Pesh Lafz

پیش لفظ

الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين

وخاتم النبيين محمد واله وصحبه اجمعين، ومن تبعهم

باحسان الى يوم الدين

وہ پہلا مکتب اور مدرسہ جہاں سے پہلے مصنف کتاب کا داخلہ ہوا وہ

سیرت نبوی کا مدرسہ ہے اس مبارک مدرسہ میں اس کا داخلہ اس ابتدائی عمر میں

ہوا جس میں بچے عام طور پر مکتب اور مدرسہ میں داخل نہیں کئے جاتے، یہ اس کے گھرانے

اور خاندانی ماحول اور فضا کا نتیجہ تھا جو وہاں قائم تھی سیرت کو اس ثقافت

اور کلچر کے ایک اہم اور بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل تھی جس سے بہرہ مند اور آراستہ

ہونا گھر کے بچوں اور لڑکوں کے لئے اس عہد میں ضروری خیال کیا جاتا تھا، اس میں

اس بچے کی چھوٹی موٹی لائبریری کو بھی بڑا دخل ہے جو نظم و نثر دونوں طرح کی کتابوں کو

پشتمل تھی، اور برابر گردش میں رہتی تھی، اس کے بعد اس میں سے بڑا حصہ اس کے

برادر اکبر ڈاکٹر حکیم مولوی سید عبدالعلی صاحب کی حکیمانہ تربیت اور رہنمائی کا ہے

اس کا فائدہ یہ تھا کہ اس نے بہت کم سنی اور نو عمری میں اردو میں سیرت کی وہ بہترین ہے

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

کتابیں پڑھ لیں جس میں عربی زبان کے بعد سیرت کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور عہد آخر

میں اس پر سب سے بڑا کام ہوا ہے لیے

جب عربی زبان و ادب کا کچھ ذوق پیدا ہوا تو اس نے اپنی ساری توجہ سیرت

کے عربی مآخذ پر مرکوز کردی ان میں سر فہرست دو کتابیں تھیں ایک ابن ہشام کی کتاب

السيرة النبوية” دوسرے امام امام ابن القیم کی کی کتاب ” زاد اله المعاد” اس نے ان

کتابوں کو صرف علمی یا روایتی طریقہ سے پڑھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ کہنا میچ ہوگا کہ

انھیں کتابوں میں اپنی زندگی کے شب روز بر کئے یہی وہ وقت تھا جب اس کا دل

ایمان یقین کی حلاوت سے آشنا ہوا، اور جزیہ شوق و محبت کو نئی غذا ملی اور اس کی

از سر نو آبیاری ہوئی ، اس لئے کہ سیرت کے موثر واقعات تربیت و رہنمائی کا سب سے رافعات تربیت و رہنمائی

طاقتور ذریعہ اور انسان کے قلب دماغ کے لئے (قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ لئے

اثر انگیز اور حیات آفریں سر چشمہ میں ان دونوں کتابوں کے بعد عربی اور انگریزی میں

سیرت کی جو قدیم و جد یار کتابیں اس کی دسترس میں تھیں وہ بھی برابر مطالعہیں آتی

ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیرت اس کی کتابوں اور تحریروں کی ہمیشہ سے بڑی بنیاد ہی

اسی کے دم قدم سے اس کا سارا سوز و ساز اور آب رنگ تھا اور اس کے نقش قدم

کے طفیل اس کے نقوش قلم میں تازگی تھی اپنے مقاصد مطالب کی وضاحت کے لئے

اس کو قوی سے قوی تر دلائل اور بلیغ سے بلیغ مثالیں سیرت کے جمال و کمال ہی سے

لے جس کی دلچسپ کہانی مصنف نے اپنی عربی کتاب الطريق الى المدينة من الكتاب الذي

لا أنسى فضلہ کے عنوان سے بنائی ہے اور اس میں خاص طور پر قاضی محمد سلیمان گفتا منصور پوری

مرحوم کی مقبول کتاب رحمتہ للعالمین کے مطالعہ کے گہرے اثرات کا ذکر کیا ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

ملتی تھیں، اور سیرت ہی سے اس کی طبع میں روانی و جولانی پیدا ہوتی تھی اور اس کی

خوابیدہ صلاحیتیں پیدا نہ ہوئی تھیں، اس کی کوئی قابل ذکر تحریر ایسی نہیں جس پر

اس جال محمدی کا کوئی پر تو اور سیرت نبوی کے گہرے مطالعہ اور فکر و تدبر کا کوئی

عکس نہ ہو۔

سیرت کے مختلف پہلوں اور گوشوں اور بعثت محمدی کی عظمت اور اس کے

حیر العقول اثرات نتائج پر اسکے یہ مقالات خطیبات کاروان مدینہ میں کیا کردیے گئے ہیں۔

مصنف نے اس طویل عرصہ میں بہت سی کتابیں لکھیں اکین خاص سیر کیسے

موضوع پر کوئی مستقل کتاب اس کے قلم سے نہ نکل سکی، حالانکہ اس کو اس بات کا

احساس تھا کہ اس موضوع پر ایک ایسی کتاب کی شدید ضرورت ہے جو ایک طرف عصری

اور علمی اسلوب میں لکھی گئی ہو اور اس میں قدیم و جدید دونوں قسم کے آخذ سے پورا

استفادہ کیا گیا ہو، دوسری طرف سیرت کے اولین اور اصل (ORIGINAL) ماخذ پر

اس کی بنیاد ہوا اور قرآن و حدیث سے اس میں سرمو انحراف نہ کیا گیا ہو وہ دهگی

(ENCYCLOPAEDIC طرز پر نہ لکھی گئی ہو جس میں اسے معلومات بغیر کسی نقد تمھیں کے

بھر دیئے جاتے ہیں اور ہر طرح کا ضروری و غیر ضروری مواد پیش کر دینا ضروری سمجھا جاتا

