غزوۃ بنی قریظہ
بنی قریظہ کی عہد شکنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک ایسا عہد نامہ تحریر کرایا جس میں یہود کو امان دی گئی تھی اور ان سے باقاعدہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اس معاہدہ میں ان کے مذہب، جان اور مال و املاک کی حفاظت کی ذمہ داری لی گئی تھی اور ان پر بھی چند واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی تھیں۔
اس عہد نامہ کی خاص باتوں میں یہ تھا کہ یہود میں سے جو مسلمانوں کا ساتھ دے گا اس کے ساتھ تعاون اور مساوات کا معاملہ کیا جائے گا؛ نہ اس پر ظلم کیا جائے گا اور نہ اس کے خلاف کسی کی مدد کی جائے گی۔ مدینہ کا کوئی باشندہ قریش کے جان و مال کو امان اور پناہ نہ دے گا، اور نہ کسی مومن کے مقابلہ میں ان کے لیے سینہ سپر ہوگا۔ یہود جب جنگ میں شریک ہوں گے تو مسلمانوں کی طرح اس کے اخراجات بھی برداشت کریں گے۔
یہود کے قبائل مسلمانوں کے ساتھ ایک سیاسی وحدت کی طرح رہیں گے، لیکن یہودیوں کو اپنے مذہب کی آزادی ہوگی اور مسلمانوں کو اپنے مذہب کی۔ ہر فریق اپنے ماتحتوں اور اپنے داخلی معاملات میں بااختیار ہوگا۔ اسی طرح اس تحریری معاہدہ کی رو سے یثرب پر حملہ ہونے کی صورت میں سب فریق مشترکہ طور پر اس کا دفاع کریں گے، اور خیر خواہی، خلوص اور اصلاح کا رویہ اختیار کریں گے۔
لیکن بنی نضیر کے سردار حیی بن اخطب نے بنی قریظہ کو مسلمانوں سے عہد شکنی اور قریش سے اتحاد و دوستی پر آمادہ کر لیا۔ حالاں کہ بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسد قرظی نے ابتدا میں صاف کہا تھا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سچائی اور وفاداری کے سوا کوئی چیز نہیں دیکھی۔ بالآخر وہ حیی بن اخطب کے اصرار سے متاثر ہوئے اور اپنا معاہدہ توڑ دیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی عہد شکنی کی خبر پہنچی تو آپ نے سعد بن معاذؓ، جو اوس کے سردار تھے اور جن کے قبیلہ کے بنی قریظہ سے حلیفانہ تعلقات تھے، اور سعد بن عبادہؓ کو چند انصاری صحابہ کے ساتھ تحقیقِ حال کے لیے روانہ فرمایا۔
وہاں پہنچ کر انہوں نے صورتِ حال کو خبر سے بھی زیادہ خراب پایا۔ بنی قریظہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، سخت لہجہ اختیار کیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی عہد و پیمان نہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے سامنے سے آنے والے لشکر سے بھی زیادہ خطرناک ایک اندرونی محاذ پیدا ہو گیا۔
قرآنِ مجید نے اس سخت صورتِ حال کی تصویر یوں پیش کی ہے:
مسلمانوں کے لیے یہ حادثہ نہایت سخت تھا۔ سعد بن معاذؓ، جو بنی قریظہ کے سب سے زیادہ قریب اور ماضی میں ان کے مددگار و غم گسار رہ چکے تھے، غزوۂ خندق میں زخمی ہوئے تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملہ کا انجام نہ دیکھ لیں۔
سیرت ابن ہشام، ج ۲؛ اور غزوۃ الاحزاب و بنی قریظہ کے متعلق روایات۔
بنی قریظہ کی طرف پیش قدمی
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان غزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور مدینہ پہنچ کر ہتھیار رکھ دیے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: فرشتوں نے ابھی اپنے ہتھیار نہیں رکھے۔ اللہ عز و جل نے آپ کو حکم دیا ہے کہ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں۔ میں بھی وہیں کا ارادہ کر رہا ہوں تاکہ ان کے دلوں میں تزلزل پیدا کروں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دے: جو شخص سنتا اور مانتا ہے وہ نمازِ عصر بنی قریظہ ہی میں پڑھے۔ پھر آپ نے بنی قریظہ پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس شب و روز جاری رہا، یہاں تک کہ وہ تنگ آ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔
صحیح بخاری، باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب ومخرجه إلى بني قريظة؛ صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر؛ سیرت ابن ہشام، ج ۲۔
ابولبابہ کی ندامت اور توبہ کی قبولیت
محاصرہ کے دوران بنی قریظہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ابو لبابہؓ کو ہمارے پاس بھیج دیجیے تاکہ ہم اپنے معاملہ میں ان سے مشورہ کر سکیں۔ ان کے بنی قریظہ سے قدیم حلیفانہ تعلقات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا۔
ابو لبابہؓ کو دیکھتے ہی مرد کھڑے ہو گئے اور عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اس منظر سے ان کا دل پسیج گیا۔ لوگوں نے پوچھا: ابو لبابہ! کیا ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر سرِ تسلیم خم کر دیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، لیکن ساتھ ہی اپنے حلق پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا۔
ابو لبابہؓ کہتے ہیں کہ ابھی میرے قدم وہاں سے ہٹے بھی نہ تھے کہ مجھے فوراً احساس ہوا کہ مجھ سے اللہ اور اس کے رسول کے حق میں خیانت ہو گئی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے بجائے سیدھے مسجد نبوی پہنچے اور اپنے آپ کو ایک ستون سے باندھ لیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک اللہ تعالیٰ میرا قصور معاف نہ فرما دے۔ انہوں نے یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ بنی قریظہ کے علاقہ میں قدم نہ رکھیں گے اور اس مقام کی شکل بھی نہ دیکھیں گے جہاں ان سے یہ لغزش ہوئی۔
ان کی توبہ قبول ہوئی اور قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا:
لوگوں نے یہ آیت سن کر ابو لبابہؓ کو کھولنا چاہا، لیکن انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں اسی حالت میں رہوں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دستِ مبارک سے مجھے آزاد نہ فرمائیں۔ چنانچہ فجر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں خود کھولا۔
سعد بن معاذ کی حق پرستی اور بے لاگ فیصلہ
بنی قریظہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر سرِ تسلیم خم کر دیا۔ لیکن قبیلۂ اوس کے دل میں اپنے قدیم حلیفوں بنی قریظہ کے لیے نرم گوشہ تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے حق میں سفارش کی۔
آپ نے فرمایا: اے اوس کے لوگو! کیا تم اس پر راضی ہو کہ تم ہی میں سے ایک شخص ان کے بارے میں فیصلہ کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: میں یہ معاملہ سعد بن معاذؓ کے سپرد کرتا ہوں۔
سعد بن معاذؓ کو بلایا گیا۔ ان کے قبیلہ کے لوگ ان سے کہتے رہے: ابو عمرو! اپنے حلیفوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معاملہ تمہارے سپرد اسی لیے کیا ہے کہ تم ان کے ساتھ نرمی کرو۔ لیکن سعدؓ نے محسوس کیا کہ اب وہ فیصلہ کے منصب پر ہیں اور اللہ کے حکم کے سامنے کسی ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے جنگجو مردوں کے بارے میں جنگی قانون نافذ کیا جائے، ان کا مال تقسیم ہو اور عورتوں اور بچوں کے متعلق اس وقت کے جنگی ضابطہ کے مطابق حکم ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
سیرت ابن ہشام، ج ۲؛ صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب جواز قتال من نقض العہد۔ اصل کتاب میں مختلف روایات کے الفاظ اور اعراب کے فرق پر بھی حاشیہ موجود ہے۔
اسرائیلی شریعت کے مطابق سزا
مصنف اس مقام پر واضح کرتے ہیں کہ سعد بن معاذؓ کا فیصلہ بنی اسرائیل کی اپنی شریعت کے جنگی قانون سے بھی ہم آہنگ تھا۔ اصل کتاب میں تورات، کتابِ استثناء باب ۲۰، سے وہ عبارت نقل کی گئی ہے جس میں محاصرہ، صلح کی پیش کش، اور جنگ کی صورت میں شہر کے مردوں کے متعلق حکم بیان ہوا ہے۔
مصنف نے اسی سلسلہ میں تورات کے دوسرے مقامات بھی نقل کیے ہیں اور یہ استدلال پیش کیا ہے کہ جنگی حالات میں ایسا فیصلہ بنی اسرائیل کی مذہبی روایت سے بالکل اجنبی نہیں تھا۔ پھر اس واقعہ کے سیاسی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کے خلاف اندرونی سازش کا ایک بڑا مرکز ختم ہو گیا اور منافقین کی سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر پڑا۔
اصل کتاب میں اس واقعہ پر بعض مغربی مصنفین کے تبصرے بھی نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں اس پس منظر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ عام شہری اختلاف کا نہیں بلکہ محاصرہ کے دوران کیے گئے سیاسی و عسکری عہد کی خلاف ورزی کا معاملہ تھا۔
کتابِ استثناء، باب ۲۰؛ سیرت ابن ہشام، ج ۲؛ اور اصل کتاب میں مذکور معاصر و مغربی مصنفین کے حوالے۔
عفو و درگزر اور سخاوت و دریادلی
ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار روانہ فرمائے۔ وہ واپس آئے تو اپنے ساتھ بنی حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال کو قیدی بنا کر لائے۔ انہیں مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے محمد! اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لینے والے موجود ہیں؛ اگر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار اور احسان شناس پر احسان کریں گے؛ اور اگر مال چاہتے ہیں تو جو مطالبہ کریں گے پورا کیا جائے گا۔
آپ یہ سن کر آگے بڑھ گئے۔ دوسرے روز بھی یہی سوال و جواب ہوا۔ تیسرے روز آپ نے حکم فرمایا: ثمامہ کو رہا کر دو۔ انہیں آزاد کر دیا گیا۔ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے، غسل کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔
انہوں نے عرض کیا: خدا کی قسم! ایک وقت تھا کہ مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ برا نہ لگتا تھا، لیکن آج آپ کا چہرہ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ خدا کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ کسی دین سے مجھے نفرت نہ تھی، لیکن آج آپ کا دین سارے ادیان سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔
ثمامہؓ عمرہ کے لیے مکہ گئے۔ قریش نے ان سے کہا: کیا تم بے دین ہو گئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ یمامہ سے مکہ کے لیے غلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر نہیں آئے گا۔
اس پابندی سے قریش کو سخت تنگی پیش آئی۔ آخر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ ثمامہؓ کو غلہ بھیجنے کی اجازت دے دی جائے۔ آپ نے اپنی سابق دشمنی کے باوجود ان کی درخواست قبول فرما لی۔
غزوۂ بنی المصطلق اور واقعۂ افک
شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ بنی المصطلق، جو خزاعہ کی ایک شاخ تھے، جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس غزوہ میں منافقین کی اتنی بڑی تعداد آپ کے ساتھ ہوئی کہ اس سے پہلے کسی غزوہ میں اتنی تعداد شریک نہیں ہوئی تھی۔
غزوۂ احزاب میں مسلمانوں کی فتح نے یہ واضح کر دیا تھا کہ انہیں صرف کثرتِ تعداد اور جنگی ساز و سامان کے زور پر شکست دینا آسان نہیں۔ اس کے بعد منافقین نے داخلی محاذ میں رخنہ اندازی، قبائلی عصبیت بھڑکانے، مسلمانوں کے باہمی اعتماد کو کمزور کرنے اور اہلِ بیتِ نبوت کے خلاف الزام تراشی کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی المصطلق کے چشمہ پر پہنچے جسے مریسیع کہا جاتا تھا۔ یہاں دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور بنی المصطلق کو شکست ہوئی۔ اسی نسبت سے اس غزوہ کو غزوۂ مریسیع بھی کہا جاتا ہے۔
اسی موقع پر ایک مہاجر اور ایک انصاری حلیف کے درمیان جھگڑا ہوا۔ ایک طرف سے يَا لَلْمُهَاجِرِينَ اور دوسری طرف سے يَا لَلْأَنْصَارِ کی آواز بلند ہوئی۔ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے اسے قبائلی تعصب بھڑکانے کے لیے استعمال کیا اور وہ مشہور بات کہی کہ مدینہ واپس پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال دے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فتنہ کی خبر ہوئی تو آپ نے فوراً کوچ کا حکم دے دیا، حالاں کہ یہ وقت عام طور پر سفر کا نہ تھا۔ آپ مسلسل چلتے رہے، یہاں تک کہ لوگ سخت تھک گئے۔ جب پڑاؤ ہوا تو لوگ زمین پر پڑتے ہی سو گئے اور یوں فتنہ کی گفتگو خود بخود ختم ہو گئی۔
عبداللہ بن اُبی کے اپنے صاحبزادے عبداللہؓ، جو سچے مسلمان تھے، مدینہ پہنچنے سے پہلے راستہ میں اپنے باپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ تم اس وقت تک آگے نہیں جا سکتے جب تک اپنی زبان سے اقرار نہ کر لو کہ تم ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاحبِ عزت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا: اسے جانے دو؛ جب تک وہ ہمارے درمیان ہے ہم اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔
اسی سفر میں حضرت عائشہ صدیقہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں۔ سفر سے واپسی کے وقت ایک مقام پر ان کا ہار گم ہو گیا۔ وہ اسے تلاش کرنے کے لیے واپس گئیں، اور اسی دوران قافلہ کوچ کر گیا۔ ہودج اٹھانے والوں نے سمجھا کہ وہ اس کے اندر ہیں، اس لیے انہیں معلوم نہ ہوا کہ وہ پیچھے رہ گئی ہیں۔
حضرت عائشہؓ واپس آئیں تو قافلہ جا چکا تھا۔ انہوں نے اپنی چادر اوڑھی اور اسی جگہ بیٹھ گئیں، اس امید پر کہ جب لوگوں کو ان کے نہ ہونے کا علم ہوگا تو وہ واپس آئیں گے۔ صفوان بن معطل سلمیؓ، جو کسی ضرورت سے قافلہ سے پیچھے رہ گئے تھے، وہاں پہنچے اور انہیں دیکھ کر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا۔
انہوں نے اپنا اونٹ حضرت عائشہؓ کے قریب بٹھایا، خود ایک طرف رہے، اور حضرت عائشہؓ اس پر سوار ہو گئیں۔ صفوانؓ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے قافلہ کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور اگلی منزل پر قافلہ سے جا ملے۔ ابتدا میں کسی نے اس واقعہ کو غیر معمولی نہیں سمجھا۔
لیکن عبداللہ بن اُبی نے مدینہ واپس پہنچ کر اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر بہتان تراشی شروع کی۔ منافقین نے اسے موقعِ غنیمت جانا اور اس بات کو خوب پھیلایا۔ چند سادہ دل مسلمان بھی تحقیق کیے بغیر گفتگو نقل کرنے میں مبتلا ہو گئے۔
قرآنِ مجید نے اس غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی طرف یوں اشارہ فرمایا:
حضرت عائشہؓ کو جب اچانک اس بہتان کی خبر ہوئی تو رنج و غم کی شدت سے ان کے آنسو نہ تھمتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی یہ معاملہ نہایت سخت اور سنگین تھا۔ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ کون اس شخص کے معاملہ میں میری مدد کرے گا جس کی اذیت میرے گھر والوں تک پہنچ گئی ہے؟ میں اپنے اہلِ خانہ کے بارے میں سوائے خیر کے کچھ نہیں جانتا، اور جس شخص کا نام لیا جا رہا ہے اس کے بارے میں بھی خیر ہی جانتا ہوں۔
اس موقع پر اوس و خزرج کے بعض افراد میں قبائلی حمیت بھڑکنے کا اندیشہ پیدا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بردباری اور تدبر سے فتنہ وہیں ختم ہو گیا۔
حضرت عائشہؓ کو اپنی بے گناہی کا پورا یقین تھا۔ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ بالآخر انہیں بری فرما دے گا، لیکن انہیں یہ خیال بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں خصوصی وحی نازل فرمائے گا اور یہ آیات قیامت تک قرآنِ مجید میں پڑھی جائیں گی۔
پھر سورۃ النور کی آیات نازل ہوئیں اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی برأت کا اعلان ہوا:
اس طرح اس زبردست فتنہ کا خاتمہ ہو گیا، اور مسلمان معمول کے مطابق اسی جوش اور ولولہ کے ساتھ اپنے ان عظیم کاموں کی تکمیل میں مشغول ہو گئے جن پر نہ صرف ان کی بلکہ پوری انسانیت کی فلاح و کامرانی کا انحصار تھا۔
واقعۂ افک: سیرت ابن ہشام، ج ۲؛ حدیثِ عائشہؓ بروایت صحیح بخاری؛ نیز اصل کتاب کے متعلقہ حواشی۔