مکہ – بعثتِ نبوی کے وقت
مکہ، ایک اہم شہر
بہت سے وہ لوگ جو زمانۂ بعثت کے حالات سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں، اور عربوں کی تاریخ، سماجی زندگی، ان کے ادب و شاعری اور قبائلی روایات پر ان کی نظر گہری نہیں ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ مکہ بعثتِ نبوی کے وقت ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں زندگی عقلی، اجتماعی اور تمدنی ہر لحاظ سے دورِ طفولیت میں تھی۔ وہ قبائل کی چند آبادیوں کا نام تھا، جہاں بالوں کے بنے ہوئے خیموں اور ڈیروں میں، جن کے چاروں طرف اونٹوں، بھیڑ بکریوں اور گھوڑوں کے باندھنے کی جگہیں تھیں، ان کی گزر بسر تھی۔ ان کا کھانا عام بھی روٹی یا اونٹ کا گوشت تھا، جو وہ ٹھیک سے پکانا بھی نہیں جانتے تھے۔ اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔ ان کے کھانے پینے میں کوئی تنوع، نہ لباس میں کوئی خوش نمائی، نہ زندگی میں گرمی و حرارت، نہ احساس میں نزاکت و لطافت، نہ خیال میں بلندی۔
مکہ کی یہ تاریک اور حقیر تصویر، جو تاریخ کی عام کتابوں میں پیش کی گئی ہے، اور وہ زیادہ تر ترجمہ کی گئی زبانوں میں لکھی گئی ہیں، اس تاریخی حقیقت کے خلاف ہے جو تاریخ کی کتابوں، ادب اور جاہلی اشعار میں ملتی ہے، اور جس میں مکہ اور باشندگانِ مکہ کی عادات و روایات اور دستور و قوانین کا، جو ابتدائی بدویانہ زندگی سے ارتقائی شہری اور تمدنی زندگی کے دور میں داخل ہو چکے تھے، خاکہ کھینچا گیا ہے۔
یہ تصویر قرآنِ مجید کے ان اوصاف و اسماء سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتی، جن میں مکہ کو اُمّ القریٰ کے نام سے یاد کیا گیا ہے:
دوسری جگہ اس سے متعلق یہ ارشاد ہے:
ایک جگہ آیا ہے:
واقعہ یہ ہے کہ مکہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط ہی میں دورِ جاہلیت کی زرخیز تہذیب میں داخل ہو چکا تھا، اگرچہ یہ تہذیب اپنے محدود دائرے ہی میں تھی، ایک ایسے نظام کے ماتحت جہاں باہمی تعاون و اتحاد، اجتماعی و عمومی مفاہمت اور تقسیمِ کار بنیاد پر قائم تھی۔ یہ نظام قصیّ بن کلاب کے ہاتھوں قائم ہوا تھا، اور ان کی پانچویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ابتدا میں مکہ کی آبادی قدرتی طور پر محدود تھی۔ یہ مقام دو پہاڑی ڈھلوانوں، جبلِ ابوقبیس، جو صفا پہاڑی کے اوپر واقع تھا، اور جبلِ احمر کے درمیان واقع تھا، جس کو جاہلیت میں اَعرَف کہتے تھے، اور وادیِ قدیعان کے بالکل سامنے تھا۔ لیکن بیت اللہ کی بدولت، اور اس کے خادموں اور پاسبانوں اور مکہ کے باشندوں کو عام طور پر جو عزت و وجاہت حاصل تھی، نیز عمومی امن و سکون تھا، اس کی وجہ سے قبائل کے لیے مکہ میں بڑی کشش تھی۔ بتدریج اس کی آبادی زمانے کے ساتھ خود بخود بڑھتی گئی، خیموں اور چھوٹی دیواروں کی جگہ تعمیر شدہ مکانات بننے لگے اور آبادکاری مسجدِ حرام سے ملحق بالائی و نشیبی وادیوں تک پھیل گئی۔
ابتدا میں یہ لوگ اپنے مکانات کی چہاردیواریاں بھی بیت اللہ کی طرح مربع شکل کی نہ بناتے تھے، اور محسوس کرتے تھے کہ ایسا کرنا ایک طرح کی بے ادبی ہے۔ آہستہ آہستہ اس اہتمام میں گنجائش پیدا کر لی گئی، تاہم اہم مکانات بیت اللہ سے احترازاً بلند نہ کیے جاتے تھے۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ اہلِ مکہ کعبہ کے احترام و تعظیم میں اپنے مکانات گول بناتے تھے، اور پہلے مربع مکان کی تعمیر کو اہلِ قریش نے پسند نہیں کیا۔
مکہ کے مال داروں اور سرداروں کے مکانات پتھر کے بنے ہوئے تھے، اور ان میں کئی کمرے ہوتے تھے اور آمنے سامنے دو دروازے ہوتے تھے، تاکہ گھر کے ایک حصے میں مہمانوں کی موجودگی کے وقت عورتیں دوسرے دروازے سے نکل سکیں۔
مکہ کی تعمیرِ نو اور اس کے اصل بانی
مکہ کی توسیع و ترقی اور تعمیرِ نو میں سب سے بڑا ہاتھ قصیّ بن کلاب کا تھا، اس لیے کہ انہوں نے سب سے پہلے قریش کو اس کا مقصد سمجھایا، اور رہائش کے لیے جگہوں کی باقاعدہ حدبندی کی، جس کو عربی اصطلاح میں رِباع کہتے ہیں۔ قریش کی مختلف برادریوں اور خاندانوں کو ان مکانات میں آباد کیا۔ ان کی اولاد نے مکہ کی اراضی کی تقسیم اور حدبندی کا کام جاری رکھا، خود بھی آباد ہوئے، زمینیں دوسروں کے ہاتھ فروخت کیں، اور خرید و فروخت اور تعمیرات کا سلسلہ بغیر کسی اختلاف و تنازعہ کے قریش اور دوسری برادریوں کے درمیان چلتا رہا۔
ابوالولید الازرقی نے اپنی کتاب اخبارِ مکہ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ رِباع، مکانات اور ان کے گرد و پیش کے حصوں کو کہتے ہیں، اس کا واحد رُبع ہے۔
زندگی کی تنظیم اور عہدوں کی تقسیم
قصیّ اپنی قوم اور اہلِ مکہ دونوں پر فرمانروا تھے۔ حجابت، یعنی بیت اللہ کی دربانی؛ سقایہ، یعنی سبیل اور پانی کا انتظام؛ رفادہ، یعنی حجاجِ بیت اللہ کی سالانہ دعوتِ عام؛ ندوہ، یعنی مجلسِ مشورہ؛ اور لواء، یعنی جنگی امور — سب انہی کے ہاتھ میں تھے۔
انہوں نے دارالندوہ کو مسجدِ حرام سے بالکل متصل تعمیر کیا، اور اس کا دروازہ کعبہ کی طرف کھلا تھا۔ یہ قصیّ بن کلاب کا گھر بھی تھا، اور قریش کے مشوروں، فیصلوں اور مکہ کی سوسائٹی کا مرکز بھی۔ قریش کا کوئی فرد یا عورت شادی کرنا چاہتا، کسی اہم اور ضروری معاملے میں مشورہ کرنا ہوتا، کسی قبیلے کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا ہوتا، یا جنگ کی تیاری کا مرحلہ آتا، حتیٰ کہ کوئی بڑی تدبیر سوچی جاتی، تو اسے اسی دارالندوہ میں سوچا جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ قصیّ کی شخصیت کو ان کی زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی غیر معمولی عظمت حاصل رہی۔ قانون یہ تھا کہ دارالندوہ میں بنی قصیّ کے علاوہ دوسرے قبیلوں کے وہی اشخاص آ سکتے تھے جن کی عمر چالیس برس سے کم نہ ہو، البتہ بنی قصیّ اور ان کے حلیف قبائل کے افراد اس میں شریک ہونے کا حق رکھتے تھے۔
قصیّ کے انتقال کے بعد جب یہ عہدے نئی تقسیم میں آئے، تو بنی ہاشم کو سقایہ، بنی اُمیّہ کو قریش کا پرچمِ عقاب، بنی نوفل کو رفادہ، بنی عبدالدار کو لواء، سدانت و حجابت، اور بنی اسد کو مشاورت کا منصب ملا۔
قریش کے مختلف اصحابِ رائے اور اہلِ وجاہت میں ذمہ داریاں بھی تقسیم تھیں۔ دیات، تاوان اور جرمانوں کے معاملات حضرت ابوبکر صدیقؓ، جو بنی تیم میں سے تھے، کے سپرد تھے۔ خالد بن الولیدؓ، جو بنی مخزوم میں سے تھے، کے پاس قُبّہ اور اَعِنّہ تھے؛ قُبّہ اس خیمے کو کہتے تھے جس میں فوجی ضروریات کا سامان رکھا جاتا، اور اَعِنّہ جنگ کے دوران قریش کے گھوڑوں اور فوجی انتظام سے متعلق تھا۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کے پاس سفارت تھی۔ جب کسی قبیلے سے گفتگو یا مقابلے کی ضرورت پیش آتی، تو ان کو نمائندہ بنا کر بھیجا جاتا۔ صفوان بن اُمیّہ، جو بنی جُمَح میں سے تھے، کے ذمہ اَیسار و اَزلام کا معاملہ تھا، اور حارث بن قیس کے سپرد بتوں کے نام پر آنے والے مال کا نظم و انتظام تھا۔
رفادہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو حجاج کے لیے بطورِ ضیافت تیار کیا جاتا تھا۔ قریش ہر سال اس کے اخراجات کے لیے مقرر رقم جمع کرتے تھے۔
تجارتی سرگرمیاں اور درآمد و برآمد
قریش تجارتی اغراض سے سفر کرتے تھے؛ ایک سفر شام کی طرف موسمِ گرما میں اور دوسرا یمن کی طرف موسمِ سرما میں۔ رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان کے نزدیک عزت و حرمت کے مہینے سمجھے جاتے تھے، اور ان میں جنگ سے احتراز کیا جاتا تھا۔ ان مہینوں میں بازار اور میلے لگتے، اور جزیرۃ العرب کے دور دراز مقامات سے لوگ ذوق و شوق کے ساتھ شریک ہوتے تھے، اور ان میں ضروریاتِ زندگی کا پورا سامان ملتا تھا۔
تاریخِ مکہ کی کتابوں میں بیس پچیس بازاروں کا ذکر ملتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے باشندے تمدن و ترقی کی کس سطح پر تھے۔ ان بازاروں میں ایک بازار عطاروں کے لیے مخصوص تھا، ایک مختلف پھلوں کے لیے، ایک کپڑے کے لیے، اور ایک بازار صرف حجاموں کے لیے تھا۔ بیشتر بازار بہت کشادہ اور وسیع ہوتے تھے، جن میں گھی، شہد اور مختلف اجناس، جو تجارتی قافلے باہر سے لاتے تھے، بڑی مقدار میں موجود رہتی تھیں۔ بہرحال اہلِ مکہ کے لیے غلّہ کی منڈی تھی۔ ان بازاروں کے علاوہ ایک گلی جوتوں کی دکانوں کے لیے اور ایک کپڑوں کے لیے مخصوص تھی۔
اہلِ مکہ کی کچھ تفریح گاہیں بھی تھیں، جہاں گرمی کے دنوں میں سرِ شام خوش باش و خوش طبع نوجوان جمع ہوتے تھے، جو زیادہ تر دولت مند اور ناز و نعمت کے عادی تھے۔ وہ سردیاں مکہ میں گزارتے اور گرمیاں طائف میں۔ مکہ کے کچھ نوجوان خوش پوشاکی، جامہ زیبی، تجمل اور آرائش میں مشہور تھے؛ ان میں سے بعض کی پوشاکیں کئی کئی سو درہم میں تیار ہوتی تھیں۔
تجارتی سرگرمیاں اور نقل و حرکت مکہ میں بڑے عروج پر تھیں۔ وہاں کے تاجر افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتے تھے، اور ہر ملک سے تحفے، مشہور و مخصوص اشیاء اور وہ چیزیں جن کی ملک کو ضرورت تھی اپنے ہمراہ لاتے تھے۔ افریقہ سے گوند، ہاتھی دانت، سونا، آبنوس کی لکڑی، اگربتی و لوبان اور کپڑے؛ عراق سے مختلف مصالحے؛ ہندوستان سے تجارتی اشیاء؛ یمن سے جواہرات، یاقوت اور صندل؛ مصر و شام سے مختلف قسم کے تیل و اجناس، غلّہ، اسلحہ، ریشم اور ظروفِ شیشہ آتے تھے۔
ثمامہ بن اُثال، جو بنی حنیفہ کے ایک سردار تھے، اسلام لانے کے بعد یمامہ سے قریش کو غلّہ بھیجنے پر پابندی لگا دی۔ قریش کو دشواری پیش آئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی، اور آپ نے ثمامہؓ کو پابندی اٹھانے کا حکم دیا۔ دیکھیے: زاد المعاد، صحیح بخاری و صحیح مسلم۔
بعض سلاطین و امراء کو بھی مکہ کی خاص مصنوعات و سوغات ہدیہ کی جاتی تھیں، جن میں چمڑا خاص طور پر معروف تھا۔ جب قریش نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس اپنے دو نمائندے، عبداللہ بن ربیعہ اور عمرو بن العاص بن وائل کو، ان مسلمانوں کو واپس لانے کے لیے بھیجا جو حبشہ ہجرت کر گئے تھے، تو وہ مکہ کے خاص تحفے کے طور پر چمڑا بھی ساتھ لے گئے تھے۔
عورتیں بھی تجارتی کاروبار کرتی تھیں، اور شام اور دوسرے ممالک میں تجارتی قافلے بھیجتی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ بنتِ خویلد اس میں زیادہ مشہور تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اقتصادی حالت، اوزان اور پیمانے
ان وجوہ کی بنا پر مکہ تجارت میں بہت آگے تھا۔ اہلِ مکہ میں سے متعدد افراد بہت خوش حال اور فارغ البال تھے، اور ان کے پاس خاصا سرمایہ اکٹھا ہو گیا تھا۔ اس کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ قریش کا تجارتی کارواں، جو غزوۂ بدر کے موقع پر واپس آیا، ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا، اور اس پر پچاس ہزار دینار کا مال و اسباب لدا ہوا تھا۔
اہلِ مکہ رومانی، بازنطینی اور ایرانی، ساسانی سکّے استعمال کرتے تھے۔ مکہ اور جزیرۃ العرب میں اس وقت رائج سکّوں میں دینار اور درہم معروف تھے۔ درہم کی مختلف قسمیں اور مختلف اوزان تھے؛ ان میں بغلیہ، سوداء وافیہ اور طبریہ جیسے نام ملتے ہیں۔ درہم چاندی کے سکّے تھے اور وزن کے اختلاف کی وجہ سے اہلِ مکہ ان کے شمار پر نہیں بلکہ وزن پر معاملہ کرتے تھے۔ علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ دس درہم کا وزن سات مثقال سونے کے مساوی مانا جاتا تھا، اور خالص سونے کا ایک مثقال بہتر دانوں کے ہم وزن شمار کیا جاتا تھا۔
مصنف ابن ابی شیبہ، ج ۳، ص ۲۲۲۔
جہاں تک دینار کا تعلق ہے، وہ سونے کا ہوتا تھا، اور جاہلیت و اسلام کے ابتدائی دور میں شام اور حجاز میں اس کا رواج تھا۔ روم میں اس کے سکّے ڈھالے جاتے تھے اور ان پر بادشاہِ روم کی تصویر اور رومی زبان میں عبارت کندہ ہوتی تھی۔ جیسا کہ ابن عبدالبر نے التمہید میں لکھا ہے، لفظ دینار دراصل قدیم رومی سکّے DENARIUS سے عربی زبان میں آیا ہے، اور انجیل میں بھی اس کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔
دینار کا وزن ایک مثقال کے برابر ٹھہرایا جاتا تھا، اور خالص سونے کا ایک مثقال، جیسا کہ اوپر گزر چکا، بہتر دانوں کے ہم وزن مانا جاتا تھا۔ حدیث، فقہ اور تاریخ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ایک دینار کو دس دراہم کے مساوی شمار کیا جاتا تھا۔ عمرو بن شعیبؓ سے مروی ہے کہ دیت کی قیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آٹھ سو دینار یا آٹھ ہزار درہم تھی۔ اس کے بعد صحابہؓ کا اسی پر عمل رہا۔
امام مالکؒ نے موطا میں لکھا ہے کہ صحیح مسلک، جس میں ہمارے نزدیک اختلاف نہیں، یہ ہے کہ زکوٰۃ بیس دینار پر یا دو سو درہم پر واجب ہے۔
بعض محققین کے مطابق قدیم رومی صولیدیس کا وزن تقریباً ۴٫۵۵ گرام تھا؛ بعد کی اسلامی اصلاحات میں دینار کا معیار تقریباً ۴٫۲۵ گرام ہوا۔
استفادہ: بلوغ الارب فی معرفۃ احوال العرب، عبدالحی الکتانی، فقہ الزکاۃ از یوسف القرضاوی، اور متعلقہ فقہی و تاریخی مآخذ۔
ناپ تول کے جو پیمانے اس زمانے میں رائج تھے، ان میں صاع، مُد، رطل، اوقیہ اور مثقال تھے۔ علمِ حساب سے بھی ان کو واقفیت تھی، اور میراث وغیرہ کے حصوں کے حساب میں اس علمی واقفیت کا استعمال ہوتا تھا۔
قریش کا دولت مند طبقہ
جن گھرانوں میں خوش حالی اور مالی فراوانی تھی، ان میں بنو اُمیّہ اور بنو مخزوم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اشخاص میں ولید بن المغیرہ اور دوسرے بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں کے نام آتے ہیں۔ ان میں عبداللہ بن جدعان التیمی زیادہ نامور اور مشہور تھے، جن کے متعلق آتا ہے کہ وہ سونے کے پیالے میں پانی پیتے تھے، اور ان کا پورا لنگر خانہ تھا جس میں غریبوں اور بھوکے لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔
عباسؓ بن عبدالمطلب کا شمار بھی قریش کے دولت مند لوگوں میں تھا۔ وہ اپنی دولت دوسرے لوگوں پر خوب خرچ کرتے تھے، اور سودی لین دین بھی کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام کا غلبہ ہوا اور سود کی حرمت نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ربا کے خاتمے کا اعلان فرمایا، اور اس کا آغاز اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے سود سے کیا۔
ان میں ایسے ذوق پسند دولت مند بھی تھے جن کے گھروں میں شبانہ محفلیں گرم رہتی تھیں، فرش و فروش سے آراستہ دسترخوان سجے ہوتے اور بادہ و جام کا دور چلتا۔ سردارانِ قوم کی محفلیں زیادہ تر بیت اللہ کے سامنے جمع ہوتیں، جہاں شعر و شاعری ہوتی، اور جاہلیت کے ممتاز شعراء، جیسے لبید بن ربیعہ وغیرہ، شریک ہوتے۔ یہ بھی ذکر آتا ہے کہ عبدالمطلب کا فرش کعبہ کے سایے میں بچھایا جاتا تھا؛ ان کے لڑکے ادب و احترام میں فرش کے باہر چاروں طرف بیٹھتے، اور جب تک وہ نہ آتے کوئی فرش پر نہ بیٹھتا۔
مکہ کی صنعتیں اور فن و ثقافت
اہلِ مکہ کی نظر میں صنعت و حرفت کی زیادہ اہمیت نہ تھی، بلکہ وہ اسے حقارت سے دیکھتے اور اپنے لیے باعثِ ننگ و عار سمجھتے تھے۔ عام طور پر صنعت و حرفت غلاموں اور عجمیوں کے ساتھ مخصوص سمجھی جاتی تھی۔ تاہم بعض صنعتیں، جن کی انہیں سخت ضرورت تھی، وہاں موجود تھیں، اور مکہ کے بعض لوگ ان سے متعلق تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت خبابؓ بن الارت تلواریں تیار کرتے تھے، اور تعمیرات وغیرہ میں ضرورت پڑنے پر بیرونی اور عجمی مزدوروں سے بھی کام لیا جاتا تھا۔
ناخواندگی وہاں عام تھی، لیکن کچھ لکھنے پڑھنے والے لوگ موجود تھے۔ قرآنِ مجید نے اسی لیے ان کو اُمّی کہا ہے:
مکہ والے پورے جزیرۃ العرب میں ذوقِ طبع، ذوقِ لطافت اور آرائش و تجمل میں ممتاز سمجھے جاتے تھے، جیسا کہ تقریباً ہر قدیم تہذیب رکھنے والے دارالسلطنت اور پایۂ تخت کا حال ہوتا ہے۔
جہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے، اس کو سند و میزان کا درجہ حاصل تھا، اور جزیرۃ العرب کے اطراف و اکناف میں براہِ راست اسی پر اعتماد کیا جاتا تھا، کیونکہ باشندے فصاحت و بلاغت اور قدرتِ کلام میں ممتاز تھے، اور ابتذال، سوقیانہ پن اور عجمی اثرات سے نسبتاً دور اور محفوظ رہتے تھے۔ تناسبِ اعضاء، جسمانی ساخت، حسن و جمال اور اعتدال و توازن میں بھی وہ دوسرے علاقوں کی نسبت ممتاز تھے، اور جوانمردی و عالی ظرفی کی ان صفات کے حامل تھے جن کو عربی میں الفتوّة اور المروءة سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ان کی دلچسپی کے موضوعات میں انساب، اخبارِ عرب، شعر و شاعری، علمِ نجوم، پرندوں سے شگون لینا، کسی قدر طب و علاج، شہسواری، گھوڑوں کی پہچان اور قیافہ شناسی جیسے علوم شامل تھے۔ علاج و معالجے کے رائج طریقوں میں داغنے، فاسد عضو کو کاٹنے، فصد کھلوانے، پچھنا لگوانے اور ادویہ کے استعمال کا ذکر آتا ہے۔
جنگی طاقت
جہاں تک جنگی طاقت کا تعلق ہے، قریش طبعاً امن پسند اور عافیت کوش تھے۔ دوسری معاصر قوموں کی طرح ان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تجارت کے فروغ، قافلوں کی مستقل آمد و رفت، بازاروں اور منڈیوں کی تنظیم، اور تاجروں اور پیشہ وروں کی آمد پر تھا۔ اس سے ان کی مذہبی عظمت و اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا تھا، اور اقتصادی طور پر بھی نفع حاصل ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
عرب کی طویل اور خونریز جنگوں کی وجہ سے، جن میں حربُ البسوس اور داحس و غبراء مشہور ہیں اور جو طویل مدت تک جاری رہیں، وہ جنگ کے خوفناک نتائج اور دور رس اثرات سے ناواقف نہ تھے۔ وہ مکہ کی حربُ الفجار اور یثرب کی جنگِ بُعاث کا انجام بھی دیکھ چکے تھے، اور ان دونوں شہروں کی تمدنی، اقتصادی اور اخلاقی زندگی پر ان کے اثرات سے واقف تھے۔ اس لیے وہ بلا ضرورت جنگ کو دعوت دینے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے۔
اس کے ساتھ وہ قابلِ لحاظ فوجی طاقت کے بھی مالک تھے، شجاعت و بہادری میں معروف اور شہسواری میں ممتاز تھے۔ قریش نے صرف اپنی ذاتی طاقت پر بس نہیں کیا، بلکہ اَحابیش کی قابلِ لحاظ قوت سے بھی فائدہ اٹھاتے تھے، جو اطراف کے رہنے والے بعض عرب قبائل پر مشتمل تھے۔ خزاعہ بھی قریش کے حلیف تھے۔ اس کے علاوہ قریش کے پاس غلاموں کی بڑی تعداد تھی، جو لڑائیوں میں ان کے پرچم کے نیچے رہتے تھے۔ وہ بیک وقت کئی ہزار جنگی افراد جمع کر سکتے تھے، اور غزوۂ احزاب کے موقع پر ان کی مجموعی تعداد دس ہزار تک جا پہنچی تھی، جو اس دور میں جزیرۃ العرب کی بہت بڑی جنگی نفری تھی۔
مکہ جزیرۃ العرب کا ایک بڑا شہر اور اس کا روحانی و سماجی پایۂ تخت
اس مذہبی حیثیت و مرکزیت، معاشی فراغ البالی، تجارتی سرگرمیوں اور تمدن و معیشت میں ترقی کی وجہ سے مکہ جزیرۃ العرب کا ایک بڑا شہر بن گیا تھا، اور یمن کے مشہور شہر صنعاء سے آنکھیں ملا رہا تھا۔ جب چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں صنعاء پر یکے بعد دیگرے حبشہ اور ایران کا تسلط ہو گیا، اور غسان کی ریاستوں کی بھی وہ سابقہ شان و شوکت جاتی رہی، تو اس وقت مکہ نے جزیرۃ العرب کے ایک ایسے مذہبی اور سماجی پایۂ تخت کی حیثیت اختیار کر لی جس میں اس کا کوئی شریک و ہمسر نہ تھا۔
اخلاقی پہلو