ہے، یہ وہ طرز تصنیف اور اسلوب تحریر ہے جس کے دور آخر کے اکثر مصنفین اور بعض

منتقدین بھی عادی رہے ہیں یہ طرز بہت سے ایسے غیر ضروری اشکالات سوالات پیدا

کرتا ہے جن سے سیرت نبوی تری و بے داغ ہے، اور جس میں بادیہ پیمائی اور

لے کتاب کے تین عربی ایڈیشن مدینہ منورہ، لکھنو اور دمشق سے اور اردو میں دو ایڈیشن لکھنو

اور کراچی سے شائع ہو چکے ہیں، عربی میں اس کا نام “الطريق إلى المدينة ” ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

آشفتہ سری کی سلمانوں کوکوئی ضرورت نہیں اس ایک تحقیق تین کا قلم بند پیدا کیا

رجحانات اور مستشرقین کی تشکیک کاکوئی اثر قبل کئے بغیر اپنا کام کرچکا ہے اس کے ساتھ

وہ ان دینی مسلمات و حقائق کے ساتھ ہم آہنگ ہو ں کی روشنی و پری کے بغیر آسانی کتابوں

انبیاء کی سیرت معجزات اور یہی واقعات و حقائق کو صیح طور پر چھنا مشکل ہے اور جو

اس اصول پر کار بند اور اس عقیدہ کا حامل ہو کہ یہ ایک نبی کی سیرت ہے جو اللہ تعالی کی

طرف سے دنیا میں مبعوث کیا گیا ہے اورجس کو ہردم پر خط خداکی نصرت تائید حاصل تھی

نہ کسی بڑے قومی لیڈر اور ہی رہنا کے حالات زندگی، یہ وہ سیرت ہے جو ہر تصف مزاج

تعلیم یافتہ شخص خواہ کم ہویا غیرمسلم کے سامنے کسی تحفظ (RESERVATION)

انتقاء اورسی تاویل کا سہارا لئے بغیر پیش کی جاسکے چنانچہ مصنف نے اس کتاب میں ا بغیرپیش

خودان واقعات و حالات اور سیر سے اصل و بنیادی مواد پر زیادہ اعتماد کیا ہے اور

اس کو اس کا موقع دیا ہے کہ وہ خود اپنی زبان سے بولے اور پڑھنے والے کے داغ و دل

اور ذہن و نظر میں اپنا راستہ خود بنائے ان منہ سے بولتی ہوئی صداقتوں اور زندہ

حقیقتوں کو فلسفہ کا رنگ دینے، واقعات کی تاویل کرنے اور اس کے لئے طویل و عریضی

مضمون باندھنے کی اسمیں زیادہ کوشش نہیں کی گئی ہے واقعہ یہ ہے کہ سیرت اپنے

حسن و جمال اپنی موزونیت و لطافت اور اپنی اثر انگیزی دل آویزی کے لئے کسی

بڑے آدمی کی سفارش کسی حکم کے علم و دانش اور کسی ادیب اور صا ادیب اور صاحب قلم کے انداز گاری

بار گینی بیان کی محتاج نہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک مصنف کو جس چیز کی

ضرورت ہوتی ہے وہ حسین بیان حسن ترتیب اور حسن انتخاب ہے۔

پھر اس پر عقل و جذبات دونوں کی بیک وقت اور شانہ بشانہ جلوہ گری اور

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

کارفرمائی ہونی چاہئے ایسانہ ہوکہ عالمان بحث اور مرضی نقد و جائزہ جاری است

اور ذوق و شوق کی کیفیت کو سر دو افسردہ کردے جو سیرت کے خیال جہاں آرا سے

لطف اندوز ہونے اور اپنے دیدہ و دل کو اس سے روشن اور منور کرنے کی ایک ناگزیر

ضرورت اور اس سے صحیح و کامل استفادہ اور اس کے مسائل احکام اور واقعات کو

صحیح طور پر سمجھے اور صحیح نتائج تک پہونچنے کی لازمی شرط ہے اگر سیرت کی کوئی کتاب

اس جذباتی اور ایمانی عنصر سے خالی ہے تو یہ مجھنا چاہئے کہ وہ چوپ خشک کا مصنوعی

ڈھانچہ ہے جس میں زندگی کی حرارت اور نمی موجود نہیں، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ

یہ جذباتی و ایمانی عنص عقل سلیم کے تقاضوں پر غالب نہ آجائے جن کی اہمیت عصر حاضر

نے خاص طور پر بڑھا دی ہے نہ و منطق کے صحیح معقول اور قابل فہم اصولوں منافی کو اول کے

نہ عقید اور تقلید پر مبنی ایسا خراج عقیدت اور خراج تحسین ہو جس کو صرف قوی الایمان

