Pesh Lafz

پیشِ لفظ

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين وخاتم النبيين، محمدٍ وآله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين

وہ پہلا مکتب اور مدرسہ جہاں سب سے پہلے مصنفِ کتاب کا داخلہ ہوا، وہ سیرتِ نبوی کا مدرسہ ہے۔ اس مبارک مدرسہ میں اس کا داخلہ اس ابتدائی عمر میں ہوا جس میں بچے عام طور پر مکتب اور مدرسہ میں داخل نہیں کیے جاتے۔ یہ اس کے گھرانے اور خاندانی ماحول اور فضا کا نتیجہ تھا جو وہاں قائم تھی۔

سیرت کو اس ثقافت اور کلچر کے ایک اہم اور بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل تھی، جس سے بہرہ مند اور آراستہ ہونا گھر کے بچوں اور لڑکوں کے لیے اس عہد میں ضروری خیال کیا جاتا تھا۔ اس میں اس بچے کی چھوٹی موٹی لائبریری کو بھی بڑا دخل ہے، جو نظم و نثر دونوں طرح کی کتابوں پر مشتمل تھی اور برابر گردش میں رہتی تھی۔

اس کے بعد اس میں سے بڑا حصہ اس کے برادرِ اکبر ڈاکٹر حکیم مولوی سید عبدالعلی صاحبؒ کی حکیمانہ تربیت اور رہنمائی کا ہے۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ اس نے بہت کم سِنی اور نو عمری میں اردو میں سیرت کی وہ بہترین کتابیں پڑھ لیں، جس میں عربی زبان کے بعد سیرت کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور عہدِ آخر میں اس پر سب سے بڑا کام ہوا ہے۔

جس کی دلچسپ کہانی مصنف نے اپنی عربی کتاب ’’الطريق إلى المدينة‘‘ میں ’’الكتاب الذي لا أنسى فضله‘‘ کے عنوان سے سنائی ہے، اور اس میں خاص طور پر قاضی محمد سلیمان صاحب منصور پوری مرحوم کی مقبول کتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے مطالعہ کے گہرے اثرات کا ذکر کیا ہے۔

جب عربی زبان و ادب کا کچھ ذوق پیدا ہوا تو اس نے اپنی ساری توجہ سیرت کے عربی مآخذ پر مرکوز کر دی۔ ان میں سرِ فہرست دو کتابیں تھیں: ایک ابن ہشام کی کتاب ’’السيرة النبوية‘‘ اور دوسری امام ابن القیم کی کتاب ’’زاد المعاد‘‘۔

اس نے ان کتابوں کو صرف علمی یا روایتی طریقہ سے پڑھنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انہی کتابوں میں اپنی زندگی کے شب و روز بسر کیے۔ یہی وہ وقت تھا جب اس کا دل ایمان و یقین کی حلاوت سے آشنا ہوا، اور جذبۂ شوق و محبت کو نئی غذا ملی اور اس کی از سرِ نو آبیاری ہوئی۔

اس لیے کہ سیرت کے مؤثر واقعات، تربیت و رہنمائی کا سب سے طاقتور ذریعہ اور انسان کے قلب و دماغ کے لیے قرآنِ مجید کے بعد سب سے زیادہ اثر انگیز اور حیات آفریں سرچشمہ ہیں۔

ان دونوں کتابوں کے بعد عربی اور انگریزی میں سیرت کی جو قدیم و جدید کتابیں اس کی دسترس میں تھیں، وہ بھی برابر مطالعہ میں آتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت اس کی کتابوں اور تحریروں کی ہمیشہ سے بڑی بنیاد رہی۔ اسی کے دم قدم سے اس کا سارا سوز و ساز اور آب و رنگ تھا اور اسی کے نقشِ قدم کے طفیل اس کے نقوشِ قلم میں تازگی تھی۔

اپنے مقاصد و مطالب کی وضاحت کے لیے اس کو قوی سے قوی تر دلائل اور بلیغ سے بلیغ مثالیں سیرت کے جمال و کمال ہی سے ملتی تھیں، اور سیرت ہی سے اس کی طبع میں روانی و جولانی پیدا ہوتی تھی اور اس کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوئی تھیں۔ اس کی کوئی قابلِ ذکر تحریر ایسی نہیں جس پر اس جمالِ محمدی کا کوئی پرتو اور سیرتِ نبوی کے گہرے مطالعہ اور فکر و تدبر کا کوئی عکس نہ ہو۔

سیرت کے مختلف پہلوؤں اور گوشوں اور بعثتِ محمدی کی عظمت اور اس کے محیّر العقول اثرات و نتائج پر اس کے یہ مقالات و خطبات ’’کاروانِ مدینہ‘‘ میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔

کتاب کے تین عربی ایڈیشن مدینہ منورہ، لکھنؤ اور دمشق سے، اور اردو میں دو ایڈیشن لکھنؤ اور کراچی سے شائع ہو چکے ہیں۔ عربی میں اس کا نام ’’الطريق إلى المدينة‘‘ ہے۔

