سلاطین و امراء کو دعوتِ اسلام

(اواخر سنہ ۶ھ یا اوائل سنہ ۷ھ)

حکیمانہ طرزِ دعوت

صلحِ حدیبیہ کے بعد حالات قدرتی طور پر پُرسکون ہو گئے، دعوتِ اسلامی کو سانس لینے کا موقع ملا اور ترقی و پیش قدمی کی نئی راہیں کشادہ ہوئیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاطینِ عالم اور امرائے عرب کو دعوتی خطوط لکھے اور انہیں بڑے حکیمانہ اور باوقار انداز میں اسلام کی دعوت دی۔

اس کام کے لیے آپ نے خاص اہتمام فرمایا۔ ہر بادشاہ اور حاکم کے لیے ایسے ایلچی کا انتخاب کیا جو اس کے مرتبہ و حیثیت کے مطابق گفتگو کر سکے، وہاں کی زبان اور ملک کے حالات سے واقف ہو اور سفارت و دعوت دونوں کا حق ادا کر سکے۔

مصنف کے نزدیک زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ یہ خطوط صلحِ حدیبیہ کے بعد، یعنی اواخر سنہ ۶ھ یا اوائل سنہ ۷ھ میں روانہ کیے گئے۔ ان کے ذریعے یہ حقیقت پوری قوت کے ساتھ سامنے آئی کہ اسلام صرف عربوں یا جزیرۃ العرب کا دین نہیں، بلکہ پوری نوعِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے۔

صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ بادشاہ عموماً ایسے خط کو تسلیم نہیں کرتے جس پر مہر نہ ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص مہر بنوائی، جس کا حلقہ چاندی کا تھا اور اس پر تین سطروں میں نقش تھا:

محمد
رسول
الله

یہ تحریریں اس بات کا زندہ اعلان تھیں کہ دعوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخاطب پوری انسانیت ہے۔ ان خطوط کے سامنے اس وقت کی بڑی متمدن اور بااثر حکومتیں بھی مخاطب تھیں: یا تو وہ خود اس دعوت کو قبول کریں، یا کم از کم اپنی رعایا کو اسے سمجھنے اور آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع دیں۔

صحیح بخاری، کتاب الجہاد؛ شمائل ترمذی؛ اور اصل کتاب کے متعلقہ حواشی۔

مکاتیبِ نبوی

جن حکمرانوں کے نام خطوط روانہ کیے گئے، ان میں رومی شہنشاہ ہرقل، ایرانی شہنشاہ کسریٰ پرویز، حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور مصر کے حاکم مقوقس کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

ہرقل کے نام مکتوب

ہرقل کے نام مکتوبِ گرامی حضرت دحیہ کلبیؓ کے ہاتھ بھیجا گیا۔ خط کا مضمون یہ تھا:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ.

أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ.

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ.

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عظیمِ روم ہرقل کے نام۔ سلام اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں؛ اسلام لاؤ، سلامت رہو گے، اور اللہ تمہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ اگر تم نے اعراض کیا تو تمہاری رعایا کے گناہ کی ذمہ داری بھی تم پر ہوگی۔

کسریٰ پرویز کے نام مکتوب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى كِسْرَىٰ عَظِيمِ فَارِسَ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ، وَآمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

وَأَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً لِأُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا. أَسْلِمْ تَسْلَمْ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْمَجُوسِ.

محمد، رسول اللہ کی طرف سے فارس کے عظیم بادشاہ کسریٰ کے نام۔ سلام اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اللہ کا رسول بن کر تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ اسلام قبول کرو، سلامت رہو گے؛ ورنہ مجوس کی ذمہ داری بھی تم پر ہوگی۔

نجاشی کے نام مکتوب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى النَّجَاشِيِّ عَظِيمِ الْحَبَشَةِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ.

أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ السَّلَامَ الْمُؤْمِنَ الْمُهَيْمِنَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْبَتُولِ الطَّيِّبَةِ الْحَصِينَةِ، فَحَمَلَتْ بِعِيسَى مِنْ رُوحِهِ وَنَفْخِهِ كَمَا خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ.

وَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْمُوَالَاةِ عَلَى طَاعَتِهِ، وَأَنْ تَتَّبِعَنِي وَتُؤْمِنَ بِالَّذِي جَاءَنِي، فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ وَجُنُودَكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو اللہ واحد کی عبادت، اطاعتِ الٰہی، اپنی اتباع اور نازل شدہ وحی پر ایمان کی دعوت دی، اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ قرار دیا۔

مقوقس کے نام مکتوب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الْمُقَوْقِسِ عَظِيمِ الْقِبْطِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ.

أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ أَهْلِ الْقِبْطِ.

اللہ کے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبطیوں کے عظیم حاکم مقوقس کے نام۔ اسلام لاؤ، سلامت رہو گے؛ اللہ تمہیں دوہرا اجر عطا کرے گا، اور اگر انکار کیا تو اہلِ قبط کی ذمہ داری بھی تم پر ہوگی۔

فرامینِ نبوی میں مکتوب الیہم کے امتیازی حالات کی رعایت

ان خطوط میں دعوتِ نبوی کی حکمت کا ایک نہایت لطیف پہلو نمایاں ہے: ہر مکتوب میں مخاطب کے مذہبی پس منظر، ذہنی کیفیت اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھا گیا۔ ہرقل اور مقوقس عیسائی دنیا کے بڑے حکمران اور مذہبی ماحول سے وابستہ تھے، اس لیے ان دونوں کے خطوط میں محمد عبد الله ورسوله کے الفاظ آئے، اور اہلِ کتاب کو اس مشترک کلمہ کی طرف بلایا گیا:

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
کہہ دیجیے: اے اہلِ کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے: ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔
سورۃ آلِ عمران، آیت ۶۴

اس کے برخلاف کسریٰ پرویز اور اس کی قوم مجوسی پس منظر رکھتی تھی، اس لیے اس مکتوب میں نبوتِ عامہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہونے پر خاص زور دیا گیا۔ یہ فرق دعوت کی حکمت، مخاطب شناسی اور حالات کی رعایت کی روشن مثال ہے۔

سلاطین کون تھے؟

ان خطوط کی تاریخی اہمیت اس وقت پوری طرح واضح ہوتی ہے جب یہ معلوم ہو کہ ہرقل، کسریٰ، نجاشی اور مقوقس کوئی معمولی مقامی حکمران نہ تھے۔ یہ اس زمانہ کی بڑی سیاسی طاقتوں، وسیع سلطنتوں اور اثرانداز تہذیبی مراکز کے نمائندے تھے۔ ساتویں صدی عیسوی کے سیاسی نقشہ سے ناواقف شخص شاید ان خطوط کو چند عام والیانِ ریاست کے نام مکاتیب سمجھے، لیکن اس عہد کی تاریخ سے واقف آدمی ان فرامین میں ایک غیر معمولی پیغمبرانہ جرات، عالمی شعور اور دعوتی اعتماد محسوس کرتا ہے۔

قیصرِ روم ہرقل اوّل

بازنطینی شہنشاہ ہرقل اوّل ایک وسیع و عریض سلطنت کا حکمران تھا۔ ایرانی شہنشاہی کے ساتھ مل کر اس کی سلطنت نے اس عہد کی متمدن دنیا کا بڑا حصہ اپنے درمیان تقسیم کر رکھا تھا۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ میں اس کے خوش حال، دولت مند اور ترقی یافتہ مقبوضات اور نوآبادیاں تھیں۔ مشرقی رومی سلطنت اپنے دبدبہ، فوجی قوت اور تمدنی اثر کے سبب دنیا کی دو عظیم طاقتوں میں شمار ہوتی تھی۔

ہرقل یونانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور قرطاجنہ کے سیاسی ماحول میں پروان چڑھا۔ جب بازنطینی سلطنت داخلی انتشار اور ایرانی حملوں کے باعث سخت بحران میں مبتلا ہوئی تو وہ اقتدار میں آیا۔ ابتدا میں اس کی حکومت بہت کمزور تھی، لیکن بعد میں اس نے غیر معمولی فوجی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا، ایران کے خلاف بڑی مہمات چلائیں اور وہ علاقے واپس حاصل کیے جو بازنطینی سلطنت سے چھن گئے تھے۔

