Jazirat-ul-Arab

جزيرة العرب

جزیرۃ العرب کے حدود

جزیرۃ العرب اپنے طول و عرض میں دنیا کار ہے بڑا جزیرہ نما ہے علمائے عرب

مجازا اس پر جزیرۃ العرب کا اطلاق کرتے ہیں ، اس کے تین طرف پانی ہے یہ ملک ایشیا

کے جنوب مغرب میں واقع ہے اس کے مشرق میں خلیج عرب ہے جسے یونانی خلیج فارس کے

نام سے جانتے ہیں۔ اس کے جنوب میں بحر ہند ہے اور اس کے مغرب میں جب احمر ہے جیساکہ ان

جدید نقشوں میں دکھایا جاتا ہے اور یونانی ولاطینی اصطلاح میں اس کو خلیج عرب

لے ہم نے اس حصہ میں فارمین سیرت کے لئے انہی بنیادی معلومات کا انتخاب کیا ہے جنھیں جاننا ضروری ہے

جیسے اس خطے کی طبعی حالت و جغرافیہ اقوام و مذاہب کی تاریخ میں اس کا مقام، اس کے باشندوں کے رجحانات

و غیرہ اس طرح سیرت کا مطالعہ کرنے والا اس ماحول سے بالکل ناواقف نہیں رہے گا جس میں کا بنتوت

کی عظیم مہم انجام دی گئی، یہ مضمون ان قدیم و جدید کتابوں سے ماخوذ ہے جو جزیرۃ العرب پر کھی گئی ہیں

ہم نے خاص طور پر ڈاکٹر جواد علی کی کتاب المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (1-4) سے زیادہ

استفادہ کیا ہے، اس سے زیادہ تفصیل کا محل وہ کتا نہیں ہیں، جو جزیرۃ العرب کے جغرافیہ پرکھی گئی ہیں

با تمرین عرب اور تاریخ ادب عربی سے متعلق ہیں ان کی تعداد بہت ہے۔

ے ملک عرب کے لئے جزیرۃ العربی استعمال قدیم زمانہ سے عام حقیقتا قدیم زمانہ میں جزیرہ اور جزیرہ نما کے

درمیان فرق کرنے اور ان کے لئے علیحدہ لفظ بولنے کا رواج نہ تھا بعض اہل علم نے اس کو جدید جغرافیائی

اصطلاح میں جزیرہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس کا ایک نمونہ علام خضری کی کتاب تاریخ امام الاسلامی

حصہ اول میں دیکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ کو شش تکلف سے خالی نہیں اور اس میں جزیرۃ العرب کے

حدود کو بہت دور تک لے جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جزیرہ نمائے عرب

خلیج عمان

B

اردن

مود الجندل

الخليج العربي آن باره نظام

ایران

تمام

هدان صالح

صحاب الربع الخالي

تفار

۲۰۰

مرك

نامیل

وارع

بحر

سوڈان

….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

(SINUS ARABICUS) کے نام سے نمایاں کیا جاتا ہے اورقدیم عربی کتابوں کی بحر ملزم کو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کی شمالی حدود مفروضہ سرحدی خط ہے جو علمائے عرب کی اصطلاح میں خلیج عقبہ سے خلیج عرب میں شط العرب کے دہانے تک گذرتا ہے۔

مسلمانوں نے جزیرۃ العرب کو پانچ قسموں تقسیم کیا ہے (۱) حجاز جو ایلہ (عقبہ) سے میں تک ہے اور ان کی رائے میں حجاز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس پہاڑی سلسلے پر شمال ہے جو تہامہ کو جو بحرا حمر کے ساحل کی نشیبی زمین ہے) نجد سے الگ کرتا ہے (۲) تہامہ جس کا ابھی بیان ہوا، (۳) یمن (۴) تنجد۔ یہ وہ مرتفع حصہ ہے جو حجاز کے پہاڑوں سے شروع ہو کر مشرق میں صحرائے بحرین تک چلا جاتا ہے، یہ وسیع و مرتفع علاقہ ہے جس میں بہت سے ریگستان اور پہاڑ واقع ہیں۔ (۵) عروض اس کے مشرق میں بحرین اور مغرب میں حجازہ ہے، اسے عروض یمین اور نجد کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں، اسے یا مہ بھی کہا جاتا ہے۔