پشتینی مسلمان اور وہ علماء راسخین قبول تسلیم کر سکیں جن کی بیرونی دنیا اور جدید

ثقافت سے کوئی رسم و راہ نہیں یہ عقیدت محبت بلا شبہ ایک عطیہ خداوندی او رحمت

خداداد ہے لیکن یہ بات ہمیں کبھی نہ بھولنا چاہئے کہ وہ بہر حال اس نبی کی سیرت ہے

جس کو رحمہ العالمین بنا کر دنیا کے تمام انسانوں اور نوع انسانی کے تمام طبقوں کی

طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے اس کو اس طبقہ کے افراد کے لئے ممنوع یا شہر بند نہیں

کیا جا سکتا، جن کو حالات نے اس اسلامی و ایمانی ماحول میں نشو و نما حاصل کرنے کا

موقع نہیں دیا، اور تقدیر انہی کا فیصلہ ہوا کہ وہ غیر اسلامی ماحول ہی میں پیدا ہوں

وہیں ان کی نشو و نما ہوا پھر لطف انہی ان کی مساعدت کرے اور سیرت محمدی کا کوئی

معطر وجاں نواز جھونکا اپنی دل آرائی و سجائی کے ذریعہ ان کو اس جگہ سے اٹھا کر

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اسلام کے سایہ رحمت اور ایمان کی بارگاہ میں پہنچا دے، واقعہ یہ ہے کہ ان غیرمسلموں کا

حقی سیرت پر ان مسلمانوں سے ہرگز کم نہیں جوپہلے ہی سے اسلام و ایمان کے سایہ رحمت

میں ہیں اس لئے کہ دوا و علاج کی تندرست سے زیادہ ایک بیمار کو ضرورت ہے دریا کے

اس پار رہنے والے کو پل کی حقیقی حاجت ہوگی اتنی حاجت پل کے اسی طرف رہنے

والے کو کیوں کر ہو سکتی ہے ؟

مصنف سیرت نگاری کے وقت اس ماحول اور اس عہد کو بھی کی طرح نظران از

اور فراموش نہیں کر سکتا، جس میں نبوت محمدی کا آفتاب پہلی بار طلوع ہوا، اس لئے

اس عہد کی عالم گیر جاہلیت کی پوری تصویر کشی بھی ضروری ہے جو چھٹی صدی کیچی

میں ہمیں ساری دنیا پر محیط نظر آتی ہے، اس میں یہ بھی دکھانا ہو گا کہ اس زمانہ میں

فساد اخلاقی بگاڑ اور انسان کی بے چینی و اضطراب کسی درجہ پر پہونچ چکا تھا،

اس کی اخلاقی ، سماجی ، معاشی اور سیاسی حالت کیا تھی ؟ تخریب فساد کے

کیا کیا اسباب و عوامل اس وقت کی دنیا میں کار فرما تھے اور کیسی کیسی ظالمانہ

حکومتیں مسخ شدہ مذاہب انتہا پسندانہ و خیالی فلسفے انتباہ کن تحریکیں اور دعوتیں

اپنا کام کر رہی تھیں، جب مصنف نے اپنی کتاب ” ماذا خسر العالم بانحطاط

المسلمین کی تمہید اور مقدمہ کے طور پر عہد جاہلیت کی ذرا تفصیل کے ساتھ تصویر

کھینچنے کی کوشش کی تو اس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑا جو اسے آج تک یاد حواست

ہے اس کو اس کے لئے ان تمام مغربی آخذ کا جائزہ لینا پڑا جن میں ظہور اسلام کے

وقت کے متمدن ملکوں اور اقوام عالم کی تاریخ بیان کی گئی تھی اس ان تمام ضخیم کتابوں

لے جس کے اردو ترجمہ کا نام انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

سے ان نشر حالات کا کیا ہے ہونٹوں کے سے کر کے وانے کھائے پریا

..

ت تمہید و کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھی گئی ہے اور سیرت کا مطالعہ کرنے والے کے لئے

یشنی کا کام کرتی ہے اور اس کے سامنے بعثت محمدی کی عظمت و وسعت اورمنصب نبوت

کی نزاکت واہمیت اور اس کے عظیم الشان نتائج کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے

عہد حاضر کے سیرت نگار کے لئے بہت ضروری ہے اور اس کا کام اس نشست تک مکمل فرا

نہیں دیا جائے گا جب تک اس میں بحث تحقیق کا یہ انداز اختیار نہ کیا گیا ہو اور آغاز اسلام

کے وقت عہد جاہلیت کا نقشہ اور اس کے فساد و اضطراب اخلاقی پستی اور خود فراموشی

و خودکشی کی زندہ و تحرک تصویر پوری امانت داری کے ساتھ بے کم و کاست پیش کی گئی ہو۔

یہی اس ماحول اور اس شہر کا نقشہ تھا یہاں اسلام کی پہلی کرن چکی یہاں

محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ک ولادت با سعادت ہوئی اور دعوت حق کے قافلہ

نے پہلا قدم آگے بڑھایا جہاں آپ کی عمر مبارک کے ۵۳ سال گزرے اور جہاں تیرہ سال

دعوت اسلام کے سخت و جاں گداز مرحلوں میں بسر ہوئے بیرت کا مطالعہ کرنے

والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس زمانہ میں عقل و شعور اور تہذیب تمدن کی توسط تھی