مصنف نے اس موقع پر خاص طور پر یاد دلایا ہے کہ قرآنِ مجید میں رومیوں کی شکست کے بعد چند برسوں میں ان کے دوبارہ غالب آنے کی جو خبر دی گئی تھی، ہرقل کی فتوحات اس تاریخی پس منظر میں واقع ہوئیں۔ اس کے فاتحانہ دور ہی میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی مکتوب ملا۔

بازنطینی اور ساسانی شہنشاہیتیں — چھٹی صدی عیسوی میں
بازنطینی اور ساسانی شہنشاہیتیں — چھٹی صدی عیسوی میں؛ اصل کتاب کا نقشہ

کسریٰ پرویز — خسرو دوم

کسریٰ پرویز، یعنی خسرو دوم، ساسانی خاندان کا عظیم اور نہایت بااثر شہنشاہ تھا۔ اس کے عہد میں ایرانی سلطنت شان و شوکت، دولت، تمدن، درباری آرائش اور فوجی طاقت کے نقطۂ عروج پر پہنچی۔ ہندوستان کی شمال مغربی سرحدوں تک اس کا اثر تھا اور اس کے نام کے ساتھ عظمت و جلال کے ایسے القاب وابستہ تھے جو اس دور کی بادشاہی ذہنیت کی پوری تصویر پیش کرتے ہیں۔

وہ ایک دور میں بازنطینی شہنشاہ موریس کی مدد سے اپنے تخت پر دوبارہ قابض ہوا، پھر موریس کے قتل کے بعد اس نے اس کے جانشینوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ ایرانی افواج نے بازنطینی سلطنت کے بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور قسطنطنیہ تک خطرہ پہنچا دیا۔ بعد میں ہرقل نے زبردست جوابی حملہ کیا اور ایرانی طاقت کو اس کے اپنے قلب میں شکست دی۔

مصنف نے ایرانی مورخین کے حوالے سے کسریٰ پرویز کی دولت، عیش و عشرت، فنون، موسیقی، عطریات اور نوادرات سے دلچسپی کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کی سلطنت بظاہر نہایت مضبوط تھی، لیکن چند ہی برس میں داخلی بغاوت، شاہی خاندان کی کشمکش اور مسلسل جنگوں نے اسے کمزور کر دیا۔

مقوقس

مقوقس اسکندریہ کا حاکم اور مصر میں بازنطینی اقتدار کا نمائندہ تھا۔ عرب مؤرخین اسے عموماً مقوقس کے نام سے یاد کرتے ہیں، اگرچہ اس کے اصل نام، لقب اور سرکاری حیثیت کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں۔ مصنف نے ان اختلافات کو نقل کرتے ہوئے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مقوقس کوئی شخصی نام نہیں بلکہ ایک سرکاری یا مذہبی لقب تھا۔

مصر اس زمانہ میں بازنطینی سلطنت کی سب سے زرخیز اور اہم ریاستوں میں شمار ہوتا تھا۔ دارالسلطنت کے لیے بڑی مقدار میں غذائی اجناس یہیں سے جاتی تھیں۔ اس کی زرعی پیداوار، آبادی اور جغرافیائی اہمیت نے مقوقس کے منصب کو غیر معمولی سیاسی وزن دے رکھا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نامہ مبارک میں اسے عظيم القبط کے لقب سے مخاطب فرمایا۔

نجاشی

حبشہ، جسے آج ایتھوپیا کے نام سے جانا جاتا ہے، مشرقی افریقہ میں بحرِ احمر کے جنوب مغرب کی ایک قدیم اور باوقار ریاست تھی۔ یہاں کی حکومت قدیم ترین بادشاہتوں میں شمار ہوتی تھی، اور عیسائیت کو چوتھی صدی عیسوی سے خاص فروغ حاصل ہوا۔ یمن میں حبشی اثر و اقتدار اور واقعۂ فیل کا تاریخی پس منظر بھی اسی خطہ سے وابستہ ہے۔

