۲۹۹
و فود کا سال
(ه)
مدینہ میں وفود کی مسلسل آمد اور عرب کی زندگی پر اس کا اثر
پہلے اللہ نےرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے مکہ فتح فرمایا
پھر غزوہ تبوک سے آپ مظفر منصور واپس ہوئے اس سے قبل آپ دنیا کے سلاطین
و امراء کے نام اپنے مکاتیب ارسال فرما چکے تھے جن ہی ان کو اسلام کی دعوت دی گئی
تھی، ان مکاتیب کا بعض بادشاہوں نے نو شد لی اور احترام عظیم کے ساتھ استقبال
کیا بعض نے نرمی اور معقولیت کے ساتھ اس کا جواب دے دیا بعض لوگ تردد اور
خون کی حالت میں رہے اورکچھ نے اس کو گستاخی کے ساتھ رد کر دیا، اور اس کے ساتھ اہانت
اور تکبر کا معاملہ کیا، اور اس کی پاداش میں بلا کسی تاخیر کے اسکو اپنے ملک اور جان سے
ہاتھ دھونا پڑا، یہ وہ واقعات تھے، جن کا چرچا اسے عرب میں تھا، اور ہر جگہ اس کا
تذکرہ کیا جاتا تھا۔
مکہ کی فتح سے رجو جزیرۃ العرب کا روحانی و اجتماعی باید تخت تھا، سزاران
قریش کے قبول اسلام اور دین حق کے سامنے مزاحمت پر کسی کے رہے بڑے قلعہ
کے انہدام کا ان لوں پر پر اثر پڑا جو وگو کی کیفیت میں تھے یا اسلام کی ناکام کی
………………………………………………………………………………………………………………
خواب دیکھ رہے تھے ان واقعات نے ان کے اور اسلام کے درمیان وہ قدیم رکاوٹ
دور کر دی اور ان کے اور قبول اسلام کے درمیان جو فاصلہ تھا وہ بہت کم رہ گیا،
مشہور محدث علامہ محمد طاہر مبنی (دم شم ) اپنی شہرہ آفاق کتاب میں بحار الانوار
میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
یہ سال آمد و خود کا سال تھا ، عرب قبائل نے اسلام کے ساتھ قریش کے
معاملہ کا انتظار کیا تھا، اس لئے کہ وہی لوگ سب کے پیشوا تھے، اور بیت اللہ کے
ذمہ دار تھے جب انھوں نے اسلام کے سامنے اپنا تسلیم خم کر دیا کہ فتح ہو گیا اور
قبیلہ ثقیف نے بھی اسلام قبول کر لیا تو انھوں نے محسوس کر لیا کہ اب ان کے
اندران کے مقابلہ کی طاقت نہیں اس وقت ہر طرف سے وفود کی کثرت ہوئی
اور لوگ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے ہے۔
ان سب باتوں کا عربوں کے دل و دماغ پر جو بہر حال انسان تھے)
قدرتی طور پر اثر پڑا اور اس کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوتے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی حاضری کا ایک دروازہ کھل گیا، اور
تلاش حق میں مختلف وفود مرکز اسلام میں اس کثرت سے آنے لگے جس طرح
کوئی موتی کی لڑی ٹوٹ جائے اور اس کے سارے دانے اسلام کی آغوش میں گر جائیں۔
یہ وفد اپنے اپنے علاقوں اور مرکزوں میں نئی روح سے سرشار ہو کر ایمان کا
نیا نشہ دعوت اسلام کا نیا جذبہ شرک و بت پرستی اور اس کے نشانات و علامات
اور جاہلیت اور اس کے اثرات سے شدید نفرت لے کر واپس جاتے۔
للہ مجمع بحار الانوار ج ۵ ۲۷۳
…………………………………………………………………………………………………
ان و خود میں بنی تمیم کا بھی وفد تھا جس میں ان کی قوم کے مشہور روساء والشران
شامل تھے ان کے خطیب و شاعر اور مسلمانوں کے خطیب شاعر میں مقابلہ ہوا اور
اس میں اسلام کی اور اسلام کے خطیب شاعر کی برتری ظاہر ہوئی ، اس کو ان کے
رؤسا و اشراف نے تسلیم بھی کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انعامات بھی
دیئے اور اچھی طرح دیئے۔
بنی عمرہ عامر کا وفد بھی آیا امام بن شعبہ بنی سعدین برکی طرف سے نمائندہ
