۳۷۱
سلاطین امراء کو دعو السلام
اواخر شته یا اوائل شده )
حکیمانه طرز دعوت
صلح ہونے کے بعد حالات قدرتی طور پر پرسکون ہو گئے، دعوت اسلامی کو سانس
لینے کا موقع ملا اور ترقی پیش قدم کی نئی راہیں کشادہ ہوئیں اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ ت
نے سلاطین عالم اور مراء عرب کو تند خطوط لکھے اوران کو بڑے میانہ انداز میں سلام
علیہ وسلم نے سا
کی دعوت کی اس کے لئے آپ نے بڑا ہتمام فرما اور بادشاہ کے لئے اسے ایلچی کا انتخاب کیا؟
اس کے مرتبہ حیثیت کے مطابق گفتگو کر سکے اور وہاں کی زبان نیز ملک کے حالات سے واقف ہوں۔
ے قابل ترجی تو یہ ہے کہ خطوط اصلح حدیبیہ کے بعد اہ یا کچھ ان میں کیے گئے جیسا کہ اندر کی رائے ہے
ی کے مطابق ہے اس کاران سلاطین میں سر فہرست ایرانی شہنشا شروع پرویز تھا اوره پاری خلاء میں ماراگیا۔
ول کو خط لکھ گیا اگراس کا بھی ایم کی جاے تواس کا ہاتھہیں پہونچا محل نظر ہے
اس لیے کہ وہ اسی سال آرمینیا کے دورہ پر جا چکا تھا، دیکھئے عربوں کی فتح مصر ( ترجمہ علی از الفرڈ ٹیلی
اس لئے مانا پڑتا ہے کہ یہ خطوط عیسوی تقویم کے مطابق کہ میں روانہ کئے جا چکے تھے اور واہ کے مطابی
این بود نے طبقا جلد امام علی اسلامی کو کچھ کھایا اور ولی نے اپنی کتاب اختصاص الکبری اندام
میں اس موضوع پر جو کلام کیا ہے۔ اس سے علوم ہوتاہے کہ یہ بات خارق عادت طرف پلیور جو ظاہر ہوئی تھی
………………………………………………………………………………………………………………
۳۷۲
صحابہ کرا نے عرض کیاکہ یہ لوگ ایسے خط کوتسلیم نہیں کرتے جس پر ہر نہ ہوا
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اسکے لئے ایک خاص نہر بنوائی جس کا حلقہ چاندی کا
تھا، اور درمیان بن محمد السلام اسی طرح نقش تھا۔
وہ تحریریں بتاتی ہیں کہ یہ دین عربوں کا با جزیرۃ العرب کا نہیں بلکہ نوع انسانی
کا دین تھا چنانچہ وہ سر سے باہر کی متمدن اور با اثر حکومتوں کے لئے چیلنج ثابت
ہوئیں اور اس صورت میں انھیں اپنا زوال نظر آنے لگا کہ وہ خود اس دعوت کو
قبول نہ کریں یا کم از کم اپنی رعایا کو اس دعوت کو سمجھنے اور اس کے بارے میں
فیصلہ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔
(باقی ص ۳ کا) ان دو توانج جو روائتیں نقل کی ہیں اس میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ان ای پر ایک اس ملک کی
زبان جا وہ بھیجا گیا تھا، خود بخود بولنے لگا مصنف کو اس معجزہ کے امکان و وقوع میں کوئی اشکال
نہیں ہے؟ اس لئے کہ رسول اله صلی اللہ علیہ سلم اورانبیاء کی ستر ارام کے بجی اور خارق عاد و اقعا سے
بھی ہوئی ہے تاہم اسکے نزدیک یہ یا بالکل کم اور قرین قیاس کی یہ دراصل رسول اله کی حکمت
و دانش ادر من انتخاب پر ھی بھی ہو سکتا ہے اس لے کر روی فارسی زبانیں نیز مصرکے قبطی باشندوں کی اور
اہل عیشہ کی زبان عربوں ان کے مسلسل میں ولا اور آر رفت کی وجہ سے ان کے کوئی ان کی بیان تھی مسلہ
صرف ان چار زبانوں کاتھا جزيرة العرب و سامراء اور سران قبائل کےسلسلے میں کوئی دشواری نہ تھی
اور عربی زبان میں ان کو دعوت اسلام دی گئی اس کی بابا کا قرین قیاس اگر امام کے لئے انہی لوگوں کا
انتخاب کیا گیا ہوجو روی فارسی قبلی اور رشی زبن پہلے سے جاتے ہوں اور اسے لوگوں کی سرزمین خالی تھی
جوان کلوں کی بار بار جانے اور عرصہ تک رہے کی وجہ سے ان چاری زبانوں آتا اور ان ذریعہ سے سفارت
فرض انجام دینے پر قادر ہوں ۔ اے ملاحظہ جو صحیح بخاری کتاب الجہاد باب دعوة اليهود النصاری و علی
القائلون الخ” و شمائل تر بازی ..
………………………………………………………………………………………………………………
۳۷۳
مکاتیب نهوی.
ان سلاطین میں چین کے نام خطوط روانہ کئے گئے، رومی شہنشاہ ہر قل ایرانی
شہنشاہ کسری پرویز، حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور مصر کے بادشاہ مقوقس کے نام
خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
ہر قل کو آپ نے اپنا مکتوب دجیتہ الکلی کے ہاتھ ارسال فرمایا اور انھوںنے
بجری کے ہیں اور سردار کے ذریعہ اس کو گرا کو رات کے کھوایا اس کو جاتی ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم من بسم الله الرحمن الرحیم محمد کی طر سے
محمد عبد الله ورسوله إلى جو خدا کا بندہ اور رسول ہے یہ خط
عرقل عظيم الروم سلام علی ہرقل کے نام ہے جو م کے ہیں ظلم
من انتج الهدى، أما بعد فانی ہیں ان کو سلامتی ہو جو ہدایت کا
أدعوك بدعاية الإسلام اسلام پیرو ہوا اس کے بعد میں تم کو
تسلم اينك الله أجراه مرتین اسلام کی دعوت کی طرف بلاتا
فإن توليت فإن عليك اثمر ہوں اسلام لاؤ تم سلامت رہو گے
البريسيين في أهل الكتب خدا تم کو دوگنا اجر دے گا اور اگر
تعالوا إلى كلية سوا بيننا تم نے نہ انا تواہل ملک اگنا تھا۔
وَبَيْنَكُمُ أَن لا نعبد الا الله اورپر ہوگا لے اہل کتاب ایک ایسی
وَلَا نُشْرِكَ بِہ شَیئًا ولا تو بات کی طرف آو جو ہم پی او کم میں
بَعْضُنَا بَعْضًا اربابان دو یہاں ہے وہ یہ کہ ہم خدا کے سوا
………………………………………………………………………………………………………………
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا کسی کو نہ پوچھیں اور ہم میں سے
بانا مسلمون کوئی کسی کو خدا کو چھوڑ کی خدا
نہ بنائے اور تم نہیں مانتے توگواہ
رہو کہ ہم مانتے ہیں۔
کسری پرویز کے نام آپ نے حسب ذیل خط بھیجا :-
بسم الله الرحمن الرحيم بسم الله الرحمن الرحیم محمد من خدا کی
من محمد رسول الله الا کسری طرف سے کسری رئیں فارس کے نام
عظیم فارس ، سلام علی من سلام ہے اس شخص پر جو ہدایت کا
اتبع الهدى، وامن بالله پیرو ہوا اور اللہ اور اس کے رسول
ورسوله وشهد ان لا الله پر ایمان لائے، اور یہ گواہی دے کہ
الا الله والى رسول الله الی خدا صرف ایک خدا ہے اور یہ کہ
الناس كافة لينذر من كان خدائے مجھ کو تمام دنیا کا پیچی تقرر
حياء اسلم تسلم فان ابیت کر کے بھیجا ہے تاکہ وہ ہر زندہ شخص کو
فعليك اثم المجوس خدا کا خوف دلائے تم اسلام قبول
نجاشی کے نام یہ مکتوب تھا :۔
کرو تو سلامت رہو گے اور نہ مجوسیوں
کا وبال تمھاری گردن پر ہو گا۔
بسم الله الرحمن الرحیم بسم الله الرحمن الرحیم محمد کی طرف سے
لے صحیح بخاری باب كيف كان بدء الوحی الی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ۵۳ الطبری ج ٣ من؟
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۵
من محمد رسول الله الى النجا جو اللہ کا رسول ہے یہ خط نجاشی
عظيم الحبشة، سلام على من کے نام ہے جو حبشہ کا رئیس اعظم ہے
اتبع الهدی، اما بعد، فانی سلام ہے اس شخص پر جو ہدایت کا
احمد اليك الله الذی لا اللہ پیرو ہوا یا بعد میں محمد بیان کرتا
الا هو الملك القدوس السلام ہوں تم سے اس اللہ کی جس کے سوا
المؤمن المهيمن، واشهدان کوئی معبود نہیں جو بادشاہ ہے
عیسی بن مریم روح اللہ قدوس ہے، سلام ہے مومن اور
وكلمة القاها إلى مريم مہیمن ہے اور گواہی دیتا ہوں
البتول الطبيبة الحصينة اس بات کی کہ عیسیٰ بن مریم اللہ کی
فحملت بعيسى من روحه روح اور اس کا کلمہ میں میں کو سنانے
و نفخه کا خلق آدم بیده پاک نفس یا کیا ز مریم البتول میں