جزیرۃ العرب کے طبعی حالات اور اس کے باشندے اس پورے جزیرہ نما پر صحرائیت کا غلبہ ہے ، او طبعی عوامل اور ارضیاتی حوادث اور اپنے جغرافی جائے وقوع کے سبب اس پزشکی غالب ہے اسی وجہ سے ماضی اور زمانہ حال میں اس کے باشندوں کی تعداد بہت کم رہی ہے اور متمدن معاشرے اور بڑی مرکزی حکومتیں وجود میں نہ آسکیں، بدویت اور اس کے دیہاتی رنگ انفرادیت کے شدید رجحان، قبائل کے جنگ وجدال کے سبب تمدن سرسبز علاقوں اور ان جگہوں پر سیٹ کر له رادیان جغرافیہ اس تقسیم کی سب سے پرانی روایت حضرت عبد اللہ بن عباس تک پہونچاتے ہیں۔

….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جزیرہ نمائے عرب (طبیعی)

خلیج عرب )

اجر عمان

b

بحر متوسط

صلح سمندر سے بلندی (فٹ میں)

۲۰۰۰ که زیاده

بحجره

10 بانک

عرب

ہے مالک

تأمیل

ے کر

….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

رہ گیا جہاں اچھی بارش ہوتی یا سوتے اور پتے پھوٹتے تھے یا جہاں پانی سے زمین سے

قریب ہوتا اور اس میں کنویں کھودے جا سکتے تھے، اس لئے کہنا چاہئے کہ جزیرۃ العرب میں)

زندگی کی سرگرمی پانی کی بدولت باقی رہتی تھی چنانچہ قافلے اسی کا رخ کرتے اور اسی کی

تلاش میں رہتے اور فطرت اعراب کو ہر جگہ سے لا کر شاداب علاقوں میں جمع کر دیتی تھی۔

وہ کسانوں کی طرح زمین سے ایک جگہ چھٹے نہیں رہتے تھے بلکہ کسی سر زمین پر وہ اس وقت

تک قیام پذیر رہتے تھے جب تک وہاں جانوروں کے لئے گھاس چارہ اور ان کے لئے

پانی رہتا تھا، اور جب یہ سہولت ختم ہو جاتی تو وہ نئی جگہوں کی تلاش میں پھل پڑتے تھے۔

اس وجہ سے ان کی زندگی جفا کشی اور سختی کا نمونہ تھی اور ان کی سوسائٹی قبیلہ

کی شکل اختیار کر لیتی قبیلہ ایک بدوی کے لئے حکومت و قومیت کے مرادف ہوتا تھا اور

یه قبائی زندگی راحت طلبی اور استقرار و استحکام سے نا آشنا ہوتی اور صرف نونت کی زباں

سمجھتی، یہ ایسی زندگی تھی جو انسانوں کے لئے مشقت و مصیبت ہی لاتی تھی اور پیروں

کی متمدن آبادیوں کے لئے بھی خطرہ بہتی رہتی تھی چنانچہ وہ آپس میں بھی لڑتے رہتے تھے اور اس سے

فرصت پاکر تمدن آبادی سے برسر پیکار ہو جاتے تھے، لیکن دوسرے لحاظ سے ایک عرب

اپنے قبیلے کے آداب روایات کے سلسے میں بڑا وفادار اور مخلص ہوتا تھا، وہ موقع پر ایسا

شریف النفس میزبان ہوتا جو مہانی کے تمام فرائض بخوشی انجام دیتا جنگی معاہدوں کا

پابند بتا، دوستی کاحق ادا کرنا اور رسم و رواج کا آخری حد تک احترام کرتا تھا ان تمام

خصوصیات کی گواہی ان کے شعرو ادب حکم و امثال اور اقدار واطوار سے بکثر لیتی ہے۔

ایک عرب مساوات کا دلدادہ حریت کا عاشق حقیقت پسند فعال اور علی انسانی

ہوتا تھا، وہ رکیک اور لیست حرکتوں سے پر ہیز کرتا تھا، وہ اپنی محدود زندگی اور بار رویت

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

۸۲

پر نہ صرف راضی بلکہ نازاں اور اپنے مقدر پر خوش اور طمئن تھا، زہر ہے ان کا علاقہ

اکثر کمزور ہوتا، ان کا ایمان اپنے قبائلی رسوم اور آبائی روایات پر اس سے کہیں زیادہ

