۶۰۹
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ
چھٹی صدی میجی میں عالمی پیمانہ پر یہ کیفیت نظر آتی ہے کہ پوری نوع انسانی
خودکشی پر آمادہ نہیں کر بستہ ہے جیسے خودکشی کرنے کی اس نے قسم کھائی ہے ساری
دنیا میں خودکشی کی تیاری ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس نظر اور صورت
حال کی جو تصویر کھینچی ہے، اس سے بہتر کوئی بڑے سے بڑا مصور، ادیب و مورخ
تصویر نہیں کھینچ سکتا، وہ فرماتا ہے :۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُم اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو
إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَادًا فَاَلَّفَ جب تم ایک دوسرے کے دشمن
بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں
بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًاج وَكُنْتُمْ الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی
عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے
فَانْقَذَ كُم مِنْهَا (ال عمران ۱۳) گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو
خدا نے تم کو اس سے بچالیا۔
لے جلسہ سیرت کی ایک تقریر کا آخری حصہ جس میں بعثت محمدی کے احسانات اور نبوت محمدی کے
ان عطیبوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے تاریخ انسانی میں انقلاب برپا کر دیا، اور نوع انسانی کی
قسمت بدل دی، اس کتاب کا اختتام اسی مضمون پر کیا جا رہا ہے۔ (الانبیاء – ۱۰۷)
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۱۰
ہمارے مورخوں اور سیرت نگاروں سے جاہلیت کی تصویر پورے طور پر
کھینچ سکی وہ نہ صرف قابل معافی بلکہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ادب اور زبان
کا ذخیرہ ساتھ نہیں دیا، واقعہ اور صورت حال اتنی سنگین اتنی نازک اتنی طبیب
اور اتنی پیچیدہ اور دقیق تھی کہ منے قلم سے اس کی تصویر اور زبان و ادب کی
بڑی سے بڑی قدرت و صلاحیت سے اس کی تعبیر ممکن نہیں کوئی مورخ اس کا
میں کیسے ادا کر سکتا ہے، دور جاہلیت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت
ہوئی کیا وہ ایک یا دو قوموں کے انحطاط یا اخلاقی بگاڑ کا مسئلہ تھا، خالی ثبت پرستی
کا مسئلہ تھا، اخلاقی جرائم و دائم کا مسئلہ تھا، شراب نوشی، قمار بازی عیش پرستی
ہوس رانی حقوق کی پامالی ظلم و استبداد، معاشی استحصال، جابر و ظالم حکومتوں
ظالمانہ نظاموں اور غیر منصفانہ قوانین کا مسلہ تھا؟ کیا مسلہ یہ تھا کہ سی ملک میں
باپ اپنی نوزائیدہ بچی کو زندہ درگور کر رہا تھا؟ مسئلہ یہ تھا کہ انسان انسانیت کو
خاک میں ملا رہا تھا مسلہ یہ نہیں تھا کہ عرب کے کچھ سنگ دل اور قسی القلب لوگ
اپنی معصوم بچیوں کو جھوٹی شرم اور خیالی تنگ عار سے بچنے کے لئے ایک خود ساختہ
تخیل اور ایک ظالمانہ روایت کی بناء پر اپنے ہاتھوں زمین میں زندہ دفن کر دیا
چاہتے تھے یہ مل ہی تھا کہ مادر گیتی اپنی پوری نسل کو زندہ دفن کرنا چاہتی تھی وہ دور
ختم ہو چکا اب اس کو کیسے لاکر سامنے کھڑا کر دیا جائے وہ دور جن لوگوں نے
دیکھا تھا، وہی اس کی حقیقت کو سمجھتے اور جانتے تھے۔
مسئلہ کسی ایک ملک قوم کا بھی نہیں تھا نہ کسی ایک مغالطہ اور فریب کا تھا
مسئلہ انسانیت کی قسمت کا تھا مسئلہ نوع انسانی کے مستقبل کا تھا اگر کوئی مصوری
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
ایسی تصویر پیش کرے جس میں دکھا یا گیا ہو کہ نوع انسانی کی نمایندگی ایک انسان
کر رہا ہے، ایک حسین وجمیل سپیرا ایک فربہ وتوانا جیم وہ خدا کی صنعت کا بہترین
نمونہ ہے جس سے آدم کا نام زندہ اور اس کا سلسلہ قائم ہے جو محسود ملائکہ ہے
اور مقصود آفرینش جس کے سر پر خدا نے خلافت کا تاج رکھا ہے اور جس کی وجہ
سے یہ گروہ ارضی ایک خرابہ اور ویران نہیں ایک آباد اور گلزار جگہ ہے۔ اس انسان
کے سامنے آگ کا ایک سمندر ہے ایک نہایت مہیب خندق ہے جس کی کوئی
تھا، نہیں، وہ انسان اس میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار کھڑا ہے، اس کے
پاؤں اٹھ چکے ہیں اور وہ مائل بہ پرداز ہے ایسا نظر آرہا ہے کہ چند لمحوں میں دم
اس کی اندھیروں میں غائب ہو جائے گا۔ اگر اس دور کی ایسی تصویر بھیجی جائے تو
کسی حد تک اس صورت حال کا اندازہ ہوسکتا ہے، جو بعثت کے وقت پائی
جاتی تھی اور اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے کہ :-
وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفرة من اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے
النَّارِ فَاَنْقَذَ كم منها تک پہنچ چکے تھے خدا نے تم کو اس سے
(آل عمران – ۱۰۳)
بچا لیا۔
اور اسی بات کو نبوت نے ایک تمثیل میں بیان کیا ہے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس دعوت و ہدایت کی مثال جس کے ساتھ مجھے دنیا
میں بھیجا گیا ہے، ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی، جب اس کی روشنی
گرد و پیش میں پھیلی تو وہ پروانے اور کیڑے جو آگ پر گرا کرتے ہیں ہر طرف سے اس میں
اس میں کودنے لگے اسی طرح سے تم آگ میں گرنا اور کودنا چاہتے ہو اور میں تمہاری
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۱۲
کر یک پیکر کریم کو اس سے بچاتا اور علیحدہ کرتا ہوں ہے۔
حقیقتا اصل مسئلہ یہی تھا کہ انسانیت کی کشتی کو سلامتی کے ساتھ پار لگایا جاتا
جب انسان اپنے صحیح نموڈ میں آجائے گا جب زندگی میں اعتدال اور توازن
پیدا ہو جائے گا گا تو ان سب تعمیری، فلاحی، علمی، ادبی اور ترقیاتی کوششوں اور
منصوبوں کا دور آئے گا، جن کی صلاحیت مختلف انسانوں اور انسانیت کے
بہی خواہوں میں پائی جاتی ہے حقیقت ساری دنیا پیغمبروں کی احسان مند ہے کہ
انھوں نے نوع انسانی کو ان خطرات سے بچا لیا جو اس کے سر ننگی تلوار کی طرح
ٹکے رہے تھے دنیا کا کوئی علمی تعمیری اصلاحی کام کوئی فلسفہ کوئی دلبستان فکر
ان کے احسان سے سبک دوش نہیں سچ پوچھئے تو موجودہ دنیا اپنی بقا اور ترقی اور
زندگی کے استحقاق میں پیغمبروں ہی کی رہین منت ہے انسانوں نے زبان مال
سے کئی مرتبہ یہ اعلان کیا کہ اب ان کی افادیت ختم ہوگئی اور اب وہ دنیا کے لئے
اور اپنے لئے کوئی نافعیت برکت و رحمت اور کوئی پیغام اور دعوت نہیں رکھتے،
انھوں نے اپنے خلاف خدا کی عدالت میں خود تالش کی اور گواہی دی، ان کی مسل
اپنے کو بڑی سے بڑی سزا بلکہ سزائے موت کا حق ثابت کر چکے تھے۔
جب تمدن اپنے حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، جب وہ اخلاقیات کو یکسر
فراموش کر دیتا ہے، جب انسان اپنی سفلی خواہشات اور نفس کے حیوانی تقاضوں
کی تکمیل کے سوا ہر مقصد اور ہر حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے، جب اس کے پہلو
میں انسان کے دل کے بجائے بھیڑیے اور چیخنے کا دل پیدا ہو جاتا ہے جب اس کے
له صبیح بخاری ( مشکوۃ ج ام )
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
جسم میں ایک فرضی معدہ اور ایک لا محدود نفس آمار جنم لیتا ہے جسے نیا پر نون
کا دورہ پڑتا ہے تو قدرت خدا وندی اس کو سزا دینے یا اس کے جنون کے نشہ کو
اتارنے کے لئے نئے نئے نشتر اور نئے نئے جراح پیدا کرتی ہے ۔
کرتی ہے ملوکیت انداز جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز اس با ے میمور ہویا چیز
آپ لوکیت کے لفظ کو تمدن سے بدل دیجئے کہ تمدن کا بگاڑ اور تمارنی جنون
ملوکیت کے جنون سے زیادہ خطر ناک اور زیادہ وسیع ہوتا ہے، ایک کمز در سا مریض اگر
پاگل ہو جاتا ہے تو محل کی نیند حرام کر دیتا ہے اور سارا محلہ عذاب میں فیل ہو جاتا ہے۔
آپ تصور کیجئے کہ جب نوع انسانی پاگل ہو جائے اور جب تمدن کا قوام بگڑ جائے
جب انسانیت کا مزاج خراب ہو جائے تو اس کا کیا علاج ہے؟
جاہلیت میں تمدن صرف بگڑا ہی نہیں تھا اتقن ہو گیا تھا، اس میں کپڑے
پڑ گئے تھے انسان نوع انسانی کا نشکاری بن گیا تھا، اس کو کسی انسان کی جھانکتی
کسی زخمی کی ترباپ اور سی مصیبت زدہ کی کراہ میں وہ مزا آنے لگا تھا ہو جام ٹیٹو
میں اور دنیا کے لذیذ سے لذیذ کھانے اور خوش نما منظر میں نہیں آتا تھا، آپ
روا کی تاریخ پڑھیں جس کی فتوحات نظم و نسق اور قانون سازی اور تہذیب کے
دنیا میں ڈنکے بچے اور مین مورخ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ اہل روما کے لئے سر سے
زیادہ دلچسپ فرحت افزا اور مست کر دینے والا نظارہ وہ ہوتا تھا جب یا ہم
شمشیر زنی یا خونخوار جانوروں کی لڑائی میں ہر بیت خوردہ اور مجروح شمشیر زن
جانکنی کی تکلیف میں مبتلا ہونا ، اور موت کے کرب میں آخری ہچکی لیتا
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
اس وقت روم کے خوش باش اور زندہ دل تماشائی اس خوشی کی بنظر کو دیکھنے کے
لئے ایک دوسرے پر گرے پڑتے اور پولیس کو بھی ان کو کنٹرول میں رکھنا ممکن نہ ہوتا؟
رومی عہد کی بنیائی جس میں انسان کو جانوروں سے لڑانے پر عبور کیا جاتا تھا،
انسانی تقاوت وسنگدلی کی بدترین مثال پیش کرتی ہے لیکن یہ صرف اعلیٰ طبقہ
سے تعلق رکھنے والوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ تاریخ اخلاق یورپ کے مصنف لیکی
ان کھیلوں کی ہر دلعزیزی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔
دیانی کی یہ قبولیت و دل فریبی اس لحاظ سے مطلق حیرت انگیز نہیں کہ
یکسی کے جتنے مناظر اس میں آکر مجتمع ہو گئے تھے اتنے کسی دوسرے مجمعہ میں
نہ تھے لق ودق اکھاڑہ امراء و اعیان دولت کی زرق برق پوشاکیں
تماشائیوں کا انبوہ کثیران کے ذوق وشوق کا اثر متعدی اتنے بڑے مجمع میں
ایک توقع سکون خاموشی اتنی ہزار زبانوں سے ایک بارگی صدائے تحسین
بلند ہوتی اس کی آواز سے شہر کیا معنی مضافات شہر تک گونج اٹھتے جنگ کا
گھڑی گھڑی رنگ بدلتے رہنا عدیم المثال جرات و بے جگری کا اظہار
ان میں سے ہر شئی تخیل کو متاثر کرنے کے لئے کافی ہے اور ان کی مجموعی
طاقت قدرتی طور پر بہت قوی ہے۔
ان ظالمانہ تفریحات کو روکنے کے لئے احکام جاری کئے گئے،
لیکن سیلاب اتنا پر زورتھا کہ کوئی بند سے روک نہیں سکتا تھا ۔
اے ملاحظہ ہو لیکی کی کتاب تاریخ اخلاق یورپ
(BY LECKY
(HISTORY OF EUROPEAN MORALS.
ت ایضا ص ۲۳ ( ترجمہ مولانا عبد الماجد دریا بادی)
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….
