دیاچه طبع سوم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين وخاتم النبيين، محمدٍ وآله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين

اما بعد! مؤلفِ ’’نبیِّ رحمت‘‘ کا قلب و قلم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر میں سجدہ ریز ہیں اور اس کے ثنا خواں، کہ ’’السيرة النبوية‘‘ عربی کا ساتواں اور ’’نبیِّ رحمت‘‘ (اردو کا تیسرا) ایڈیشن پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔

عربی میں ’’السيرة النبوية‘‘ ۱۳۹۷ھ (۱۹۷۷ء) میں شائع ہوئی تھی، اور اس کا ساتواں ایڈیشن ۱۴۰۷ھ (۱۹۸۷ء) میں دارالشروق (جدّہ) سے نکلا ہے۔

عام ناظرین کے علاوہ موضوع سے خصوصی و مبصّرانہ واقفیت اور اشتغال رکھنے والے افراد، تعلیم و تربیت کے ماہرین اور علمی اداروں کی طرف سے کتاب کی جو قدر افزائی ہوئی، اس پر مؤلف اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ عربی سیرت کا اُردو، ہندی، انگریزی، ترکی اور انڈونیشی زبان میں بھی ترجمہ اور ان زبانوں کے وسیع حلقے میں اس کی اشاعت ہوئی، اور عربی سیرت نے خاص طور پر متعدد مؤقّر عرب جامعات (یونیورسٹیز) کے نصاب میں جگہ پائی۔

اس عرصہ میں مؤلف کو سیرتِ نبوی اور اس کے تاریخی و جغرافی، تمدنی و اجتماعی پہلوؤں سے متعلق نئی کتابوں اور عربی، اردو، انگریزی کے جدید مواد سے استفادہ کا موقع ملا اور اس نے اُن کی روشنی میں کتاب میں جا بجا قیمتی اضافے کیے، کہیں کہیں واقعات کے پسِ منظر پر مزید روشنی ڈالی اور تقابلی مطالعہ کے نتائج پیش کیے، نیز سیرت کے واقعات کے بعض وہ تاریخی، علمی اور دعوتی پہلو اجاگر کیے جو پہلے ایڈیشن میں رہ گئے تھے۔

مؤلفِ سیرت نے ابتدا ہی سے مجرد وقائع نگار اور ضابطہ کے ایک مؤرخ کی حیثیت سے صرف واقعات و معلومات کی بے جان و خشک فہرست مرتب کر دینے پر اکتفا نہیں کی، بلکہ واقعاتِ سیرت اور اقدامات و ارشاداتِ نبوی سے ان دور رس و حکیمانہ نتائج اور ان بلیغ و عمیق اشارات کی طرف بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی جو سیرالانبیاء اور خصوصاً سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و دعوت کے مطالعہ، نفسیاتِ انسانی، علم الاخلاق، علم الاجتماع میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، اور جن سے ہر زمانہ اور ہر مقام میں دعوت و تربیت کے کام، قوموں اور نسلوں کی رہنمائی اور زندگی کے پیچ در پیچ مسائل و مشکلات کی عقدہ کشائی میں بیش قیمت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہ ایڈیشن سیرت کے قدیم بنیادی مواد کے ساتھ موضوعِ سیرت سے متعلق نئی معلومات، تاریخی تفحّص اور علمی تحقیق پر مشتمل ہے۔ اسی کے ساتھ اس میں ایمانی و دینی جذبات کی تسکین اور ذاتِ نبوی سے قلبی و روحانی ربط و تعلق کی تقویت کا سامان بھی ہے، جو سیرتِ نبوی کی کتاب کی اصل سوغات اور زندگی کی اصل قیمت و لذت ہے۔

در خرمنِ کائنات کردیم نگاہ یک دانۂ محبت است، باقی ہمہ کاہ

یہ باتیں بغیر کسی مبالغہ و رنگ آمیزی کے پیش کی گئی ہیں کہ سیرت کو ان کی ضرورت نہیں۔ اس کا جمالِ جہاں آرا قلب و دماغ کو موہنے اور متاثر کرنے کی ذاتی صلاحیت رکھتا ہے۔

تکلف سے بری ہے حُسنِ ذاتی قبائے گُل میں گُل بوٹا کہاں ہے

اخیر میں مؤلف ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اس کو اس کی مہلت و توفیق دی اور اس کے لیے وہ اسباب فراہم کیے کہ وہ اپنی کتاب میں کچھ اضافے کر سکا۔ اسی طرح وہ ’’دار الشروق‘‘ اور اس کے فاضل و محترم مالک، محبِّ گرامی قدر شیخ محسن احمد باروم کے حسنِ توجہ کا بھی ممنون ہے، اور اللہ سے ان دونوں کے لیے دائمی توفیق اور حسنِ قبول کی دعا کرتا ہے۔

والسلام

ابو الحسن علی ندوی

ندوۃ العلماء، لکھنؤ

۲۸ شعبان ۱۴۰۷ھ

۲۸ اپریل ۱۹۸۷ء

← اگلا باب | فہرست | پچھلا باب →