وانی ادعوك إلی اللہ وحدہ پھونکا تھا اپر اس کی روح اور اس سے
لا شريك له والموالاة على نفخ سے عیسیٰ ان کے بطن میں قرار پائے
طاعته وأن تتبعنی و تؤمن جیسے اس نے آدم کواپنے ہاتھ سے
بالذي جاء نی، انی رسول الله بنایا بنایا تھا میں تم کو دعوت دیتا ہوں
وانی ادعوك وجنودك ایک اللہ پر ایمان لانے کی جس کا کوئی
إلى الله عز و جل وقد شریک نہیں اور اس کی طاعت،
بلغت و نصحت فاقبل موالات کی اور یہ کہ تم میری اتباع
نصیحتی والسلام علی کرو اور جو کچھ میرے اوپر وحی آئی ہے
………………………………………………………………………………………………………………
۳۶۶
من انتج الهدى اليه
اس پر ایمان لاؤ پیس بے شک میں
اللہ کا رسول ہوں اور میں تم کو
اور تمھارے لشکروں کو اللہ عز و جل
کی طرف بلاتا ہوں، ہمیں نے اپنا
پیغام کہ دیا او صحت پوری کردی
پس نصیحت قبول کرو، اور
سلام ہو اس پر جو ہدایت کا پیرہ ہو۔
قبطیوں کے سردار اور بادشاہ مقوقس کے نام یہ مضمون تھا :۔
بسم الله الرحمن الرحيم بین خدائے رحمن و رحیم کے نام سے محمد
محمد عبد الله ورسوله الی رسول خدا کی طرف سے مقوقس
المقوقى عظیم القسط سلام میں فقیہ کے نام اس کو سلامتی ہوا
على من اتبع الهدى اما بعد! جو ہدایت کا پیرو ہے اس کے بعد
فالي ادعوك بدعاية الاسلام میں تم کو اسلام کی دعوت دینا
اسلم تسلم واسلم يؤتك الله ہوں اسلام لے آؤ سلامت رہو گے
اجرك مرتين فان تولیت خدا تم کو دوگنا اجر دے گا اگر تم نے
فان عليك اثم اهل القبط نہ مانا تو اہل ملک کا گناہ تمھارے
ياهل الكتب تعالوا الی المانی اوپر ہوگا، اسے اہل کتاب ! ایک
سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ان لا نقبل ایسی بات کی طرف آؤ جویم می اید
لے طبقات ابن سعد ج ۳ ص۱۵
………………………………………………………………………………………………………………
إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا تم میں کہاں ہے وہ یہ ہے کہ ہم خدا
وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اربابا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور
مِن دُونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوا ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کو چھوڑ
فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَا مُسْلِمُونَ کر خدا نہ بنائے اور تم نہیں مانتے
نو گواہ رہو کہ ہم مانتے ہیں۔
اے مواہب لدنیہ ج ۵۷۵۳۴-۲۴۸- اس وقت تک پانچ نامہ ہائے مبارک کے اصل نسخے دریافت
ہو چکے ہیں ان کی تصویریں بھی بہت سے اسلامی رسائل و اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں ۔
جہاں تک مقوقس کے نام سے فرمان مبارک کا تعلق ہے، فرانسیسی تشرق BARTHELEMY
کو مر کے تمام امیم کے ایک قدیم در این شملہ میں ہرن کی کھلی (رق) دیکھی ہوئی ایک حریر ی الا حقیقی
کے بعد ثابت ہوا کہ یہ فرمان مبارک ہے جو مقوقس کے نام بھیجا گیا تھا ایشیا تک جزیل اللہ اور رسالہ
الهلال مصر نومبر )
اسی طرح نجاشی اور سری کے نام کے فرمان کی اصل بھی مل چکی ہے۔
روی بادشاہ ہر قل کو بھیجا جانے والا مکتوب گرامی اسپین میں ساتویں صدی ہجری تک محفوظ تھا،
جس کا پتہ چھٹی صدی کے مشہور محدث و مورخ علامہ سہیلی نے دیا ہے۔
ابوالعباس شهاب الدین احمدبن محمد قسطلانی (م ۱۹۲۳) نے ارشاد اساری شیر حیح البخاری کہ روز اول اشهر
یکھا ہے کہ :۔
کہا جاتا ہے کہ الملک المنصور فلاون الصالحی کے زمانہ میں شاہ افرنگ نے سیف الدین
قلع کے سامنے ایک مطلاً صندوق کھولا اور اس میں سے ایک شہر الفافہ نکلا پھر اس میں سے ایک
خط نکالا جس کے اکثر حروف مٹ گئے تھے اور کہا کہ یہ تمھارے نبی کا مکتوب میرے (باقی ما پر)
………………………………………………………………………………………………………………
۳۷۸
فرامین نبوی میں مکتوب الیہم کے مابہ الانبیا حالات کی رعایت
ذہین قاری وہ باریک فرق محسوس کر لیں گے جو حکمت دعوت و رسالت
کے پیش نظر نمایاں ہیں، اور جن میں ان بادشاہوں کے امتیازی عقائد اور ذہنی کیفیات
کا لحاظ کیا گیا ہے، چنانچہ ہرقل و قوس کلی یا جزئی طور پر الوہیت میں کے قائل تھے
اور انھیں ابن اللہ مانتے تھے تو ان کے نام خطوط میں نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم
کے اسم گرامی کے ساتھ عبد اللہ” کا لفظ ہے اور ہم اللہ کے بعد دونوں خط اس طرح
شروع ہوتے ہیں۔
من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل عظيم الروم ” اور ” من
محمد عبد الله ورسوله إلى المقوقس عظیم القبط جبکہ کسری پرویز کے
نام مکتوب گرامی کا سر نامہ اس طرح تھا۔ من محمد رسول الله الى كسرى
عظیم فارس” ہر قل و مقوقس کے نام کے خطوط میں یہ آیت کریمہ لکھی گئی ۔
قُلْ يَا هَل الكتب تعالوا الی آپ فرمادیجئے کہ اسے اہل کتاب آؤ
كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْتكم ایک ایسی بات کی طرف ہو کہ ہمارے
الانعبُدَ إِلَّا الله ولا نشرك اور تمھارے درمیان برابر ہے کہ بجز
بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعضنا اللہ تعالی کے ہم کسی اور کی عبادت
(باقی ۳ کا) دادا قیصر کے نام تھا جسے ہم بحفاظت رکھتے چلے آرہے ہیں، اور ہمارے اجداد
نے ہمیں یہ وصیت کی ہے کہ جیسا تک یہ مکتوب ہمارے پاس رہے گا تب تک ہماری بادشاہت
بھی رہے گی اس لئے ہم لوگ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ تازہ اطلاع کے مطابق یہ مکتوب شریف
تامین ملک شرق اردن کے پاس موجود ہے کہ
25
………………………………………………………………………………………………………………
۳۷۹
بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ الله نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا کسی کو شریک نہ ٹھہر میں اوہم میں
بِأَنَّا مُسْلِمُونَ . کوئی کسی دوسرے کو رب نہ قراردے
(سوره آل عمران – ۶۴) خدا تعالے کو چھوڑ کر پھر گروہ لوگ
اعراض کریں توتم لوگ کہدو کر تم
ی
اس گواہ ہو کہ ہم تو انے والے ہیں۔
لیکن کسری پرویز کے خط میں یہ آیت درج نہیں ہے کیونکہ اس کے مخاطب
وہ اہل کتاب ہیں، جو الوہیت مسیح کے قائل ہیں، اور جنھوں نے اللہ کے علاوہ اپنے اہل
اجبار اور بہان اور بیع کو بھی اپنا رب بنا لیا تھا، ہر قل بزنطی سلطنت کا سر براہ
تھا اور مقوقس مصر کا بادشاہ تھا دونوں اس عہد کی سیجی دنیا کے قائد اور
(حضرت میے کے بارے میں ایک طبیعت یا دو طبیعتوں کے معمولی اختلاف کے سوا)
مسلم مذہبی رہنما بھی تھے کہے
کسری پر ویز اور اسکی قوم پر کہ آفتاب پرست اور آتش پرست تھی،
اور دو خداؤں ، خدائے خیر یزداں اور خدائے اکثر اہرمن کو مانتی تھی اور
نبوت اور آسمانی رسالت کے صحیح مفہوم سے نا آشنا تھی، اس لئے ایرانی بادشاہ
کے نام کے نامہ مبارک میں یہ عبارت لکھی گئی :۔
والی رسول الله الی الناس اور میں تمام لوگوں کے لئے اللہ کا
لے تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں صنعت کی کتاب ما ذا خسر العالم بالخطاط المسلمين ۳-۳۹
دار انظلم تیز ہواں ایڈیشن) یا اردو ترجمہ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا ابر
………………………………………………………………………………………………………………
كافة ليذر من كان حيا۔
ایسا رسول ہوں جو شعوری طور پر
زندہ لوگوں کو آگاہ کرے۔
سلاطین کون تھے ؟
ہمیں اس پیغمبرانہ اقدام کی اہمیت و عظمت کار جوان خطوط کے ذریعہ