پختہ ہوتا تھا، ان کا اخلاقی نصب العین ان شریفانہ و مردانہ صفات سے عبارت تھا جسے

وہ لفظ مروت سے تعبیر کرتے اور اپنے شعر و ادب میں جس کے گیت گاتے اور کم پڑھتے ہیں۔

تمدنی و ثقافتی مراکز

ان جگہوں میں جہاں بارش پچھنے یا کنوں کاپانی وافرطور پر ہوتا وہا ریوں

اور دیہاتوں اور موسمی بازاروں اور میلوں کی شکل میں ایک تمدن وجود میں آجاتا تھا، ان

چیزوں کا عربوں کی زندگی پر عمومی اثر پڑتا تھا، زندگی کے ان مرکزوں میں وہ معاشرے

اور ماحول پیدا ہوتے جن کا خاص رنگ اور تنقل طرز ہوتا جن میں آب ہوا صنعتوں اور

پیشوں اور اس معاشرہ کے اقتصادی حالات کا الگ الگ رنگ نمایاں ہوتا تھا، چنانچہ

مکہ میں ایک خاص معاشرہ تھا جس کا امتیاز بالکل الگ تھا اسی طرح اہل حیرہ، اہل تشریب

کے معاشرے اپنی اپنی خصوصیات رکھتے تھے ہمین کا معاشرہ عرب معاشروں میں

اپنے مخصوص حالات قدیم تمدنی تاریخ اور نئے سیاسی وجوہ سے رہے زیادہ ترقی یافتہ

تھا، اور غلہ کی پیداوار، جانوروں کی پرورش، معدنیات سے استفادہ محلوں اور فلموں

کی تعمیر میں بہت بڑھا ہوا تھا صنعتوں اور ضروریات زندگی کے لئے وہ باہر سے وہ سے

ن اور آلات در آمد کرتا اور عراق، شام اور افریقہ سے تجارتی تعلقات بھی رکھتا تھا۔ در امر تا اور

اہل عرب کے طبقات اور رسمیں

سامان او

راویوں اور مورخوں کا قدیم عربوں کی اس قسم پر تقریبا اتفاق ہے کہ میں نمونی

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۸۵

شتمل ہے (1) عرب بائدہ (جو اسلام سے پہلے ختم ہو چکے تھے) (۲) عرب عاربہ

بنو قحطان جو عرب بائدہ کے بعد ہوئے) (۳) عرب مستعربیہ (حضرت اسماعیل کی

اولاد جو حجاز میں آباد ہوئی وہ نسب کے لحاظ سے اہل عرب کی دو قسمیں کرتے ہیں۔

(1) قحطانی جن کی آبادی کا ابتدائی مرکز یمین تھا، اور (۲) عدنانی جو پہلے حجاز میں

آباد تھے، اسی طرح ماہرین انساب عدنان کی دو شاخیں بناتے ہیں، ایک ربیعہ

دوسری مصر قحطانی و عدنانی قدیم زمانہ سے ایک دوسرے کے رقیب حریفت

تھے، اسی طرح ربیعہ و شعر کے درمیان بھی صدیوں سے عداوت و مقابل چلا آرہا

تھاما ہرین انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ قحطانی اصلی اور زیادہ قدیم ہیں اور عدنانی

ان کی شاخ ہیں جنھوں نے ان سے عربی سیکھی اور پھر جسے حضرت اسمعیل سلام کی اولا

نے حجاز میں ہجرت کے بعد اپنا لیا، حضرت اسمعیل عرب تعریبینی عدنانو کے جدامجد ہیں۔

اہل عرب انساب کا خاص خیال رکھتے اور اسے بڑی اہمیت دیتے ہیں جس کا

اعتراف بھی اہل نظر نے بھی ہمیشہ کیا ہے، چنانچہ ایرانی سالار نظم ستم نے اپنے درباریوں کی

(جب وہ مسلمانوں کے سفیر حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پھٹے کپڑوں اور خستہ حالی کے سبب

حضارت کی نظر سے دیکھ رہے تھے تنبیہ کی کہ تم جیب احمق ہو، عرب کھانے اور لباس کو

اہمیت نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے حسب نسب کی حفاظت کرتے ہیں ہے۔