حبشہ کا بادشاہ عمومی طور پر نجاشی کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کے مخاطب نجاشی کے تعین کے بارے میں سیرت نگاروں کے درمیان مختلف اقوال ہیں۔ مصنف نے ان آراء کا جائزہ لینے کے بعد اس رائے کو قابلِ ترجیح قرار دیا ہے کہ یہی وہ نجاشی تھا جس نے اسلام قبول کیا اور جس کی وفات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو خود دی اور اس کے لیے نمازِ جنازہ اور دعائے مغفرت فرمائی۔

ابن کثیر، ابن ہشام اور اصل کتاب میں مذکور حبشہ، مصر، ایران اور بازنطینی تاریخ کے مراجع۔

ان سلاطین نے نامہ ہائے مبارک کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟

ہرقل، نجاشی اور مقوقس نے مکاتیبِ نبوی کے ساتھ ادب و احترام کا معاملہ کیا۔ ان کی طرف سے جواب میں تواضع اور سنجیدگی ظاہر ہوئی۔ نجاشی اور مقوقس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا اکرام کیا، اور مقوقس نے ہدایہ بھی روانہ کیے۔ انہی ہدایہ میں حضرت ماریہ قبطیہؓ بھی تھیں، جن کے بطن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔

اس کے برعکس کسریٰ پرویز نے نامہ مبارک سنا تو اسے پھاڑ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گستاخی کی اطلاع پہنچی تو آپ نے دعا فرمائی کہ اللہ اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کر دے۔ بعد کے واقعات نے دکھایا کہ شاہی خاندان میں قتل و بغاوت کا سلسلہ شروع ہوا، کسریٰ اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہوا اور ساسانی سلطنت تھوڑے عرصہ میں شدید انتشار کا شکار ہو گئی۔

یمن کے حاکم باذان کی طرف سے آنے والے نمائندوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ کسریٰ کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا ہے۔ بعد میں یہ خبر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ ساسانی اقتدار کے زوال کے سلسلہ میں مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو بھی نقل کیا ہے:

إِذَا هَلَكَ كِسْرَىٰ فَلَا كِسْرَىٰ بَعْدَهُ

جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا۔

مصنف نے نظامی گنجوی کا یہ فارسی شعر بھی نقل کیا ہے:

در بدان نامه گردن شکن را
نه نامه بلکه نام خویشتن را

یعنی کسریٰ نے جس خط کو پھاڑا، دراصل وہ اپنے ہی نام اور سلطنت کے زوال کی تمہید پھاڑ رہا تھا۔

ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ

ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور ایسے شخص کی جستجو کی جو آپ کے حالات سے براہِ راست واقف ہو۔ اتفاق سے ابو سفیان اس وقت تجارت کی غرض سے شام میں موجود تھے۔ انہیں شاہی دربار میں طلب کیا گیا۔

ہرقل کے سوالات ایک ایسے تجربہ کار اور غور و فکر رکھنے والے شخص کے سوالات تھے جو تاریخِ مذاہب، انبیاء کے اوصاف اور ان کی قوموں کے ساتھ ان کے تعلقات کو سمجھنا چاہتا تھا۔ ابو سفیان نے بھی عربی غیرت کے سبب جھوٹ بولنا گوارا نہ کیا اور سوالات کے صاف جواب دیے۔

ہرقل: ان کا نسب کیسا ہے؟

ابو سفیان: وہ ہم میں عالی نسب سمجھے جاتے ہیں۔

ہرقل: کیا ان سے پہلے تم میں کسی نے ایسی بات کہی تھی؟

ابو سفیان: نہیں۔

ہرقل: کیا ان کے خاندان میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟

ابو سفیان: نہیں۔

ہرقل: ان کی پیروی بڑے اور بااثر لوگ کرتے ہیں یا کمزور لوگ؟

ابو سفیان: زیادہ تر کمزور لوگ۔

ہرقل: ان کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟

ابو سفیان: بڑھ رہے ہیں۔

ہرقل: کیا کوئی ان کے دین میں داخل ہو کر پھر ناراض ہو کر واپس ہو جاتا ہے؟

ابو سفیان: نہیں۔

ہرقل: کیا تم نے ان کے اس دعوے سے پہلے کبھی ان کو جھوٹا سمجھا تھا؟

ابو سفیان: نہیں۔

ہرقل: کیا وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟

ابو سفیان: ابھی تک تو نہیں؛ البتہ اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان ایک نیا معاہدہ ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