کیا گیا، اس وقت تک اندازہ نہیں ہو سکتا جب تک ان چاروں اشخاص ہر قل کسری
نجاشی اور مقوقس کے معاصر میں مرتے اور حیثیت ان کی سلطنتوں کے رقبہ قوت
اور ان کے شوکت اور دبدبے کا ہیں علم نہ ہو اگر کوئی شخص ساتویں صدی عیسی کی سیاسی
تاریخ سے واقف نہیں ہے، اور اس کو ان ملکوں کے متعلق ضروری معلومات
حاصل نہیں ہیں تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ خطوط چند مقامی حکام اور والیان ریاست
کے نام لکھے گئے ہیں، جو ہرزمانہ میں اور ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔
اس کے برخلاف جو شخص اس عہد کے سیاسی نقشہ میں ان بادشاہوں کی
اہمیت جانتا ہے ان کی تاریخ اور سیرت و کردار سے واقف ہے اور ان کی قوت اقتدار
اور رعب دبدبے کو اچھی طرح سمجھتا ہے وہ محسوس کرے گاکہ عظیم اقدام اور جرات وہی نہیں
کر سکتا تھا جو خدا کی طرف سے اس کام پر مامور کیا گیا ہو اس پر اس دعوت و پیغام کی
پوری ذمہ داری ہوا اس پر رعبت اور خوف کا سایہ بھی نہ پڑا ہوا اور آسمانوں اور زمینوں کے
حقیقی بادشاہ اور مالک الملک کی اس پالیسی تجلی ہو کہ تاج و سریر کے مالک اس کو
گڑیا گڑیا ہے جان پہلے معلوم ہوتے ہوں جن کو بادشاہوں کی پوشاک میں آراستہ
لا نظام برطا نوی عہد کے نظام حیدر آباد، نواب بھوپال یا مہا راجہ بندت مدھیا دیوالی (پہارا بدت مدھیا دیوالی (پہارا بدت مدھیا
………………………………………………………………………………………………………………
کر کے تخت حکومت پر بھا دیا گیا ہو اس لئے یہاں معاصر تاریخ اور مجسمہ مورتوں کی شہادتوں
کی مدد سے ان کا تعارف کرایا جاتا ہے۔
قیصر روم ہر قل اول (۶۱۰ – ۶۶۴۱)
باز نطینی شہنشاہ قیصر وم ہر قل اول ایک وسیع و عریض شہنشاہی کا مالک تھا
جس نے ایرانی شہنشاہی کے ساتھ لیکر اس عہد کی ساری تمام دنیا کو آپسی تقسیم کرلیاتھا
اورمیں کا سکہ آدھی دنیا میں چل رہاتھا تین براعظموں یورپ ایشا اور افریقہ میں اس کے
خوش حال دولت مند در ترقی یافته و تمدن مقبوضات اور نو آبادیاں (DOMINIONS) تھیں
سلطنت رومہ الکری کی جاتی تھی جس کے زیرنگیں تقریب پوری متون قدیم دنیا
رہ چلی تھی ہے
یہ بادشاہ ایک یونانی خاندان کافرد تھا کیوریشیا میں پیدا ہوا اور قرطاجہ کا ریح
کالی کا )EXARCH OF AFRICA( میں پرورش پائی، وہ افریقہ کے ایک عالم CARTHAGE(
تھا، اس میں کوئی بات ایسی نہ تھی جس سے اس کی غیر معمولی ذہانت، حوصلہ مندی اور
قائدانہ صلاحیت کا اظہار ہوتا جب فوقس (mocus) نے غاصبانہ طور پر باز نطینی
سلطنت کے شہنشاہ مو یقیں ماریس (MAURICE) کو جس کے کسری پر ویز پر احسانات
تھے ان میں قل کیا تو پیانیوں کو بازنطینی سلطنت پر فوج کشی کا بہانہ گیا
اور انھوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اس عظیم الشان باز نطینی سلطنت کی
اے اس شہنشاہیت کے حدود اور اس کی ریاستوں اور صوبوں کی تفصیل جو پورے ایشیاء اور افریقہ
میں پھیلے ہوئے تھے، کتاب کے باب اول میں مشرقی رومی سلطنت کے عنوان سے ہم بیان کر چکے ہیں۔
………………………………………………………………………………………………………………
باز نطینی اور ساسانی شہنشا سیتیں
(چھٹی صدی عیسوی میں)
قرطا جو نوقا
را ماريل
لمیتا ( مالٹا
کوربوس (قبرص)
فون (دمشق)
داما سيقوس
خیره
یثرب (مدینه )
طالف
لولیس
(قاہرہ)
دریان آمد
واتا پیوس اور پائے ڈینیوب)
دریا نیل
یمن
باز نطینی حکومت (مغربی) کے براہ راست ما تحت علاقے
بازنطینی حکومت (مشرقی) کے براہ راست ما تحت علاقے
عرب غنانی سلطنت جو باز نطینی حکومت (شرقی) کے زیراثر تھی
ایرانی حکومت کے براہ راست زیر اقتدار علاقے
عربی سلطنتیں جو کہ ایرانی حکومت کے ماتحت تھیں
کار تو گرانی از محمود اختر)
………………………………………………………………………………………………………………
آخری سانسیں تھیں کہ ہر قل کو قرطاجنہ سے طلب کیا گیا ، اس نے فوقس کو قتل کیا اور
ء میں زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اس وقت پورا ملک موت و زیست کی
کشمکش میں گرفتار تھا، اور خشک سالی، وبائی امراض ، عربیت اور مالی نقصانات سے
دیوالیہ ہو چکا تھا ہر قل نے اپنی حکومت کے ابتدائی سال ایک پرسکون اور عافیت پسند
انسان کی طرح گزارے اور کوئی بڑا کام انجام نہیں دیا لیکن میں اس کے اندر
اچانک ایک انقلاب برپا ہو گیا (یہ وہ سال ہے جس میں قرآن مجید نے چند برسوں کے
اند مغلیہ روم کی پیشین گوئی کی تھی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے عیش پرست اور آرام طلب
بادشاہ سے ایک پر جوش اور غیرت مند قائد اور جرنیل میں تبدیل ہوگیا، یہ خیال اس کے
اعصاب پر پوری طرح سوار ہو گیا، اس کے اندر بغیرت قومی نے جوش مارا، چنانچہ
اس نے ایران کے قلب کا رخ کیا، اپنی چھینی ہوئی زمین اور کھوئی ہوئی عزت واپس
ایران کے مشہور شہروں پر قبضہ کر لیا ایران کے قلب و جگر میں اتر کر مرکز سلطنت قبضہ کر
میں اپنے جھنڈے گاڑ دیے اورعظیم اور قیم ایرانی شہنشاہی کی عزت و عظمت کو
خاک میں ملا دیا، اور اس کو زخموں سے اس قدر چور چور کر دیا کہ معلوم ہونے لگا کہ اب
سلطنت کا دم واپسیں ہے اور آل ساسان کے تخت کی چولیں بالکل ہل چکی ہیں۔
یہ فاتح واپس آکر اس میں قسطنطنیہ میں فتح مندانہ داخل ہوا، اور ء میں
(DECLINE AND FALL OF THE ROMAN EMPIRE) EMPIRE)
کی کتاب (GIBBON) اس کی تفصیلا
اور آرتھر کوسٹن بین کی کتاب ایران بعہد ساسانیان” میں ملاحظہ فرمائیں ۔ سے اس واقعہ کے
ایک سال بعد جزیرۃ العرب میں حضور کی بعثت ہوئی۔ سے دیکھئے سورہ روم کی ابتدائی آیات
نیز راقم سطور کا مقالہ قرآن مجید میں غلبہ روم کی پیشین گوئی مندرجہ کتاب مطالعہ قرآن کے اصول بائی
………………………………………………………………………………………………………………
۳۸۳
صلیب مقدس (جن کو ایرانی اٹھا لے گئے تھے وہاں دوبارہ نصب کرتے اور اپنی نذر
پوری کرنے کے لئے بیت المقدس کے لئے روانہ ہوا لوگ تنظیم و احترام کے اظہار کے لئے
اس کے راستے میں فرش و قالین بچھاتے تھے اور گل پاشی و عطر اورگل بیز کرتے تھے اصلی کے
دوبارہ نصب کئے جانے کی خوش ہیں وہاں جن عظیم کا انتظام کیا اور اس فتح کی خوشیاں
منائی گئیں، یہ وہ وقت تھا جب ہر قتل کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک
ملا جس میں اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی ہے
لیکن اس کے بعد ہی ہر قل اپنی سنتی و غفلت اور آرام طلبی عیش پرستی کے
اسی حال میں آگیا جس میں پہلے تھا، یہاں تک کہ مجاہدین اسلام نے اس سلطن کے زوال کا
فیصلہ کردیا، اور ایشیاء و افریقہ سے اس کا خاتمہ ہوگیا، اور یہ وسیع سلطنت صرف یورپ
وایشیائے کو چک می منحصر کرے گی بہرحال اپنے ملنے کےعظیم شہنشاہوں میں اس کا شہر تھا
سلطنت کے رقبہ وسعت جنگی طاقت اور مامان ترقی میں گر گئی اس کا ہر ہم مرزہ تھا تو وہ
ایرانی شہنشاہ خسر دوم تھا کہ میں اس کا قسطنطینیہ میں انتقال ہوا، اور وہیں مدفون ہوا۔
کسری پرویز (خسر رو زدم. ۵۹ – ۶۶۲۸)
یہ ہرمز کا پوتھا بیٹا اور خسرو اول معروف بہ نوشیرواں عادل کا پوتا تھا عرب
لے فتح الباری ج املا کے ہر قل کو نامہ مبارک پہونچنے میں یہ خلاف کسری کے جوتا خیر ہوئی اس کا سبب
