مدینہ میں
مدینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کس طرح کیا؟
انصار کو یہ اطلاع ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے روانہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد شہر کے آخری کنارے پر پہنچ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار شروع کر دیتے، اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹتے جب تک کہ دھوپ بہت تیز اور ناقابلِ برداشت نہ ہو جاتی اور وہ سائے کی پناہ لینے پر مجبور ہوتے۔ اس وقت وہ اپنے اپنے گھروں میں چلے جاتے۔ یہ گرمی کا موسم اور سخت تپش کا زمانہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے، اس وقت انصار انتظار کے بعد اپنے گھروں میں جا چکے تھے۔ سب سے پہلے آپ پر ایک یہودی کی نظر پڑی۔ یہودی انصار کو روز یہ سب کرتے دیکھتے تھے۔ آپ کو دیکھ کر اس نے بہت زور سے آواز لگائی اور انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع دی۔ وہ سب یہ سنتے ہی نکل پڑے اور دیکھا کہ حضور ایک کھجور کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہیں، اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ ہیں، جو آپ ہی کے ہم عمر معلوم ہو رہے تھے۔
ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے پہلے زیارت نہیں کی تھی۔ اس لیے ان لوگوں نے اپنے ذوق و شوق میں دونوں کو گھیر لیا اور ہجوم بڑھنے لگا۔ حضرت ابوبکرؓ نے محسوس کیا کہ لوگ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ ان میں مخدوم کون ہیں اور خادم کون۔ چنانچہ انہوں نے ایک چادر لے کر حضور کے سر پر سایہ کر لیا، اور اس سے یہ شبہ زائل ہو گیا۔
تقریباً پانچ سو انصاریوں نے اس مبارک قافلے کا استقبال کیا اور انتہائی محبت کے ساتھ عرض کیا: حضور تشریف لے چلیں، آپ ہر طرح مامون و محفوظ ہیں اور آپ کی ہر بات میں اطاعت کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیقِ سفر اس قافلے کے جلو میں روانہ ہوئے، اور ادھر سارا مدینہ آپ کے استقبال اور خوش آمدید کے لیے نکل کھڑا ہوا۔
خواتین مکانوں کی چھتوں سے نئے قافلے کو دیکھ رہی تھیں اور ایک دوسرے سے کہتی تھیں: دیکھو، ان میں حضور کون ہیں؟ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کبھی ایسا نظارہ نہیں دیکھا۔ لوگ راستوں اور گزرگاہوں پر، مکانوں کی چھتوں، کھڑکیوں اور دروازوں پر جمع ہو گئے تھے۔ لڑکے اور نوکر خدمت گار ہر طرف پکار رہے تھے:
الله أكبر، جاء محمد!
الله أكبر، جاء رسول الله!
اللہ اکبر! رسول اللہ تشریف لے آئے۔ اللہ اکبر! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔
حضرت براء بن عازبؓ، جو اس وقت کم سن تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہلِ مدینہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے۔ لونڈیاں تک پکارتی پھر رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ مسلمانوں نے آپ کی آمد سے خوش ہو کر جوش و مسرت کے ساتھ تکبیر بلند کی کہ اس سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی مسرت نہ ہو سکتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے مدینہ اس وقت مسرور اور فخر و مسرت سے اٹھلا رہا ہو۔
انصار کی بچیاں بڑے سرور و شادمانی کے عالم میں یہ اشعار پڑھتی تھیں:
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوثُ فِينَا جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
پہاڑی کے اس موڑ سے، جہاں سے قافلے رخصت کیے جاتے ہیں، آج چودھویں کا چاند نکل آیا ہے۔
جب تک دنیا میں اللہ کا ایک نام لینے والا بھی رہے گا، ہم پر شکر کرنا واجب رہے گا۔