مصنف نے اس طویل عرصہ میں بہت سی کتابیں لکھیں، لیکن خاص سیرت کے موضوع پر کوئی مستقل کتاب اس کے قلم سے نہ نکل سکی، حالانکہ اس کو اس بات کا احساس تھا کہ اس موضوع پر ایک ایسی کتاب کی شدید ضرورت ہے جو ایک طرف عصری اور علمی اسلوب میں لکھی گئی ہو، اور اس میں قدیم و جدید دونوں قسم کے مآخذ سے پورا استفادہ کیا گیا ہو۔

دوسری طرف سیرت کے اولین اور اصل ORIGINAL مآخذ پر اس کی بنیاد ہو، اور قرآن و حدیث سے اس میں سرِ مو انحراف نہ کیا گیا ہو۔ وہ موسوعی ENCYCLOPAEDIC طرز پر نہ لکھی گئی ہو، جس میں ساری معلومات بغیر کسی نقد و تمحیص کے بھر دی جاتی ہیں اور ہر طرح کا ضروری و غیر ضروری مواد پیش کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یہ وہ طرزِ تصنیف اور اسلوبِ تحریر ہے جس کے دورِ آخر کے اکثر مصنفین اور بعض متقدمین بھی عادی رہے ہیں۔ یہ طرز بہت سے ایسے غیر ضروری اشکالات و سوالات پیدا کرتا ہے جن سے سیرتِ نبوی بری و بے داغ ہے، اور جس میں بادیہ پیمائی اور آشفتہ سری کی مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہیں۔

اس لیے کہ تحقیق و تنقیح کا قلم، تجدد پسندانہ رجحانات اور مستشرقین کی تشکیک کا کوئی اثر قبول کیے بغیر، اپنا کام کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ان دینی مسلمات و حقائق کے ساتھ ہم آہنگ ہو جن کی روشنی و رہبری کے بغیر آسمانی کتابوں، انبیاء کی سیرت، معجزات اور غیبی واقعات و حقائق کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہے۔

اور جو اس اصول پر کاربند اور اس عقیدہ کا حامل ہو کہ یہ ایک نبی کی سیرت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کیا گیا ہے اور جس کو ہر دم و ہر لحظہ خدا کی نصرت و تائید حاصل تھی، نہ کہ کسی بڑے قومی لیڈر اور ملی رہنما کے حالاتِ زندگی۔

یہ وہ سیرت ہے جو ہر منصف مزاج، تعلیم یافتہ شخص، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، کے سامنے کسی تحفظ RESERVATION، استثناء اور کسی تاویل کا سہارا لیے بغیر پیش کی جا سکے۔

چنانچہ مصنف نے اس کتاب میں خود ان واقعات و حالات اور سیرت کے اصل و بنیادی مواد پر زیادہ اعتماد کیا ہے اور اس کو اس کا موقع دیا ہے کہ وہ خود اپنی زبان سے بولے اور پڑھنے والے کے دماغ و دل اور ذہن و نظر میں اپنا راستہ خود بنائے۔

ان منہ سے بولتی ہوئی صداقتوں اور زندہ حقیقتوں کو فلسفہ کا رنگ دینے، واقعات کی تاویل کرنے اور اس کے لیے طویل و عریض مضمون باندھنے کی اس میں زیادہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ سیرت اپنے حُسن و جمال، اپنی موزونیت و لطافت اور اپنی اثر انگیزی و دل آویزی کے لیے کسی بڑے آدمی کی سفارش، کسی حکیم کے علم و دانش اور کسی ادیب اور صاحبِ قلم کے اندازِ نگارش یا رنگینیِ بیان کی محتاج نہیں۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک مصنف کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ حسنِ بیان، حسنِ ترتیب اور حسنِ انتخاب ہے۔

پھر اس میں عقل و جذبات دونوں کی بیک وقت اور شانہ بشانہ جلوہ گری اور کارفرمائی ہونی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ عالمانہ بحث اور معروضی نقد و جائزہ جذبۂ محبت اور ذوق و شوق کی کیفیت کو سرد و افسردہ کر دے، جو سیرت کے جمالِ جہاں آرا سے لطف اندوز ہونے اور اپنے دیدہ و دل کو اس سے روشن اور منور کرنے کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

اور اس سے صحیح و کامل استفادہ اور اس کے مسائل، احکام اور واقعات کو صحیح طور پر سمجھنے اور صحیح نتائج تک پہنچنے کی لازمی شرط ہے۔ اگر سیرت کی کوئی کتاب اس جذباتی اور ایمانی عنصر سے خالی ہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ چوبِ خشک کا مصنوعی ڈھانچہ ہے جس میں زندگی کی حرارت اور نمی موجود نہیں۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ یہ جذباتی و ایمانی عنصر عقلِ سلیم کے تقاضوں پر غالب نہ آ جائے، جن کی اہمیت عصرِ حاضر نے خاص طور پر بڑھا دی ہے، نہ وہ منطق کے صحیح، معقول اور قابلِ فہم اصولوں کے منافی ہو، نہ عقیدہ اور تقلید پر مبنی ایسا خراجِ عقیدت اور خراجِ تحسین ہو جس کو صرف قوی الایمان پشتینی مسلمان اور وہ علماء راسخین قبول و تسلیم کر سکیں جن کی بیرونی دنیا اور جدید ثقافت سے کوئی رسم و راہ نہیں۔