بن کر آئے اور داعی و تبلیغ بن کر اپنی قوم میں واپس ہوئے، پہلا مکالمہ جو وہاں
پہونچ کر ان کی قوم سے ہوا وہ ان کا یہ جملہ تھا۔ بڑا ہو لات ” دعا و عزی ” کا لوگوں
نے کہا ارے کیا کہتے ہو تمام ابرص سے ڈرو، جذام سے ڈرو جنون سے ڈرو
وہ کہنے لگے تمھاری خرابی ہو، خداکی قسم یہ دونوں نہ نقصان پہونچا سکتے ہیں
نہ فائدہ بے شک اللہ نے ایک رسول بھیجا ہے، اور ان پر ایک کتاب نازل کی
کی ہے جس کے ذریعہ انھوں نے تم کو اس سے نجات دی جس میں تم لوگ ہو اور میں
گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک
نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں، ہمیں ان کے
پاس سے جو کچھ انھوں نے حکم دیا اورجس چیز سے نہ کیا ہے وہی تھا سے لئے ہے کہ سے جوکچھ انھوں نے علم ہے اور سے
آیا ہوں اس دن شام بھی نہیں ہوئی کہ ان کے محلہ میں کوئی مرد عورت ایسا
نہ تھا جو اسلام نہ لایا ہو۔
بنی حنیفہ کا وفد آیا جس میں مسلیمہ کذاب بھی تھا، یہ اسلام لایا اور بعد میں
لے سیرت ابن ہشام ج ۲ ۵۶ – ۵۶۸ به ايضا منه
………………………………………………………………………………………………………………
۵۰۲
مزید ہوگیا اور خود نبوت کا دعویدار بن بیٹھا ، اس نے فتنہ از ندای پاکی اور اسی میں
مارا گیا۔
و دینی طے میں نامور شہوار زید الخلیل بھی تھے جن کا نام رسول اللہ صل اللہ
علیہ وسلم نے بدل کر زید الجیر کر دیا اور مومنین راسخین میں ان کا شمار ہوا۔ بن میں ان کا شمار ہوا۔
شهور مانہ بھی عالم کے لیے عدی بن حاتم بھی خدمت میں حاضر ہوئے
اور آپ کے اور آپ کے اخلاق کریمانہ کے اخلاق کریمانہ اور تواضع دیکھ کر اسلام لے آئے اور یہ کہا کہ خدا کی
قسم یہ کسی بادشاہ کا انداز نہیں۔
بنی زید کا وفد کی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس و قد میں عرب کے
نامور شہوار عمرو بن معدیکرب بھی تھے کندہ کے وقد میں اشعث بن قیس شامل
تھے ان کا وفد بھی حاضر ہوا اسلاطین حمیر کا قاصد بھی پہونچا اور ان بادشاہوں کا
خط آپ کی خدمت میں پیش کیا جس میں ان کے قبول اسلام کی اطلاع تھی۔
معاذبن معاذ بن جبل اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہا کو آپ نے اسلام کی دعوت دینے
کے لئے یمن روانہ کیا، اور ان کو ہدایت کی کہ بہتر اولا تعسرا و بشر اولا نقرا المسرا و بشر اولا
دیکھو آسانی پیدا کرنا تنگی سختی نہ کرنا خو شخبری دینا منظر بیزار نہ کرنا)
فروہ بن عمر و الجذامی نے ایک قاصد کے ذریعہ آپ کو اپنے قبول اسلام کی
خبر بھیجی یہ رومی سلطنت کی طرف سے معان” اور اس کے اطراف میں جتنا
شامی علاقہ ہے، اس کا عامل یا گورنر تھا۔
نجران میں بنو الحارث بن کعب خالد بن الولید کے ہاتھ پر اسلام لائے
لے صحیح بخاری کتاب المغازی باب بعث معاذ والي موسى الى اليمن
………………………………………………………………………………………………………………
۵۰۳
حضرت خالد نے وہاں قیام کر کے ان کو اسلام کی تعلیم دی اس کے بعد خالد
رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بنو الحارث کا ایک وفد لے کر واپس آئے اور جب وہ
لوگ اپنے علاقہ واپس گئے تو ان کی تعلیم کے لئے آپ نے عمرو بن جرم کو بھیجا کہ
سنت اور اسلام کے شعائر و آداب سے ان کو آگاہ کریں اور ان کے صدقات
وغیرہ کا انتظام کریں، ہمدان کا وفد بھی خدمت میں حاضر ہوا؟
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کونبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لات ثبت کو
