نبی کی ضرورت
چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں حالات کا بگاڑ اتنا بڑھ گیا تھا اور انسانیت
بیتی اس حد کو پہونچ چکی تھی کہ اب کسی مسلح، ریفارم او علم ر اخلاق کے بس کی بات
نہ تھی ہٹلر کی ایک عقیدہ کی تصحیح کا کسی مخصوص عادت کو بدلنے کا یاکسی طریقہ عبادت
کی ترویج کا یا کسی معاشرہ کی سماجی اصلاح کا نہ تھا، اس کے لئے و صلح اور مسلمین اخلاق
کافی تھے جن سے کوئی زمانہ اور کئی علاقہ کبھی خالی نہیں رہا بلہ یہ تھاکہ جاہلیت کے
مشرکانہ ویت پرستانہ اور انسانیت کے اس مہلک اور تباہ کن طیبہ کو کس طرح ہٹایا اور
صاف کیا جائے جو صدیوں اور نسلوں سے لے اوپر جمع ہو رہا تھا، اور جس کے نیچے ابیاء کرام
کی صحیح تعلیمات اور مسلحین کی مساعی اور خدمات دفن تھیں پھر اس کی جگہ پر وہ شی مستحکم
اور ظیم الشان، وسیع و عریض اور بلند و بالا عمارت کیسے قائم کی جائے جس کے سایہ رحمت
میں ساری انسانیت کو پناہ مل سکے بلکہ یہ تھاکہ وہ انسان کوں کو بنایا جائے جواپنے پیش رو
انسان سہر چیز یں جدا ہو اور ایسا نظر آئے کہ وہ ابھی ابھی وجود میں آیا ہے یا اس نئی زندگی کی ہے۔
اوَ مَنْ كَانَ ميتا نا ھی بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس
زندہ کیا اور اس کے لئے روشنی کردی
وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يمشي بے
MOHAMMED AND MOHAMMEDANISM (LONDON, 1876) P. 105
له
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….
في النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظلمت جس کے ذریعہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے
لَيْسَ بِخَارِج مِنْهَا .
کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیر
(سوره انعام (۱۲۲) میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی سکے۔
پیا فساد کی جڑ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے اور بت پرستی کی بنیاد کو بیچ وبس اس طرح
اکھاڑ پھینکنے کا تھا کہ دور دور اس کا کوئی اثر اور تشی باقی نہ رہ جائے اور عقیدہ توحید رضی انسانی
کی گہرائیوں میں ملا اس طرح پیوست اور راسخ کر دیا جائے کہ اسے زیادہ تصور کرنا مشکل ہے اس کے
اندر الشر تعالی کی رضا جوئی اور عبادت کا رجحان انسانیت کی خدمت اور حق پرستی کا جذبہ اور
غلط خواہش اور شوق کو لگام دینے کا ملکہ اور اس کی صلاحیت قوت پیدا کی جائے مختص یہ کہ اناست
b
چھوڑی تھی کچڑ کر کے دنیا و آخرت کے بت سے بچا جائے اور اس کو اس شاہراہ پر ڈالا جائے
جس کا پہلا سراوہ حیات طیبہ ہے جو عارفین اہل ایمان کو اس دنیا ہی میں نصیب ہوتی ہے اور دوسرا اور
انتہائی سرا وہ ہمیشہ رہنے والی جنت ہے جس کا تقوی کی زندگی اختیار کرنے والوں کے وہ کیا گیا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشت کے احسان اذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن جی میں جو
ارشاد فرمایا ہے اس سے بڑھ کر اس صورت حال کی کوئی تصویر اور ترجمانی نہیں ہوسکتی ہے ارشاد ہے۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمُ اذ كنتم اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کر جبکہ تم ایک دوسر
أَعْدَاء فَالَفَ بَيْنَ فُولر کا حجم کے دشمن تھے تو اس تمہارے دلوں میں الفت
بينة إخوانا وكُنتُم عَلى شفا ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی
حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَانْقَذَ كم ہو گئے اونم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہونچے
منها (سوره آل عمران (۱۰۳) چکے تھے تو خدانے تم کو اس سے بچا لیا۔
….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….
