صلحِ حدیبیہ

(ذی القعدہ سنہ ۶ھ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب اور مکہ میں داخلہ کے لیے مسلمانوں کی تیاری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ یہ رویائے صادقہ تھا، لیکن اس میں زمانہ، مہینہ اور سال کا کوئی تعین نہ تھا۔ جب آپ نے صحابۂ کرام کو یہ خواب سنایا تو سب لوگ بہت مسرور ہوئے۔

مکہ اور کعبہ، جس کی محبت و عظمت ان کے خمیر میں شامل اور ان کے رگ و ریشہ میں پیوست تھی، ان سے چھوٹ چکا تھا۔ ان کے دل میں طواف کا بڑا اشتیاق تھا اور وہ بہت بے چینی سے اس دن کے منتظر تھے جب یہ سعادت ان کو دوبارہ حاصل ہو۔ مہاجرین میں مکہ کا اشتیاق قدرتی طور پر بہت زیادہ تھا، اس لیے کہ وہ وہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے تھے اور اس کی محبت گویا ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ بایں ہمہ عرصۂ دراز سے وہ اس کے دیدار اور زیارت سے محروم تھے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ خبر دی تو ان کو اس میں ذرا بھی شبہ نہ ہوا کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال نکل آئے گی۔ اس بات نے ان کی آتشِ شوق کو اور بھڑکا دیا اور وہ سب کے سب آپ کے ساتھ روانہ ہونے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ شاذ و نادر ہی کوئی اس سے مستثنیٰ تھا۔ عمرہ کا احرام بھی آپ نے باندھ لیا تھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ آپ صرف زیارتِ بیت اللہ کی غرض سے تشریف لے جا رہے ہیں۔

ملاحظہ ہو: تفسیر سورۃ الفتح از ابن کثیر، آیت: لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ۔

آگے چل کر آپ نے قبیلۂ خزاعہ کے ایک مخبر کو قریش کا حال معلوم کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔ جب آپ مقامِ عسفان کے قریب پہنچے تو اس مخبر نے اطلاع دی کہ قبیلۂ کعب بن لؤی نے آپ کا راستہ روکنے کے لیے جنگ جو آدمی جمع کر لیے ہیں اور خاصی بڑی فوج تیار کر لی ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ جنگ کر کے آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے باز رکھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش قدمی جاری رکھی۔ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے مکہ کی طرف اترنا شروع ہوتا ہے تو آپ کی اونٹنی قصواء بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا: قصواء اَڑ گئی۔ آپ نے فرمایا: قصواء اَڑی نہیں، اور نہ یہ اس کا شیوہ ہے؛ اسے اسی ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھی والوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا تھا۔

پھر آپ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قریش مجھ سے کوئی ایسی بات مانگیں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم اور صلہ رحمی کا پہلو ہوگا تو میں اسے ضرور قبول کروں گا۔ پھر آپ نے قصواء کو ڈانٹا، وہ اسی وقت اٹھ کھڑی ہوئی، لیکن اپنا رخ بدل کر حدیبیہ کی طرف روانہ ہو گئی اور وہاں ایک ایسے کنویں کے قریب رک گئی جس میں بہت تھوڑا پانی تھا۔

لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور حکم دیا کہ اسے اس کنویں میں ڈال دیا جائے۔ تیر ڈالتے ہی پانی جوش مارنے لگا اور سب لوگوں نے اچھی طرح پانی پیا اور سیراب ہوئے۔

زاد المعاد؛ سیرت ابن ہشام، صلحِ حدیبیہ کے ابواب۔

مسلمانوں کے مکہ میں داخلہ سے قریش کی پریشانی

قریش کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور حدیبیہ میں قیام کی خبر ملی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنے صحابۂ کرام میں سے کسی ایک کو بھیج کر ان کو اطمینان دلا دیا جائے۔

آپ نے حضرت عمرؓ کو طلب فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مکہ میں بنی عدی بن کعب کا کوئی ایسا آدمی موجود نہیں جو قریش کے درپئے آزار ہونے پر میری حمایت کر سکے۔ آپ عثمانؓ کو بھیج دیں؛ ان کا پورا خاندان وہاں موجود ہے اور وہ پیغام رسانی کا فریضہ بھی اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں۔

