عرب کا تاریک ترین دور
ان صلاحیتوں اور خوبیوں کے باوجود جن سے اللہ تعالیٰ نے عربوں کو سرفراز کیا تھا اور جن کی وجہ سے بعثتِ محمدی اور ظہورِ اسلام کے لیے ان کا انتخاب فرمایا تھا، جزیرۃ العرب میں بیداری اور بے چینی کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے، اور حنفاء اور تلاشِ حق کا جذبہ رکھنے والے چند نفوس باقی رہ گئے تھے جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے، اور جن کی حیثیت برسات کی اندھیری اور گھٹا ٹوپ رات میں جگنوؤں سے زیادہ نہ تھی، جو نہ کسی گم گشتہ کو راہ دکھا سکتے ہیں، نہ کسی کو گرمی و حرارت پہنچا سکتے ہیں۔
یہ دور، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جزیرۃ العرب کی تاریخ کا بھی تاریک ترین دور تھا۔ یہ تاریکی و انحطاط کی اس آخری منزل پر پہنچ چکا تھا جہاں اصلاح کی امید ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ سخت و جاں گداز اور سنگین مرحلہ تھا جو کسی نبی کی تبلیغ کے راستے میں پیش آیا ہوگا۔
مغربی مؤرخین کی شہادت
سیرتِ نبوی کے ایک انگریز مصنف سر ولیم میور SIR WILLIAM MUIR نے، جو اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی خردہ گیری اور عیب چینی میں مشہور ہے، اس دور کی خوب تصویر کھینچی ہے، اور مغربی مصنفین کے اس نقطۂ نظر کی تردید کی ہے کہ آپ کی بعثت سے قبل لاوا بالکل پک چکا تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا کیا کہ بر وقت اور صحیح جگہ پر چنگاری دکھا دی، چنانچہ یہ لاوا پھوٹ پڑا۔ وہ کہتا ہے:
یہی مصنف دوسری جگہ لکھتا ہے:
اسی تاریخی حقیقت کا باسورتھ اسمتھ BOSWORTH SMITH نے اختصار لیکن طاقت اور وضاحت کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
Bosworth Smith, Mohammed and Mohammedanism (London, 1876), p. 105.
ہمیں پہلی ہی نظر میں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ علمِ تاریخ، اگر علمِ تاریخ نام کی کوئی چیز ہے، اس سے قاصر ہے کہ وہ اسباب و علل کی ان کڑیوں کو تلاش کرے جن کا تلاش کرنا اس کا فرض ہے۔
نبی کی ضرورت
چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں حالات کا بگاڑ اتنا بڑھ چکا تھا اور انسانیت کی پستی اس حد کو پہنچ چکی تھی کہ اب وہ کسی مصلح، ریفارمر اور معلمِ اخلاق کے بس کی بات نہ تھی۔ اس میں نہ کسی ایک عقیدہ کی تصحیح کا، کسی مخصوص عادت کو بدلنے کا، یا کسی طریقۂ عبادت کو ترویج دینے کا، یا کسی معاشرہ کی سماجی اصلاح کا مسئلہ تھا۔ اس کے لیے وہ مصلح اور معلمینِ اخلاق کافی نہ تھے جن سے کوئی زمانہ اور کوئی علاقہ کبھی خالی نہیں رہا، بلکہ ایسا مسئلہ درپیش تھا کہ مشترکہ ورثہ ہائے جاہلیت اور انسانیت کے اس ہلاکت آفریں ملبے کو کس طرح ہٹایا اور صاف کیا جائے جو صدیوں اور نسلوں سے تہہ در تہہ جمع ہو رہا تھا، اور جس کے نیچے انبیاءِ کرام کی صحیح تعلیمات اور مصلحین کی مساعی اور خدمات دفن تھیں۔