یا کہ خط اول ابری کے سریا کے واہ کیاگیا کہ ہ اسے میر ے حوالہ کرے تقصیر کی نجی مصروفیات اور
دار السلطنت سے دوری کی وجہ سے غالبا یہ خط بروقت اس حوالہ ن کو کا، دوسریه که مربی آخر میں اس کا ذکر
ہے کہ ہرقل کو شر میں ایک بغاوت کو رد کرنے کے لئے آرمینی جانا پڑا اور اس لئے و کے نئے آرمینیا جانا پڑا اور اس لئے وہ اپنی نذریے میں
پوری کر سکا
………………………………………………………………………………………………………………
اس کو سری پرویز کے نام سے یا کرتے ہیں اس بات کے بعد نشر میں اس کی تاج پوشی
ہوئی ، بہرام چو میں نے اس کے خلاف بغاوت کی جس نے شکست کھائی اور ساسانی مملکت )
کو چھوڑ کر باز نطینی فرماں وا موری قیس (MAURICE) سے پناہ طلب کی اور اپنے ملک کی
بازیافت میں اس کی مدد چاہی، مو یقیں نے زبردست فوجوں کے ساتھ اس کی مدد
کی ، ان خون آشام جنگوں کے بعد بہرام کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور سر و اپنے
آبا و اجداد کے تحت حکومت پر دوبارہ قابض ہو گیا ہے میں رونے باز نطینی
سلطنت پر اپنے معنوی باپ اور ولی نعمت مولی فیس کا بدلہ اس کے قاتل اور تخت قیصری
کے غاصب فوقس (PHOCUS) سے لینے کا تہیہ کر لیا، فوقس کے قتل نے بھی اس کو
مزید پیش قدمی سے بازنہ رکھا، اور وہ قسطنطنیہ تک بڑھتا چلا گیا اور اپنی قدیم
حریفت سلطنت کی اس طرح اینٹ سے اینٹ بجادی کہ اس کی کوئی مثال پہلے
نہیں ملتی وہ تک اس کی فتوحات اور اقبال مندی کا ستارہ پولے عروج پہونچے
گیا، یہاں تک کہ ہر قل نے ایرانیوں کو ان کے ملک سے لیے دخل کر دیا اور ساساتی مملکت
کے قلب جگر پر چلے گئے خرد کواپنا ملک خیرباد کر کہ ایک محفوظ اور دور دراز علاقہ میں
پنا لینی پڑی لیکن جلد ہی کی بغاوت میں اس کا کام تمام ہو گیا۔
مورخین ایران کا اتفاق ہے کہ خر دوم، ایران کار سے عظیم اور شان و شوکت
رکھنے والا شہنشاہ تھا، اس کے عہد میں مملکت ساسانی اپنی ترقی وخوشحالی پر کلفت
زندگی لوازم تعیش اور آرائش و زیبائش کے نقطہ عروج پر تھی، ہندوستان کی شمال غربی
ریاستوں تک اس کا سکہ رواں تھا، اس کے نام کے ساتھ یہ شاندار تمہید ہوتی تھی
اه ایران بهید ساسانیان من
………………………………………………………………………………………………………………
مقداؤں میں انسان غیر فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی ، اس کے نام کا یوں بالا لو
آفتا کے ساتھ طلوع کرنے والا شب کی آنکھوں کا اجالا، اس کے عہد میں ملک نے
جتنی ترقی کی تھی، اور اس کو جو شان و شوکت حاصل ہوئی تھی، اس کے متعلق مشہور
مؤرخ طبری کے الفاظ یہ ہیں :-
یہ بادشاہ سب سے زیادہ سخت گیر اس سے زیادہ قوت فیصلہ اور دور رس نگاہ
رکھنے والا تھا ، شجاعت و بہادری اور فتح و ظفر کے کارناموں ، دولت کی فراوانی اور
تقدیر کی ہمزبانی اور زمانہ کی مساعدت کے اسباب جتنے اس کے لئے مہیا تھے کسی اور
بادشاہ کے لئے نہ تھے اس کا لقب پرویز پر گیا جس کے معنی عربی میں نظر یعنی فاتح
واقبال مندہ ہوتے ہیں یہ تہذیب تمدن کی جدت طرازیوں اور نکتہ آفرینیوں میں اس کی
کوئی جواب نہ تھا، ماکولات مشروبات کے شعبے میں اس نے نئی نئی چیزیں ایجاد کی تھیں۔
عطریات و خوشبو وغیرہ میں بھی وہ آخری منزل پر تھا، اس کے عہد میں پر تکلف
وتنوع کھانوں اعلیٰ قسم کی شرابوں اور بہترین عطریات کا لوگوں کا ایک خاص ذوق پیدا
ہو گیا تھا ، نغمہ و سرود اور فین موسیقی نے اس کے عہد میں بڑا عروج حاصل کیا تھا لوگوں کو
ان چیزوں سے غیر معمولی چسپی پیدا ہوگئی تھی اس کو دولت جمع کرنے اور نوادرات اور
نفیس اشیاء اکٹھا کرنے کا بڑا شوق تھا، جب اس کا خزانہ (نامہ تا شاہ) میں
قدیم عمارت سے طبیسفون (مدائن) کی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تو اس کی مقدار ۲۴۶۰
لین (یعنی چھیالیس کروڑ اسی لاکھ) مثقال سونا تھی جو سینتیس کروڑ پچاس لاکھ
له ایران بهر ساسانیان ماخوذ از تھیوٹی لیکٹس ۵۲ تاریخ طبری ج ۲ المطبعة )
الحسينية الطبعة الأولى (مصر) سه تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ طبری م۹۹۵
………………………………………………………………………………………………………………
طلائی فرنگ کے برابر ہوتا ہے اس کی تخت نشینی کے تیرہویں سال اس کے خزانہ وہاں کی
میں ۸۰ ملین (یعنی اٹھائی کروڑی منتقال سونا موجود تھا، اس نے ہر سال حکومت
کی اور اس کے بعد اس کا بیٹا شیر و یہ تخت حکومت پر بیٹھا۔
مقوقس
یہ اسکندریہ کا گورنر اور مصر میں بازنطینی شہنشاہی کا نائب سلطنت VICEROY
تھا، عرب مورخ زیادہ تر اس کو مقوقس کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کے اصلی نام اور
کنیت میں بڑا اختلاف ہے مؤرخ ابو صالح جنھوں نے چھٹی صدی ہجری (م) میں
اپنی تاریخ قلم بند کی تھی اسکا ذکر جریح بن بینا المقوقس کے نام سے کیا ہے ابن خاتو
نے لکھا ہے کہ وہ نبی تھا مقریری نے اس کو المقوقس الرومی لکھا ہے جب ایرانیوں
نے مصر پر حملہ کیا تو باز نطینیوں کے مقرر کردہ گورنر نے راہ فرار اختیار کی اس کا نام
( JOHN THE ALMONER تھا، یہ اسکندریہ سے بھاگ کر قبرص پہنچا، اور وہیں اس کی سے
موت ہوئی اس کے بعد ہر قل نے اس کی جگہ دوسرے نائب سلطنت کو جس کا نام
جارت تھا ہر کیا اور شاید یہ وہی شخص ہے جس کو عرب جوریج کہتے ہیں، اس نے
اس کو ملکانی کلیسا کا سربراہ بھی مقر کیا بعض مورخین لکھتے ہیں کہ اس کی تقری استہ
میں ہوئی، الفرڈ ٹیلر (ALFRED BUTLER) لکھتا ہے :-
عربوں کا خیال تھا کہ جو حکم بازنطینی حکومت کی طرف سے ایران پر
فتح یابی کے بعد سر کا گورنر مقر ہوا، اس کا لقب ب تونس تھا، اور وہ ایک قت میں
له ایران بعید ساسانیان ما
۶۲
nununun
………………………………………………………………………………………………………………
ملک کا حاکم اور کلیسا کا سربراہ اور مذہبی پیشو بھی ہوتا تھا چنانچہ انطو نیوس
جارج کے لئے جو وہاں نائب سلطنت تھا، یہ لقب تجویز کیا، وہ اس کو ترجیح
دیتا ہے کہ مقوقس اس کا اصل نام نہیں بلکہ لقب ہے جو قدیم قبطی
زبان کا لفظ ہے۔ یہ بھی مکن ہے کہ ایرانیوں کے مصر پر غلبہ اور اقتدار کے وقت
کسی قبطی لاٹ پادری نے کیلیا کی سربراہی اور زمام اقتدار دونوں اپنے
ہاتھ میں لے لی ہوگی تاہم صلحانہ ہی میں لکھا گیا، اس لئے ممکن ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی مقوقس کے نام اسی وقت میں
پہونچا ہوا جب مصر کا حاکم تقریبا خود مختار تھا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نام کے ساتھ معظم القبط
کے رہنما اور سردار کے الفاظ بھی لکھے۔
مصر باز نطینی شہنشاہی کی سب سے زرخیز ریاست تھی اور پیداوار اور آبادی
دونوں کے لحاظ سے سر سے آگے تھی غذائی اجناس دار السلطنت میں یہیں سے سپلائی
ہوتی تھیں، فاتح مصر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
نامہ مبارک ارسال کرنے کے چودہ برس بعد وہاں فاتحانہ داخل ہوئے تھے امیر المومنین
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے نام اپنے خط میں مصر کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :۔
مصر کی سر زمین بہت سرسبز و شاداب ہے، اس کا طول ایک مہینہ کی مسافت
اور عرض دس دن کی مسافت کے بقدر ہے، اس کی آبادی اور کثرت تعداد کا اندازہ
لہ دیکھئے APPENDIXC. PP. 508-540 ملاحظہ ہو عربوں کی فتح مصر الفرڈٹیلہ مصر کے اس گورز