چنانچہ آپ نے حضرت عثمانؓ کو بلایا اور قریش کے پاس بھیجا۔ فرمایا: ان سے جا کر کہنا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے، بلکہ عمرہ کا ارادہ کر کے یہاں آئے ہیں، اور ان کو اسلام کی دعوت بھی دینا۔ آپ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ مکہ میں جو کمزور اہلِ ایمان مرد و عورتیں ہیں ان کے پاس جا کر فتح کی بشارت دیں اور خوش خبری سنائیں کہ اللہ تعالیٰ مکہ میں اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے، یہاں تک کہ ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔

عشق و وفا کا امتحان

حضرت عثمانؓ روانہ ہوئے۔ مکہ پہنچ کر ابو سفیان اور قریش کے سربرآوردہ اشخاص کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ جب اپنی بات کہہ چکے تو قریش نے کہا: اگر تم طواف کرنا چاہتے ہو تو طواف کر لو۔

حضرت عثمانؓ نے جواب دیا: جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کر لیں، میں بھی طواف نہیں کر سکتا۔

بعد میں جب حضرت عثمانؓ واپس آئے تو مسلمانوں نے کہا: ابو عبداللہ! تم تو بڑے مزے میں رہے، تم نے طواف کر کے اپنے دل کا ارمان نکال لیا ہوگا۔ انہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے بڑی بدگمانی کی۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر مجھے ایک سال بھی مکہ میں ٹھہرنا پڑتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں موجود ہوتے، تو میں اس وقت تک طواف نہ کرتا جب تک حضور طواف نہ کر لیتے۔ قریش نے مجھے طواف کی اجازت دی تھی، لیکن میں نے انکار کر دیا۔

بیعتِ رضوان

اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے ہیں۔ آپ نے لوگوں کو بیعت کی دعوت دی۔ تمام لوگ جوش و وارفتگی کے ساتھ آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ آپ اس وقت ایک ببول کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔

آپ نے اس بات پر بیعت لی کہ کوئی راہِ فرار اختیار نہیں کرے گا۔ حضرت عثمانؓ موجود نہ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کی طرف سے ہے۔ یہی بیعت تاریخ میں بیعتِ رضوان کے نام سے مشہور ہوئی۔

قرآنِ مجید نے اس بیعت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا، اور جو صداقت و خلوص ان کے دلوں میں تھا اسے اس نے جان لیا، تو ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔
سورۃ الفتح، آیت ۱۸

مذاکرات، ثالثی اور صلح کی کوشش

صورتِ حال اسی طرح قائم تھی کہ اچانک بدیل بن ورقاء خزاعی خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی اور دریافت کیا کہ آپ کی آمد کا مقصد کیا ہے۔

آپ نے فرمایا: ہم کسی سے جنگ کرنے کے لیے نہیں آئے، ہم صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں۔ قریش کو جنگ نے کمزور کر دیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں کچھ مدت کے لیے ان سے جنگ بندی کر لوں اور وہ میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اگر یہ دین دوسرے عربوں پر غالب آ گیا تو چاہیں تو وہ بھی اس میں داخل ہو جائیں، اور اگر ایسا نہ ہوا تو ان کو آرام کا موقع مل جائے گا۔ لیکن اگر جنگ کے سوا کوئی صورت انہیں قبول نہیں تو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں اپنے دین کے معاملہ میں اس وقت تک لڑوں گا جب تک میرا سر تن سے جدا نہ ہو جائے یا اللہ اپنے دین کو غالب فرما دے۔

بدیل نے یہ بات قریش تک پہنچائی۔ اس کے بعد عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا: یہ ایک سمجھ داری کی تجویز ہے؛ میری رائے ہے کہ اسے قبول کرو اور مجھے ان سے ملنے دو۔ قریش نے اسے اجازت دے دی۔

عروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے گفتگو شروع کی۔ وہ دورانِ گفتگو صحابۂ کرام کے طرزِ عمل کو غور سے دیکھتا رہا۔ جب آپ وضو فرماتے تو صحابہ وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لیے لپکتے، آپ کوئی حکم دیتے تو ہر شخص اس کی تعمیل کے لیے بڑھتا، آپ گفتگو فرماتے تو سب ہمہ تن گوش ہو جاتے، اور تعظیم و ادب کے سبب آپ کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتے۔