۷۹
بنی نوع انسان کی پوری تاریخ میں ہمیں اسے زیادہ نازک اور بے چیٹ کام اور اس سے
بڑی اور عظیم الشان ذمہ داری نظر نہیں آتی جو ایک نبی اور فرستادہ الہی کی حیثیت سےمحمد صلی اللہ
الرسول پر ڈالی گئ نہ کوئی کھیتی اتنی زرخیز ثابت ہوی اور برگ با لائی جیسی آپ کی کوئی
کوشش وسیعی اتنی بار آور ثابت ہوئی جتنا آپ کی سعی انسانیت عامہ کے حق میں فید و
جات بخش ثابت ہوئی یہ عجائبات تاریخ کا سے بڑا گھوڑا اور دنیاکا سے بڑا جرم ہے اس کی
شہادت مشہور فرانسیسی ادیب اور شاعر نے بھی بڑی قوت بلاغت اور وضاحت و صراحت کے
ساتھ دی ہے یہ ادیب پیر ٹائن (LA MARTINE) ہے وہ نبوت محمدی کو خراج تحسین پیش
کرتے ہوئے کہتا ہے :-
کسی بھی انسان نے کبھی بھی شعوری یا غیر شعوری طور پراپنے لئے ان رفیع الشان قص حروب
نہیں کیا اس لئے کہ ی قصد انسان کی طاقت باہر تھا تو تھا اورخوش اعتقادوں
کو جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان حجاب بن گئی تھیں زیر وزبر کرنا انسان کی خدا
کے وار کرنا اور ایک چوکھٹ پر انسان کولانا، اس زمان کی اصنام پنی کے مادی
خداؤں کی جگہ خدائے واحد کے پاکیزہ اور الی تصور کو از سر و بحال کرنا، یہ تھا
عظیم مقصد کسی انسان کبھی بھی ایسے عظیم الشان کام کاج کسی صورت سے
سے
انسانی طاقتوں کے بس کا نہ تھا، اتنے کمزور ذرائع کے ساتھ بڑا نہیں اٹھایا۔
آگے لکھتا ہے :۔
اس سے بھی زیادہ آپ کا یہ کارنامہ ہے کہ اپنے قربان گاہوں دیوتاؤں مذاہب
تصور ، عقائد او نفوس کے اندر ایک تہلکہ ڈال دیا، ایک ایسی کتا کے اساس بنا کر
جس کا ہر حرف قانون کی حیثیت رکھتا ہے آپ نے ایک ایسی روحانی ملت کی تشکیل
….….….….….….….….….….….….….….….….….….……..….….….….….….….….….….….….….
کی جو ہر نسل اور ہر زبان کے اراد پر پھیل ہے اس محبت اسلامیہ کی امت کی خصوصیت
جسے محمد نے ہمارے لئے ورثہ میں چھوڑا ہے یہ ہے اس جھوٹے خداؤں سے سخت نفرت ہے
اور مادہ سے مبرا خدا سے شدید لگا یہی محبت اسے خدائے واحد کی ایکان کے خالق
انتقام پر مجبور کردیتی ہے اور یہ محبت محمد کے متبعین کی خوبیوں کی بنیاد یتی ہے
اپنے عقائد کوایک تہائی نیا تعلیم کا بنا ہے آپ کا مزہ تھالیکن زیادہ صحیح
تو یہ ہے کہ یہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عقل کا معجزہ ہے خدا کی توحید کے تصور کا ایسے
دوری علان کرنا جب کہ نیا لاتعداد ضمنی خداؤں کی یوتی کے بوجھ سے دبی ہوئی تھی
بذات خود ایک کے معجزہ تھا محمد کی زبان سے جیسے ہی اس یقین کا اعلان ہوا انہوں کی
نام قدیم معبدوں میں خوا میں انکار نے لی اور ایک نیا یا این حوار سے بری ہوگئی ہے
یہ عمومی اور ہمہ گیر انقلاب اور انسانیت کی حیات نو با تعمیر تو عظیم الشان کام
نئی رسالت کا طالب تھا جو تمام رسالوں اور نو تو نون پڑھ کر ہو اور ایسے ہی کا و انگار
تھا جو ہدایت اور دین حق کا پرچم آفاق عالم میں ہمیشہ کے لئے بلند کرے اللہ تعلی کا ارشاد
لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اهیل جو لوگ کافر ہیں یعنی اہل کتاب در شرک
الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِين وہ کفر سے باز رہنے والے نہ تھے جب تک
حتى تَأْتِيَهُمُ البَيِّنَة رسول ان کے پاس کھلی ہیں نہ آتی بینی خدا کے
مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحفا مطهر پیر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں جن میں
فيها كتب قيمة (سورہ بینہ (۳) مستحکم آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔
جلد دوم
لا ٹر کی LAMARTINE HISTOIRE DE LA TURQUTE
۲۷۷۰۲۷۶۰ پیرس (۱۸۵۴) ماخوذ از اسلام ان دی ورلڈ نصیت ڈاکٹر کی علی لاہور (۱۹۳۷