اے وہ ذاتِ پاک جو ہمارے درمیان مبعوث کی گئی! آپ ایسا حکم لے کر آئے ہیں جس کی اطاعت کی جائے گی۔
حافظ ابن القیمؒ نے زاد المعاد میں اس مقام پر بحث کی ہے کہ ثنیۃ الوداع شام آنے جانے کے راستے میں تھا، اس لیے ان کے نزدیک یہ اشعار غزوۂ تبوک سے واپسی کے موقع پر پڑھے گئے۔ تاہم قدیم اہلِ سیر کی ایک بڑی جماعت نے انہیں ہجرت کے موقع پر مدینہ میں تشریف آوری کے ساتھ نقل کیا ہے۔
مصنف نے یہ بھی لکھا ہے کہ مدینہ میں ثنیۃ الوداع کے نام سے ایک ہی مقام نہ تھا؛ مکہ کی سمت آنے والے راستے میں بھی ایسی چڑھائی موجود تھی، اس لیے ہجرت کے موقع پر ان اشعار کا پڑھا جانا بعید نہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ، جو اس وقت کم عمر تھے، کہتے ہیں: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، میں حاضر تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے کوئی دن اس سے زیادہ حسین اور روشن نہیں دیکھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مدینہ تشریف لائے۔
مسجدِ قباء اور مدینہ کا پہلا جمعہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں چار روز قیام فرمایا اور ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ جمعہ کے روز آپ وہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ جمعہ بنی سالم بن عوف کی آبادی میں آیا، چنانچہ جمعہ کی نماز آپ نے انہی کی مسجد میں ادا کی۔ جمعہ کی یہ پہلی نماز تھی جو آپ نے مدینہ میں پڑھی۔
ابو ایوب انصاریؓ کے گھر میں
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے گزرے تو راستوں میں جماعتیں بنا بنا کر لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے ہاں قیام فرمائیں۔ وہ کہتے تھے: آپ ہمارے ہاں اقامت فرمائیں، تعداد، سامان اور عزت و شوکت کے ساتھ۔ کبھی لوگ آپ کی اونٹنی کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے لیتے۔ آپ فرماتے: اس کو جانے دو، یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ ایسا کئی بار ہوا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے محلے سے گزرے تو بچیوں اور باندیوں نے ان اشعار سے آپ کا استقبال کیا:
يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ
ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں؛ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی ہونا کیا ہی خوش بختی ہے۔
جب آپ بنی مالک بن النجار کے محلے تک پہنچے تو اونٹنی ایک جگہ پر، جہاں آج مسجدِ نبوی کا دروازہ ہے، خود بخود ٹھہر گئی۔ اس وقت اس جگہ کھجور کا ایک کھلیان تھا جو بنی نجار کے دو یتیم لڑکوں کی ملکیت تھا، اور وہ آپ کے ننھیالی رشتہ دار بھی تھے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ، خالد بن زید النجاری الخزرجی، فوراً آپ کا سامان اٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قیام فرمایا۔ حضرت ابو ایوبؓ نے آپ کی میزبانی، ضیافت، خاطر مدارات اور ادب و تعظیم میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
بالائی منزل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند ہو کر رہنا ان کو گوارا نہ ہوا۔ وہ نیچے آ گئے اور حضور سے درخواست کی کہ آپ اوپر تشریف رکھیں اور وہ اور ان کے گھر والے نیچے رہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ابو ایوب! ہم کو اور ہمارے ملنے والوں کو اسی میں زیادہ راحت ہوگی کہ ہم نیچے رہیں۔