یہ عقیدت و محبت بلا شبہ ایک عطیۂ خداوندی اور نعمتِ خداداد ہے، لیکن یہ بات ہمیں کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ وہ بہرحال اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے جس کو رحمۃً للعالمین بنا کر دنیا کے تمام انسانوں اور نوعِ انسانی کے تمام طبقوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔

اس لیے اس کو اس طبقہ کے افراد کے لیے ممنوع یا مہر بند نہیں کیا جا سکتا جن کو حالات نے اس اسلامی و ایمانی ماحول میں نشو و نما حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا، اور تقدیرِ الٰہی کا فیصلہ ہوا کہ وہ غیر اسلامی ماحول ہی میں پیدا ہوں، وہیں ان کی نشو و نما ہو، پھر لطفِ الٰہی ان کی مساعدت کرے اور سیرتِ محمدی کا کوئی معطر و جاں نواز جھونکا اپنی دل آرائی و مسیحائی کے ذریعہ ان کو اس جگہ سے اٹھا کر اسلام کے سایۂ رحمت اور ایمان کی بارگاہ میں پہنچا دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ان غیر مسلموں کا حق سیرت پر ان مسلمانوں سے ہرگز کم نہیں جو پہلے ہی سے اسلام و ایمان کے سایۂ رحمت میں ہیں، اس لیے کہ دوا و علاج کی تندرست سے زیادہ ایک بیمار کو ضرورت ہے۔ دریا کے اس پار رہنے والے کو پل کی جتنی حاجت ہوگی اتنی حاجت پل کے اسی طرف رہنے والے کو کیوں کر ہو سکتی ہے؟

مصنف سیرت نگاری کے وقت اس ماحول اور اس عہد کو بھی کسی طرح نظر انداز اور فراموش نہیں کر سکتا جس میں نبوتِ محمدی کا آفتاب پہلی بار طلوع ہوا۔ اس لیے اس عہد کی عالم گیر جاہلیت کی پوری تصویر کشی بھی ضروری ہے جو چھٹی صدی مسیحی میں ہمیں ساری دنیا پر محیط نظر آتی ہے۔

اس میں یہ بھی دکھانا ہوگا کہ اس زمانہ میں فساد، اخلاقی بگاڑ اور انسان کی بے چینی و اضطراب کس درجہ پر پہنچ چکا تھا، اس کی اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی حالت کیا تھی؟ تخریب و فساد کے کیا کیا اسباب و عوامل اس وقت کی دنیا میں کارفرما تھے، اور کیسی کیسی ظالمانہ حکومتیں، مسخ شدہ مذاہب، انتہا پسندانہ و خیالی فلسفے، تباہ کن تحریکیں اور دعوتیں اپنا کام کر رہی تھیں۔

جب مصنف نے اپنی کتاب ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين‘‘ جس کے اردو ترجمہ کا نام ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ ہے، کی تمہید اور مقدمہ کے طور پر عہدِ جاہلیت کی ذرا تفصیل کے ساتھ تصویر کھینچنے کی کوشش کی تو اس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑا جو اسے آج تک یاد ہے۔

اس کو اس کے لیے ان تمام مغربی مآخذ کا جائزہ لینا پڑا جن میں ظہورِ اسلام کے وقت کے متمدن ملکوں اور اقوامِ عالم کی تاریخ بیان کی گئی تھی۔ اس نے ان تمام ضخیم کتابوں سے ان منتشر حالات کو اس طرح جمع کیا جیسے چیونٹیوں کے منہ سے شکر کے دانے اکٹھا کیے جائیں۔

ملاحظہ فرمائیں: ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘، باب ’’بعثت سے پہلے‘‘، شائع کردہ مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام، لکھنؤ۔

یہ تمہید جو کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھی گئی ہے، سیرت کا مطالعہ کرنے والے کے لیے روشنی کا کام کرتی ہے اور اس کے سامنے بعثتِ محمدی کی عظمت و وسعت، منصبِ نبوت کی نزاکت و اہمیت اور اس کے عظیم الشان نتائج کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔

عہدِ حاضر کے سیرت نگار کے لیے یہ بہت ضروری ہے، اور اس کا کام اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جائے گا جب تک اس میں بحث و تحقیق کا یہ انداز اختیار نہ کیا گیا ہو اور آغازِ اسلام کے وقت عہدِ جاہلیت کا نقشہ اور اس کے فساد و اضطراب، اخلاقی پستی اور خود فراموشی و خودکشی کی زندہ و متحرک تصویر پوری امانت داری کے ساتھ بے کم و کاست پیش نہ کی گئی ہو۔

یہی اس ماحول اور اس شہر کا نقشہ تھا جہاں اسلام کی پہلی کرن چمکی، جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی اور دعوتِ حق کے قافلہ نے پہلا قدم آگے بڑھایا، جہاں آپ کی عمرِ مبارک کے ۵۳ سال گزرے اور جہاں تیرہ سال دعوتِ اسلام کے سخت و جاں گداز مرحلوں میں بسر ہوئے۔