عروہ واپس گیا اور قریش سے کہا: اے قوم! میں بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں؛ قیصر، کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں، لیکن خدا کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا جس کی اس کے ساتھی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ان کی کرتے ہیں۔ پھر اس نے جو کچھ دیکھا تھا تفصیل سے بیان کیا اور کہا کہ انہوں نے ایک معقول تجویز پیش کی ہے، اسے قبول کر لو۔

معاہدہ و صلح نامہ

اسی دوران بنی کنانہ کا ایک شخص بھی آیا، اور قریش کی طرف سے مختلف نمائندے حالات دیکھ کر واپس جاتے رہے۔ بالآخر قریش نے سہیل بن عمرو کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ آپ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا: ان لوگوں نے صلح کا ارادہ کر لیا ہے، اسی لیے اس شخص کو بھیجا ہے۔

پھر صلح کی باقاعدہ تحریری دستاویز تیار کرنے کا مرحلہ آیا۔

علم و حکمت کی جامعیت کی ایک مثال

آپ نے معاہدہ لکھنے کے لیے اپنے کاتب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا: لکھو: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ سہیل نے کہا: جہاں تک رحمن کا تعلق ہے، خدا کی قسم ہم اسے نہیں جانتے؛ ہمارے پرانے دستور کے مطابق بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ لکھو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، یہی لکھو۔ پھر آپ نے فرمایا: لکھو: یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ نے کیا۔ سہیل نے اعتراض کیا: خدا کی قسم! اگر ہم مانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے روکتے ہی کیوں، اور آپ سے جنگ کیوں کرتے؟ اس کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں خواہ تم مجھے جھٹلاؤ۔ پھر آپ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا: خدا کی قسم! مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس جگہ کا پتا بتاؤ۔ حضرت علیؓ نے جگہ دکھا دی، تو آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔

صلح اور آزمائش

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاہدہ میں یہ لکھا جائے کہ تم لوگ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہ ہو گے اور ہم اس کا طواف کر لیں گے۔ سہیل نے کہا: ہمیں اندیشہ ہے کہ عربوں میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ ہم دب گئے۔ اس سال نہیں؛ آئندہ سال آپ مکہ آ کر طواف کر سکتے ہیں۔ آپ نے یہ شرط بھی قبول فرما لی۔

سہیل نے پھر کہا: ایک شرط یہ ہوگی کہ اگر ہمارے ہاں سے کوئی شخص اپنے ولی اور سرپرست کی اجازت کے بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے، خواہ وہ آپ ہی کے دین پر ہو، تو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔

مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! ایک مسلمان ہمارے پاس آ کر پناہ لے اور ہم اسے مشرکوں کے حوالے کر دیں؟ ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ اچانک ابو جندل بن سہیل بیڑیوں میں جکڑے ہوئے، گرتے پڑتے مسلمانوں تک پہنچ گئے۔ وہ مکہ میں سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے اور کسی طرح قید سے نکل کر یہاں پہنچے تھے۔

سہیل نے کہا: اے محمد! اس معاہدے کی رو سے یہ پہلا شخص ہے جسے واپس کرنے کا میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تو معاہدہ مکمل بھی نہیں ہوا۔ سہیل نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر میں آپ سے کسی شرط پر صلح نہیں کروں گا۔

آپ نے فرمایا: میرے لیے اسے چھوڑ دو۔ سہیل نے انکار کر دیا۔ ابو جندلؓ نے فریاد کی: مسلمانو! کیا میں مسلمان ہو کر تمہارے پاس آیا ہوں اور مجھے پھر مشرکوں کے حوالے کیا جا رہا ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے؟ انہوں نے اللہ کی راہ میں بہت سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں واپس فرما دیا۔

فریقین میں یہ بھی طے ہوا کہ دس سال تک جنگ اور خون ریزی بند رہے گی تاکہ لوگ امن و اطمینان کے ساتھ رہ سکیں اور ایک دوسرے پر دست درازی نہ کریں۔ یہ بھی طے پایا کہ قریش کا کوئی شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اسے واپس کر دیا جائے گا، لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص قریش کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہ کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ جو قبیلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدہ اور جوار میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتا ہے، اور جو قریش کے معاہدہ اور جوار میں داخل ہونا چاہے اسے بھی آزادی ہوگی۔

سیرت ابن ہشام؛ صحیح بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجهاد والمصالحة؛ صحیح مسلم، کتاب الجهاد والسير، باب صلح الحديبية۔

