عہدِ بعثت کے یثرب پر ایک نظر

مکی اور مدنی معاشروں کا فرق

شہرِ یثرب کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دارالہجرت، اسلام کی عالمی دعوت کا مرکز اور ظہورِ اسلام کے بعد قائم ہونے والے پہلے اسلامی معاشرہ کا گہوارہ بنایا، ہمیں اس کی تمدنی، معاشرتی، اقتصادی صورتِ حال، قدیم قبائل کے باہمی تعلقات، اور وہاں کے یہود کی معاشرتی، اقتصادی اور جنگی اہمیت، اور اس زرخیز شہر کے معیارِ زندگی کو سمجھنا ہوگا؛ جہاں متعدد مذاہب، ثقافتیں اور معاشرے دوش بدوش تھے، جب کہ مکہ مکرمہ کا ایک رنگ، ایک طرز اور ایک ہی مذہب تھا۔ اس سلسلے میں یہاں قارئین کے سامنے کچھ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں جن کی مدد سے وہ زمانۂ بعثت کے شہرِ یثرب کی نوعیت اور صورتِ حال کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔

مدینہ منورہ و مضافات — تاریخی نقشہ
مدینہ منورہ و مضافات — کتاب میں شامل تاریخی نقشہ

یہود

اس تاریخی حقیقت کو تقریباً سبھی مؤرخین نے تسلیم کیا ہے کہ یہود کی اکثریت جزیرۃ العرب میں عموماً اور شہرِ یثرب میں خصوصاً پہلی صدی عیسوی کے آخری حصے میں آئی۔ مشہور یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل ولفسن لکھتا ہے کہ سنہ 70ء میں رومی اور یہودی جنگ کے نتیجے میں فلسطین اور بیت المقدس برباد ہوگئے اور یہود دنیا کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے تو یہود کی بہت سی جماعتوں نے بلادِ عرب کا رخ کیا۔ یہودی مؤرخ جوزیفوس، جو خود بھی اس جنگ میں شریک تھا اور بعض مواقع پر اس نے یہودی فوجی ٹکڑیوں کی بھی قیادت کی تھی، اس کی تائید کرتا ہے۔

یثرب میں یہود کے تین بڑے قبیلے آباد تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بنو قینقاع کے لڑنے والوں کی تعداد تقریباً سات سو تھی، بنو نضیر کے آدمیوں کی تعداد بھی قریب قریب اتنی ہی تھی، جب کہ بنو قریظہ کے بالغوں کی تعداد سات سو اور نو سو کے درمیان تھی۔

تاریخ الیہود فی بلاد العرب فی الجاہلیۃ و صدر الاسلام، ڈاکٹر اسرائیل ولفسن، اردو ترجمہ، ص ۱۹۱-۱۹۲۔

یہ اعداد سیرت و تاریخ میں مذکور جنگوں اور واقعات کے اعداد و شمار سے اخذ کیے گئے ہیں۔ مدینہ میں ان تین بڑے قبائل کے علاوہ یہودیوں کی متعدد شاخیں اور چھوٹی جماعتیں بھی آباد تھیں۔

ان تینوں قبائل کے باہمی تعلقات ہمیشہ خوشگوار نہ تھے اور کبھی لڑائیاں بھی ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر ولفسن لکھتا ہے کہ بنو قینقاع اور دوسرے یہودی قبائل کے درمیان عداوت چلی آتی تھی، اور یومِ بعاث کے موقع پر ان کی وابستگیاں مختلف فریقوں کے ساتھ تھیں۔ اس کے نتیجے میں یہودی قبائل میں باہمی نزاع اور کشیدگی باقی رہی، یہاں تک کہ بعد کے واقعات میں ایک یہودی قبیلے نے دوسرے کی مدد نہ کی۔