کا نام بعض کتابوں میں الجد کیروس یا قیدس بتایا گیا ہے۔ کے النجوم الزاهرة ابن تغری بردی ج املا
………………………………………………………………………………………………………………
۳/۸۸
اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب عمرو بن العاص نے ع مطابق لہ میں فتح
مصر کے بعد یہ شمار کرایاکہ جز یہ کے مستحق کون کون لوگ ہیں تو ان کی تعداد ساٹھ لاکھ
سے زیادہ کلی ارومیوں کی تعداد اسمیں ایک لاکھ تھی حضرت عمروبن العاص کو تعجب ہوا
میں نے ایک ایسا شہر فتح کیا ہے جس کی تعریف میں صرف اتنا لکھتا ہوں کہ
مجھے وہاں چار ہزار بلند و علم مقامات نظر آئے جہاں چار ہزار تمام تھے بیویوں
کی تعداد چالیس ہزار تھی، بادشاہوں کے لئے چار سو تفریح گاہیں تھیں
نجاشی
بہ ملک قدیم زمانہ سے حبشہ (a) ایتھوپیا (ronia) کہلاتا ہے
یہ مشرقی افریقہ کا حصہ ہے اور بحر احمر کے جنوب مغرب میں واقع ہے، جس زمانہ کا
ہم ذکر کر رہے ہیں، اس وقت اس کے حدود کیا تھے، اس کا تعین اس وقت آسان نہیں
یہاں کی حکومت بھی دنیا کی قدیم ترین حکومتوں میں تھی یہودی ماخذ سے
علوم ہوتاہے کہ ملکہ بات ہی میں رہتی تھیں اورحضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد
آج تک حبشہ کی حکماں ہے یہود نے ہیکل سلیمانی کی تباہی کے بعد یہاں آباد ہونا شروع
کیا، عیسائیت کو چوتھی صدی عیسوی سے وہاں فروغ ہوا، اور جب بین کے بادشاہ
نے اپنے ملک میں عیسائیوں پر مظالم شروع کئے تو جسٹینین اول نے حبشہ کے بادشا
له دائرة معارف القرن العشرين از محمد فرید و جدی دیکھئے مادہ مصر مصنف کو مختلف ملکوں
میں اضافہ آبادی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے اس تعداد میں شبہ ہے اس لئے کہ مصر کے باشندوں کی
تعداد اس وقت بھی چالیس ملین سے زائد نہیں ۔ ۲ حسن المحاضرة للسیوطی۔
………………………………………………………………………………………………………………
سے عیسائیوں کی مدد کرتے اور ان مظالم کا سد باب کرنے کا مطالبہ کیا، چنانچہ
۵۲۵ء میں اس نے یمن پر قبضہ کر لیا، او می پر مبنی اقتدار تقریبا ۵ سال تک
قائم رہا، اسی زمانہ میں حبشہ کی طرف سے یمن کے بادشاہ ابر ہ نے بیت اللہ پر شکی سے
فوج کشی کی اور واقعہ فیل کا ظہور ہوا۔
حبشہ کا دارالسلطنت میں Ax، تھا، یہ ایک آزاد اور خود مختار حکومت
تھی جو کسی غیرملکی حکوں کے تابع تھی اورنہ کس کو خراج اور ریس وغیرہ دیتی تھی،
باز نطینی شہنشاہی سے اس کا تعلق صرف مذہبی رشتہ عیسائیت کی بنیاد پر
تھا، اس کا ثبوت ماطور پر اس سے ملتا ہے کہ باز نطینی فرمانروا جینی نے تیری صدایی
کے وسط میں JULIAN” نامی ایک شخص کو جیش کے دربار شاہی میں اپنا سفیر نامزد کیا
اپنی کتاب
DE LACY O’LEARY”
ARABIA BEFORE MOHAMMAD میں لکھتا۔ ARABIA
تجارت پر مسلسل قابض رہا، بلکہ شاید وہ ہندوستان کی تجارت بھی قابض تھا؟ ہے بشہ کے بادشاہ کو ہمیشہ نجاشی (NAOUSA NAGASHI) کہا جاتا تھا، البتہ
اس نجاشی کے تعین اور نشاندہی میں مختلف اقوال اور روائیتیں آئی ہیں جس کے
نام رسول اللہ صل اللہ علیہ وسل نے اپنا نامہ مبارک بھیجا تھا، اور اس کو اسلام کی
دعوت دی تھی، اس سلسلے میں ہمارے سامنے دو ستقل بالذات اور ایک دوسرے
سے ممتاز شخصیتیں ہیں، پہلی وہ شخصیت ہے جس کے عہد میں مکہ کے مسلمانوں نے
ہجرت کی تھی اور جن میں جعفر بن ابی طالب بھی تھے یہ نبوت کے پانچویں سال کا
A H. M. JONES & ELIZABETH MONROE: A HISTORY OF ABYSSINIA (OXFORD.
ARASIA BEFORE MOHAMMAD (LONDON, 1927) P. 1201935) PP. 62.
………………………………………………………………………………………………………………
واقعہ ہے، یہ بات بہت خلاف قیاس ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تو
یہ مکتوب روانہ فرما دیا ہوا اس لئے کہ اس وقت کے حالات اس کی بالکل اجازت
نہیں دیتے تھے اور اس کام کا وقت ابھی نہ آیا تھا، آپ نے ہجرت سے قبل کسی
بادشاہ کو کوئی مکتوب روانہ فرمایا ہو اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ہو اس کا
کوئی سراغ ہمیں نہیں ملتا زیادہ سے زیادہ جو بات ملتی ہے وہ یہ کہ اس موقع پر آپ
نے اس سے ان مسلمانوں کو پناہ دینے کی فرمائش کی جو تقریش کے مظالم سے تنگ آچکے
تھے ابن ہشام اور دوسرے محققین نے اس باب میں جو کچھ لکھا ہے اس سے اتنا
ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان اس کے دل میں اتر چکا تھا، اور وہ اس بات کو تسلیم
کرتا تھا کہ علی ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول
ہیں، اور اس کا حکم ہیں، جو اس نے مریم پر القاء کیا تھا۔
جہاں تک اس نجاشی کا تعلق ہے جس کو آپ نے دعوت اسلام پر شتمل اپنا
مکتوب روانہ فرمایا، وہ حافظ ابن کثیر کے رجحان کے مطابق وہ نجاشی ہے، جو ان
مسلم نجاشی کے بعد والی ہوا جن سے حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو سابقہ پڑا تھا، ابن کثیر
کہتے ہیں یہ بات اس وقت پیش آئی، جب آپ نے فتح مکہ سے قبل روئے زمین کے
سلاطین کو خطوط لکھے اور ان کو دین حق کی دعوت دی ہمارے نزدیک قابل ترجیح
قول یہی ہے کہ یہی وہ نجاشی تھا جس نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے مسلمانوں کو اس کی وفات کی خود اطلاع فرمائی، اور اس کے لئے دعاء ہے
مغفرت کی، آپی نے واقدی اور دوسرے سیرت نگاروں سے روایت کرتے ہوئے
لکھا ہے کہ یہ وہی نجاشی ہے، جس کے لئے آپ نے دعائے مغفرت فرمائی، یہ واقعہ
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۱
تبوک سے واپسی پر رجب شہ میں پیش آیا تھا۔
اس طرح ان مختلف روایات کی تصدیق ہو جاتی ہے اور قرائن سے بھی اس کی
تائید ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
ان سلاطین نے نامہائے مبارک کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
ہر قل نجاشی اور مقوقس ان تینوں نے مکاتیب نبوی کے ساتھ ادب کا
معاملہ کیا، ان کی طرف سے ان کے جواب میں تواضع اور احترام تھا نجاشی اور
مقوقس نے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے قاصدوں کا بہت اکرام کیا تو نے
آپ کو ہدایا بھی بھیجے ان میں دو یا ندیاں بھی تھیں جن میں ایک کا نام ماریہ تھا اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم ان ہی کے بطن سے تھے۔
جہاں تک کسری پرویز کا تعلق ہے اس نے نامہ مبارک سنتے ہی چاک کر ڈالا،
اور بولا میرا غلام ہو کچھ یوں لکھا ہے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کو اطلاع تھی تو
آپ نے فرمایا: اللہ اس کے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرائے ہے
21 حاشیه صحیح مسلم طبع مصرح 0 1970 کے نظامی گنجوی نے جو ایران کے با ایمان مسلمان شاعر
تھے شاہ ایران کی اس گستاخی کو اپنے اس شعر میں بڑی لطاقت کے ساتھ ادا کیا ہے وہ کہتے ہیں :-
در بدان نامه گردن شکن را نه نامه بلکه نام خویشتن را
صحیح بخاری باب کتاب الیقی صلی اللہ علیہ وسلم الی کسری و قیصر کسری کے نام کا فرمان مبارک
جو دستیاب ہوا ہے اس میں چھاکہ کا نشان اب بھی موجود ہے جو درمیان میں سے اوپر سے نیچے کی طرف
دائیں طرف جھکتا ہوا ہے اور اس کو سی دیا گیا ہے یہ فرمان مبارک شیشہ میں فریم کیا ہوا حکومت لبنان کے