ابو ایوب انصاریؓ کچھ خوش حال لوگوں میں سے نہ تھے، لیکن آج اپنے گھر میں آپ کے قیام سے ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ محبت خدمت اور جاں نثاری کے آداب خود سکھا دیتی ہے۔ ابو ایوبؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کا کھانا تیار کر کے بھیجتے؛ اگر آپ کا پس خوردہ واپس آتا تو میں اور ام ایوبؓ اس طرف سے کھاتے جہاں سے آپ نے کھایا ہوتا، اور برکت حاصل کرتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کی منزل میں تشریف رکھتے تھے اور ہم اوپر تھے۔ ایک مرتبہ پانی کا ایک برتن ٹوٹ گیا۔ میں نے اور ام ایوبؓ نے اپنی چادر، جس کے علاوہ ہمارے پاس اوڑھنے کی کوئی چیز نہ تھی، اس پانی کو خشک کرنے میں لگا دی کہ کہیں خدانخواستہ پانی نیچے نہ ٹپکنے لگے اور آپ کو تکلیف ہو۔
مسجدِ نبوی اور مکانات کی تعمیر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکوں کو، جو اس کھلیان کے مالک تھے، بلا بھیجا اور ان سے یہ جگہ مسجد کی تعمیر کے لیے خریدنا چاہی۔ دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ہماری طرف سے ہدیہ ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا قیمت قبول نہ فرمایا، بلکہ قیمت دے کر قطعۂ زمین حاصل کیا اور وہاں مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔
آپ نے مسجد کی تعمیر میں بنفسِ نفیس شرکت فرمائی۔ آپ اینٹیں اور پتھر اٹھاتے تھے اور مسلمان آپ کی پیروی کرتے تھے۔ اس موقع پر آپ یہ ارشاد فرماتے تھے:
فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ
اے اللہ! اصل اجر تو آخرت کا اجر ہے؛ پس انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔
مسلمان اس وقت بہت سرور اور شادمانی میں تھے اور شوقیہ اشعار پڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر میں کئی ماہ قیام فرمایا؛ روایات میں اس مدت کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے۔
ابن اسحاق، ابن کثیر اور صحیح بخاری میں مدینہ میں قیام اور مسجدِ نبوی کی تعمیر کی روایات ملاحظہ ہوں۔ بعض روایات میں سات ماہ اور بعض حسابات کے مطابق دس ماہ سے زیادہ مدت آتی ہے۔
مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کا معاہدہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار میں ایک دوسرے کی اخوت، ہمدردی و اعانت کی بنیاد پر بھائی چارہ اور مؤاخات کا ایک معاہدہ بھی کرایا۔ انصار مہاجرین کے ساتھ بھائی چارے کے لیے اس طرح ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے کہ قرعہ اندازی کی نوبت آ جاتی تھی۔ وہ مہاجرین کو اپنے مکانات، گھر کے اثاثہ، مال و دولت، زمین و جائداد اور ہر چیز میں اختیار اور شرکت دے دیتے تھے اور ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے تھے۔
ایک انصاری نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا: دیکھو، نصف مال و متاع تم لے لو۔ میرے پاس دو بیویاں ہیں؛ ان میں سے جو تم کو پسند آئے، بتا دو، تو میں اسے طلاق دے کر تمہارے لیے حلال کر دوں۔ مہاجر جواب دیتا: اللہ تعالیٰ تمہارے گھر والوں اور مال و اسباب میں برکت عطا کرے؛ تم مجھے بس بازار کا راستہ بتا دو، پھر قسمت آزمائی کریں گے۔
انصار کا کام ایثار تھا، مہاجرین کا استغناء اور خود داری۔
صحیح بخاری، باب اخاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین المہاجرین والانصار؛ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ و سعد بن الربیعؓ کا واقعہ۔
مؤاخات اور اس کی اہمیت
یہ مؤاخات، یعنی بھائی چارہ، اپنی نوعیت کی منفرد اسلامی و عالمی اخوت کی نشانی تھی۔ یہ ایک صاحبِ دعوت امت کے قیام کا مقدمہ تھی جو ایک نئی دنیا کی تعمیر کے لیے برپا ہو رہی تھی، اور جو صحیح و معین عقائد، دنیا کو بدبختی و بدنظمی سے نجات دینے والے نیک مقاصد، ایمان، معنوی اخوت اور متحدہ سرگرمی کے تعلقات کے لیے قائم ہو رہی تھی۔
اس طرح مہاجرین و انصار کے درمیان یہ محدود اخوت دنیائے انسانیت کی نئی زندگی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹے شہر کی ایک چھوٹی سی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
حضور کی تحریر اور یہود سے امن و امان کا معاہدہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر مہاجرین و انصار کے لیے ایک تحریر تیار فرمائی جس میں یہود سے امن و امان کا معاہدہ تھا، اور ان کے اپنے دین و مذہب پر رہنے اور ان کے مال و جائداد کی حفاظت و بقا کی ضمانت دی گئی تھی، اور ان کے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کی نشان دہی کی گئی تھی۔
اس سیاسی دستاویز کی اہمیت جاننے کے لیے مصنف نے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحقیقات کی طرف رہنمائی کی ہے، نیز سیرت ابن ہشام، کتاب الاموال لابی عبید، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، اور مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ فی العہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ ملاحظہ ہوں۔
اذان کا حکم
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں امن و اطمینان حاصل ہوا اور اسلام کو استحکام نصیب ہوا تو آپ نے نماز کے لیے اطلاع و دعوت کے وہ طریقے جو یہود و نصاریٰ میں رائج تھے، مثلاً ناقوس، گھنٹہ یا شعلہ وغیرہ، ناپسند فرمائے۔ اس وقت تک مسلمان بغیر کسی دعوت و اعلان کے نماز کے اوقات میں خود جمع ہو جاتے تھے۔
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اذان سے سرفراز فرمایا، اور خواب میں بعض صحابہؓ کو اس کا مشاہدہ کرایا گیا۔ چنانچہ آپ نے اسی اذان کو متعین فرما دیا اور شرعی طور پر اس کا اجرا ہو گیا۔ یہ خدمت حضرت بلال بن رباح حبشیؓ کے حوالے ہوئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن کے لقب سے سرفراز ہوئے اور قیامت تک کے لیے مؤذنین کے امام قرار پائے۔
مدینہ میں نفاق اور منافقین کا ظہور
جب اسلام مدینہ منتقل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ کو امن و استحکام کا موقع حاصل ہوا، اسلام کو فروغ ہونے لگا اور اسلامی معاشرہ اپنے سارے شرائط و لوازمات کے ساتھ وجود میں آ گیا، تو اس وقت صورتِ حال میں ایک خاص تبدیلی واقع ہوئی اور نفاق نے سر نکالا۔
یہ ایک بالکل فطری اور نفسیاتی بات تھی جس سے مفر ممکن نہ تھا، اس لیے کہ نفاق ہمیشہ وہیں پیدا ہوتا اور ہاتھ پیر نکالتا ہے جہاں دو مقابل دعوتیں اور حریف قیادتیں موجود ہوں۔ اس موقع پر یہ مذبذب اور متردد گروہ ان دونوں دعوتوں اور قیادتوں کے درمیان ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور متردد و فکر مند رہتا ہے کہ کس دعوت کو اختیار کرے اور کس کو چھوڑے۔
کبھی وہ کسی ایک دعوت کو قبول کر لیتا ہے اور اس کے کیمپ میں چلا جاتا ہے، اور جذباتی لگاؤ اور وفاداری کا تعلق بھی اس سے قائم کر لیتا ہے، لیکن اس کی دنیوی مصلحتیں اور مقابل دعوت کا فروغ اور غلبہ اسے اپنے صحیح موقف اور پہلی دعوت کے پرچم کے نیچے آ جانے کے اعلان سے باز رکھتے ہیں، اور وہ اپنے قدیم ماحول سے رشتہ بالکل منقطع نہیں کر پاتا۔ قرآنِ مجید نے تردد و اضطراب کی اس کیفیت کی بہت نازک اور بولتی ہوئی تصویر پیش کی ہے:
اسی گروہ کی صفت دوسری جگہ یوں بیان کی گئی ہے:
ان منافقین کی، جو اوس و خزرج اور یہود سے تعلق رکھتے تھے، سربراہی و رہنمائی عبداللہ بن ابی بن سلول کے ہاتھ میں تھی۔ جنگِ بعاث کے بعد مدینہ والوں نے متفقہ طور پر اسے اپنا سردار تسلیم کر لیا تھا، اور اسلام کے داخلے کے وقت اس کی تاج پوشی کی پوری تیاری تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ بڑی تعداد اور سرعت کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں تو یہ بات پھانس بن کر اس کے دل میں چبھ گئی۔
ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول مدینہ والوں کا سردار تھا۔ اوس و خزرج اسلام کی آمد سے قبل اس کے سوا کبھی کسی ایک شخص پر متفق نہ ہو سکے تھے۔ اس کی قوم اس کی تاج پوشی کے لیے ایک تاج تیار کر رہی تھی اور اسے بادشاہ بنانے کی تجویز تھی۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں بھیج دیا اور اس کی قوم اسے چھوڑ کر مسلمان ہو گئی تو اس کے دل میں سخت کینہ و حسد پیدا ہو گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سرداری اور اعزاز سے محروم کر دیا۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ اس کی قوم کسی حالت میں بھی اسلام کو ترک کرنے والی نہیں، وہ بھی بادلِ نخواستہ داخلِ اسلام ہوا اور اپنے نفاق اور کینہ پر بدستور قائم رہا۔
ایسے تمام لوگ اسلام دشمنی پر اتر آئے جن کے دل میں کوئی چور تھا یا جو سیادت کے خواہاں تھے۔ اس نئے دین نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ مدینہ کا رنگ بدل چکا تھا اور مہاجرین و انصار کی ایک دل و یک جان جماعت تیار ہو گئی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان چھڑکتی اور آپ کی محبت کو اپنے باپ، بیٹوں اور بیویوں کی محبت پر بھی ترجیح دیتی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر منافقین کے دل غصے اور حسد سے بھر گئے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منصوبے بنانے اور سازشیں کرنے لگے۔ اس طرح مدینہ میں اسلامی معاشرے کے اندر ہی ایک مخالف محاذ پیدا ہو گیا جس سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنا ضروری تھا، کیونکہ یہ گروہ مارِ آستین کی حیثیت رکھتا تھا اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے کھلے دشمنوں سے زیادہ خطرناک تھا۔
سیرت ابن ہشام، متعلقہ ابوابِ نفاق و عبداللہ بن ابی۔
یہود کی دشمنی کا آغاز
ابتدا میں کسی قدر غیر جانب داری اور خاموشی کے بعد پہلی بار یہود کی دشمنی اور کینہ پروری کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ان کا موقف پہلے مسلمانوں اور مشرکوں، اہلِ مکہ اور اہلِ مدینہ، کے درمیان غیر جانب داری کا تھا؛ بلکہ شاید وہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی طرف نسبتاً زیادہ مائل تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبوت و رسالت اور روزِ آخرت پر ایمان میں، خواہ بعض تفصیلات میں اختلاف ہو، نیز اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور عقیدۂ توحید میں وہ مسلمانوں سے بہت قریب تھے۔
اگرچہ یہ عقیدہ بھی جاہلی اقوام کے پڑوس میں ایک طویل عرصہ تک رہنے، بت پرستی کے ماحول میں جلا وطنی کی طویل مدت گزارنے اور غلو کی وجہ سے کمزور پڑ چکا تھا، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ہے۔ تمام قرائن یہ بتاتے تھے کہ اگر وہ اسلام کا ساتھ نہیں دیں گے تو کم از کم اس معاملے میں غیر جانب دار ضرور رہیں گے، اس لیے کہ اسلام ان کی مذہبی کتابوں کی تصدیق کرتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے تمام انبیاء پر ایمان کی دعوت دیتے تھے۔
اگر ایسا ہو سکتا تو آج نہ صرف تاریخِ اسلام بلکہ تاریخِ عالم کا رخ دوسرا ہوتا، اور اسلامی دعوت کو ان مشکلات و مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اسلام و یہودیت کی آویزش اور ان اولین مسلمانوں، جو اپنی نشوونما کے دور میں تھے، اور ان یہودیوں، جو طاقتور، بااثر، دولت مند اور تعلیم یافتہ تھے، کی کشمکش نے پیدا کیے۔
مصنف کے نزدیک اس کے دو بنیادی سبب تھے: ایک یہودیوں میں حسد، تنگ دلی، جمود اور تعصب کا مادہ؛ اور دوسرے وہ عقائد و اخلاق اور عادتیں جن پر قرآنِ مجید نے جا بجا تنقید کی ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کوئی محض سیاسی رہنما ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ مصلحتاً یہود کے ساتھ خوشامد اور چشم پوشی کا معاملہ کرتا، لیکن آپ تبلیغِ رسالت، اعلانِ حق، حق و باطل کی تمیز اور فساد و گمراہی کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے۔
آپ اس بات کے ذمہ دار تھے کہ دنیا کی تمام قوموں، افراد اور جماعتوں، جن میں یہود و نصاریٰ جیسے اہلِ کتاب بھی شامل ہیں، کو اسلام کی برملا دعوت دیں، خواہ اس کی بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنا پڑے اور طرح طرح کی مشکلات اٹھانی پڑیں۔ یہی نبوت کا مزاج اور منہج ہے جس پر انبیاء ہمیشہ کاربند رہے؛ یہی مزاج سیاست اور نبوت کی راہوں کو الگ کرتا اور انبیاء اور قومی زعماء میں بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔
ان باتوں سے یہود کے عقائد، زندگی اور سیرت و کردار پر گرفت ہوئی، اور انہوں نے اپنا پہلا رویہ بدل دیا اور خفیہ و علانیہ دونوں طریقوں سے اسلام کی مخالفت پر اتر آئے۔ یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل ولفسن نے اس نزاع و دشمنی کے بعض اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:
یہود میں اس بات نے مزید اشتعال پیدا کیا کہ ان کے بعض عالم، جیسے حضرت عبداللہ بن سلامؓ، جن کا وہ بڑا احترام کرتے تھے، اسلام لے آئے۔ یہود کو اس کا خیال بھی نہ تھا کہ ان جیسا شخص مسلمان ہو جائے گا؛ اس نے ان کے سینوں میں حسد کی آگ اور بھڑکا دی۔
یہود نے صرف اسلام کی مخالفت اور اس سے بُعد و وحشت پر اکتفا نہ کیا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بعض مواقع پر مشرکوں اور بت پرستوں کو ان مسلمانوں پر ترجیح دی جو عقیدۂ توحید میں ان کے شریک و ہمنوا تھے۔ ایک موقع پر یہودی علماء سردارانِ قریش سے مکہ میں ملے۔ سردارانِ قریش نے پوچھا: آپ لوگ اہلِ کتاب ہیں اور ہمارے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اختلاف سے واقف ہیں؛ ہمارا مذہب بہتر ہے یا ان کا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ لوگوں کا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور آپ زیادہ حق پر ہیں۔
ڈاکٹر اسرائیل ولفسن اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
آگے بڑھ کر وہ لکھتے ہیں:
قبلہ کی تبدیلی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان اب تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد ایک سال چار مہینے تک نماز اسی طرف پڑھی جاتی رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا جائے۔
عرب مسلمان بھی، جن کی نشوونما کعبہ کی محبت اور عظمت پر ہوئی تھی اور جس کی محبت و عظمت ان کے گوشت پوست اور خون میں پیوست تھی، دل سے یہی چاہتے تھے کہ ان کا قبلہ وہی جگہ ہو۔ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اور اسے اپنا قبلہ تسلیم کرنا ان کے لیے ایک شدید امتحان تھا، لیکن بے چون و چرا انہوں نے اس حکم کو تسلیم کیا اور سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کے سوا ان کی زبان سے کچھ نہ نکلا۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے علاوہ کچھ نہ جانتے تھے، خواہ حکم ان کی خواہش، مرضی، عادت اور مذاقِ طبیعت کے موافق ہو یا نہ ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کا امتحان لے لیا اور انہوں نے تقویٰ و طاعت کا پورا ثبوت دے دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کا رخ کعبہ کی طرف کروا دیا گیا۔
مسلمانوں نے خدا اور رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اپنا رخ اسی وقت کعبہ کی طرف کر لیا، اور وہی قیامت تک کے لیے مسلمانوں کا قبلہ قرار پایا۔ مسلمان، خواہ دنیا کے کسی حصے میں ہوں، نماز کے لیے اپنا رخ اسی کی طرف کرتے ہیں۔
تفصیل کے لیے صحاحِ ستہ اور قرآنِ مجید کی ان آیات کی تفاسیر ملاحظہ ہوں جن میں تحویلِ قبلہ کا ذکر ہے۔
مدینہ کے مسلمانوں سے قریش کی چھیڑ چھاڑ
جب مدینہ میں اسلام کے قدم جم گئے اور قریش نے دیکھا کہ اس کی وسعت اور مقبولیت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے، اور اگر یہ صورتِ حال کچھ دن اور باقی رہی تو معاملہ ان کے ہاتھ سے بالکل نکل جائے گا اور اس کے بعد وہ اس کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، تو انہوں نے مخالفت اور دشمنی کے لیے اچھی طرح کمر کس لی اور ہر طرف اسلام کے خلاف شور و غوغا شروع ہو گیا۔
لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر، عفو و درگزر اور كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ یعنی اپنے ہاتھ روکے رکھنے اور نماز قائم کرنے کی تعلیم تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ زندگی اور اس کی لذتیں اور راحتیں ان کی نظر میں ارزاں و بے قیمت ہو جائیں اور اطاعت، مخالفتِ نفس، ایثار و قربانی کا مشکل کام ان کے لیے آسان ہو جائے۔
قتال کی اجازت
جب ان کی طاقت کچھ اور بڑھی اور ان کے بازو مضبوط ہو گئے تو اس وقت ان کو قتال کی اجازت دے دی گئی، لیکن محض اجازت تھی، اسے ابھی فرض قرار نہیں دیا گیا تھا۔ فرمایا گیا:
عبداللہ بن جحشؓ کا سریہ اور غزوۂ ابواء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل اور علاقوں میں سرایا اور چھاپے بھیجنے کا آغاز فرمایا۔ ان کی نوعیت اکثر باقاعدہ جنگ کی نہ ہوتی تھی؛ اسے کسی قدر طاقت آزمائی، جھڑپ یا چھاپے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مقصد مشرکین کو مرعوب و خوف زدہ کرنا اور اسلام کی شان و شوکت، سرگرمی اور فعالیت کا مظاہرہ کرنا تھا، اور یہ فائدہ ان سرایا سے پوری طرح حاصل ہوا۔
اس موقع پر خصوصیت سے عبداللہ بن جحشؓ کے سریہ کا ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے متعلق ایک آیت بھی نازل ہوئی، اور اس سے اس اہم حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ قرآنِ مجید مسلمانوں کی کسی کوتاہی یا غلطی کا ساتھ نہیں دیتا؛ بلکہ مختلف قوموں اور جماعتوں کے بارے میں فیصلہ دینے میں میزانِ عدل ہے، جس پر ہر عمل کو تولا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن جحش الاسدیؓ کو رجب کے مہینے میں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور مہاجرین کے آٹھ آدمی ان کے ساتھ کیے۔ آپ نے ان کو ایک تحریر بھی لکھ کر دی اور حکم فرمایا کہ اس تحریر کو ابھی نہ دیکھیں؛ جب دو دن کی مسافت طے کر لیں تب اسے کھول کر پڑھیں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی تعمیل کریں، لیکن اپنے کسی رفیق کو اس کی تعمیل پر مجبور نہ کریں۔
جب عبداللہ بن جحشؓ نے دو دن کی مسافت طے کر لی تو خط کھول کر دیکھا۔ اس میں لکھا تھا: جب یہ خط دیکھ لینا تو آگے بڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں اتر جانا، وہاں سے قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور ان کی خبریں ہمارے پاس بھیجتے رہنا۔