قرآنِ مجید نے بھی ان کے باہمی اختلاف و عداوت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ ۝ ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ تم آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور اپنے لوگوں کو اپنے وطن سے نہ نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم مانتے ہو؛ پھر تم ہی ہو کہ اپنے لوگوں کو قتل کرتے اور اپنے ایک فریق کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو، گناہ اور ظلم کے طور پر ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی ہو کر آئیں تو فدیہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو، حالاں کہ ان کا نکال دینا بھی تم پر حرام ہے۔
سورۃ البقرہ، آیات ۸۴-۸۵

یہودی مدینہ کی مختلف بستیوں اور محلوں میں رہتے تھے۔ بنو قینقاع شہر کے اندر اپنے ایک خاص محلے اور بازار کے قریب آباد تھے۔ بنو نضیر مدینہ سے دو تین میل کی دوری پر ایسی جگہ رہتے تھے جو کھجوروں اور کھیتوں سے مالا مال تھی، اور بنو قریظہ مدینہ کے جنوب کی سمت آباد تھے۔ مدینہ میں یہودیوں کی مخصوص بستیاں تھیں جن میں ان کے قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں اور وہ ان میں مستقل طور پر رہتے تھے۔

انہیں اپنی الگ یہودی حکومت قائم کرنے کا موقع نہ ملا؛ وہ مختلف قبائلی سرداروں کی حمایت اور حفاظت کے تحت رہتے اور اس حمایت کے بدلے میں محصول ادا کرتے تھے۔ اس سے وہ پڑوسی بدوی قبائل کے حملوں سے بھی محفوظ رہتے تھے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر وہ معاہدوں اور حلیفانہ تعلقات کے محتاج تھے، چنانچہ یہودی سردار اعراب اور رؤسائے عرب میں سے کسی نہ کسی کو اپنا حلیف بنائے رکھتے تھے۔

بنو اسرائیل فی القرآن والسنۃ، ص ۷۷۔

تلخیص از تاریخ العرب قبل الاسلام، ج ۲، ڈاکٹر جواد علی، بغداد۔

مذہبی امور

یہودی اپنے کو ایک مستقل مذہب اور آسمانی شریعت کا حامل سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے مدرسوں میں، جن کو مدارس کہتے تھے، اپنے دینی اور دنیوی امور، شرعی احکام، تاریخ اور اپنے انبیاء و بزرگوں کے آثار پڑھاتے تھے۔ اسی طرح مخصوص عبادت گاہوں میں عبادات اور مذہبی شعائر انجام دیتے تھے، اور انہی مقامات پر اپنے دینی و اجتماعی معاملات کے سلسلے میں مشورے اور تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہوتے تھے۔

وہ اپنے مخصوص دینی قوانین پر عمل کرتے تھے، جن میں سے کچھ انہوں نے اپنی کتابوں سے اخذ کیے تھے اور کچھ ان کے علما اور مذہبی پیشواؤں کی تشریحات سے وجود میں آئے تھے۔ اسی طرح ان کی مخصوص عیدیں اور مذہبی دن تھے اور بعض خاص ایام، مثلاً یومِ عاشوراء، میں روزہ بھی رکھتے تھے۔

یہود کی مذہبی و اخلاقی حالت

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودی مذہب کا اپنے اصل دین اور اپنی کتابوں کی تعلیمات سے تعلق بہت کمزور ہوگیا تھا، اور مرورِ ایام سے وہ بھی اپنے ہمسایہ غیر یہودیوں کی طرح بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ البتہ عقیدۂ توحید کا کچھ اثر اور کھانے پینے میں حلال و حرام کی تمیز باقی رہ گئی تھی؛ لیکن جب اسلام خالص اور واضح عقیدۂ توحید کے ساتھ آیا، اور قرآنِ مجید نے اس کے اصلی معیار کو پیش کیا، تو امتیاز کا یہ سہارا بھی باقی نہ رہا۔