ایک سابق وزیر یزی فرعون کے پاس محفوظ ہے (مقالہ ڈاکٹر عز الدین ابراہیم پیش کردہ سیرت
کا نفرنس دو وارد ربع الاول شامی بحوالہ مقالہ ڈاکٹر صلاح الدین المنجد شامل جريدة الحياة”)
………………………………………………………………………………………………………………
کسری نے یمین کے حاکم باذان کو اس کا حکم دیا کہ آپ کو حاضر کیا جائے ، اپنے
بابویہ کو آپ کے پاس بھیجا اور یہ کہلوایا کہ شہنشاہ کسی نے باذان کو ہدایت کی ہے کہ
کسی کو کھینچ کر آپ کو وہاں حاضر کیا جائے انھوں نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ آپ
میرے ساتھ چلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ اطلاع دی کہ اللہ تعالی
نے کسری پر اس کے بیٹے شیرویہ کو مسلط کر دیا ہے جس نے اس کو قتل کر دیا ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبر دی تھی وہ حرف بحرف صحیح نکلی کسی کے تحت پر اس کا ریکا
قباد جس کا لقب شیرویہ تھا، قابض ہوا کسری اسی کے اشارے پر میں قتل
کیا گیا، اس کی مو کے بعد ملک کا شیراز منتشر ہوگیا اور حکمراں خاندان کے ہاتھ سلطنت
ایک کھلونا بن گئی شیرویہ بھی چھ ماہ سے زیادہ حکومت نہ کر سکا، اور اس کے تخت پر یمار
سال کے اندر یکے بعد دیگرے دس بادشاہ متمکن ہوئے سلطنت کی چولیں ہل گئیں، آخر میں
یزدگرد پر سب کا اتفاق ہوا، اور اس سلطنت کا تاج اس کے سر پر رکھا گیا، یہ ساسانی خاندانی
آخری فرمانروا تھا، اور اسی کو اسلامی افواج کا سامنا کرنا پڑا تھا جنھوں نے بالآخر
سلطنت آل ساسان کی قسمت پر مہر لگا دی اور اس سلطنت کا جس کا چار سو سال
تک دنیا میں ڈنکا بجتا رہا چراغ گل ہو گیا یہ واقعہ میں پیش آیا اور اس طرح
پیشین گوئی آٹھ سال کے اندر اندر پوری ہوگئی، اور آپ کی پیشین گوئی کا دوسرا
جزو بھی پورا ہوا کہ ” اذا هلك كسرى فلا كسرى بعد
اشر تعالے نے مسلمانوں کو ایران کا دار و حاکم بنادیا اب ایران اسلام کی رانی
له تاریخ طبری ج ۳ ماه ۹۱ که ایران بعد ساسانیان شخص از باشیم و اب ہم ساسانی سلطنت کا
دور آخر یہ اس روایت کے الفاظ ہیں جو مسلم نے ابن عینیہ سے نیزام شافعی نے اپنی سند سے بیان کی ہے۔
—
………………………………………………………………………………………………………………
ان میں علم و دین کے بڑے بڑے امام اور اسلام کی غیر معمولی شخصیتیں پیدا ہوئیں اور
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا بالکل صحیح ثابت ہوا کہ :
لوكان العلم بالثرى التناولہ اگر علم ثریا پر بھی ہو گا تو کچھ ایرانی
اناس من ابناء فارسی نژاد لوگ حاصل کر کے رہیں گے۔
ہر قل اور ابوسفیان کا مکالمہ
ہر قل نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے
اور صحیح حقائق سے آگاہ ہونے کی کوشش کی اور کسی ایسے شخص کی جستجو کی جو آپ کے
بارے میں صحیح رپورٹ دے سکے جن اتفاق سے ابوسفیان اس وقت عربہ میں موجود
تھے اور تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے ان کو شاہی دربار میں لایا گیا، بادشاہ
کے سوالات ایک ایسے دانشمند واقف اور تجربہ کار شخص کے سوالات تھے جو تاریخ مذاہب
انبیاء کے خصائص اور سیرت ان کی قوموں کا ان سے معاملہ اللہ تعالی کی سنت سے
بخوبی واقف ہوا ابوسفیان نے بھی قدیم عربوں کی طرح اس شرم سے کہ لوگ ان کو
غلط بیانی کرنے والا نہ کہیں ان سوالات کا بالکل صحیح صحیح جواب دیا۔
یہ مکالمہ درج ذیل ہے :۔
ہر قل : ان کا نسب کیسا ہے ؟
ابوسفیان: وہ ہم میں عالی نسب سمجھے جاتے ہیں۔
ہر قل : کیا جوبات وہ کہتے ہیں ان سے پہلےبھی کسی نے کہی تھی۔
له مسند امام احمد ج ۲ ص۳۹۹
26
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۴
ایوسفیان: نہیں۔
ہر قل : اس خاندان میں کوئی بادشاہ گذرا ہے؟
ابوسفیان نہیں۔
ہر قل : کیا صاحب اثر لوگوں نے ان کا اتباع کیا ہے یا کمزوروں نے؟
ابو سفیان، کمزور لوگوں نے۔
ہر قل : ان کے پیرو بڑھ رہے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں ؟
ابوسفیان بڑھتے جاتے ہیں۔
ہر قل : کیا کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد دین کو نا پسند کر کے
پھر بھی جاتا ہے ؟
ابوسفیان نہیں۔
ہر قل : کیا ان کے اس دعوے سے پہلے کی تم نے بھی ان پھوٹ کا حجرہ کیا ہے؟
ابوسفیان پنہیں۔
ہر قل : کیا وہ عہد و قرار کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں ؟
ابوسفیان ابھی تک تو نہیں کی لیکن اب ہو نیا معاہدہ صلح ہے اس میں کھیں
وہ عہد پر قائم رہتے ہیں یا نہیں ؟
ہر قل: تم لوگوں نے ان سے کبھی جنگ بھی کی؟
ابوسفیان: ہاں !
ہر قل نتیجہ جنگ کیا رہا ؟
ابو سفیان، جنگ کا پانسہ ہمارے اوران کے درمیان پلٹتا رہتا ہے بھی ہے غالب
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۵
آتے ہیں کبھی وہ ۔
ہر قل : وہ کیا تعلیم دیتے ہیں؟
ابوسفیان: وہ کہتے ہیں کہ ایک خدا کی عبادت کرو کسی اور کو خدا کا شریک
نہ بناؤ نماز پڑھو، پاکدامنی اختیار کر و اینچ بولو، صلہ رحمی کرد.
ہر قل نے مترجم سے کہا کہ ان سے کہو کہ ہم نے تم سے ان کے نسب کی بابت دریا
کیا تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں شریف النسب میں پیغمبر ہمیشہ اچھے ہی خاندانوں میں پیدا ہوتے
ہیں۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ کیا اس خاندان میں کسی اور نے بھی نبوت کا دعوئی
کیا تھا تو تم نے کہا کہ نہیں اگر انسے پہلے کس نے یہ دعوی کیا ہوتا تومیں کہتا کہ وہ
اسی کی نقل کر رہے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے خاندان میں کوئی بادشاہ
گذرا ہے تم نے کہا نہیں اگرکوئی بادشاہ گزرا ہوتاتومیں کہا کہ اپنےخاندان کا بادشات
کے طالب ہیں۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا تم ان کو اس دعوے سے پہلے بھی کبھی
جھوٹا کہتے تھے تم نے کہا نہیں میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن تھا کہ وہ لوگوں سے تو
جھوٹ نہ بولیں اور اللہ پرچھوٹ باندھیں میں نے تم سے دریافت کیا کہ
شرفاء ویا از لوگ اُن کے تبع ہیں یا غریب اور کمزور ان کے کہا کمزوروں نے ہی ان کی
پیروی کی ہے پیغمبروں کے ابتدائی) پیرو ہمیشہ غریب ہی لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے
تم سے دریافت کیا کہ ان کے پر بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں تم نے کہاکہ بڑھتے
جائے۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کوئی ان کے دین سے ناراض ہو کر مرتے بھی ہوجاتا۔
ہے تم نے کہا نہیں ایمان کا حال یہی ہوتا ہے جبے لوں کو اس کی چاشنی حاصل
Janununununununununununus
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۶
ہوجاتی ہے تو وہ نکلتا نہیں ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ عہد و پیمان کی
خلاف ورزی بھی کرتے ہیں ہم نے کہا نہیں پیغمبر اسی طرح خلاف ورزی نہیں
کرتے اور میں نے تم سےدریافت کیا کہ وہ کیا سکھاتے ہیں ہم نے بتایاکہ وہ حکم کرتے
ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور تم کو بتوں کی
پوجا سے روکتے ہیں، نماز سچائی ، پاک دامنی کی تعلیم دیتے ہیں اگر تھا کہتا ہے کہ یہ سچا ہے تو