سیرت کا مطالعہ کرنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس زمانہ میں عقل و شعور اور تہذیب و تمدن کی جو سطح تھی، اس سے باخبر ہو، نیز اس ملک کے اجتماعی، سیاسی اور دینی و مذہبی حالات، اس کے اقتصادی و سیاسی ڈھانچہ اور حربی و عسکری طاقت کی نوعیت سے بھی واقف ہو، تاکہ اس ملک کے باشندوں کے صحیح رجحانات، ان کے مزاج و افتادِ طبع اور ان کے ذہن و نفسیات کو اچھی طرح سمجھ سکے۔

اور اس کو ان دشواریوں اور رکاوٹوں کا پورا اندازہ ہو سکے جو اسلام کی ترقی و پیش قدمی کی راہ میں حائل ہو رہی تھیں۔

یہی بات، بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی، یثرب کے بارے میں کہی جا سکتی ہے، جہاں اسلام مکہ سے منتقل ہوا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نے ہجرت فرمائی اور تقدیرِ الٰہی نے اس کو اسلام کا اولین مرکز قرار دیا۔

اس لیے اس کے پسِ منظر کو سمجھے بغیر اسلام کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا پورا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان حالات کو جانے بغیر ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اسلام نے ان افراد کی کیا اور کس طرح تربیت کی، ان کو کیسے حیاتِ نو بخشی، مختلف مسائل کو کس طرح حل کیا اور متضاد و متحارب عناصر کو کس طرح شیر و شکر کیا۔

اس سلسلہ میں نبوتِ محمدی کا کارنامہ کیا تھا؟ اس نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور روٹھے ہوئے انسانوں کو ملانے اور ان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و تطہیر کا فریضہ کس طرح انجام دیا؟ یہ بات صرف اسی وقت سمجھی جا سکتی ہے جب آدمی کے سامنے اس عجیب و غریب اور پیچیدہ ماحول کی پوری تصویر ہو جس کا سامنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کرنا پڑا۔

بہت سے واقعات اور فیصلے جو حدیث و سیرت کے مطالعہ میں آدمی کی نظر سے گزرتے ہیں، اس وقت تک سمجھے ہی نہیں جا سکتے جب تک مدینہ کی اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی حالت، وہاں کی زمین کی خاصیت، اس کے جغرافیہ، اس کے گرد و نواح، وہاں کی انفرادی اور علاقائی طاقتوں، ان کے باہمی تعلقات و روابط، معاہدوں اور عہد ناموں، اور ہجرت سے قبل کے معاملات اور قومی و ملکی دستور اور رسم و رواج کا قاری کو علم نہ ہو۔

اگر کوئی شخص ان تمام باتوں سے بالکل ناواقف ہو کر سیرت کی کتابوں میں اپنا سفر شروع کرتا ہے تو اس کی مثال ایک سرنگ میں چلنے والے کی سی ہوگی، جس کو اپنے دائیں بائیں اور آغاز و منزل کسی چیز کی خبر نہ ہو۔

یہی اصول اس وقت کی معاصر و متمدن حکومتوں اور پڑوسی ریاستوں پر بھی منطبق ہوتا ہے، اس لیے کہ ناظرین کے سامنے دعوتِ اسلامی کے اس اقدام کی اہمیت، اس کی حوصلہ مندی اور خطر پسندی کی کوئی صاف و واضح تصویر اس وقت تک آ ہی نہیں سکتی جب تک اس کو ان حکومتوں کے حجم اور قوت و شوکت کا اندازہ نہ ہو جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام دی اور ان کے نام فرامین جاری کیے۔

اور ان کی تہذیب و ثقافت، عسکری قوت، فارغ البالی اور مرفہ الحالی، نیز ان کے سلاطین کی مطلق العنانی، رعب و دبدبہ اور شان و شوکت کا صحیح علم نہ ہو۔

جدید معلومات نے ان حکومتوں اور قوموں کی تاریخ اور ان کے معاشرہ پر خاصی روشنی ڈال دی ہے، اور بہت سے ان حالات اور حقائق کا پردہ چاک کر دیا ہے جو عہدِ قدیم میں لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے یا زیادہ صاف اور واضح نہ ہو سکے تھے۔

اس زمانہ کے سیرت نگار کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کام میں ان تمام معلومات سے پوری مدد لے اور تاریخ و جغرافیہ اور تقابلی مطالعہ COMPARATIVE STUDIES کے میدان میں جدید ترین UP-TO-DATE مباحث و معلومات جو اب تک سامنے آئے ہیں، ان سے پورا فائدہ اٹھائے۔

مصنف کو ان تمام باتوں کا احساس تھا اور سیرت نگاروں کی ناقابلِ فراموش خدمات اور مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں ان کے قلم سے نکلنے والی تحریروں کی قیمت و افادیت کا پورا اعتراف بھی۔ اس نے اپنی سعادت سمجھ کر یہ کوشش کی کہ وہ بھی سیرتِ نبوی پر ایک نئی کتاب لکھ کر اس محبوب و جلیل القدر موضوع کے مصنفین کی نورانی فہرست میں شامل ہو جائے۔