توڑنے کے لئے بھیجا، انھوں نے پہلے اس بت کو پاش پاش کیا، اس کے بعد بت خانہ
کی چار دیواری پر چڑھ گئے اور دوسرے لوگ جو ان کے ساتھ چڑھتے
گئے اور سب نے مل کر اس کے ایک ایک پتھر کو گہانا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ
زمین کے بالکل برابر ہوگیا، اسی روز یہ وفد واپس بھی آگیا، اور آپ کی خدمت
میں حاضر ہوا آپ نے اس کی تعریف کی کے
عبد القیس کا وفد آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش آمدید
کہا، اور ان برتنوں اور ظروف کو استعمال کرنے کی ان کو ممانعت فرمائی جن میں
نشہ جلدی پیدا ہوتا ہے، یہ احتیاطاً آپ نے مفاسد کے کسی باب کے لئے ارشاد
فرمایا، اس لئے کہ وہ لوگ اس کے بہت عادی تھے کہ
اشعریبین اور اہل یمین کا وفد بڑے شہروں کے ساتھ یہ شعر پڑھتا ہوا آیا
غدا نلقى الأحبة محمد او حزبه، کل ہم محبوبوں سے ملیں گے
له ابن ہشام ج ۲ ۵۷۵۰-۵۹۶ ۱۲ سیرت ابن کثیر ج ۲ ص ۲-۲۳
سے زاد المعادج ۲۵۵۲ صحیحین میں یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
………………………………………………………………………………………………………………
محمد (صلی اللہ علیہ سلم اور آپ کے اصحاب سے آپنے اس رف کو دیکھ کر فرمایا۔ انکم أهل
اليمن هم أرق أفسد وليهم قلوبا الإيمان يمان والحكمة يمانية ثمھارے پاس
اہل این آئے ہیں جو بہت نرم و گداز دل والے ہیں ایمان تو مین کا حصہ ہے احکمت تو مین کی
حکمت ہے۔
خالد بن الولید کو رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ایک جماعت کے ساتھ دعوت
اسلام کے لئے اہل مین کے پاس بھیجا، انھونے وہاں چھ ماہ گزارے حضرت خالد بر ایران کو
اسلام کی دعوت دیتے اور وہ قول نہ کرتے پھر آپ حضرت علی کرم اللہ ہم کو وہاں بھیجا،
انھوں ان کو آپ کا خط پڑھ کرسنایا اور پر قبیلہ ہمدان مسلمان ہو گیا حضرت علی نے آپ کو
ان کے اسلام انے کی اطلاع می رسول اله لا الہعلیہ سلم نے جب ان کا خط پڑھا تو سجد
میں گر پڑے پھر سر مبارک اٹھایا اور فرمایا اسلامی و همدان پر سلامتی ہو ہمدان کا
مزینہ کا وقد چار سو آدمیوں کے ساتھ آیا، نجران کے عیسائیوں کا بھی ایک قد
جس میں ساتھ سوار تھے، اس میں ان کے اشتران و سر بر آوردہ لوگوں کی تعداد
پور میں تھی، اس میں ان کے بڑے پادری اور عالم ابو حارثہ بھی تھے رومی بادشاہ
ان کا بڑا اعزاز کرتے تھے، ان کی ہر طرح مالی مدد کرتے تھے اور ان کے لئے گرجے تعمیر
کرتے تھے، ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں بکثرت آیات نازل ہوئیں ہے
اہل نجران کے لئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک کو بھیجا اور ان کو اسلام
کی دعوت دی، انھوںنے یہ کتب پڑھا تو ایک فد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس
صحیح بخاری باب قدوم الاشعر بين عائل المین ایک روایت میں الفقہ بیان کا بھی اضافہ ہے عینی
دین کی کچھ بین کا حصہ ہے کہ زاد المعارج ۲ از صحیح بخاری میں تفصیل کے لئے دکھئے زاد المعاد
33
………………………………………………………………………………………………………………
روانہ کیا، اور اس نے بہت سے سوالات آپ کے سامنے رکھے ان کے سوال کے جواب میں سورہ
آل عمران کی بہت سی آیتیں نازل ہوئیں رسول اللہ مل الہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ کی دعوت
بھی دی لیکن خوف کی وجہ سے شرجیل اس پرتیار نہیں ہوا دوسرے روز یہ لوگ پھر خدمت میں
حاضر ہوئے اسوقت آپ نے ان کو ایک تحریر دی ان پر خراج لگایا اور اوبیدہ بن الجراح
رضی اللہ عنہ کوان کے ساتھ بھیجا کہ هو ذا مین هذه الأمة یہ اس امت کے امین ہیں۔
وفد قضیب کی آمد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہم کو بہت خوشی ہوئی آپ نے
ان کی بڑی عزت اور خاطر داری کی انھوں نے آپ سے مختلف چیزوں کے بالے ہیں لو تنا
کئے، آپ نے یہ سارے جوابات ان کو لکھوا کر دے دیئے، پھر وہ آپ سے قرآن و سنت کے
بارے میں بہت سی باتیں پوچھنے لگے اس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہم کو ایسے
خاص مناسبت پیدا ہو گئی، آپ نے حضرت بلال کو ہدایت کی کہ ان کی بھی طرح تمام
سے ضیافت و مہمانداری کریں یہ لوگ چند روز آپ کی صحبت میں رہے اور زیادہ قیام
نہ کر سکے ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس وجہ سے اتنی جلدی کر رہے ہیں کہنے لگے ہم ائے لوگوں
میں جا کر بتانا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی زیارت ہم نے کیسے کی آپ سے
ہماری کیا کیا باتیں ہوئیں اور آپ نے کیا جواب دیا، اس کے بعد وہ لوگ واپس ہو گئے،
پھر نہ کے حیم میں منی میں وہ آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے
ان و خود میں بنی فزارہ بنی اسد ابہراء اور عذرہ کے وفد بھی تھے کیسے ایسے لیگ
اسلام لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فتح شام کی بشارت دی، ان کو
لے مباہلہ کی حقیقت تفصیل کے لئے آل عمران کی آیت 19کسی تفسیریس لاحظہ ہو ہے ابن کثیر بافت
امام بخاری نے فقه اهل نجران کے باب میں اس واقعہ کو مخصر بیان کیا ہے سے زاد المعادج ہو
………………………………………………………………………………………………………………
کاہن عورتوں کے پاس جانے اور ان سے قسمت کا حال پوچھنے سے منع فرمایا، جو
قربانیاں وہ کرتے تھے، ان سے بھی انھیں منع کیا، اور فرمایا کہ صرف عید الاضحی کی
قربانی ان کے لئے جائز ہے کیلی، ذی مرہ اور نولان کے وفد بھی حاضر خدمت ہوئے
ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خولان کے بت کے بارے میں جس کی وہ پرتش
کرتے تھے دریافت فرمایا، انھوںنے جواب یا کہ آپ کو مبارک ہو آپ کو کچھ لے کر تے ہیں۔ اس سے
اللہ تعالے نے اس کو بدل دیا ہے البتہ کچھ پرانے لوگ کچھ بڑی بوڑھی عورتیں
اب بھی اس کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئی ہیں، جب ہم واپس جائیں گے تو انشاء اور
اس ثبت کو توڑ ڈالیں گے اے محارب اور عشان اور عامر اور شیخ کے وفود بھی آپ کے
پاس حاضر ہوئے کہیے
یہ و خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر دین سیکھتے دینی معلومات اور دین کی
سمجھ حاصل کرتے مسائل معلوم کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ
کا شاہدہ کرتے اور آپ کے اصحاب کرام کی صحبت و معیت ان کو نصیب ہوتی
اکثر مسجد نبوی کے صحن میں ان کے لئے خیمہ لگا دیا جاتا ، وہ وہاں رہتے قرآن مجید
سنتے مسلمانوں کونماز پڑھتا ہوا دیکھتے اور ان کے دل میں جو کچھ آتا وہ بڑی سادگی
اور صفائی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیتے، اور آپ بڑی
بلاغت اور حکمت کے ساتھ اس کا جواب عنایت فرماتے اور قرآن مجید سے
استشہاد کرتے، اس سے ان کا ایمان تختہ ہوتا اور قلبی اطمینان نصیب ہوتا۔
له زاد المعاد ج ۲ ص ۲-۲۷ ۵۲ ايضا من له ايضا مده
……………………………………………………………………………………………………………