عنقریب اس وقت یہاں میرے قدم ہیں وہاں تک ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ مجھ کو چیزوں کا
خیال تھا کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے لیکن یہ خیال نہ تھاکہ وہ عرب میں پیدا ہو گا۔ اگر میں
وہاں جاسکتا توضروران کی خدمت لے جاتا اور اگر ان کے پاس ہوتا تو ایک پاؤں دھوتا۔
ہر قل نے ارکان سلطنت اور اعیان قوم کو محل میں طلب کیا اور دروازے بند کروا دیئے پھر حاضرین کی طرف توجہ ہوکر اس نے کہا اے اہل روم کیا تم فرد مناح
چاہتے ہو؟ اور چاہتے ہو کہ قحط ایک بات ہے اگر لیا ہے تم انہی کے ہاتھ پر این
لے آؤ، حاضرین تیزی سے دروازوں کی طرف بھاگے توان کو بند پایا جب ہر قل نے
ان کی بر ہمی دیکھی اور ان کے امان لانے سے مایوس ہو گیا تو اس نے حکم دیاکہ ان کو
واپس لاؤ اور کہاکہ ابھی میں نے جوبات کی تھی وہ اسلئے کہ کہ اپنے دین پر استواری مضبوطی
کا امتحان لوں میں نے یہ دیکھ لیا تو نے اس کے سامنے پیشانی ٹیک کی اور اس سے خوش ہو گئے۔
غرض ہر قل نے سعادت و نجات کا یہ زریں موقع کھو دیا اور اس ابدی
دولت پر فانی سلطنت کو ترجیح دی جس کا انجام یہ ہوا کہ عہد فاروقی میں اس کو
اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
۳-۲-۱ الجامع الصحیح البخاری / – باب كيف كان بدأ الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم
—
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۷
الیسی کون تھے؟
ارسین یا ترسین کا لفظ روایات کے اختلاف کے باوجود صرف اس
خط میں آیا ہے جو ہر قل کے نام لکھا گیا ، اس کے علاوہ جتنے مکاتیب سلاطین کو
آپ نے روانہ فرمائے کسی میں یہ لفظ نہیں ملتا ، علماء حدیث اور علماء
لغت کا اس لفظ کے اصلی مفہوم کے بارے میں خاصا اختلاف ہے، مشہور قول
یہ ہے کہ الیسین اریسی” کی جمع ہے اور وہ خدمتگاروں شاگرد پیشہ اور
کاشتکاروں کے لئے آتا ہے۔
ابن منظور نے بھی انسان العرب میں اس کو کاشتکاروں کے ہم معنی
قرار دیا ہے اور اس کو امام لغت تعالی سے نقل کیا ہے، ابن الاعرابی کے قول کا
حوالہ دیتے ہوئے بھی اس مادہ کے یہی معنی لکھے ہیں اور ابو عبیدہ کا قول نقل کیا ہے
کہ میرے نزدیک الیس سردار اور بڑے کو کہتے ہیں جس کے حکم کی تعمیل کی جائے
اور جب وہ اطاعت بچا ہے تو اس کی اطاعت کی جائے ہے
اس موقع پر ایک پڑھا لکھا آدمی جس کی ان ملکوں کے خصائص و حالات
پر نظر تھی یہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر اریسین سے مراد کا شکار تھے تو شہنشاہ ایران کسری
پرویز اس کا زیادہ حق تھا کہ اس کو ان کے بارے میں اس کی ذمہ داری سے
آگاہ کیا جاتا اور یہ لفظ اس خط میں آتا جو کسری کے نام بھیجا گیا، اس لئے کہ
سے دیکھئے شرح مسلم للنوی اور مجمع بحار الانوار از علامہ محمد طاہر تیمی
دیکھئے “لسان العرب “ماده “ارس”
………………………………………………………………………………………………………………
کاشتکاروں کا طبقہ سلطنت ساسانی میں بازنطینی سلطنت کے مقابلہ میں زیادہ
پیلے اور نمایاں تھا، اور ایران کی قومی آمدنی اور ذرائع معیشت کا زیادہ انحصار دراستی
پر تھا جیسا کہ ازہری نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور ابن منظور نے ان کے حوالہ
سے نقل کیا ہے کہ :
سواد عراق کے لوگ جو کسری کے دین پر تھے زراعت پیشہ اور
کاشت کار تھے اہل رام سازو سامان کی تیاری اور صاع کا پیشہ کرتے
تھے اور اس لئے وہ مجوس کو اریسین کہتے تھے، انہی کی طرف نسبت کرتے
ہوئے جس کے معنی کا شکار کے ہیں عرب بھی ایرانیوں کو فلاحین”
کا شکار کے لقب سے یاد کرتے تھے؟
ان سب جوہ سے ہمارے نزدیک ترجیح اس قول کو ہے کہ ار سی سی رادار وں
مصری 280-336 ,Arus) کے پیرو ہیں، جو ایک ایسے مستقل میجی فرقہ کا بانی تھا جس نے
مسیحی عقائد اور اصلاح کے شعبہ یں ایک خاص کر دار ادا کیا، اس فرقے نے بازنطینی
سلطنت اور کمی کلیسا کو عرصہ دراز تک پریشان رکھا تھا اریوس وہ شخص ہے
جس نے توحید کا نعرہ بلند کیا اور خالق و مخلوق (عیسائیوں کے الفاظ میں )
باپ بیٹے کے درمیان فرق کرنے کی دعوت دی، اس نے اس موضوع پر
بحث و مباحثہ کا دروازہ کھول دیا اور عیسائی معاشرہ میں صدیوں تک
یہی موضوع رہا، اس کے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے واحد کی یہ شان
نہیں ہے کہ وہ زمین پر ظاہر ہوا اس لئے اس نے حضرت مسیح کو قوت اور
له ايضا
………………………………………………………………………………………………………………
۳۹۹
کلام الہی سے بھر دیا خدا کے بنیادی صفات میں وحدانیت اور ابدیت ہے
اور اس نے اپنی ذات سے براہ راست کسی کو پیدا نہیں کیا جنانہیں بیٹا خود
مقدار نہیں ہے بلکہ امر رب کی حکمت کا ایک نظر ہے، اور اس کی الوہیت اضافی
ہے نہ کہ مطلقہ
جیمری میکنین (JAMESMACKINGON) اپنی کتاب میں تقسطنطین تک ہمیں
لکھتا ہے :۔
اریوس کا اصرا تھا کہ تنہا اللہ کی ذات قدیم ہے از لی ابدی ہے
اس کا کوئی شریک نہیں رہی ہے جو بیٹے کو عدم سے وجود میں لایا، اس لئے
بیٹا از لی نہیں ہے اللہ ہمیشہ سے باپ نہیں ہے چنانچہ ایک زمانہ ایسا
گزرا ہے کہ بیٹے کا وجود ہی نہ تھا بیٹا اپنی ایک مستقل حقیقت رکھتا ہے
جس میں اللہ اس کا شریک نہیں وہ تبدیلیوں اور انقلابات سے متاثر
بھی ہوتا ہے اور وہ صحیح معنی میں خدا کہلانے کا حق نہیں بالا اور کال
قرار دیا جا سکتا ہے لیکن وہ بہر حال ایک کامل مخلوق ہے؟
دوسری طرف اسکندریہ کا کلیسا چوتھی صدی عیسوی میں حضرت مسیح کی الوہیت
کا مطلق طریقہ سے قائل تھا، اور اس کے نزدیک خالق و مخلوق اور اب پیٹ میں کوئی تفریق نہیں۔
اس کو مصری کلیسا کے لاٹ پادری الیکز نڈر (ALEXANDER) نے (۳۲ میں
اسکندریہ کے کلیسا سے بے دخل کر دیا اریوس شہر چھوڑ کر چلا گیا، لیکن اس کی بے دلی
لے تفصیل کے لئے دیکھئے ، انسائیکلو پیڈیا مذاہب و اخلاق جلد انتقالم
“FROM CHRIST TO CONSTANTINE” (LONDON, 1936) AL
………………………………………………………………………………………………………………
سے جھگڑا ختم نہیں ہوا شہنشاہ قسطنطین نے اس نزاع کوختم کرانے کی کوشش کی،
لیکن اس کا اس میں کامیابی نہیں ہوئی ۳۲۵ ی میں اس نے نیقیہ MICAaera میرا ایک
کا نفرنس بلائی جس میں دو ہزار تیں پادری شریک ہوئے شہنشاہ کا رجحان الوہیت
میسیج کی طرف تھا، اس لئے اس نے اریوس کے خلاف فیصلہ دیا، اس کے باوجود نما ئند وں
کی اکثریت اریوں کی موئی تھی اورصرف تین سو اٹھارہ پادری بادشاہ کے ساتھ تھے تاہم
اس نے اریوں کو اليريا) میں جلا وطن کر دیا، اور اس کی سب تحریریں جلا
دی گئیں اس جس کے پاس اس کی کوئی تحریر ملتی اس کو سخت سزادی جاتی لیکن ان
کوششوں سے اریوس کی اہمیت اور لوگوں یا اس کی ہر چیز ہی اورتی سیم کی جاتی
آخر کار قسطنطین ہی کو اپنا رومی نر کرنا پڑا اور اس نے اس کے عقیدہ سے
پابندی اٹھالی، اپنے سب سے بڑے تولیت ور قیب الیکزنڈر کی موت اور اس کے
جاشین ATHANASIUS کی جلا وطنی کے بعدا لوس اسکندریہ پھر واپس گیا فریب
تھا کہ قسطنطین اس کو مصری کلیسا کا سر براہ کر دے اور اس کا مذہب قبول
کرے لیکن موت نے اس کا موقع نہیں دیا۔
ڈریپر نے اپنی کتاب معرکہ مذہب سائنس میں لکھاہے کہ تیر ی مجالس
نے چوتھی صدی عیسوی میں اریوس کے خلاف فیصلہ دیا تھا، پندر مسیحی مجالس نے