لیکن تنگیٔ وقت اور ضعفِ بصارت کی وجہ سے مصنف کی تفصیل و اطمینان کے ساتھ اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ہمت نہ ہوتی تھی، اس لیے کہ اس کو اس کا خوب تجربہ تھا کہ کسی بڑے آدمی کی سیرت، نبی اور سید الاولین والآخرین و اشرف المرسلین کا معاملہ تو اس سے کہیں برتر و بالا ہے، مصنفین کے لیے سب سے مشکل اور نازک موضوع ہے۔

مصنف کو مشہور و اہم شخصیات کے سوانحِ حیات اور متقدمین و متاخرین کے حالاتِ زندگی اور کارنامے لکھنے اور بیان کرنے کا شاید اپنے بہت سے معاصرین اور رفقاء سے زیادہ اتفاق ہوا ہے۔ اس نے آغازِ نوجوانی، بلکہ لڑکپن ہی سے، جب سے قلم پکڑنا سیکھا، اہلِ حق، مصلحینِ امت اور اصحابِ دعوت و عزیمت کے حالات و تراجم پر لکھنا شروع کر دیا۔

اور اپنے قلم سے سیر و تراجم کے موضوع پر کئی ہزار صفحے سیاہ اور اپنے نصیب کو روشن کیا، اور بچپن ہی سے ان اسلافِ کرام اور ائمۂ رشد و ہدایت کے ساتھ زندگی گزاری۔ خدا کا شکر ہے کہ اس سلسلہ میں بہت کچھ پڑھنے کا موقع ملا اور بہت کچھ لکھنے کی توفیق ہوئی۔

ان سب وجوہ کی بنا پر اس کو اس موضوع کی نزاکت اور اس ذمہ داری کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مصنف پر کوئی خاص رجحان یا ذوق ایسا غالب آتا ہے کہ وہ اپنے ممدوح کو، کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر، اپنے اس ذوق و رجحان کے تابع کر دیتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی تصنیف اور تحریر صرف اس رجحان اور ذوق کی نمائندگی کرتی ہے جو اس وقت مصنف پر حاوی تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ممدوح کی تصویر کشی کے ارادہ سے قلم اٹھاتا ہے، لیکن بجائے اس کے خود اپنی تصویر اتار دیتا ہے۔

وہ اس کے حالات و سوانح پر معروضی اور بے لاگ طریقہ سے روشنی ڈالنا چاہتا ہے، لیکن اس کو اپنے ذاتی میلانات و تجربات اور اپنے نقطۂ نظر کی عینک سے دیکھنے اور ان حالات و واقعات کو اپنے مخصوص پیمانوں سے ناپنے لگتا ہے۔

جس کا علم النفس اور اخلاقیات کے کوچہ سے کبھی گزر ہوا ہے، معاصر شخصیتوں کے مطالعہ و مشاہدہ کا اسے کبھی موقع ملا ہے، اور اس نے ایک طویل عرصہ ان کی رفاقت و صحبت میں گزارا ہے، وہ بآسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ نفسِ انسانی کی تہ تک پہنچنا اور اس کے وسیع آفاق اور فضائے محیط کا علم، پھر اس کی جامع اور نازک تصویر کشی، علومِ ادبیہ اور اسالیبِ بیانیہ کی سب سے دشوار اور نازک صنف ہے۔

اور اس کا تھوڑا بہت حق وہی ادا کر سکتا ہے جو نفسِ انسانی کے احساسات و جذبات، اس کے سوز و ساز، سرور و شوق، اس کی روح کی تپش اور دل کے گداز سے بہت کچھ واقف ہو، اور یہ محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ اس کی راتیں کیسے کٹتی ہیں اور اس کے دن کس طرح گزرتے ہیں۔

وہ اپنے گھر میں کیا نظر آتا ہے اور اپنے رفقاء و دوستوں سے کس طرح پیش آتا ہے، اس نے اس کو صلح و جنگ میں بھی دیکھا ہو، اور اشتعال و سکون، تنگی و راحت اور ضعف و قوت میں بھی۔

اس لیے کہ انسان کے اندر بہت سے ایسے جذبات و احساسات اور اس کے جمال و کمال کے بہت سے ایسے نادیدہ و ناشنیدہ پہلو بھی ہیں جن کے لیے انسانی لغت میں ابھی تک الفاظ وضع نہیں کیے جا سکے، اور جن کی منظر کشی و ترجمانی کے لیے لغت کا بڑے سے بڑا ذخیرہ کفایت نہیں کرتا۔

بسیار شیوہاست بُتاں را کہ نام نیست

سیرتِ نبوی دوسرے افرادِ بنی آدم میں، بشمول انبیاء و غیر انبیاء، اپنی نزاکت و لطافت، وسعت و جامعیت، زندگی کی نازک سے نازک تفصیلات اور دقیق سے دقیق معانی و مطالب، اور دل کی دھڑکنوں اور پیشانی کی سلوٹوں اور نفسِ انسانی کی مختلف حالتوں کے احاطہ و استیعاب اور اس کی مکمل تشریح و ترجمانی میں سب سے ممتاز اور بلند مقام رکھتی ہے۔