اس سے باخبر ہو، نیز اس ملک کے اجتماعی اور سیاسی اور دینی و نا یہی حالات اس کی

اقتصادی و سیاسی ڈھانچہ اور حربی اور عسکری طاقت کی نوعیت سے بھی واقف

ہوتا کہ اس ملک کے باشندوں کے صحیح رجحانات، ان کے مزاج و افتاد طبیع، ان کے ذہن

و نفسیات کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اس کو ان دشواریوں اور رکاوٹوں کا پورا

لے ملاحظہ فرمائیں انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ” باب بعثت سے پہلے شائع کردہ

مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنو

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۲۴

اندازہ ہو سکے جو اسلام کی ترقی و پیش قدمی کی راہ میں حائل ہو رہی تھیں۔

یہی بات بلکہ اس کچھ زیادہ ہی تیرگی کے بارہ میں کہی جا سکتی ہے ہو ہے

ہے جہاں اسلام

کر سے منتقل ہوا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اور صحابہ کرام نے ہجرت فرمائی اور

تقدیر الہی نے اس کو اسلام کا اولین مرکز قرار دیا اس لئے اس کے پیر نظر کی جھے بغیر اسلام

کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا پورا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، ان حالات کو جانے بغیر

ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اسلام نے ان افراد کی کیا اور کس طرح تربیت کی ان کو کیسے

جات و بخشی مختلف مسائل کو کس طرح حل کیا متضاد و متحارب عناصر کو کس طرح

شیر و شکر کیا، اس سلسلہ میں نبوت محمدی کا کارنامہ کیا تھا ؟ اس نے ٹوٹے ہوئے دلوں

کو جوڑنے اور روٹھے ہوئے انسانوں کو ملانے اور ان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ

تظہیر کا فریضہ کس طرح انجام دیا، یہ بات صرف اسی وقت سمجھی جاسکتی ہے جب

آدمی کے سامنے اس عجیب غریب اور بے چیڑ ماحول کی پوری تصویر ہو جس کا سامنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلمانوں کو کرنا پڑا بہت سے واقعا اور فیصلے جو حدیث وسیرت

کے مطالعہ میں آدمی کی نظر سے گزرتے ہیں۔ اس وقت تک سمجھے ہی نہیں جاسکتے جب تک

مدینہ کی اجتماعی اقتصادی اور سیاسی حالت وہاں کی زمین کی خاصیت اس کے

جغرافیہ اس گرد و نواح وہاں کی انفرادی اور علاقائی طاقتوں ایک باہمی تعلقات

و روابط معاہوں اور عہد ناموں، اور پھر سے قبل کے معاملات اور قومی وملکی دستور

اور سم و رواج کا قاری کو علم نہ ہو اگر کوئی شخص ان تمام باتوں سے بالکل نا واقف ہو کر و ام و رواج کا اری کو منہ ہوا شخصان تمام علم اگر

سیرت کی کتابوں میں اپنا سفر شروع کرتا ہے تو اس کی مثال ایک سرنگ میں چلنے

والے کی سی ہوگی جس کو اپنے دائیں بائیں اور آغاز و منزل کسی چیز کی خبر نہ ہو۔

پور

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

یہی اصولا اس وقت کی معاصر و متمدن حکومتوں اور پڑوسی ریاستوں پر بھی

منطبق ہوتا ہے اس لئے کہ ناظرین سامنے دعوت اسلامی کے اس اقدام کی اہمیت اور

اس کی حوصلہ مندی اور خطر پندی کی کوئی فضا واضح تصویر اسوقت تک آہی نہیں سکتی

جب تک اس کو ان حکومتوں کے حجم اور قوت شوکت کا اندازہ نہ ہو جن کو رسول اللہ سلم

علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی اور ان کے نام فرامین جاری کئے، اور ان کی تہذیب

و ثقافت عسکری قوت ، فارغ البالی اور مرند الحالی نیز ان کے سلاطین کی مطلق البانی

کے دیدبه اور شان وشوکت کاصحیح علم ہویہ معلوم ہے ان حکومتوں اور قومو کی

تاریخ ، اور ان کے معاشرہ پر خاصی روشنی ڈال دی ہے اور یہ اسے ان حالات اور حقائق

کا پردہ چاک کردیا ہے جو اس قدم میں لوگوں سامنے نہیں آئے تھے یا زیادہ اورواضح ہوتے

تھے اس زمانہ کے بیرت نگار کے لئے ضروری ہوگا کہ اپنے کام میان تمام معلوما سے پوری

مردے اور تاریخ و جغرافیہ اور تقابلی مطالعہ (COMPARATIVE STUDIES) کے میدان

میں جدید ترین UP-TO-DATE مباحث و معلوما اب تک سامنے آئے ہیں ان سے پورا

فائدہ اٹھائے ۔

مصنف کو ان تمام باتوں کا احساس تھا اور سیرت نگاروں کی ناقابل فراموش خدمات

اور مختلف زبانورا و مختلف زبانوں میں ان کے قلم سے نکلنے والی تحریروں کی قیمت و افادت

کا پورا اعتراف بھی ! اس نے اپنی سعادت سمجھ کر یہ کوشش کی کہ وہ بھی سیرت نبوی پر

ایک نئی کتاب لکھ کر اس محبوب جلیل القدر موضوع کے مصنفین کی نورانی فہرست

میں شامل ہو جائے۔

لیکن تنگی وقت اور صنعت بصارت کی وجہ سے مصنعت کی تفصیل اطمینان

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

۲۶

کے ساتھ اس موضوع پلی اٹھانے کی ہمت ہوتی تھی اس لئے اس کو اسکا اور تجری

تھا کہ کسی بڑے آدمی کی سیرت (نبی اور سید الاولین والآخرین و اشرف المرسلین کا معامالی

اس سے کہیں برتر وبالا ہے مصنفین کے لئے رہے مشکل اور نازک موضوع ہے مصنف کو

مشہور و اہم شخصیات کے سوانح حیات اور متقدمین و متاخرین کے حالات زندگی اور کارنی

لکھنے اور بیان کرنے کا شاید اپنے بہت سے معاصرین اور رفقاء سے زیادہ اتفاق ہوا ہے

اصحاب عوت و عزیمت کے حالات وتراجم پر لکھنا شروع کر دیا، اور اپنے قلم سے

سیر و تراجم کے موضوع پر کئی ہزار صفحے سیاہ اور اپنے نصیب کو روشن کیا، اور بچپن ہی سے

ان اسلاف کرام اور ائمہ رشد و ہدایت کے ساتھ زندگی گزاری اور خدا کا شکر ہے کہ کرام اور امروز شد و درایت کے زندگی او

اس سلسلہ میں بہت کچھ پڑھنے کا موقع ملا، اور بہت کچھ لکھنے کی توفیق ہوئی ان سب

وجوہ کی بنا پر اس کو اس موضوع کی نزاکت اور اس ذمہ داری کی اہمیت کا اندازہ

تھا، اکثر ایسا ہوتا ہے ۔ کسی مصنف پر کوئی خاص رجحان یا ذوق ایسا غالب آتا ہے کہ

وہ اپنے مدروح کو کبھی شعوری اور غیر شعوری طور پر اپنے اس ذوق ورجحان کے تابع

کر دیتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی تصنیف اور تحریر صرف اس رجحان اور ذوت

کی نمایندگی کرتی ہے جو اس وقت مصنف پر حاوی تھا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے

مدوح کی تصویر کشی کے ارادہ سے قلم اٹھاتا ہے لیکن بجائے سے اس کے خود اپنی تصویر آثار

دیتا ہے وہ اس کے حالات و سوانح پر معروضی اور بے لاگ طریقہ سے روشنی ڈالنا

چاہتا ہے لیکن اس کو اپنے ذاتی میلانات و تجربات اور اپنے نقطہ نظر کی عینک سے

دیکھنے اور ان حالات و واقعات کو اپنے مخصوص پیمانوں سے ناپنے لگتا ہے ۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

جس کا علم النفس اور اخلاقیات کے کوچہ سے کبھی گذر ہوا ہے معا شخصیتوں

کے مطالعہ و مشاہد کا اسے کبھی موقع ملا ہے اور اس نے ایک طویل عرصہ ان کی رفاقت

و صحبت میں گذارا ہے وہ بآسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ فرانسانی کی تہ تک پہونچنا اور اس کے

یے آفاق اور فضائے حی کا علم پھر اس کی جامع اور نازک تصویر کشی علوم ادویہ اور

اسالیب بیانیہ کی رو سے دشواری نازک اور بہت جلد متاثر ہونے والی صنعت ہے اور اس کا

تھوڑا بہت حق وہی ادا کر سکتا ہے جو نفس انسانی کے احساسات و جذبات اس کے

سوزو سان سر رو شوق اس کی روح کی تپش اور دل کی گداز سے بہت کچھ واقف ہو

اور یہ محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ اس کی راتیں کیسے لگتی ہیں اور اس کے دن

کس طرح گزرتے ہیں وہ اپنے گھر کیا نظر آتاہے اور اپنے فاء ودوستوں سے کس طرح پیش آتا

ہے اس نے اس کو صلح و جنگ میں بھی دیکھا ہوا اور اشتعال اور سکون تنگی و راحت اور صنعت

و قوت میں بھی اس لئے کہ انسان کے اندر بہت سے ایسے جذبات و احساسات اور اس کے

جمال و کمال کے بہت سے ایسے نادیدہ و ناشنید پہلو بھی ہیں جن کے لئے انسانی گفت میں

ابھی تک الفاظ وضع نہیں کئے جاسکے، اور جن کی منظر کشی و ترجمانی کے لئے لغت کا بڑے

سے بڑا ذخیرہ کفایت نہیں کرتا۔ کی

بسیار شیو هاست بنتان را که نام نیست

سیرت نبوی دوسرے افراد بنی آدم میں (بشمول انبیاء و غیر انبیاء) اپنی

نزاکت و لطافت اوسعت و جامعیت زندگی کی نازک سے نازک تفصیلات اور

دقیق سے دقیق معانی و مطالب اور دل کی دھڑکنوں اور پیشانی کی سلوٹوں تفسیر انسانی

کی مختلف حالتوں کے احاطہ و استیعاب اور اس کی مکمل تشریح و ترجمانی میں سو ہے۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

متاز اور بلند نظام رکھتی ہے ایسا دراصل علم حدیث کی وجہ سے ممکن ہوسکا جس کی کوئی

نظر دوسرے انبیاء یا تاریخ انسانی ک عظیم شخصیتوں میں ہمیں نہیں ملتی سیرت و شمائل

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں دن و رات کے مختلف حصوں میں آپ کے

اوراد و اذکار اور خدا کے حضور آپ کی آہ سحر گاہی اور گریہ نیم شبی اور اس امت اور

پوری انسانیت کے لئے آپ کی بیقراری و دل سوزی کے جو عجیب نو نے آپ کے ادعیہ

مسنونہ کے وسیع ذخیرہ میں ہمیں نظر آتے ہیں اس کو بھی اس میں بڑا دخل ہے اسی طرح

آپ کے اقوال ماثورہ اور جوامع الکلم اور آپ کے باکمال وصف نگاروں اور

اہل بیت کرام نے آپ کے جو شمائل و خصائل عادات و معمولات اور روز مرہ کی زندگی

کے واقعات بیان کئے ہیں، ادبیات عالم اور تاریخ و انسا کے پیسے لیکچر نے اس سے

زیادہ نازکی تصویریشی در اور اس کی و کیشی اور منظر نگاری اور انسانی خدمتعال اور اس کی اخلاقی بلندیوں

اور لطافتوں کی اس سے عمیق اور عظیم ترجمانی اب تک ریکارڈ نہیں کی ہے اس لحاظ سے

سیرت کے موضوع پر کتاب کی تصنیف ہی کسی طرح کی دشواری اور ابہام مفروضات

قائم کرنے اور قیاس سے کام لینے کی بالکل ضرورت نہیں جو صلحین قائدین کے تذکرے

میں بہت پیش آتی ہے رسل اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت ان اسب زیادہ کمل بھی ہے

لے اس کی تفصیل کے لئے مصنف کا مقالہ سیرت محمدی دعاؤں کے آئینہ میں ملاحظہ فرمائیں جس میں

سیرت سے ان دعاؤں کا تعلق انسانی زندگی کے حقائق اور انسانی نیست و اخلاقیات سے آپ کی گہری تو رات

اور اس کے باریک سے باریک اور نازک سے نازک پہلوؤں کی کامل رعایت کا اندازہ ہوتا ہے یہ مقالہ ایک

مستقل رسالہ کی شکل میں کئی بار شائع ہو چکا ہے۔ سے تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں مصنف کی

کتاب منصب نبوت اور اس کے عالی مقام عالمین مضمون محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی سیرت

کے

و یا قیامت تک کے انسانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ و اسوہ اور اس کے لئے غیبی انتظامات

ساتواں خطبه ۲۰-۲۱۲

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اور مین بھی، اس کی بنیاد قرآن مجید کے وہ صریح نصوص تاریخ کی ناقابل تردید نہاد پر ہے

آپ کا جمالی صوری و معنوی شمائل و خصائل عادات عبادات اور اخلاق و معاملات

کی وہ واضح ، روشن اور تیری تفصیلات و جزئیات ہیں جن سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا

بایں ہمہ وہ حقیقت اور امر واقعہ سے بھی اتنی قریب ہیں جس سے زیادہ تصور ناممکن ہے۔

لیکن ان تمام باتوں اور سول الہ صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور لعین

عالم کے سوانح و حالات زندگی بلکہ خود دوسرے انبیاء کرام کی سیرت میں اس قدر فرق

و تفاوت اور سیرت محمدی کی اس گیرائی اور ہمہ گیری اور جہاں آرائی کے باوجود وہ کہاں

نبوت اور کمال آدمیت کی سدرۃ المنتہی اور عراج ہے ہم اس کا اعتراف کرنے پر

مجبور ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی اور مکارم اخلاق کی صحیح تصویر اور آپ کے ان معجزات کا

استیعاب تفصیل جن کی جلوہ ریزی آپ کی پوری سیرت دعوت اور انفرادی و اجتماعی

زندگی میں نظر آتی ہے الہ تعالی کے ساتھ اور اللہ کے بندوں کے ساتھ آپ کا معاملہ

آپ کا حسن صورت سیرت کمال ظاہر و باطن ، آپ کی محبت و شفقت اور دل داری

و دلنوازی، آپ کی دعائیں اور خدا سے عرض حال بنی نوع انسان اور انسانیت کے

مستقبل کے لئے آپ کی بے قراری و دل سوزی آپ کی فصاحت بلاغت علم و حکمت

اور کمال و بجا معیت کی ان روشن و جاں نواز نشانیوں اور زنا و لا فانی معجزوں کا

مفصل و مکمل بیان قریب قریب نا ممن ہے ہیرو شمائل کی کتابوں نے اس سلسلہ میں

جو کچھ پیش کیا ہے وہ ان کے کمال دیدہ وری و عرق ریزی کے اعتراف کے ساتھ

آپ کے جمال سیرت و کمال نبوت کا صرف ایک ہلکا سا عکس ہے جو اللہ تعالی نے

آپ ہی کے ساتھ مخصوص فرمایا تھا، زیادہ سے زیادہ اس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

یہ ان کی سعی محمود ہے کہ انھوں نے اس قدر ضبط و اتقان اور غایت درجہ اہتمام کے

ساتھ ان حالات کو قلم بند کیا، اور اس کی بہترین جزا اللہ تعالی انکو عطا فرمائے گا، یہ

ایسی مشترک عالم گیر اورغیر محتم دولت ہے جس میں ہر فرد بشر ہر انسانی نسل اور انسانوں