عبداللہ بن جحشؓ نے خط پڑھ کر کہا: سَمْعًا وَطَاعَةً — آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ پھر اپنے رفقاء سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ آگے نخلہ میں اتر کر قریش کی سرگرمیوں پر نظر رکھوں اور خبریں آپ کو پہنچاؤں، اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ کسی اور کو اس پر مجبور نہ کروں۔ اب تم میں سے جسے شہادت کا شوق ہے وہ ہمارے ساتھ آئے اور جو نہیں چاہتا وہ واپس لوٹ جائے؛ مجھے بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنی ہے۔ ان کے سب رفقاء ساتھ رہے، ایک آدمی نے بھی پیچھے رہنا گوارا نہ کیا۔
آگے چل کر وہ نخلہ میں مقیم ہوئے۔ اتنے میں قریش کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا جس میں عمرو بن الحضرمی بھی تھا۔ مسلمانوں کو دیکھ کر قافلے والوں کو خوف ہوا، لیکن عکاشہ بن محصنؓ کا سر منڈا ہوا تھا۔ قریش نے اسے دیکھا تو اطمینان کیا اور کہا: ڈرنے کی بات نہیں، یہ تو عمرہ کرنے والے ہیں۔ یہ رجب کے آخری دن کا واقعہ تھا۔
مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ اگر قافلے کو اس رات چھوڑ دیتے تو وہ حدودِ حرم میں داخل ہو جاتا اور وہاں قتال ممکن نہ رہتا؛ اور اگر اسی وقت قتال کرتے تو ماہِ حرام میں جنگ کا اندیشہ تھا۔ کچھ تردد کے بعد انہوں نے اقدام کا فیصلہ کیا۔ واقد بن عبداللہ التیمیؓ نے تیر چلایا اور عمرو بن الحضرمی مارا گیا؛ دو آدمیوں کو قیدی بنا لیا گیا اور عبداللہ بن جحشؓ اور ان کے ساتھی قافلے اور قیدیوں کو لے کر مدینہ واپس آئے۔
رجب حرمت کے چار مہینوں میں سے ہے۔ جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی دور میں عرب ان مہینوں کی حرمت کا لحاظ کرتے تھے۔ اس واقعے سے متعلق تفصیل سیرت ابن ہشام اور زاد المعاد میں مذکور ہے۔
جب مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی حاضری ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں ماہِ حرام میں جنگ کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ پھر آپ نے اس مال میں سے کچھ لینے سے انکار کر دیا جو وہ لے کر آئے تھے۔ اس پر ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مسلمانوں نے بھی ان کو سخت ملامت کی۔ قریش نے شور مچایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ حرام میں بھی جنگ اور خون ریزی جائز کر دی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
علامہ ابن القیمؒ زاد المعاد میں لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ ابواء، جسے ودّان بھی کہا جاتا ہے، میں بنفسِ نفیس شرکت فرمائی۔ یہ آپ کا پہلا غزوہ تھا، لیکن اس میں جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ چنانچہ آپ واپس تشریف لے آئے۔ اس کے بعد متعدد سرایا اور غزوات پیش آئے۔
روزہ کی فرضیت
جب عقیدہ مسلمانوں کے دلوں میں خوب راسخ ہو گیا، ان کو نماز سے پوری مناسبت پیدا ہو گئی اور یہ مناسبت بڑھتے بڑھتے عشق کے درجے تک پہنچ گئی، ان کے اندر احکامِ شرعی اور اوامرِ الٰہیہ کی تعمیل کرنے کا ایسا مزاج پیدا ہو گیا کہ معلوم ہوتا تھا وہ ان احکام کے انتظار میں رہتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے روزے کا حکم نازل فرمایا۔
یہ ہجرت کے دوسرے سال کا واقعہ ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
دوسری آیت یہ نازل ہوئی:
روزے کے اسرار و حِکم اور اس کی مشروعیت کی تفصیلات کے لیے مصنف نے اپنی کتاب ارکانِ اربعہ کی طرف رجوع کی ہدایت کی ہے۔