۶/۵
پس جاہلیت کا اصل ملہ یہ تھا کہ پوری زندگی کی چول اپنی جگہ سے ہٹ گئی
تھی، بلکہ ٹوٹ گئی تھی انسان انسان نہیں رہا تھا، انسانیت کا مقدمہ اپنے آخری )
مرحلہ میں خدا کی عدالت میں پیش تھا، انسان اپنے خلاف گواہی دے چکا تھا، اس
حالت میں خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اور ارشاد ہوا :-
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ الْأَرْحْمة اور (اے محمد) ہم نے تم کو تمام جہاں
للعلمين – (الانبياء — کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ دور بلکہ قیامت تک پورا دور محمد رسول اللہ صل الله
علیہ وسلم کی بعثت دعوت اور مساعی جمیلہ کے حساب میں ہے آپ کا پہلا کام یہ تھا کہ
آپ نے اس تلوار کوجو نوع انسانی کے سر پر پٹک رہی تھی، اور کوئی گھڑی تھی کہ
اس کے سر پہ گر کر اس کا کام تمام کر دے اس تلوار کو ہٹا لیا، اور اس کو وہ تھے
عطا کئے جنھوں نے اس کو نئی زندگی، نیا حوصلہ نئی طاقت، نئی عزت اور نئی منزل
سفر عطا کی اور ان کی برکت سے انسانیت تہذیب و تمدن علم و فن روحانیت
و اخلاص اور تعمیر انسانیت کا ایک نیا دور شروع ہوا ہم یہاں پر آپ کے ان
نیست چند عطیوں کا ذکر کرتے ہیں جنھوں نے نوع انسانی کی ہدایت و اصلاح اور انسا
کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اور قائدانہ کردار ادا کیا اور جن کی بدولت ایک
نئی دنیا وجود میں آئی۔
آپ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے دنیا کو عقیدہ توحید کی نعمت
عطافرمائی اس سے زیادہ انقلاب انگیز حیات بخش معہد آفرین اور معجز نما عقید
دنیا کو نہ پہلے کبھی ملا ہے اور نہ قیامت تک کبھی مل سکتا ہے، یہ انسان جس کو
40
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
شاعری، فلسفہ اور سیاست میں بڑے بڑے دعوے ہیں، اور جس نے قوموں ، ملکوں کو
بارہا غلام بنایا عناصر اربعہ پر اپنی حکومت چلائی پتھر میں پھول کھلائے اور پہاڑوں
کا جگر کاٹ کر دریا بہائے اور جس نے بھی کبھی خدائی کا بھی دعوی کیا یہ اپنے سے کہیں
زیادہ مجبور و ذلیل بے حس و حرکت بے جان و مردہ اور بعض اوقات خود اپنی ساخته
پرداختہ چیزوں کے سامنے جھکتا تھا، ان سے ڈرتا اور ان کی خوشامد کرتا تھا،
یہ پہاڑوں، دریاؤں، درختوں ، جانوروں ارواح و شیاطین اور مظاہر قدرت
ہی کے سامنے نہیں، بلکہ کیڑوں مکوڑوں تک کے سامنے سجدہ ریز ہوتا تھا، اور اس کی
پوری زندگی انھیں سے خون و امید اور انھیں خطرات میں بسر ہوتی تھی جس کا نتیجہ
بزدلی، ذہنی انتشار وہم پرستی اور بے اعتمادی تھا، آپ نے اس کو ایسے خالص، لے آمیز
سهل الفهم حیات بخش عقیدہ توحید کی تعلیم دی جس سے وہ خدا کے سوا جو خالق کائنات
ہے ہر ایک سے آزاد، نڈر اور بے فکر ہو گیا، اس میں ایک نئی قوت، نیا حوصلہ نئی نجات
اور نئی وحدت پیدا ہوئی، اس نے صرف خدا کو کار ساز حقیقی، سماجت روائے مطلق
اور نافع و ضار د نفع پہنچانے والا اور نقصان پہنچانے والا سمجھنا شروع کیا اس
نئی دریافت اور یافت سے اس کی دنیا بدل گئی، وہ ہر قسم کی غلامی و عبودیت
اور ہر طرح کے بے جا خوف و رجا اور ہر طرح کے تشقت و انتشار سے محفوظ ہو گیا،
اس کو کثرت میں وحدت نظر آنے لگی، وہ اپنے کو ساری مخلوقات سے افضل ساری
دنیا کا سردار منظم اور صرف خدا کا محکوم اور فرمانبردار سمجھنے لگا، اس کا لازمی نتیجہ
انسانی عظمت و شرف کا قیام تھا، جس سے پوری دنیا محروم ہو چکی تھی۔
بعثت محمدی کے بعد ہر طرف سے اس عقیدہ توحید کی (جس سے زیاد ظلوم وموں
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
کوئی عقیدہ نہ تھا، صدائے بازگشت آنے لگی، دنیا کے سارے فلسفوں اور افکار و خیالات پر اس کا کم و بیش اثر پڑا، وہ بڑے بڑے مذاہب جن کے رگ وریشہ میں شرک او لق والہ (متعد د خداؤں اور مسودوں) کا عقیدہ رچ لیں گیا تھا کسی نہ کسی کے میں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ خدا ایک ہے وہ اپنے مشرکانہ تنقیدوں کی تاویل پر مجبور ہوئے اور ان کی ایسی فلسفیانہ تشریح کرنے لگے اجس سے ان پر شرک و بدعت پرستی کا الزام نہ آئے اور وہ اسلامی عقیدہ توحید سے کچھ نہ کچھ ملتا ہوا نظر آئے، ان کو شرک کا اقرار کرنے میں شرم اور جھجک محسوس ہونے لگی اور سارے مشرکانہ نظام ، فکر و اعتقاد احساس کمتری NFERIORITY COMPLEX میں مبتلا ہوئے اس حین عالم کا احسان عظم یہ ہے کہ اس نے توحید کی نعمت دنیا کو عطا کی۔ آپ کا دوسرا انقلاب آفرین اور عظیم احسان وحدت انسانی کا تصور ہے جو آپ نے دنیا کو عطا کیا، انسان قوموں اور برادیوں ذات جھاتی اور اعلیٰ ادنی طبقوں میں بٹا ہوا تھا، اور ان کے درمیان انسانوں اور جانوروں، آقاؤں اور غلاموں اور عبد و معینو کا سا فرق تھا، وحدت و مساوات کا کوئی تصور نہ تھا، آپ نے صدیوں کے بعد پہلی مرتبہ یہ انقلاب انگیز اور حیرت خیز اعلان فرمایا۔
أيها الناس إن ربكم واحد لوگو ا تمھارا پروردگار ایک ہے اور
وان اياكم واحد، كلكم لادم تمھارا باپ بھی ایک ہے تم سب دلاد
وادم من تراب ان اکرمکم آدم ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے اللہ
عند الله اتقاكم وليس العربی کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز
على عجمي فضل الا بالتقویٰ وہ ہے ہو تم میں سب سے زیادہ
(کنز العمال)
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۱۸
پاک باز ہے کسی عربی کو عجمی تفضیلیت
نہیں، مگر تقویٰ کی بنا پر۔
یہ وہ الفاظ ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج میں ایک لاکھ
چوبیس ہزار کے عظیم مجمع میں فرمائے تھے، ان میں دو وحدتوں کا اعلان کیا گیا ہے
اور یہی وہ دو فطری محکم اور دائمی بنیادیں ہیں جن پر نسل انسانی کی حقیقی وحدت
کا قصر تعمیر کیا جا سکتا ہے اور جس کے سائے کے نیچے انسان کو امن و سکون حاصل ہو سکتا