له عصر حاضر کے بعض محققین کی رائے ہے کہ اصل عرب عدناتی ہیں اور وہی پہلے عرب عاریہ ہیں

جبکہ اکثر مورخین کا خیال اس کے پیکس ہے ان حقین کا کہناہے کہ تقسیم بابلی نصوص پریتی نہیں بلکہ

اسلامی دوڑیں لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ ہے اور اس کی بیشتر روایتیں ان راویوں کے اقوال پر

مینی ہیں، جو قحطانی اور منی نسل سے تعلق رکھے تھے واللہ علم ہے البدایہ والنہایت این شیرین ، من

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اہم قبائل کے مقامات

قبائل کے مقامات . بڑے شہر

4

UPDF

WWW.UPDF.COM

سقط عمان

کننده

اد ملی

قراره اسید.

تنام

مام بوازن مدینه

کیان

خزام

ازداشتووه

بارت فولان

ایل

فتان

منهار

تایل

کارتی گرانی از محمود اختر)

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

ریسانی وحدت

۸۶

اس وسیع ملک کے لئے (جو ایک برصغیر کے برابر ہے) یہ بات ذرا بھی تعجب خیز

نہ ہوتی کہ اس میں زبانوں کی کثرت اور تنوع ہوتا کیونکہ قبیلوں کے درمیان خاصے طویل

فاصلے ہیں، اور اس لئے بھی کہ جنوبی علاقے کے لوگ شمالی علاقے کے لوگوں سے اور مشرقی

علاقے کے لوگ مغربی علاقے کے لوگوں سے مشکل سے ملتے تھے، قبائلی عصبیت اور نسلی

احساس برتری کا کبھی شکار رہتے تھے، اور روم و ایرانی سرحدوں کے قریب رہنے والے

عرب قبائل ان کی زبانوں سے قدر تا کم و بیش متاثر بھی تھے اور یہ ناگزیر بھی تھا چنانچہ

انھیں اسباب کی وجہ سے وسط یورپ اور ہندوستان کے تحتی براعظم میں زبانوں کی

حیرت انگیز حد تک کثرت ہے دستور ہند میں تسلیم شدہ قومی زبانوں کی تعداد پندرہ

ہے، اس میں بعض مستقل زبانیں بھی ہیں جن کے بولنے والوں کو ترجمان کی ضرورت

پڑتی ہے یا انگریزی سے کام لینا پڑتا ہے ۔

لیکن جزیرۃ العرب کا اپنی وسعت اور قبائل کی کثرت کے باوجود شروع

سے طرہ امتیاز رہ ہے کہ ظہور اسلام سے اس وقت تک اس کی ایک ہی مشترک زبان

غربی ہے جو ہمیشہ سے اس جزیرہ کے رہنے والے بدوی اور متمدن قحطانی و عدنانی لوگوں

کے بول چال اور باہمی تعلقات کی زبان رہی ہے جس میں اگر چہ ہوں اور میں الوچہ تھا ہوں اور مقامی بولیو اور مقامی بولیوں

کا قدرتی اختلاف موجود ہے، جو فلسفہ زبان جغرافی اور علیحدگی پسند کیا کے رجھانا

سے پیدا ہوتا ہے، فاصلوں سے لہجوں کا فرق پیدا ہونا ناگز بھی ہے، تاہم اس بولی یک

رسانی وحدت بھی موجود رہی ہے دعوت اسلامی کے لئے سہولت اشاعت اسلام میں

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

شرعت اور پھیلی ہوئی اکائیوں کو فصیح (قرآنی) عربی زبان میں مخاطب کرنے اور

اس سے متاثر کرنے میں اس نے اہم کردارادا کیا ہے۔

جزيرة العرب اقوام و میل کی تاریخ میں

آثار قدیمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں قدیم حجری عہد (۱۳۸۸ ق . م)

سے انسانی آبادی کا نشان نا ہے اور سب سے پرانے آثار پائے گئے ہیں اس عہد بحری کے

اولین زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں، عربوں کا ذکر تو رات میں بھی آیا ہے جس سے عبرانیوں کے