مسلمانوں کا امتحان

جب مسلمانوں نے یہ صلح، اس کی شرائط اور مکہ سے واپس جانے کی بات سنی، اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ان شرائط کو برداشت کیا، تو یہ بات ان کے لیے اتنی روح فرسا ثابت ہوئی کہ ان کی جان پر بن گئی۔

حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: ہاں، فرمایا تھا؛ لیکن کیا آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اسی سال بیت اللہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح نامہ سے فارغ ہوئے تو قربانی کے جانوروں کی طرف متوجہ ہوئے، انہیں ذبح فرمایا اور اس کے بعد حلق کرا لیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مرحلہ نہایت سخت تھا، کیونکہ مدینہ سے نکلتے وقت ان کے دل میں یہ خیال بھی نہ تھا کہ انہیں بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کا موقع اس سال نہ ملے گا۔

لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کرتے اور حلق کراتے دیکھا تو سب فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کی اتباع کرتے ہوئے قربانی اور حلق میں مشغول ہو گئے۔

ذلت آمیز صلح یا کھلی ہوئی فتح؟

اس کے بعد آپ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی یہ آیات نازل فرمائیں:

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ۝ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ۝ وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے تم کو ایک صریح فتح دی، تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے قصور معاف فرمائے، تم پر اپنی نعمت پوری کرے، تمہیں سیدھے راستے پر چلائے اور زبردست مدد سے تمہاری نصرت فرمائے۔
سورۃ الفتح، آیات ۱-۳

حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔

بصورتِ ناکامی حقیقتِ کامیابی

جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو قریش کا ایک شخص، ابو بصیر عتبہ بن اُسیدؓ، آپ کے پاس آیا۔ قریش نے اس کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور معاہدہ یاد دلایا۔ آپ نے معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے ابو بصیرؓ کو ان دونوں کے حوالے کر دیا۔

راستے میں ابو بصیرؓ کسی طرح ان کے ہاتھ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور سمندر کے ساحل پر جا پہنچے۔ دوسری طرف ابو جندلؓ بھی کسی طرح مکہ سے نکل آئے اور ابو بصیرؓ سے جا ملے۔ اب یہ ہونے لگا کہ قریش کا جو شخص مسلمان ہو کر مکہ سے نکلتا وہ سیدھا ابو بصیرؓ کی جماعت میں جا ملتا۔

رفتہ رفتہ ان کی ایک پوری جماعت بن گئی۔ قریش کا کوئی تجارتی قافلہ شام کی طرف جاتا اور ان کے راستہ میں آ جاتا تو وہ اس کا راستہ روک لیتے۔ آخر قریش اس صورتِ حال سے عاجز آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ اور قرابت داری کا واسطہ دے کر درخواست کی کہ آپ ان لوگوں کو مدینہ بلا لیں؛ اب جو شخص آپ کے پاس پہنچے گا وہ محفوظ رہے گا۔

یہ صلح فتح و ظفر میں کیسے تبدیل ہوئی؟

بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ صلحِ حدیبیہ، جس میں بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی رعایتیں دیں، قریش کے بعض مطالبات قبول کیے، اور جسے قریش اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہے تھے، دراصل اسلام کی فتح و ظفر کا ایک نیا دروازہ تھی۔

مسلمانوں نے اسے اپنی ایمانی قوت اور نبی کی کامل اطاعت کے جذبہ سے برداشت کیا، اور اسی صلح کی وجہ سے اسلام جزیرۃ العرب میں اس تیزی سے پھیلا کہ اس سے پہلے کبھی نہ پھیلا تھا۔ اسی نے فتح مکہ کا دروازہ کھولا اور اسی کے بعد قیصر، کسریٰ، نجاشی اور عرب کے دوسرے حکمرانوں کو دعوتِ اسلام بھیجی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے صحیح فرمایا:

وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
سورۃ البقرہ، آیت ۲۱۶

اس صلح کے بہترین فوائد میں ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کی مستقل حیثیت اور مرتبہ تسلیم کیا، اور انہیں ایک باعزت اور طاقتور فریق کی حیثیت دی جس کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اور مذاکرات کیے جاتے ہیں۔