ہے، اور وہ اشتراک عمل اور تعاون کے اصول پر انسانیت کی تعمیر نو کا کام انجام دے سکتا
ہے یہ دو وحدتیں کیا ہیں ؟ ایک نوع انسانی کے خالق وصانع کی وحدت اور ایک
نسل انسانی کے بانی اور مورث کی وحدت اس طرح ہر انسان دوسرے انسان سے
دو پہلو رشتہ رکھتا ہے ایک روحانی اور حقیقی طور پر وہ یہ کہ سب انسانوں اور جہانوں کا
رب ایک ہے۔ دوسرا جسمانی اور ثانوی طور پر وہ یہ کہ سب انسان ایک باپ کی اولاد
ہیں، دوسرے الفاظ میں توحید رب اور تو حید ارب کی تعلیم دی جس کو مختصر الفاظ
میں یوں کہا جا سکتا ہے الرب احد و الاب احدا رب (پروردگار بھی ایک ہے اور
اب (والد بزرگوار) بھی ایک۔
جس وقت یہ اعلان کیا گیا تھا، اس وقت دنیا اس کے سننے کے حالی (موٹی)
میں نہ تھی یہ اعلان اس وقت کی دنیا میں ایک زلزلہ سے کم نہ تھا بعض چیزیں
ایسی ہوتی ہیں جو تدریجی طور پر قابل برداشت ہو جاتی ہیں بجلی کا یہی حال ہے کہ
اس کو پردوں میں رکھ کر چھو لیتے ہیں لیکن بجلی کی عریاں ہوار کور کچھو لے تو ہم مر جائی ہے
لے اس نکتہ کی تشریح میں جو تقریر یں اجلال آیا تھا، مقر کی تصنیف ارکان اربعہ سے استفادہ
—
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
اس کا کرنٹ دوڑ جانا، اور اس کا کام تمام کر دیتا ہے آج علم و فہم اور فکر انسانی کے
ارتقاء کی ان منزلوں سے جو اسلام کی دعوت اسلامی معاشرہ کے قیام ، مصلحین اور داعیان
اسلام کی کوششوں سے طے ہوئیں اس انقلاب انگیز اور زلزلہ کن اعلان کو روزمرہ
کی حقیقت بنا دیا ہے اقوام متحدہ کے اسٹیج سے لے کر جس نے حقوق انسانی کا منشور
(HUMAN RIGHTS CHARTER) شائع کیا ، ہر جمہوریہ اور ہر ادارہ کی طرف سے انسانی
حقوق اور مساوات انسانی کا اعلان کیا جا رہا ہے اور کوئی اس کو سن کر متعجب نہیں
ہوتا لیکن ایک زمانہ تھا ، جب مختلف قوموں اور خاندانوں کے مافوق البشر ہونے کا
عقیدہ قائم تھا ، اور بہت سی نسلوں اور خاندانوں کا انس بار خدا سے اور سورج چاند
سے ملایا جا رہا تھا ، قرآن شریف نے یہودیوں اور عیسائیوں کا قول نقل کیا ہے کہ
ہم خدا کی لاڈلی اور بہتی اولاد کی طرح ہیں وقالت اليهود النصری محن
ابنوا الله و احبائه فراعنه مصر اپنے کو سورج دیوتا کا اوتار کہتے تھے ہندوستان
میں سورج بنسی اور چند ایسی خاندان موجود تھے ، شاہان ایران کو چین کا لقب کسری
(خسرو) ہوا کرتا تھا، اس کا دعوی تھا کہ ان کی رگوں میں خدا کی خون ہے اہل ایران
انھیں اسی نظر سے دیکھتے تھے ۔ ان کا اعتقاد تھا کہ ان پیدائشی بادشاہوں کے خمیر میں
کوئی مقدس آسمانی چیز شامل ہے کیانی سلسلہ کے آخری ایرانی شہنشاہ یزدگرد کا
نام بتاتا ہے کہ وہ اور ایرانی ان کو خدا کا کس درجہ مغرب اور ہم نشین
سمجھتے تھے ۔
چینی اپنے شہنشاہ کو آسمان کا بیٹا تصور کرتے تھے ، ان کا عقیدہ تھا کہ
آسمان نر اور زمین مادہ ہے ان دونوں کے اتصال سے کائنات کی تخلیق عمل میں۔
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
آئی ہے اور شہنشاہ دتا اول) اس جوڑے کا پلونٹھا بیٹا ہے، عرب اپنے سوا ساری
دنیا کو گونگا اور بے زبان (عم) کہتے تھے ان کا ر سے ممتاز قبیلہ قریشی، عام
عربوں سے بھی اپنے کو بالا بر تر سجھتا تھا، اور اسی احساس برتری میں حج کے ایسے
عمومی اجتماع میں کبھی اپنی انفرادیت قائم رکھتا تھا۔
قرآن نے اس فضا اور اس ماحول میں اعلان کیا :۔
يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُم مِن
ذكرِ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا
فَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ اكْرَمَكُمْ
عِنْدَ اللهِ انْفَكُمْ (الحجرات (۱۳)
و گو ہم نے تم کو ای مرد اور ایک اورت
پیدا کیا اور تماری قومی اور قبلہ بنائے
تا کہ ایک دوسرے کو شناخت کرو خدا
کے نزدیک تم می عزت والاوہ ہے جو زیادہ
پرہیز گار ہے۔
اور قرآن کی ایک ایسی سورہ میں جو قرآن کا دیا چہ (فاتحہ) اور سب سے
زیادہ پڑھی جانے والی سورہ ہے کہا گیا ہے :۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سر تعریف اللہ کی ہے جو سارے جہانوں
کا پروردگار ہے۔
آپ کی رحمتہ للعالمین کا تیسرا مظہر اور نوع انسانی پر تیسرا احسان عظیم احترام
انسانیت اور انسان کی قدر و قیمت کا وہ اسلامی تصور ہے جو آپ کا عطیہ اور اسلام کا تحفہ
ہے اسلام کا ظہور مں زمانہ میں ہوا اس زمانہ میں انسان زیادہ ذلیل کوئی نہیں تھا،
انسانی وجود دیا لکل بے قیمت اور بے حقیقت ہو کر رہ گیا تھا بعض اوقات با تو جانی
اے ملاحظہ ہو تاریخ چین از جمیس کار کرن – سله ملاحظہ ہو کتب حدیث و سیرت .
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
بعض مقدس حیوانات بعض درخت جن کے ساتھ بعض عقائد و روایات وابستہ
ہوگئی تھیں انسان سے کہیں زیادہ قیمتی لائق احترام اور قابل حفاظت تھے ان کے
لئے بے تکلف انسانوں کی جانیں لی جا سکتی تھیں اور انسانوں کے خون اور گوشت کے
چڑھاوے چڑھائے جا سکتے تھے آپ بھی بعض بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں اس کے
نمونے دیکھے جا سکتے ہیں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے دل و دماغ پر
نقش بٹھا دیا کہ انسان اس کائنات کا سب سے زیادہ قیمتی قابل احترام ، لائق محبت
اور تیینی حفاظت وجود ہے، آپ نے انسان کا پایہ اتنا بلند کیا کہ اس سے اوپر صرف
خالق کائنات کی ہستی رہ جاتی ہے، قرآن نے اعلان کیا کہ وہ خلیفہ اللہ خدا کا
نائب) ہے ساری دنیا اور یہ سارا کارخانہ عالم اسی کے لئے پیدا کیا گیا ہے :۔
هُوَ الَّذِي نى خَلَقَ لَكُم مانی وہی ہے جس نے تمھارے لئے وہ سب کچھ
الأَرْضِ جَمِيعًا. (البقرہ (۳۹) پیدا کیا جو اس زمین پر ہے۔
وہ اشرف المخلوقات اور اس بزم عالم کا صدرنشین ہے :۔
وَلَقَد كرمنا بني ادم و علم اورہم نے بنی آدم کو عزت کیتی اور ان
في الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقتهم من جنگل اور دریا میں سواری اور پاکیزہ
الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ علی کبیر روزی عطا کی اور اپنی بہت سی
قمن خَلَقْنا تفضيلاه (الاسراء ) مخلوقات پر فضیلت دی ۔
اس سے زیادہ اس کی عزت افزائی اور اس کی اہمیت کا اعتراف کیا ہوسکتا ہے کہ
صاف کر دیا گیا کہ انسان خدا کا کنبہ ہیں، اور خدا کو اپنے بندوں میں رہے زیادہ محبوب
وہ ہے جو اس کے کنیہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کو آرام پہنچائے الخلق
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۲۲
عيال الله فاحب الخلق إلى الله من احسن إلى عياله
انسانیت کی بلندی اور خدا سے اس کے قرب اختصاص کا اظہار اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے؟
جو ایک حدیث قدسی میں کیاگیا ہے رایا گیا کہ تعالے سے دن کے لے فرز یادم می بیان
ہو تو تجھے دیکھتے ہیں یا بندہ کہے گا پروردگار این تیری یاد کیا کر سکتا ہوں تو تورب العالمین
ہے؟ ارشاد ہوگا کیا تجھے علوم نہیں ہوا میرا فلاں نہ پیار پڑ گیا تھا تواس کی عبادت کو نہی گیا۔
تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر و اسکی عبادت کرتا تو تومجھے اس کے پاس پاتا پھر رشا ہو گا اے
فرزند آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تونے مجھے کھانا نہیں دیا ، بندہ عرض کرے گا پروردگارا
میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا ہوں تو تو رب العالمین ہے ارشاد ہو گا یا تجھے اس کا پتہ کیا ہے اس کی تعلیم نہیں
ہوا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا نے اسے نہیں کھلایا کیا تجھے اس کی خبر نہ تھی کہ
اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو تواس کو میرے پاس پاتا اے فرزندآدم میں نے تجھ سے پانی مانگا
تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا ، اے رب میں تجھے کیسے پانی پلا سکتا ہوں تو تو
رب العالمین ہے، ارشاد ہوگا تجھ سے میرے فلاں بندہ نے پانی طلب کیا تھا تو نے اسے پانی نہیں
دیا تجھے اس کا پتہ نہیں چلا کہ گر تواس پانی لاتا تو اس کو میرے پاس پاتا ایک برا ہی توحید
مذہب میں کیا انسانیت کی بلندی اور انسان کی رفعت و محبوبیت کا اس سے بڑھ کر عریان
و اعلان پایا جا سکتا ہے اور کیا دنیا کے کس مذہب فلسفہ میں انسان کو یہ مقام دیا گیا ہے؟؟
آپ نے خدا کی رحمت و شفقت کے لئے انسانوں پر وقت کو ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا و رایان
الراحمون يرحمهم الرحمن رحم کرنے والوں پر رحمن کی رحمت ہوتی
ارحموا من في الارض بر محکم ہے اگر تم اہل زمین پر رحم کھاؤ گے تو وہ
له مشکوة بروايت بيهقى . ۲ صحيح مسلم.
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
من في السماء.
جو آسمان پر ہے و ہم پر رحمت نازل کریگا۔
آپ غور کیجئے کہ وحدت انسانی کا نقش دلوں پر ٹھانے اور احترام انسانیت کا یقین
دلوں میں پیدا کرنے کے لئے جب یہی بلیغ نہیں گئی تھی اس وقت انسان کیا حال رہا ہو گا ایک
انسان کی ادنی خواہش کی قیمت ہزاروں انسانوں زیادہ تھی بادشاہ اٹھتے تھے، اور ملکوں کے
ملکوں کا صفایا کر دیتے تھے اسکندر اٹھا اور جیسے کوئی بڑی کھیلتا ہے، ہندوستان تک چلا آیا
اور قوموں اور تہذیبوں کے چراغ گل کر دیئے، سیزر نا تھا اور انسانوں کا اس طرح شکار کھیلنا
شروع کیا جیسے جنگلی جانوروں کا شکار کھیلا جاتا ہے پہلے زمانہ میں بھی دو دو عالمگیر نگیں
برپاہویں جنھوں نے لاکھوں انسانوں کو جو کے گھاٹ اتار دیا اور بصیرت قومی تکبیر سیاسی
انانیت اقتدا کر کے کیا کہا۔
ابھی تک آدمی صید زبون شہر یاری ہے
قیامت ہے کہ انسان نوع انسان کا شتکاری کے
چوتھا انقلابی کارنامہ یہ ہے کہ بعثت محمدی کے وقت نوع انسانی کے اکثر افراد بر فطرت
انسانی سے بدگمانی اور خدا کی رو سے مایوسی کی ایک عام فضا چھائی ہوئی تھی اس ذہنی کیفیت کے
پیدا کرنے میں ایشیا کے بعض قدیم مذاہب اور شرق سطی اور یورپ کی تبدیل شدہ عیسائی اپنے
یکساں کردار ادا کیا تھا ہندوستان کے قدیم ناہر نے تاریخ آواگون کے فلسفہ کے ذریعہ
جس میں انسان کے ارادہ و اختیار کو مطلق دخل نہیں ہے اور جس کی رو سے ہر انسان کو اپنے پہلے
جسم کے اعمال اور غلطیوں کی سر جگنی ضروری ہے اور عیسائی تھے انسان پیدائشی گنہ گار
لے ابو داؤ دا حالی نے اس حدیث کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ہے
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
ن
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
صلاحیت، خیر پسندی اور اعتراف قصور و ندامت اس کی فطرت کا اصل تقاضہ اور
انسانیت کا جوہر ہے اپنی غلطی کا اقرار کرنا، اس پر نام ہونا ہے کے سامنے رو دھو کراپنے اس
قصور کا تصفیہ کر لینا اور الہی و اخلاقی بلی کے کرنے کا عزم کرنا انسان کی شرافت اور آدم کی میراث ہے
آپ نے دنیا کے الوین دل شکتہ اورگناہوں کریں گے کا دور ہے انسانوںپر توبہ کا دروازہ
کھولا اور اس کی اس زور و شور سے بلیغ فرمائی کہ آپکو اس شعر کا دوبارہ زنا کرنے والا کہنا
صحیح ہوگا اس بنا پر آپکےناموں ایک نام کی توبہ توبہ امیر اور ان میں بھی ہے آپ نے
یہ کو ایک بیوی کی اور رانی انا کے طور پیش نہیں کیا بلکہ آپ نے اسکے ایسے فضائل بیان
کئے اور اس کافر یہ ان بلند کیا کہ وہ اعلی درج کی عبادت اور خدا کے قرب اور اس کی محبوبیت کا ایسا
ذریعہ بن گیا کہ اس پرپیٹے بیٹے معصوم صفت اور نا کردہ گناہ بابڑوں اور راہوں کو رشک آنے لگا۔
قرآن مجید نے اس طرح رحمت کی وسعت پر گنگا کے توبہ کر سکتے اور بجے سے لیے گناہ
سے پاک فنا ہو جانے کے امکان کو اس لکش اور دلنواز اندازمیں بیان کیا اور گنہگار بنیں
ان نفس و شیطان به زخم خوردہ انسانوں کو اس طرح خدا کے دامن رحمت میں پناہ لینے کی
منادی کی اور اس کے دریائے رحم کے جوش تلاطم کو اس اندازمیں بیان کیا کہ محسوس ہونے لگا کہ