کا ہر گروہ اور ہر طبقہ ہدایت در روشنی اور اتباع و پیروی میں اپنا حصہ اسدی پا سکتا

اور اپنے طالع خفتہ کو بیدار کر سکتا ہے :۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللہ تم کو پیغمبر خدا کی پیروی کرنی بہتر ہے

أسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ یعنی اس شخص کو جس کو نیند سے ملنے

يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْأخير و اور روز قیامت کے آنے کی امید ہو

وذكر الله كثيرا ( سورة الاحزاب ) اور وہ خدا کا کثرت سے ذکر کرتا ہو۔

شاید یہی اسباب و وجوہ تھے جن کی وجہ سے سیرت نبوی کے موضوع پر کسی نئی

تالیف کی مجھے اب تک ہمت نہ ہو سکی، اورمیں اس عظیم الشان کام کو اپنی حیثیت سے

بہت بلند سمجھتا رہا، میرے بعض فاضل اور محترم دوستوں نے مجھے اس بات پر

آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی کہ عربی زبان میں سیرت نبوی پر ایک ایسی کتاب تیار

کروں جس میں نئی نسل کے ذہن اور ذوق اور اس کے فہم اور نفسیات کی موجودہ

سطح کا خیال رکھا گیا ہو، نیز ان نئے تقاضوں اور ضرورتوں اور اس طرز تحقیق او

طرز کلام کی اس میں پوری رعایت ہو جو موجودہ دور میں رائج ہے اس لئے کہ ہر زمانہ کا

ایک خاص اسلوب بیان اور زبان ہوتی ہے جس کا لحاظ ضروری ہوتا ہے دواؤں

لے بالخصوص مصنف کے فاضل و محترم دوست شیخ محمد حمود الصوان رکن مجلس تاسیسی

رابطہ عالم اسلامی مکه مکرمه و نشر وزارت تعلیم حکومت سعودیه .

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اور غذاؤں کی بھی خاص خوراکیں اور ایک خاص ترتیب ہوتی ہے جو حالات کے ساتھ

بدلتی رہتی ہے، لیکن یہ سب کچھ جیسا کہ اوپر اشارے کئے جا چکے ہیں) سیرت کو اپنی

خواہشات و اغراض اور ان علمی نظریات کا تابع بنائے بغیر ہونا چاہئے جو صبح و شام

بدلتے رہتے ہیں، اور اس کو ان شبہات و اعتراضات کی ہر آمیزش اور آلودگی سے

پاک و صاف ہونا چاہئے جو اکثر مذہبی تعصب، کم علمی و نا واقفیت با سیاسی

مفادات و اعراض سے پیدا ہوتے ہیں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ میں شرح صدر نصیب فرمایا اور میں

پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ اس کام میں مشغول ہوگیا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میرے

سامنے لمحات اور سانسیں اسی ماحول میں گزارنے لگیں میں نے اس سلسلہ میں نہ صرف

سیرت و حدیث کی کتابیں پڑھنا شروع کیں بلکہ قدیم اور جدید لٹریچر جو بھی کام

کی چیز مجھے ملی میں نے اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اس کے بعد میں نے

اس موضوع پر جو اب سے زیادہ مستند کتابیں لکھی گئی ہیں اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس

مبارک کام کا آغاز کیا، عہد حاضرمیں اس موضوع پر جو کچھ کام ہوا ہے اور مغربی

زبانوں کے اہم مآخذ سے بھی (جن سے سیرت کے بہت سے پہلوؤں کی وضاحت

ہوتی ہے اور اس عہد پر اور ان حکومتوں اور سلطنتوں نیز اس زمانہ کے معاشرہ

اور سوسائیٹی پر روشنی پڑتی ہے) استفادہ کی کوشش کی گئی ہے اور اس کی کوشش

کی کہ کتاب علمی اور تربیتی و دعوتی دونوں پہلوؤں کی جامع ہوا اور ان میں سے کوئی

ایک پہلو دوسرے پہلو پر غالب نہ آجائے، نیز اس میں وہ زندہ ہم سے بولتے ہوئے

لے عربی و دیگر زبانوں کے مآخذ کا انڈکس کتاب کے آخر میں ملاحظہ کریں۔

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

اور زندگی و حرارت سے بھرے ہوئے اقتباسات زیادہ سے زیادہ پیش کئے جائیں

جن سے اسوۂ نبوی کے اتباع اور پیروی کا جذبہ پڑھنے والے میں خود بخود پیدا ہوتا ہے

اور جن کی نظیر کسی انسان کی سیرت کی عظیم سے عظیم شخصیت کے سوانح کسی نسل اور

قوم کی تاریخ او کسی دعوت و تحریک اور دین و ندیہ کے نقشہ میں نہیں ملتی۔ یہ سب کسی

رنگ آمیزی داستان طرازی اور تزئین و آرائش کے بغیر قاری کے سامنے رکھ دیا جائے کہ

جمال فطرت اور حسن حقیقت کو ظاہری رنگ روغن اور مہکتے ہوئے تازہ پھولوں کو

مصنوعی رنگ بو کی ضرورت نہیں ہوتی ہے

روئے دل آرام را حاجت مشاطه نیست

خادمیت

شوال ۱۳۹۶ سے شوال ۳۹اره اکتوبر ۹ تا اکتو بر اه) یک

مجھے اس موضوع کے سوار بعض اضطراری حالات کو چھوڑ کی کسی اور چیز سے سروکار

نہیں رہا،

درمیان میں کچھ وقفے کی بیماری کے حملہ اور شرق و سفر کے بعض طویل دورو

کے نذر ہو ئے اللہ تعالی کے لطف و کرم سے عمرہ شوال اہ میں یہ کتا تکمیل کی

پہونچی اور اب قارئین کے ہاتھوں میں ہے۔

اس موقع پر اپنے ان دو فاضل دوستوں کا شکریہ اداکرناضروری ہے جس سے

مجھے اس کتاب کی تالیف میں بڑی مرد ملی، ایک مولانا برہان الدین نبیلی استاذ حدیت مجھےاس میں بڑی مدولی

تغییر دار العلوم ندوۃ العلماء جن سے احادیث کی تخریج اور تلاش جستجو نیز کتب بیرت

کے بعض مقامات کی تحقیق میں مجھے قیمتی مرد ملی، اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزائے خیر

عطا فرمائے دوسرے سید محی الدین صاحب جنہوں ے مغربی آخذ کے مطالعہ تاریخ عام

نیز مختلف دائرة المعارف ENCYCLOPEDIAS) کی چھان بین میں میری بیش قیمت

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

مدد کی مصنف ان کے اس گرانقدر تعاون کا معترف اور ان کی محنت وسعی

اور اخلاص کے لئے شکر گزار ہے۔

اپنی معذوری کی بنا پر عرصہ سے معمول ہے کہ مضامین اور کتابیں ہمیں املا کر آنا

ہوں اس لئے اس کتاب میں بھی مجھے اپنے بعض عزیز طلبہ سے مدد لینی پڑی بالخصوص

عزیزان محمد معاذ انڈری ندوی اور علی احمد گجراتی اور عزیزی مولوی نور عالم امینی

ندوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء نے تحریرہ وکتابت کے اس فرض کو انجام دیا۔

اللہ تعالیٰ ان کو اس کا صلہ عطا فرمائے ۔

سیرت کی اس کتاب کے لئے نقشوں کا بھی خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ اُن سے

بہت سی ایسی حقیقتیں آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہیں جو بعض اوقات طویل

عبارتوں سے بھی سمجھ میں نہیں آئیں یہ نقشے تاریخی معلومات اور اس عہد کی تاریخ کے

مطالعہ کی روشنی میں تیار کئے گئے ہیں، اور کوشش کی گئی ہے کہ وہ فنی وعلمی حیثیت سے

ہر طرح مکمل اور عہد جدید کے مطابق ہوں، اس سلسلہ میں ہمارے عزیز دوست محمد حسن

صاحب انصاری (ایم اے جغرافیہ) جناب پروفیسر محمد شفیع صاحب پر ووائس چانسلر

در شعبہ جزرافه مسلم علی و یونیورسٹی علی گڑھ و کارکنان شعبہ جغرافیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے

بڑی دیچسپی لیا خدا انھیں جزائے خیر دے کہ انھوںنے اس کام کو سیرت نبوی کی ایک قدرت

سمجھ کر انجام دیا عزیزی مولوی محمد رابع ندوى مصنف جغرافيه جزيرة العرب صدر

شعبۂ ادب عربی دار العلوم ندوۃ العلماء کے قیمتی مشورے بھی اس کام میں شامل رہے

اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں اور عزیزوں کو جزائے خیر دے اور ان کی سعی کو مشکور فرمائے۔

مصنف کی دوسری اہم تصنیفات و مضامین کی طرح عربی سے اردو میں کتا کے

3

……..….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….….

ترجمہ کی خدمت مصنف کے برادر زاده عزیز سید محمد حسنی سلمہ مدیر البحث الاسلامی

نے اپنی ایک بڑی سعادت سمجھ کر انجام دی اس کام کے لئے وہ ہر طرح سے موزوں

اور اس کے لئے وہ دل و جان سے حاضر تھے اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی محمود کو قبول فرمائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتا ہے نفع پہونچا ہے، اس عمل کو اپنی قبولیت

سے نوازے اور اس کو آخرت کا ذخیرہ اور سیرت پاک کے مطالعہ اور اس سے استفادہ

اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا ذریعہ وسیلہ بنانے اگر یہ کتاب کسی صاحب

ایمان کے دل میں شوق و محبت کی ایک چنگاری بھی بھڑکا دیتی ہے اور کسی فرمسلم کے

دل میں اس کو پڑھ کر اس نبی رحمت کی سیرت مطہرہ کی طرف کوئی کشش آپ کی

محبت کی کوئی پہر اور اسلام کے سمجھنے کا جذبہ بیدار کر دیتی ہے اور اس سب سے بڑھ کر

یہ کہ وہ خدا کے یہاں قبول ، مصنف کے لئے ذریعہ مغفرت اور وسیلہ شفاعت

ہو تو وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اس کو یہ کہنے کا حق ہوگا۔ ع

شادم از زندگی خویش که کاری کردم

روز جمعه

۱۳۹۶/۱۱/۵ھ

۲۹ زار ۶۱۹۷۶

ابو الحسن علی حسنی ندی

دائرۂ حضرت شا علم اللہ رائے بیٹی