اس کا ایک بڑا فائدہ جنگ بندی اور امن کی فضا تھی۔ مسلمان ایک طویل جنگی سلسلہ سے گزر رہے تھے جس نے ان کی بہت سی توانائی اور قوت صرف کر دی تھی۔ اب انہیں اطمینان کا سانس لینے، اپنی دعوت پوری یکسوئی کے ساتھ پہنچانے اور تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کا بہترین موقع ملا۔

صلح نے مسلمانوں اور مشرکوں کو، جو اب تک ایک دوسرے سے برسرِ پیکار تھے، ایک دوسرے سے ملنے، بات کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح اسلام کے وہ محاسن مشرکین کے سامنے آئے جو پہلے جنگی ماحول میں اس وضاحت سے سامنے نہ آ سکے تھے۔

وہ لوگ دیکھنے لگے کہ یہی افراد، جو انہی کے ہم قوم، ہم رنگ اور ہم زبان تھے، اور جن کی ایک عمر انہی کے ساتھ گزری تھی، چند برسوں میں کس قدر اخلاقی اور روحانی انقلاب سے گزر چکے ہیں۔ شرک و بت پرستی سے نفرت، انسانی خون ریزی اور قتل و غارت سے بیزاری، اور بلند اخلاقی معیار ان کی نئی زندگی کی نمایاں علامات تھیں۔

اسلام کی تعلیمات اور صحبتِ نبوی کے سوا کوئی چیز اہلِ مکہ اور ان مہاجرین کے درمیان اس بڑے فرق کی توجیہ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک سال بھی اس صلح پر نہ گزرا اور فتح مکہ میں ابھی ایک سال باقی تھا، لیکن اتنی بڑی تعداد اسلام میں داخل ہو گئی جتنی پچھلے پندرہ برسوں میں بھی نہ ہوئی تھی۔

امام ابن شہاب زہریؒ کہتے ہیں: اسلام کو اس سے پہلے اتنی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ جب قریش اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہوئی، جنگ بندی کا اعلان ہوا، لوگ بلا خوف و خطر ایک دوسرے سے ملنے لگے اور بات چیت کا موقع ملا، تو جس صاحبِ عقل سے اسلام کی بات کی گئی وہ اسلام کی طرف مائل ہوا۔ تنہا ان دو برسوں میں اتنے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جتنے اس سے پہلے داخل ہوئے تھے، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔

ابن ہشام اس قول کی تائید میں لکھتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت جابر بن عبداللہؓ کی روایت کے مطابق، چودہ سو آدمی تھے؛ لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کی جماعت تھی۔

اس جنگ بندی اور معاہدہ سے ان مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچا جو اپنی مجبوری اور بے بسی کی وجہ سے مکہ میں باقی رہ گئے تھے اور قریش کے ظلم و اذیت کا نشانہ تھے۔ ابو جندلؓ اور ابو بصیرؓ کی جماعت ایک مستقل قوت بن گئی، یہاں تک کہ قریش خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان لوگوں کو مدینہ بلا لیا جائے۔

اس طرح صلح جوئی، بردباری، اعتدال اور امن پسندانہ رویہ خود اسلام کی دعوت کے لیے ایک بڑی قوت ثابت ہوا۔ جو عرب قبائل ابھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے وہ بھی اس دین اور اس کے پیروکاروں کو نئی نگاہ سے دیکھنے لگے، اور ان کے دلوں میں اسلام کی عظمت اور اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی۔

خالد بن ولید اور عمرو بن العاص

صلحِ حدیبیہ کئی پہلوؤں سے فاتح ثابت ہوئی۔ چنانچہ خالد بن ولیدؓ، جو قریش کی سوار فوج کے سپہ سالار تھے اور جنہوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے تھے، صلحِ حدیبیہ کے بعد ہی اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیف اللہ — خدا کی تلوار — کا لقب عطا فرمایا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں شام کے بڑے علاقے فتح کرائے۔

عمرو بن العاصؓ نے بھی، جو ایک بڑے سپہ سالار اور ذہین سیاست دان تھے اور بعد میں فاتحِ مصر کی حیثیت سے سامنے آئے، اسی زمانہ میں اسلام قبول کیا۔ دونوں صلحِ حدیبیہ کے بعد مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور دولتِ اسلام سے سرفراز ہو کر بلند مراتب حاصل کیے۔

زاد المعاد؛ سیرت ابن ہشام، صلحِ حدیبیہ کے متعلق ابواب۔