ایسا دراصل علمِ حدیث کی وجہ سے ممکن ہو سکا، جس کی کوئی نظیر دوسرے انبیاء یا تاریخِ انسانی کی عظیم شخصیتوں میں ہمیں نہیں ملتی۔

سیرت و شمائلِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں، دن و رات کے مختلف حصوں میں آپ کے اوراد و اذکار اور خدا کے حضور آپ کی آہِ سحرگاہی اور گریۂ نیم شبی، اور اس امت اور پوری انسانیت کے لیے آپ کی بے قراری و دل سوزی کے جو عجیب نمونے آپ کے ادعیۂ مسنونہ کے وسیع ذخیرہ میں ہمیں نظر آتے ہیں، اس کو بھی اس میں بڑا دخل ہے۔

تفصیل کے لیے مصنف کا مقالہ ’’سیرتِ محمدی دعاؤں کے آئینہ میں‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں سیرت سے ان دعاؤں کا تعلق، انسانی زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات و اخلاقیات سے آپ کی گہری واقفیت اور اس کے باریک سے باریک اور نازک سے نازک پہلوؤں کی کامل رعایت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ مقالہ ایک مستقل رسالہ کی شکل میں کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

اسی طرح آپ کے اقوالِ ماثورہ اور جوامع الکلم، اور آپ کے باکمال وصف نگاروں اور اہلِ بیتِ کرام نے آپ کے جو شمائل و خصائل، عادات و معمولات اور روزمرہ کی زندگی کے واقعات بیان کیے ہیں، ادبیاتِ عالم اور تاریخ و انساب کے وسیع لٹریچر نے اس سے زیادہ نازک تصویر کشی اور منظر نگاری اور انسانی خدوخال اور اس کی اخلاقی بلندیوں اور لطافتوں کی اس سے عمیق اور عظیم ترجمانی اب تک ریکارڈ نہیں کی۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں مصنف کی کتاب ’’منصبِ نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین‘‘، مضمون: ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و حیات قیامت تک کے انسانوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ و اسوہ اور اس کے لیے غیبی انتظامات‘‘ ، ساتواں خطبہ، ص ۲۰۸۔۲۱۲۔

اس لحاظ سے سیرت کے موضوع پر کتاب کی تصنیف میں کسی طرح کی دشواری اور ابہام، مفروضات قائم کرنے اور قیاس سے کام لینے کی بالکل ضرورت نہیں، جو مصلحین و قائدین کے تذکرے میں بہت پیش آتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ان سب سے زیادہ مکمل بھی ہے اور حسین بھی۔ اس کی بنیاد قرآنِ مجید کے وہ صریح نصوص، تاریخ کی ناقابلِ تردید شہادتیں، آپ کا جمالِ صوری و معنوی، شمائل و خصائل، عادات و عبادات اور اخلاق و معاملات کی وہ واضح، روشن اور متعین تفصیلات و جزئیات ہیں جن سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

بایں ہمہ وہ حقیقت اور امرِ واقعہ سے بھی اتنی قریب ہیں جس سے زیادہ تصور ناممکن ہے۔

لیکن ان تمام باتوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور مصلحینِ عالم کے سوانح و حالاتِ زندگی، بلکہ خود دوسرے انبیاءِ کرام کی سیرت میں اس قدر فرق و تفاوت اور سیرتِ محمدی کی اس گیرائی اور ہمہ گیری اور جہاں آرائی کے باوجود، جو کمالِ نبوت اور کمالِ آدمیت کی سدرۃ المنتہیٰ اور معراج ہے، ہم اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی اور مکارمِ اخلاق کی صحیح تصویر اور آپ کے ان معجزات کا استیعاب و تفصیل قریب قریب ناممکن ہے۔

وہ معجزات جن کی جلوہ ریزی آپ کی پوری سیرت و دعوت اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اللہ کے بندوں کے ساتھ آپ کا معاملہ، آپ کا حسنِ صورت و سیرت و کمالِ ظاہر و باطن، آپ کی محبت و شفقت اور دل داری و دل نوازی، آپ کی دعائیں اور خدا سے عرضِ حال، بنی نوعِ انسان اور انسانیت کے مستقبل کے لیے آپ کی بے قراری و دل سوزی، آپ کی فصاحت و بلاغت، علم و حکمت اور کمال و جامعیت کی ان روشن و جاں نواز نشانیوں اور زندہ و لافانی معجزوں کا مفصل و مکمل بیان قریب قریب ناممکن ہے۔

سیر و شمائل کی کتابوں نے اس سلسلہ میں جو کچھ پیش کیا ہے، ان کے کمالِ دیدہ وری و عرق ریزی کے اعتراف کے ساتھ، آپ کے جمالِ سیرت و کمالِ نبوت کا صرف ایک ہلکا سا عکس ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کے ساتھ مخصوص فرمایا تھا۔

زیادہ سے زیادہ اس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان کی سعیِ محمود ہے کہ انہوں نے اس قدر ضبط و اتقان اور غایت درجہ اہتمام کے ساتھ ان حالات کو قلم بند کیا، اور اس کی بہترین جزا اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمائے گا۔