پھر اس بھرے پڑے ملبے کی جگہ ایک نئی، مستحکم اور عظیم الشان، وسیع و عریض اور بلند و بالا عمارت کیسے قائم کی جائے جس کے سایۂ رحمت میں ساری انسانیت کو پناہ مل سکے۔ ایسا نیا انسان کیوں کر بنایا جائے جو پچھلے انسانوں سے ہر چیز میں جدا ہو، اور ایسا معلوم ہو کہ وہ ابھی ابھی وجود میں آیا ہے، اسے نئی زندگی مل گئی ہے:
انسانیت کی ازسرِ نو تعمیر
یہ فساد کی جڑ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور بت پرستی کی بنیاد کو بیخ و بن سے اس طرح اکھاڑ پھینکنے کا کام تھا کہ دور دور اس کا کوئی اثر و نشان باقی نہ رہ جائے، اور عقیدۂ توحید و شرفِ انسانی کی گہری جڑیں عالمِ بشریت میں اس طرح پیوست اور راسخ کر دی جائیں کہ اس سے زیادہ تصور کرنا مشکل ہو۔ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور عبادت کا رجحان، انسانیت کی خدمت اور حق پرستی کا جذبہ، اور ہر غلط خواہش و شوق کو لگام دینے کا ملکہ اور اس کی صلاحیت و قوت پیدا کی جائے۔
مختصر یہ کہ انسانیت خودکشی پر آمادہ تھی، بلکہ سر کے بل جہنم میں جانے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ اسے روک کر ایک ہی جست میں دنیا و آخرت کی ہمیشہ کی ہلاکت سے بچایا جائے، اور اسے ایسی شاہراہ پر ڈال دیا جائے جس کا پہلا سرا روحانیت، تہذیب، صحیح ایمان اور نفس کی پاکیزگی ہے، اور دوسرا انتہائی سرا وہ ہمیشہ رہنے والی جنت ہے جس کا تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جو ارشاد فرمایا ہے، اس سے بڑھ کر اس صورتِ حال کی کوئی تصویر اور ترجمانی نہیں ہو سکتی۔ ارشاد ہے:
لامارتین کی شہادت
بنی نوعِ انسان کی پوری تاریخ میں ہمیں اس سے زیادہ نازک و پیچیدہ کام اور اس سے بڑی و عظیم الشان ذمہ داری نظر نہیں آتی جو ایک نبی اور فرستادۂ الٰہی کی حیثیت سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈالی گئی۔ نہ کوئی کھینچی ہوئی تلوار اتنی بارآور ثابت ہوئی، اور نہ کسی اور آدمی کی کوئی کوشش و سعی اتنی بارآور ثابت ہوئی جتنی آپ کی؛ آپ کی سعی انسانیتِ عام کے حق میں مفید و حیات بخش ثابت ہوئی۔ یہ نایاب کامیابی آپ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اس کی شہادت مشہور فرانسیسی ادیب و شاعر لامارتین LAMARTINE نے بھی بڑی قوتِ بلاغت اور وضاحت و صراحت کے ساتھ دی ہے۔ وہ نبوتِ محمدی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:
آگے لکھتا ہے:
لامارتین، LAMARTINE، Histoire de la Turquie، جلد دوم، ص ۲۶۶–۲۷۷، پیرس (۱۸۵۴ء)۔
ماخوذ از ’’اسلام اور دینِ اسلام‘‘، اردو ترجمہ، لاہور (۱۹۷۴ء)۔
ہمہ گیر انقلاب اور دائمی رسالت
یہ عمومی اور ہمہ گیر انقلاب اور انسانیت کی حیاتِ نو یا تعمیرِ نو کا عظیم الشان کام تھا۔ نئی رسالت کا طالب تھا جو تمام رسالتوں اور نبوتوں سے بڑھ کر ہو، اور ایسے نبی کا خواستگار تھا جو ہدایت اور دینِ حق کا پرچم آفاقِ عالم میں ہمیشہ کے لیے بلند کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: