Muhammad Rasulullah Jazirat-ul-Arab Mein

محمد رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم

جزيرة العرب میں کیوں مبعوث ہوئے؟

اللہ تعالی کی مشیت و حکمت کا فیصلہ تھا کہ انسانیت کی ہدایت و نجات کا

یہ آفتاب جس سے ساری کائنات میں روشنی پھیلی ، جزیرۃ العرب کے افق سے طلوع ہو

جو دنیا کا ہے تاریک خطہ تھا اور جس کو اس تیز روشنی کی رسے زیادہ ضرورت تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کے لئے عملوں کا انتخاب اس لئے کیا اور ان کو ساری

دنامی اس کی تبلیغ و اشاعت کا ذمہ دار بنایا ان کے دل کی تختی بالکل مان تھی

اس میں پہلے سے کچھ نقوش تحریر و نقش و نگار و بو نہ تھے جن کو مٹانا مشکل ہوتا بر خلاف

رومیوں ایرانیوں یا ہندستانیوں کے جن کو اپنی ترقی علوم و فنون اور اپنے تہذیب تمدن

اور فلسف پر بڑانا اور غرور تھا، اور اس کی وجہ سے ان کے اندر کچھ ایسی نفسیاتی گرہیں اور

فکری و ذہنی پچیدگیاں پیدا ہوگئی تھیں جن کا دور ہونا آسان نہ تھا۔ عربوں کے دل دماغ

کی سادہ تختیاں صرف ان معولی اور پکی پھلکی تحریر سے آشنا تھیں جن کو ان کی بہالت

و نا خواندگی اور بڑی زندگی نے ان میں ثبت کردیا تھا، اور جن کا دھونا اور ٹانا اور ان کی

جگہ پر نئے نقش قائم کرنا بہت آسان تھا موجودہ علمی اصطلاح میں وہ جیل بسیط

یا جہل سادہ کا شکار تھے، اور یہ وہ غلطی ہے جس کا مداوا ہو سکتا ہے، دوسری متمدن

اور ترقی یافتہ قومیں جہل مرکب میں مبتلا تھیں جس کا علاج اور تدارک اور اس کو

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….

۶۰

دھو کر کے نئے حروف لکھنے کا کام ہمیشہ بے حد دشوار ہوتا ہے ۔

یہ عرب اپنی اصل فطرت پر تھے مضبوط اور آہنی ارادہ کے مالک تھے اگر می با

ان کی سمجھ میں نہ آتی تو وہ اس کے خلاف شمشیر تک اٹھانے میں کوئی تکلیف نہ کرتے اور

اگر حق کھل کر سامنے آجاتا تو وہ اس سے دل و جان سے زیادہ محبت کرتے اس کو

گلے سے لگاتے اور اس کے لئے جان تک دینے میں پس و پیش نہ کرتے۔

یہ عربی نفیسات اور ذہن شہیل بن عمرو کے ان الفاظ میں جھلکتا ہے جو

صلح حدیبیہ کے معاہدہ کی تحریک کے وقت ان کی زبان سے نکلے، معاہدہ کا آغاز ان

الفاظ سے ہوتا تھا ، هذا ما قاضی علیه محمد رسول اللہ (یہ وہ ہے جس کا فیصلہ

محمد رسول اللہ نے کیا، انھوں نے کہا کہ والله لوكنا نعلم انك رسول الله ما

صددناك من البيت ولا قاتلان والا اگرہم یہ جانتےاور مانے کہ آپ خدا کے

رسول ہیں تو نہ آپ کو بیت اللہ سے روکتے نہ آپسے جنگ کرتے) یہ ذہن ومزاج مگر میرین

ابی جہل کے الفاظ میں بھی جھلک رہا ہے، یرموک کی لڑائی پورے شباب پر تھی اور عکرمہ پر

سخت دباؤ پڑ رہا تھا، جب رومی بلغار کرتے ہوئے عکر یہ کی طرف بڑھے تو انھوں نے

ان کو پکار کر کہا کہ عقل کے دشمنو ار جب تک بات میری سمجھ میں نہیں آئی، میں رسول الله

صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ ہی ہر جگہ صف آراء رہا، آج میں تم سے بھاگوں گا، پھر

انھوں نے پکار کر کہا کہ ہے کوئی جو موت پر مجھ سے بیعت کرے ؟ کچھ لوگ آئے اور

له بیعت کی پھر وہ آگے بڑھ کر لڑانے لگے یہاں تک کہ زخمی ہوئے اور شہادت پائی۔

ی عرب بڑے حقیقت پسند سنجیده وسلیم الطبع ، صاف گو سخت کوش سخت جان

اه تاریخ طبری ج ۳۴

این

….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….

٦١

تھے، وہ نہ دوسروں کو فریب دیتے تھے، نہ اپنے کو غریب میں رکھنا پسند کرتے تھے،

چی اور پکی بات کے عادی ثبات کی لاج رکھنےوالے اور پختہ ارادہ کے مالک تھے،

اس کا ایک واضح نمونہ اور ثبوت بیعت عقبہ ثانیہ میں نہیں نظر آتا ہے جس کے بعد ہی

مدینہ طیبہ ہجرت کا آغاز ہوا۔

ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب اوس و خروج عقبہ میں رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لئے جمع ہوئے تو عباس بن عبادہ الخزرجی نے

(اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا اے اہل خوارج کیا تمہیں علم ہے کہ تم حضور

صلی اللہ علیہ وسلمسے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ انھوں نے جواب دیا ہاں کہنے لگے کہ

تم ان سے احمر و اسود ہرقسم کے لوگوں سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو یعنی بہت بڑی

تعداد اور مختلف اصناف کے لوگوں ) اگر تم ایسا خیال کرتے ہو کہ تمہارے مال لوٹ لئے جائیں گے

اور تباہ وبرباد کردیئے جائیں گے تمہارے اشراف اور سرداران قبیرہ قتل کر دیئے جایں گے اور قتل کردیئے جائیں۔

توتم ان کو دشمنوں کے حوالہ کر کے علیحدہ ہو جاؤ گے اگر ایسا ہے تو ابھی اس بات کو ختم

کر دو، اس لئے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو واللہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کی رسوائی

ہے اور اگر تمہارا فیصلہ یہ ہے کہ جس چیز کے لئے تم نے ان کو دعوت دی ہے اس کو

پورا کرو گے خواہ تمہارا سالامال و ایسا نہیں نہیں ہو جائے اور تمہارے سردار اشتران

قتل کر دیئے جائیں تو اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دو، اس وقت اس میں خدا کی

قسم دنیا و آخرت دونوں جگہ کی کامیابی و بھلائی ہے، ان لوگوں نے جواب یا کہ

مال و دولت کی تباہی اور سرداروں کے قتل ہر چیز ہم آپسے بیعت کرتے ہیں،

لیکن اس کا صلہ یارسول اسرا ر ی نے یہ عہد پر کیا کی ہے کہ اپنےفرمایا جنت

….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….

۶۲

کہنے لگے ہاتھ بڑھائیے، آپ نے اپنا دست مبارک آگے کیا اور ان سر سے آپ سے بیعت کی۔

اور واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے اس عہد کو جس پر آپکے بیعت کی تھی پورا کیا حضرت

سعد بن معاذ نے اپنے مشہور جملے میں ان سب کی ترجمانی کی تھی کہ خدا کی قسم اگر آپ

چلتے چلتے برگ النماد تک پہونچ جائیں گے تب بھی ہم آپکے ساتھ چلتے رہیں گے اگر

آپ اس سمندر کو عبور کرنا چاہیں گے تو ہم آپ کے ساتھ سمندر میں کو د جائیں گے ؟

عزم و اراد کی بیچکی اور سچائی عمل کی سنجیدگی اور حق کے سامنے تسلیم خم کردینے کا

مزاج اور طبیعت اس جملہ سے بھی عیاں ہے جو اسلامی افواج کے مشہور قائد اور سپہ سالار

عقبہ بن نافع سے منسوب ہے، جب ان کی فتوحات اور پیش قدمیوں کی راہ میں بحرا وقیانوس

(اٹلانٹک) حائل ہوا تو اس موقع پر انھوں نے کہا کہ خدایا یہ بحر ذخار حائل ہے،

ورنہ جی چاہتا ہے کہ برابر آگے بڑھتا جاؤں اور بحر و بر میں تیرے نام کی منادی کر دوں

اس کے برخلاف یونان روم اور ایران کے لوگ زمانہ سازی اور ہوا کے کئی پر

چلنے کے عادی تھے کوئی ظلم وزیادتی ان کے اندر تحریک پیدا کرنے سے قاصر تھی کوئی

اصول پسندی اور حقیقت ان کے لئے کشش نہ رکھتی تھی، کوئی دعوت اور عقیدہ

ان کے خیالات و افکار اور احساسات و جذبات پر اس طرح طاری نہ ہوتا تھا کہ

سے سیرت ابن ہشام ج ام ۲۳ طبع مصطفی البابی الحلبی) طبع دوم سے ہرکی اتحاد کے متعلق مختلف

اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ مین کا کوئی دور دراز مقام ہے ہیلی کہتے ہیں کہ اس کار می مقصد

یہ ہے کہ اگرآپ بعید ترین مقام تک بھی لے جائیں گے توہم ہم رکاب میں جائیں گے اور ساتھ چھوڑیں گے۔

سے زاد المعاد . ج ا ۳۴۳۳۰ سیرت ہشام ج امثال بخاری مسلم میں بھی یہ روایت آئی ہے ۔

سے مسلمان مورخین اور منین عام طور پر اسکو بحر ظلمات یاد کرتے ہیں سے کامل ابن اثیر ج ۴ ۲۶

….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

کا

UPDF

WWW.UPDF.COM

۶۳

وہ اس کے لئے اپنی ہستی کو فراموش کر دیں اور اپنے عیش اور دنیاوی لذتوں کو خطرہ میں

ڈال دیں۔

عرب تهذیب تمدن اور عیش و آرام طبی کی پیدا کی ہوئی ا تمام بیماریوں اور خالی

سے محفوظ تھے جن کا علاج بڑا دشوار ہوتا ہے اور جو کسی ایمان و عقیدہ کے لئے گرم جوشی

و جاں فروشی میں ہمیشہ حائل ہوتی ہیں اور اکثر آدی کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں۔

ان کے اندر صداقت بھی تھی دیانت بھی اور شجاعت بھی منافقت اور سازش ان کے

مزاج سے ناسبت نہھتی ہے جگری سے لڑنے والے گھوڑوں کی پیٹھ پر زیادہ وقت گزارنے والے

سخت قوت مدافعت اور قوت برداشت کے مالک سادہ زندگی کے عادی نشہ سواری اور اور سادہ

فنون جنگ کے عاشق ، جو ایک ایسی قوم کے لئے ضروری شرط ہے جس کو دنیا میں کوئی بڑا

کارنامہ انجام دینا ہو، خصوصا اُس دور میں جب معرکہ آرائیوں اور ہم جوئیوں کا

سلسلہ ہو اور بہادری و شجاعت کا عام چھین ہو۔

دوسری بات یہ کہ ان کی فکری و علی قومیں اور فطری صلاحیتیں محفوظ تھیں اور

خیالی فلسفوں کے قائد منطقی بحثوں اور مونگافیوں علم کلام کے دقیق و تازی مضامین

یا مقامی و علاقائی خانہ جنگیوں میں ضائع نہیں ہوئی تھیں یہ ایک تو خیز اور اس لحاظ

سے محفوظ قوم تھی اور زندگی و حرارت بوش و نشاط اور عزم و آہنی ارادہ سے بھر پور تھی۔

آزادی و مساوات، فطرت اور مناظر قطر سے محبت اور سادگی و سادہ دلی اس کی سے

گھٹی میں پڑی تھی اس کو بھی کی غیر کی اقدار کےسامنے جھکنا نہ پڑاتھا یہ تو غلامی اور ایک

انسان کے دوسرے انسان پریم چلانے کے منی سے ناآشا تھی اس کو ایرانی رومی شہنشاہوں

کے تکبر اور انسان اور انسانیت و نگاه تار دینے کا بھی تجربہ نہ ہواتھا ایک بال ایرانی

….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

سلاطین و جزیرۃ العرکے پڑوس میں تھے، مافوق البشر سمجھ جاتے تھے اگر ایرانی بادشاہ

قصد کھلوانا یا کوئی دوا استعمال کرتا تو دار السلطنت میں اعلان کر دیا جاتا کہ آج بادشاہ است

نے فصد کھلوائی ہے یا دوا استعمال کی ہے اس اعلان کے بعد شہر میں نہ کوئی پیشہ وراپنے پیشہ میں

مشغول ہوتا اور نہ کوئی سرکاری درباری آدی کوئی کام کر سکتا، اگر اس کو چھینک آتی تو اس کے

لئے کسی کو دعائیہ کلمات کہنے کا حق نہ تھا ، وہ خود گر دا کرتا تو آئین بھی نہیں کر سکتا تھا اگر

وہ اپنے وزراء و امراء میں اس کے گھر فروکش ہوتا تو یہ بہت غیرمعمولی اور اہم سمجھاجاتا اور اس

دی سے اس خاندان کی نئی تقویم او نئی جنتری شروع ہوتی اور خطوط میں نئی تاریخ ڈالی جاتی ایک

معینہ تک کے لئے ٹیکس منا کر دیے جاتے، وہ شخص مختلف قسم کے اعزازات انتقام اور معافیوں

و ترقیو سے نوازا جاتا محض اس بنیاد پر کہ بادشاہ نے اپنی تشریف آور ہے اس کو سرفراز کیا ہے۔

به ان آداب در لوازم تعظیم و بندگی کے علاوہ ہے جس کا جانان ارکان سلطنت اور

اہل دربار اور دو سر تمام اشخاص کے لئے ضروری تھا مثلاً ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے

هنا یعنی سینہ پر ہاتھ رکھ کر دکے ساتھ سرباز خم کر دینا ان کے سامنے اس طرح مودب کھڑا

رہنا جس طرح نمازوں میں خدا کے سامنے کوئی کھڑا ہوتا ہے یہ اس بادشاہ کے عہد کا تذکرہ ہے

جو نوشیرواں عادل کے نام سے شہرہ آفاق ہے یعنی خسرو اول ( نوشرو ) اس سے

لے ملاحظه ہو ایران بعد ساسانیان ۵۳۵ – ۵۳۶ ۵ ایضا سے اس کے لئے عربی میں ایک مستقل

محاورہ بن گیا تھا کہتے تھے، گھر فلان یعنی چھکتے ہوئے اپنا ہاتھ سینہ پرکھ کر تنظیم سر جھکا دینا یہ ایران کا نام

رواج تھا اور وہاں یہ اصطلاح نکلی اور لغت عرب میں داخل ہوئی ہے۔ لسان العرب میں ہے کہ گھر کے معنی ہیں

ایرانی کا اپنے بادشاہ کی تعظیم کرنا اور اہل کتاب کی تکفریہ ہے کہ تسلی و آداب کے طور پر آدمی اپنا سر جھکا دے

انھوں جزیہ کے اس شعر سے استناد کرتے ہوئے فضعوا السلام و کفر والتکفیر الکھا ہے کہ جیسے کوئی به آنا

کسان اپنے کھیا اور زردار کے سامنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر دیا اپنا سرجھکا دیتا ہے لسان العرب ج ،

….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۶۵

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایران کا شہنشاہوں کیا حال ہو گا تو ظلم و سفاکی اور بے رحمی میں

شہور زمانہ تھے۔

آزادی خیال اور اظہار رائے نہ کہ تنقید و نکتہ چینی وسیع ایرانی سلطنت میں

تقریبا مفقود تھی، اطہری نے اس سلسلہ میں نوشیروان عادل کی ایک لچسپ حکایت

بیان کی ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی شہنشاہی میں آزادی رائے اور اظہار

خیال پرکتی سخت پابندی تھی اور دربار شاہی میں لب کشائی کی قیمت کیا ادا کرنی پڑتی

تھی، اس واقعہ کو ایران بعہد ساسانیان کے مصنف نے طبری کے حالہ سے قلم بند کیا ہے ۔

اس نے ایک کونسل منعقد کی اور دبیر خون کو حکم دیا کہ دکان کی نئی شرحیں

اواز بند پڑھ کرسنائے جب وہ ہو چکا تو رونے دو نو حاضری وپاک کی کوئی

اعتراض تو نہیں ہے ؟ سب چپ رہے جب بادشاہ نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو

ایک شخص کھڑا ہوا تنظیم کےساتھ پوچھے گا یا بادشاہ کی ناہے کہ ناپایدار

چیزوں پر دائی ٹیکس لگائے جو مردو زمانہ نا انصافی پر ہی ہو گا۔ اس پر بادشاہ

لکار کر بولا کہ اے مرد ملعون و گستاخ بانو کن لوگوں ہی سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ

میں دبیروں میں سے ہوں بادشاہ نے حکم دیا کراس و قلم دانوں سے پیٹ پیٹ کر

مارڈالو اس پر پر ایک بی نے اپنے اپنے قلم دان سے اس کو مارنا شروع کیا

یہاں تک کہ وہ بیچارہ مرگیا، اس کے بعد سی نے کہا کہ اے بادشاہ اجتنے میں

تو نے ہم پر لگائے ہیں وہ ہمارے نزدیک سب انصاف پر بنی ہیں ۔

ہنڈانستان میں عزت و ناموس کی تذلیل و تو ہیں اور ان پس ماندہ طبقوں کی تحقیر

له ایران بعهد ساسانیان ملاه ما خود از ترجمه پروفیسر محمد اقبال

5

….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جن کو فاتح آرین قوم اور لکی قانونی ایک ترین مخلوق قرار دیا تھا اور جو پالتو جانوروں سے

صرف اس بنا میں مختلف تھے کہ دو پیرو پر چلتے تھے اور آدمیوں جیسی شکل رکھے تھے تصویر کا ورا

ہے اس قانون میں یہ باقاعد وقفہ موجود تھی کہ اگرکوئی شود کسی برہمن کو نقصان پہونچانے کے

لئے ہاتھ اٹھائے بال اکٹھی اٹھائے تو اسکا ہاتھ کاٹ دیا جائے اگر اس کو ات مارے تو اسکا پی اے

دیا جائے گر یہ وہی کرے کہ وہ اسکو تعلم دے سکتا ہے تواسکو کھولتا ہوانہیں پایا جائے۔ اس

قانون کی رو سے کتے بلی مینڈک گرگٹ کو ہے تو اور اس اچھوت طبقہ کے فرد کے قتل

م

کا جرمانہ برابر تھا۔

رومی بھی اس معاملہ میں ایرانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے اگرچہ بے شرمی اور

تذلیل انسانیت ہیں یہ بلند در جهان و حاصل نہ تھا ایک مغربی مونیخ VICTOR CHOPART انسان کا

اپنی کتاب THE ROMAN WORLD میں لکھتا ہے :۔

قیصر عبود سمجھے جاتے تھے یہ بات موروثی و خاندانی طور پرنہ تھی بلکہ جو بھی تخت

و تاج کا مالک ہوتاہ قد تسلیم کرلیاجاتاتھا، اگرچہ اسیر ایسی کوئی نشانی اور عات

نہ ہوتی جو اس کو اس درجہ پر فائزہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی (AUGUSTUS)

کا شام انہ لقب ایک شہنشاہ سے دوسرے شہنشاہ تک دستور و قانون کے بموجب مستقل

نہیں ہوتا تھا بلکہ روی ایران حکومت کاصرف انشا کا تھا ک پر اس کی پو شیر

کی دھار پر صادر و صاد کر دیا کرے، یہ شہنشاہی صرف ایک فوجی آمریت

ڈکٹیٹر شب) کی ایک شکل تھی ہے

اگر اس کا موازنہ عربوں کی اس حریت پسندی ، عزت نفس اور ادبی تنظیم میا عتدال

لے منو شاستر (دسواں باب ۲ آرسی، دست ۳۲۲۰-۳۴۳

THE ROMAN WORLD (LONDON 1928), P. 418.

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….

५८

سے کیا جائے جو ظہور اسلام سے قبل ان کے اندر ملتا ہے تو دونوں قوموں کے مزاج اور عربی

و عجمی معاشرہ کا فرق اچھی طرح واضح ہو جائے گا، وہ بعض اوقات اپنے بادشاہوں کو ابیت

النحن” و”عم و عم صباحا جیسے الفاظ سے خطاب کرتے تھے یہ آزادی و خود شناس و خود شناسی اور اپنی عربی

و ناموس کی حفاظت پایانی عربوں میں اس درجہ پڑھی کہ وہ اپنے ملک امراء کے بعض مطالبوں اور

فرمائشوں کو پورا کرنے سے بھی بعض اوقات عذر کر دیتے تھے، اس سلسلہ میں یہ بچسپ افتہ تاریخ

میں آتا ہے کہ ایک عرب بادشاہ نے بنی تمی کے ایک شخص سے ایک گھوڑی جس کا نام شیکا

تھا، طلب کی تو اس نے دینے سے صاف انکار کردیا اور یہ شہور شعر کہے جس کا مطلع یہ ہے ۔

أبيت اللعن أن سكاب علق

اور مقطع یہ ہے ۔

نفيس لا تغار ولا تباع

فلا تطمع أبيت اللعن فيها ومنعكها بشي يستطالع

به آزادی و خود نگری بلندی نفس اور شرافت و حو صلہ مندی عوام کے سب طبقوں

میں موجود تھی اور مردوں اور عورتوں دونوں میں پائی جاتی تھی اس کا ایک نمونہ ہیں حیرہ

کے بادشاہ عمرو بن ہند کے قتل کے واقعہ میں نظر آتا ہے یہ اقعہ عرب مورخین نے اس طرح بیان

کیا ہے کہ عمر بن ہند نے مشہور عرشی ہوا اور شعر عمروبن منوم کی دعوت کی اور یہ خواہش

کی کہ اس کی ماں بادشاہ کی ایک ساتھ دو میں شریک ہو چنانچہ عربی علوم و تقلب کی

ایک جماعت کے ساتھ جزیرہ سے حیرہ کی طرف روانہ ہوا، اور اس کی ماں پہلی بیست میلہل بھی

له ابيت اللعن دعائیہ حملہ ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کی سے محفوظ رہیں عمر صباحا ” آپ اچھی طرح

صبح کریں ۔ ۵۲ دیوان الحماسه باب الحماسه ۶۸۷ شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے بادشاہ ! یہ بہت

قیمتی اور نہیں گھوڑی ہے نہ اس کو عاریتا دیا جا سکتا ہے، نہ اسے بیچا جا سکتا ہے، اس کو حاصل

کرنے کی آپ کو شش نہ کریں، اس کا آپ سے روکنا میرے لئے ممکن ہے”

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….

بنی نقل کے کچھ ذمہ داروں کے ساتھ روانہ ہوئی عمروبن ہند کا خیمہ حیرہ اور فرات کے

درمیان نصب کیا گیا، ایک طرف عمروبن ہند اپنے خیمہ میں داخل ہوا اور دوسری طرف

لیلیٰ اور ہند خیمہ کے ایک علحدہ کمرہ میں جمع ہوئیں، عمرو بن ہند نے اپنی ماں سے کہہ یا تھا کہ

جب کھانا لگ جائےتو نوکروں کو اعلی کر دیا اورکوئی ضرورت ہو تو یہی سے کام

یا چنانچ کر بن ہندنے دستر خوان لگانے کاحکم دیا پھر کھانا گایا۔ اس درمیان میں

ہند نے لیلیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہن! ذرا یہ طباق تو مجھے اٹھا دو ہیلی نے کہا کہ

جس کو ضرورت ہو وہ خود اٹھائے، اس نے دوبارہ مانگا اور اصرار کرنے لگی اس قت پہلی

ے صدا لگائی ہائے کیا ذلت کی بات ہے اے بنی اغلب یہ آواز عمروبن منو نے سنی و اسکی

آنکھوں یں خون اتر آیا اس پیک کو مروی ہند کی تلوار جو ان لٹک رہی تھی اٹھائی اوراس کے

سر پر پار دی اس کے ساتھ ہو تا ہے یہ کولوٹ لیا اور جزیرہ کی طرف واپس آئے اسی

واقعہ پر عمرو بن کلثوم نے وہ مشہور قصیدہ کہا جس کا شمار سبعہ معلقہ میں کیا جاتا ہے۔

اسی طرح جب مغیره ی شعبہ سلمانوںکے سیرین کریم کے درباریں گے تو وہ اپنی پوری

شان و شوکت اور لازم امر کے ساتھ اپنے تن پر بٹھا تھا غیرہ بن شعبہ عربوں کی

عاد کے موافق اسی کے ساتھ اس کے تخت پر گاؤ تکیہ کے پاس بیٹھ گئے، اسے درباری فورا

ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو نیچ انا رائے اس پراٹھوں کہا کہ ہم کو یہ خیر ہی تھیں کہ تم

لوگ بہت عقل مند ہولیکن مجھے تم سے زیادہ بیوقوف کوئی نظر نہیں آتا ہم عرب توسب سے

برابری کا معاملہ کرتے ہیں ہم میں سے کوئی کسی کو غلام نہیں بنانا سوائے حالت جنگ کے

یر امان تھا ہم بھی اپنی قوم سے اسی طرح مساوات و برابری کا معاملہ کرتے ہو گئے

ل كتاب الشعر و الشعراء لابن قتينيه صلاح

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….

५१

اس سے بہتر یہ تھا کہ تم مجھے پہلے ہی مطلع کر دیتے کرتے نے آپس میں ایک دوسرے کو خدا

بنا رکھا ہے، اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ طے نہ ہو سکے گا ، اس صورت میں ہم تم سے

یہ برتاؤ نہ کرتے اور نہ تمھارے پاس آتے لیکن تم نے ہمیں خود دعوت دی ہے۔

جزیرۃ العرب میں آخری نبی کی بعثت کا دوسرا سبب جزیرۃ العرب اور مکا میں

کعبہ کا وجود تھا جس کو حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہا السلام نے اس لئے تعمیر

کیا تھا کہ ایک اشر کی عبادت کی جائے اور یہ جگہ ہمیشہ کے لئے توحید کی دعوت کا مرکز بنے۔

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ پہلا گھر وہ لوگوں کی عبادت کرنے کے

الَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لئے مقدر کیا تھا، وہی ہے جو کہیں ہے

لِلْعَالَمِينَ

برکت اور جہاں لئے موجب ہدایت با برکت اور جہان کے لئے منوح

بائبل (عادت عقیق) میں اس قدر تخریب کے با وجود وادی بکہ کے الفاظ آج تک

موجود ہیں لیکن مترجمین نے اس کو وادی البکاء بنا دیا ہے اور علم کے بجائے نکرہ کردیا

ہے، مزامیر داؤد کے الفاظ جو عربی میں آتے ہیں وہ یہ ہیں :۔

طوبى لا ناس عنهم بك ، طرق بيتك في قلوبهم عابرين في

وادی البكاء يصيرونه ينبوعا. (مزامير ۸۴-۵-۶-۷)

مبارک وہ انسان میں میں قوت تجھ سے ہے ان کے دل پر تیری راہیں ہیں وہ بھائی

وادی میں گزارتے ہوئے اسے ایک کیوں بناتے (کتاب مقدس برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی

3

له تاریخ طبری ج ۴ بکه بلد حرام کا نام ہے، اس کے بگہ اور مکہ دونوں نام آتے ہیں

اس لئے کہ عربی زبان میں تم اور میں اکثر تبادلہ ہوتا رہتا ہے جیسے لازم اور لازب اور بلیط الرابط

سوره آل عمران آیت ۹۶ ۵۴ الكتاب المقدس في ساحة استور من مدينة نيويارك لندن کم

….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….

٧٠

لیکن علماء یہود کو صدیوں کے بعد احساس ہوا کہ یہ ترجمہ غلط ہے چنانچہ

(JEWISH ENCYCLOPEDIA) میں یہ اعتراف موجود ہے کہ وہ ایک مخصوص وادی ہے

جن میں پانی نہ تھا اوروں نے یہ مذکور بالا بات رکھی ہے اس کے ذہن میںایک ایسی

دادی کی تصویر تھی جس کے خاص قدرتی حالات تھے جن کی ترجمانی اس نے ان الفاظ سے کی ہے۔

ان صحیفوں کے انگریزی ترجموں نے ترجمہ میں صحت و احتیاط کا عربی ترجموں سے

زیادہ ثبوت دیا ہے انھوں نے بکہ ” کا لفظ اسی طرح باقی رکھا ہے جیسا کہ اصل صحیفہ میں

تھا انھوں نے اس کو حرف ” 8 ” ہ کہ ” ” سے لکھا ہے جیسے عام طور پر اسماء و اعلام

کو لکھا جاتا ہے۔ یہ انگریزی ترجمہ درج ذیل ہے ہے۔

(BLESSED IS THE MAN WHOSE STRENGTH IS IN THEE:

IN WHOSE HEART ARE THE WAY’S OF THEM. WHO PASSING

THROUGH THE VALLEY OF BACA MAKE IT A WELL:)

PSALM 84: 5-6

مبارک باد ہے ان لوگوں کو جن کی عزت و قوت تیرے ساتھ ہے جن کے

ولوں میں تیرے راستے ہیں جو وادی بر کو بور کر کے اور اسکے ایک کنواں بنائیں گے)

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہا السلام

کی اس دعا کانتیجہ تھی جو انھوں نے کعبہ کی بنیادیں رکھتے اور اس کی تعمیر کرتے وقت کی تھی یہ عادی ہے۔

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رسُولا مر مر کے ہالے پروردگار ! ان لوگوں میں

الكتب والحِكْمَةَ وَيُزکریم تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر نا یا کرے

له VOL. II. . as ۲ با خود از تغییر ماجدی از مولانا عبد الماجد دریا بادی، و رحمة للعالمین از

قاضی سلیمان منصور پوری جلد اول ۔

….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….

61

إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے

(سوره بقره – ۱۲۹ )

اور ان کے دلوں کو پاک بنا کیا کرے کے

بے شک تو غالب اور صاحب حکمت ہے

اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے مخلصین صادقین اور اپنی ذات عالی سے

کو لگانے والوں اور دامن احتیاج پھیلانے والوں کی دعا ضرور قبول کرتا ہے انبیاء و

مرسلین کا رتبہ تو اس سے بھی اونچا ہے صحت سماویہ اور اخبار صادقہ ان مثالوں سے

بریز ہیں، خود تو ریت میں اس کا ثبوت موجود ہے کہ الہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام

کی یہ دعا قبول کی اکتاب پیدائش (۲۰) کے صاف الفاظ یہ ہیں :۔

اور اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا، او

اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا

ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا؟

اسی لئے رسول اللہ صلی الہ علیہ آلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اپنے بارہ میں فرمایا

کرتے تھے کہ انا دعوة ابراهیم و بشری عیسی میں ابراہیم کی دعا و عیسی کی بشارت

ہوں ) توریت میں (اس کی تحریف کے با وجود اب تک اس کے شواہد ملتے ہیں کہ دینا قبول

ہوئی کتاب استثناء (۱۸- ۱۵) میں موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔

” يقيم لك الرب الهك نبيا من وسطك من أخوتك مثلى له تسمون “

ترجمہ : خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں

میں سے میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اس کی طرف کان دھر لو۔

لے مند امام احمد .

….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اخوتك (تیرے ہی بھائیوں) کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ اس سے مراد بنی اسماعیل

ہیں جو بنی اسرائیل کے ابناء عم تھے ، اسی صحیفہ میں دو آیتوں کے بعد یہ الفاظ درج ہیں )

” قال لى الرب قد أحسنوا فيما تكلموا أقيم لهم نبيا من وسط الخواتم

مثلك، واجعل كلامي في فمه فيكلم هم بكل ما أوصيه به

(سفر التثنه – ۱۸-۱۸۰۱۷)

اور خدا وند نے مجھے کہا کہ انھوں نے جو کچھ کہا اس اچھا کہا میں ان کے لئے

ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا یک نبی برپاکروں گا اور اپنا کلام اس کے متھے

میں ڈالوں گا اور کچھ میں سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا ؟

أجعل كلامي في قمة (اپنا کلام اس کے منھ میں ڈالوں گا) کے الفاظ محمد

صلی اللہ علیہ وسلمکی نعلین طور پر نشان دہی کرتے ہیں، اس لئے کہ آپ ہی وہ تنہا

نبی ہیں جن پر اللہ تعالی کا کلام لفظاً ومعنا نازل ہوا اور اللہ تعالی نے اس کا اعلان بھی فرمایا۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُو اور نہ خواہش نفس سے مجھ سے بات

الا وحي يوحى نکالتے ہیں، یہ قرآن تو حکم خدا ہے

( سوره نجم ۲۳ – ۲۴

دوسری جگہ آتا ہے ۔

جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے۔

لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ اس پر چھوٹ کا دخل نہ آگے سے

وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حکیم ہوسکتا ہے کہ پیچھے سے دانا اور خوبیوں

حدیده (سوره حم سجدہ (۴۲) والے خدا کی اتاری ہوئی ہے۔

اس کے برخلاف انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفے اس کا بالکل دعوی نہیں کرتے کہ ہے

….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

لفظاً و معنا دونوں طرح اللہ کا کلام ہیں، ان کے علماء بھی ان کو انبیاء کی طرف منسوب

کرتے ہیں تکلف سے کام نہیں لیتے، جیولیش انسائیکلو پیڈیا میں آتا ہے کہ :۔

کتاب مقدس (عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابیں (جیسا کہ قدیم یہودی تدریجی

روایات ہمیں بتاتی ہیں، موسی نبی کی تالیف ہیں، آخری آٹھ آیات کو مستثنی

کر کے جن میں موسیٰ کے انتقال کا واقعہ بیان کیا گیا ہے) رتی (یہودی عالم)

اس تضاد اور ایک دوسرے سے مختلف روایات پر غور کرتے رہتے ہیں جو ان

صحیفوں میں آئی ہیں، اور اس میں اپنی حکمت ذہانت سے اصلاح کرتے رہتے ہیں ؟

جہاں تک اناجیل اربعہ کا تعلق ہے جن کو معہد جدید کہا جاتا ہے ان کو نقطاً

و معنا کلام الہی ہونے سے دور کا بھی واسطہ نہیں اس کا اطمینان ہر وہ شخص کر سکتا ہے

جس کی ان کتابوں پر نظر ہے، واقعہ یہ ہے کہ یہ کتابیں سوانح و وقائع کی کتابیں زیادہ

معلوم ہوتی ہیں، خدا کی نازل کردہ کتابیں جو وحی و الہام پر پینی ہوں کم کیے

اس کے بعد جزیرۃ العرب کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کا نمبر آتا ہے میں نے اس کو

رہے موزوں مرکز دعوت کی شکل دے دی ہے، جہاں سے یہ دعوت و پیغام ساری دنیا کو

پہونچایا جا سکتا ہے اور ساری قوموں کو خطاب کیا جا سکتا ہے ایک طرف وہ براعظم ایشیا کا

ایک حصہ ہے دوسری طرف براعظم افریقہ اور اس کے بعد یو سے بھی قریب ، اور یہ سب

وہ علاقے ہیں جو تہذیب تمدن علوم و فنون اور مذاہب افکار کا ہمیشہ مرکز ہے، اور

جہاں بڑی وسیع، اور طاقتور سلطنتیں قائم ہوئیں پھر یہ علاقہ تجارتی کاروانوں کی

تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں ہماری کتاب

منصب نبوت کا ساتواں خطبہ ختم نبوت فصل آسمانی صحیفے اور قرآن علم و تاریخ کی روشنی میں

JEWISH ENCYCLOPEDIA, VOL. 9, P. 589

….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

گزرگاہ بھی تھا جس کے ذریعہ مختلف ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے یہ کئی

براعظموں کو جوڑتا تھا اور ایک جگہ کی خصوص اشیاء اور پیداوار دوسری جگہ جہاں اس کی

ضرورت تھی منتقل کرتا تھا، یہ جزیرہ نمائے عرب دو زبر دست بر سر پیکار طاقتوں کے

درمیان واقع تھا عیسائی طاقت اور مجوسی طاقت مغرب کی طاقت اور مشرق کی طاقت

لیکن اس کے باوجود اپنی آزادی اور اپنی شخصیت کی اس نے ہمیشہ حفاظت کی اور اپنے

چند سرحدی مقامات اور بعض قبائل کو چھوڑ کر اس نے کبھی ان طاقتوں کی اتنی قبول نہیں کی

وہ نبوت کی ایک ایسی عالی دعوت کا بجاطور پر مرکز بن سکتاتھا جو بین الاقوامی خطوط پر

قائم ہو انسانیت کو بلند سطح سے خطاب کر کے اس ہم کے سیاسی دباؤ اور غیر کی اثرات سے

بالکلیہ آزاد ہو۔

ان سب وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جزیرۃ العرب اور مکہ مکرمہ کو رسول اللہ

صلی الہ علیہ آلہ سلم کی بعثت وحی آسانی کے نزول اور دنیا میں اسلام کی اشاع کے

عالم گیر مرکز اور نقطہ آغاز کے طور پر منتخب فرمایا۔

اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَل اور اللہ تعالے زیادہ جانتا ہے کہ اس کا

رسالته . (سورة الانعام ۱۴۳) پیغام کہاں اور کس کے حوال کیا جائے۔

نے ڈاکٹر حسین کمال الدین نے جو ریاض یونی ورسٹی کے انجینیرنگ کالج میں سول انجینرزنگ کے شعبہ کے

صدا میں اپنے ایک پریس انٹرویومیں کہا کہ وہ ایک نے جغرافیائی نقطہ نظر پر پہونچ چکے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا

ہے کہ کر کرمہ روئے زمین پر خشکی کے حصہ) کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے انھوں نے اپنی تحقیق کا آغاز ایک ایسے

نقشہ سے کیا جس میں کہ کر سے دوسرے مقامات کی مسافتیں کھائی گئی تھیں ان کا مقصد اس سے در اصل

ایک لیے کم قیمت آلہ کی تیاری تھی جو سمت قبلہ کا تعین کر سکے، اسی درمیان ایران پر حقیقت واضح ہوئی

ہے کہ کرم ٹھیک دنیا کے وسط میں واقع ہے اسی تحقیق سے ان پر یہ راز بھی منکشف ہوا کہ مکہ مکرمہ کو

بیت اللہ کا مرکز اور ہدایت آسانی کا نقطہ آغاز بنانے میں خدا کی مصلحت کیا تھی (روزنامه الاهرام درود

1945