۵۰۷
ایک جاہل ثبت پرست اور نبی ہادی کا مکالمہ
کنانہ بن عبد یا لیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو مکالمہ
ہوا وہ یہاں پیش کیا جاتا ہے :۔
کنانہ : جہاں تک زنا کا مسلہ ہے ہم لوگ اکر مجرد اور غیرشادی شدہ رہتے ہیں۔
اس لئے یہ ہمارے لئے ضروری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : تم پر حرام ہے اللہتعالی کا ارشاد ہے ولا تعد لينا
الزي انهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبیلہ (ترجمہ اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بے حیائی
اور بری راہ ہے۔ سورہ اسراء – ۳۲)
کنانہ : سود کے بارے میں جو آپ کہتے ہیں تو ہمارا سارا مال سود ہی سود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل راہ راس المال لینے کا تمہیں حق ہے اللہ اتنا
کا ارشاد ہے : بارها الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّوَانُ كُنتُهُ مُونن
ترجمہ و نوا خدا سے ڈرو اور اگر ایان رکھتے ہوا جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑدو)
کنانہ بانک شراب کا تعلق تو وہی تو ما زہر کا نچوڑہے اور ہمارے لئے یہ ضروری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علی ولم اصل تعال نے اس حرام کیا ہے ایھا الذین امنوا
إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُو
لعلكم تعلمون (ترجمہ: اے ایمان والو ا شراب اور جوا اوربت اور پاسے ریب)
ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سوان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔ المار .
اہ غالباً یہ لوگ تجارت کے سلسلہ میں کثرت سے سفر کرتے تھے۔ ۲۔ سورۃ البقرہ – ۲۶
………………………………………………………………………………………………………………
کنانہ :- کر یہ ثبت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اس کو توڑ ڈالو۔
کنانہ اور اس کے ہمراہی اگر قریش کو معلوم ہو جائے کہ آپ اس کو توڑ دینا چاہتے
ہیں تو وہ اپنے سب پجاریوں کو ختم کردے اس وقت حضرت رضی اللہعنہ نے دریافت کرتے
ہوئے کہا ابن عبدیالیل اتھاری خوابی ہو تم کس قدر دبدبہ ہوا کہ ایک بھر کے سو کیا ہے؟
کنانہ اور اس کے ہمراہی :۔ ابن خطاب ہم تمھارے پاس نہیں آئے ہیں پھر اس نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ اس کو توڑ ڈالیں ہم
اس کو کبھی نہیں توڑ سکتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کی گئی تمھارے ہاں بھیج دوں گا ہوا تھہارے لئے
یہ کام کر دے گا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رخصت کی اجازت دی اور ان کا پورا
کام کیا، اور کہا یارسول الہ آپ ہمارے لے ہماری قوم کاکوئی امیر نادیہ اپنے عثمان
ابی العاص کوان کا میر مقر فرمادیا یہ ان میں سے زیادہ اور تھے ایک عالم دیتے ان کی
لچسپی آپ کے علم میں تھی، انھوںنے وہاں جانے سے قب قرآن مجید کی چھ سورتیں بھی یاد کرلی تھیں۔
وفود کی آمد کا یہ سال عرب میں بت پرستی اور ثبت پرستوں کے استیصال کا سال تھا۔
زکوۃ و صدقات کی فرضیت
ہجرت کے پانچویں سال زکواۃ فرض ہوئی، اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم
نے اپنے امراء و عمال کو ان تمام علاقوں میں جہاں اسلام پہونچ چکا تھا، روانہ فرمایا۔
له زاد المعاد ج ۲ ص ۲۵ که حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق ( فتح الباری)