وہ مطلو سے زیادہ طالب اور ان گنہگار بنوں کے حق میں صرف علم و یم اور قیام و کریم ہے
بلکہ اگر یہ کہنا میں ہوں ان کا منظر و مشتاق اور ان کا سچا قدرداں ہے، قرآن مجید کے ان
الفاظ کو پڑھئے اور اس لطف و شفقت کا اندازہ کیجئے جو اس کے لفظ لفظ سے لپکتی ہے۔
قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أسرفوا کہ کیئے اے میرے وہ بند و جنھوں نے
عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَنو امین اپنے جی میں زیادتی کی ہے اس کی رحمت سے
رَّحْمَةِ الله ان الله ایوس نہ ہو بے شک اللہ تعالی تمام گناه
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۲۶
يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاء الله معاف کر دیتا ہے ہے تاکہ بڑا بخشنے
هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيم (الزمر ) والا اور بڑا ریم کرنے والا ہے۔
ایک دوسری آیت میں گنہگار اور خطا کار انسانوں کے تذکرے اور سیاق دریات
میں نہیں بلکہ بلند ہمت، نیکو سیرت اور جنتی انسانوں کے سلسلہ اور سیاق و سباق
میں گناہوں سے تو یہ کرنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :۔
وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ من اور اپنے پروردگار کی بخشش اور
ربِّكُمُ وَجَنَّةٍ عَرْمها السموات بہشت کی طرف پیکو جس کا عرض آسمان
وَالْأَرْضِ أُعِدَّتُ للشقائق اور زمین برابر ہے اور جو (خدا سے) اور کے
دویا
کے
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ في السراء دور نے والد کے لئے تیارکی گئی ہے۔ جو
والضراء والكاظمين آسودگی اور تنگی میں اپنا مال خدا کی
الْغَيْطَ وَ الْعَافِينَ من اللانه را میں خوب کرتے ہیں اور غصے کو
والله يُحِبُّ المحسنين والله روکتے اور لوگوں کے تصوم نا کرتے ہیں
إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا اور تعدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا
انهم ذكروا الله فاستقوا اور ہو کر جب کوئی کھل گناہ اپنے حق
لن تو به من و من تعد الو میں کوئی اور رائی کر ٹھتے ہیں تو خداکو
إِلَّا اللهُ لَن وَلَمْ يُصِروا علی یاد کرتے اوراپنے گناہوں کی بخشش
مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونہ مانگتے ہیں اور خا کے سو گنا بہین بھی
أُولَئِكَ جَزَاهُم مَّغْفِرَةٌ کون کہتا ہے او جان بوجھ کر اپنے افعال
مِن رَّبِّهِمْ وَجَنَّتِ بیوی پراٹے نہیں رہتے ایسے لوگوں کامل پروردگار
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۲۷
من تحتها الانهر خلدين کی طرف سے بخشش اور باغ بی بی کے نیچے
فِيهَا، وَنِعْمَ أَجْرُ العُمِلين نہیں بہہ رہی ہیں (اور) وہ اس میں
(آل عمران ۱۳۶۱۳۳) ہمیشہ لیتے رہیں گے اور اچھے) کام
کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے۔
اس سے بھی آگے بڑھ کر با عمل اور نیک سیرت بندوں کے مختلف طبقوں کا ذکر
کرتے ہوئے اس نورانی فہرست کا افتتاح عابدوں زاہدوں کے بجائے تائیوں”
سے فرمایا گیا، قرآن مجید کی اس سورہ کی جس کا نام ہی سورہ توبہ ہے آیت ہے :۔
التَّابِثُونَ العبدون الحملة تو یہ کرنے والے عبادت کرنے والحمد کرنے والے
السَّائِجُونَ الرَّكِعُونَ الشديدة و پر تعلق رہنے والے رکن کرنے والاجی کرنے
الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُون و النون والا ایک اور کام کرنے والے اوربری بات سے
عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَفِظُون منع کرنے والے خدا کی حدود کی حفاظت کرنے
يحد ودِ اللهِ وَيَين المؤمنين والے یہی مومن لوگ ہیں اور (اے پیر
(التویه (۱۱۲) مومنوں کو بہشت کی خوشخبری سناد.
اس اعزازہ اور اظہار اعتماد کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ جب قرآن مجید کی زبان سےان میں سے
صحابیوں کی توبہ کی قبولی کا اعلان کیا گیا جو غزوہ بو کے نازک اور اہم موقع پر ایس ای شرکت نیست
نہایت ضروری تھی، بغیر کسی معقول عذر کے مدینہ میں رہ کر سخت کوتاہی کے فرنکیہ ہوئے تھے
توان کا ذکرکرنے سےپہلے تو پیر اوران مہاجرین انصار کا ذکر کیاگیا جس سے اس موقع کسی
کوتا ہی کا صدر نہیں ہوا تھا تاکہ ان تین پیچھے رہ جانے والوں کو اپنی تنہائی اور پسماندگی کا
لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتب سیرت، اور کتب تفسیر و حدیث، واقعہ غزوہ تبوس .
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۲۸
احساس نہ ہوا اور وہ احساس کمتری اور انگشت نمائی کے براغ سے بری ہو جائیں اوران پراؤ
قیامت تک قرآن مجید کے پڑھنے والوں پر یہ بات واضح ہو جائے کہ ان کی اصل جگہ اور اصل گروہ
یہی صارفین اولین اور مہا جرین انصار کے صف اول کے لوگ ہیں توبہ کی قبولیت نائب کی
مقبولیت او نفسیاتی طور پر دلنوازی اور چارہ سازی کی اس زیادہ لطیف اور دقیق نشالا دیانا
و راہب اورعلم الاخلاق اور ہم ان کی تاریخ میں ہی شکل ہے اس سورہ تو میں ارشاد ہواہے ۔
لَقَدْ تَابَ الله عَلى النبي والم بے شک خدا نے پیر پر بریانی کی اور با رایا
وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ التَّعومة في ساعة وانصار پر جوبا وجود است را بر سے بعض
الم و من بعد ما کار تيزيع کے دل پر جانے کو تے شکل کی گھڑی میں
قُلُوبُ فَرِيق مِن هُم مرتاب علی میر پیر کے ساتھ رہے پھر خدانے ان پر مہربانی ہر بانی
إِنَّهُ بِهِمْ ءُ كُن رَّحِيمُہ وعلی فرمائی ہے تاکہ ان پر نہایت شفقت کرنے
الثالثَةِ الَّذِين ملواء حتى والا اور مہربان اور تینوں بھی جن کا
إِذَا ضَانَتْ عَلَيْهم الأرض بما مال ملتوی کیا گیا تھا یہاں ترکی جب
رَحبَتُ وَضَاقَتْ عَلَيْهم انهم زمین با وجود فراخ کے ان پر تنگ ہوگئی
وَظَنُّوا أَن لا مَلْجَا من الله اور ان کی جاتیں بھی ان پر دو بھر ہوئیں
إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهم اور انتھونی جان لیا کہ داد کے ہاتھ سے
ليَتُوبُوا إِنَّ الله هو التوان خود اس کو کوئی پناہ نہیں پھر خدانے
الرحيم
ان پر ربانی کی ناکہ توبہ کریں بے شک
(التوبه – ۱۷- ۱۱۸) خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
اس کے علاوہ ایک اصول کے طور پر اس کا اعلان کیا کہ رحمت الہی ہر چیز پر حاوی کے
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
اور غضب و جلال پر غالب ہے، قرآن مجید میں ہے :۔
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلِّ شَي . میری رحمت ہر چیز پر بھاوی اور محیط ا
(الاعراف ۱۵۶)
اور حدیث قدسی میں ہے :-
ان رحمتی سبقت غضبی (مدین) میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
پھر اس نے مایوسی کو بھی کفر کا، اور جہالت دیگر اہی کا مرادت قرار دیا ہے قرآن مجید میں
ایک جگہ ایک پیغمبر برای حضرت یعقوب) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے :۔
إِنَّهُ لا ا يس من روح الله الا الر کی رحمت وہی لوگ ایوس ہو سکتے ہیں
الْقَوْمُ الكَفِرُونَ (يوسف) ہو خدا کے مکر اور اس کی داد صفا سے نا آن ایا
دوسری جگہ ایک دوسرے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم کا قول نقل کیا گیا ہے۔
وَمَنْ يَقْتَطُ مِن رَّحْمة ريم اپنے رب کی رحمت سے گھرا ہو کے سوا
إلا الضالون ( الحجر ۵۶) کون مایوس ہو سکتا ہے ؟
اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توبہ کی فضیلت و ترغیب اور خدا کی
رحمت کی وسعت و شمولیت کا اعلان و تبلیغ کر کے پاس منوط کی ماری ہوئی اور فرضیت جلال
کے اعلانات تفصیلات سے (جن میں یہودی علماء اور شارحین کتب مقدسہ اور قرون وسطی کے
خالی اور نظرت دشمن عیسائی زاہدوں اور پادریوں اہم کردار ادا کیاتھا ڈری اور ہی ہوئی
انسانیت کو نئی زندگی کا پیغام دیا، اس کے تین مردہ اور دل افسردہ میں نئی روح پھونکی
اس کے زخموں پر مرہم رکھا، اور اس کو خاک مذلت سے اٹھا کر عزت و شرف خود اعتماد
اور خدا اعتمادی کے بام عروج پر پہونچا دیا۔
نبوت محمدی کا پانچواں عظیم اور نا قابل فراموش احسان اور ایک گراں قدر تحفه
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۳۰
دین دنیا کی وحدت کا تصور اور انقلاب انگیز ہے بشر طیکہ کریکٹر کی حقیقت انفرادی طور پر شخص کے اخلاص کا نشان ہو۔ اور تعلیم دینی زبان نوع انسانی لفظی ہے انسان کے اعمال اور اخلاق اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج کا عمل اخص انسانی کی ذہنی کیفیت عمل کے مشکات اور اس کے مقصد پورے ہیں اس کلام کے دینی شریعیت کا زبان دینی نبیت ہے اس کے ایک گروہ سامعین نہایت بلیغ و حسین لفظ میں ادا کیا گیا ہے اس نزدیک کوئی چیز دنیا نہ تھا اور کوئی چیز دین ان نزدیک خدا کے رضا کی طلب اخلاص اور اس حکم کے تکمیل کے جذبہ وارادے سے بڑے بے بنیاد دنیا کی یہاں تک کہ حکومت جنگ نیا دی مصنوعی تشع نشست تشیع نقائص کی تکمیل ہوں معاش کی جذبہ رہا تو فریح طیع کا سان انفرادی و اعمالی زندگی رسائی درجہ کی بجائے تبدیلی آلی کا ذریعہ اصلی سے اعلیٰ مرتبت تک ہو پہنچے گا وسیلا اور خاص دین دین جاتی ہے اس کے برخلاف بڑی سے بڑی عبادت اور دینی کام جو رضا الٰہی کے نقص اور اطاعت کے حزیم سے خالی ہو( حتی کہ فرض ہو فرض جہاد جن، محبت و جہاد قربانی و سرفروشی اور د کو پہنچ ) خالص دنیا اور اہل اعلار ہو گا جس پر کوئی ثواب اور اجو نہیں ہے۔
قدیم مذاہب نے زندگی کو دو خالو میں (دین دنیا) میں تم اور دنیا کو دو کیوں ایک اس ہدیہ لکھ کر ایک صیح صالح طبیعی لیکر و یک تخلیق یک بدنی یک خالق اپنے دوسرے یو زانوں کیمیا ہم تار ہے۔ ان کے نزدیک دین و دنیا اس کھلا انقادہ اور شید ہے ان میں کسی ایک سے ہم واہ ہیہ اگر یوں بھی ہو اس کو دوسرے سے متعلق اور اعلان جنگ کر نا ہو کر کے انسان ایک قت میر ان دونوں کھیتیوں پر اور انہیں۔ پروسائنس جو مسئلہ تھا
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
خالی ہوئے بغیر اور دیندار بنتا تارک الدنیا ہوئے بغیر متصور ہی نہیں تھا، ظاہر ہے کہ انسان
عام طور پر سہولت پسند اور لذت پرست واقع ہوا ہے دین کا ایسا تصور جس میں نیا کی کسی جائز
تمتع ترقی اور سربلندی طاقت حکومت کے حصول کی گنجائش نہ ہو انسانوں کی اکثریت کے لئے
قابل قبول اور قابل برداشت نہیں نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کے متمدن ذین صاحب صلاحیت او
با عمل انسانوں کی بڑی تعداد نے اپنے لئے دین کے بجائے دنیا کا انتخاب کیا، اور اس نے
اس پر اپنے کو مطمن راضی کر لیا وہ قسم کی دینی ترقی سے مایوس ہوکر دنیا کے حصول اور اس کی
ترقی میں مشغول ہوگئی دین ودنیا کے اس تضاد کو ایک نادیہی اور کم حقیقت سمجھ کر انسانوں کے
مختلف طبقوں اور انسانی ادارون اور ان کوخیرباد کہا یا ریاست مزار کے
نمائندہ کلیسا سے بغاوت کی اور اپنے کو اس کی ہر پابندی آزاد کر لیا انسان پیل بے زنجیر
اور معاشرہ شتر بے مہارہ ہو کر رہ گیا، دین دنیا کی اس دوئی اور اہل دین اور اہل دنیا کی
اس رقابت نے نہ صرف یہ کہ مذہب اخلاق کے اثر کوزور مزدور اور انسانی زندگی اور انسانی
معاشرہ کو اس کی برکت رحمت سے محروم کر دیا، بلکہ الحاد و لا دینیت کا دروازہ کھولا جس کا
سے پہلے یورپ شکار ہوا پھر دنیا کی دوسری قومیں ولیوں کے فکری علمی یا سیاسی اقتدار کے
زیر اثر آئیں اس حکم پیش متاثر ہوئیں موجودہ دنیا کی صورت حال جس میں تربیت اخلاق کا زوال ،
امور پز اپنے وسیع معنوی اپنے آخری قطر پر ہوں گی ہے اس دن دنیا کی تقری کا نیج ہے۔
رحمت اللعالمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعلی ترین مجزا اور انسانی کے لیے عظیم ترین حصہ
اور آپ کی رحمہ اللعالمینی کا مظہر ہے کہ آپ کامل طور پر رسول و حد ہیں اور بہ یک قت بشیر
عزیز ہیں آپ نے دین و دنیا کے تضاد کے نظریہ کوختم کرکے پوری زندگی کو عبادت میں اور
پولے روئے زمین کو ایک سہارے عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا، دنیا کے انسانوں کو تار کے پیر سے
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۳۲
نکال کر حین عمل ، خدمت خلق اور حصول رضاء الہی کے ایک ہی محاز پر کھڑا کردیا یہاں
لباس دنیا میں درویش قباء شاہی میں فقیر وزاہر سیف تسبیح کے جامع، رات کے
عبادت گزار اور دن کے شہ سوار نظر آئیں گے اور ان کواس میں کسی قسم کا نقصا محسوس
نہیں ہوگا۔
چھٹا انقلاب یہ ہے کہ بعثت محمدی سے پہلے انسان اپنی منزل مقصود سے بے خبر قصور سے بے
تھا، اس کو یاد نہیں رہا تھا کہ س اس کو کوکہاں کہاں جاتا ہے؟ اس اس کی کی صلاحیتوں کا کا اصل مل میدان
اور اس کی کوششوں کا اصل نشانہ کیا ہے؟ انسان نے کچھ موہوم منزلیں اور اپنی کوشیں
کے لئے کچھ چھوٹے چھوٹے دائرے بنائے تھے، ان میں انسانوں کی ذہانت اور قوت عمل
صرف ہورہی تھی، کامیاب اور بڑا انسان بننے کا مطلب صرف یہ تھا کہ میں دولت مند
بن جاؤں طاقتور اور حاکم بن جاؤں وسیع سے وسیع رقبہ زمین اور شیر سے کثیرانسانی نفوس
پر میری حکمران اور فرماں روائی قائم ہو جائے لاکھوں آدمی ایسے تھے جن کا پرواز تخیل
نقش و نگار رنگ آہنگ لذت و ذائقہ اور لیل و طاؤس کا چوپا یہ دیوان کی تقلید سے
بلند نہیں ہوتا تھا، ہزاروں انسان ایسے تھے جن کی ساری زہانت اپنے زمانہ کے
دولت مندوں اور طاقت وروں اور سرکار دو بار کی خدمت و خوشامد یا بے مقصد ادب وروں دربار ہے
و شاعری سے دل خوش کرتے ہیں صرف ہو رہی تھی محمدرسول اللہ صل اللهعلیہ وسلم نے
نسل انسانی کے سامنے اس کی حقیقی منزل لا کر کھڑی کر دی ، آپ نے یہ بات دل پر
نقش کردی کہ خالق کائنات کی صحیح معرفت اس کی ذات و صفا اور اس کی قدرت
وحکمت کا محی علم ملكوت السماوات والارض کی وسعت و عظمت اور لامحدودیت کی
دریافت ایمان و یقین کا حصول خدا کی محبت و محبوبیت اس کو راضی کرنا اور اس سے
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
راضی ہو جانا، اس کثرت میں وحدت کی تلاش اور یافت انسان کی حقیقی سعادت اور
کمال آدمیت ہے اپنی باطنی قوتوں کو ترقی دینا، ایمان یقین کی دولت سے مالامال ہونا انسانوں
کی خدمت اور ایثار و قربانی کے ذریعہ خداکی خوشنودی کا حاصل کرنا، اور کمال و ترقی کے ان اعلیٰ
مراتج تک پہنچ جانا، جہاں فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے انسان کی کوششوں کا حقیقی میدان ہے۔
آپ کی بعثت کے بعد دنیا کی رُخ بدل گئی انسانوں کے مزاج بدل گئے دلوں میں
خدا کی محبت کا شعلہ بھڑکا خدا طلبی کا ذوق عام ہوا، انسانوں کو ایک نئی دھن (خدا کو
راضی کرنے اور خدا کی مخلوق کو خدا سے ملانے اور اس کو نفع پہنچانے کی لگ گئی جس طرح
بہار یارسا کے موسم میں زمین میں روئیدگی سوکھی ٹہنیوں اور پتیوں میں شادابی اور
ہریالی پیدا ہو جاتی ہے نئی نئی کونپلیں نکلنے لگی ہیں، اور درو دیوار پر یہ اگنے لگتا ہے
اسی طرح بعثت محمدی کے بعد قلوب میں نئی حرارت دانتوں میں نیا جذبہ اور سروں میں
نیا سودا سما گیا، کروڑوں انسان اپنی حقیقی منزل مقصود کی تلاش اور اس پر پہنچنے کے لئے
نکل کھڑے ہوئے ہر ملک اور قوم طبیعتوں میں یہی نشہ اور ہر طبقہ میں اس میدان میں
ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا یہی جذبہ موجزن نظر آتا ہے عرب معجم مصر و شام ترکستان
اور ایران عراق و خراسان شمالی افریقہ اور اسپین اور بالآخر ہمارا ملک ہندستان اور جزائر
شرق الہند سب اسی صہبائے محبت کے متوالے اور اسی مقصد کے دیوانے نظر آتے ہیں ایسا معلوم
ہوتا ہے کہ جیسے انسانیت صدیوں کی نیند سوتے سوتے بیدار ہوئی، آپ تاریخ و تذکرے کی
کتابیں پڑھئے تو آپ کو نظر آئے گاکہ خدا طلبی اور خدا شناسی کے سواکوئی کام ہی نہ تھا ہر شہر
قصہ قصبہ گاؤں گاؤں بڑی تعداد میں ایسے خدمت عالی ہمت عارف کامل داعی حق او
خادم منطلق انسان دوست ایشار پیشہ انسان نظر آتے ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کریں، انھوتے
….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….……….…
۶۳۴
دلوں کی سرد انگیٹھیاں گرادیں عشق الہی کا شعر بھڑکا دیا علوم وفنون کے دریا بہادئیے۔
علم و معرفت کی محبت کی بوت جگادی اور جہالت و وحشت ظلم و عداوت سے نفرت پیدا کردی
مساوات کا سبق پڑھایا، دکھوں کے مارے اور سماج کے ستائے ہوئے انسانوں کو گلے لگایا ایسا
معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے قطروں کی طرح ہر یہ زمین پران کا نزول ہواہے اوران کاشمار نامی ہے۔
آپ ان کی کثرت (کمیت) کے علاوہ ان کی کیفیت کو دیکھئے ان کی ذہنی پرواز
ان کی روح کی لطافت اور ذکاوت اور ان کے ذوق سلیم کے واقعات پڑھئے انسانوں اوران کے لئے کس طرح ان کا دل روتا، اور انکے غم میں گھلتا کس طرح ان کی روح سلگتی تھی
تھی۔
انسانوں کو مصیبت سے نجات دینے کے لئے وہ کس طرح اپنے کو خطرہ میں ڈالتے اور
اپنی اولا داور تلقین کو آزمائش میں بلا کرتے تھے ان کے حاکموں کو اپنی ذمہاری کا
کس قدر احساس اور محکوموں میں اطاعت و تعاون کا کس قدر جذبہ تھا، ان کے
ذوق عبادا ان کی قوت عا، ان کے زہد و فقر جذبہ خدمت اور مکارم اخلاق کے واقعات
پڑھئے نفس کے ساتھ ان کا انصاف اپنا احتساب کمزوروں پر شفقت دوست پروری
دشمن نوازی، ہمدردی خلائق کے نمونے دیکھئے بعض اوقات شاعروں اور ادیبوں
کی قوت ہی یہ بھی ا بلندیوں تک نہ پہنچی جہاں وہ اپنے جسم وصل کے ستھ پہنچے اگر
تاریخ کا مستند اور اتقاقصے اور متواتر شہادت نہ ہوتی تو یہ اقعا قصے کہانیاں اور افسانے معلوم ہوتے۔
یه انقلاب عظیم محمد سلال صل اللہ علیہ سلم عظیم معجزہ اور آپ کی
رحمۃ للعالمینی کا کرشمہ ہے۔
صَدَقَ الله العظيم وَمَا أَرْسَلْنَاكَ الْأَرَحْمَةُ الْعَلَمِينَ
(الانبیاء – ۱۰۷)
*