بنو اسرائیل فی القرآن والسنۃ، ص ۸۰-۸۱۔

مصنف کے بیان کے مطابق اخلاقی زوال کے بھی کئی مظاہر موجود تھے۔ اپنے مخالفین سے انتقام لینے، طنز و تعریض، فریب، مکر اور دوسرے طریقوں سے دل کی بھڑاس نکالنے کے واقعات ملتے ہیں۔ فنونِ سحر و کہانت کے ساتھ بعض یہودی طبقوں کی وابستگی کا ذکر بھی تاریخ میں آتا ہے، اور قرآنِ مجید نے اس سلسلے میں فرمایا ہے:

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ
اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیاطین سلیمانؑ کی سلطنت کے زمانے میں پڑھا کرتے تھے۔
سورۃ البقرہ، آیت ۱۰۲

مشہور مستشرق ڈی۔ ایس۔ مارگولیتھ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے بارے میں اپنے تعصب کے لیے بھی معروف ہے، مدینہ کے یہودیوں میں سحر و جادو کے رواج کا ذکر کرتا ہے۔ بعد میں غزوۂ خیبر کے بیان میں کھانے میں زہر ملانے کا واقعہ بھی آتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

D. S. Margoliouth, Muhammad & the Rise of Islam, p. 189.

صحیح بخاری، متعلقہ ابوابِ سیر و مغازی۔

معروف کلمات کو ایک خاص طرز سے استعمال کرنے اور ان سے برے معنی مراد لینے کا ذکر قرآنِ شریف میں اس طرح آیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اے ایمان والو! تم ’’راعنا‘‘ نہ کہا کرو بلکہ ’’انظرنا‘‘ کہا کرو، اور توجہ سے سنا کرو؛ اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت ۱۰۴

بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ لفظ ’’راعنا‘‘ کو ایسے لہجے اور معنی میں استعمال کرتے تھے جو اہانت پر مبنی تھا؛ اس لیے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روک کر ’’انظرنا‘‘ کہنے کی تعلیم دی گئی۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ بعض یہود سلام کرتے ہوئے ’’السام علیک‘‘ کہتے اور اس سے موت مراد لیتے تھے۔

روح المعانی، علامہ آلوسی بغدادی، ج ۱، ص ۳۲۸-۳۲۹۔

صحیح بخاری، کتاب الدعوات۔

مصنف نے بنو قینقاع کے بازار میں ایک عرب عورت کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو بھی اس معاشرتی کشیدگی کی ایک مثال کے طور پر ذکر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی کاریگر کے درمیان جھگڑا ہوا اور دونوں جانب جانی نقصان پیش آیا۔

اقتصادیات

دوسری قوموں کے ساتھ یہود کے بیشتر مالی معاملات قرض اور سود پر قائم تھے، اور مدینہ جیسے زرعی علاقے کے پیشِ نظر انہیں اس کاروبار کے لیے خاصا موقع حاصل تھا، کیونکہ کسانوں کو کھیتی کے موسم میں اکثر قرض کی ضرورت پیش آتی تھی۔ رہن کا نظام صرف زرعی معاملات تک محدود نہ تھا بلکہ تجارتی معاملات میں بھی کسی چیز کو رہن رکھا جاتا تھا۔

کعب بن اشرف کے واقعے کے ضمن میں امام بخاری نے محمد بن مسلمہؓ کے ساتھ ہونے والی گفتگو نقل کی ہے:

قَالَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: قَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ. فَقَالَ: نَعَمْ، ارْهَنُونِي… قَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَرْهَنُكَ؟ …

محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ قرض دیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، میرے پاس کچھ رہن رکھو۔ گفتگو میں عورتوں اور بچوں کو رہن رکھنے کی تجویز آئی، جسے انہوں نے باعثِ عار قرار دیا، اور آخرکار ہتھیار رہن رکھنے پر بات ہوئی۔

اس نوع کے مالی نظام کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ قرض دینے والوں اور قرض لینے والوں کے درمیان نفرت و عداوت پیدا ہوتی، بالخصوص اس وقت جب قرض دینے والا طبقہ اقتصادی طور پر طاقتور ہو۔ مصنف کے مطابق سودی معاملات، منڈیوں پر اثر اور ذخیرہ اندوزی نے اس خلیج کو مزید بڑھایا۔

ڈی لیسی او لیری نے اپنی کتاب Arabia Before Muhammad میں عرب بدوی آبادی اور یہودی نوآبادیوں کے تعلقات کے بگاڑ کا ذکر کیا ہے، اور لکھا ہے کہ اوس و خزرج اور یہود کے تعلقات میں سیاسی و معاشی رقابت ایک اہم عامل تھی۔

صحیح بخاری، واقعۂ کعب بن اشرف۔

De Lacy O’Leary, Arabia Before Muhammad, London 1927.

دینی و ثقافتی حالت

بلادِ عرب کے یہودیوں کی زبان فطری طور پر عربی ہی تھی، لیکن وہ اپنی اصل زبان سے بالکل منقطع نہیں ہوئے تھے؛ ان کی عربی میں کہیں کہیں عبرانی الفاظ کی آمیزش پائی جاتی تھی، کیونکہ انہوں نے عبرانی کا استعمال پوری طرح نہیں چھوڑا تھا اور اپنی عبادتوں، مذہبی تعلیم اور علمی امور میں اسے استعمال کرتے رہتے تھے۔

یہود کے دینی رویّے کے بارے میں مصنف نے اس پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے مذہبی تشخص کی حفاظت تو کرتے تھے، لیکن اپنے دین کو دوسرے عرب قبائل میں عام کرنے اور اسے ایک دعوتی تحریک بنانے کی کوئی نمایاں منظم کوشش نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے طویل قیام، معاشی اثر و رسوخ اور علمی روایات کے باوجود جزیرۃ العرب کے عمومی مذہبی ماحول میں وہ بنیادی تبدیلی پیدا نہ کر سکے۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود اپنے دین کی حفاظت اور بقا کے وسائل رکھتے تھے؛ لیکن انہوں نے دوسری قوموں کو اپنے دین کے قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی منظم کوشش نہیں کی، اور بعض اسباب کی بنا پر غیر یہودیوں میں تبلیغِ دین ان کے یہاں محدود رہی۔‘‘

اپنے معاشرے کو نئے حالات و تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، نئے چیلنج کو سمجھنے اور اسلام کے ظہور سے پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ مصنف کے نزدیک نام و نسب پر فخر، تاریخی جمود اور داخلی معاشرتی کمزوریاں بھی ان کے لیے رکاوٹ بنیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اوس و خزرج اور دوسرے عرب قبائل سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے اپنی مرضی، رشتہ داری یا یہودی ماحول میں پرورش پانے کے سبب یہودیت اختیار کی تھی۔ کتبِ سیرت میں ایسے افراد اور خاندانوں کے متعدد واقعات مذکور ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَكُونُ مِقْلَاتًا فَتَجْعَلُ عَلَى نَفْسِهَا إِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ أَنْ تُهَوِّدَهُ…

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ بعض عورتیں، جن کے بچے زندہ نہ رہتے، منت مانتی تھیں کہ اگر بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی بنا دیں گی۔ بعد میں اسلام آنے پر اسی پس منظر میں ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ کے اصول کا ذکر کیا گیا۔

اوس و خزرج

اوس و خزرج، یعنی مدینہ کے عرب باشندوں، کا سلسلۂ نسب یمن کے قبیلۂ اَزد سے ملتا ہے۔ یمن سے یثرب کی طرف ہجرت کے بعد یہ مختلف شاخوں میں بٹ گئے۔ سیلِ عَرِم اور مآرب کے بند کی تباہی کے بعد یمن سے متعدد خاندان حجاز کی طرف منتقل ہوئے، اور انہی میں اوس و خزرج کے آباء و اجداد بھی شامل تھے۔