عربوں سے تعلقات کا پتہ چلتا ہے تو رات میں عربوں کا ذکر اس کی تاریخ ۵۰۰۰۰ نام

سے متعلق ہے، اس طرح تلمود میں بھی عربوں کی طرف اشارے ہیں، جوزی اس فلاقیوس ہی

کی کتاب میں ( جو ۳ تا . میں زندہ تھا، عربوں کے متعلق قیمتی معلومات اور نبیوں کے

حالات ملتے ہیں بعض غلطیوں اور غلط فہمیوں کے باوجود جوان قدیم تحریروں میں

پائی جاتی ہیں، اسلام سے پہلے لکھی جانے والی یونانی ولاطینی کتابوں کی بھی تاریخی حالات

و واقعات اور اہم جغرافی معلومات دستیاب ہوتے ہیں ان میں بہت سے ایسے عربی قبائل

کا نام بھی ملتا ہے کہ اگر یہ کتابیں نہ ہوتیں تو ہم ان سے واقف نہیں ہو سکتے تھے اسکندریہ

ان اہم مرکزوں میں شمار ہوتا تھا، جہاں عربوں کے حالات اور عادات اور ملک کی پیداوار

کی کیفیت معلوم کرنے کا خاص اہتمام تھا تا کہ وہاں کی چیزوں کو بحر روم کے ساحل

پر واقع ملکوں کے تاجروں تک پہونچا یا جاسکے۔

عربوں کا ذکر کرنے والے سے قدیم یونانی انجلیس (۵۲۵ -۲۵۶ ق م) اور

ہیروڈوٹس (۴۸۰ – ۲۲۵ ق م) ہیں ان کے علاوہ عہد قدیم کے کچھ اور محققین بھی ہیں۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جن کے بیانات میں عربوں اور بلاد عرب کی طرف اشارے موجود ہیں، ان میں لیموں

کا نام نمایاں ہے جو اسکندریہ میں دوسری صدی مسیحی میں ہوا ہے اور جس نے ریاضی میں

المجسطی، لکھی ہے جو عربی درسیات کی ایک معروف کتاب ہے سچی ماخذ میں بھی

عرب جاہلیت اور عرب اسلام سے متعلق خاصا مواد ہے اگر چہ وہ زیادہ تر مسیحیت

اس کی اشاعت اور اس کے مرکزوں کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔

تورات میں بین عربوں کا ذکر آیا ہے وہ اعراب بینی بدوی عرب ہیں اس لئے کہ اس میں

عرب یاد یہ ہی کے اوصات کا ذکر ہے، اس طرح یونانیوں، رومیوں کی کتابوں اور

انا جیل میں جہاں ایسی صفات کا ذکر ہے ان سے مراد بدوی عرب ہی ہیں جو رومن

امپائر اور یونانی سرحدوں پر یورش کرتے رہتے، قافلوں کو لوٹتے اور تاجروں اور مسافروں

سے ٹیکس وصول کرتے رہتے تھے، اسلی کے دید روس نے عربوں کے بارے میں لکھا ہے کہ

وہ آزادی کے عاشق کھلی فضا میں زندگی گزارنے والے آزاد ارانے اور آزادی مطلق

کے قائل ہیں، اسی لئے ہیروڈوٹس نے ان کے بارے میں لکھا ہے وہ ہر اس قوت کا

مقابلہ کرتے ہیں جو انھیں غلام بنانے اور ذلیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آزادی عربوں

کا وہ امتیاز ہے جس کے لئے وہ یونانی اور لاطینی اہل علم کی نظروں میں ممتاز رہے ہیں۔

اس طرح عرب ہند کے تعلقات ایک دوسرے سے واقفیت اور تجارتی و ثقافتی

لین دین بہت پرانا ہے اور اسلام اور اس کی فتوحات سے بہت پہلے کی چیز ہے ایشیائی

ممالک میں ہندوستان عربوں سے ہے زیادہ واقف اور جغرافی و اقتصادی لحاظ سے

له اس کے قریب تھا جیسا کہ ہندوستانی اور عربی ، آخذ اور جدید تحقیقات سے پتہ چلتا ہے۔

اے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو عرب ہند کے تعلقا از مولانا سید سلیمان ندی جو اس موضوع پر س سے بہتر اور فصل

کتاب ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۸۹

نبوت اور آسمانی مذاہب سے جزیرہ عرب کا تعلق

جزیرۃ العرب بہت سی نبوی دعوتوں اور انبیاء کا گہوارہ رہا ہے قرآن کہتا ہے :۔

وَاذْكُرُ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ اور قوم عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو

بالْأَخْقَافِ وَقَد خَلَتِ النُّذُرُ جُنھوں نے اپنی قوم کو سرزمین احتقان

مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِه میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور

أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِذَّ آخاف پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے

عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے

( سورۃ الاحقاف ۔ (۲۱) تمھارے بارے میں بڑے دن کے عذاب

کا ڈر لگتا ہے۔

اس آیت میں حضرت ہود مراد ہیں جو عاد کی طرف بھیجے گئے ہیں اور مورخین کے

قول کے مطابق عاد کا تعلق عرب بائدہ سے تھا، اور وہ احتقان میں رہتے تھے احتقان

ریت کے بلند ٹیلے کو کہتے ہیں، عاد کی بستیاں جزیرہ کی جنوبی بلندیوں پر تھیں جو آج کل

ربع خالی کے جنوب مغرب میں حضر موت کے قریب واقع ہے ان میں عذاب زندگی ہے

نہ کوئی آبادی ہے جب کہ ایک زمانہ میں وہ سرسبز و شاداب علاقے اور گلزار شہر تھے جن میں

عاد

د جیسی جابر قوم آباد تھی، انھیں اللہ نے تیز آندھی سے ہلاک کر دیا جس نے انھیں ریتیلے

طوفان میں ڈھک لیا تھا ۔

آیت یہ بھی بتا رہی ہے کہ حضرت ہود اس علاقے میں آنے والے پہلے اور آخری نبی

تہ تفصیل کے لئے الحاقہ کی آیت ۶- ، سامنے رہے۔

19

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۹۰

نہ تھے، ان سے پہلے اور بعد بھی انبیاء آتے رہے تھے، اس لئے قرآن کہتا ہے وقد قُلَتْ

النُّذُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ

اسی طرح قوم نمود کے نبی حضرت صالح کی بعثت بھی جزیرۃ العرب میں ہوئی ،

محمود الحجر مں رہتے تھے جو تبوک اور حجاز کے درمیان ایک بستی ہے حضرت اسمعیل پیدائش

کے بعد ہی ملکہ آگئے تھے وہ وہیں رہے اور وہیں انتقال فرمایا اور اگر زیرہ کو وسعت دے کر

دین کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو حضرت شعیب بھی عرب ہی ثابت ہوتے ہیں اس لئے کہ

مدین شام کے علاقے میں ارض عرب کے حدود پر تھا مورخ ابو الفداء لکھتا ہے :۔

اہل مدین عرب تھے اور مدین میں رہتے تھے جو ارمین معان سے قریب

اور شام کے ان اطراف میں تھا جو حجاز سے ملے ہوئے ہیں اور شجرہ لوط

کے نزدیک تھا، اور قوم لوط کے بعد ہی ان کا زمانہ ہے؟

عرب کی سرزمین بہت سے انبیاء و مرسلین کا مرجع وما وی بنی تھی جن پر اشرکی

زمین اپنی کشادگی کے با وجود تنگ کر دی گئی تھی اور وہ اپنے وطن مں پر یہی بن کرہ گئے

تھے چنانچہ ان حضرات نے اس دور دراز سرزمین کا انتخاب کیا جو جابر بادشاہوں

اور ظالم حاکموں کے اثر سے دور تھی جیسا کہ حضرت ابراہیمہ کے ساتھ کہ او حضرت موسی اثر دور اوری

کے ساتھ مدین میں پیش آیا، اس کے علاوہ بہت ے مذاہب کو جب اپنے مرکزوں میں پھیلنے

پھولنے کا موقع نہ ملا تو وہ اس جزیرہ میں آکر آباد ہو گئے چنانچہ یہود کی ایک بڑی عجبات

روسیوں کے ظلم سے تنگ آرمین و یثرب آگئی اور نصرانیت نے قیاصرہ روم کے ظلم

وسفاکی سے بھاگ کر نجران میں پناہ لی ہے

ے مضمون کے اس آخری حصہ میں ہم نے شیخ محمد ابو زہرہ کی کتاب خاتم النبین جلد اول او فصل

ارض النبوة الأولى هي ارض !

ان

وة الأولى هى ارض العرب” سے استفادہ کیا ہے ۔