مکہ کا اخلاقی پہلو بہت کمزور تھا، سوائے ان چند جاہلی روایات و افتخارات کے جن کو وہ اپنے سینے سے چمٹائے ہوئے تھا۔ سود کا کاروبار عام تھا اور وہ اس پر فخر کرتے تھے۔ شراب نوشی عام طور پر رائج تھی، عیش و طرب اور رقص و نغمہ کی محفلیں کثرت سے آراستہ ہوتی تھیں اور دورِ جام چلتا تھا۔ بہت سے فواحش، ظلم و ستم، حق تلفی، ناانصافی اور ناجائز کمائی ان کے معاشرے میں بری نظر سے نہ دیکھی جاتی تھی۔
اس اخلاقی پستی کی، جو عام طور پر جزیرۃ العرب اور خاص طور پر مکہ میں ہمیں نظر آتی ہے، سچی اور حقیقی تصویر وہ ہے جو قریش کے ایک فرزند اور مکہ کے اصلی و قدیم باشندہ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے سامنے پیش کی تھی، اور اس وقت کی عربی معاشرت اور جاہلی کردار کا نقشہ کھینچا تھا:
مذہبی پہلو
مذہبی پہلو، اخلاقی و تمدنی زاویۂ نگاہ سے، اور زیادہ کمزور تھا۔ عہدِ نبوت سے فاصلہ بہت بڑھ چکا تھا، جہالت عام تھی، اور بت پرستی، جو انہوں نے اپنے پڑوس کی قوموں سے سیکھی تھی، دلوں میں گھر کر چکی تھی۔ بتوں سے ان کا ایک قسم کا عشق ہو گیا تھا۔ کعبہ کے صحن اور اندرونی حصے میں تین سو ساٹھ بت تھے، جن میں سب سے بڑا ہُبل تھا، جسے خطاب کرتے ہوئے ابوسفیان نے جنگِ اُحد میں کہا تھا: اُعْلُ هُبَل۔
ہُبل کعبہ کے اندر ایک گڑھے کے اوپر نصب تھا، جس میں نذرانے وغیرہ جمع ہوتے تھے۔ یہ بت سرخ عقیق کا بنا ہوا اور انسان کی شکل میں تھا۔ اس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، قریش نے اس کے لیے سونے کا ہاتھ بنوا دیا تھا۔
اَساف اور نائلہ نام کے دو بت بھی تھے؛ ایک کعبہ کے قریب اور دوسرا زمزم کے پاس۔ صفا پر بھی ایک صنم تھا جس کا نام ’’نہیک مجاود الریح‘‘ بتایا گیا ہے، اور مروہ پر ایک بت ’’مطعم الطیر‘‘ کے نام سے نصب تھا۔ عُزّیٰ عرفات کے قریب تھی، اور قریش کے نزدیک بہت معزز بتوں میں شمار ہوتی تھی۔ مختلف مقامات پر دوسرے بت بھی نصب تھے، جن کے سامنے قربانیاں، نذرانے اور دوسری جاہلی رسوم ادا کی جاتی تھیں۔
مکہ کے بہت سے گھروں میں بھی ایک ایک بت تھا جس کی گھر والے عبادت کرتے تھے۔ بعض بتوں کو جَو اور گیہوں کا نذرانہ پیش کیا جاتا، دودھ سے نہلایا جاتا، ان کے لیے قربانی کی جاتی اور ان پر شترمرغ کے انڈے لٹکائے جاتے تھے۔ بت مکہ میں گلی گلی آواز دے کر بیچے جاتے تھے، اور دیہات کے لوگ انہیں خرید کر اپنے گھروں میں لے جاتے تھے۔
اس طرح یہ قوم، اپنی ساری جوانمردی، وفاداری، جان نثاری اور کریمانہ عربی اوصاف کے باوجود، بت پرستی، اوہام و خرافات سے وابستگی، صحیح دینی مفہوم سے ناواقفیت، اور پاکیزہ و لطیف دینِ حنیف اور ملتِ ابراہیمی سے دوری کے اس درجے پر پہنچ چکی تھی جہاں دنیا کی بہت کم قومیں ہوں گی۔ چھٹی صدی کے وسط کا یہ وہ تاریک افق تھا جس سے آفتابِ اسلام طلوع ہونے والا تھا۔
اس فصل میں تفسیر و حدیث اور تاریخی اشارات کی روشنی کے ساتھ متعدد معلومات درج ذیل مآخذ سے بھی لی گئی ہیں: کتاب الاصنام للکلبی، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، اخبارِ مکہ از امام ابی الولید محمد الازرقی، بلوغ الارب فی معرفۃ احوال العرب از سید محمود شکری الآلوسی، نیز تاریخِ مکہ اور مکہ و مدینہ کے عہدِ جاہلیت سے متعلق تاریخی کتب۔