اوس کے قبائل مدینہ کے جنوب مشرقی اور زرعی علاقوں میں آباد ہوئے، جب کہ خزرج کی بہت سی شاخیں وسطی اور شمالی حصوں میں پھیلیں۔ ان کے متعدد قبیلے اور خاندان تھے، اور مدینہ کے یہودی قبائل کے ساتھ ان کے ہمسائیگی، حلیفانہ تعلقات اور کبھی کشمکش بھی رہتی تھی۔

ان قبائل کی جنگی قوت کا اندازہ ان جنگوں سے کیا جاسکتا ہے جن میں انہوں نے بڑی تعداد میں افراد فراہم کیے۔ مدینہ میں یہود کو بھی مالی اور سیاسی اثر حاصل تھا، اور بعض یہودی قبائل اوس کے حلیف اور بعض خزرج کے حلیف تھے۔ یومِ بعاث میں بھی یہ وابستگیاں مختلف فریقوں کے ساتھ سامنے آئیں۔

اوس و خزرج کے درمیان بہت سی لڑائیاں ہوئیں، جن میں آخری بڑی جنگ ’’بعاث‘‘ تھی، جو ہجرت سے چند سال پہلے ہوئی۔ یہود کے بعض گروہ ان باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے اور ان کی پرانی دشمنیوں کو بھڑکاتے رہتے تھے۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ اسلام کے بعد بھی ایک یہودی شخص نے دونوں قبائل کی پرانی جنگوں کے اشعار اور واقعات یاد دلا کر فتنہ کھڑا کرنا چاہا؛ قریب تھا کہ تلواریں نکل آتیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنے ارشادات سے جاہلی عداوت کی آگ بجھا دی۔

طبعی اور جغرافیائی کیفیت

یثرب بعثتِ نبوی کے وقت مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا جن میں یہودی اور عرب قبائل رہتے تھے۔ ہر قبیلے کے حصے میں بستیاں، زمینیں، مکانات، باغات اور قلعہ بند محلے تھے۔ ان قلعہ بند عمارتوں کو عربی میں ’’آطام‘‘ کہا جاتا تھا۔ مدینہ میں ایسی گڑھیوں کی بڑی تعداد تھی، اور وہ دفاعی ضرورتوں کے علاوہ ذخیرۂ غلہ، مال و اسباب اور عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے بھی استعمال ہوتی تھیں۔

’’یثرب میں آطام اور گڑھیوں کی بڑی اہمیت تھی۔ جنگ کے وقت قبیلے کے لوگ ان میں پناہ لیتے، عورتوں اور بچوں کو محفوظ رکھتے، اور ان میں غلہ اور دوسری ضروری چیزیں ذخیرہ کی جاتی تھیں۔‘‘

بعض یہودی عبادت گاہیں اور مدارس بھی انہی قلعہ بند آبادیوں کے قریب واقع تھے، جہاں عبادت، تعلیم، بحث و مباحثہ اور اہم دینی و اجتماعی مسائل پر مشورے ہوتے تھے۔ عبرانی زبان میں ’’اُطُم‘‘ کے معنی بند یا محفوظ عمارت کے مفہوم سے قریب بتائے گئے ہیں۔

قرآنِ مجید میں یہودیوں کی قلعہ بند آبادیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا:

مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ
تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے۔
سورۃ الحشر، آیت ۲

نیز فرمایا:

وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ
اور اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے ان کی مدد کی تھی انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا۔
سورۃ الأحزاب، آیت ۲۶

مدینہ طیبہ کی جغرافیائی حفاظت میں حَرّات کی بڑی اہمیت تھی۔ حَرّہ سیاہ، آتش فشانی پتھروں کے علاقے کو کہتے ہیں جس پر نہ پیدل چلنا آسان ہوتا ہے اور نہ اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت۔ مدینہ کے مغرب میں حرّۃ الوبرہ اور مشرق میں حرّۃ واقم واقع تھیں۔ ان قدرتی رکاوٹوں نے مدینہ کو ایک مضبوط اور محفوظ شہر بنا دیا تھا۔

شمالی جانب نسبتاً کھلی تھی، اور یہی وہ سمت تھی جہاں بعد میں غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھودی گئی۔ جنوبی جانب باغات، کھیتوں اور گنجان آبادی سے گھری ہوئی تھی۔ اس طرح مدینہ کے انتخاب میں اس کے قدرتی استحکام اور فطری تحصین کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔

دینی حالت اور معاشرتی حیثیت

مدینہ کی عرب آبادی بہت سے دینی معاملات میں قریش اور اہلِ مکہ کے عمومی مذہبی ماحول سے متاثر تھی۔ وہ جزیرۃ العرب میں پھیلی ہوئی بت پرستی ہی کا ایک حصہ تھے، اور متعدد معروف بتوں سے ان کا تعلق تھا۔ اہلِ مدینہ میں ’’مناۃ‘‘ کو خاص اہمیت حاصل تھی اور اوس و خزرج اس کی تعظیم کرتے تھے۔

اسلام سے پہلے ان کے بعض مذہبی مناسک میں ایسے رسوم موجود تھے جن کے بارے میں بعد میں صحابہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ قرآنِ مجید نے صفا و مروہ کے بارے میں فرمایا:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
سورۃ البقرہ، آیت ۱۵۸

اہلِ مدینہ کے یہاں عید و تہوار کے مخصوص دن بھی تھے۔ اسلام آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے مقابلے میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دو مبارک دن عطا فرمائے۔

اوس و خزرج اپنی شرافتِ نسب اور عربی اصل پر فخر کرتے تھے۔ قریش بھی اپنے نسب و مقام پر فخر کے عادی تھے، اور بعض قبائلی تفاخر میں پیشوں اور معاش کے طریقوں کو بھی معیار بنایا جاتا تھا۔ مدینہ کے باشندے زراعت کے عادی تھے، جب کہ مکہ کے بعض لوگ کاشت کاری کو کمتر پیشہ سمجھتے تھے؛ اسی قبائلی ذہنیت کے آثار بعض تاریخی واقعات میں نظر آتے ہیں۔

اقتصادی اور تمدنی حالت

مدینہ اپنی زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ایک زرعی علاقہ تھا، اس لیے باشندوں کا بڑا انحصار زراعت اور باغبانی پر تھا۔ اس کی اہم پیداواروں میں جو، گیہوں، انگور اور خصوصاً کھجور شامل تھے۔ کھجور کے وسیع باغ تھے اور ان کی مختلف قسمیں پیدا ہوتی تھیں۔ کھجور تازہ اور خشک دونوں شکلوں میں غذائی ضرورت پوری کرتی، اور ضرورت کے وقت دوسری اشیاء کے تبادلے میں بھی کام آتی تھی۔

مدینہ کے کھجوروں کی بہت سی قسمیں تھیں اور اہلِ مدینہ ان کی کاشت، پیوندکاری اور نر و مادہ درختوں کے ملاپ کے مختلف طریقوں سے واقف تھے۔ باغ اور کھیتی مدنی زندگی کا بنیادی حصہ تھے؛ ان سے غذا حاصل ہوتی، جانوروں کو چارہ دیا جاتا، اور بہت سی گھریلو و صنعتی ضروریات پوری ہوتی تھیں۔

باغبانی کا مطلب یہ نہیں کہ مدینہ میں تجارتی سرگرمی نہ تھی۔ مدینہ میں کئی بازار تھے، اور اہم بازاروں میں سوقِ بنی قینقاع خاص طور پر مشہور تھا، جہاں سونے چاندی کے زیورات، کپڑا اور دوسری مصنوعات فروخت ہوتی تھیں۔ بنی قینقاع کے بہت سے افراد زرگری اور دستکاری سے وابستہ تھے، اور یہودِ مدینہ میں مال دار طبقہ بھی موجود تھا۔

مدینہ کی زمین آتش فشانی علاقوں اور وادیوں کے باعث مختلف النوع تھی۔ وادیِ عقیق خصوصاً مشہور تھی، جہاں پانی اور باغات کی فراوانی تھی۔ باغات اور کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے چھوٹی نہریں، کھالیں اور دوسرے آب پاشی کے طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ زرعی معاملات میں پیداوار کے حصے، زمین کے کرائے اور باغات کی دیکھ بھال سے متعلق مختلف طریقے رائج تھے؛ اسلام نے ان میں سے بعض کو باقی رکھا اور بعض کی اصلاح کی۔

ناپ تول کے لیے بھی مختلف پیمانے اور اوزان استعمال ہوتے تھے، جن میں صاع، مُد، فرق، وسق، درہم، مثقال، قیراط، اوقیہ اور رطل وغیرہ شامل تھے۔ مدینہ اپنی زرعی فراوانی کے باوجود تمام ضروریات میں خود کفیل نہ تھا؛ بعض غذائی اور دوسری اشیاء باہر سے بھی آتی تھیں۔

اہلِ مدینہ کے پاس اونٹ، گائیں، بکریاں اور دوسرے جانور بھی تھے۔ اونٹ آب پاشی اور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ گھوڑے جنگی اور سواری کی ضرورتوں کے لیے اہم تھے، اور بعض قبائل اپنے گھوڑوں کے لیے مشہور تھے۔

مدینہ میں خوش حالی کے آثار گھروں اور طرزِ زندگی میں بھی نظر آتے تھے۔ بعض مکانات دو منزلہ تھے، بعض کے ساتھ باغات تھے، اور تعمیر میں پتھر، مٹی، لکڑی اور کھجور کی شاخیں استعمال ہوتی تھیں۔ مال دار لوگوں، خصوصاً یہود کے گھروں میں فرنیچر اور گھریلو سامان بھی نسبتاً زیادہ تھا۔ عورتوں میں زیورات، پازیب، کنگن، بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ استعمال ہوتی تھیں۔

عورتیں گھریلو کاموں کے علاوہ بعض دستکاریوں اور صنعتوں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ مدینہ کی معاشی زندگی میں زراعت، تجارت، دستکاری، بازار اور قرض و رہن کے مختلف نظام ایک ساتھ موجود تھے۔

یثرب کا پیچیدہ اور رنگارنگ معاشرہ

اس طرح یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے مکہ سے یثرب منتقل ہونے کا مطلب محض ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نقلِ مکان نہ تھا۔ اگرچہ یثرب اور مکہ ایک ہی ملک اور عرب ماحول میں واقع تھے، مگر دونوں شہروں کے نظامِ زندگی میں بہت سے نمایاں فرق تھے۔

مکہ کا معاشرہ نسبتاً یک رنگ تھا، جب کہ یثرب میں مختلف عرب قبائل، یہودی قبائل، الگ الگ حلیفانہ رشتے، مذہبی رسوم، معاشی مفادات، زرعی زندگی، بازار، قلعے اور پرانی دشمنیاں سب ایک ساتھ موجود تھیں۔ ایسے پیچیدہ معاشرے کو ایک عقیدہ، ایک دین اور ایک اجتماعی نظم کے تحت متحد کرنا غیر معمولی کام تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف نوعیت کے مسائل درپیش تھے؛ کہیں مذہب و سیاست، کہیں قبائلی رقابت، کہیں معاشی مفادات اور کہیں قدیم تعصبات۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت و بصیرت، قوتِ فیصلہ، حسنِ قیادت اور تعمیرِ انسانیت کی وہ صلاحیت عطا فرمائی جس نے مختلف اور متصادم عناصر کو ایک نئی امت اور نئے معاشرے میں بدل دیا۔

هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ۝ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مومنوں کے ذریعے آپ کی پشت پناہی کی، اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر آپ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کردیتے تب بھی ان کے دلوں کو نہ جوڑ سکتے؛ لیکن اللہ ہی نے ان کو جوڑا اور اتفاق پیدا کردیا۔ بے شک وہ غالب اور حکمت والا ہے۔
سورۃ الأنفال، آیات ۶۲-۶۳