ہرقل: کیا تم نے ان سے جنگ کی ہے؟

ابو سفیان: ہاں۔

ہرقل: جنگ کا نتیجہ کیسا رہتا ہے؟

ابو سفیان: کبھی وہ غالب ہوتے ہیں، کبھی ہم۔

ہرقل: وہ تمہیں کیا تعلیم دیتے ہیں؟

ابو سفیان: وہ کہتے ہیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، نماز پڑھو، پاک دامنی اختیار کرو، سچ بولو اور صلہ رحمی کرو۔

ہرقل نے ان جوابوں کی روشنی میں کہا: میں نے نسب پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ عالی نسب ہیں، اور انبیاء اپنی قوم کے شریف خاندانوں میں مبعوث ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس سے پہلے کسی نے ایسا دعویٰ کیا تھا، تم نے کہا نہیں؛ اگر پہلے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس کی تقلید کرتے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ ان کے خاندان میں بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے کہا نہیں؛ اگر ایسا ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اپنے آبائی اقتدار کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ نبوت کے دعویٰ سے پہلے تم انہیں جھوٹا کہتے تھے؟ تم نے کہا نہیں؛ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر جھوٹ نہ باندھے وہ اللہ پر جھوٹ باندھے؟

میں نے پوچھا کہ ان کے پیروکار کمزور لوگ ہیں یا اشراف؟ تم نے کہا کمزور لوگ؛ اور انبیاء کے ابتدائی پیروکار عموماً یہی لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان کے پیروکار بڑھتے جا رہے ہیں یا کم؟ تم نے کہا بڑھ رہے ہیں؛ ایمان کا حال بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ تکمیل تک بڑھتا رہتا ہے۔

پھر ہرقل نے کہا: اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو یہ شخص عنقریب اس جگہ کا مالک ہوگا جہاں اس وقت میرے دونوں قدم ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے، لیکن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکوں گا تو اس کی ملاقات کے لیے سفر کرتا، اور اگر اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔

ہرقل نے بعد میں اپنے درباریوں اور مذہبی و سیاسی عمائدین کو جمع کیا اور انہیں اس دین کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب اس نے ان کی سخت برہمی دیکھی تو وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا اور اسے ان کے ایمان و وفاداری کا امتحان قرار دیا۔ مصنف کے الفاظ میں اس نے نجات کے ایک زریں موقع کے مقابلہ میں اپنی فانی سلطنت کو ترجیح دی۔

صحیح بخاری، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم؛ مسند احمد۔

اریسی کون تھے؟

ہرقل کے نام مکتوب میں إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ کے الفاظ آئے ہیں۔ مصنف نے اس اصطلاح پر تفصیلی بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ محدثین اور لغویین نے اس کے مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ ایک معروف قول یہ ہے کہ اریسیین سے مراد کاشت کار، رعایا یا عام خدمت پیشہ لوگ ہیں۔ لسان العرب اور بعض قدیم لغوی مراجع میں بھی اس مادہ کے اسی نوع کے معانی ملتے ہیں۔

مصنف اس تعبیر پر ایک تاریخی سوال اٹھاتے ہیں: اگر یہاں خاص طور پر کاشت کار مراد ہوتے تو کسریٰ پرویز کے نام خط میں اس لفظ کے آنے کی توقع زیادہ تھی، کیونکہ ساسانی سلطنت کی معیشت میں زرعی طبقہ نہایت نمایاں تھا۔ لیکن یہ لفظ صرف ہرقل کے نام خط میں آیا ہے۔

اسی بنا پر مصنف ایک دوسرے قول کو زیادہ قرینِ قیاس قرار دیتے ہیں: کہ اریسیین سے مراد آریوس یا اریوس کے پیروکار ہوں، یعنی وہ مسیحی گروہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی عبدیت اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر نسبتاً زیادہ زور دیتا تھا۔ یہ تحریک چوتھی صدی عیسوی میں عیسائی دنیا کے بڑے مذہبی مناقشوں کا مرکز رہی۔