یہ ایسی مشترک، عالم گیر اور غیر مختتم دولت ہے جس میں ہر فردِ بشر، ہر انسانی نسل اور انسانوں کا ہر گروہ اور ہر طبقہ ہدایت و روشنی اور اتباع و پیروی میں اپنا حصۂ رسدی پا سکتا اور اپنے طالعِ خفتہ کو بیدار کر سکتا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيرًا
تم کو پیغمبرِ خدا کی پیروی کرنی بہتر ہے، یعنی اس شخص کو جس کو خدا سے ملنے اور روزِ قیامت کے آنے کی امید ہو، اور وہ خدا کا کثرت سے ذکر کرتا ہو۔
سورۃ الأحزاب، آیت ۲۱

شاید یہی اسباب و وجوہ تھے جن کی وجہ سے سیرتِ نبوی کے موضوع پر کسی نئی تالیف کی مجھے اب تک ہمت نہ ہو سکی، اور میں اس عظیم الشان کام کو اپنی حیثیت سے بہت بلند سمجھتا رہا۔

میرے بعض فاضل اور محترم دوستوں، بالخصوص مصنف کے فاضل و محترم دوست شیخ محمد محمود الصواف، رکنِ مجلسِ تاسیسی رابطۂ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ و مشیر وزارتِ تعلیم حکومتِ سعودیہ، نے مجھے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی کہ عربی زبان میں سیرتِ نبوی پر ایک ایسی کتاب تیار کروں جس میں نئی نسل کے ذہن اور ذوق اور اس کے فہم اور نفسیات کی موجودہ سطح کا خیال رکھا گیا ہو۔

نیز ان نئے تقاضوں اور ضرورتوں اور اس طرزِ تحقیق اور طرزِ کلام کی اس میں پوری رعایت ہو جو موجودہ دور میں رائج ہے، اس لیے کہ ہر زمانہ کا ایک خاص اسلوبِ بیان اور زبان ہوتی ہے جس کا لحاظ ضروری ہوتا ہے۔ دواؤں اور غذاؤں کی بھی خاص خوراکیں اور ایک خاص ترتیب ہوتی ہے جو حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

لیکن یہ سب کچھ، جیسا کہ اوپر اشارے کیے جا چکے ہیں، سیرت کو اپنی خواہشات و اغراض اور ان علمی نظریات کا تابع بنائے بغیر ہونا چاہیے جو صبح و شام بدلتے رہتے ہیں، اور اس کو ان شبہات و اعتراضات کی ہر آمیزش اور آلودگی سے پاک و صاف ہونا چاہیے جو اکثر مذہبی تعصب، کم علمی و ناواقفیت یا سیاسی مفادات و اغراض سے پیدا ہوتے ہیں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ میں شرحِ صدر نصیب فرمایا اور میں پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ اس کام میں مشغول ہو گیا، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میرے سامنے لمحات اور سانسیں اسی ماحول میں گزرنے لگیں۔

میں نے اس سلسلہ میں نہ صرف سیرت و حدیث کی کتابیں پڑھنا شروع کیں بلکہ قدیم اور جدید لٹریچر میں جو بھی کام کی چیز مجھے ملی، میں نے اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

اس کے بعد میں نے اس موضوع پر جو سب سے زیادہ مستند کتابیں لکھی گئی ہیں، ان پر اعتماد کرتے ہوئے اس مبارک کام کا آغاز کیا۔ عہدِ حاضر میں اس موضوع پر جو کچھ کام ہوا ہے اور مغربی زبانوں کے اہم مآخذ سے بھی، جن سے سیرت کے بہت سے پہلوؤں کی وضاحت ہوتی ہے اور اس عہد پر اور ان حکومتوں اور سلطنتوں نیز اس زمانہ کے معاشرہ اور سوسائٹی پر روشنی پڑتی ہے، استفادہ کی کوشش کی گئی ہے۔

عربی و دیگر زبانوں کے مآخذ کا انڈکس کتاب کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔

اور یہ کوشش کی گئی کہ کتاب علمی اور تربیتی و دعوتی دونوں پہلوؤں کی جامع ہو، اور ان میں سے کوئی ایک پہلو دوسرے پہلو پر غالب نہ آ جائے، نیز اس میں وہ زندہ، منہ سے بولتے ہوئے اور زندگی و حرارت سے بھرے ہوئے اقتباسات زیادہ سے زیادہ پیش کیے جائیں جن سے اسوۂ نبوی کے اتباع اور پیروی کا جذبہ پڑھنے والے میں خود بخود پیدا ہوتا ہے۔

اور جن کی نظیر کسی انسان کی سیرت، کسی عظیم سے عظیم شخصیت کے سوانح، کسی نسل اور قوم کی تاریخ اور کسی دعوت و تحریک اور دین و مذہب کے نقشہ میں نہیں ملتی۔ یہ سب کسی رنگ آمیزی، داستان طرازی اور تزئین و آرائش کے بغیر قاری کے سامنے رکھ دیا جائے کہ جمالِ فطرت اور حسنِ حقیقت کو ظاہری رنگ و روغن اور مہکتے ہوئے تازہ پھولوں کو مصنوعی رنگ و بو کی ضرورت نہیں ہوتی۔

روئے دل آرام را حاجتِ مشاطہ نیست

شوال ۱۳۹۵ھ سے شوال ۱۳۹۶ھ، اکتوبر ۱۹۷۵ء تا اکتوبر ۱۹۷۶ء، تک مجھے اس موضوع کے سوا، بعض اضطراری حالات کو چھوڑ کر، کسی اور چیز سے سروکار نہیں رہا۔ درمیان میں کچھ وقفے کسی بیماری کے حملہ اور مشرق و مغرب کے بعض طویل دوروں کی نذر ہوئے۔

اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے غرۂ شوال ۱۳۹۶ھ میں یہ کتاب تکمیل کو پہنچی اور اب قارئین کے ہاتھوں میں ہے۔

اس موقع پر اپنے ان دو فاضل دوستوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے جن سے مجھے اس کتاب کی تالیف میں بڑی مدد ملی۔ ایک مولانا برہان الدین سنبھلی، استاذِ حدیث و تفسیر دارالعلوم ندوۃ العلماء، جن سے احادیث کی تخریج اور تلاش و جستجو، نیز کتبِ سیرت کے بعض مقامات کی تحقیق میں مجھے قیمتی مدد ملی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے۔

دوسرے سید محی الدین صاحب، جنہوں نے مغربی مآخذ کے مطالعہ، تاریخِ عالم نیز مختلف دائرة المعارف ENCYCLOPEDIAS کی چھان بین میں میری بیش قیمت مدد کی۔ مصنف ان کے اس گراں قدر تعاون کا معترف اور ان کی محنت و سعی اور اخلاص کے لیے شکر گزار ہے۔

اپنی معذوری کی بنا پر عرصہ سے معمول ہے کہ مضامین اور کتابیں میں املا کراتا ہوں، اس لیے اس کتاب میں بھی مجھے اپنے بعض عزیز طلبہ سے مدد لینی پڑی۔ بالخصوص عزیزان محمد معاذ انڈری ندوی اور علی احمد گجراتی، اور عزیزی مولوی نور عالم امینی ندوی، استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء، نے تحریر و کتابت کے اس فرض کو انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کا صلہ عطا فرمائے۔

سیرت کی اس کتاب کے لیے نقشوں کا بھی خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ ان سے بہت سی ایسی حقیقتیں آسانی کے ساتھ سمجھ میں آ جاتی ہیں جو بعض اوقات طویل عبارتوں سے بھی سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ نقشے تاریخی معلومات اور اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں، اور کوشش کی گئی ہے کہ وہ فنی و علمی حیثیت سے ہر طرح مکمل اور عہدِ جدید کے مطابق ہوں۔

اس سلسلہ میں ہمارے عزیز دوست محمد حسن صاحب انصاری، ایم اے جغرافیہ، جناب پروفیسر محمد شفیع صاحب، پرو وائس چانسلر و صدر شعبۂ جغرافیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، و کارکنانِ شعبۂ جغرافیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے بڑی دلچسپی لی۔ خدا انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس کام کو سیرتِ نبوی کی ایک خدمت سمجھ کر انجام دیا۔

عزیزی مولوی محمد رابع ندوی، مصنف ’’جغرافية جزيرة العرب‘‘، صدر شعبۂ ادبِ عربی دارالعلوم ندوۃ العلماء، کے قیمتی مشورے بھی اس کام میں شامل رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں اور عزیزوں کو جزائے خیر دے اور ان کی سعی کو مشکور فرمائے۔

مصنف کی دوسری اہم تصنیفات و مضامین کی طرح عربی سے اردو میں کتاب کے ترجمہ کی خدمت مصنف کے برادر زادۂ عزیز سید محمد الحسنی سلمہ، مدیر ’’البعث الإسلامي‘‘ نے اپنی ایک بڑی سعادت سمجھ کر انجام دی۔ اس کام کے لیے وہ ہر طرح سے موزوں اور اس کے لیے دل و جان سے حاضر تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعیِ محمود کو قبول فرمائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب سے نفع پہنچائے، اس عمل کو اپنی قبولیت سے نوازے اور اس کو آخرت کا ذخیرہ اور سیرتِ پاک کے مطالعہ اور اس سے استفادہ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا ذریعہ و وسیلہ بنائے۔

اگر یہ کتاب کسی صاحبِ ایمان کے دل میں شوق و محبت کی ایک چنگاری بھی بھڑکا دیتی ہے، اور کسی غیر مسلم کے دل میں اس کو پڑھ کر اس نبیِّ رحمت کی سیرتِ مطہرہ کی طرف کوئی کشش، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی کوئی لہر اور اسلام کے سمجھنے کا جذبہ بیدار کر دیتی ہے، اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا کے یہاں قبول اور مصنف کے لیے ذریعۂ مغفرت اور وسیلۂ شفاعت ہو، تو وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اس کو یہ کہنے کا حق ہوگا:

شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم

روزِ جمعہ

۵ ذی قعدہ ۱۳۹۶ھ

۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء

ابو الحسن علی حسنی ندوی

دائرۂ حضرت شاہ علم اللہؒ، رائے بریلی