اس کی تائید کی تھی انشرا مسیحی مجالس نے جو رائے ظاہر کی وہ اس کی رائے کے
بہت قریب تھی اس طرح ۲۵ مسیحی مجالس اس مسئلہ پر غور وفصیلا کرنے کے لئے
منعقد کی گئیں۔
حوالے انسائیکلو پیڈیا ذہب و اخلاق مقالہ ‘ARIANISM’
………………………………………………………………………………………………………………
واقعہ یہ ہے کہ مسیحی دنیا میں چوتھی صدی سے قبل عقیدہ تثلیث کا عام رواج
نہیں ملتا” کیتھولک انسائیکلو پیڈیا ” میں آتا ہے کہ:۔
عقیدہ تثلیث کی تشکیل جدید اور اس کے راز سے پردہ صرف انیسویں
صدی کے نصف ثانی میں ہی اٹھ سکا مطلق عقیدہ توحید پر اگر کوئی گفتگو
کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہی کہ وہ میجی تاریخ کے آغاز سے چوتھی صدی کی
آخری پوتھائی تک عقل ہو جاتا ہے یہ کہ ایک معبود کے تین مظاہر ہیں ،
مسیحی دنیا میں یہ نظریہ اسی مخصوص تاریخی واقعہ میں پھیلا تھا۔
بہ عقیدہ و دعوت الوہیت مسیح کی کھلی ہوئی دعوت کے ساتھ ہمیشہ برسر پیکار
رہی کبھی اس کا پلڑا بھاری ہوتا کبھی اس کا ، باز نطینی مملکت کی مشرقی ریاستوں میں
عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد اریوس کے عقیدہ کی حامل تھی، یہاں تک کہ تھیوڈوں
THEOSODIUS THE GREAT نے قسطنطنیہ میں عیسائی کا نفرنس طلب کی جس نے
الوہیت مسیح اور ان کے خدا کا بیٹا ہونے کے عقیدہ کو با قاعدہ منظور کرلیا اور اس کے
اعلان کے بعد اریوس عقیدہ کی دعوت ختم ہو گئی اور یہ تحریک نظروں سے اوجھل ہو گئی
تاہم عیسائیوں کی ایک جماعت اس کے بعد بھی اس سے وابستہ رہیں اور یہ لوگ
فرقہ ارسیہ یا ارسین کے نام سے مشہور ہوئے۔
اس لئے قابل ترجیح اور قرین قیاس یہی قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس جملہ سے فان تولیت فان عليك اثر الأرسين ” سے مراد یہی ہے اس لئے
کہ اس وقت کی مسیحی دنیا میں جس کی زمام قیادت عظیم بازنطینی ملکت کے ہاتھ میں تھی
۲۹۵ ۱۴ مقاله تثلیث مقدس ج THE NEW CATHOLIC ENCYCLOPAEDIA”
………………………………………………………………………………………………………………
اور جس کا سر براہ ہر قل تھا یہی فرقہ نسبتا توحید کا حامل اور اس پر اب تک قائم تھا۔
عجیب بات یہ ہے کہ عصر اول کے بعض جلیل القدر علماء اسلام نے بھی اسی چینان
کا اظہار کیا ہے امام طحاوی (رمہ اری) اپنی کتاب مشکل الآثار” میں لکھتے ہیں :۔
بعض حقائق آگاہ علماء نے بیان کیا ہے کہ ہرقل کی جماعت میں ایک فرقہ
تھا جس کو اریسہ کہتے تھے یہ توحید ال اور حضرت مسیح کی عدبیت کا قائل
تھا، نصری اسی کی ربوبیت کے الے میں کچھ کہتے تھے یہ فقہ اس کو نیم
نہیں کرتا تھا، یہ دین می پرقائم تھا اور انہی میں جوکچھ تھا، اس پرعمل پیرا
تھا، نصاری سے آگے بڑھ کر کچھ کہتے تھے وہ اس پرایمان نہ رکھا تھا اگر
بیہ بات صحیح ہے تو اس فرقہ کو ارسیون رفع کے ساتھ اور اریسین انصب
اور تر کے ساتھ کہنا دونوں جائز ہے جیسا کہ علماء حدیث کا خیال ہے ۔
اس کے قریب قریب رائے امام نووی شارح مسلم مہ نے بھی ظاہر کی ہے وہ کہتے ہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ وہ یہود و نصاری ہیں، جو عبد اللہ بن ارین کے ماننے
والوں میں تھے جس کی طرف اروسیت کو غسوب کیا جاتا ہے ۔
مکاتیب بنام امراء عرب
امرائے عرب میں آپ نے منددین سادی (حاکم بحرین) جعفر بن الجلندا
له شکل الآثار ج ۲ ۳۹ ۲ یہ امام نووی کی فروگذاشت معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ
ظہور اسلام سے تین سوبرس قبل اس کا وجود تھا اور اسکا نام بھی کوئی اسامی عربی نام نہ تھا۔
شرح حیح مسلم منو ج ا ہے پر سن نجد کے اس خط کو کہتے ہیں جس کا نام اب
الاحساء” ہے حضرت ابو عبیدہ کی قیادت میں جو شکر بھیجاگیا تھا، اور میں باقی تمام پر)
و شکری
………………………………………………………………………………………………………………
عبد بن الجلند ازدی (امراے عُمان) اور سودہ بن علی (حاکم بیامہ) اور صارت بن
اشعر الفسانی کے نام مکاتیب ارسال کئے منذر بن سادی نیز جلندا کے دونوں
بیٹوں جیفر اور عبد نے اسلام قبول کر لیا و بہ بن علی حاکم پیامہ نے رسول الله صلی الله
ر باقی مکت کا عظیم قبیلے کے ہاتھ آنے کا واقعہ پیش آیا، وہ اسی سمت روانہ کیا گیا تھا، اور احادیث
صحیحہ میں اس موقع پر البحرین ہی کا لفظ آتا ہے، یہیں سے بڑی مقدار میں مال غنیمت بھی آیا تھا،
جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے اب یہ نام یہاں سے منتقل ہوکر جزیرة العر کے اس حصہ کی طرف منتقل
ہو گیا جو خلیج کی ریاستوں میں ایک ریاست ہے جو کرین کے نام سے مشہور ہے اس کے زیادہ توباشندے
بنی عبد القیس بنی بکر بن وائل اور تیم کے قبائل سے تھے ان مکتوبات کی تحریر کے وقت وہاں کا
والی اور حاکم منذرین ساوی تھا جو بنی تیم کے قبیلہ کا فرد تھا ان مکتوبات کے متن کے لئے جو
ملوک و امرائے عرب اور روسائے قبائل کو تحریر کئے گئے اور ان کے نامہ بروں اور مکتوب الیہم
کے بارے میں معلومات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب : إعلام السائلين من كتب سيد المرسلين
(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) تالیف امام محمد بن طولون دمشقی (۱۹۵۳۰۸۸۰)
طيع مؤسسة الرسالة له مورفین کے بات سے معلوم ہوتا ہے کہ الجلند کسی خاص شخص
کا نام نہیں تھا وہ ایک لقب تھا جس کے معنی اہل حمان کی زبان میں بڑا رہن یا پیشوا کے تھے ان میں
اول الذکر بادشاہ کریں اپنے بھائی سے بالھا۔لاحظه و نهاية الادب و تاريخ العرب قبل الاسلام )
ہے (حوذہ بن علی الحنفی میامہ کا بادشاہ تھا، اور دین عیسائیت پر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیط این
عمرو کو اسی کے پاس بھیجا تھا، میامہ کے حار وائی نت مشرق میں بحرین سے ملتے تھے اور مغرب میں حجاز سے
جانتے تھے پیامہ کے مقامات میں (منفوحہ) بھی ہے، جو داعشی جاہلی شاعر کا وطن ہے۔ رسول اللہصلی اللہ
علیہ وسلم کے زمانہ میں بنو حقیقہ وہاں کے نمایاں قبائل میں تھے انھیں میں مسلمہ بن سلیب (باقی کا پتا دے
………………………………………………………………………………………………………………
علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اس کو اقتدار میں شریک کیا جائے، آپ نے انکار
فرمایا اور اس کے بعد جلد اس کی موت ہو گئی ہے
غزوہ بنی لحیان اور غزوہ ذی قرد
صلح حدیبیہ (سنہ) اور غزوہ خیبر کے درمیان غزوہ بنی لحیان اور
غزوہ ذی قرد واقع ہوئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل تقی فریشرین
لے گئے اور این مکتوم کو مدینہ کا والی مقر کیا، پہلے غزوہ کا سبب واقعہ جمیع کے
افراد حبیب بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے خون کا مطالبہ و جواب تھا،
اور دوسرے کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگل میں ہونے والی
اونٹنیوں پر مشرکین کی غازنگری اپنی غفار کے ایک آدمی کا قتل اور ان کی بیوی
کا اغوائها
۸۵۰
(باقی منه کا پیدا ہوا تھا جس کا لقب دعوائے نبوت کی وجہ سے کتاب پڑ گیا۔ سے تاریخ طبری ام
نه زاد المعاوج ۲ مشه که صحیح مسلم میں سلمہ بن الاکوانی کی روایت جیسے ابن حجر نے
فتح الباری میں ترجیح دی ہے ، اصحاب سیر متفق ہیں کہ غزوہ ذی قرد صلح حدیبیہ سے پہلے ہوا ہے۔
سیرت ابن ہشام ق ۲ ص۲۷۹-۲۸۹