہ کرتے ہیں جو انہیں غلام بنانے اور ذلیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آزادی عرب کا وہ امتیاز ہے جس کے باعث وہ یونانی و لاطینی اہلِ قلم کی نظروں میں ممتاز رہے ہیں۔

اسی طرح عرب و ہند کے تعلقات، ایک دوسرے سے واقفیت اور تجارتی و ثقافتی لین دین بہت پرانے ہیں۔ اسلام اور اس کی فتوحات سے بہت پہلے ہی ایشیائی ممالک میں ہندوستان عربوں سے سب سے زیادہ واقف اور جغرافیائی و اقتصادی لحاظ سے اس کے قریب تھا، جیسا کہ ہندوستانی اور عربی مآخذ اور جدید تحقیقات سے پتہ چلتا ہے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’’عرب و ہند کے تعلقات‘‘ از مولانا سید سلیمان ندوی، جو اس موضوع پر بہترین اور مفصل کتاب ہے۔

نبوت اور آسمانی مذاہب سے جزیرۃ العرب کا تعلق

جزیرۃ العرب بہت سی دعوتِ نبوی اور انبیاء کا گہوارہ رہا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:

وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور قومِ عاد کے بھائی، ہود، کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا، اور ان سے پہلے اور ان کے بعد بھی ڈرانے والے گزر چکے تھے، کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے۔
سورۃ الاحقاف، آیت ۲۱

اس آیت میں حضرت ہود علیہ السلام مراد ہیں، جو عاد کی طرف بھیجے گئے تھے۔ مورخین کے قول کے مطابق عاد کا تعلق عرب سے تھا، اور وہ احقاف میں رہتے تھے۔ احقاف ریت کے بلند ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ عاد کی بستیاں جزیرہ کی جنوبی بلندیوں پر، جو آج کل الربع الخالی کے جنوب مغرب میں حضرموت کے قریب واقع ہیں، آباد تھیں۔ اب وہاں زندگی اور آبادی کا کوئی نشان نہیں، جبکہ ایک زمانے میں وہاں سرسبز و شاداب علاقے اور گلزار شہر تھے، جن میں عاد جیسی جابر قوم آباد تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تیز آندھی سے ہلاک کر دیا، اور ریت کے طوفان نے انہیں ڈھک لیا تھا۔

تفصیل کے لیے سورۃ الاحقاف کی آیات ۲۰۔۲۶ ملاحظہ ہوں۔

آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام اس علاقے میں آنے والے پہلے اور آخری نبی نہ تھے؛ ان سے پہلے اور بعد بھی انبیاء آتے رہے تھے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے:

وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ

اسی طرح قومِ ثمود کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی بعثت بھی جزیرۃ العرب میں ہوئی۔ ثمود الحجر میں رہتے تھے، جو تبوک اور حجاز کے درمیان ایک بستی ہے۔ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام بھی حجاز میں آئے، وہیں آباد ہوئے اور ان کی اولاد وہیں پھیلی۔ اور اگر جزیرہ کی حد کو وسعت دے کر مدین کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو حضرت شعیب علیہ السلام بھی عرب ہی ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے مورخ ابوالفداء لکھتا ہے:

’’اہلِ مدین عرب تھے، اور مدین میں رہتے تھے، جو ارضِ معان سے قریب اور شام کے ان اطراف میں تھا جو حجاز سے ملے ہوئے ہیں، اور بحیرۂ لوط کے نزدیک تھا، اور قومِ لوط کے پڑوسی ان کا زمانہ ہے۔‘‘

عرب کی سرزمین بہت سے انبیاء و مرسلین کے لیے مرجع و مأوی بھی رہی تھی، جن کو اپنی زمین کی کشادگی کے باوجود تنگ کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے وطن میں پردیسی بن کر رہ گئے تھے۔ چنانچہ ان حضرات نے اس دور دراز سرزمین کا انتخاب کیا جو ہجرت اور پناہ کا مقام اور ظالم حاکموں کے اثر سے دور تھی، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مدین میں پیش آیا۔

اس کے علاوہ بہت سے مذاہب کو جب اپنے مرکزوں میں پھیلنے کا موقع نہ ملا تو وہ اس جزیرہ میں آ کر آباد ہو گئے۔ چنانچہ یہودیوں کی ایک بڑی جماعت رومیوں کے ظلم سے تنگ آ کر یمن و یثرب آئی، اور نصرانیت نے قیاصرۂ روم کے ظلم و ستم سے بھاگ کر نجران میں پناہ لی۔

اس مضمون کے آخری حصے میں ہم نے شیخ محمد ابوزہرہ کی کتاب ’’خاتم النبيين‘‘، جلد اول، فصل ’’أرض النبوۃ الأولى هي أرض العرب‘‘ سے استفادہ کیا ہے۔