مصنف نے آریوس، کلیسائی مناظروں، نیقیہ کی مجلس اور بعد کے مسیحی مذہبی اختلافات کا تاریخی پس منظر نقل کیا ہے۔ ان کے مطابق بازنطینی سلطنت کی مشرقی ریاستوں میں اس فکر کے اثرات ایک طویل عرصہ تک موجود رہے، اور اسی مذہبی ماحول کی وجہ سے ہرقل کے نام خط میں الأريسيين کا خاص ذکر معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔

مصنف امام طحاویؒ اور امام نوویؒ کی آراء بھی نقل کرتے ہیں اور اس مسئلہ کو ایک لغوی و تاریخی بحث کے طور پر پیش کرتے ہیں، نہ کہ ایسا نکتہ جس پر پورے مضمونِ دعوت کا انحصار ہو۔ مرکزی پیغام بہرحال وہی ہے: حاکم اپنے شخصی فیصلے کے ساتھ اپنی رعایا کے حقِ ہدایت کے بارے میں بھی جواب دہ ہے۔

مکاتیب بنام امرائے عرب

بیرونی سلاطین کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مختلف حکمرانوں اور قبائلی امیروں کو بھی دعوتی خطوط روانہ فرمائے۔ ان میں منذر بن ساوی، حاکمِ بحرین؛ جیفر اور عبد، فرزندانِ جلندی، امرائے عُمان؛ ہوذہ بن علی، حاکمِ یمامہ؛ اور حارث بن ابی شمر غسانی کے نام خاص طور پر آتے ہیں۔

منذر بن ساوی نے اسلام قبول کیا۔ عُمان کے دونوں حکمران بھائی، جیفر اور عبد بن جلندی، بھی اسلام سے سرفراز ہوئے۔ ہوذہ بن علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اقتدار میں شرکت یا سیاسی حصہ طلب کیا، لیکن آپ نے اس مطالبہ کو قبول نہیں فرمایا۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی وفات ہو گئی۔

مصنف نے بحرین، عُمان اور یمامہ کی اس وقت کی جغرافیائی و سیاسی حدود، قبائلی ساخت اور متعلقہ حکمرانوں کے بارے میں متعدد تاریخی توضیحات بھی دی ہیں۔ ان مکاتیب کی تفصیلات کے لیے انہوں نے ملوک و امرائے عرب اور رؤسائے قبائل کے نام فرامین کے مخصوص مجموعات کی طرف بھی رہنمائی کی ہے۔

إعلام السائلين من كتب سيد المرسلين؛ سیرت ابن ہشام؛ طبری؛ اور اصل کتاب کے متعلقہ حواشی۔

غزوۂ بنی لحیان اور غزوۂ ذی قرد

صلحِ حدیبیہ اور غزوۂ خیبر کے درمیانی زمانہ میں غزوۂ بنی لحیان اور غزوۂ ذی قرد کے واقعات بھی پیش آئے۔ ان مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے اور حضرت ابنِ ام مکتومؓ کو مدینہ کا قائم مقام مقرر فرمایا۔

غزوۂ بنی لحیان کا پس منظر ان صحابۂ کرام کے خون کا مطالبہ تھا جو واقعۂ رجیع میں شہید کیے گئے تھے، جن میں حضرت خبیب بن عدیؓ اور ان کے ساتھی شامل تھے۔

غزوۂ ذی قرد کا سبب یہ تھا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چراگاہ میں موجود اونٹوں پر حملہ کیا، ایک مسلمان کو قتل کیا اور ایک خاتون کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے نتیجہ میں تعاقب اور دفاعی کارروائی کی گئی۔

زاد المعاد؛ صحیح مسلم، روایت سلمہ بن اکوعؓ؛ سیرت ابن ہشام۔ اصل کتاب کے حاشیہ میں غزوۂ ذی قرد کی زمانی ترتیب کے بارے میں اہلِ سیر کی آراء بھی نقل ہوئی ہیں۔